Teri Deewani By Zeenia Sharjeel Readelle 50387 Teri Deewani (Episode 11)
Rate this Novel
Teri Deewani (Episode 11)
Teri Deewani By Zeenia Sharjeel
“ہمیں آئسکریم پارلر نہیں بلکہ بیوٹی پالر جانا تھا”
مہرماہ کار پارک کرتے موحد سے بولی جو اسے بیوٹی پارلر کی بجائے آئسکریم پارلر لے آیا تھا
“جانتا ہوں بھابھی مگر آپ تو ایسے گھبرا رہی ہیں جیسے محب بھائی اس بات کو لےکر آپ سے خفا ہو جائیں گے۔۔۔ مانتا ہوں انہیں غصہ آتا ہے مگر اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر نہیں، آجائیے پہلے ہم دونوں آئس کریم کھاتے ہیں تھوڑی باتیں وغیرہ کرلیتے ہیں پھر میں آپ کو جادو نگری میں چھوڑ دیتا ہوں جہاں سے دنیا کی ہر لڑکی چینج ہوکر نکلتی ہے”
موحد مہرماہ سے بولتا ہوا کار سے اترا تو مہرماہ بھی کار سے اتر کر اس کے پیچھے چل دی
“مگر تم مجھے یہاں آج ہی یہاں کیوں لے آئے ہو مطلب ولیمے کی دلہن بننے سے پہلے آئسکریم کھانا ضروری ہوتا ہے کیا”
مہرماہ پریشان ہونے کے ساتھ آئسکریم پارلر کے اندر چلتی ہوئی موحد سے پوچھنے لگی سچ تو یہ تھا اسے واقعی محب سے ڈر لگنے لگا تھا وہ نہ جانے اس بات کا بھی برا نہ مان بیٹھتا
“ایسا ضروری تو نہیں ہوتا مگر ہماری فرینڈ شپ کے آغاز کے درمیان آئس کریم جیسی چیز نہ ہو تو فرینڈشپ کچھ روکھی پھیکی سی لگے گی بالکل آپ کے شوہر نامداد کی طرح”
موحد کرسی کھینچتا ہوا مہرماہ کو بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگا تو مہرماہ بیٹھتے ہی موحد کو دیکھنے لگی
“مانا کہ میرے جوکس ہنسنے کے قابل نہیں ہوتے مگر آپ میرا دل رکھنے کے لیے ہلکی سی اسمائل بھی دے سکتی تھی”
موحد خود بھی کرسی پر بیٹھتا ہوا منہ بناکر بولا تو مہرماہ کے لبوں پر اسمائل آئی یہ جولی ٹائپ کا لڑکا رومان سے ایک یا ڈیرھ سال بڑا تھا جو مہرماہ کو کافی اچھا لگا
“تم بہت اچھے ہو بالکل رومی کے جیسے”
مہرماہ اسمائل دیتی ہوئی موحد سے بولی
“وہ تو مجھے پتہ ہے آپ یہ بتائیے آپ کو اپنے شوہر کیسے لگے”
موحد شرارت بھرے انداز میں مہرماہ سے پوچھنے لگا تو مہرماہ بجھے دل سے بولی
“ڈراؤنے ٹائپ کے، کسی ومپائر کے جیسے”
مہرماہ نے بےساختہ اپنے خیالات کا اظہار کیا جس پر موحد کا قہقہہ بلند ہوا مہرماہ ایک دم خاموش ہوگئی وہ اپنے نادر خیالات کا اظہار اسی کے چھوٹے بھائی کے سامنے کررہی تھی
“ارے ڈرئیے نہیں میں آپ کے خیالات اپنے تک محدود رکھو گا کیوکہ میرے اور صوفی کے خیالات بھی کچھ ایسے ہی ہیں اب سب سے اہم بات غور سے سنیئے ہماری فرینڈشپ بہت اسٹرونگ اور کبھی نہ ختم ہونے والی ہونی چاہیے اور آج سے آپ میرے اور صوفی کے گروپ میں شامل ہوچکی ہیں یعنی کہ آپ کو ہماری ساری شرارتوں میں اور ہر طرح کے پلانز میں برابر کا شریک ہونا گا یہ یاد رکھئے گا عالم ہاؤس میں ایک نہیں بلکہ دو دو کھڑوس قسم کی شخصیت پائی جاتی ہیں ایک سے تو آپ اچھی طرح واقف ہوگیں یعنی آپ کے شوہر، اور دوسرے کی جھلک آپ آج صبح ناشتے کی ٹیبل پر دیکھ چکی ہیں یعنی مغیث بھائی جن سے محبت وحبت کے چکر میں پڑ کر صوفی اپنا سر پھوڑنے جارہی ہے تو کہنے کا مطلب یہ ہے ان دونوں کے غصے اور ڈانٹ پھٹکار کو آپ نے بالکل بھی سیریس نہیں لینا بالکل میرے اور صوفی کی طرح،، آپ کو بھی ڈھیٹ بننا پڑے گا اوکے”
موحد اسے اور بھی اپنے اور صوفیہ کی شرارتوں کے قصہ بتاتا رہا جس کو سن کر مہرماہ کو ہنسی آنے لگی
**★**
تھوڑی دیر پہلے اس نے محفل میں موجود تمام افراد اور گواہوں کی موجودگی میں نکاح نامے پر سائن کیے تھے، سب سے مبارکباد وصول کرتا ہوا وہ ہوٹل کے اس حصے میں پہنچا جہاں تنہائی تھی شور شرابے سے دور وہ اس وقت تنہائی اور سکون ہی چاہتا تھا جبھی اس کے موبائل پر نادر کی کال آنے لگی
“سب خیریت ہے”
مغیث نادر کی کال ریسیو کرتا ہوا بولا آج کافی دنوں بعد اس کی نادر سے بات ہورہی تھی
“شریفوں والی زندگی گزار کر میں ان دنوں بری طرح اکتا چکا ہوں یار پلیز کوئی پروگرام سیٹ کر ملنے کا کیونکہ میں نے پتہ لگالیا ہے وہ ڈی ایس پی چھٹیوں پر اپنے آبائی گاؤں گیا ہوا ہے اور اس نئے ایس ایچ او سے میں نے ڈیل کرلی ہے اس کو اسکا حصہ پہچانے کے بعد وہ باقی کے معاملات خود دیکھ لیا کرے گا چل نہ یار اسی خوشی میں آج کوئی چھوٹا موٹا شکار ہی سہی کچھ تو کرتے ہیں یار”
نادر مغیث کو موبائل پر بولنے لگا
“ٹھیک ہے پھر تم شارف کو بھی کلب میں بلالو وہی بیٹھ کر کچھ ڈیسائڈ کرلیتے ہیں ویسے بھی مجھے سکون کی طلب ہے اور آخری ڈوس بھی کا اختتام ہوچکا ہے”
مغیث نادر کو ڈرگس کے بارے میں بتانے لگا۔۔۔ اپنے اور صوفیہ کے رشتے کو نظر انداز کرنے کے لیے فی الحال اسے اسی چیز کا سہارا لینا چاہیے تھا نادر سے بات کرنے کے بعد اس نے موبائل رکھا تو اسے سامنے سے موحد آتا ہوا دکھائی دیا جس کے ساتھ اس کی دشمن جان بھی موجود تھی جس کے حسین سراپے سے مغیث نے اس لیے اب تک اپنی نظریں چرائی ہوئی تھی تاکہ وہ اپنے دل میں اس کے لیے موجود غصہ برقرار رکھ سکے
مغیث نے دیکھا موحد صوفیہ کو سہارا دے کر زبردستی چلاتا ہوا اس کے پاس لارہا تھا اور صوفیہ اپنی آنکھیں کھل بند کرتی ہوئی مشکل سے ہی چل پارہی تھی
“کیا ہوا اسے”
مغیث اپنا موبائل پاکٹ میں رکھتا ہوا موحد سے صوفیہ کے بارے میں پوچھنے لگا
“آپ کو معلوم تو ہے یہ لڑکی کم اور تماشہ زیادہ ہے اپنے نکاح کی ایکسائیڈ مینٹ میں اس نے خود کو شاید زبردستی ہوش میں رکھا ہوا تھا۔۔۔ قبول ہے قبول ہے کہہ کر خوشی خوشی اتنی جلدی نکاح نامے پر سائن کیے کہ وہاں موجود گواہ لڑکی کی حالت دیکھ کر خود ہی شرمانے لگے لیکن اس کے بعد سے اس کی یہ حالت ہے کہ محترمہ صوفے پر بیٹھی ہوئی بار بار مہرماہ بھابھی کے کندھے پر سر ٹکا کر سوۓ جارہی تھیں جابی کے بولنے پر اسے وہاں سے اٹھاکر یہاں لے آیا ہوں، اب آپ اپنا بوجھ خود سنبھالیں میں چلا اپنے دوستوں کے پاس”
موحد نے بولتے ہوۓ صوفیہ کا بازو چھوڑ کر اسے ہلکا سا مغیث کی طرف دھکیلا تو مغیث نے فورا صوفیہ کو کمر سے تھاما اس سے پہلے مغیث موحد کی حرکت پر اسے ڈانٹتا وہ واپس جاچکا تھا جبکہ صوفیہ مغیث کے کندھے پر ٹکایا ہوا سر اٹھاکر نشیلی آنکھوں سے مغیث کو دیکھنے لگے اور اس کے اس طرح دیکھنے پر مغیث کو اپنے دل صوفیہ کی آنکھوں میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔ مغیث سمجھ چکا تھا یہ حالت صوفیہ کی پلز کی وجہ سے ہے جو اس وقت اس پر غشی طاری کرچکی تھی
“ہمارے نکاح کی مبارکباد قبول کرئیے مغیث عالم آج میں بہت خوش ہوں آپ کو پاکر آپ بھی خوش ہیں ناں پلیز بتائیے مجھے”
صوفیہ بامشکل اپنی آنکھیں کھولتی ہوئی مغیث کو دیکھکر اس سے پوچھنے لگی تو وہ سچائی بیان کرتا ہوا بولا
“میں بھی بہت خوش ہوں آج”
ساتھ ہی وہ صوفیہ کے ماتھے کی بندیا ٹھیک کرتا ہوا گہری نظروں سے اسے دیکھنے لگا جس پر صوفیہ آنکھیں بند کرتی ہوئی دوبارہ اس کے کندھے پر اپنا سر ٹکاچکی تھی۔۔۔ مغیث کو محسوس ہوا آہستہ آہستہ وہ اپنا وزن اس پر چھوڑ رہی تھی جس کی وجہ سے مغیث کو اسے اپنے حصار میں مضبوطی سے تھامنا پڑا
“صوفیہ اٹھو آنکھیں کھولو چلو میں تمہیں گھر لے چلو”
صوفیہ کی کنڈیشن دیکھتا ہوا وہ اس سے بولا وہ اس قابل نہیں تھی کہ اب مذید وقت ہوٹل میں گزار سکے
“نہیں بالکل بھی نہیں مجھے گھر نہیں جانا یہی رہنا ہے آپ کے ساتھ”
صوفیہ مغیث کے کندھے پر ٹکایا ہوا سر زور سے ہلاتی ہوئی اس سے بچوں کی طرح ضد کرنے لگی ساتھ ہی اس نے اپنے دونوں بازو مغیث کے گرد باندھے تاکہ اپنا بیلنس برقرار رکھ سکے وہاں سے گزرتا ہوا ایک ویٹر حیرت سے منہ کھولے اتنی بےباک دلہن کو دیکھنے لگا
“یہ سامنے والا روم اوپن کرو”
مغیث ویٹر کو بولتا ہوا لیفٹ سائٹ پر بنے رومز کی طرف اشارہ کرنے لگا۔۔۔ حکم ملتے ہی ویٹر وہاں سے چلاگیا تو مغیث صوفیہ کو تھامے روم کے اندر لے آیا
“بالکل ضدی بچوں جیسی حرکتیں ہیں تمہاری صوفیہ یہاں لیٹو آرام سے میں محب کو بتا دیتا ہوں وہ تمھیں ڈرائیور یا پھر موحد کے ساتھ گھر بھجوا دے گا”
ویٹر کے جانے کے بعد مغیث صوفیہ کو بیڈ پر لٹاتا ہوا بولا وہ خود اپنے دوستوں کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر اس سے پہلے وہ جانے کے لیے مڑتا صوفیہ نے مغیث کا ہاتھ پکڑلیا
“کیا آپ کو اس ضدی بچی پر صرف غصہ ہی آتا ہے مغیث عالم یا کبھی پیار بھی آئے گا”
صوفیہ اس کی کلائی پکڑے بیڈ پر لیٹی ہوئی نشیلی آنکھوں سے مغیث کو دیکھتی ہوئی شکوہ کرنے لگی تو مغیث کو اس کے سراپے اور حسن سے نظریں چرانا مزید مشکل کام لگنے لگا
“میرے پیار میں اتنی شدت اور تڑپ ہوگی کہ یہ ضدی بچی پیار کی ضد چھوڑ کر اپنے کانوں کو ہاتھ لگاکر توبہ کرنے لگے گی۔۔۔۔ تم مجھے بتادو اس وقت تم میں میرا پیار سہنے اور برداشت کرنے کی ہمت اور طاقت ہے”
مغیث مکمل طور پر صوفیہ کے اوپر جھکتا ہوا اسے پوچھنے لگا۔۔۔ صوفیہ کا بےپرواہ حسن مغیث کو بری طرح اکسانے لگا کہ وہ بھرپور انداز میں کوئی گستاخی کر ڈالے۔۔۔ اس سے پہلے صوفیہ اس کی بات کو صحیح معنوں میں سمجھ پاتی مغیث بناء صوفیہ کے جواب کا انتظار کئے اس کے ہونٹوں پر جھکا اور مکمل استحقاق سے اپنی سانسوں کو اس کی سانسوں میں شامل کرنے لگا۔۔۔ مغیث یہ حرکت صوفیہ کی ساری مدہوشی کو رفوچکر کرچکی تھی،، مغیث کی اس بےباکی پر وہ اپنی مٹھیاں بند کرکے اس کے سینے پر مکے مارنے لگی جس پر مغیث اس کی دونوں کلائیوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں جکڑتا ہوا اس کے ہونٹوں کو آزاد کرکے صوفیہ کا چہرہ دیکھنے لگا جو بری طرح شرم سے سرخ ہوچکا تھا
“آپ نے میری بات کا بالکل الٹ مطلب لیا ہے مغیث عالم، پیار کرنے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آپ دوسرے بندے کی سانسیں روک دے ایسے کون کرتا ہے پیار پلیز مجھے جانے دیں”
صوفیہ شرم سے مغیث سے نظریں ملائے بغیر اس سے بولی اس نے اپنے اوپر سے مغیث کو ہٹانا چاہا
“میرا انداز تو پیار کرنے کا ایسا ہی ہے۔۔۔۔ویسے کہاں جانا ہے تمہیں”
مغیث اس کے احتجاج کو نظر انداز کرتا ہوا بغیر اس کی کلائیوں کو چھوڑے سنجیدگی سے پوچھنے لگا
“فی الحال تو آپ کی پہنچ سے دور”
بےساختہ صوفیہ کے منہ سے نکلا تو مغیث نے اپنی گرفت اس کی کلائیوں پر سخت کردی صوفیہ گھبرا کر مغیث کا چہرہ دیکھنے لگی جو بالکل سنجیدہ تھا
“کیوں اور پیار نہیں چاہیے مجھ سے، ابھی تھوڑی دیر پہلے تو تمہیں میرے ساتھ رہنا تھا”
وہ صوفیہ کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بےحد سنجیدگی سے صوفیہ سے پوچھنے لگا تو صوفیہ دوبارہ اس سے نظریں چرانے لگی
“ایسے والا جذباتی پیار اس وقت نہیں چاہیے میں بس چاہ رہی تھی ہمارے نکاح کو لےکر آپ اپنی فیلینگز مجھے بتائیں”
صوفیہ شرمندہ ہوتی ہوئی مغیث سے بولی
“جاننا چاہتی ہوں میری فیلنگز تو سنو میں چاہتا ہوں تم مجھے مکمل طور پر اپنا آپ سونپ دو،، یہ پل، یہ لمحات، اپنا آپ۔۔۔ مکمل طور پر میرے نام کردو،، تو پھر کیا ارادہ ہے تمہارا مسز مغیث عالم اس بارے میں”
تھوڑی دیر پہلے اسے اپنے دوستوں کے پاس جانے کی جلدی تھی لیکن اب مغیث فرصت سے اپنا ارادہ بتاکر صوفیہ سے اس کی مرضی پوچھنے لگا اور مغیث کی یہ باتیں صوفیہ کا ہوش اڑانے کے لیے کافی تھی کہاں تو وہ اس سے نکاح کے لئے راضی نہیں تھا اور اب اس سے ایسی باتیں کررہا تھا صوفیہ مکمل طور پر اپنے حواسوں میں آگئی
“آپ مجھ سے میری رائے پوچھ رہے ہیں یا پھر اپنے ارادے بتاکر مجھے خوفزدہ کررہے ہیں مغیث عالم میں اس وقت ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتی جو آپ چاہ رہے ہیں” صوفیہ نے بولنے کے ساتھ ہی مغیث سے اپنی کلائیاں آزاد کروانی چاہیے جو مغیث نے شرافت سے آزاد کردیں اس وقت صوفیہ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس کی بےباکیوں کو برداشت کرسکے،،
مغیث کے ہلکا سا اٹھنے پر صوفیہ نے جلدی سے پہلو بدل کر بیڈ سے اٹھنا چاہا مگر مغیث دوبارہ اس پر جھکا
“مغیث”
صوفیہ اپنے اوپر دوبارہ مغیث کا جھکاؤ محسوس کرکے بوکھلا گئی وہ صوفیہ کی پشت پر جھکا سر سے صوفیہ کا دوپٹہ اتارنے لگا جس پر صوفیہ کا دل زوردار انداز میں دھڑکنے لگا۔۔۔۔ پیچے شرٹ سے اس کا گلا کافی گہرا تھا صوفیہ کو اپنی گردن اور پیٹھ پر مغیث کی انگلیاں رقص کرتی ہوئی محسوس ہوئی
“بات اب تمہارے چاہنے یا نہ چاہنے کی نہیں رہی ہے میری جان،، خوفزدہ تمہیں مجھ سے اس وقت ہونا چاہیے تھا جب تم نے میری مردانگی کو چیلنج کیا تھا، اب اپنی مردانگی کا ثبوت دئیے اگر میں یہاں سے چلا جاؤ تو لعنت ہے پھر مغیث عالم پر”
مغیث کی آواز جذبات سے چور، وہ مدہوشی سے بولتا ہوا صوفیہ کی پیٹھ پر اپنی محبت کی چھاپ چھوڑنے لگا۔۔۔ صوفیہ پر ایک بار پھر غشی طاری ہونے لگی۔۔۔ مغیث کے ہونٹوں کے محبت بھرا لمس اور اس کے ہاتھوں کی گرمائش صوفیہ کو بےچین کرنے کے باوجود کو ہوش و حواس سے دور لے گئی
“صوفیہ”
مغیث کو صوفیہ کے وجود میں جب کسی جنبش کا احساس محسوس نہیں ہوا تو وہ اسے پکارنے لگا
“صوفی”
مغیث نے اسے سیدھا کرکے اس کی بند آنکھوں کو دیکھ کر ایک بار پھر پکارا
“محبت کے دعوے تو تم بڑی بےخوفی سے کرتی ہو میرے سامنے۔۔۔ اور جب محبت دینے کا وقت آیا تو ذرا سی بھی ہمت نہیں کہ میری شدتوں کی تاب لاسکو یہ صحیح نہیں”
مغیث شکوہ کرتا ہوا صوفیہ کے بےہوش وجود پر اس کا دوپٹہ پھیلا کر ڈالنے لگا اور اپنی پاکٹ سے ڈائمنڈ کی رینگ نکال کر صوفیہ کی انگلی میں پہناتا ہوا اس کے ہاتھ پر محبت بھرا لمس چھوڑ کر وہ خود کمرے سے باہر نکل گیا
*****
“تمہیں، جابی اور گڑیا کو موحد گھر چھوڑ آئے گا مجھے ذرا ایک تو ضروری کام نمٹانے ہیں تھوڑی دیر بعد ہی میرا گھر پہنچنا ہوگا تب تک میرا ویٹ کرنا”
تقریب کے اختتام پر محب مہرماہ کے پاس آتا ہوا اس کے سجے سنورے روپ کو دیکھ کر بولا اس میں کوئی شک نہیں تھا وہ کل سے بھی زیادہ آج پیاری لگ رہی تھی مگر یہ بات محب اسے گھر جانے کے بعد بتانے کے موڈ میں تھا
“پر محب مجھے تو رومی کے ساتھ جانا ہے ناں، آپ نے صبح بھی مجھے آنٹی کے پاس جانے سے منع کردیا تھا تو میں نے آنٹی کو بول دیا تھا کہ میں آپ کے پاس رات میں آجاؤ گی، وہ میرا انتظار کررہی ہوگیں”
مہرماہ محب کو صبح والی بات یاد کرواتی ہوئی بولی۔۔۔ ستارہ اپنی طبیعت خرابی کی وجہ سے مغیث کے نکاح کے فورا بعد یہاں سے واپس چلی گئی تھی ویسے بھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا عالم ہاؤس کے افراد سے زیادہ دیر تک سامنا ہو، اگر آج اس کے دوسرے بیٹے کا نکاح نہیں ہوتا تو شاید وہ یہاں آتی بھی نہیں
“تم نے مجھ سے پوچھ کر اپنی آنٹی سے بولا تھا کہ تمہیں رات کو ان کے پاس آنا ہے”
محب مہرماہ کو دیکھتا ہوا اس سے سوال کرنے لگا مہرماہ اسے جواب دینے کی بجائے خاموشی سے محب کو دیکھنے لگی
“جواب دو کس کی اجازت سے تم نے اپنے جانے کا پروگرام سیٹ کیا اور اپنی آنٹی کو اپنے آنے کا کہا”
بات کرتے ہوئے محب کے ماتھے پر ہلکی سی شکن بھی واضح ہورہی تھی جسے غور سے دیکھ کر مہرماہ بولی
“میں آنٹی کو فون کرکے اپنے آنے کا منع کردیتی ہوں”
مہرماہ بےدلی سے آہستہ آواز میں محب کا بگڑا ہوا موڈ دیکھ کر بولی وہ جانتی تھی ستارہ اس کے گھر آنے کا انتظار کررہی ہوگی اور اس کے نہ جانے کا سن کر رومان بھی اس سے مذید ناراض ہوگا مگر اسے یہ بات بھی ستارہ نے ہی سمجھائی تھی کہ آگے اسے اب محب کی مرضی سے ہی چلنا ہے
“تمہیں کال کرنے کی ضرورت نہیں ہے ان کے یہاں سے جانے سے پہلے میں انہیں بتاچکا ہوں،، کہ تم آج ان کے پاس نہیں آرہی ہو،، مجھے چند دنوں بعد جب بھی ٹائم ملے گا میں خود تمہیں ان سے ملوانے کے لیے لے جاؤں گا، ویسے بھی شادی کے بعد لڑکی کا اصلی گھر اس کا سسرال ہوتا ہے یہ بات تمہاری آنٹی اچھی طرح سمجھتی ہوگیں اور اب تمہیں بھی سمجھ آجانی چاہیے”
محب مہرماہ کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھ کر اسے اپنے اور ستارہ کے درمیان کی گفتگو بتانے لگا اور واپس جانے کے لئے مڑا۔۔۔ وہی محب کی باتوں سے مہرماہ کا دل اداس ہونے لگا شادی کا مطلب یہ سب کچھ ہوتا ہے اسے آئستہ آۂستہ سمجھ آرہا تھا
“ہاں یاد آیا نام کیا ہے تمہاری آنٹی کی بیٹے کا،۔۔۔۔ رومان اسے ضرور بتادو کہ تم آج اس کے ساتھ نہیں جارہی ہو کیونکہ محب نہیں چاہتا کہ تم آج اپنے گھر جاؤ اور ساتھ ہی اسے یہ بھی بتادینا کہ تم پر اب زیادہ حق کس کا ہے”
محب پلٹتا ہوا مہرماہ سے مزید بولا تو مہرماہ مزید دکھی دل سے محب کی بجائے اس کے پیچھے کھڑے رومان کو دیکھنے لگی جو اپنے بگڑے موڈ کے ساتھ محب کی باتیں سن رہا تھا محب دوبارہ جانے کے لیے مڑا تو اس کی نظریں رومان پر پڑی رومان نے محب کو دیکھنے کے باوجود اپنے چہرے کے بگڑے ہوئے زاویئے درست نہیں کیے محب بھی اسے اہمیت دینے کی بجاۓ وہاں سے چلاگیا
“آئی ہیٹ دس مین بجو”
رومان مہرماہ سے بولتا ہوا وہاں سے چلاگیا جبکہ مہرماہ کو محب کی سوچ پر دکھ ہونے لگا شاید اس نے رومان کی میسج والی بات کو انا کا مسئلہ بناکر اسے ستارہ کے پاس جانے سے روک دیا تھا یا پھر اس کے شوہر کی نیچر ایسی تھی۔۔۔ مہرماہ کو اچانک خوف سا محسوس ہوا، اس نے ستارہ کے کہنے پر شادی سے پہلے ہی اپنی عادتیں جتنا اس سے ہوسکے تبدیل کر ڈالی تھیں، اس نے بلاوجہ میں باتوں کو مذاق کا رنگ دینا چھوڑ دیا تھا جتنا ہوسکتا تھا وہ سنجیدہ بننے کے چکر میں کسی دوسرے کی بات پر کمینٹ پاس کرنے کی بجاۓ خاموش رہتی مگر اب اسے لگ رہا تھاجیسے اسے اپنے آپ کو ضبط کرنے کا اور باتوں کو برداشت عادی بھی
*****
گھر پہنچنے کے بعد اپنے کمرے میں آکر مہرماہ جیولری اتارنے اور اپنا لباس تبدیل کرنے کے بعد سونے کے لئے لیٹ گئی تھی مگر اس سے پہلے مہرماہ نے ستارہ کو کال کرکے اپنے نہانے کے معذرت کرنے کے ساتھ ساتھ رومان کو بھی منالیا وہ بےخبر گہری نیند سو رہی تھی تبھی اس کی گردن پر ہونٹوں کے لمس نے اس کی نیند میں خلل ڈالا
“کک کون ہے”
وہ اپنے اوپر جھکے ہوئے وجود سے گھبرا کر پوچھنے لگی
“وہی جس کے نکاح میں آکر تم جس کی بیوی بن چکی ہو”
محب سائیڈ ٹیبل پر موجود لیمپ کو آن کرتا ہوا بولا تو مہرماہ نیم روشنی میں محب کا چہرہ دیکھنے لگی وہ اس وقت اس کے بےحد قریب تھا مہرماہ شرم کے مارے اس سے نظریں چرانے لگی
“آپ کب آۓ مجھے پتہ ہی نہیں چلا”
اپنے چہرے پر جمی محب کی نظر محسوس کرکے مہرماہ محب سے پوچھنے لگی مگر اس نے خود محب کی طرف دیکھنے سے مکمل گریز کیا
“تھوڑی دیر پہلے ہی آیا ہوں تم نے انتظار نہیں کیا میرے آنے کا”
نرم لہجے میں بتانے کے ساتھ محب مہرماہ کا چہرہ مدھم روشنی میں دیکھ کر اس سے شکوہ کرنے لگا تو مہرماہ نے پلکیں اٹھاکر محب کو دیکھا
“میں چینج کرکے لیٹی تو معلوم ہی نہیں ہوا کب میری آنکھ لگ گئی” مہرمِاہ دل ہی دل میں محب کی ناراضگی سے ڈرتی ہوئی اسے وضاحت دینے لگی مگر اس وقت محب کے چہرے پر غصے یا ناراضگی کا شائبہ تک نہیں مل رہا تھا جس پر مہرماہ دل ہی دل میں شکر ادا کرنے لگی
“لیکن میں نے تمہاری نیند خراب کردی تمہیں میرے ڈسٹرب کرنے پر برا تو نہیں لگا”
وہ بہکی ہوئی نظروں سے مہرماہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“نہیں تو محب ایسی بات بالکل بھی نہیں ہے”
مہرماہ نروس ہوکر محب کو دیکھتی ہوئی یقین دلانے لگی
“تو پھر کیسی بات ہے بتادو”
محب بہکی نگاہوں سے اس کے چہرے کو دیکھ کر مہرماہ کے گھبرانے کا نوٹس لیتا ہوا اس کے چہرے کو اپنی انگلیوں سے چھوتا ہوا اس سے پوچھنے لگا تو مہرماہ کو اپنے اردگرد خطرے کے الارم بجتا محسوس ہوا
“مم۔۔۔ مجھے کیا معلوم مجھے تو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا کسی بات ہے”
مہرماہ محب کے انداز پر مذید گھبراتی ہوئی بولی اسے یہ بھی ڈر تھا کہیں محب کسی بات کا برا ہی نہ مان جائے
“تو مجھ سے پوچھ لو کیسی بات ہے بلکہ ایسا کرو مجھ سے میرا ارادہ پوچھ لو”
محب اپنا چہرہ اس کے چہرے کے مزید قریب لاکر مہرماہ سے بولا تو مہرماہ کی ہارٹ بیٹ تیز ہونے لگی
“کک۔۔۔ کیا ہے آ۔۔۔پ کا ارادہ”
محب اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مہرماہ کے ہاتھوں کی انگلیوں میں پوست کرچکا تھا۔۔۔ مہرماہ اٹکتی ہوئی معصومیت سے پوچھنے لگی جس پر محب کے چہرے پر مسکراہٹ آکر ٹھہر گئی وہ اپنے ہونٹ مہرماہ کے کان کی طرف لے جاکر سرگوشی نما آواز میں بولا
“آج رات میرے ارادے بالکل بھی نیک نہیں ہیں”
محب بولتا ہوا اپنے ہونٹ مہرماہ کے ہونٹوں کے نزدیک لے آیا اس کا اگلا عمل مہرماہ کے اوسان خطا کرنے کے لیے کافی تھا
“آج جرمس کی بات نہیں کرنا، آج رات اپنے اور میرے جراثیم ایک ہونے دو ورنہ ہم دونوں کبھی ایک نہیں ہو پائیں گے”
محب اپنے ہونٹ مہرماہ کے ہونٹوں سے ہٹاتا ہوا بولا سے ہی اس کی گردن پر جھک گیا۔۔۔ مہرماہ اس کے اگلے ہر عمل کے لیے اپنا دل مضبوط کرنے لگی
