354K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Deewani (Episode 17)

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

وہ مغیث کو کھانا دے کر کمرے میں آئی تو محب کو سامنے صوفے پر اپنا منتظر پایا وہ مہرماہ کے ہی انتظار میں بیٹھا ہوا تھا، مہرماہ سرسری سی نگاہ محب پر ڈال کر ڈریسنگ روم میں جانے لگی تو محب مہرماہ کے سامنے آتا ہوا اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ صوفے تک لے آیا

“میں نے تم سے گڑیا کے ساتھ کاموں میں ہاتھ بٹانے کا بولا تھا یہ نہیں بولا تھا کہ ساری ذمہ داری تم اپنے اوپر ڈال لو”

محب مہرماہ کو اپنے ساتھ بٹھاتا ہوا اپنائیت بھرے لہجے میں بولا۔۔۔۔

محب نے محسوس کیا تھا صوفیہ کے منع کرنے پر بھی مہرماہ اسے کچن سے نکال کر صبح کا ناشتہ عبدل کے ساتھ خود تیار کرتی اور رات کے کھانے کا بھی اب زیادہ تر وہی اہتمام کرتی

“اچھا ہی ہے کاموں میں لگ کر کم ازکم دل نہیں جلتا اور ذہن بٹا رہتا ہے۔۔۔ صبح آفس کے لیے آپ کے کپڑے پریس کرنے جارہی ہوں، آپ سونے کے لئے لیٹ جاۓ ویسے بھی آج کافی دیر ہوچکی ہے”

نہ جانے کس بات پر آج اس کا دل بری طرح اداس ہورہا تھا مہرماہ پریس کا بہانہ بناکر صوفے سے اٹھنے لگی تو محب نے اس کا ہاتھ پکڑلیا

“کپڑے ڈرائی کلین ہوکر آتے ہیں تو پریس بھی ہوتے ہیں، بیٹھی رہو کچھ دیر باتیں کرلیتے ہیں ویسے بھی صبح چھٹی ہے شاید تم بھول رہی ہو”

محب مہرماہ کا ہاتھ پکڑتا ہؤا بولا تو مہرماہ خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی محب نے مسکراتے ہوئے مہرماہ کا پکڑا ہوا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا تو مہرماہ بناء کچھ بولے دیوار پر لگی ہوئی پینٹنگ دیکھنے لگی محب مہرماہ کا چہرہ دیکھنے لگا جو اس وقت ہر احساس سے عاری تھا، محب اس کا تھاما ہوا ہاتھ دیکھ کر بولا

“یہ جو میاں بیوی کا رشتہ ہوتا ہے ناں اس میں صرف پیار محبت ہو ایسا ضروری نہیں ہوتا،۔۔۔ ہر دوسرے رشتے کی طرح شوہر اور بیوی کے رشتے میں بھی لڑائی، جھگڑے، نااتفاقی ناچاکی اور غلط فہمیاں ہوتی ہیں مگر تمہیں معلوم ہے اس رشتے کی خوبصورتی وقت سے پہلے تب مانند پڑنے لگ جاتی ہے جب دلوں میں غبار بھرنے لگے اور بہت ساری باتیں جمع ہونے لگے۔۔۔ میں نہیں چاہتا مہر ہم دونوں کا رشتہ اس بدصورت رویہ کی نظر ہونے لگے”

محب دھیمے لہجے میں مہرماہ کا ہاتھ پکڑا ہوا بولنے لگا تو مہرماہ کی آنکھیں لبالب آنسوؤں سے بھرنے لگیں

“تمہیں معلوم ہے یہ بات میں تم سے کیوں بول رہا ہوں اس لیے کہ تم اپنے دل میں موجود سارا غبار نکال دو”

محب کے بولنے کی دیر تھی مہرماہ نے اس کے کندھے پر سر رکھ کر رونا شروع کردیا تو محب نے اس کی کمر کے گرد اپنا بازو حمائل کیا، وہ مہرماہ کے رونے پر خاموشی سے اپنے دوسرے ہاتھ سے اس کی کمر تھپکنے لگا جیسے کسی چھوٹے بچے کو دلاسہ دے رہا ہو

“مجھے معلوم ہے میں آپ کو اچھی نہیں لگتی میری بیوقوفی والی باتیں اور بچکانہ عادتیں آپ کو بری لگتی ہیں لیکن آپ بڑوں کے فیصلے پر یہ رشتہ نبھانے پر مجبور ہیں”

مہرماہ روتی ہوئی اس سے بولی اس نے ابھی بھی محب کے کندھے پر اپنا سر رکھا ہوا تھا

“پہلے تو یہ بتاؤ تمہیں یہ کس نے کہا مجھے تم اچھی نہیں لگتی، اگر تم مجھے اچھی نہیں لگتی تو آج میری بیوی بنی ہوئی میرے اتنے قریب نہ بیٹھی ہوتی۔۔۔ ایسی کوئی زور زبردستی نہیں تھی جابی کی جو میں تم سے شادی سے انکار نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ ہاں بیوقوفی کی باتیں اور بچگانہ عادتیں مجھے واقعی بری لگتی ہیں چاہے وہ کسی بھی لڑکی میں ہو لیکن اب تم میں وہ عادتیں نظر نہیں آتی ہیں،، اور میرے خیال میں ایسا کوئی بھی مرد نہیں جو اپنی بیوی میں یہ چھوٹے بچوں جیسی کوالٹیز دیکھ کر خوش ہوتا ہو۔۔۔ آج شام والی بات کو چھوڑ کر یہ بتاؤ میں نے کب تمہیں تمہاری کسی عادت پر ٹوکا یا بچگانہ لفظ کا طعنہ دیا۔۔۔ جو تم مجھ سے یہ شکوہ کررہی ہو”

محب نرمی سے مہرماہ سے پوچھنے لگا مگر مہرماہ کے ذہن میں اس وقت ولیمے کے دوسرے دن والی باتیں چلنے لگی جو محب نے صبح اٹھنے کے ساتھ اس سے بولی تھی

“ہمارے ولیمے کے دوسرے دن ہی صبح آپ نے مجھ سے عجیب سا رویہ رکھا۔۔۔۔ آپ کو خود سے تو اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہے کہ میں نے آپ کی خاطر اپنی عادتوں کو کتنا تبدیل کیا ہے، اب کتنا سوچ سمجھ کر بولتی ہوں میں لیکن پھر بھی آپ نے ہاسپٹل سے گھر آنے کے بعد مجھے برے طریقے سے ڈانٹا مجھے میرے گھر تک نہیں جانے دیا”

مہرماہ کے بولنے پر محب مہرماہ کا سر اپنے کندھے سے ہٹاکر اس کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا

“ہمارے ولیمے کے دوسرے دن صبح تو میں نے ایسی کوئی بات نہیں بولی جسے تم دل سے لگاکر بیٹھ جاؤ یہ حقیقت ہے مہر میری نیچر ان مردوں جیسی نہیں ہے جو ہر وقت بیوی کی لولو چپو کرتے رہتے ہیں۔۔۔ اگر تم مجھ سے یہ توقع رکھتی ہوکہ میں مغیث کی طرح سب کے سامنے تمہیں اسی طرح پیار سے ڈیل کروں گا جیسے تھوڑی دیر پہلے وہ گڑیا کو کررہا تھا تو میں ایسا نہیں کرسکتا کیوکہ یہ میری ایسی نیچر نہیں۔۔۔ لیکن ابھی اس وقت بند کمرے میں تمہارے سامنے بیٹھا کیا کررہا ہوں میں۔۔۔۔ تمہیں ہر بات کی وضاحت دے رہا ہوں ناں،،، کیوں؟؟ کیونکہ مجھے تمہاری پرواہ ہے، اپنے اور تم سے جڑے رشتے کا احساس ہے۔۔۔ اور رہی بات یہ کہ ہاسپٹل سے آنے کے بعد میں نے تم پر غصہ کیا تو تم مجھے جواب دو،، کیا یہ اچھی بات ہے تم یہاں کی ساری غیر ضروری باتیں جن سے تمہاری آنٹی کا کوئی لینا دینا نہیں تم ان کو ڈیٹیل میں بتارہی تھی تو کیا مجھے غصہ نہیں آتا،،، میری جگہ کوئی بھی مرد ہوتا وہ وہ یونہی غصہ کرتا۔۔۔ اور آج میں تمہیں یہ بھی کلئیر کردیتا ہوں کہ مجھے تمہارے میکے جانے سے کیا پرابلم ہے دیکھو مہر تمہیں خود اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ شادی کے بعد ایک لڑکی کو زیادہ سے زیادہ وقت اپنے شوہر اور سسرال والوں کے ساتھ گزارنا چاہیے کیوکہ تمہیں اب زندگی بھی میرے ساتھ اور میرے گھر والوں کے ساتھ گزارنا ہے اگر تم ہر وقت اپنے گھر جانے کی فرمائش کروگی تو تمہیں اس گھر میں رہنے کی عادت کیسے ہوگی شادی کے بعد جہاں ایک شوہر کے اوپر بیوی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہی بیوی پر بھی یہ ذمہ داری ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے شوہر اور ان سے منسلک رشتے پر توجہ دے، میں نے تمہیں انکار تو نہیں کیا تھا تمہاری آنٹی کے پاس تمہیں لے جاتا چند دنوں بعد مگر تم اس دن بناء مجھے انفرم کیے، خیر چھوڑو اس بات کو۔۔۔

محب بات ختم کرتا ہوا بولا تو مہرماہ خاموش رہی اس نے کوئی دوسری بات محب کے سامنے نہیں رکھی کوئی شکوہ یا کوئی وضاحت وہ خاموشی سے ٹیبل پر رکھے ٹشو باکس سے ٹشو نکال کر آنسو صاف کرنے والی تھی محب نے اس کے ہاتھ سے ٹشو لےکر واپس ٹیبل پر رکھا اور مہرماہ کا چہرہ تھام کر خود اس کے آنسو صاف کرنے لگا

“یہ سوچ اپنے دل میں دوبارہ کبھی مت لانا کہ تم مجھے اچھی نہیں لگتی۔۔۔ ہر وقت آئی لو یو، آئی لو یو بولنے والا مرد نہیں ہوں میں۔ِ۔۔۔ غصہ بھی مجھے ناپسند باتوں پر جلد آجاتا ہے جس پر تمہارا دل بھی دکھتا ہوگا میرے رویے اور باتوں سے، لیکن وہ غصہ دیرپا نہیں ہوتا وقتی ہوتا ہے اس لیے اگر میں غصے میں تمہیں باتیں سنادیا کرو تو ان باتوں کو دل سے مت لگایا کرو نہ ہی سیریس لیا کرو بس یہ بات اپنے ذہن میں رکھا کرو کہ میں بےشک لفظوں کا سہارہ نہ بھی لوں تو تم مجھے اچھی لگتی ہو کیوکہ تم ایک لڑکی جو اپنے شوہر کا مذاج جان کر اپنے اندر اور عادتوں میں بدلاؤ لائی ہو۔۔۔۔ کیا میں آگے جاکر تم سے یہ توقع رکھ سکتا ہوں کہ تم ایک اچھی بیوی بھی ثابت ہوگی”

محب دھیمے لہجے میں مہرماہ کو مکمل بات سمجھاتا ہوا اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اس سے پوچھنے لگا

“اور اچھی بیوی بننے کے لیے کیا کرنا پڑے گا مجھے؟”

محب سے پوچھتے ہوۓ مہرماہ کا چہرہ ایسے فق ہوا جیسے اسے اب اچھی بیوی بننے کا ٹاسک دیا جارہا ہے اور اس ٹاسک کو پورا کرنے کے لیے ناجانے اس کو کون کون سے پاپڑ بیلنے پڑیں گیں۔۔۔

محب نے مہرماہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑتے دیکھ کر اسے اپنے حصار میں لیا

“ریلکس ہوجاؤ تم تو ایسے پریشان ہورہی ہو جیسے اچھی بیویاں دوسرے پلانٹ پر موجود ہوتی ہیں ویسے ایک معاملے میں تو تم بھی اچھی بیوی ہو”

محب کی بات پر مہرماہ اس کے حصار سے نکل کر محب کو دیکھنے لگی جیسے اسے اپنے اندر وہ کوالٹی جاننے کا تجسس ہو جو اچھی بیوی میں پائی جاتی ہے محب مبہم سی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجاکر مہرماہ کو دیکھ کر بولا

“چار سے پانچ ہچکیاں لینے کے بعد تم فورا اپنی ہچکیوں پر قابو پالیتی ہو۔۔۔ زیادہ ٹائم ہچکیاں لینے میں برباد نہیں کرتی یہ بات مجھے تمہاری بہت پسند ہے”

محب کی بات کا مفہوم سمجھ کر مہرماہ بلش کرگئی محب مہرماہ کو دیکھ کر مسکرانے لگا

*****

صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو مہرماہ کا موڈ کافی خوشگوار تھا کل کی رات محب نے اس سے ڈھیر ساری باتیں کی جب باتوں کا سلسلہ ختم ہوا تو دوسرا سلسلہ شروع ہوگیا وہ محب کو اپنے اوپر مہربان دیکھ کر اس سے سارے گلے شکوے بھول گئی تھی، وہ مہرماہ سے وعدہ کرچکا تھا کہ دو دن کے بعد وہ اس کو اس کی آنٹی کے پاس لے جائے گا۔۔۔

“تم بہت خوبصورت ہو، بہت پیاری ہو مہر۔۔۔۔

رات میں محب کا بولا ہوا جملا اس وقت مہرماہ کے کان میں دوبارہ رس گھولنے لگا تو وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی کل رات کی طرح مسکرادی شاید محب کو احساس ہوگیا تھا بیوی سے پیار جتانے کے ساتھ کبھی کبھی لفظوں کا بھی سہارا لےلینے میں کوئی حرج نہیں

“میں آپ کو سچ میں اچھی لگتی ہوں محب”

وہ اس کو پیار کررہا تھا اپنے ہر انداز سے احساس دلا رہا تھا کہ وہ اس کے لیے بہت خاص ہے،، بار بار اس کو سراہ رہا تھا تب مہرماہ اس سے پوچھ بیٹھی

“اچھی کیوں نہیں لگو گی تم بیوی ہو میری۔۔۔ آج تک اتنے نزدیک سے نہ کسی دوسری لڑکی کو دیکھا ہے نہ کبھی کسی سے بےتکلف ہوا ہوں۔۔۔ بہت قریبی اور خوبصورت رشتہ ہے ہم دونوں کے درمیان اس رشتے کو محسوس کرنے دو”

محب کی ساری کرم نوازی عنایتں یاد کرکے مہرماہ کے رخسار گلابی ہوگئے بیڈ پر اپنے برابر میں خالی جگہ کو دیکھ کر مہرماہ بیڈ سے اٹھ گئی

آج چھٹی کا دن ہونے کے باوجود محب کی شروع سے ہی صبح جلدی اٹھنے کی عادت تھی اس لیے مہرماہ فریش ہوکر جلدی سے کچن کا رخ کرنے لگی مگر صوفیہ کے کمرے سے اس کی روتی ہوئی آواز نے مہرماہ کے قدم وہی روک لیے وہ کچن میں جانے کی وجہ صوفیہ کے کمرے میں چلی آئی۔۔۔ جہاں پر پہلے سے ہی جبران محب اور موحد موجود تھے

“گڑیا تم جو بھی بات جانتی ہو وہ سب سچ بتاؤ کل رات تمہاری یونیورسٹی کی لڑکی جو پولیس کو اس جنگل میں بےہوش ملی تھی، اس کے بیان کے مطابق وہ دو لوگ تھے جنہوں نے اس کوسٹر کو روکا تھا بعد میں ان دونوں نے اپنے ایک ساتھی کو بھی بلایا تھا ان دو لڑکوں کے نام نادر اور شارف تھے یہ دونوں نام وہاں موجود سب افراد نے ان لڑکوں کے منہ سے سنے ہیں اور مغیث کے دونوں دوستوں کے نام بھی یہی ہیں میں اچھی طرح جانتا ہوں۔۔۔۔ گڑیا ان دونوں لڑکوں کا وہ تیسرا ساتھی کون تھا جو بعد میں وہاں پر آیا تھا مجھے سچ بتاؤ دیکھو پولیس ایک ایک کرکے باقی تمام اسٹاف کے بھی بیان ریکارڈ کررہی ہے بات زیادہ دیر تک چھپی نہیں رہ سکتی،، تمہارے اس طرح رونے سے کچھ نہیں ہوگا تم جو بھی کچھ جانتی ہو پلیز ہم لوگوں کو بتاؤں”

محب مہرماہ کی کمرے میں آمد کا نوٹس لیے بغیر روتی ہوئی صوفیہ سے پوچھنے لگا جبران اور موحد کی نظریں بھی صوفیہ پر جمی ہوئی تھی

آج صبح ہونے کے ساتھ ہی یہ خبر یونیورسٹی میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی یونیورسٹی کے اساتذہ کی وین کو چند لڑکوں نے ٹارگٹ کیا تھا اور تین گھنٹے تک ان لوگوں نے تمام اسٹاف کے ممبرز کو اپنے پاس رکھا ساتھ ہی سب کی قیمتی چیزیں بھی ان سے لےلیں، بیان دینے والے افراد میں سبھی کا کہنا یہ تھا کہ وہ ان تینوں کے چہرے پہچان سکتے ہیں

“محب بھائی پلیز مجھے فورس مت کریں میں کچھ نہیں جانتی”

کوشش کرنے کے باوجود صوفیہ مغیث کا سچ ان میں سے کسی کو بھی نہیں بتا پائی تھی بلکہ وہ بےتحاشہ رونے لگی

“تم جانتی نہیں ہو یا پھر جان بوجھ کر چھپارہی ہو مغیث کے بارے میں۔۔۔۔ تم بےشک مجھے کچھ نہیں بتاؤ مگر تمہارے آنسو اور اس لڑکی کے بیان سے سب واضح ہوگیا ہے، جاؤ موحد مغیث کو جگاؤ اور یہاں لےکر آؤں اب میں سارا سچ اسی کے منہ سے سننا چاہوں گا” جبران سخت لہجے میں بولا اور موحد مغیث کو بلانے اس کے کمرے میں چلا گیا جو ابھی تک سویا ہوا تھا

*****

پوری رات وہ اتنا بےخبر سوتا رہا کہ موحد کے جگانے پر اس کی آنکھ کھلی۔۔۔ بقول موحد کے اسے جبران صوفیہ کے کمرے میں بلارہا تھا، موحد کی بات پر وہ بری طرح چونکا موحد بناء کوئی دوسری بات کیے مغیث کے کمرے سے چلاگیا۔۔ وہ صبح جاگنے کے ساتھ ہی صوفیہ کو سمجھانا چاہتا تھا کہ وہ اس بات کو اپنے تک محدود رکھے مغیث کو یقین تھا تھوڑا بہت پیار سے ہینڈل کرنے کے بعد وہ اس کی بات مان جاۓ گی مگر اس کی گہری نیند نے اسے جلدی جاگنے کا موقع ہی نہیں تھا دیا تھا

مغیث نے سب سے پہلے نادر کو کال ملائی اس نے مغیث کو اچھی خبر یہ سنائی پولیس کو ان کا حصہ دے کر معاملہ اب کافی حد تک دب چکا ہے، مغیث نادر کی بات سے تو مطمئن ہوگیا تھا مگر اصل خطرہ اسے اب صوفیہ کی طرف سے تھا باہر تو وہ شاید بچ بھی جاتا مگر گھر میں اس معاملے کے بارے میں اگر کسی کو بھنک پڑگئی تھی تو یہ اس کے لئے اچھا ہرگز نہیں تھا

صوفیہ کے کمرے میں قدم رکھتے ہی اسے ماحول میں سنگینی کا اندازہ اچھی طرح ہوگیا تھا چھبتی ہوئی نظر اس نے صوفیہ کے اوپر ڈالی جس کی آنکھیں بےتحاشہ سرخ تھی یعنی وہ ڈھیر سارا رو چکی تھی

“وہاں کھڑے کھڑے اسے غصے میں مت گھورو بلکہ کمرے کے اندر آجاؤ”

اس وقت کمرے میں موجود تمام افراد کی نظر میں مغیث کے اوپر جمی ہوئی تھی اس کے چہرے پر غضیلے تاثرات دیکھ کر جبران مغیث سے بولا تو وہ اپنے ماتھے کے سارے بال سیدھے کرتے ہوۓ کمرے کے اندر چلا آیا

“بولیے مجھے کس لیے بلایا ہے آپ نے یہاں پر” مغیث جبران کے سامنے کھڑا ہوکر اس سے پوچھنے لگا

“کل شام آفس کے بعد سے لےکر رات تک کہاں موجود تھے تم”

جبران بھی اس کے روبرو کھڑا ہوکر اس سے سوال پوچھنے لگا

“اپنے دوست شہزاد کے گھر پر کہیں تو اس سے بات کروا دیتا ہوں آپ کی”

مغیث پاکٹ سے اپنا موبائل نکالتا ہوا جبران سے بولا تو جبران نے اس کے موبائل پر زور سے ہاتھ مارا موبائل دور جاگرا، جبران کے غصے سے دیکھنے پر مغیث نے پل بھر کے لیے اس سے نظریں چرالی، کمرے میں موجود سب لوگوں کا سانس رکا ہوا تھا

“زیادہ چالاک بننے کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے تم جتنے بھی بڑے ہو جاؤ، اپنے باپ کو بےوقوف نہیں بناسکتے۔۔۔ میں تم سے کوئی بھی سوال گھما پھرا کر نہیں کرو گا مغیث، تم ان غلط چکروں میں کب سے ملوث ہو مجھے بالکل سیدھا جواب چاہیے”

جبران کے پوچھنے پر مغیث جبران کا چہرہ دیکھنے لگا پھر قہر بھری نظر اس نے صوفیہ پر ڈالی

“جابی یا تو آپ کو کسی نے میرے خلاف بولا ہے یا پھر آپ کو کوئی غلط فہمی۔۔۔۔ ابھی مغیث کا جملہ مکمل بھی نہیں ہوا تھا جبران کے ہاتھ کا زور دار تھپڑ اس کے گال پر نشان چھوڑ گیا ویسے ہی کمرے میں تمام نفوس کو سانپ سونکھ گیا مہرماہ جبران کے اتنے سخت ردعمل پر ڈر گئی جبکہ صوفیہ نے ایک بار پھر دبی ہوئی آواز میں رونا شروع کر دیا۔۔ مغیث کا بس نہیں چل رہا تھا وہ شرمندگی کے مارے زمین میں گڑھ جائے مگر رہ رہ کر اسے صوفیہ پر غصہ آرہا تھا جبران کی باتوں سے اسے اندازہ ہوگیا تھا صوفیہ سب کو اس کے بارے میں سب کچھ بتاچکی ہے

“اب تمہارا منہ کھلے تو صرف سچ کے لیے، اب کی بار اگر تم نے میرے آگے جھوٹی بکواس کی تو میں تمہارا جوانی کا لحاظ نہیں کروں گا۔۔۔ بتاؤ مجھے میں نے تمہیں اس گھر میں کس چیز کی کمی محسوس ہونے دی جو تم نے ہتھیار اور طاقت کے بل بوتے پر معصوم لوگوں کو لوٹنا شروع کردیا کب سے کررہے ہو یہ غلط اور الٹے کام خاموش کیوں کھڑے ہو جواب دو مجھے”

جبران غصے میں مغیث کا گریبان پکڑ کر چیختا ہوا اس سے پوچھنے لگا محب اور موحد میں ہمت یا اتنی جرات نہیں کی وہ جبران کے غصے سے مغیث کو بچا پاتے مغیث خود بھی جبران کے سوال پر خاموش بت کی طرح کھڑا ہوا تھا

“تمہاری یہ خاموشی میری نظر میں تمہیں قصوروار اور مجرم ثابت کررہی ہے مغیث جواب دو مجھے بتاؤ کہ حقیقت کیا ہے”

جبران مغیث کا گریبان زور سے جھٹک کر غصے میں مذید زور سے دھاڑا

“جبھی میں نکاح نہیں کرنا چاہ رہا تھا کیوکہ مجھے معلوم تھا عورت ذات ہوتی ہی شکی ذہنیت کی مالک ہے اس کو میرے اوپر شک ہے کہ میں غلط صحبت میں پڑگیا ہوں جبکہ میری ان لڑکوں سے کوئی اتنی خاص علیک سلیک نہیں میں وہاں پر صرف اس بےوقوف لڑکی کو بچانے گیا تھا۔۔۔ جس سے میرا زبردستی نکاح پڑھوا کر آپ نے اس کو میرے سر پر مسلط کردیا ہے۔۔۔ آپ اس کی باتوں اور آنسوؤں پر یقین کررہے ہیں مجھ پر آپ کو یقین نہیں ہے تو جارہا ہوں یہ گھر چھوڑ کر”

مغیث کو لگا تھا گھر چھوڑنے والی دھمکی جبران کے غصے کو کم کردے گی مگر وہ حیرت ذدہ ہوکر جبران کو دیکھے گیا کیوکہ اس کی بات مکمل ہوتے ہی جبران اس کے سرخ گال کو دوسرے تپھڑ سے مزید سرخ کرگیا تھا

“میں نے کہا تھا ناں تم سے اب اگر تمہارا منہ کھلا تو میں تمہارے منہ سے سچ سننا پسند کرو گا۔۔۔۔ شرم نہیں آرہی تمہیں بار بار جھوٹ کا سہارا لیتے ہوۓ مجھے تمھارے کرتوتوں کا صوفیہ سے معلوم نہیں ہوا ہے اور تم مجھے گھر چھوڑنے کی دھمکی کیا دے رہے ہو تمھاری اصلیت جاننے کے بعد تم کیا سوچ بیٹھے ہو میں تم جیسی بےغیرت اور زلیل اولاد کو اپنے گھر میں رکھو گا نکلو ابھی کہ ابھی میرے گھر سے، عالم ہاؤس کے دروازے آج سے تم پر بند ہیں”

جبران غصے میں مغیث پر زور سے دھاڑا تو مغیث بالکل خاموش ہوگیا اسے اپنے باپ سے ہرگز توقع نہیں تھی کہ وہ اسے ایسا بولے گا

“نہیں جابی پلیز ایسا مت کریں”

جبران کی بات سن کر صوفیہ اور موحد بیک وقت بول اٹھے وہ دونوں ہی جبران کی بات سن کر پریشان ہوچکے تھے جبکہ مہرماہ خاموشی سے پریشانی صورت لیے محب کو دیکھنے لگی جو اس وقت بالکل خاموش بیٹھا تھا

“تم دونوں خاموش رہو کسی کو بھی ضرورت نہیں ہے اس کی وکالت کرنے کی اور تم یہاں کھڑے کھڑے میری شکل کیا دیکھ رہے ہو گھر سے نکل جانے والی بات میں نے زبانی کلامی نہیں بولی ہے اپنا سامان لو اور دفع ہوجاؤ یہاں سے آج تک ہمارے خاندان میں کوئی ایسا انسان نہیں گزرا جس کا نام چوروں اور ڈکیتوں کے ساتھ لیا جائے مٹی میں نہیں ملانا ہے مجھے اپنے خاندان کا نام ایسی کمینی اولاد سے تعلق رکھ کر”

صوفیہ کی سسکیوں کے علاوہ کمرے میں سب ہی خاموش تھے صرف جبران کی آواز کمرے میں گھونج رہی تھی۔۔۔۔ غصے بھری نظر مغیث پر ڈال کر جبران کمرے سے نکلنے لگا جبھی مغیث ہمت کرکے بولا

“ٹھیک ہے نکل جاتا ہوں میں اس گھر سے لیکن صوفیہ بھی میرے ساتھ جائے گی”

مغیث کی بات پر جبران کہ کمرے سے باہر جاتے قدم خود بخود رک گئے وہی صوفیہ کا سسکنا بھی بند ہوگیا کمرے میں موجود دوسرے افراد بھی مغیث کو دیکھنے لگے جبران پلٹ کر دوبارہ مغیث کے سامنے آکر کھڑا ہوا

“کیا بولا ابھی تم نے ذرا پھر سے میرے سامنے بکواس کرو”

جبران غصے میں آگ بگولا ہوکر مغیث سے کہنے لگا مغیث کے ساتھ ساتھ کمرے میں دوسرے افراد کو بھی محسوس ہورہا تھا مغیث نے دوبارہ منہ کھولا تو جبران کے تیسرے تپھڑ سے مغیث کا دوسرا گال بھی سرخ ہوجاۓ گا، مگر مغیث بھی ڈھٹائی دکھاتا ہوا دوبارہ جبران کے سامنے بولا

“یہ بیوی بھی ہے میری اس سے نکاح ہوا ہے میرا،، اگر میں گھر چھوڑ کر گیا تو یہ بھی میرے ساتھ جائے گی،، صوفیہ کو لیے بغیر میں یہاں سے ہرگز نہیں جاؤں گا”

مغیث ہمت کرتا ہوا اور اپنے لہجے کو مضبوط بناتا ہوا بولا

“ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو یہ تمہارے بولے ہوئے الفاظ تھے ناں کہ تمہارا زبردستی اس سے نکاح پڑھوا کر اسے تمہارے سر پر مسلط کیا گیا ہے تو پھر اچانک ہی تمہارے دل میں اس کو اپنے ساتھ لے جانے کا خیال کیوں آگیا۔۔۔ یہ تمہارے ساتھ جانا تو دور کی بات اب میں اس کے ساتھ تمہارا رشتہ بھی قائم نہیں رہنے دوں گا”

جبران کی بات پر صوفیہ کو اپنے کمرے کے در و دیوار اپنے ہی اوپر گرتی ہوئی محسوس ہوئی جبکہ مغیث جبران کی بات پر غصے میں احتجاجا چیخ آٹھا

“میری چھوٹی سی غلطی پر آپ میرے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں کرسکتے ہیں جابی۔۔۔ ایسا بھی کوئی بڑا گناہ نہیں کردیا ہے میں نے جو آپ مسلسل میرے لیے سزا پر سزا تجویز کیے جارہے ہیں صوفیہ خود بھی کبھی رشتہ ختم کرنے کا تصور نہیں کرسکتی”

مغیث غصے میں جبران سے بولتا ہوا صوفیہ کے پاس آیا

“صوفی بتادو انہیں تم کبھی بھی مجھ سے اپنا رشتہ ختم نہیں کرسکتی اور یہ بھی سب کے سامنے بول دو کہ تم ابھی اس وقت میرے ساتھ چل رہی ہو۔۔۔۔ چپ کیوں ہو بتاؤ سب کو”

آخری جملہ مغیث نے صوفیہ کو خاموش ویسے ہی بیڈ پر بیٹھا ہوا دیکھ کر غصے میں تیز آواز میں بولا مگر صوفیہ مغیث کو دیکھنے کی بجاۓ رحم طلب نظروں سے جبران کو دیکھنے لگی

“میں اس گھر کو چھوڑ کر آپ کے ساتھ نہیں جاسکتی مغیث عالم”

جبران کی نگاہوں میں ایک مان تھا،، جو صوفیہ کو رکھنا تھا کیوکہ جبران نے کبھی اس کی کوئی بات نہیں ٹالی تھی۔۔۔ صوفیہ نظریں جھکا کر آہستہ آواز میں اتنا ہی بول سکی، اپنا مغیث سے رشتہ ختم کرنے والی بات کے بارے میں تو وہ خود مر کر بھی نہیں سوچ سکتی تھی

“یہ محبت ہے تمہاری، جھوٹی دھوکے باز لڑکی دل تو چاہ رہا ہے جان لے لوں تمہاری اپنے ان ہاتھوں سے”

صوفیہ کے جواب پر مغیث سے غصہ برداشت کرنا مشکل ہوگیا اس نے صوفیہ کا بازو پکڑ کر کھینچ کر بیڈ سے اٹھایا اور اپنے مقابل کھڑا کیا اس سے پہلے مغیث سچ میں صوفیہ کی گردن اپنے شکنجے میں لیتا محب نے بیچ میں آکر مغیث کو پیچھے دھکیلا

“دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ہے تمہارا کیوں اتنی دیر سے تماشا کیے جارہے ہو،، سنا نہیں تم نے گڑیا کا جواب وہ تمہارے ساتھ جانا نہیں چاہتی تو بند کرو یہ سارا تماشہ”

محب سنجیدہ لہجہ اختیار کرتا ہوں مغیث سے بولا

“تم بیچ میں نہیں بولو محب یہ تمہارا معاملہ نہیں بلکے میرا اور اس کا معاملہ ہے۔۔۔ یہ جاۓ گی میرے ساتھ چاہے اس کی مرضی نہ ہو اسے تب بھی اسے وہی کرنا پڑے گا جو میں چاہو گا”

مغیث انگلی اٹھا کر محب کو تنبہی کرتا ہوا بولا اور غصے بھری نظر اس نے صوفیہ پر ڈالی

“اس بےغیرت کی حالت دیکھو اپنی غلطی پر نادم ہونے کی بجائے یہ دوسری لڑائیاں نکال رہا ہے۔۔۔۔ میری ایک بات کان کھول کر سن لو مغیث جب تمہارا صوفیہ سے کوئی رشتہ نہیں رہے گا تب تم دونوں تمام معاملات بھی ختم ہوجائیں گے، اگر صوفیہ کی مرضی ہوئی میں تب بھی نہیں چاہؤں گا کہ تمہارا اور صوفیہ کا رشتہ قائم رہے اور اس کا مستقبل برباد ہو۔۔۔ بہت جلد میں یہ رشتہ ختم کروا دوں گا کیوکہ اوپر جانے کے بعد مجھے اپنی مری ہوئی بہن کو بھی منہ دکھانا ہے۔۔۔ محب اگر یہ پندرہ منٹ کے اندر گھر سے نہیں نکلا تو یہاں پولیس کو کال کرکے بلالینا۔۔ اچھا ہے اس کے چہرے کی آج بھی شناخت ہوجائے اور پولیس اس کو تھانے میں لےجا کر اس کی اچھی طرح سے تواضح کرے”

جبران بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا

“تم جابی کا غصہ اچھی طرح جانتے ہو تم جتنا زیادہ ان کے سامنے احتجاج کرو گے انہیں تمہارا یہ انداز صرف ضد دلاۓ گا تم ان کو صرف اپنے مخالف ہی پاؤ گے مغیث۔۔۔۔ اگر تم واقعی چاہتے ہوں گڑیا اور تمہارا رشتہ جڑا رہے تو اس وقت یہاں سے چلے جاؤ”

محب مغیث کو عقل دلاتا ہوا سمجھانے کی کوشش کرنے لگا

“میں بھی جابی کا ہی خون ہو اور ضد میں ان سے دو قدم آگے بھی، یہ بات بھی جابی کو یاد رکھنا چاہیے۔۔۔ اس وقت میں یہاں سے جارہا ہوں لیکن بہت جلد یہاں دوبارہ آؤں گا”

مغیث محب سے بولتا ہوا وہاں سے جانے لگا پھر کچھ سوچ کر پلٹا۔۔۔ صوفیہ نم آنکھوں سے اسی کو دیکھ رہی تھی مغیث ماتھے پر بل لیے اس سے بولا

“آج تم نے میرا ساتھ نہ دے کر اپنے ساتھ بہت غلط کیا ہے، اب جو میں تمہارے ساتھ کروں گا اس کے لئے تیار رہنا”

وہ صوفیہ سے بولتا ہوا اس کے کمرے سے جاچکا تھا صوفیہ مہرماہ کے چھونے پر چونکی اور بےساختہ اس کے کندھے پر سر رکھ کر رونے لگی۔۔۔ موحد مغیث کا نیچے گرا ہوا موبائل اٹھاکر مغیث کے پیچھے باہر جانے لگا

****

اس اپارٹمنٹ میں محب کا سسرال رہتا تھا کل اس کے گھر سے نکلتے وقت موحد نے اس کو موبائل پکڑاتے ہوئے یہی آنے کو کہا تھا مغیث اس وقت وہی کھڑا موحد کا انتظار کررہا تھا

“بھائی کیسے ہیں آپ”

بائیک سے اترتے ہوئے ماحد مغیث کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا وہ دونوں ہی اس وقت اپارٹمنٹ کے بیسمنٹ میں موجود تھے

“انہوں نے حال کہا ٹھیک رہنے دیا ہے مجھے بے گھر کرکے، خیر تم سناؤ کیوں بلایا ہے مجھے یہاں”

مغیث سر جھٹکتا ہوا اپنی پیشانی پر پڑی سلوٹیں ٹھیک کرکے اس سے پوچھنے لگا

“آپ کو یہاں بلانے کا مقصد میں بعد میں بتاؤں گا پہلے آپ یہ بتائیں آپ رہ کہاں پر رہے ہیں کل سے” موحد کو مغیث کی فکر ہونے لگی کیونکہ کل مغیث ایک بیگ میں اپنے کپڑے ڈال کر گھر سے نکل گیا تھا

“فی الحال تو اپنے ایک دوست کے پاس رہ رہا ہوں مگر ایک دو جگہ بات کی ہے میں نے کل یا پرسوں تک میرے رہنے کا پراپر ارینچ ہوجائے گا ڈونٹ وری”

مغیث موحد کے چہرے پر اپنے لئے فکر دیکھ کر اپنے لہجے میں نرمی لاتا ہوا بولا وہ جانتا تھا گھر میں سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے وہ حساس طبیعت رکھتا ہے اور کل بھی وہ اس کے گھر سے نکلتے وقت کافی اداس تھا

“بھائی میرے ایک فرینڈ کا بھائی کافی زیادہ ریسورسس رکھتا ہے اگر آپ یہ کام کسی بھی بلیک میل کرنے پر یا پھر کسی کے مجبور کرنے پر زبردستی کررہے ہیں تو ہم لوگ اس معاملے میں ان کی ہیلپ لے سکتے ہیں” موحد تھوڑا ہچکچاتا ہوا مغیث سے بولا تو مغیث غور سے اسے دیکھنے لگا

“کسی کے باپ میں بھی ہمت نہیں ہے جو مجھے بلیک میل کرے یا پھر مجھ سے زبردستی کچھ کروا لے یہ سب میں صرف فن اور ایڈونچر کے لئے کرتا ہوں”

مغیث اپنے جملوں پر زور دیتا ہوا اس سے بولا تو موحد حیرت زدہ ہوکر مغیث کو دیکھنے لگا

“ایسے غلط کام کرنے سے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے سے کونسا لطف حاصل ہوتا ہے آپ کو بھائی، ایڈونچر کے نام لےکر اپنے مزے اور تسکین کے لئے کسی دوسرے کو نقصان پہنچانا،، کیا یہ عمل آپ کی نظر میں صحیح ہے”

موحد کے پوچھنے پر مغیث کے ماتھے پر بل پڑے

“یہ سب سنانے کے لئے تم نے مجھے یہاں بلایا تھا ہوگیا تمہارا لیکچر کمپلیٹ تو اب اجازت دو مجھے”

مغیث کو وہاں سے جانے کے لیے پر تولتا ہوا دیکھ کر موحد ایک دم مغیث کو روکتا ہوا بولا

“اچھا بھائی یار سوری برا تو نہیں مانیں میری بات کا چلیں میرے ساتھ میں آپ کو کسی سے ملواتا ہوں”

موحد مغیث کو بہلاتا ہوا بولا اور مغیث کا ہاتھ پکڑ کر اسے لفٹ کی طرف لے جانے لگا

“جبران صاحب کے کیا حال ہیں مجھے گھر سے نکال کر غصہ کچھ کم ہوا ان کا یا ابھی بھی میرا غصہ عالم ہاؤس کی در و دیوار پر نکال رہے ہیں”

مغیث موحد کے ساتھ چلتا ہوا جبران کے بارے میں اس سے پوچھنے لگا

“جابی آپ کے لیے جبران صاحب کب سے ہوگئے۔۔۔ خدا کا خوف کریں بھائی وہ ہمارے والد ہیں اور آپ کو معلوم ہے کل آپ کے گھر سے نکلنے کے بعد انہوں نے خود کو اپنے کمرے میں بند کرلیا تھا محب بھائی نے بہلا کر پیار سے ان کو ان کے کمرے سے باہر نکالا”

لفٹ کے اندر مغیث کے جاتے ہی وہ خود بھی لفٹ کے اندر آنے کے بعد لفٹ میں موجود بٹن دباتا ہوا بولا تو لفٹ اوپر کی طرف جانے لگی

“اگر مجھے گھر سے نکال ہی دیا ہے تو پھر دکھی ہونے کی ضرورت کیا ہے اور انہیں جبران صاحب کیوں نہ بولو تم نے سنا نہیں کل انہوں نے اپنا رشتہ ختم کرلیا مجھ سے۔۔۔ کل سے اب وہ میرے لیے صرف ایک سسر کی حیثیت رکھتے ہیں انہیں یہ گمان ہے کہ میں انہی صوفی سے اپنا رشتہ ختم کرنے دوگا تو ان کی یہ غلط فہمی دور کرنے کے لیے میں بہت جلد صوفی کو اپنے ساتھ لے جانے کے لیے عالم ہاؤس آؤنگا اور اس چپکلی کو بھی میرا میسج دے دینا کچھ دن عالم ہاؤس میں سکون سے گزارے پھر اس کی بالکل بھی خیر نہیں ہے۔۔۔ میرے بارے میں سب کو بتاکر اور سب کے سامنے میرے ساتھ چلنے سے انکار کرکے اس نے اپنی شامت کو خود دعوت دی ہے”

مغیث موحد کو اپنے ارادے سے آگاہ کرتا ہوا بولا موحد مغیث کے تاثرات اور لہجے سے اندازہ نہیں لگا پایا یہ بات اس نے کس حد تک سیریس بولی تھی

“سب سے پہلے تو میں آپ کو یہ بات کلیئر کردیتا ہوں کہ صوفی نے جابی یا محب بھائی کو آپ کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا،، اس بات کو لےکر آپ صوفی سے اپنا دل بالکل بھی خراب مت کریں اس سارے قصے میں اس کی ذرا سی بھی انولمینٹ شامل نہیں ہے، الٹا جو آپ نے اقراء کے ساتھ کیا وہ اس بات کو لےکر ذہنی طور پر کافی ڈسٹرب ہے”

مطلوبہ فلور آنے پر لفٹ کا دروازہ کھل چکا تھا مگر موحد کی بات پر وہ لفٹ سے باہر نکلنے کی بجاۓ حیرت زدہ ہوکر موحد سے پوچھنے لگا

“کون اقراء وہ لڑکی جو سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے بےہوش ہوگئی تھی کیا کیا ہے میں نے اس کے ساتھ” مغیث حیران ہوکر موحد سے پوچھنے کے ساتھ خود بھی اپنا دماغ چلانے لگا پھر اسے یاد آیا نادر کا ذومعنی بولا ہوا جملہ، صوفیہ کا صدمے سے اسے دیکھنا،، کار میں صوفیہ کا رونا۔۔۔ مغیث اپنے دماغ میں خود ہی کڑی سے کڑی ملانے لگا

“میرے بارے میں اتنا گھٹیا سوچ رکھنے کی ہمت کیسے کی اس لڑکی نے، اب میں اس کو بالکل بھی نہیں بخشے والا”

موحد نے مغیث کا ہاتھ پکڑ کر اسے لفٹ سے باہر نکالا تو غصے میں مغیث موحد سے بولا

“میں خود کل سے اس بےوقوف لڑکی کو یہی سمجھ آرہا تھا کہ بھائی اتنی گھٹیا حرکت کسی دوسری لڑکی کے ساتھ نہیں کرسکتے،، آپ نے تو آج تک کبھی صوفی کو ہی نہیں چھیڑا کتنی لائن دیتی تھی وہ آپ کو نکاح سے پہلے”

موحد کے بولنے پر مغیث اسے گھور کر دیکھنے لگا

“بعد میں گھور لیئے گا یار پہلے یہاں چلیں”

موحد مغیث کو فلیٹ کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا