Teri Deewani By Zeenia Sharjeel Readelle 50387 Teri Deewani (Episode 18)
Rate this Novel
Teri Deewani (Episode 18)
Teri Deewani By Zeenia Sharjeel
اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ موحد اسے یہاں پر اس ہستی سے ملانے کے لئے لایا تھا وہ بالکل جامد و ساکت کھڑا ہوا اس وجود کو دیکھ رہا تھا جو اس کا چہرہ اپنے لرزتے ہاتھوں میں تھامے بس آنسو بھاۓ جارہی تھی۔۔۔ ستارہ نے اس کو بالکل خاموش دیکھ کر اس کے سینے پر سر رکھ دیا۔۔۔ اب وہ اس کے سینے پر سر رکھے رونے لگی تھی تب بھی مغیث کے وجود میں کوئی جنبش نہیں ہوئی
“ماما آپ اس طرح بھائی کو دیکھ کر روئیں گیں تو مجھے لگے گا میں نے غلط کیا بھائی سے آپ کو ملوا کر”
موحد ستارہ کو دونوں شانوں سے تھام کر مغیث سے الگ کرتا ہوا پیار سے بولا
“تو پھر اس سے بولو ناں کہ کچھ بولے، مجھ سے بات کرے تاکہ میری ممتا کو تھوڑا قرار آجائے کیسے اجنبی بنا ہوا دیکھ رہا ہے یہ مجھے اس کو یاد دلاؤں کہ میں ماں ہوں اس کی”
ستارہ اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتی ہوئی مغیث کو دیکھ کر شکوہ کرتی ہوئی بولی
“چلو آپ کو یہ تو یاد آیا کہ آپ ماں ہیں میری، بیس سالوں کے بعد ملی ہیں پھر بھی آپ کو شکوے لاحق ہیں،، کیا آپ شکوہ کرنے کا حق رکھتی ہیں؟؟؟ بالکل نہیں آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا یوں مجھ سے شکوہ کرنے کا۔۔۔ اتنے سالوں میں ایک بھی بار یاد آئی آپ کو ہم تینوں کی،، تب آپ کی ممتا کہاں سوئی ہوئی تھی جو یوں آج اچانک جاگ اٹھی”
مغیث ستارہ کو دیکھتا ہوا بولا تو روتی ہوئی ستارہ بالکل خاموش ہوکر صدمے سے مغیث کو دیکھنے لگی
“بھائی پلیز یار” موحد ستارہ کا چہرہ دیکھ کر برا مناتا ہوا مغیث سے بولا
“تم بیچ میں مت بولو موحد آج مجھے ان سے پوچھنے دو، ان گزرے ہوئے بیس سالوں میں کیا ایک بار بھی ان کو محسوس ہوا ان کی اولاد کو بھی ان کی ضرورت محسوس ہوسکتی ہے، وہ بچے جنھیں یہ کسی دوسرے کی اولاد کے لیے شروع دن سے نظر انداز کرتی آئی ہیں ان بچوں کو بھی ان کی توجہ اور کے پیار کی ضرورت محسوس ہوتی ہوگی۔۔۔ میرا آپ سے سوال ہے آپ مجھے بتائیں آج آپ کو اتنے سال گزرنے کے بعد یوں اچانک ہماری ذات میں کیوں دلچسپی ہونے لگی کہ آپ نے ہم سے دوبارہ تعلق رکھنے کے لئے راہیں نکالنا شروع کردیں،، کیا آپ وہ وقت بھول گئیں جب آپ ہم تینوں بھائیوں کو کسی دوسرے کی اولاد کے لیے چھوڑ کر گئی تھیں ایک بار بھی آپ نے سوچا کہ کم عمر بچوں نے بناء ماں کے کیسے اپنا بچپن گزارا ہوگا۔۔۔ نہیں آپ کبھی بھی ہماری ان محرومیوں کے بارے میں نہیں سوچ سکتی کیوکہ آپ کو ہماری نہیں ہمیشہ سے دوسرے کی اولاد کی پروا رہی”
مغیث کی باتوں پر جہاں ستارہ نے ایک بار پھر زاروقطار رونا شروع کردیا وہی موحد کو بھی پچھتاوا ہونے لگا وہ کیوں مغیث کو یہاں لےکر آیا جبکہ دوسرے کمرے میں بیٹھا ہوا رومان مغیث کی باتیں سن کر وہاں سے چلا آیا
“کیا تماشا لگا رکھا ہے آپ لوگوں نے یہاں آکر، جس کا جب دل چاہتا ہے وہ تب منہ اٹھا کر یہاں چلا آتا ہے، یہ ہمارا گھر ہے مسٹر کوئی تفریح گاہ نہیں”
رومان مغیث کو دیکھتا ہوا بولا تو مغیث کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے
“رومان خاموش کر جاؤ یہ بڑا بھائی ہے تمہارا اس کو حق پہنچتا ہے شکوہ کرنے کا اسے بولنے دو”
ستارہ بیچ میں مداخلت کرتی رومان ٹوکتی ہوئی بولی
“نہیں ماما ان کو یا پھر عالم ہاؤس کے کسی بھی فرد کو کوئی حق نہیں پہنچتا یہاں آکر آپ کی بےعزتی کرنے کا، ہوتے کون ہے آخر یہ لوگ آپ سے شکوہ کرنے والے”
رومان ستارہ سے بولتا ہوا طنزیہ لہجہ اختیار کرکے مغیث کی طرف مڑا
“مسٹر مغیث عالم شاید آپ کی یاداشت کمزور ہوچکی ہے تو میں آپ کو یاد دلادو کہ ماما خود سے عالم ہاؤس چھوڑ کر نہیں گئیں تھیں بلکہ انہیں جبران عالم نے اس گھر سے نکل جانے کا حکم دیا تھا شاید آپ کو یہ بھی یاد نہ ہو اس وقت جبران عالم کی دونوں بڑی اولادوں نے اپنی ماں کے ساتھ رہنے کی بجائے اپنے باپ کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی تھی تو اس لحاظ سے اب آپ کو یا پھر کسی بھی دوسرے کو کوئی بھی شکوہ کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔۔۔ نہ ہی میری ماما کبھی عالم ہاؤس آئی ہیں اور نہ کبھی آئیں گیں۔۔۔ ابھی بھی آپ ہماری چھت کے نیچے کھڑے ہیں آپ کے یہاں آنے کا کیا مقصد ہے یہ مجھے نہیں معلوم،، جو کچھ آپ نے کہنا تھا آپ اس سے زیادہ بول چکے ہیں اور ہم نہ صرف وہ سب کچھ سن چکے ہیں بلکہ برداشت بھی کرچکے ہیں برائے مہربانی اب آپ یہاں سے جاسکتے ہیں” ستارہ کے لاکھ ٹوکنے روکنے کے باوجود رومان بولنے پر آیا تو بولتا ہی چلاگیا
“مغیث کہاں جارہے ہو بیٹا وہ تو جذباتی ہے اس کی باتوں کو دل پر مت لو پلیز رک جاؤ”
مغیث کو جاتا ہوا دیکھ کر ستارہ اس کے پیچھے آتی بولی مگر مغیث غصے میں ستارہ کی بات سنے بغیر وہاں سے چلاگیا
****
“رومی تم۔۔۔ یہ تو میرے لئے بہت بڑا سرپرائز ہے کہ میرا چھوٹا بھائی مجھ سے ملنے کے لیے میرے پاس آیا ہے” مہرماہ کچن میں مصروف تھی جب اسے رومان کی آمد کی خبر عبدل نے دی۔۔۔ مہرماہ سیٹنگ روم میں آتی ہوئی رومان کو دیکھ کر خوشی سے بولی
“مجھ سے اور ماما سے ملنے کے تو آپ کو فرصت ہی نہیں ہے اور اب تو آپ نے کال پر بھی بات کرنا چھوڑ دی ہے میں نے سوچا اپنی بجو کو جاکر خود یاد دلادوں کہ ان کا ایک عدد بھائی بھی ہے بہرحال یہ تو حقیقت ہے کہ شادی ہونے کے بعد آپ بس اپنے شوہر کی ہوکر رہ گئی ہیں ہمیں تو بالکل ہی فراموش کردیا ہے آپ نے”
رومان مہرماہ کو دیکھ کر شکوہ کرتا ہوا بولا تو مہرماہ اداسی سے مسکرادی
“شادی شدہ بہنوں سے اس طرح کے شکوے نہیں کرتے رومی ان کے اوپر شادی کے بعد اور بھی دوسری ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے یہ سب باتیں چھوڑوں مجھے یہ بتاؤ آنٹی کیسی ہیں؟ طبیعت ٹھیک ہے ناں ان کی”
ہفتے بھر پہلے محب نے اس سے خود گھر لے جانے کو کہا تھا مگر پھر مغیث والے واقعے کے بعد سے اس نے مہرماہ سے ایسی کوئی بات نہیں کی مہرماہ نے خود سے کل اپنے گھر جانے کی بات کی تو محب نے اسے سمجھایا ابھی گھر کا ماحول کافی حساس ہے وہ تھوڑے دنوں تک اسے لے جائے گا محب کی بات سن کر مہرماہ کیا بولتی خاموش ہوگئی
“ماما تو ٹھیک ہے یہ بتائیں آپ کو کیا ہوگیا ہے آپ نے حلیہ کیا بنایا ہوا ہے کیا یہ لوگ اپنے سارے گھر کے کام آپ سے کرواتے ہیں”
رومان باقاعدہ اس کے رف سے حلیے کا جائزہ لیتا ہوا بولا، مہرماہ اس کی بات سن کر اپنے بالوں کی لٹوں کو پیچھے کرتی ہوئی ہنس دی
“میں کیوں کرنے لگی اتنے بڑے گھر کا کام،، آج تو بس خود سے دل چاہا کوگنگ کرلوں تو عبدل کو میں نے کچن سے باہر نکال دیا۔۔۔ مہرماہ رومان کو بتاتی ہوئی دیوار پر لگی گھڑی میں ٹائم دیکھنے لگی اس ٹائم محب آفس گھر واپس آتا تھا
“یہ بتائیے آپ ماما سے ملنے کب آرہی ہیں وہ مجھ سے کہتی نہیں ہیں لیکن میں جانتا ہوں وہ آپ کو مس کرتی ہیں، بجو یہ صحیح نہیں ہے یار۔۔۔ ایک آپ ہی ہمارے پاس نہیں آتی ورنہ اس گھر سے ایک ایک کرکے سب ہی افراد ماما کے پاس آنے لگے ہیں”
رومان برا سامنہ بناتا ہوا بولا مہرماہ کو معلوم تھا موحد اب روز یونیورسٹی سے ستارہ کے پاس چلا جاتا تھا اور شام تک ہی واپس گھر آتا ہے جبکہ موحد نے چند دن پہلے ہی اسے اور صوفیہ کو اپنا کارنامہ بتایا تھا جو اس نے ستارہ سے مغیث کو ملوا کر کیا تھا
“تمہیں اس دن مغیث سے اس طرح بحث نہیں کرنا چاہیے تھی رومی وہ بڑا بھائی ہے تمہارا”
مہرماہ نے بہت محتاط انداز میں آہستہ آواز میں رومان کو سمجھانا چاہا
“اور ان کو چاہئے تھا کہ وہ ماما سے اسطرح بدتمیزی کرتے۔۔۔ آپ نے ان کا انداز نہیں دیکھا تھا ورنہ آپ کبھی بھی مجھے یہ بات نہیں بولتیں”
مہرماہ کے سمجھانے پر رومان ناراض ہوتا ہوا مہرماہ سے بولا
“اچھا اب مجھ سے ناراض ہونے مت بیٹھ جانا یہ بتاؤ کیا کھاؤں گے کیا بناکر لاؤ میں تمہارے لیے”
مہرماہ یہ بھی جانتی تھی اس کا موحد سے بھی رویہ ٹھیک نہیں تھا مگر موحد رومان کے رویئے کو نظر انداز کردیتا تھا مہرماہ نے سوچا تھا کہ رومان کو پیار سے سمجھاۓ مگر وہ اتنے دنوں بعد اسے دیکھ رہی تھی سمجھانے والا کام اس نے کسی اور وقت پر چھوڑ دیا
“آپ سے فرمائش کرکے میں تب کچھ کھاؤ گا جب آپ گھر پر آۓ گیں وہ بھی رکنے اب میں چلتا ہوں”
رومان جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا وہ بھی جانتا تھا یہ محب کے آنے کا ٹائم تھا خاص قسم کی چڑ کی وجہ سے وہ محب سے ملنا نہیں چاہتا تھا
“ایسے کیسے جارہے ہو اتنی جلدی تھوڑی دیر بیٹھو تو میرا دل نہیں بھرا ابھی تو مجھے تم سے ڈھیر ساری باتیں کرنی ہیں”
مہرماہ رومان کو جانے کے لیے کھڑا ہوتا دیکھ کر خود بھی گھڑی ہوگئی ویسے ہی ہال سے اندر کی طرف محب داخل ہوا تو مہرماہ کی نظریں محب پر گیئں۔۔۔۔ محب کے تاثرات گھر میں داخل ہوتے وقت نارمل تھے اور رومان کو اپنے گھر میں دیکھ کر اس کی تیوری پر بل چڑھ گئے
“محب دیکھیں رومی آیا ہے”
مہرماہ اس کے تاثرات کو نظرانداز کرتی خوش ہوکر محب کو بتانے لگی
“تو اس میں اتنا خوش ہونے والی کون سی بات ہے۔۔۔ نظر آرہا ہے مجھے۔۔۔۔ تم فری ہوجاؤ تو روم میں آجانا”
محب رومان کو سرے سے ہی نظرانداز کرتا ہوا مہرماہ سے بول کر وہاں سے اپنے روم میں چلاگیا تو مہرماہ کو محب کے اتنے خشک رویہ پر افسوس ہوا ساتھ میں اسے رومان کے سامنے شرمندگی بھی ہوئی
“اوکے بجو مجھے اجازت دیں اپنا خیال رکھا کرئیے گا میں چلتا ہوں”
رومان مہرماہ کا اترا ہوا چہرے دیکھ کر بشاش لہجے میں بولا
“اسطرح نہیں جابی کو سلام کرکے ان سے مل کر جاؤ رومی”
مہرماہ رومان کو مخاطب کرتی ہوئی بولی کچھ بھی تھا جبران رومان کا باپ تھا رومان کا اس طرح جبران سے ملے بغیر جانا مہرماہ کو اچھا نہیں لگا تبھی وہ رومان سے بولی
“کیا آپ کو لگتا ہے کہ عالم ہاؤس کا کوئی بھی فرد اس قابل ہے کہ اس سے ملا جائے” رومان استزائیہ انداز میں ہنستا ہوا مہرماہ سے پوچھتا ہوا وہاں سے نکل گیا، مہرماہ رومان کی سوچ اور محب کے رویے پر افسوس کرتی ہوئی کمرے سے نکلی تو اس کی نظر صوفیہ پر پڑی جو ٹرالی میں مختلف لوازمات سجائے کمرے کی طرف آرہی تھی
“رومی تو چلاگیا صوفی ایسا کرو یہ چائے تم جابی کو دے آؤ میں محب کی بات سن کر آتی ہوں تمہارے پاس پھر ہم دونوں بھی شام کی چائے پیتے ہیں”
مہرماہ صوفیہ سے کہتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی آئی۔۔۔ محب ابھی لباس تبدیل کرکے کمرے میں آیا تھا تبھی مہرماہ نے شکوہ بھری نظر محب ڈالی محب اس کی نظروں کو نظر انداز کئے بیڈ پر ریلیکس ہوکر لیٹ گیا
“کوئی اگر آپ کے گھر پر آئے تو اٹلیسٹ اس سے خوش اخلاقی سے مل لیا جاتا ہے محب، آداب اور طور طریقہ بھی کسی شے کا نام ہے”
مہرماہ نرمی سے بولتی ہوئی بیڈ پر پڑا ہوا محب کا کوٹ ہینگ کرنے کی غرض سے وارڈروب کی طرف بڑھی
“خوش اخلاقی سے ان سے ملا جاتا ہے جن کو آداب اور طور طریقوں کا معلوم ہو سلام کرنے تک کی تو توفیق نہیں ہوئی تمہارے اس منہ بھولے بھائی کو،، زاوئیے دیکھیں ہیں اس کے منہ کے مجھے دیکھ کر کیسے بگڑ جاتے ہیں۔۔۔ اپنی آنٹی سے کہو وہ اپنے بیٹے کو کسی کے گھر جانے کے آداب، طور طریقہ سکھائیں اور اب مزید مجھ سے کوئی فضول بحث مت کرنا تھکا ہوا ہوا آج میں بہت زیادہ”
محب کی بات سن کر مہرماہ اس کا کوٹ ہینگ کرتی ہوئی محب کو دیکھنے لگی وہ آج پھر وہی پرانی ٹون میں بات کر رہا تھا، مہرماہ کا دل چاہا وہ محب کو بول دے رومان اداب اور طور طریقوں میں بالکل آپ پر گیا ہے چھوٹا بھائی جو ہوا آپ کا۔۔۔ اور اگر اس کے منہ کے زاوئیے ٹھیک نہیں رہتے تو آپ کون سا خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہیں منہ ایسے پھولا ہوتا ہے جیسے منہ میں موتی چور کا لڈو ڈالا ہو۔۔۔ مگر وہ ایسا سوچ سکتی تھی بولتی تو طوفان آجاتا اس لیے خاموشی سے کمرے سے باہر جانے لگی
“اب کس کام سے باہر جارہی ہو”
محب بیڈ پر نیم دراز ہوتا مہرماہ کو کمرے سے باہر جاتا دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا
“کام میں سارے ہی نبٹھا چکی ہو لیکن اگر آپ کے سامنے اس کمرے میں موجود رہی تو مجھے دیکھ کر آپ کی تھکاوٹ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے یہی سوچ کر کمرے سے جارہی تھی”
مہرماہ لمبا سانس کھینچ کر محب پر طنز کرتی ہوئی بولی مگر لہجہ اور انداز اس نے دھیما اور نرم ہی رکھا ہوا تھا کیوکہ اسے اب اچھی بیوی بھی بننا تھا جو ایسے ہی دھیمے انداز میں میٹھے طنز کے تیر چلایا کرتی تھی۔۔۔ مہرماہ کی بات پر محب کی تیوری پر بل نمایاں ہوئے
“پہلے بھی بولا تھا تم سے زبان مت چلایا کرو، زبان دراز عورتیں مجھے زہر لگتی ہیں جو آگے سے شوہروں کو جواب دیں۔۔۔ اگر باہر کوئی کام نہیں ہے تو یہاں آکر میرا سر دباؤ”
محب کے حکم دینے پر مہرماہ کا دل چاہتا اپنے شوہر کو بےقوفی کے ایوارڈ سے نوازے۔۔۔بھلا وہ آگے سے سوال ہی کیو کررہا تھا اگر جواب نہ دیتی تو بدتمیزی کے زمرے میں آتا جواب دیا تو وہ زبان دراز ہوگئی یعنی عجیب منطق۔۔۔ مہرماہ خاموشی سے اس کے پاس آکر بیڈ پر بیٹھ گئی وہ محب کا سر دبانے لگی تو وہ محب آنکھیں بند کرکے سکون سے لیٹ گیا۔۔۔ مہرماہ غور سے محب کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔۔۔ ایک اچھا خاصا مشکل سا انسان اس کے نصیب میں لکھا جاچکا تھا وہ خود کتنی باتیں اس کو موڈ خراب ہونے پر سنادیا کرتا تھا لیکن اگر وہ آگے سے کچھ اپنے دفاع میں بول جاتی تو وہی زبان درازی کے طعنے
“چینج نہیں کیا تم نے یہ کل والا ڈریس، صبح بھی تمہیں اسی حلیے میں دیکھا تھا میں نے آفس جاتے وقت”
محب آنکھیں کھول کر مہرماہ کا جائزہ لیتا ہوا بولا اس کی نفاست پسند طبیعت کو کہاں گوارا تھا کہ اس کی بیوی کا حلیا اتنا عام سا نظر آئے
مہرماہ محب کی بات سن کر ہاتھوں کے اشارے سے اسے اپنی بات سمجھانے لگی محب غور سے اس کے ہوا میں چلتے ہاتھوں کو دیکھنے لگا پھر تھوڑا کنفیوز ہوا اور بالاخر بھناتا ہوا بولا
“منہ میں زبان نہیں ہے تمہارے۔۔۔ یہ ہاتھوں سے کیا اشارے کررہی ہو”
وہ تپتا ہوا مہرماہ کی حرکت پر بولا جو اسے بالکل پسند نہیں آئی تھی
“نہیں وہ ابھی آپ نے ابھی بولا ناں زبان چلانے والی عورتیں آپ کو زہر لگتی ہیں تبھی میں آپ کو ہاتھوں کے اشارے سے اپنی بات سمجھارہی تھی”
مہرماہ جتنی معصوم شکل بناسکتی تھی وہ بناکر محب سے بولی تو محب غصے میں اس کو دیکھنے لگا یعنی وہ اس وقت زرا سا بھی مذاق برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں تھا
“اوکے تو اب سنیں میرا حلیہ کیوں اس وقت اجاڑ کھنڈر کے جیسا ہورہا ہے۔۔۔کل آپ نے غصے میں چائے کا کپ توڑ دیا تھا تو سکھی کو آپ کا غصہ کرنا پسند نہیں آیا، بھئی بیوی تھوڑی ہے وہ آپ کی جو خاموشی سے بےعزتی برداشت کرلے۔۔۔ وہ آج اپنا حساب کرکے اس کام پر اور عالم ہاؤس دونوں پر لعنت بھیج کر یہاں سے چلی گئی تو آج سارے گھر کی صفائی میں نے اور صوفیہ نے مل کر کی کیوکہ جابی نے عبدل کو اپنے کسی کام سے باہر بھیجا ہوا تھا۔۔۔ اسلیے مجھے وقت نہیں مل سکا کہ کام کرنے کے بعد اپنا حلیہ درست کرلوں کیوکہ رات کا کھانا بھی بنانا تھا”
مہرماہ محب کا سر دباتی ہوئی اسے نارمل انداز میں سکھی کے بارے میں بتانے لگی۔۔ اسے صوفیہ نے بتایا تھا اکثر محب یا مغیث کہ غصے کا شکار ہوکر زیادہ تر کام کرنے والی ایسے ہی کام چھوڑ کر چلی جایا کرتی تھیں یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔۔۔ ایک عبدل ہی تھا جو ڈھیٹ بن کر کئی سالوں سے اس گھر میں ٹکا ہوا تھا، مہرماہ سوچ رہی تھی کہ اس گھر میں ٹکنے کے لئے ڈھیٹ بننے کی ٹریننگ اسے عبدل سے لینا پڑے گی
“اس کے سر پر توڑا تھا میں نے چائے کا کپ جو وہ کام چھوڑ کر چلی گئی روٹیاں لگی ہوئی ہیں ان لوگوں کو مفت کی، جبھی یہ کام پر ٹکتی نہیں ہیں۔۔۔ ایک تو مجھے اس نے ٹھنڈی چائے لاکر دے دی ذرا سی باتیں کیا سنادی مہارانی روٹھ کر چل دی محبوباؤں کی طرح۔۔۔۔ ان عورتوں کو تو ان کے شوہر ہی ٹھیک رکھتے ہیں اور تم مجھے کیا گھر میں کام کرنے کے دکھ بھری داستان سنارہی ہو۔۔۔۔ اس گھر میں کام ہوتا ہی کیا ہے دو دو عورتیں گھر میں موجود ہیں آرام سے سارا کام کیا جاسکتا ہے اصل محنت اور خواری تو ہم مردوں کی ہوتی ہے جو سارا دن گرمی ہو یا سردی ہر موسم میں باہر سڑھتے رہتے ہیں اور محنت کرنے کے بعد کسی سے شکوہ بھی نہیں کرتے ہیں۔۔۔ جاؤ اپنا حلیہ درست کرو اور لائٹ بند کرو کمرے کی”
محب کی باتیں سن کر مہرماہ اندر تک کھول کر رہ گئی پھر کپڑے چینج کرنے کے غرض سے بیڈ سے اٹھی
“کپڑے چینج کرنے سے پہلے آپ سے پوچھنا چاہ رہی تھی۔۔۔ کہ آفس سے واپسی آتے وقت ڈرائیونگ کے دوران گاڑی ٹکرانے پر کیا لڑائی ہوگئی تھی آپ کی”
مہرماہ فکرمند لہجے میں محب کو دیکھ کر پوچھنے لگی تو محب بری طرح چونکا
“تمہیں کیسے معلوم ہوا”
یہ قصہ تو اس نے آفس سے آنے کے بعد ابھی تک کسی سے شئیر نہیں کیا تھا پھر اس کی بیوی کو کیسے پتہ چلا
“وہ کیا ہے ناں مرد حضرات بیچارے یا تو آفس سے باس کے ہاتھوں زلیل ہوکر آتے ہیں تب اپنا غصہ بیوی، بچوں یا گھر والوں پر نکالتے ہیں یا جب ان کی گاڑی کسی دوسری گاڑی سے ٹکرا جاۓ تب۔۔۔ اب اپنے آفس کے باس تو آپ خود ہیں اسلیے میں نے سوچا کہ لازمی گاڑی ہی۔۔۔
مہرماہ کی بات مکمل ہونے سے پہلے محب نے اس کو اس طرح غصے میں گھورا کہ وہ معصوم شکل بناکر خاموش ہوگئی
“لائٹ بند کردو کمرے کی”
محب بولتا ہوا اپنی آنکھیں بند کرچکا تھا مہرماہ کو افسوس کے ساتھ شک سا بھی ہونے لگا لازمی زبانی کلامی لڑائی کی بجاۓ ہاتھا پائی بھی ہوئی ہوگی اگر اس کے شوہر نے تپھر مارا ہوگا تو لازمی اس کے شوہر نے بھی تپھڑ کھایا ہوگا مہرماہ تھوڑا جھک کر قریب سے محب کا گال دیکھنے لگی کہیں سوجھا ہوا تو نہیں مگر محب کے اچانک آنکھیں کھولنے پر وہ ڈر کر ایک دم پیچھے ہوئی
“تم ابھی تک کھڑی کیا کررہی ہو۔۔۔ گئیں نہیں چینج کرنے”
محب غصے میں مہرماہ کو گھورتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“جارہی تھی بس”
مہرماہ آئستہ آواز میں بولتی ہوئی ڈریسنگ میں چلی گئی وہ اپنے خیالات کا محب کے سامنے اظہار کرکے اسے مذید طیش نہیں دلانا چاہتی تھی مگر وہ یہ بات کمرے سے باہر جاکر صوفیہ کو بتانے کا ارادہ رکھتی تھی کہ اس کے سرتاج باہر لڑ کر یا پٹ کر آۓ ہیں
****
پورا ایک ہفتہ گزر چکا تھا اسے مغیث کو دیکھے ہوئے یہی وجہ تھی کہ اداسی، اس کی طبیعت میں کھلنے لگی تھی۔۔۔ وہ جبران کے کہنے پر غصے میں گھر چھوڑ کر نکلا تھا اور ساتھ میں اس سے بھی خفا ہوکر۔۔۔ صوفیہ لان میں ٹہلتی ہوئی اداسی سے مغیث کے بارے میں سوچنے لگی مغیث کے بارے میں حقیقت جان کر اب اسے مغیث کی اور بھی زیادہ فکر ہونے لگی تھی، جن غلط کاموں میں وہ ملوث ہوچکا تھا وہ کام اس کے خود کے لئے بھی خطرناک ثابت ہوسکتے تھے، شروع میں تو وہ مغیث سے اقرار کی وجہ سے بدگمان ہوئی تھی موحد کے لاکھ سمجھانے پر بھی اس نے اپنی بدگمانی کم نہیں کی تھی لیکن آج جب اقرا کی اس کے پاس کال آئی تھی اور اقراء نے اس سے اس دن والے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے صوفیہ کو بتایا کہ اس کے ساتھ بدتمیزی کرنے کا ارادہ نادر رکھتا تھا جو بعد میں اس کے پاس آیا تھا وہ اسے بچانے کی غرض سے آیا تھا۔۔۔ آقراء کے منہ سے یہ بات سن کر صوفیہ کے دل سے کوئی بڑا سا بوجھ اتر گیا تھا ساتھ ہی اقرا نے اس پر یہ انکشاف بھی کیا کہ وہ مغیث کو پہچان گئی تھی کیوکہ اس نے صوفیہ اور مغیث کی نکاح کی تصویریں دیکھ رکھی تھی مگر اس نے مغیث کے خلاف جاکر پولیس کو بیان نہیں دیا کیوکہ وہ اس وقت اس کی عزت کا محافظ بن کر وہاں آیا تھا۔۔۔ چہل قدمی کرتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں آگئی صرف موحد کے کمرے کی لائٹ آن تھی یعنی وہ جاگ رہا تھا باقی سب لوگ سوچکے تھے وہ بھی سونے کے غرض سے بیڈ پر لیٹ گئی، نیند تھکن کی وجہ سے اس لیے بھی جلدی آگئی کیونکہ آج اس نے اور مہرماہ نے مل کر پورے گھر کی صفائی کی تھی
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا جب وہ گہری نیند میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔۔ اس کے باوجود بھی اپنے چہرے کو چھوتے ہوئے ان انگلیوں کے لمس کو محسوس کرسکتی تھی۔۔۔ وہ جو کوئی بھی تھا اس کی بند آنکھوں اور گالوں کو نرمی سے چھوتا ہوا اس کی نیند کو بری طرح ڈسٹرب کررہا تھا۔۔۔ تھکن کے مارے چاہ کر بھی صوفیہ کی آنکھیں کھل نہیں پارہی تھیں مگر اس کا ذہن مکمل طور پر بیدار ہوچکا تھا۔۔۔۔ نیند میں ہی صوفیہ نے وہ ہاتھ پکڑنا چاہا جو اس کے چہرے سے سرکتا ہوا آئستہ سے اس کی گردن کی طرف بڑھ رہا تھا مگر مقابل کو اس کا ہاتھ پکڑنا پسند نہیں آیا تھا جبھی وہ صوفیہ کا ہاتھ کلائی سے پکڑ کر اپنی مضبوط گرفت میں لیتا ہوا تکیے پر رکھ چکا تھا۔۔۔ وہ جو کوئی بھی تھا شاید یہی چاہتا تھا کہ صوفیہ مکمل طور پر بیدار ہوجاۓ جبھی وہ اپنے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے اس کے گلابی ہونٹوں کو چھونے لگا ساتھ ہی جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا بولا
“بہت عیش کرلیے تم نے اپنے اس گھر میں،، آنکھوں کھولو اپنی اور دیکھو مجھے، میں آگیا ہوں تمہیں یہاں سے اپنے ساتھ لے جانے کے لیے، میں نے کہا تھا ناں میں دوبارہ آؤ گا… آج تمہیں میرے ساتھ جانے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا خود تم بھی نہیں”
کانوں میں آتی ہوئی مقابل کی آواز سن کر صوفیہ بری طرح چونکی اور ایک دم اس نے اپنی آنکھیں کھولیں۔۔۔ حیرت اور خوف اپنی آنکھوں میں سماۓ وہ مغیث کو دیکھنے لگی جو اس وقت اس کے کمرے میں اس کے بےحد قریب موجود تھا مغیث نے اس کے پکڑے ہوۓ ہاتھ میں دوبارہ وہی ڈائمنڈ کی رہنگ پہنائی جو وہ شارف کو دے آئی تھی رینگ پہنانے پر صوفیہ کا سکتہ ٹوٹا اس سے پہلے وہ منہ سے آواز نکالتی مغیث کمال پھرتی سے ٹیپ اس کے منہ پر چپکا کر صوفیہ کا منہ بند کرچکا تھا
