Teri Deewani By Zeenia Sharjeel Readelle 50387 Teri Deewani (Episode 26)
Rate this Novel
Teri Deewani (Episode 26)
Teri Deewani By Zeenia Sharjeel
جیسے ہی جبران نے اس کے چہرے کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ستارہ نے اپنے چہرے کا رخ دوسری سمت پھیر لیا
“رک جائیے جبران عالم”
کانپتی ہوئی آواز میں ستارہ اتنا ہی بول پائی
“سزا دینا چاہتی ہو مجھے دو سزا کیوکہ جوانی کے جوش میں آکر غصے میں تمہارے کردار پر انگلی اٹھائی ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ فراز سے تمہارا کیا رشتہ تھا بہت گھٹیا انداز میں تم دونوں کے رشتوں کو پامال کیا ہے تمہاری نظر میں۔۔۔ تمہارا دل بہت دکھایا ہے میں نے بہت غلط کیا ہے ستارہ میں نے تمہارے ساتھ، اپنے خود کے ساتھ اور ہمارے بیٹوں کے ساتھ بھی بہت غلط کیا ہے۔۔۔ میں اس بات کو لےکر ساری عمر پچھتاتا رہو تب بھی کم ہے، تم مجھے سزا دینا چاہتی ہوں ناں بےشک دو سزا تھا مگر مجھ سے اپنا چہرہ مت چھپاؤ۔۔۔۔ بہت ترسا ہو ستارہ میں ان بیس سالوں میں تمہیں ایک نظر دیکھنے کے لیے، تم نہیں جانتی میں تنہائی میں بہت رویا ہوں تو میں یاد کرکے”
وہ اب بھی ذاروقطار روتا ہوا ستارہ کو بتارہا تھا ستارہ خود بھی اس کی طرف پشت کیے خاموشی سے آنسو بہارہی تھی جبکہ کمرے کے دروازے پر موجود مہرماہ اور رومان بالکل خاموش تھے جبران نے ستارہ کا بازو پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کرنا چاہا
“پلیز جبران چلے جائیے یہاں سے”
ستارہ روتی ہوئی دوبارہ بولی مگر جبران ستارہ کا رخ اپنی جانب کرچکا تھا رومان نے مداخلت کے غرض سے آگے بڑھنا چاہا تو مہرماہ نے اس کو بازو سے پکڑ کر وہی روک دیا اور نفی میں سر ہلانے لگی وہ رومان کو دوسرے کمرے میں لے گئی جبکہ جبران ستارہ کے چہرے سے دوپٹہ ہٹا چکا تھا ستارہ بےآواز روئے جارہی تھی
“مجھے معاف کردو ستارہ پلیز مجھے معاف کردو”
وہ خود بھی روتا ہوا ستارہ کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر بولا تو ستارہ نے اس کے سینے سے لگ کر آواز کے ساتھ رونا شروع کردیا آخر وہ اسے کتنی اور کب تک سزا دیتی کیا یہ سزا صرف جبران نے اکیلے کاٹی تھی جدائی کا دکھ تو اس نے خود بھی سہا تھا
****
جب صوفیہ نے واپس عالم ہاؤس میں قدم رکھا تو محب کو اپنے انتظار میں ہال میں ٹہلتا ہوا پایا صوفیہ کی چال میں لڑکھڑاہٹ اور قدم اس طرح شکستہ تھے کہ جیسے وہ کیا کچھ گنوا کر آئی ہو
“تم گڑیا،، آخر کہاں چلی گئی تھی مغیث کے ساتھ، پون گھنٹہ ہونے والا ہے تمہیں گھر سے نکلے ہوئے کچھ احساس ہے تمہیں۔۔۔ جابی نے تمہارا پوچھا تو مجھے جھوٹ بولنا پڑا کہ تم اپنے کمرے میں سو رہی ہوں، وہ تو شکر ہے کہ جابی کو خود کہیں باہر جانا تھا اور وہ ابھی تک واپس گھر نہیں لوٹے ہیں” محب صوفیہ کو دیکھتا ہوا مسلسل بولے جارہا تھا مگر صوفیہ کی حد سے زیادہ سرخ آنکھیں دیکھ کر ایک دم خاموش ہوگیا
“کیا ہوا تمہیں سب ٹھیک ہے، مغیث نے کیوں بلایا تھا تمہیں کیا بات کی اس نے تم سے”
محب صوفیہ کی آنکھوں کو دیکھ کر اس سے مغیث کے بارے میں پوچھنے لگا ناجانے کیوں اسے لگ رہا تھا جیسے یہاں آنے سے پہلے صوفیہ ڈھیر سارا روئی ہو
“آپ جانتے ہیں ناں مغیث عالم کتنے برے ہیں”
صوفیہ بولتی ہوئی ایک دم رو دی تو محب اس کو روتا ہوا دیکھ کر پریشان ہوگیا
“گڑیا ہوا کیا ہے اس طرح کیوں رو رہی ہو، مغیث نے غصہ کیا ہے دوبارہ تم پر، کیا بولا ہے اس نے مجھے بتاؤ پلیز”
صوفیہ کے رونے پر محب اس کو کلائی پکڑ کر صوفے پر بیٹھاتا ہوا پوچھنے لگا اس کی نظر صوفیہ کی کلائی پر پڑی جو سرخ ہورہی تھی جہاں انگلیوں کے نشان واضح نظر آرہے تھے، وہ صوفیہ کو روتا ہوا دیکھ کر اور اس کی حالت کو دیکھ کر عجیب کشمکش میں پڑگیا کے صوفیہ سے کیا پوچھے
“دل دکھایا ہے اس نے تمھارا مس بی ہیو کیا ہے اس نے تمہارے ساتھ، خاموش کیو ہو مجھے بتاؤ تو سہی آخر ہوا کیا ہے”
محب صوفیہ کے برابر میں بیٹھتا ہوا اس سے دوبارہ پوچھنے لگا
“نہیں میں نے انہیں ہرٹ کیا ہے”
صوفیہ اپنا آنسؤوں سے تر چہرہ صاف کرتی ہوئی بولی تو محب اس کو دیکھنے لگا جیسے سوچ رہا ہو کیا بولے یا کیا پوچھے
“میں نے غلط کیا جابی سے چھپاکر مجھے انہیں بتادینا چاہیے تھا کہ تم مغیث کے بلانے پر اس کے پاس گئی ہو، تم دونوں کا معاملہ تو سمجھ سے باہر ہے،، آجائیں جابی ذرا پھر انہیں سب بتاؤں گا تاکہ وہ تم سے بھی اچھی طرح پوچھیں اور مغیث کی بھی اچھی طرح خبر لیں”
محب صوفیہ کو دیکھتا ہوا بولا اسے لگا کہ اب صوفیہ ڈر کر اس کو اپنے مغیث کے بارے میں بتائے گی مگر وہ خاموش بیٹھی رہی تو محب نفی میں سر ہلاتا ہوا اٹھ کر اپنے کمرے میں جانے لگا
تبھی ہال سے جبران اندر داخل ہوا مگر حیرت کا جھٹکا محب کو تب لگا جب اس کی نظریں جبران کے ساتھ نقاب کئے ہوئے خاتون پر پڑی، وہ جبران کے ہم قدم تھی جبکہ ان دونوں کے پیچھے مہرماہ اور رومان بھی موجود تھے
محب الجھی ہوئی نظروں سے جبران کے ساتھ ان لوگوں کو دیکھنے لگا مگر اس کی الجھن کا سبب مہرماہ یا رومان کی ذات نہیں بلکہ جبران کے پہلو میں کھڑی مہرماہ کی آنٹی تھی جو نہ جانے کس حق سے اس کے باپ کے پہلو میں اتنے قریب کھڑی تھیں محب کو یہ بات تھوڑی عجیب سی لگی مگر صوفیہ یہ منظر دیکھ کر کچھ سمجھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی اس نے خود کو نارمل کیا اور خوش ہوکر مہرماہ کی طرف بڑھی
“جابی یو آر گریٹ آپ سوچ بھی نہیں سکتے آج میں کتنا خوش ہوں”
موحد جو ابھی باہر سے آیا تھا جبران اور ستارہ کو ایک ساتھ کھڑا ہوا دیکھ کر خوشی اس سے بولتا ہوا جبران کے گلے لگا، صوفیہ بھی اب مسکرا کر ستارہ سے مل رہی تھی۔۔۔۔ صرف ایک وہی تھا جو کنفیوز کھڑا ہوا خاموشی سے یہ سارا ماجرا دیکھ رہا تھا یہ سب اس کے سمجھ سے بالاتر تھا
“اس طرح پریشان ہوکر مت دیکھو میرے ساتھ کھڑی عورت کوئی غیر نہیں تمہاری ماں ہے”
جبران محب کو دیکھتا ہوا بولا،، موحد ستارہ کے نقاب نہ اتارنے کی وجہ کو سمجھتا ہوا کچن کی دہلیز پر کھڑے عبدل کو وہاں سے باہر لے گیا جس کے بعد ستارہ نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹالیا جسے دیکھ کر محب کو یقینا زوردار جھٹکا لگا تھا، ہال میں موجود تمام نفوس اب اسی کا چہرہ دیکھ رہے تھے اور وہ صرف ستارہ کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ ستارہ آگے بڑھ کر چلتی ہوئی محب کے پاس آئی
“یقین جانو بہت دفعہ ایسے موقعے آۓ جب میرا شدت سے دل چاہا کہ تمہیں بتادو۔۔۔
ستارہ نے محب سے بولتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے گال پر رکھنا چاہا جسے محب میں پکڑ کر اپنے چہرے سے دور ہٹایا۔۔۔ ستارہ کے الفاظ محب کی سردمہری کو دیکھ کر وہی دم توڑ گئے
“محب میں ہرگز نہیں چاہؤں گا تمہارے رویے سے ستارہ کے دل کو ٹھیس پہنچے، یہ مت بھولو کہ یہ تمہاری سگی ماں ہے”
جبران آگے بڑھ کر بیچ میں مداخلت کرتا ہوا بولا
“میں کچھ بھی نہیں بھولا ہوں جابی مجھے سب کچھ آج تک اچھی طرح یاد ہے،، یہ خاتون میری ماں نہیں ہیں ہاں یہ آپ کی بیوی ضرور ہوسکتی ہیں میری ماں تو آج سے بیس سال پہلے مجھے یہاں چھوڑ کر چلی گئی تھی”
محب جبران کو دیکھتا ہوا بولا اور وہاں سے اپنے کمرے میں چلاگیا محب کے رویے سے ستارہ کی آنکھیں نم ہونے لگی
“تم پریشان مت ہو وہ ابھی شوکڈ ہے، سنبھل جائے گا تو خود نارمل ہوجائے گا”
جبران ستارہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر بولتا ہوا اسے سمجھانے لگا پھر وہ موحد کی طرف دیکھ کر بولا
“اپنے چھوٹے بھائی کو اس کا کمرہ نہیں دکھاؤ گے”
جبران رومان کو گلے لگاتا ہوا موحد سے بولا۔۔۔
جبران رومان کے رویے میں عجیب کھچاؤ سا محسوس کررہا تھا مگر جانتا تھا وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو محبت دے کر اسے جلد منالے گا موحد رومان کو اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لےگیا جبران مہرماہ کو دیکھنے لگا جس کی نظریں محب کے کمرے کے بند دروازے پر ٹکی ہوئی تھی
“مہرماہ بیٹا”
جبران نے نرمی سے مہرماہ کو پکارا یہ فراز کی بیٹی تھی جس کے پیچھے اکثر ان کے گھر میں لڑائی ہوا کرتی تھی، لیکن آج اسے اپنی بہو کی صورت دیکھ کر جبران مطمئن تھا کہ اس نے محب کے لئے جانے انجانے میں سہی مگر بہترین فیصلہ کیا تھا۔۔۔۔ جبران کے پکارنے پر بھی وہ جبران کو دیکھے بغیر محب کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھ رہی تھی ستارہ اور صوفیہ مہرماہ کو افسوس سے دیکھنے لگیں
“جابی مہرماہ بھابی کو میں اپنے کمرے میں لے جارہی ہو کیوں بھابھی میرے ساتھ میرے کمرے میں رہیں گی آپ”
صوفیہ مہرماہ کا ہاتھ تھام کر اس سے بولی تو مہرماہ نے غائب دماغی سے سر ہلایا،، صوفیہ کو محب اور مہرماہ کے درمیان ہوئی بات کا معلوم ہوا تو اسے کہیں سے بھی مہرماہ غلط نہیں لگی تھی
“مجھے محب اور مہرماہ کی بہت فکر ہورہی ہے جبران”
صوفیہ مہرماہ کو اپنے کمرے میں لے گئی تو ستارہ جبران سے فکر مندانہ لہجے میں بولی
“تم ٹینشن مت لو ستارہ میں نے کہا نہ محب اس وقت شاکڈ ہے وہ اچانک سے پوزیٹو رسپونس نہیں دے سکتا اسے سمجھنے کا اور سنبھلنے کا موقع دو،، بہت جلد وہ خود ہی نارمل ہوجائے گا میں اس کی نیچر جانتا ہوں اسے مہرماہ پر صرف اس بات پر غصہ ہے کہ مہرماہ نے اس کی بات نہیں مانی لیکن جب وہ اپنی اولاد کو دیکھے گا تب اسے سمجھ میں آئے گا کہ وہ کیا حماقت کرنے جارہا تھا”
جبران ستارہ کو سمجھاتا ہوا بولا جس طرح ستارہ محب کا رویہ دیکھ کر پریشان تھی اس کے برعکس جبران اتنا ہی نارمل تھا
“آپ نے مغیث کو کیوں گھر سے نکال دیا جبران آخر اس سے ایسی کیا غلطی ہوگئی تھی۔۔۔ آپ نہیں جانتے ہیں وہ خود کو کس طرح اکیلا محسوس کررہا ہوگا صوفیہ بھی اس کے پاس موجود نہیں ہے اب، میں اتنے سالوں بعد اس گھر میں آئی ہو جبران اگر میری آنکھوں کے سامنے میرا ایک بیٹا بھی نہیں ہوا تم مجھے اچھا نہیں لگے گا”
ستارہ جبران کو دیکھتی ہوئی بولی تاکہ وہ ساری رنجشیں بھلا کر مغیث کو واپس بلالے
“اگر تم چاہتی ہو کہ مغیث عالم ہاؤس میں واپس آجائے تو ایسا ہی ہوگا کیوکہ اب میں تمہیں کوئی بھی دکھ نہیں دے سکتا، نہ تکلیف میں دیکھ سکتا ہوں”
جبران سمجھ گیا تھا کہ اسے مغیث کی سرگرمیوں کے بارے میں علم نہیں ہے، مہرماہ سے اسے ستارہ کی طبیعت کے بارے میں پتہ چلا تھا کہ ستارہ کا دل اب کافی کمزور ہوچکا ہے اس لیے وہ نہیں چاہتا تھا ستارہ کچھ بھی سوچیں یا ٹینشن لے، یہی وجہ تھی اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ مغیث کو واپس عالم ہاؤس بلالے گا یہ بات اس نے ستارہ کے دونوں ہاتھوں کو تھامتے ہوئے اس سے بولی تو ستارہ پرسکون ہوگئی
“تمہارے ہاتھ کس قدر ٹھنڈے ہورہے ہیں یہاں کھڑے رہ کر چلو اپنے کمرے میں”
ہال کا دروازہ کھلا ہونے کی وجہ سے کمرہ اچھا خاصا ٹھنڈا ہوچکا تھا جبران ستارہ کا احساس کرتا ہوا بولا
“اپنے کمرے میں”
ستارہ جبران کا چہرہ دیکھ کر اس کی بات کو دہراتی ہوئی بولی
“ہاں وہ کمرہ جو میرا اور تمہارا تھا اور اب بھی ہے۔۔۔ اس کمرے میں نے محب مغیث یا موحد میں سے میں نے کسی کو شفٹ ہونے نہیں دیا اس کمرے کی ایک ایک چیز ابھی تک تمہاری سیٹ کی ہوئی ہے، الماری میں تمہارے کپڑے اور تمہارا سارا زیور تمام سامان ویسے ہی موجود ہے”
جبران ستارہ کے دونوں ہاتھ تھامیں اسے بتارہا تھا تو ستارہ کی آنکھیں نم ہونے لگی جس پر جبران تڑپ اٹھا
“تم یوں آنکھوں میں آنسو مت لاؤ ستارہ تمہارے آنسو مجھے تکلیف دے رہ ہیں میں جانتا ہوں ماضی میں مجھ سے غلطیاں ہوئی لیکن اس کی سزا بھی میں نے تم سے اور اپنے چھوٹے بیٹے سے جدائی کی صورت پالی ہے بہت سارا قیمتی وقت ماہ و سال گزر چکا ہے بہت حسین وقت پیچھے رہ گیا ہے مگر اب جو وقت میرے پاس بچا ہے میں چاہوں گا میں اس میں تمہیں کبھی کوئی تکلیف نہ ہونے دو اور تمہیں ہمیشہ خوش رکھو”
جبران ستارہ کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتا ہوا بولا اور اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے گیا
****
دھوکا، فریب، جھوٹ۔۔۔ انہی چیزوں سے اسے نفرت تھی اور یہی چیزیں آج اسے اپنی بیوی سے اور اپنی ماں سے ملی تھیں۔ اس کی ماں نے اس کی شادی اس لڑکی سے کروائی جس لڑکی سے اسے بچپن سے چڑ تھی جس لڑکی کا چہرہ وہ بچپن میں دیکھنا پسند نہیں کرتا تھا اور لاعلمی میں وہ اسی لڑکی کو اپنے کمرے میں پھولوں کی سیج پر بیٹھا چکا تھا وہی لڑکی اب اس کے بچے کی ماں بننے والی تھی کتنے آرام سے وہ دو عورتوں کے ہاتھوں بے وقوف بن چکا تھا
تھوڑی دیر پہلے ہی ستارہ اس کے کمرے میں آئی تھی اسے بتانے کے لئے کہ وہ اس سے بہت محبت کرتی ہے کیونکہ وہ اس کی سب سے بڑی اور پہلی اولاد ہے، ستارہ نے اپنی غلطی تسلیم کی تھی کہ بچپن میں وہ اسے اور مغیث کو اس طرح وقت نہیں دے سکی پھر ستارہ نے اسے اپنی مجبوریاں بھی بتائیں جن کو وہ سمجھنا نہیں چاہتا تھا اس لئے ستارہ کے سامنے خاموش بیٹھا رہا اور ستارہ کو اپنے سامنے آنسو بہاتا دیکھتا رہا، صرف ایک لمحے کے لیے اس کے دل میں آیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر ستارہ کے آنسو صاف کرے اور اسے سینے سے لگالے کیونکہ وہ اس کی سگی ماں تھی اسے اس دنیا میں لانے والی ستارہ کے آنسو دیکھ کر محب کا دل پگھل رہا تھا مگر دوسرے ہی لمحے اس نے اپنے دل کو سخت کرلیا اپنا سارہ بچپن اپنے ذہن میں لاتے ہوۓ
جبران اس کے کمرے میں آکر ستارہ کو لے جاچکا تھا اور جانے سے پہلے اس نے محب پر سخت مگر افسوس بھری نگاہ ڈالی دی۔۔۔ دو گھنٹے گزرنے کے بعد کھانے کے وقت ڈائننگ ہال میں آوازیں آرہی تھی،، صوفیہ اس کے کمرے میں اسے کھانے کے لیے بلانے آئی تھی لیکن وہ صوفیہ کو کھانا کھانے سے منع کرچکا تھا۔۔۔ سبھی اس وقت ڈائننگ ہال میں موجود کھانا کھا رہے تھے سب سے زیادہ چہکنے کی آواز اسے موحد کی آرہی تھی ساتھ ہی جبران کی پرجوش آواز بھی اسے سنائی دی وہ ہر تھوڑی دیر بعد ستارہ کو مخاطب کرتا ہوا اسے کچھ نہ کچھ بتارہا تھا اور ساتھ ہی وہ رومان کو بھی صحیح سے کھانا کھانے کو بول رہا تھا اور رومان۔۔۔۔ وہ اس کا سگا چھوٹا بھائی تھا اُف،،،
آخر وہ کیوں ابتداء میں رومان کو دیکھ کر نہیں چونکا اس نے کیوں محسوس نہیں کیا کہ رومان کی مشابہت کتنی زیادہ اسے اپنے آپ میں ملتی نظر آتی تھی وہ کتنا زیادہ بیوقوف بنتا چلاگیا تھا سب کے ہاتھوں
تھوڑی دیر بعد اسے جبران کی آواز آئی وہ موحد سے ماربل کیک منگوا رہا تھا۔۔۔۔ جو مہرماہ کا پسندیدہ کیک تھا محب جانتا تھا۔۔۔ جبران مہرماہ کو دعائیں دے رہا تھا اور گھر کے تمام افراد کو تاکید کررہا تھا کہ وہ سب مل کر مہرماہ کا خیال رکھیں کیونکہ مہرماہ کی بدولت چند ماہ بعد عالم ہاؤس میں ننھے منے مہمان کی آمد ہونے والی تھی۔۔۔ یعنی اس کی اولاد کی محب نے سوچتے ہوۓ لمبا سانس لیا
وہ رات گئے تک اپنے کمرے میں موجود رہا جب اسے اندازہ ہوگیا سب اپنے کمروں میں جاچکے ہوں گے تب وہ لاشعوری طور پر مہرماہ کا انتظار کرنے لگا مگر وہ اس کے کمرے نہیں آئی “ضدی عورت”۔۔۔ کم عقل ناسمجھ اور نافرمان کے ساتھ اب اسے اس کی بیوی میں ایک خاصیت اور نظر آئی تھی
تھک ہار کر وہ اپنے کمرے سے نکل کر کچن میں آیا تاکہ رات کا کھانا کھاسکے مگر کچن میں قدم رکھتے ہی وہ ٹھٹھک گیا کچن میں پہلے سے ہی مہرماہ موجود تھی وہ گلاس میں دودھ لیے واپس کمرے میں جارہی تھی شاید صوفیہ کے کمرے میں۔۔۔۔ محب اس کو دیکھ کر ضبط سے لب بھینچ کر رہ گیا وہی مہرماہ نے دودھ کا گلاس شلف پر رکھا اور محب کے پاس آئی
“آپ یہی کرسی پر بیٹھے میں آپ کے لیے کھانا گرم کردیتی ہوں”
مہرماہ کی آواز سن کر محب نے سخت اور کٹیلی نگاہ اس کے معصوم چہرے پر ڈالی اور غصے میں اسے بازو سے پکڑ کر اپنے کمرے میں لے جانے لگا وہ محب کے ہاتھ کی سخت گرفت اپنے بازو پر محسوس کرکے بھی کچھ نہیں بولی محب کے ساتھ خاموشی سے چلتی رہی، محب نے اس کو بیڈ روم میں لاکر چھوڑا اور کمرے کا دروازہ بند کیا
“کیوں دیا تم نے مجھے دھوکا، تم شروع دن سے ہی جانتی تھی کہ میں کون ہوں۔۔۔ اتنا بڑا گیم کھیلا تم نے میرے ساتھ،، اگر تم شروع میں ہی مجھ سے اپنا اصل تعارف کرواتی تو تمہیں اسی وقت دھکے دے کر اپنے آفس سے باہر کرتا۔۔۔ پری پلان تم میرے آفس میں، اس کے بعد میری زندگی میں آئی ہو۔۔۔ آج مجھے معلوم ہوا ہے تم ایک معصوم چہرہ رکھنے والی اندر سے مکار لڑکی ہو،، اصل حقیقت سے تم نے مجھے بےخبر کیوں رکھا جواب چاہیے مجھے اپنے سوال کا”
محب مہرماہ کا بازو دوبارہ سختی سے پکڑتا ہوا غصے میں اس سے اپنے سوال کا جواب مانگ رہا تھا وہ اسی دن سے ڈرتی آئی تھی جب محب کو سب معلوم ہوگا اور آج وہ دن آپہنچا تھا
“آنٹی کے منع کرنے پر میں خاموش رہی تھی محب، انہیں ایسا لگا تھا جب آپ کو ان کے بارے میں معلوم ہوگا تو آپ کا ری ایکشن اتنا سخت نہیں ہوگا، بخدا میں نے شروع دن سے ہی انہیں سمجھایا تھا کہ آپ سے کچھ نہ چھپائے”
مہرماہ نے اپنی صفائی میں بولنا چاہا تو محب اس کی بات کاٹتا ہوا بولا
“ان کے لیے میرا ری ایکشن سخت ہوتا یا نہیں، میں ان کی بات نہیں کررہا تم نے کیا سوچ کر مجھ سے شادی میں ہامی بھری۔۔۔ اگر مجھے تمہاری اصلیت کا شروع دن سے معلوم ہوتا تو میں کبھی تم سے شادی کرنا گوارا نہیں کرتا۔۔۔ بچپن ہی سے میں تم سے نفرت کرتا آیا ہوں تمہاری شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کرتا تھا میں،، کیوکہ تم نے مجھ سے میری ماں کو چھینا”
وہ غصے میں مہرماہ کو دیکھتا ہوا بولا مہرماہ کی حالت کی پیش نظر وہ اس سے زبانی کلامی بات کررہا تھا ورنہ محب کا دل کیا وہ اسے دھکے دے کر اپنے کمرے سے واپس باہر پھینک دے۔۔۔
جہاں محب کا غصہ اس کو ہراساں کررہا تھا وہی اس کی باتیں بھی ہمیشہ کی طرح مہرماہ کا دل چھلنی کیے دے رہی تھی
“آپ سے شادی کرنا میرا ذاتی فیصلہ نہیں تھا محب ہمارے بڑوں کی آمادگی پر ہی ہماری شادی ہوئی تھی۔۔۔ فیصلے کا اختیار آپ خود بھی رکھتے ہیں لیکن آپ اپنے اور میرے لیے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ایک مرتبہ اپنے آنے والے بچے کے لیے بھی سوچیے گا”
مہرماہ نے نہ جانے کیا سوچ کر یہ بات کہہ دی جبکہ سامنے کھڑے اپنے شوہر سے اسے کسی قسم کی خوش فہمی لاحق نہیں تھی محب بچے والی بات سن کر طنزیہ ہنسا
“اگر تم اس بچے کو ڈھال بناکر میری زندگی میں رہنا چاہتی ہو تو مجھے اس بچے سے کوئی لگاؤ نہیں ہے یہ تم اچھی طرح جانتی ہو مگر تمہارے وجود میں پلنے والا یہ میرا خون ہے اس لیے میں یہی چاہو گا اسے پیدا کرنے کے بعد میرا بچہ مجھے سونپ کر تم ہمیشہ کے لیے عالم ہاؤس سے اور میری زندگی سے دور چلی جاؤ تم جیسی جھوٹی اور مکار لڑکی کا سایہ میں اپنے گھر یا اپنے بچے کے اوپر نہیں پڑنے دینا چاہتا”
محب غصے میں اس کو دھتکارا ہوا بولا تو مہرماہ اپنی آنکھوں میں آنسو لیے اسے دیکھنے لگی
ماضی ایک بار پھر اپنا آپ دوہرا رہا تھا آج پھر دوسرا جبران عالم ستارہ کو گھر سے نکل جانے کے لیے کہہ رہا تھا وہ سارے چکر میں اپنا قصور تلاش کرتی ہوئی محب کے کمرے سے باہر نکل گئی
