Teri Deewani By Zeenia Sharjeel Readelle 50387

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel Readelle 50387 Teri Deewani (Episode 30) 2nd Last Episode

354K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Deewani (Episode 30) 2nd Last Episode

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

مغیث اور صوفیہ کے ولیمے کا فنکشن خوش اسلوبی سے انجام پایا تھا عالم ہاؤس کے تمام افراد کو واپس گھر آتے آتے رات کا ایک بج چکا تھا ستارہ کے کہنے پر مہرماہ صوفیہ کو مغیث کے کمرے میں لے گئی جبکہ ستارہ خود ملازموں کو کام بنھٹانے کی ہدایت دیتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی آئی جہاں جبران پہلے سے ہی راکنگ چیئر پر موجود تھا، گلاسس لگاۓ وہ بڑے انہماک سے اپنا موبائل دیکھ رہا تھا ستارہ کمرے میں آکر اپنے چہرے سے نقاب اتارنے لگی تو جبران موبائل سائیڈ پر رکھ کر اسے دیکھنے لگا

“آج سارا دن ایسے مصروف رہا تمہارا چہرہ دیکھنے کا تو وقت ہی نہیں ملا”

جبران چیئر سے اٹھ کر ستارہ کے پاس آتا ہوا بولا وہ جبران کی بات سن کر اس کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی کہنے لگی

“اب اس جھریوں زدا چہرے کو دیکھ کر کیا کریں گے، اب کچھ رکھا ہے بھلا اِس چہرے میں”

ستارہ سر جھٹکتی ہوئی بولی تو جبران غور سے اُس کو دیکھنے لگا

“ستارہ بیگم یہ تم خود بھی اچھی طرح جانتی ہو کہ تمہارے چہرے کی تازگی اور شادابی عمر کے اس حصے میں بھی ابھی تک برقرار ہے، تم کہیں سے بھی چار جوان بیٹوں کی ماں نہیں لگتی لیکن شاید تم چاہ رہی ہو، میں قریب سے تمہارے چہرے کا دیدار کر کے تمہاری شان میں کچھ قصیدہ پڑھو تو وہ میں کردیتا ہوں”

جبران بولتا ہوا اپنا چہرہ ستارہ کے چہرے کے قریب لایا تو ستارہ ایک دم پیچھے ہوئی

“میری ایسی کوئی خواہش نہیں ہے جبران عالم اب عمر کے اس حصے میں آپ سے اپنی تعریفیں سن کر خوش ہوں۔۔۔ اور خدارا کچھ لحاظ کریں ہمارے چار بیٹے ہیں ماشاللہ سے وہ بھی جوان”

ستارہ بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ چھپاتی ہوئی اسے آنکھیں دکھا کر بولی

“لحاظ کرنے والا طعنہ دے کر بہت غلط کررہی ہو تم میرے ساتھ، بیس سال مجھ سے دور رہ کر تم نے مجھ پر ظلم کیا ہے میرے تو ابھی بھی ایک اور بیٹے کا ارمان تھا، ویسے تمہارا کیا خیال ہے عالم ہاؤس میں ارمان عالم نامی ہمارے بیٹے کی بھی آمد نہیں ہونی چاہیے”

جبران ستارہ کو دیکھ کر بہت سنجیدگی سے چھیڑتا ہوا بولا اس کی بات سن کر وہ بری طرح سٹپٹا گئی

“کیسی خوفزدہ باتیں کررہے ہیں آپ جبران، آج بیٹے کا ولیمہ کرکے آرہے ہیں اور اپنے خیالات دیکھیں اب ہم دونوں کی عمر پوتے پوتیوں کے کھلانے کی ہے۔۔۔ ارمان کے ارمان کو تو آنسؤوں میں بہنے دیں”

ستارہ آنکھیں دکھاتی ہوئی اسے بولی تو وہ ٹھنڈی آہ بھر کر بولا

“مجھے معلوم تھا تم نے پوتے پوتیوں کا ذکر چھیڑ کر میرے ارمانوں پر اوس ہی ڈالنی ہے”

جبران بیچارگی سے بولا تو ستارہ ہنسنے لگی جبران بھی اُس کو ہنستا دیکھ کر اپنی بات پر ہنسنے لگا

“ویسے یہ رومان آپ سے کس فیملی کو ملوا رہا تھا آج”

ستارہ کچھ یاد کرتی ہوئی پوچھنے لگی لیکن اسے اچھا لگا رومان اور جبران کے درمیان برف کی دیوار آہستہ آہستہ پگھل رہی تھی

“وہ عینی کی فیملی تھی، چھوٹے صاحب زادے مجھے بول تو یہی رہے تھے کہ جابی عینی میری بہت اچھی دوست ہے مگر میں باپ ہوں اس کا جان گیا وہ بچی صرف دوست نہیں ہمارے بیٹے کی۔۔۔۔ چلو اچھی بات ہے ہمیں اُس کی دلہن دیکھنے کے لیے جوتے نہیں گھسنے پڑیں گیں، فیملی اچھی پڑھی لکھی لگ رہی ہے، صاف ستھرے لوگ ہیں۔۔ اب بس موحد ہی رہ گیا ہے لیکن اس کی بھی ٹینشن نہیں خاندان میں بھی بچیاں موجود ہیں”

جبران کی بات سن کر ستارہ حیرت میں ڈوب گئی رومان نے کبھی اس سے تو ایسی کوئی بات شیئر نہیں کی تھی اور جبران اگر موحد کے لیے اپنے خاندان کی بچیوں کا سوچ رہا تھا تو یہ غلط تھا

“جبران ہمارا موحد اپنے تینوں بھائیوں سے مختلف اور بہت حساس طبعیت کا مالک ہے، ہمارا سب سے سیدھا سادا بیٹا ہے میں اس کے لئے آپ کے خاندان کی کوئی لڑکی نہیں لاؤ گی، آج نغمہ باجی کی بیٹی کو دیکھا کیسے موحد کے آگے پیچھے گھوم رہی تھی، میں اپنے موحد کے لئے کوئی سیدھی سادی لڑکی بہت دیکھ بھال کے اِس گھر میں لےکر آؤں گی”

ستارہ بات کرتے کرتے بالکل سیریس ہوگئی

“ارے یار میں نے تو ویسے ہی ایک بات بولی تھی خاندان میں نہیں دیکھنا باہر دیکھ لینا، ویسے بھی اب یہ لڑکیاں ڈھونڈا میرا دردِ سر نہیں ہے موحد کے لئے لڑکی دیکھنے کی ذمہ داری تمہاری” جبران لاپرواہ انداز میں بولا تو ستارہ کو اطمینان ہوگیا جس طرح صوفیہ اور مہرماہ آپس میں انڈراسٹینڈنگ سے رہ رہی تھی ستارہ چاہتی تھی کہ باقی کی دو بہوئیں بھی اسی طرح مل جل کر رہیں اب معلوم نہیں عینی نام کی لڑکی مزاج کی کیسی تھی مگر موحد کے لیے اسے دیکھ بھال کے لڑکی کا انتخاب کرنا تھا

*****

تھوڑی دیر پہلے مہرماہ اسے مغیث کے کمرے میں بٹھاکر گئی تھی صوفیہ مغیث کا گلابوں کے پھولوں سے سجا ہوا کمرہ دیکھ کر دنگ رہ گئی تھی آج ولمیے کی تقریب میں سب ہی نے اُس کی اور مغیث کی جوڑی کو سراہا تھا وہ دونوں ہی نظر لگ جانے کی حد تک پیارے لگ رہے تھے صوفیہ کا سجا سنورہ روپ دیکھ کر مغیث کی محبت بھری نظریں بار بار صوفیہ کے حسین روپ پر اٹھ رہی تھی اور اسے احساس دلا رہی تھی کہ وہ اس روپ میں مغیث کو بہت پیاری لگ رہی تھی،، صوفیہ اس کے دیکھنے کے انداز سے اندازہ لگا چکی تھی کہ مغیث اپنا سارا غصہ اور ناراضگی بھلا چکا ہے۔۔۔

صوفیہ کی توجہ ایک بار پھر کمرے کی ڈیکوریشن نے لی، بیڈ پر بکھری گلاب کی پتیاں کو ہاتھ میں لیتے ہوئے وہ موحد کے بارے میں سوچنے لگی مغیث کا کمرہ ڈیکوریٹ اُس کے پیارے دوست موحد نے اسی کے کہنے پر کیا تھا صوفیہ مسکراتے ہوئے سوچ رہی تھی تب کمرے کا دروازہ کھلا اور مغیث اپنے کمرے میں آیا مغیث کو اپنی جانب کمرے میں آتا دیکھ کر صوفیہ کے ہونٹ سکھڑ گئے

مغیث کو اپنی جانب قدم بڑھا کر قریب آتا دیکھ کر صوفیہ کی دل کی دھڑکن خودبخود تیز ہونے لگیں مغیث صوفیہ کے قریب آکر بیڈ پر بیٹھا تو صوفیہ سمٹ کر رہ گئی اِس وقت وہ اِس قدر حسین لگ رہی تھی کہ مغیث چاہ کر بھی اپنی نظریں اُس کے چہرے سے ہٹا نہیں پارہا تھا۔۔۔ وہ اُس کو پاچکا تھا اور حاصل بھی کرچکا تھا لیکن پھر بھی آج کا یہ دن اس کے لئے بہت اسپیشل تھا وہ جانتا تھا آج کا دن صرف اس کے لئے اسپیشل نہیں بلکہ صوفیہ کے لیے بھی بہت خاص ہے

“میں یہ توقع نہیں کررہا تھا کہ آج کے دن تم یوں عام دلہنوں کی طرح بیٹھ کر میرا انتظار کرو گی”

مغیث صوفیہ کا مہندی سے سجا ہوا ہاتھ تھام کر اپنے ہونٹوں سے لگاکر بولا

“کیوں مجھ میں کیا سُرخاب کے پر لگے ہیں جو میں عام لڑکی کی طرح ایکٹ نہیں کروں گی”

وہ مغیث کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی تو مغیث نے اسمائل دے کر صوفیہ کو باہوں میں بھرا اور بیڈ پر لیٹتا ہوا صوفیہ کو اپنے اوپر گرا لیا

“تم عام لڑکی کہاں ہو جانِ مغیث عام لڑکی تو وہ ہوتی ہے جو گھبرا کر شرما کر بڑوں کے فیصلوں کے آگے خاموش ہوجاتی ہے تم نے تو شادی سے پہلے ہی اُس انسان پر اپنی محبت کے احساس کو عیاں کردیا جسے تم دیوانگی کی حد تک چاہتی تھی اور جسے تم خود اپنا دیوانہ بناچکی ہو۔۔۔ صوفیہ عالم عام سی لڑکی ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ صوفیہ عالم مغیث عالم کی محبت ہے اور مغیث عالم کو کسی عام لڑکی سے محبت ہوجائے ایسا ممکن نہیں”

مغیث اپنے اوپر جھکے ہوئے صوفیہ کے چہرے کو غور سے دیکھتا ہوا اُس سے اپنی محبت کا اعتراف کررہا تھا اُس کی نظریں صوفیہ کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چوم رہی تھی صوفیہ مغیث کی بات پر دلکشی سے مسکرا دی

“اور مغیث عالم کے ساتھ محبت ہوجانے والا حادثہ کب پیش آیا”

صوفیہ مسکرا کر مغیث سے دلچسپی سے پوچھنے لگی وہ خوش نصیب لڑکی تھی جسے چاہا حاصل کیا پالیا، اِس سے بڑھ کر اُس کے لیے خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی تھی جس سے اس نے محبت کی وہ خود بھی اب اس کی محبت کا دم بھرنے لگا تھا

“یہ حادثہ کیوں نہ پیش آتا مغیث عالم کے ساتھ جب ایک دیوانی بار بار اپنی محبت کا اظہار کرے گی تو پھر محبت کے وار سے پھر وہ انسان کیسے بچ سکتا ہے، تم نے مجھے بھی اپنا دیوانہ بنادیا صوفی لیکن آج میں اپنی دیوانگی بعد میں دکھاؤں گا پہلے میں تمہارا اپنے لئے دیوانہ پن دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ میری جان خالی خولی محبت کے دعوی کرنا آسان ہے ہے عملی مظاہرہ جب تک نہ ہو تب تک محبت کا مزا نہیں آتا”

مغیث اپنے اوپر جھکی ہوئی صوفیہ پر اپنے بازوؤں کا گھیرا اس کی کمر پر مزید سخت کرتا ہوا بولا اس کے بےباک جملے سے صوفیہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا

“سوچ لیں میری دیوانگی دیکھنے کے لیے اپنے دل کو مضبوط کرنا پہلی شرط ہوگا کہیں یہ نہ ہو اپنی دیوانی کا محبت بھرا روپ دیکھ کر آپ اپنے ہوش ہی نہ کھو بیٹھیں”

صوفیہ بناء سوچے سمجھے شرارت بھرے لہجے میں فلمی انداز میں ڈائیلاگ مارتی ہوئی بولی جس پر مغیث کا قہقہہ کمرہ میں زور سے گونجا۔۔۔ صوفیہ کی توڑی چومتے ہوئے وہ صوفیہ کو بیڈ پر لیٹانے کے بعد وہ اُس کے اوپر جھکا

“دل کردہ سب مضبوط ہے میری جان تم اپنے دیوانے پر اپنے داؤ پیچ تو آزماؤ آج معلوم ہوجائے گا کہ کون کس کے ہوش اُڑاتا ہے”

مغیث شرارت سے بولتا ہوا اب بہکی نظروں سے اس کے گلابی ہونٹوں کو دیکھنے لگا جس پر مدہوشی کے عالم میں وہ اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا صوفیہ نے مغیث کی قربت پر آنکھیں بند کرتی ہوئی اُس کے بالوں میں انگلیاں پھنساکر اپنا دوسرا ہاتھ مغیب کے شولڈر پر رکھتی ہوئی وہ اپنی سانسوں کو مغیث کی سانسوں میں شامل ہوتا محسوس کرنے لگی۔۔۔

ہونٹوں کے ملاپ کا سلسلہ طویل ہوا تو دونوں کا تنفس بگڑنے لگا مگر صوفیہ نے مغیب کو پیچھے نہیں ہٹایا وہ آج خود بھی اس کی تمام تر شدتوں کو محسوس کرنا چاہتی تھی

مغیث نے اس کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ جدا کیے تو صوفیہ نے اُس کے بالوں سے اپنا ہاتھ ہٹایا اور مغیث کا گریبان پکڑ کر اسے خود اپنی جانب کھینچا، چہرے سے چہرہ ٹکرایا تو ایک بار پھر دونوں کے ہونٹ آپس میں ملے۔۔۔ ختم ہوا سلسلہ دوبارہ چل پڑا صوفیہ مغیث کے گال پر ہاتھ رکھے اُس کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں ایک بار پھر اترتا ہوا محسوس کرنے لگی۔۔۔ مغیث اپنے ہونٹ صوفیہ کے ہونٹوں سے جدا کیے بغیر صوفیہ کو کمر سے پکڑتا ہوا ایک بار پھر کروٹ لےکر اپنا وجود کو نیچے رکھ چکا تھا جبکہ صوفیہ مکمل اس کے اوپر جھکی ہوئی تھی مغیث کا ہاتھ اُس کی کمر سے اوپر آتا ہوا صوفیہ کی قمیض کی ڈوریاں کھولنے لگا۔۔۔ صوفیہ اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے جدا کرکے اٹھی بیٹھی اس کی آنکھیں خود بخود جھک گئی تھیں۔۔ مغیث بیڈ پر لیٹا ہوا نشیلی آنکھوں سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگا وہ خود بھی اٹھ کر بیٹھا تو صوفیہ نے شرما کر دوسری جانب رخ موڑ لیا۔۔۔ مغیث صوفیہ کی اِس ادا پر مسکرایا اور اُس کا سر پر ٹکا ہوا دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھتے ہوئے، وہ صوفیہ کو پشت سے اپنے حصار میں لے چکا تھا

“کیا ہوا ابھی سے بس ہوگئی تمہاری۔۔۔۔ میری جان تم تو صرف باتوں کی شیر نکلی”

مغیث صوفیہ کو چھیڑتا ہوا بولا پھر اُس کے ہونٹ صوفیہ کے کندھے کو چھونے لگے

“آپ کی بےباک طبیعت کے آگے مجھے بس ہی ہوجانا تھا، آپ جتنی بےباکی دکھانے کے لئے دل گردے کی ضرورت ہے مغیث عالم جو میرے پاس نہیں”

مغیث کے ہونٹ مسلسل اس کے کندھے کو چھو رہے تھے جبکہ اس کی انگلیاں صوفیہ کی آگے گردن کو چھوتی ہوئی اب سرکتی ہوئی نیچے پہچ چکی تھی۔۔۔ صوفیہ اُس کی بڑھتی ہوئی جسارت پر اپنی آنکھیں سختی سے بند کرتی ہوئی پیچھے مغیث کے کندھے پر اپنا سر ٹکا چکی تھی

“تو میری بےباک طبیعت کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجاؤ کیونکہ آج کے دن اس سلسہ میں تمہیں کوئی رعایت نہیں ملنے والی”

مغیث صوفیہ کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر اس سے بولا تو صوفیہ اپنی آنکھیں کھول کر مغیث کو دیکھنے لگی

“یاد آیا کل تو آپ مجھ سے ناراض تھے مغیث عالم”

صوفیہ مغیث کو دیکھ کر اسے یاد دلانے لگی تو مغیث اُسے بیڈ پر لٹاتا ہوا اُس پر جھکا،، وہ صوفیہ کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا

“تمہیں اپنا مغیث عالم اتنا بےوقوف لگتا ہے کے آج کی رات وہ غصے اور ناراضگی کی نظر کر کے ان حسین لمحات کو گنوا دے گا”

مغیث صوفیہ سے پوچھتا ہوا اُس کی گردن پر جھکا اور جابجا اُس کی گردن پر اپنے محبت کی گہری چھاپ چھوڑنے لگا ایک بار پھر صوفیہ اس کی شدتوں کو محسوس کرنے لگی مغیث کے ہونٹ گردن کی حدود پار کرچکے تھے وہ خود تو بری طرح بہکا ہوا تھا ساتھ ہی اس نے صوفیہ کو بھی ہوش کے قابل نہیں چھوڑا تھا دونوں کی بڑھتی ہوئی مدہوشی کا سلسلہ تب ترک ہوا جب مغیث کی پاکٹ میں رکھا ہوا موبائل بجنے لگا

“کیوں سر،، مگر مسئلہ کیا ہوا ہے۔۔۔ لیکن اس وقت کیسے آسکتا ہوں۔۔۔ چلیں ٹھیک ہے میں پہنچ رہا ہوں”

مغیث کو موبائل پر بات کرتا ہوا دیکھ کر صوفیہ غور سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگی شاید اُسے کوئی بلا رہا تھا لیکن آج اگر وہ اُس کے پاس سے گیا تو صوفیہ اس سے بری طرح خفا ہونے والی تھی۔۔ یہ صوفیہ نے سوچا ہوا تھا

اس وقت مغیث کے پاس ایس ایچ او محسن کی کال آئی تھی بقول اُس کے نادر اور شارف سمیت اُسے بھی ڈی ایس پی صاحب نے فوری طور پر اپنے پاس حاضر ہونے کو کہا تھا وہ بھی تازہ ہوئی واردات کے پیسوں سمیت۔۔۔ سارا پیسہ نادر کے پاس ہونے کے باوجود مغیث اس لیے وہاں جانے سے انکار نہیں کرسکتا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ عالم ہاوس میں رات کے اس پہر پولیس آۓ یا کوئی بھی انہونی کام ہو آج اس سمیت عالم ہاؤس کے تمام افراد بےحد خوش تھے وہ اپنی وجہ سے کسی کی بھی خوشی کو غارت نہیں ہوتے دیکھنا چاہتا تھا۔۔ کال رکھنے کے بعد وہ صوفیہ کا ناراض چہرہ دیکھنے لگا جو اپنی شرٹ کندھوں سے اوپر کرتی ہوئی اب اٹھ کر بیٹھ چکی تھی

“پلیز میری جان تھوڑا سا تو مجھے سمجھنے کی کوشش کرو، مجبوری ہے تبھی جانا پڑ رہا ہے اس وقت” اُس کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر مغیث صوفیہ کو سمجھاتا ہوا بولا مگر صوفیہ نے اچانک رونا شروع کردیا

“مجھے معلوم تھا وہ آپ کبھی بھی نہیں بدلیں گے، آپ یہ کام کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے مغیث عالم، میری محبت سے زیادہ آپ کے لئے وہ سب ضروری ہے جس کے لئے آپ مجھے اس وقت چھوڑ کر جارہے ہیں”

صوفیہ کے رونے میں شدت آچکی تھی مغیث نے اسے فوراً اپنے حصار میں لےلیا

“میں نے سب کچھ چھوڑنے کے بعد عالم ہاؤس میں واپسی کی ہے میرا یقین کرو لیکن اس وقت میرا وہاں جانا بہت ضروری ہے، لیکن میں جلد تمہارے پاس واپس آؤں گا پرامس”

مغیث نرم لہجے میں اُسے سمجھانے لگا صوفیہ اُس کی بات مانتی ہوئی مغیث کے حصار سے الگ ہوکر اپنے آنسو صاف کرنے لگی مگر نہ جانے کیوں اس کی آنکھیں دوبارہ آنسوؤں سے بڑھنے لگیں۔۔۔ مغیث سائیڈ ٹیبل سے اپنا والٹ اور گاڑی کی چابی اٹھارہا تھا صوفیہ کو روتا دیکھ کر وہ دوبارہ بیڈ پر اُس کے پاس بیٹھ گیا

“کیا ہوگیا تمہیں صوفی، تم تو ایسے رو رہی ہو جیسے میں ہمیشہ کے لیے تم سے دور جارہا ہوں زیادہ سے زیادہ ایک یا پھر دو گھنٹے،، میں واپس آرہا ہوں اوکے”

مغیث صوفیہ کا چہرا تھامے اُسے بچوں کی طرح سمجھانے لگا

“میں جاگ رہی ہوں مغیث عالم اور آپ کی واپسی کا انتظار کررہی ہوں یاد رکھیے گا اِس بات کو”

صوفیہ مغیث کو دیکھ کر باور کرواتی ہوئی بولی تو مغیث نے اُس کا چہرہ تھام کر اسکی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھے

“اوکے جانِ مغیب میں جلد واپس آؤں گا اور یہ ڈریس تم ابھی چینج مت کرنا میرا دل نہیں بھرا تمہارے اِس روپ کو دیکھ کر اگر مجبوری نہیں ہوتی تو کبھی نہیں جاتا میرا انتظار کرنا”

مغیث صوفیہ کے روپ کو اپنی آنکھوں میں سماتے ہوۓ اسے اپنی واپسی کا یقین دلا کر وہاں سے چلاگیا۔۔۔ یہ سوچے بغیر کے اب اس کی واپسی عالم ہاؤس میں کس حالت میں ہوگی

*****

وہ تھوڑی دیر پہلے ستارہ کے کہنے پر صوفیہ کو مغیث کے کمرے میں بٹھاکر اپنے کمرے میں آئی تھی اِس وقت اُس کی اپنی تھکن سے بری حالت تھی اس لیے چینج کیے بغیر ہی بیڈ پر لیٹ گئی

“کیا ہوا مہر طبیعت ٹھیک ہے تمہاری”

محب جو ابھی ڈریسنگ روم سے لباس تبدیل کرکے نکلا تھا مہرماہ کو اس طرح لیٹا ہوا دیکھ کر اس کے پاس آتا ہوا مہرماہ سے فکرمندانہ لہجے میں پوچھنے لگا

“بس تھوڑی بہت تھکن محسوس ہورہی تھی اس لیے لیٹ گئی تھی، میں بھی ڈریس چینج کرلیتی ہوں”

مہرماہ بولتی ہوئی اٹھنے لگی مگر محب نے اسے واپس بیڈ پر لٹادیا

“محب اب میں ٹھیک ہوں مجھے ڈریس تو چینج کرلینے دیں”

مہرماہ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتی ہوئی بولی ڈاکٹر کے پاس وزٹ کے بعد سے وہ کافی زیادہ اس کا خیال رکھنے لگا تھا۔۔۔ مہرماہ کے بولنے پر محب اس سے خفگی سے گویا ہوا

“میں صبح ہی جابی اور ماما سے بات کروں گا اب مغیث اور گڑیا کی دعوتوں کا سلسلہ شروع ہوگا تو میں اور تم کہیں نہیں جاۓ گیں کم ازکم اس ٹائم پریڈ میں تو میں ذرا سا بھی رسک نہیں لے سکتا”

محب کی بات سن کر مہرماہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگی

“اب اِس میں مسکرانے والی کون سی بات ہے کیا کوئی جوک سنایا ہے میں نے”

محب مہرماہ کو دیکھ کر ابرو اچکاتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

“مسکرا اس لیے رہی ہوں کہ مجھے اچھا لگ رہا ہے یہ جان کر کہ آپ کو اپنے آنے والے بچے کی پرواہ ہے”

مہرماہ بیڈ پر لیٹی ہوئی محب سے بولی جو اب اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ چکا تھا

“صرف اپنے بچے کی ہی نہیں بلکہ اس کی ماں کی بھی پرواہ ہے مجھے” محب مہرماہ کا ہاتھ تھام کر اپنے ہونٹوں سے لگاکر سنجیدگی سے اسے جتاتا ہوا بولا تو مہرماہ ایک بار پھر مسکرا دی

“ویسے محب آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ بچے کتنے ہونے چاہیے”

مہرماہ محب کا اچھا موڈ دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی تو محب نے چونک کر مہرماہ کو دیکھا اور فوراً بولا

“صرف ایک مہر۔۔۔ بچہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہوتا ہے اور ہم دونوں کو اس ذمہ داری کو اچھے سے سنبھال لیں یہی کافی ہے ہمارے لیے”

محب مہرماہ کو اچھی طرح سمجھاتا ہوا بولا تو مہرماہ کا منہ بن گیا

“صرف ایک بچہ۔۔۔ کم سے کم چار بچے تو ہونے چاہئے محب۔۔۔ آپ بھی تو چار بھائی ہیں، گھر میں بچے زیادہ ہو تو رونق لگی رہے گی تو کتنا اچھا لگے گا پھر”

مہرماہ کے خیالات جان کر محب خوفزدہ نظروں سے مہرماہ کو دیکھنے لگا پھر مہرماہ کے منہ بنانے پر ہنس دیا

“چار بچے،، دماغ سیٹ ہے تمہارا۔۔۔ چار بچے پیدا کرنے کا دم ہے تمہارے اندر”

محب مہرماہ کی صحت پر اس کا مذاق اڑاتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

“دم بھی ہے اور حوصلہ بھی ہے۔۔۔ بس آپ کو تھوڑی ہمت دکھانا ہوگی بس”

مہرماہ منہ بناتی ہوئی بولی تو محب مسکراتا ہوا اس کے چہرے پر جھکا باری باری مہرماہ کے گالوں کو اپنے ہونٹوں سے چھونے لگا جو اس کے چھوتے ہی گلابی ہوگئے

“ہمت کی بات نہیں کرو اگر میں ہمت دکھانے پر آگیا تو تمہاری ہچکیاں بند نہیں ہوگیں پھر”

محب کے معنی خیزی سے بولنے پر مہرماہ ایک بار پھر بلش کرگئی تو محب مسکرا دیا

“میری ہچکیوں کو لےکر تو مذاق ہی بنادیا ہے آپ نے”

مہرماہ برا مناتی ہوئی محب سے بولی تو محب نے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے قید کرلیا دونوں کی سانسیں ایک دوسرے کی سانسوں میں شامل ہونے لگیں

مہرماہ نے آئستہ سے محب کو پیچھے کیا تھا،، محب کی شدتیں برداشت کرنے کی اس میں اتنی ہی سکت تھی، محب نے اس کو آزادی بخشی پر اب وہ مہرماہ کے چہرے پر انگلیاں پھیرتا ہوا مہرماہ کو دیکھنے لگا

“تھینک یو سو مچ مہر”

محب کے اچانک بولنے پر مہرماہ کنفوز ہوکر اسے دیکھنے لگی

“کس بات کے لیے”

مہرماہ کے پوچھنے پر محب نے جھک کر اس کی توڑی کو اپنے ہونٹوں سے چھوا۔۔۔

“تمہیں معلوم ہونا چاہیے”

محب بولتا ہوا اس کے پیٹ پر آئستہ سے ہاتھ رکھ چکا تھا۔۔۔ نگاہوں میں نرم تاثر لیے وہ جس طرح مہرماہ کو دیکھ رہا تھا شاید ہی اس سے پہلے وہ مہرماہ کو کبھی اتنا اچھا لگا ہوا

“اگر آپ اس کے بدلے شکریہ ادا کررہے ہیں میرا،، تو میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتی ہو جو یہ تحفہ آپ کو دے رہی ہو”

مہرماہ محب کے ہاتھ ہر اپنا ہاتھ رکھتی ہوئی بولی جو اس نے مہرماہ کے پیٹ پر رکھا ہوا تھا مہرماہ کی بات پر محب آئستہ سے مسکراتا ہوا اس کی پیشانی چومنے لگا۔۔۔ تبھی اس کو گاڑی اسٹارٹ کرنے کی آواز آئی محب بیڈ سے اٹھ کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا

“یہ مغیث کہاں جارہا ہے رات میں اس وقت” ماتھے پر بل لیے وہ آہستہ آواز میں بولا مگر مہرماہ سن چکی تھی وہ بھی بیڈ سے اٹھ کر بیٹھ گئی

“کیا مغیث کہیں چلا گیا ہے” مہرماہ حیرت سے گھڑی میں ٹائم دیکھتی ہوئی محب سے پوچھنے لگی

“اس بےہودہ انسان کی تو مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آتی”

محب غصے میں بولتا ہوا ٹیبل پر سے اپنا موبائل اٹھا کر مغیث کا نمبر ملانے لگا

“تمہیں کوئی شرم کوئی لحاظ ہے مغیث”

محب کال ملانے کے بعد غصے میں مغیث کو بولنے لگا مہرماہ خاموشی سے ڈریس چینج کرنے چلے گئی

جب وہ واپس آئے تو کمرے کی لائٹ بند اور زیرو کا بلب آن تھا محب سونے کے لیے بیڈ پر لیٹ چکا تھا تو مہرماہ بھی اپنی جگہ پر اس کے برابر میں لیٹ گئی

“صوفیہ اکیلی ہوگی اس وقت محب،، مغیث کیوں چلا گیا آج کے دن اس کو اس طرح چھوڑ کر”

مہرماہ افسوس کرتی ہوئی محب سے پوچھنے لگی

“کہہ رہا تھا کہ کوئی ایمرجنسی ہے اس لیے جانا ضروری ہے آجائے گا تھوڑی دیر میں”

محب بےتاثر لہجے میں اس سے بولا

“ایمرجنسی” مہرماہ تھوڑا پریشان ہوکر بولی تو محب جھنجھلایا

“اب ایمرجنسی کے نام پر تم پریشان ہوکر مت بیٹھ جانا اس نے کہا تھا کہ وہ آجائے گا تھوڑی دیر میں اب سو جاؤ”

محب کے بولنے پر مہرماہ آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگی کیونکہ وہ بہت زیادہ تھکی ہوئی تھی اس لیے اسے تھوڑی دیر میں نیند آگئی مگر اس کے برابر میں لیٹا ہوا محب جاگ رہا تھا مغیث کے بات کرنے پر وہ اسے کچھ پریشان لگ رہا تھا۔۔ بار بار اس کے پوچھنے پر مغیث اس سے یہی بول رہا تھا کہ وہ واپس آکر مکمل بات بتائے گا اس لئے محب اس کے واپس آنے کا انتظار کرنے لگا جیسے دوسرے کمرے میں صوفیہ دلہن کی حالت میں بیٹھی ہوئی مغیث کی واپسی کا انتظار کررہی تھی

*****

ان تینوں کے منہ میں کپڑا ٹھونسنے کے بعد ان کے چہرے کو کالے کپڑے سے ڈھانک دیا گیا تھا، کمر کے پیچھے ہاتھ باندھے ہونے کی وجہ سے وہ تینوں ہی اپنا بچاؤ کرنے سے بے بسی تھے۔۔۔۔ ان تینوں کو پولیس وین میں ڈال کر شہر سے کہیں دور لے جایا جارہا تھا جو اب ان تینوں کے ساتھ ہونے والا تھا کہیں نہ کہیں ان تینوں کو اندازہ تھا۔۔۔ تین سے چار گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد پولیس وین رکی

“اتارو سالو کو اور باہر لے آؤ”

ایس ایچ او کی آواز ان تینوں نے سنی پھر ان تینوں کو پولیس وین سے باہر نکالا گیا یہ کوئی کُھلا میدان اور سنسان علاقہ تھا۔۔۔ چہرہ ڈھکا ہونے کی وجہ سے ان تینوں کو اندازہ نہیں ہو پایا تھا لیکن تھوڑی دیر بعد ایک اور گاڑی روکنے کی آواز آئی

“کیا حال ہے زمان صاحب آپ کا۔۔۔ آپ کا سارا پیسہ ان تینوں آدمیوں نے آپ کے بندے سے چھینا تھا اور آپ کے بندے کو بھی ان تینوں نے ہی مارا تھا۔۔۔ رفیق وین میں موجود دونوں بیگز لے آؤ”

آنے والے سے ایس ایچ او محسن نے بولا ساتھ ہی اس نے انسپکٹر کو پیسوں سے بھرے دونوں بیگز لانے کو بولا جو اس وقت پولیس وین میں موجود تھے

“کپڑے ہٹادو ان کے چہروں سے محسن تاکہ مرنے سے پہلے ان کو معلوم ہوجائے کہ ان کی موت کا سبب کون بنا”

زمان خان کے کہنے پر محسن نے اقرار میں سر ہلایا اور باری باری ان تینوں کے چہروں سے کپڑا ہٹادیے۔۔۔ اِس وقت اُن تینوں کے چہروں پر موت کا خوف صاف دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ ساتھ ہی محسن نے اپنا لوڈڈ ریوالور زمان خان کو پکڑا دیا وہ تینوں خوفزدہ ہوکر نفی میں سر ہلانے لگے

تبھی زمان خان نے اُن تینوں کو محسن کی ریوالور سے اپنا نشانہ بنایا،، رات کی تاریخی میں اچانک سے بھیانک گونجتی ہوئی گولیوں کی آوازوں کے بعد ایک دم گہرا سکوت چھا گیا تھا۔۔۔ ان تینوں کے وجود بےجان ہوکر نیچے گر پڑے اور ان کا خون مٹی میں جذب ہونے لگا

“آگے کا کام میرے لئے مشکل نہیں ہے زمان صاحب، بےفکر رہیں میں سب سنبھالوں گا”

اس سے پہلے زمان خان ایس ایچ او کو کچھ ہدایت دیتا محسن زمان خان سے خود بولا تو زمان خان نے اپنے باڈی گارڈ کو اشارہ کیا جو ہاتھ میں پکڑا ہوا نوٹوں سے بھرا بیگ بطور انعام ایس ایچ او محسن کو دینے لگا۔۔۔

زمان خان کو دو ہفتے بعد یہ ملک چھوڑ کر چلے جانا تھا مگر اس سے پہلے وہ اپنے دشمنوں کا صفایا چاہتا تھا جو آج اس نے اپنے ہاتھوں سے کردیا تھا