354K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Deewani (Episode 19)

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

مغیث نے اس کے پکڑے ہوۓ ہاتھ میں دوبارہ وہی ڈائمنڈ کی رینگ پہنائی جو وہ شارف کو دے آئی تھی رینگ پہنانے پر صوفیہ کا سکتہ ٹوٹا اس سے پہلے وہ منہ سے آواز نکالتی مغیث کمال پھرتی سے ٹیپ اس کے منہ پر چپکا کر صوفیہ کا منہ بند کرچکا تھا۔۔۔صوفیہ نے حیرت زدہ ہوکر احتجاجا اپنے ہاتھ چلانے چاہے

“تمہارا یوں مزاحمت کرنا مجھے طیش دلاۓ گا صوفی تمہاری بہتری اسی میں ہے خاموشی سے میرا ساتھ دو، اگر تم نے شور مچانے کی یا احتجاج کرنے کی کوشش کی تب بھی ہوگا وہی جس ارادے سے میں یہاں آیا ہوں مگر پھر بعد میں، میں تمہارے ساتھ بہت برے طریقے سے پیش آؤ گا”

مغیث صوفیہ کے بیڈ پر پڑے دوپٹے سے اس کے دونوں ہاتھ کمر سے پیچھے پیٹھ پر باندھتا ہوا ساتھ ہی صوفیہ کو تنبہی کرنے لگا

مغیث صوفیہ کے دونوں ہاتھ اور منہ بند کرکے بیڈ سے اٹھا تو صوفیہ خاموشی سے لیٹی ہوئی مغیث کی کارروائی دیکھنے لگی جو کمرے کی لائٹ آن کرنے کے بعد اس کی وارڈروب کھول کر ایک بیگ میں صوفیہ کے کپڑے ڈال رہا تھا یعنی وہ حقیقت میں اسے اپنے ساتھ لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ صوفیہ ہمت کرکے بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی اور مغیث کے پاس آئی

“تمہارا منہ میں نے اسی وجہ سے بند کیا ہے تاکہ تم مجھے نصیحتیں کرکے ڈسٹرب نہیں کرو، پیکنگ کرنے دو مجھے جاؤ واپس جاکر جگہ پر بیٹھو”

مغیث صوفیہ کو اپنے پاس آتا دیکھ کر سمجھ گیا وہ کچھ بولنے کے لئے آئی ہوگی جبھی وہ بیگ میں اس کا سامان رکھتا ہوا مگن انداز میں صوفیہ سے بولا۔۔۔ تبھی کمرے کا دروازہ کھلا دونوں نے ہی کمرے میں آنے والے کو دیکھا مغیث موحد کو کمرے میں آتا دیکھ کر نارمل ہی رہا اور اس نے اپنا کام جاری رکھا جبکہ موحد کو اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر صوفیہ نے شکر ادا کیا اور خود بھی تیزی سے وہ موحد کی طرف بڑھی

صوفیہ اشارے سے موحد کی توجہ مغیث کی طرف دلانے کے بعد گھٹی گھٹی آوازیں نکال کر اپنے منہ پر سے ٹیپ ہٹانے کا اشارہ کرنے لگی جس پر موحد ہنستا ہوا مغیث سے بولا

“یہ بڑا زبردست کام کیا ہے آپ نے بھائی اس کے ہاتھ اور منہ بند کرکے، ذرا دیکھیے تو اس طرح کتنی پیاری لگ رہی ہے بغیر چونچ کی بطخ، بھائی میرا تو مشورہ ہے آپ اسکو اپنے ساتھ لے جانے کے بعد بھی کچھ دنوں تک آپ اس کا منہ اور ہاتھ ایسے ہی باندھے رکھئیے گا جب تک اس کا منہ اور ہاتھ بند رہیں گے یقین جانیں تب تک آپ کو ذہنی سکون رہے گا”

موحد اپنی بات پر خود ہی ہنس پڑا جبکے اس کی بات پر مغیث صوفیہ کی حالت دیکھتے ہوئے مغیث کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آئی ان دونوں کو ہنستا مسکراتا دیکھ کر صوفیہ کی جان جل گئی یعنی وہ دونوں بھائی آپس میں ملے ہوئے تھے اور اسے زبردستی اس گھر سے رخصت کرنے کا ارادہ رکھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔ صوفیہ نے غصے میں زوردار لات موحد کی ٹانگ پر ماری جس سے وہ گرتے گرتے بچا

“یار بھائی اس کے پاؤں بھی باندھ دیے ہوتے ناں آپ نے، دیکھیں جاتے جاتے مجھ کمزور انسان پر کیسے غصہ نکال رہی ہے یہ مینڈکی”

موحد اپنا منہ بسورتا ہوا مغیث سے صوفیہ کی شکایت لگانے لگا جوکہ اب کمرے کے بند دروازے کو بےبسی سے دیکھ رہی تھی

“آہستہ آواز میں بات کرو ورنہ تمہارا منہ بھی اسی کی طرح بند کردو گا خاموشی سے اسے گیٹ سے باہر تک لے جاؤ۔۔ لیکن پہلے میں ذرا کمرے سے باہر نکال کر جائزہ لے لیتا ہوں”

مغیث صوفیہ کا سارا سامان بیگ میں ڈالتا ہوا سنجیدگی سے موحد بولا

“میں ابھی مکمل جائزہ لیتا ہوا ہی یہاں آیا ہوں جابی اور محب بھائی اور بھابی، سب اپنے کمروں میں سو رہے ہیں سمجھے میدان اس وقت بالکل صاف ہے۔۔۔۔ اور اس اندھی طوفان کو قابو کرنا آپ ہی کے بس کی بات ہے آپ اسے خود ہی باہر لے جائیں۔۔۔۔ یار وہ دیکھیں ذرا ہم دونوں کو باتوں میں مصروف دیکھ کر آہستہ آہستہ دروازے تک پہنچ گئی”

موحد کی بات ختم ہونے سے پہلے، مغیث جو پہلے ہی صوفیہ کی حرکت دیکھ چکا تھا تیزی سے صوفیہ کی طرف بڑھتا ہوا آیا اور اس کا بازو پکڑا۔۔۔۔ وہ بند ہاتھوں سے بھی کسی نہ کسی طرح کوشش کرکے دروازہ کھولنے میں لگی ہوئی تھی۔۔۔ مغیث کی توجہ اپنی طرف دلانے پر صوفیہ کو موحد پر شدید قسم کا غصہ آیا وہ بچپن سے ہی اس کا کرائم پارٹنر رہا تھا اور آج وہ کیسے اس سے غداری کرکے اپنے بھائی کا ساتھ دے رہا تھا

“سمجھ میں نہیں آرہی ہے تمہیں میری بات کیا کرو گی کمرے سے باہر جاکر، محب کو جگاؤ گی یا پھر جابی سے میری شکایت کرو گی۔۔۔ کیا چاہتی ہو تم بتاؤ مجھے۔۔۔۔ کیا تم جابی کے کہنے پر اپنا اور میرا رشتہ ختم کردو گی”

مغیث آئستہ آواز میں مگر سخت لہجہ اپناتا ہوا صوفیہ سے پوچھنے لگا۔۔۔ رشتہ ختم کرنے والی بات سن کر بےاختیار صوفیہ کی آنکھوں میں نمی اتر آئی وہ فورا اپنا سر نفی میں ہلانے لگی۔۔۔ صوفیہ کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر موحد کے مسکراتے لب سکھڑ گئے

“تو پھر مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ، آخر کیوں نہیں جانا چاہتی ہوں میرے ساتھ”

مغیث صوفیہ کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر مزید اس کے قریب آتا ہوا نرمی سے پوچھنے لگا

“میں بھی اسی کمرے میں موجود ہے بھائی”

موحد جذباتی سین دیکھ کر ایک دم مغیث کو یاد دلانے لگا تو مغیث نے گھور کر اسے دیکھا جبکہ صوفیہ موحد کی بات اور خباثت والی مسکراہٹ پر ایک دم خجل ہوگئی

“معلوم ہے مجھے”

مغیث موحد کو آنکھیں دکھاتا ہوا بولا وہ صوفیہ کے ہاتھ اور منہ کھولنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر اس سے پہلے صوفیہ کو دیکھ کر پوچھنے لگا

“تو پھر چل رہی ہو ناں میرے ساتھ”

مغیث کی بات پر صوفیہ دوبارہ زور زور سے نفی میں سر ہلانے لگی یعنی وہ رشتہ رکھنا چاہتی تھی مگر یہاں سے اس کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں تھی۔۔۔ مغیث نے زمین پر رکھا ہوا بیگ اٹھا کر موحد کی طرف اچھالا جسے اس نے فورا کیچ کیا

“تم بیگ سنبھالوں میں اس کو سنبھالتا ہوں”

مغیث نے موحد سے بولتے ہوئے اچانک صوفیہ کو اٹھاتے ہوئے اپنے کندھے پر ڈالا جسے دیکھ کر موحد نے جلدی سے کمرے کا دروازہ کھولا اور گھٹی گھٹی آواز میں صوفیہ کے احتجاج کو رد کرتے ہوئے وہ دونوں ہی کمرے سے باہر نکل گئے

****

رات کی تاریکی صبح کی سفیدی میں کھلنے کو تیار تھی تب مغیث نے صوفیہ کو بازؤوں میں اٹھاتے ہوئے گاڑی سے باہر نکالا صوفیہ کا منہ اور ہاتھ ابھی تک بند تھے صوفیہ اس دو منزلہ گھر کو دیکھنے لگی جس کا دروازہ کھول کر وہ صوفیہ کو اٹھاۓ احتیاط سے سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔۔۔ اسے کمرے میں لاکر بیڈ پر بٹھاتے ہوئے مغیث نے صوفیہ کا منہ اور ہاتھ کھولے

“شرم آنی چاہیے آپ کو مغیث عالم مجھے اس طرح گھر سے اٹھاکر اپنے ساتھ لاتے ہوئے آپ جانتے ہیں آپ کی اس حرکت پر جابی کو کتنا دکھ پہنچے گا بعد میں۔۔۔ آپ یہ سب کچھ کرکے نہ صرف ان کو اپنی طرف سے بدظن کررہے ہیں بلکہ ان کو ضد بھی دلا رہے ہیں کہ وہ واقعی سنجیدگی سے آپ کے اور میرے رشتے کے لئے کوئی اسٹیپ لیں۔۔ بجائے اس کے کہ آپ اپنی ساری حرکتوں کی ان سے معافی مانگ لیتے مگر نہیں آپ کو تو ہمیشہ کچھ نیا اور کچھ انوکھا کرنا ہے جس سے آپ کو خوشی ملے مل گیا اب سکون آپ کو،، یہ سب کرکے خوش ہیں اب آپ”

منہ کھلنے کی دیر تھی صوفیہ بیڈ سے اٹھ کر مغیث کو دیکھ کر غصے میں بھڑاس نکالنے لگی

“ہاں مل گیا مجھے سکون تمہیں یہاں اٹھا لاکر مگر خوشی مجھے تمہارا یہ منہ بند کرکے ملے گی”

صوفیہ کی باتیں وہ بڑے آرام سے سن رہا تھا مگر اپنی بات مکمل کرکے اچانک اس نے صوفیہ کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھاما اور اس کے گلابی ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے مغیث کی بےباک حرکت پر صوفیہ بری طرح سٹپٹا گئی جب وہ بےباک کاروائی کرکے پیچھے ہوا تو صوفیہ کی شرم سے خودبخود نظریں جھک گئی اور زبان پر خود بخود تالا لگ گیا مگر مغیث صوفیہ کا بلش کرتا ہوا چہرہ پرشوق نظروں سے دیکھ کر اس کی حالت پر لطف اندوز ہورہا تھا وہ کمرے کا دروازہ بند کرتا ہوا بولا

“موحد صحیح کہہ رہا تھا ویسے بنا چونچ کی بطخ بن کر تم اور بھی زیادہ سوئیٹ لگتی ہو”

مغیث اس کی بولتی بند کرکے طنزیہ انداز میں مسکرا کر بولا تو وہ ناراض نظروں سے مغیث کو دیکھنے لگی جو اس کی ناراضگی کی پروا کیے بغیر اب بھی مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا

“بہت زیادہ خوشی ہورہی ہے ناں آپ کو اپنے کارنامے پر”

صوفیہ اس کو مسکراتا ہوا دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھنے لگی

“کون سا والا کارنامہ وہ کارنامے جو میں نے تمہیں یہاں لاکر انجام دیا ہے یا پھر اس کارنامے کی بات کررہی ہو جو ابھی ایک منٹ پہلے انجام دیا تھا”

وہ صوفیہ کے ہونٹوں کو دیکھ کر اب خود بھی سنجیدہ ہوکر صوفیہ سے سوال کرنے لگا مگر اس کی آنکھیں بدستور ابھی بھی مسکرا رہی تھی

“میں آپ سے سخت ناراض ہوں مغیث عالم وجہ جاننا پسند کریں گے آپ میری ناراضگی کی۔۔۔ آپ سے ناراض ہونے کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے میرے پاس بلکہ بےشمار وجوہات ہیں مگر جو سب سے بڑی وجہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے آج میرے ساتھ ساتھ عالم ہاؤس کے تمام افراد کا دل دکھایا ہے گھر سے نکلنے سے پہلے بھی اور آج بھی”

اس کی بات سن کر مغیث کے چہرے کے تاثرات بالکل سنجیدہ ہوگئے

“تمہاری ناراضگی کی دوسری وجوہات جائز سہی لیکن کبھی بھی میرے کردار کو لےکر مجھ پر کوئی سوال مت اٹھانا صوفی ورنہ اب تک میں نے کسی دوسرے کو تو شوٹ نہیں کیا لیکن تمہیں ضرور کردو گا”

مغیث اسے وارننگ دیتا ہوا بولا صوفیہ سمجھ گئی اس کا اشارہ اقراء والی بات کی صرف تھا اس لیے صوفیہ خاموش رہی

“رات تمہاری نیند خراب ہوگئی تھی تھوڑی دیر آرام کرلو میں برابر والے کمرے میں موجود ہوں”

مغیث اسے بولتا ہوا دروازہ کھول کر باہر چلاگیا

*****

آج وہ آفس کافی لیٹ آیا تھا وجہ گھر میں برپا ہوئی ٹینشن تھی جس کا ذمہ دار صرف اور صرف مغیث کی ذات تھی۔۔۔ صبح جب مہرماہ نے اس کو جگایا تب وہ اسے کچھ پریشان لگی مہرماہ نے جب اسے بتایا کہ صوفیہ نہ اپنے کمرے میں موجود ہے نہ ہی وارڈروب میں اس کے استعمال کپڑے موجود ہیں تب محب کو پریشانی لاحق ہوگئی یہ خبر جبران سے بھی چھپی نہیں رہ سکتی تھی اس لیے صبح ہوتے ہی گھر میں اچھا خاصا ٹینشن کا ماحول پیدا ہوچکا تھا لیکن جب محب نے اپنے موبائل پر مغیث کا میسج دیکھا کہ وہ کل رات صوفیہ کو اپنے ساتھ لے جاچکا ہے تب محب کی پریشانی غصے میں ڈھلنے لگی محب مغیث سے ایسی حرکت کی بالکل بھی توقع نہیں کررہا تھا جو وہ کل رات صوفیہ کو اپنے ساتھ لےجا کرچکا تھا۔۔ جب محب نے مغیث کی حرکت کے بارے میں جبران کو بتایا تب جبران کا غصہ بھی آسمان کو چھونے لگا وہ اور جبران دونوں ہی مغیث کا نمبر صبح سے لےکر اب تک ٹرائی کرچکے تھے جو مسلسل آف جارہا تھا۔۔۔محب اپنے آفس میں بیٹھا ہوا صبح کا واقعہ سوچ رہا تھا جب ٹیبل پر رکھا ہوا اس کا موبائل بجنے لگا

“اچھا میں گھر پہنچ رہا ہوں” عبدل کی بات سن کر محب گھر جانے کا ارادہ کرنے لگا کیوکہ جبران کا بی پی ٹینشن وجہ سے کافی زیادہ ہائی ہوچکا تھا مہرماہ نے عبدل سے اس کو فون کرکے آنے کے لیے کہا تھا

****

“صوفیہ کب سے جگا رہا ہوں اب اٹھ بھی چکو”

اب کی بار وہ صوفیہ کا کندھا ہلا کر جھنجھنلاتا ہوا بولا تو صوفیہ نے اپنی آنکھیں کھولیں جو ابھی بھی نیند سے بوجھل ہورہی تھی

“کیا آفت آن پڑی ہے مغیث عالم آپ تو دشمن ہی بن چکے ہیں میری نیند کے۔۔۔ نہیں اٹھنا مجھے پلیز اب دوبارہ مجھے مت جگائیے گا”

صوفیہ نیند میں ڈوبی ہوئی غصے سے تیز آواز میں بولی

“آہستہ تو بولو کوئی دوسرے کمرے میں بیٹھا ہوا ہے، تم سے ملنے آیا ہے باہر تمہارا انتظار کررہا ہے اور یہ تم کتنی بدتمیزی سے مجھ سے بات کررہی ہو ذرا ہوش میں آجاؤ”

مغیث صوفیہ کو دوسرے کمرے میں کسی کی آمد کے بارے میں بتانے لگا اور ساتھ ہی اسے تمیز یاد دلانا بھی نہیں بھولا تو صوفیہ نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں

“کیا جابی آگئے ہیں مجھے لینے کے لئے”

صوفیہ نیند سے بیدار ہوکر اٹھ بیٹھی تو مغیث صوفیہ کو گھورتا ہوا بولا

“وہ یہاں پر کہاں سے آجائیں گے منہ ہاتھ دھو کر باہر آؤ طالب بھائی اور ان کی مسز آئی ہیں تم سے ملنے کے لیے”

صوفیہ کو بیدار ہوکر بیڈ پر بیٹھا دیکھ کر مغیث کمرے سے باہر جانے کا ارادہ کرنے لگا

“میں نہیں جانتی کسی طالب بھائی اور مسز طالب کو نہ ہی مجھے کسی سے ملنا ہے”

صوفیہ بولتی ہوئی دوبارہ بیڈ پر آنکھیں بند کرکے لیٹ گئی جس پر مغیث لب بھینچ کر رہ گیا اور ضبط کرتا ہوا اسے بتانے لگا

“طالب بھائی اس گھر کے مالک مکان ہے اور یہ پورشن میں نے ان سے رینٹ پر لیا ہے یہ کہہ کر کہ میں چند دنوں میں اپنی وائف کو یہاں لےکر آؤں گا اس لئے رخسار بھابھی یعنی طالب بھائی کی وائف تم سے ملنے آئی ہیں اور دوسرے کمرے میں دونوں میاں بیوی تمہارا انتظار کررہے ہیں میری خاطر ہی سہی ان سے تھوڑی دیر مل لو”

مغیث بتانے کے ساتھ ساتھ اسے واپس بیڈ پر بٹھاتا ہوا بولا

“میں ان لوگوں کے پاس پانچ منٹ سے ایک منٹ بھی زیادہ دیر نہیں بیٹھو گی مغیث عالم یہ میں آپ کو پہلے ہی بتارہی ہو”

صوفیہ منہ بناتی ہوئی احسان کرنے والے انداز میں بولی اور بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی

“اوکے اور ذرا اپنی زبان کو بھی کنٹرول میں رکھنا کچھ بھی بےتکا مت بولنا ان دونوں کے سامنے”

مغیث اسے سمجھاتا ہوا کمرے سے نکل گیا مگر اس کے جملے پر صوفیہ کو آگ ہی لگ گئی وہ غصے میں اپنا حلیہ درست کرنے لگی

وہ دوسرے کمرے میں آئی جہاں پر چار کرسیاں موجود تھی جن میں سے دو کرسیوں پر ایک مرد اور عورت برجمان تھے صوفیہ ان دونوں اجنبی چہروں کو سلام کرتی ہوئی مغیث کو تلاشنے لگی جو اسے دائیں جانب کچن میں کسی سکھڑ خاتون کی طرح کھڑا نظر آیا

“تو آپ ہیں مغیث کی وائف صوفیہ، آپ کا مغیث سے غائبانہ تعارف سنا تھا میرا نام رخسار ہے اور یہ میرے ہسبنڈ طالب”

رخسار صوفیہ کو اپنا اور اپنے شوہر کا تعارف کرواتی ہوئی بولی جس پر صوفیہ اخلاق نبھاتی ہوئے مسکرا کر بولی

“خوشی ہوئی آپ دونوں سے مل کر”

صوفیہ کی بات پر رخسار مسکراتی ہوئی اس سے کہنے لگی

“مغیث نے ابھی بتایا کہ وہ رات میں تمہیں لے آیا تھا دراصل ہم لوگ رات میں جلدی سونے کے عادی ہیں ورنہ میں تم سے رات میں ہی ملنے آتی”

رخسار کے بولنے پر صوفیہ کی نظر کچن سے آتے مغیث پر پڑی جو ہاتھ میں ٹرے لئے ان لوگوں کی طرف ہی آرہا تھا۔۔ صوفیہ مغیث کو دیکھ کر عش غش کھا اٹھی عالم ہاؤس میں تو کوئی چاۓ کا کپ اس کے شر سے محفوظ نہیں رہ پاتا تھا یہاں چاۓ کے کپ کے ساتھ کیسے تمیز کا مظاہرہ ہورہا تھا

“اتنی دیر نہیں ہوئی تھی مجھے یہاں پہنچتے پہنچتے بس فجر ہوگئی تھی، آسان تھوڑی ہوتا ہے کسی لڑکی کو اس کے گھر سے زبردستی اٹھاکر دوسری جگہ پر لانا”

صوفیہ نے بڑے آرام سے مسکرا کر دھماکا کیا چائے کے کپ ٹیبل پر رکھتے مغیث کے ہاتھ ذرا لڑکھڑاۓ۔۔۔ صوفیہ کی بات سن کر اسے زوردار جھٹکا لگا مگر وہ ان دونوں میاں بیوی کے سامنے بھلا کیسے صوفیہ کا دماغ درست کرسکتا تھا

“گھر سے زبردستی اٹھاکر لانے کا مطلب”

طالب ایک دم چونک کر پوچھنے لگا رخسار بھی حیرت زدہ سی صوفیہ کو دیکھنے لگی جس پر مغیث نے ایک دم سے بات سنبھالی

“اٹھاکر نہیں طالب بھائی، اس کا مطلب مناکر لایا ہوں اسے اس کے گھر سے”

طالب سے زیادہ مشکوک نظروں سے رخسار مغیث کو دیکھ رہی تھی تبھی وہ کرسی پر بیٹھ کر خوش اخلاقی سے مسکرا کر رخسار کو دیکھنے لگا۔۔۔۔ مغیث نے اپنے برابر میں بیٹھی ہوئی صوفیہ کا محبت سے ہاتھ تھاما جو سامنے دیکھنے والوں کو محبت لگ رہی تھی مگر صوفیہ جانتی تھی یہ اس کے لیے دی جانے والی وارننگ ہے کہ وہ اپنی زبان کو کنڑول میں رکھے جو صوفیہ کے لیے ذرا نہیں بہت مشکل تھا

“اوفو مغیث عالم ہاتھ تو چھوڑیں میرا اتنی زور سے کیوں دبا رہے ہیں”

صوفیہ ان دونوں میاں بیوی کی پروا کیے بغیر بےزار لہجے میں بولی تو مغیث بوکھلا گیا

“اب ناراضگی چھوڑ دو صوفی، کتنی بار تو تمہیں سوری کرچکا ہوں۔۔۔۔ جیسا تم چاہو گی اب ویسا ہی ہوگا مگر پلیز یار خفا مت ہو مجھ سے”

اپنے لہجے میں شہد گھولتے ہوۓ مغیث نے ان دونوں میاں بیوی کے سامنے اپنی پوزیشن کلئیر کرنے کی کوشش کی تو صوفیہ کنفیوز ہوکر مغیث کو دیکھنے لگی نہ جانے اس کی بات کا بدلہ لینے کے لئے اب وہ کونسا ڈرامہ کرنے والا تھا جو یوں بول رہا تھا

“مائنڈ مت کرنا کیا میں جان سکتی ہوں تم دونوں کے بیچ میں ناراضگی کی وجہ کیا ہے”

رخسار صوفیہ کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی مگر مغیث صوفیہ کے بولنے سے پہلے بول اٹھا

“کیا بتاؤں بھابی مجھے چھوٹے بچے بہت زیادہ پسند ہیں اپنی یہی خواہش میں نے اس سے ظاہر کی تو مجھ سے ناراض ہوکر کہنے لگی ابھی تو میں خود چھوٹی سی بچی ہوں، اور آپ کو اپنے بچوں کی پڑی ہے۔۔۔ بس اتنی سی بات پر یہ مجھ سے روٹھ کر اپنے گھر جا بیٹھی اور یہ جو ابھی گھر سے زبردستی اٹھاکر لانے والی بات کررہی تھی۔۔۔ اب آپ دونوں سے کیا چھپاؤں شادی ہونے کے باوجود بچوں والی عادتیں ہیں اس کی،، اس کو منانے کے لیے بچوں کی طرح اسے گود میں اٹھاکر لانا پڑا مجھے یہاں تک۔۔ کسی چھوٹے بچے کی طرح ٹریٹ کرنا پڑتا ہے مجھے اپنی بیوی کو”

مغیث صوفیہ کا پکڑا ہوا ہاتھ چھوڑ کر، پیار سے بچوں کے انداز میں صوفیہ کے گال پر چٹکی بھرتا ہوا بولا، وہ الگ بات تھی اس کی پیار بھری چٹکی صوفیہ کا گال سرخ کرگئی۔۔۔ وہ دونوں میاں بیوی مغیث کی بات پر مطمئن ہوگئے اور مسکرانے لگے

“نہیں نہیں صوفیہ یہ بات بالکل بھی اچھی نہیں ہے، دیکھو میں تمہیں اپنی چھوٹی بہن سمجھ کر سمجھارہی ہوں اس معاملے میں تمہارا شوہر غلط نہیں،، بچوں میں دیر کرنا، کبھی کبھی شوہر سے رشتے میں دوری کا سبب بن جاتا ہے۔۔۔ تم بےشک کم عمر ہو مگر مجھے پورا یقین ہے بچے کی ذمہ داری کو تم اچھے طریقے سے سنبھال لوں گی اور پھر میں ہوں نہ تمہارے ساتھ مجھے تو بچے بہت پسند ہیں”

رخسار صوفیہ کو دیکھ کر سمجھاتی ہوئی بولی

“جی آپی”

صوفیہ مروتا زبردستی کی بنی ہوئی بہن کو دیکھ کر مسکرادی

“ویسے تم دونوں کی شادی ارینج ہوئی یا پھر لو میرج” طالب کچھ سوچ کر چائے پیتا ہوا مغیث سے پوچھنے لگا مگر اب کی بار مغیث سے پہلے صوفیہ بول اٹھی

“لو میرج وہ بھی صرف میری طرف سے۔۔۔۔ ان کو تو شادی کرنی ہی نہیں تھی میرے نیند کی گولیاں کھانے پر اور جابی کے بلیک میل کرنے پر راضی ہوئے ہیں یہ ہمارے نکاح کے لئے،، یہی وجہ ہے ان کے اتنا اترا اترا کے چلنے کی”

صوفیہ بڑے آرام سے سچائی بیان کرنے لگی جس پر اس نے دیکھا مغیث چائے کا گھونٹ بھرتا ہوا مسکراہٹ چھپا رہا تھا بلکہ سامنے بیٹھے ہوئے وہ دونوں میاں بیوی صوفیہ کی بات پر ایسے مسکرا رہے تھے جیسے واقعی صوفیہ میں بچپنا بھرا ہوا ہو۔۔۔ صوفیہ کو اندازہ ہوگیا وہ دونوں میاں بیوی اس کو باتوں کے لحاظ سے واقعی بچہ سمجھ کر اس کی بات کو انجوائے کررہے تھے جس پر صوفیہ نے ناراض نظر مغیث پر ڈال کر اپنی چائے پینے لگی