354K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Deewani (Episode 4)

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

“جبران پلیز میں محب اور مغیث کے بغیر نہیں رہ سکتی اِن کو مجھ سے دور مت کریں”

روز روز کی لڑائیوں سے تنگ آکر جبران نے غصے میں ستارہ کو اپنے آپ سے دور کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر ستارہ نے اس سے لاکھ ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی مگر جبران نہیں مانا تب ستارہ روتی ہوئی محب اور مغیث کو اپنے پاس رکھنے کے لیے جبران سے فریاد کرنے لگی

“وہ دونوں بھی تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتے اور ستارہ تمہیں بھی ان دونوں کی ضرورت نہیں محسوس ہوگی۔۔۔ فراز کی بیٹی ہی تمہارے لیے کافی ہے چلی جاؤ یہاں سے”

جبران اس وقت ستارہ کے آنسو دیکھ کر نرم نہیں پڑنا چاہتا تھا کیونکہ اب پانی حد سے زیادہ گزر چکا تھا۔۔۔ جبران نے خود ٹیلی فون پر ستارہ کو روتے ہوۓ اپنے سے متعلق فراز سے شکوے کرتے ہوۓ ستارہ کو سنا تھا

“محب مغیث آپ دونوں ماما کے ساتھ رہیں گیں ناں، ماما آپ دونوں کے بغیر نہیں رہ سکتیں، آپ کی ماما آپ دونوں سے بہت پیار کرتی ہیں”

جب جبران نرم نہیں پڑا تو کمرے میں موجود محب اور مغیث سے ستارہ پوچھنے لگی

“نہیں ماما میں تو جابی کے ساتھ رہو گا کیوکہ وہ صرف ہم دونوں سے ہی پیار کرتے ہیں، آپ پیار تو کرتی ہیں مگر آپ کے پاس ہمارے لیے ٹائم نہیں ہوتا”

محب کے منہ سے یہ الفاظ سن کر ستارہ رونا بھول گئی اور اپنے آٹھ سالہ بیٹے کو دیکھنے لگی۔۔۔ بہت آس بھری نظروں سے اس نے پھر مغیث کی طرف دیکھا

“محب ٹھیک کہہ رہا ہے ماما مجھے بھی انکل فراز اور وہ لٹل گرل اچھی نہیں لگتی میں جابی اور محب کے ساتھ رہوں گا”

مغیث کی بات سن کر ستارہ شکستہ قدموں سے چلتی ہوئی بیڈ تک پہنچی جہاں سے اس نے اپنے تین ماہ کے بیٹے کو گود میں اٹھانا چاہا

“جانے سے پہلے اسے آخری بار پیار کرکے واپس بیڈ پر لٹادو ورنہ یہ نیند سے جاگ جاۓ گا جبین نے اسے تھوڑی دیر پہلے ہی سلایا ہے”

جبران کی بات سن کر ستارہ بےیقینی سے جبران کو دیکھنے لگی

“خدا سے ڈریں جبران ایسا ظلم مت کریں موحد ابھی بہت چھوٹا ہے اس کو میری ضرورت ہے آپ اتنے ظالم کیسے ہوسکتے ہیں میں موحد کو اپنے ساتھ لےکر جاؤ گی”

ستارہ اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی غصے میں بولی آخر اس کا شوہر کیسے اتنا بےحس ہوسکتا تھا وہ اس کو اپنے گھر سے نکالنے کے ساتھ ہی اس کے بچے بھی اس سے چھین رہا تھا

“اچھا تو تم اِس کو اپنے پاس رکھو گی تاکہ اِس کی شخصیت زندگی بھر کے لئے دب جائے یا پھر میرا سب سے چھوٹا بیٹا پیار اور توجہ کو ترستا رہے اور محرومیوں میں پلتا رہے”

جبران غصے میں ستارہ کو دیکھتا ہوا بولا

“یہ بہت چھوٹا ہے جبران اس کو مجھ سے مت دور کریں پلیز اس کو کون پالے گا”

ستارہ روتی ہوئی جبران سے التجا کرنے لگی جبران کو اپنے سامنے کھڑی ہوئی عورت پر مزید غصہ آیا کیا۔۔۔ کیا وہ سب چیزوں کی معافی مانگ کر، فراز اور اسکی بیٹی سے تعلق توڑ کر اس کے ساتھ اپنے بچوں کی خاطر نہیں رہ سکتی تھی، مگر نہیں اس عورت کو اپنی انا اور دوسرے رشتے۔۔۔ جو اس کے سگے بھی نہیں تھے وہ لوگ اپنے شوہر اور اپنے بچوں سے زیادہ عزیز تھے

“موحد کو جبین سنبھال لےگی جیسے وہ اپنی بیٹی صوفیہ کو پال رہی ہے، تم یہاں سے اس وقت چلی جاؤ ستارہ ورنہ یہ نہ ہو کہ میں غصے میں آکر تم سے اپنا رشتہ ہی ہمیشہ کے لیے ختم کر ڈالوں”

ماضی کی تلخ یادیں ذہن پر حملہ آور ہوئی تو ستارہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے

اس نے بچپن سے اپنے ماں باپ کو نہیں دیکھا تھا لیکن جن شفیق اور مہربان لوگوں نے اس کی پرورش کی تھی انہوں نے اسے ماں باپ کی کمی کا احساس بھی نہیں ہونے دیا تھا۔۔۔ فراز کے سگے ماں باپ نے اسے فراز کی طرح اپنی سگی اولاد سمجھا پڑھایا لکھایا اچھا لڑکا دیکھ کر اس کی شادی کی ویسے تو جبران ستارہ کے لیے اچھا شوہر ثابت ہوا تھا مگر اسے فراز سے اپنی بیوی کی بےتکلفی پسند نہیں تھی فراز کی بیوی کے انتقال اور فراز کی ماں کے مستقل بیمار رہنے پر ستارہ زیادہ تر اپنے گھر پر توجہ دینے کی بجاۓ فراز کے گھر پائی جاتی جو اس کے اور جبران کے جھگڑے کی وجہ بنتی تھی لیکن ستارہ کا دل تب بہت دکھا جب جبران نے فراز کو لے کر اس کے کردار پر شک کیا تھا

“آپ پھر سے پرانی اور تلخ باتوں کو سوچ کر افسردہ ہورہی ہیں”

مہرماہ اپنے اور ستارہ کے لیے کافی لاتی ہوئی صوفے پر بیٹھ کر ستارہ سے بولی

“یادیں چاہے تلخ ہو یا پھر خوشگوار یہ آپ مرتے دم تک میرا پیچھا نہیں چھوڑے گیں، مجھے انہی یادوں کے ساتھ رہنا ہے زندگی بھر”

ستارہ مہرماہ سے کافی لیتی ہوئی بولی۔۔ بیس سال بعد آج سے دو ماہ پہلے وہ اس شہر میں دوبارہ آئی تھی جہاں سے وہ بہت دل برداشتہ ہوکر نکلی تھی

“انکل کو دیکھ کر ذرا سا بھی احساس نہیں ہوتا وہ اپنی جوانی میں اتنے سخت دل رہے ہوگیں”

مہرماہ کافی کا گھونٹ بھرتی ہوئی جبران کی نیچر پر اظہار خیال کرتی ہوئی بولی۔۔۔ ایک سال پہلے فراز کا انتقال ہوچکا تھا اب اس دوسرے شہر میں رہنے کا ان تینوں کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا مہرماہ کے اصرار پر ہی ستارہ اسے اور رومان کو یہاں اپنے ساتھ لے آئی تھی اور اتفاق سے ایسا ہوا تھا کہ مہرماہ کو جس کمپنی میں جاب ملی تھی وہ جبران کی کمپینی تھی۔۔۔ ستارہ کے سختی سے منع کرنے پر ہی مہرماہ نے جبران یا محب سے اپنا مکمل تعارف نہیں کروایا تھا

“جبران سخت دل کے انسان نہیں تھے بس وہ ساری باتوں کو خود ہی اخذ کرکے نتیجہ نکال لیا کرتے تھے یہ سخت دل ہونے سے زیادہ خطرناک علامت ہوتی ہے”

ستارہ مہرماہ کو بتارہی تھی اور پرانی ساری جبران کی باتیں اس کو یاد آرہی تھی جنہیں وہ اپنے ذہن سے جھکنے لگی

“مجھے ایسا لگتا ہے آنٹی آپ کو ایک بار جبران انکل سے ملنا چاہیے”

مہرماہ ستارہ سے ایک بار پھر اسی بات کا اصرار کرنے لگی جس پر ستارہ شکوہ بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگی

“اس طرح ناراض ہوکر میری طرف مت دیکھیں یہ بات آپ بھی اچھی طرح جانتی ہیں کہ جبران انکل آپ کو ہمیشہ کے لئے نہیں چھوڑنا چاہتے تھے جبھی انہوں نے آپ سے اپنا رشتہ ختم نہیں کیا تھا انہوں نے صرف سزا دینے کے طور پر آپ سے دوری اختیار کی تھی، لیکن آپ نے اس کے بدلے ان کو دوہری سزا دی بیس سالوں تک آپ نے جبران انکل سے اور اپنے بیٹوں سے کوئی تعلق نہیں رکھا۔۔۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ رومی کے ساتھ ساتھ آپ نے اپنے تینوں بیٹوں کے ساتھ بھی غلط کیا پلیز آنٹی ایک مرتبہ ہی سہی آپ کو جبران انکل سے کانٹیکٹ کرنا چاہیے اپنے چاروں بیٹوں کی خاطر”

مہرماہ کی بات مکمل ہوئی تو ستارہ لمبی سانس کھینچتی ہوئی مہرماہ کو اتنی عقلمندانہ باتیں کرتا دیکھنے لگی جس کی توقع اس سے کم ہی کی جاتی تھی مگر بچپن کی بانسبت اس میں اٹک اٹک کر بات کرنے کی عادت ختم ہوچکی تھی اور وہ بےوقوفی والی باتیں کرنے کی بجاۓ نارمل انداز میں بات کرتی تھی یہ اچھا چینج اس کی شخصیت میں آیا تھا

“مہرو میں اب کبھی بھی ان لوگوں سے رابطہ نہیں کرسکتی۔۔۔ تم نہیں سمجھ سکتی وہ وقت میرے لیے کیسا تھا جب میں جبران کے گھر سے نکلی تھی،، آج بیس سال کے بعد بھی اگر میں نے اپنے تینوں بیٹوں کی نظروں میں اپنے لئے اجنبیت اور بےرخی دیکھو گی تو شاید جی نہیں پاؤں گی اور رومان کو تم اچھی طرح جانتی ہو بغیر دیکھے ہی اسے اپنے باپ اور بھائیوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے وہ خود ان سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا تو اس بات کو یہی ختم کردو”

ستارہ مہرماہ سے بولتی ہوئی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی مہرماہ بےدلی سے کافی پیتے ہوئے ستارہ کے بارے میں سوچنے لگی

بہت چھوٹی عمر سے مہرماہ نے ستارہ کو اپنے قریب دیکھا تھا۔۔۔ ستارہ اپنے دل بےچینی اور تڑپ رکھنے کے باوجود بھی اپنے بیٹوں سے ملنے کا حوصلہ نہیں رکھتی تھی وجہ صرف یہی تھی کہ وہ اپنے بیٹوں کا برا رویہ برداشت نہیں کرسکتی تھی۔۔۔ جس وقت اسے جبران نے اپنے گھر سے نکلا تھا وہ دوبارہ ماں بننے والی تھی لیکن ستارہ کو خود بھی اس بات کا علم چند دنوں کے بعد ہوا تھا۔۔۔ جبران کو یہ خبر بتانے کا دل میں خیال آنے کے باوجود بھی وہ اپنی پریگنینسی کی خبر جبران کو بتانے کی ہمت نہیں کرسکی کیوکہ دوبارہ وہ اپنے کردار پر کوئی گھٹیا الزام سہنے کا حوصلہ نہیں رکھتی تھی۔۔۔ جب اتفاق سے جبران نے بطور سیکرٹری مہرماہ کو آپائینٹ کیا تب ستارہ کو بھی حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔۔۔ وہ فراز کے مکمل نام سے بھی مہرماہ کو پہچان نہیں پایا تھا۔۔۔ مہرماہ روز آفس سے گھر آتی تو اس کا روٹین بن چکا تھا۔۔۔ ستارہ اس سے محب کے بارے میں ضرور پوچھتی جس دن موحد کسی کام سے محب کے پاس آیا تھا، یہ بات جب مہرماہ نے ستارہ کو بتائی تو وہ بےقرار ہوکر موحد کے لیے رونے لگی

*****

رات کے 2 بجے جب مغیث گھر آیا تب تک حسب معمول گھر کے دوسرے افراد سوچکے تھے اپنے کمرے کا دروازہ کھولتے ہی اس کی نظر بیڈ کہ کراؤن سے ٹیک لگائے صوفیہ پر گئی جو اس کے انتظار میں اس کے بیڈ پر بیٹھی شاید سو چکی تھی مغیث کمرے کا دروازہ بند کرتا ہوا صوفیہ کے سامنے بیٹھ کر نشیلی آنکھوں سے صوفیہ کے چہرے کو تکنے لگا

“نادان لڑکی یوں تمہارا سیراب کے پیچھے بھاگنا فضول ہے کیوں خود کو ہلکان کیے جارہی ہو،، کچھ حاصل نہیں ہونے والا تمہیں”

مغیث اپنے سامنے بیٹھی اس جذباتی لڑکی کو دیکھتا ہوا اپنے دل میں مخاطب ہوا جو اس سے عمر میں چھ سال چھوٹی ہونے کے باوجود اس کی محبت کا دم بھرنے لگی تھی۔۔۔ اپنے خوبصورت دل کی طرح وہ خود بھی بہت خوبصورت تھی اتنی کہ کئی بار مغیث کو اس کے چہرے سے اپنی نظریں ہٹانا بہت مشکل عمل لگتا اس کے اظہار پر مغیث کا دل اسکی جانب مائل ہوتا مغیث کے لاکھ غصہ کرنے اور ڈانٹنے کے باوجود وہ پیچھے نہیں ہٹی تھی نہ ہی وہ مغیث کے بدصورت رویہ کا برا مناتی تھی۔۔۔ مغیث نے صوفیہ کو سوتا ہوا دیکھ کر اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر صوفیہ کے ملائم سے گال کو نرمی سے چھونا چاہا مگر اس سے پہلے ہی صوفیہ اپنی آنکھیں کھول چکی تھی صوفیہ کو جاگتا ہوا دیکھ کر مغیث نے جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹانا چاہا جسے فوراً صوفیہ تھام چکی تھی

“کہاں سے آرہے ہیں آپ،، اور یہ کیا روٹین بنایا ہوا ہے آپ نے اپنا پچھلے چند دنوں سے، معلوم ہے آج جابی بھی آپ کے بارے میں پوچھ رہے تھے”

صوفیہ مغیث کی آنکھوں کو غور سے دیکھ کر اس سے سوال کرنے لگی اس کی آنکھیں آج بھی اسے اسی دن کی طرح بےحد سرخ لگ رہی تھی

“زیادہ میری ماں بننے کی کوشش مت کرو، تمہیں کتنی بار کہا ہے اوقات میں رہا کرو اپنی۔۔۔ میں کہاں پر موجود ہوتا یا پھر کیا کرتا پھر رہا ہوتا ہوں میں تمہارے آگے جواب دہ نہیں ہوں چلی جاؤ میرے کمرے سے”

مغیث نشیلی آنکھوں سے صوفیہ کو دیکھ کر غراتا ہوا بولا اور جھٹکے سے اس سے اپنا ہاتھ چھڑایا

“اچھا بابا چلی جاتی ہوں آپ کے کمرے سے مگر اتنا تو بتادیں یہ آپ کی آئیز کیوں اتنی ریڈ ہورہی ہیں،، کہیں کسی بھوتنی یا چڑیل نے تو آپ کو اپنا عاشق نہیں بنالیا میں آپ کو پہلے ہی بتارہی ہوں مغیث عالم آپ پر صرف اور صرف صوفیہ کا حق ہے میں کسی بھوتنی یا چڑیل کو آپ کے اور میرے بیچ ہرگز نہیں آنے دو گی اگر آپ کسی بھوتنی کو ڈیٹ کرکے آرہے ہیں تو اسے اچھی طرح سمجھادیں”

صوفیہ مغیث کے ڈانٹنے کا اثر لیے بغیر اپنی بات کو مذاق کا رنگ دیتی ہوئی بنا اپنی زبان کو بریک لگائے شروع ہوچکی تھی اس کی زبان کو بریک تب لگا جب مغیث نے صوفیہ کا منہ دبوچ کر اس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لایا

“اتنا نان اسٹاپ اور فضول کیسے بول لیتی ہو تم، اپنی بکواس جاری رکھنی ہے یا پھر تمہاری چلتی ہوئی زبان بند کرنے کا علاج میں خود کرو”

مغیث غصے میں اس کا اپنے ہاتھ میں دبوچا ہوا چہرہ دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جس پر فوراً صوفیہ کا سر نفی میں ہلا

“سوری”

صوفیہ اتنا ہی بول پائی تو مغیث کی نظریں بھٹک کر اس کے ہونٹوں پر گئی جن سے فوراً نظریں چرا کر وہ صوفیہ کے چہرے سے اپنے ہاتھ ہٹاکر پیچھے بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹ گیا اور اپنی آنکھیں بند کرلی

صوفیہ اپنا نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا کر، اپنے پاس آنکھیں بند کر کے لیٹے مغیث کو دیکھنے کے بعد اس کے کمرے سے باہر جانے کا ارادہ کرنے لگی مگر وہ اتنے آرام سے مغیث کو چڑاۓ بناء اس کے کمرے سے چلی جاتی ایسا بھی ممکن نہیں تھا

صوفیہ کے بیڈ سے اٹھنے پر، بیڈ پر لیٹا ہوا مغیث نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا صوفیہ کی آنکھوں میں ناچتی ہوئی شوخی اور شرارت وہ صاف محسوس کرسکتا تھا

“آپ کی آفر اتنی بری بھی نہیں تھی میری چلتی ہوئی زبان بند کرنے والی۔۔۔ اگر آپ نے اس وقت کولگیٹ یوز کیا ہوتا تو پھر کچھ سوچا بھی جاسکتا تھا اس بارے میں”

صوفیہ نے بولنے کے ساتھ ہی جلدی سے اپنے قدم باہر کی طرف بڑھائے مگر اس سے پہلے ہی مغیث کمال پھرتی سے صوفیہ کی کلائی کو پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچتا ہوا صوفیہ کو اپنے اوپر گرا چکا تھا مغیث کی اس حرکت پر صوفیہ ایک دم ڈر گئی

“خوف کھانا چاہیے تمہیں اپنی اس بےباک طبیعت سے، اگر ابھی میں تمہاری ان مہکتی ہوئی سانسوں کو اپنی سانسوں میں سمالوں پھر کہاں جاکر منہ چھپاؤں گی اپنا یا پھر واقعی تمہارے دل میں ایسی کوئی حسرت پل رہی ہے تو مجھے بتادو تو میں ابھی کولگیٹ سے اپنی سانسیں مہکا آتا ہوں”

مغیث کا انداز اسے شرمندہ کرنے والا تھا اور وہ جی بھر کے شرمندہ ہو بھی چکی تھی۔۔۔ صرف مغیث کو چڑانے کے چکر میں اسے خود سمجھ نہیں آیا تو وہ کتنی فضول بات اپنے منہ سے نکال چکی تھی۔۔۔

صوفیہ نے مغیث کے اوپر سے اٹھنا چاہا تو مغیث نے اس کی کلائی پر اپنی گرفت مذید سخت کردی۔۔۔۔ وہ خاموشی سے بیڈ پر لیٹا ہوا گہری نگاہوں سے اپنی اوپر جھکی ہوئی صوفیہ کا خجالت سے سرخ چہرہ دیکھ رہا تھا۔۔۔سرور اسے آہستہ آہستہ اپنی رگ رگ میں اترتا ہوا محسوس ہونے ناجانے یہ شارف کے لگائے ہوئے اس انجکشن کا کمال تھا یا پھر اس وقت صوفیہ کی قربت کا اعجاز جو اسے اپنے اندر تک سکون اترتا ہوا محسوس ہورہا تھا وہ خود بھی یہ بات سمجھنے سے قاصر تھا

“مغیث عالم پلیز میرا ہاتھ چھوڑیں مجھے اپنے کمرے میں جانا ہے”

صوفیہ مغیث کے دیکھنے کے انداز سے سہم چکی تھی وہ اپنی پلکیں چھپکائے بنا بہت غور سے صوفیہ کو مسلسل دیکھے جارہا تھا صوفیہ نے خود سے مغیث سے اپنی کلائی چھڑوانے کی کوشش کی تو مغیث اس کی کمر کے گرد اپنا بازو لپیٹ کر صوفیہ کو بیڈ پر لٹاتا ہوا خود اس کے اوپر جھک گیا

“مغیث عالم آپ مجھے اس طرح خود سے نہیں ڈرا سکتے پلیز پیچھے ہٹ جاۓ اب میں آپ کو تنگ نہیں کرو گی پرامس”

صوفیہ بیڈ پر لیٹی اپنے اوپر جھکے ہوۓ مغیث سے روہانسی لہجے میں بولی جو اس کی دونوں کلائیوں کو پکڑ چکا تھا وہ رو دینے والی ہوگئی

“اب تو مجھے خود بھی اپنے آپ سے ڈر لگنے لگا ہے دعا کرو کہ مجھے تم سے محبت نہ ہو ورنہ پھر تمہارے لئے بہت مشکل ہوجائے گی۔۔۔ نہیں سنبھال سکے گی تمہاری محبت مجھ جیسے ادھوری ذات کے انسان کو، جس دن میرا اصلی روپ تمہاری نظر میں آگیا تو تڑپ کر رہ جاۓ گی تم اور تمہاری یہ محبت۔۔۔ تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ مجھ سے دور رہا کرو مت آیا کرو میرے اتنے نزدیک۔۔۔۔۔ جس دن میرا دل خود غرضی پر اتر آیا اور تمہیں اپنانے کی ضد کر بیٹھا تو یہ تمہارے لئے بہت برا ہوگا صوفی دعا کرو ایسا وقت نہ آئے یہی تمہارے لیے اچھا ہے”

مغیث بولتا جارہا تھا اور اس کے دل و دماغ پر نشہ طاری ہوتا جارہا تھا۔۔۔ صوفیہ سانس روک مغیث کی باتیں سن رہی تھی جوکہ ساری کی ساری اس کے سر پر سے گزر رہی تھی اسے گھبراہٹ کے مارے بالکل سمجھ نہیں آرہا تھا مغیث کیا بولے رہا ہے جبکہ دوسری طرف مغیث اپنی بات مکمل کرکے صوفیہ کے کندھے پر سر ٹکائے گہری سانس لینے لگا صوفیہ نے محسوس کیا کہ وہ اب اپنے ہوش و حواس میں موجود نہیں

“مغیث”

صوفیہ نے اسے پکارتے ہوئے اپنے دبے ہوئے وجود کے اوپر سے مغیث کو ہٹانا چاہا جس میں وہ بہت مشکل سے کامیاب ہوئی۔۔ مغیث کی بند آنکھوں کو دیکھ کر صوفیہ اس کا چہرہ دیکھنے لگی

“کیا آپ کو مجھ سے بالکل بھی محبت نہیں مغیث عالم آپ کی یہ بات تو میں مان ہی نہیں سکتی اور اگر ایسا سچ میں ہے تو میں آج سے بلکہ ابھی سے یہی دعا کرو گی کہ اوپر والا آپ کے دل میں میرے لیے محبت ڈال دے”

صوفیہ یہ دعا کرتے ہوئے کافی اداس ہوئی تھی کیوکہ اسے نہیں لگتا تھا وہ اس راستے کی اکیلی مسافر تھی اپنے اداس دل کے ساتھ وہ بیڈ سے اٹھنے لگی تو اس کی نظر مغیث کی جینز کی پاکٹ پر گئی جس میں سے چمکتی ہوئی چیز صوفیہ نے باہر نکالی جسے دیکھ کر صوفیہ کے چہرے پر بےساختہ خوبصورت سی مسکراہٹ آئی وہ سوۓ ہوۓ مغیث کو دیکھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی

****

“کہاں پر تھے کل رات تم”

صبح ناشتے کی ٹیبل پر محب اور موحد بیٹھے ہوئے تھے مغیث کے ڈائننگ ہال میں آکر کرسی پر بیٹھنے پر جبران اخبار تہہ کرتا ہوا مغیث سے مخاطب ہوا

“دوستوں کے ساتھ”

مختصر سا جواب دیتا ہوا وہ آملیٹ کی پلیٹ اپنی طرف کھسکانے لگا تو موحد نے جلدی سے بغیر پیاز والا آملیٹ مغیث کے سامنے رکھا کیوکہ اس بار مغیث کے سامنے کرسی پر وہ خود نہیں بیٹھا تھا جو کمال پھرتی سے اپنی جانب آتی پلیٹ کو دیکھ کر نیچے ہوجاتا بلکہ اس وقت مغیث کے سامنے کرسی پر جبران بیٹھا تھا

“آفس جانے کے بارے میں کیا سوچا ہے تم نے”

جبران چاۓ کا گھونٹ منہ میں بھرتا ہوا مغیث کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا کیوکہ وہ مہینے بھر سے نوٹ کررہا تھا مغیث کا اپنے دوستوں میں کچھ زیادہ ہی وقت گزرنے لگا تھا۔۔۔ جبران کے سوال پر مغیث کا ناشتہ کرتا ہوا ہاتھ رکا وہ جبران کو دیکھنے لگا

“آفس جاتا تو ہوں جابی”

مغیث جبران کی طرف دیکھتا ہوا اس کو بولا جبکہ محب اور موحد خاموشی سے اپنا اپنا ناشتہ کررہے تھے۔۔۔ جبران جب سخت گیر باپ بننے پر آتا تو ان تینوں میں سے کسی کی ہمت نہیں ہوتی اس کے سامنے اپنا سر اٹھاۓ

“آخری بار تم نے آفس کا چکر مہینے بھر پہلے لگایا تھا، اپنی دوسری مصروفیت کو ترک کرکے اپنے اندر مستقل مزاجی لاؤ اور باقاعدگی سے آفس جانا شروع کردو محب کی طرح”

جبران کی بات پر مغیث نے “جی” کہنے پر اکتفا کیا اور اپنا ناشتہ کرنے لگا

“اور تمہاری اسٹڈیز کیسی جارہی ہے”

مغیث سے نظریں ہٹاکر اب کے جبران موحد سے پوچھنے لگا

“ایک دم فرسٹ کلاس جابی”

موحد پرسکون انداز میں جبران کو مطمئن کرتا ہوا بولا تو جبران کا رخ محب کی طرف ہوا

“آفس میں کوئی پرابلم تو نہیں آرہی تمہیں”

جبران محب کو دیکھتا ہوا اس سے سوال کرنے لگا ویسے تو محب کو 3 سال ہوچکے تھے کمپنی کو سنبھالے ہوئے لیکن 6 ماہ سے جبران نے اپنی کمپنی کو پراپر طریقے سے ٹائم دینا بالکل ہی چھوڑ دیا تھا اب زیادہ تر تمام معاملات محب ہی ڈیل کرتا جبران بہت کم آفس جاتا

“آفس کا ماحول اور سارے ورکرز کا کام بالکل ریلکس چل رہا ہے لیکن جابی آپ نے جس لڑکی کو پرسنل سیکرٹری کے لیے آپوائنٹ کیا ہے وہ بالکل بھی ڈیزرو نہیں کرتی ہے اس سیٹ کو”

محب مہرماہ کا ذکر اکتائے ہوئے لہجے میں کرتا ہوا بولا

“کیوں بھائی مجھے تو مس مہرماہ کافی سوئیٹ سی لگیں”

جبران کے کچھ بولنے سے پہلے ناشتہ کرتا ہوا موحد بولا تو محب اسے آنکھیں دکھانے لگا جس پر وہ منہ بناتا ہوا دوبارہ ناشتہ کرنے لگا اس کے دونوں بڑے بھائیوں کا ہی اس پر کافی روعب تھا

“میں مانتا ہوں مہرماہ کی کولیفیکیشن اور تجربہ اس سیٹ کے لئے نہ کافی ہے مگر وہ سیدھی سادی اور بچی مجھے بہت اچھی لگی مجھے امید ہے، وہ بہت جلد کام سیکھ جائے گی تمہاری مدد سے”

جبران کی بات پر محب اسے کیا جواب دیتا اس لئے خاموش ہوگیا وہ شروع سے ہی جبران کا ہر فیصلہ مانتا آیا تھا

“اور شادی کرنے کا کب پروگرام ہے تمہارا”

جبران پرانے ٹاپک کو کلوز کرکے ایک بار پھر محب سے پوچھنے لگا جس پر مغیث اور موحد دونوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگنے لگی کیوکہ یہ وہ ٹاپک تھا جس سے محب ہمیشہ اپنی جان چھڑاتا تھا اور وہ دونوں بھائی جانتے تھے کہ اس وقت محب کا اپنے چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ کیا جواب ہوگا

“اس وقت یہ کونسا ٹاپک لےکر بیٹھ گئے ہیں آپ جابی”

محب نے وہی مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے جبران کو وہی پرانا جواب دیا جو وہ ہمیشہ سے دیتا آرہا تھا

“آج یہ ٹاپک پورے دو ماہ بعد چھیڑا ہے میں نے، لیکن پھر بھی مجھے تم سے اسی پرانے جواب کی توقع تھی اگلی مرتبہ مجھے یہ جواب مت دینا آگے سے۔۔۔۔ ویسے اگلی بار تمہیں یہ بولنے کا موقع بھی نہیں ملے گا کیوکہ میں تمہارے لیے لڑکی خود دیکھ چکا ہوں بہت جلد تمہیں اس کے بارے میں بتاؤں گا”

جبران ناشتے سے اپنے ہاتھ کھینچتا ہوا بولا تو وہ تینوں ہی جبران کو دیکھنے لگے اگر ان تینوں کی جگہ اس وقت صوفیہ یہاں موجود ہوتی تو وہ جبران سے اس لڑکی کے بارے میں پوچھ بھی لیتی لیکن وہ تینوں ہی چپ رہے

“میں پہلے ہی سب کو بتارہی ہوں اگلے اتوار کو سب اپنی اپنی مصروفیات ترک کرکے صفائی کا دن منائے گیں۔۔۔ گھر بہت زیادہ گندا ہورہا ہے میں اکیلی عبدل کے ساتھ مل کر اس پورے اتنے بڑے گھر کی صفائی بالکل نہیں کرسکتی۔۔۔ اس لیے ابھی سے سب کو انفارم کررہی ہوں سب کی اگلی چھٹی کا دن عالم ہاوس میں صفائی کا دن منایا جاۓ گا”

صوفیہ کچن سے باہر آتی ہوئی جبران کے برابر والی سیٹ پر بیٹھ کر باآواز سب کو مخاطب کرتی ہوئی بولی جس پر جبران مسکرانے لگا۔۔۔ جبکہ مغیث نے نظریں اٹھاکر صوفیہ کو دیکھا تو وہ بری طرح سے ٹھٹھک گیا کیوکہ صوفیہ کے گلے میں وہی “ایس” والا پینڈینٹ موجود تھا جو کل رات کی واردات کے مال میں سے اس کے حصے آیا تھا

“جب تم ہمارا چھٹی کا دن برباد کرنے کا سوچ ہی چکی ہو تو سب کو ان کے کام بھی بتادو”

محب ناشتہ کرنے کے دوران صوفیہ سے پوچھنے لگا

“بھئی ہمارے جابی تو لان کی صفائی ستھرائی کو اچھی طرح دیکھ لیں گے عبدل کے ساتھ مل کر۔۔۔ اپنے کمزور سے موحد کو ہم اوپر والی چھت کی صفائی دے دیتے ہیں،، آپ اپنی ہائیٹ کو دیکھتے ہوئے خود ہی سمجھ جائیں کے سارے کمروں کی چھت کے جالے اور پورے گھر کے پنکھے آپ کو ہی صاف کرنے ہیں۔۔۔ اب بچتے ہیں “اپنے” مغیث عالم تو ان کی باڈی اور ڈولے شولے دیکھتے ہوئے اسٹور روم ان کے حصے میں آجاتا ہے جہاں پر پورے عالم ہاؤس کا پرانا فرنیچر اور بہت سارا کاٹھ کباڑ جمع ہوگیا ہے تو وہ سب مغیث عالم دیکھ لیں گے اب بچتی ہوئی میں تو میں آپ سب کے لئے رات کا بہترین سا ڈنر ارینج کرو گی”

صوفیہ کے بتائے ہوئے کاموں کو سب نے خوشی خوشی کرنے کے لیے تسلیم کیا سواۓ مغیث کے۔۔۔ اس کا دماغ ابھی تک صوفیہ کے گلے میں موجود پینڈینٹ پر اٹکا ہوا تھا اور نگاہیں بھی اسی پر ٹکی ہوئی تھی

“سب کے کام تو تم نے خوب سوچ سمجھ کر چنے ہیں ویسے یہ بتاؤ یہ پینڈینٹ کہاں سے مارا ہے جس کو پہن کر اترانے کے ساتھ ساتھ صبح صبح اس کی نمائش بھی کررہی ہو”

موحد کے بات پر مغیث کے ساتھ ساتھ جبران اور محب کی بھی توجہ اس کے پینڈینٹ پر چلی گئی جس پر صوفیہ مغیث کو دیکھ کر اسمائل دینے لگی جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں پوچھ رہی ہو “بتادو”

“ہے کوئی سم ون اسپیشل۔۔۔ سمجھ تو گئے ہوگے تم”

صوفیہ موحد کو جواب دیتی ہوئی بولی جس پر موحد حیرت سے پورا منہ کھولے مغیث کو دیکھنے لگا مغیث ضبط سے اپنے لب بھینچتا ہوا کرسی سے اٹھ کر ہال سے باہر نکل گیا

“گڑیا کتنی بار بولا ہے تم سے سنجیدہ رہا کرو اب بڑی ہوگئی ہو تم، اچھی لڑکیاں ایسی باتیں نہیں کرتی”

محب صوفیہ کو ٹوکتا ہوا اپنا ناشتہ کرنے لگا وہ اکثر صوفیہ کو یونہی سمجھایا کرتا تھا

“یہ اچھی لڑکیاں کہاں پائی جاتی ہیں جن کا ذکر محب بھائی ہر وقت کرتے رہتے ہیں مجھے پتہ چلے تو میں ساری اچھی لڑکیوں کے گلے دبا ڈالوں”

صوفیہ آئستہ آواز میں موحد کو بولتی ہوئی اپنا ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگئی