354K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Deewani (Episode 5)

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

“مس مہرماہ مسٹر علوی کو ریمائنڈ کروا دیں کہ آدھے گھنٹے بعد انہیں میرے ساتھ سائٹ کا وزٹ کرنے کے لیے نکلنا ہے”

محب کیبورڈ پر تیز رفتاری سے اپنی انگلیاں چلاتا ہوا مصروف انداز میں مہرماہ سے بولا کیونکہ 6 بجے اس کے لیے دوسرا اسائنمنٹ تیار رکھا تھا

“پر سر مسٹر علوی آپ کے ساتھ سائٹ پر کیسے جاسکتے ہیں وہ تو پرسوں سے لیف پر ہیں، آئی مین آپ نے خود ہی تو ان کی چھٹیاں پٹ اپ کی تھیں”

مہرماہ محب کو یاد دلاتی ہوئی بولی تو محب کی بورڈ پر تیزی سے چلتی ہوئی انگلیاں رکی وہ مہرماہ کو دیکھنے لگا

“ٹھیک ہے آپ رضوان صاحب کو انفارم کردیں ٹھیک آدھے گھنٹے بعد انہیں میرے ساتھ سائٹ پر وزٹ کرنا ہوگا اور یہ ٹیبل پر موجود حمرا پروجیکٹ کی فائل جاکر مس ثمرا کو دے دیں”

محب مہرماہ کو بولتا ہوا دوبارہ بورڈ کی طرف متوجہ ہوا

“پر سر رضوان صاحب کو تو جبران انکل نے اپنے کسی کام سے باہر بھیجا ہوا ہے رضوان صاحب تو دو گھنٹے سے پہلے آفس نہیں آسکتے”

مہرماہ ایک بار پھر محب سے بولی ساتھ ہی وہ اپنی کرسی سے اٹھ کر فائل لینے کی غرض سے محب کے ٹیبل تک آئی

“مس مہرماہ میں آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ جبران عالم آپ کے انکل نہیں بلکہ باس ہیں تو آئندہ انہیں انکل کال کرتے ہوئے خیال کرئیے گا”

محب کو اس لڑکی کا جبران کو بےتکلفی سے انکل کہنا اچھا نہیں لگا تھا اس لیے وہ اسے ٹوکتا ہوا بولا اور ساتھ ہی رضوان صاحب کا سن کر بھی اس کا موڈ خراب ہوچکا تھا

“پر سر جبران انکل نے مجھے خود ہی سر یا باس کہنے سے سختی سے منع کیا ہے وہ تو کہہ رہے تھے کہ مجھے مجب کی طرح جابی بولا کرو”

مہرماہ کچھ اٹکتی ہوئی سی بولی تو محب مہرماہ کو گھور کر دیکھنے لگا اور ساتھ ہی اسے جبران پر بھی حیرت ہوئی مہرماہ نے اس کے گھورنے پر ڈرتے ہوۓ اپنی نظریں جلدی سے ٹیبل کی طرف جھکالیں

“سر ٹیبل پر تو 3 فائلز موجود ہیں مس ثمرہ کو کون سی وائی فائل دینی ہے”

مہرماہ غور سے تینوں فائلز کو دیکھتی ہوئی محب سے پوچھنے لگی،، اسے ستارہ آنٹی کا یہ بیٹا پہلے دن سے ہی بہت عجیب طبیعت کا لگا تھا جس کا موڈ معلوم نہیں کب بگڑ جاتا تھا اتنا بےذار سا وہ ناجانے کیسے رہ لیتا

“یہ والی فائل مس مہرماہ یہ بلیک والی، جس پر حمرا پروجیکٹ لکھا ہے پلیز مس مہرماہ آپ جائیں یہاں سے مجھے اپنے کام پر فوکس کرنے دیں”

محب نے باقاعدہ اپنا کام چھوڑ کر فائل پر انگلی رکھ کر مہرماہ کو بتایا اور چڑتا ہوا اسے جانے کے لئے بولا

“سر آخری بات پلیز وہ میں آپ سے پوچھنا چاہ رہی تھی کہ مسٹر علوی اور رضوان صاحب دونوں اس وقت اویلیبل نہیں ہے تو پھر سائٹ پر۔۔۔”

مہرماہ مطلوبہ فائل اٹھاتی ہوئی محب سے پوچھنے لگی تو محب اس کی بات کاٹتا ہوا بولا

“تو پھر سائٹ پر جانے کا پروگرام پوسبونڈ ہوچکا ہے مس مہرماہ کیونکہ سائٹ کا وزٹ میں کسی عقلمند اور تجربہ کار انسان کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں”

محب مہرماہ کو جتاتا ہوا بولا

“پر سر جابی، او سوری میرا مطلب ہے جبران سر بول رہے تھے کہ آپ کے ساتھ سائٹ پر آج میں۔۔۔۔

محب کے غصے میں گھورنے پر مہرماہ کی زبان وہی رک گئی

“مس مہرماہ سائٹ پر وزٹ کرنے کے لیے آفیشل پرپس سے جایا جاتا ہے سیر سپاٹے کے لئے نہیں جو آپ کو جانا ہے، آپ یہ فائل مس ثمرہ کو دے کر آۓ میں جابی سے خود بات کرلیتا ہوں”

محب کے بولنے پر مہرماہ خاموشی سے روم سے باہر نکل گئی

بھلا اسے خود کہا شوق تھا اسے کھڑوس انسان کے ساتھ کہیں جانے کا۔۔۔ یہ تو اس کی بدقسمتی تھی کہ اسے سارے مسئلے مسائل محب کے سامنے ہی پیش آتے تھے جس کی وجہ سے وہ غصہ ہوتا اور اسے شرمندگی اٹھانی پڑتی

*****

مجب کا ہرگز ارادہ نہیں تھا اس کم عقل لڑکی کو اپنے ہمراہ لے جانے کا مگر جبران کے کہنے پر وہ اس وقت شہر سے دور مہرماہ کے ساتھ سائٹ پر موجود تھا جہاں انڈر کنسٹرکشن زیر تعمیر دو منزلہ عمارت نامکمل کھڑی تھی اس جگہ پر ہوٹل تعمیر کرنے کا پروجیکٹ اس کی کمپنی کو ملا تھا

“اسلام علیکم محب سر آپ کو تو پانچ بجے آنا تھا”

محمود ہاتھ میں رجسٹر تھامے محب کی گاڑی دیکھ کر اس کے پاس آتا ہوا پوچھنے لگا

“لیبر کہاں ہیں ساری”

محب اشارے سے سلام کا جواب دیتا ہوا محمود سے پوچھنے لگا کیوکہ ساری لیبر محمود کے انڈر کام کیا کرتی تھی اور اس وقت یہ نامکمل عمارت بالکل سنسان تھی

“بریک ٹائم ہوا ہے سر جی اس لیے آپ کو لیبر نہیں دکھ رہی چلیں میں آپ کو عمارت کا اندرونی حصہ دکھا دیتا ہوں”

محمود محب کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔۔ بار بار محمود کی نظریں محب کے ساتھ کھڑی مہرماہ پر بھی اٹھ رہی تھی جو ہر تھوڑی دیر بعد چہرے پر آڑ کر آۓ بالوں کو چہرے سے پیچھے ہٹارہی تھی

“اپنا کام کرو مجھے ضرورت ہوگی تو میں تمہیں خود بلالوں گا”

محب محمور کو دیکھتا ہوا بولا کیونکہ مہرماہ کو دیکھ کر پانچ منٹ میں محمود کی تین بار بانچیں کھل چکی تھی اس فضول حرکت پر محب کا دل چاہا وہ محمود کی بانچھیں چیر ڈالے

محمود کو وہاں سے روانہ کرتا ہوا، مہرماہ پر سرسری نظر ڈال کر محب عمارت کی طرف چل پڑا تو مہرماہ بھی محب کے پیچھے چل دی

“آؤچ،، سس۔۔۔۔ سوری سر وہ مجھے یہ پتھر دکھا ہی نہیں”

اچانک پاؤں کے آگے پتھر آنے پر مہرماہ لڑکھڑاتی ہوئی آگے چلتے ہوئے محب کی پشت سے ٹکرائی۔۔۔۔ محب کے پلٹ کر اسے دیکھنے پر وہ اپنی ناک سہلاتی ہوئی جلدی سے وضاحت دینے لگی

“مس مہرماہ پلیز یہاں پر آپ اپنی آنکھیں کھول کر چلئیے گا”

محب مہرماہ کو گھورنے کے ساتھ سختی سے تنبہی کرتا ہوا بولا جبران کہنے پر ہی وہ اس لڑکی کو اپنے ساتھ لایا تھا ورنہ وہ اس بےوقوف لڑکی کے ساتھ یہاں بالکل نہیں آنا چاہتا تھا

“چلئیے مس مہرماہ اوپر والے فلور کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں”

محب مہرماہ کو سیمنٹ کی سیڑھیوں کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا۔۔۔ محمود کی موجودگی کے باعث اس نے مہرماہ کو اوپر فلور پر اپنے ساتھ لے جانے کا سوچا تھا ورنہ جس طرح ہلکی آواز میں گنگناتی ہوئی وہ پوری ہال کے چکر کاٹ رہی تھی محب کا دل چاہ رہا تھا وہ اسے نیچے رکنے کا کہہ کر اکیلا اوپر چلا جاۓ

“سر وہ ایک پرابلم ہے دراصل میری سینڈل کافی اونچی ہے اور یہ سیڑھیاں کافی خطرناک لگ رہی ہیں آپ پلیز اگر مجھے تھوڑا سہارا دے دیں تو مہربانی ہوگی”

سیڑھیاں چڑھتے ہوئے محب نے مڑ کر مہرماہ کو دیکھا جو ابھی تک پہلی سیڑھی پر کھڑی ہوئی معصومیت سے اسے دیکھ کر اس سے اپنے لیے سہارا مانگ رہی تھی۔۔۔ چہرے پر معصومیت ایسی تھی کہ محب اس کا چہرہ دیکھتا رہ گیا یہ لڑکی اسے شاطر یا تیز بالکل بھی نہیں لگتی تھی۔۔۔ نہ ہی وہ آفس میں کسی سے فری ہوکر بات کرتی تھی مگر نجانے کیوں یہ لڑکی اتنے مسئلے مسائل کا شکار تھی کہ محب کو اس کے ساتھ مسئلوں سے چڑ ہونے لگتی

“آپ کو گود میں اٹھاکر ان سیڑھیاں چڑھنا میرے لیے بھی مشکل ہوگا آپ ایسا کریں جاکر کار میں بیٹھ جائیں”

محب طنز کرتا ہوا مہرماہ کو بولا تو مہرماہ برا مناتی ہوئی دوبارہ بولی

“توبہ کریں سر میں نے کب آپ سے فرمائش کی کہ آپ مجھے گود میں اٹھالیں میں تو آپ کو صرف اپنا ہاتھ تھامنے کے لئے کہہ رہی تھی”

مہرماہ کو خود سمجھ نہیں آتا اس کے ساتھ جو بھی مسائل درپیش آتے تھے وہ اس شخص کے سامنے ہی کیوں پیش آتے تھے وہ محب کو سہارے کا بول کر پچھتائی تھی اور واقعی گاڑی کی طرف جانے والی تھی

“مس مہرماہ”

محب کے پکارنے پر وہ مڑی تب اسے حیرت ہوئی جب محب نے سیڑھیوں سے واپس اتر کر اس کی جانب اپنا ہاتھ بڑھایا۔۔۔

مہرماہ جھجھکتی ہوئی محب کا ہاتھ تھام کر اسے دیکھنے لگی وہ خود بھی مہرماہ کو دیکھ رہا تھا

“چلیں”

محب کے آئستہ سے پوچھنے پر مہرماہ نے اثبات میں سر ہلایا تو محب مہرماہ کا ہاتھ تھامے احتیاط سے سیڑھیاں چڑھنے لگا سیڑھیاں واقعی خطرناک تھی محب کو چڑھتے ہوۓ احساس ہوا کہ مہرماہ یا کوئی دوسری لڑکی واقعی سہارے کے بغیر یہ سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتی تھی

“ریلکس رہے مس مہرماہ میں آپ کا تھاما ہوا ہاتھ کسی خطرناک موڑ پر نہیں چھوڑو گا”

ایک دو مرتبہ سیڑھیوں کی ڈھلان دیکھ کر مہرماہ کے ہاتھ میں مضبوطی در آئی جسے محسوس کرتا ہوا محب مہرماہ کو دیکھ کر بولا تو مہرماہ کو اطمینان ہوگیا

“سیڑھیاں ختم ہوگئی ہیں سر اب میرا ہاتھ چھوڑ دیں”

مہرماہ کی آواز پر محب چونکا اور اس کا ہاتھ چھوڑتا ہوا جل کر بولا

“بتانے کا شکریہ”

کھلی چھت ہونے کی وجہ سے ہوا تیز چل رہی تھی جس سے مہرماہ کے بالوں کی لٹیں اڑ کر بار بار اس کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی ساتھ ہی اس کا دوپٹہ بھی ہوا میں اڑنے لگا

محب کی نظروں کا زاویہ نہ چاہتے ہوئے بار بار مہرماہ کی طرف اٹھنے لگا جو پریشان سی کھڑی کھبی اپنے بالوں کو تو کبھی اپنے دوپٹے کو سنبھال رہی تھی۔۔۔ اچانک ہوا کا زور مزید تیز ہوا جس سے مہرماہ کی شرٹ برے طریقے سے اڑنے لگی۔۔۔ گھٹنوں سے اونچی شرٹ جب اڑ کر مہرماہ کے اپنے چہرے سے ٹکرائی تب محب کی آنکھیں بند ہونے کی بجائے حیرت سے پوری کھل گئی مہرماہ شرمندہ ہوتی ہوئی اپنی شرٹ پکڑ کر نیچے کرنے لگی تو محب میں بھی جلدی سے اپنی نظروں کا زاویہ دوسری سمت کرلیا۔۔۔ مگر اصل مسئلہ تب شروع ہوا جب مہرماہ شرٹ نیچے کرنے کے چکر میں اپنے دوپٹے کو فراموش کر بیٹھی

“سر سر سر جلدی سے دوپٹہ پکڑیں پلیز”

مہرماہ کے چیخنے پر محب تیز رفتار سے مہرماہ کے دوپٹے کی طرف بھاگا اور سریہ میں اٹکا ہوا دوپٹہ لےکر غصے میں مہرماہ کے پاس آیا

“میں یہاں پر کیا کرنے آیا ہوں مس مہرماہ سائٹ کا وزٹ کرنے یا آپ کو اور آپ کے دوپٹے کو سنبھالنے۔۔۔۔ آپ خود بیزار نہیں ہوتی اپنی اوٹ پٹاگ حرکتوں سے۔۔۔ تعجب ہورہا ہے مجھے آپ پر اچھی خاصی بڑی لڑکی ہیں آپ اور اپنا دوپٹہ نہیں سنبھال سکتیں”

محب مہرماہ کا دوپٹہ اس کے گلے میں لپٹتے ہوئے غصے میں بولا اور سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگا کیونکہ وہ جتنی دیر مزید یہاں رہتا مہرماہ کے ساتھ کوئی نہ کوئی مسئلہ ہی درپیش رہتا۔۔۔ محب کو غصے میں سیڑھیوں سے اترتا ہوا دیکھ کر مہرماہ تیزی سے اس کے پیچھے لپکی

“سررررر آآآآ”

ابھی محب نے دوسری سیڑھی پر قدم رکھا ہی تھا تبھی وہ مہرماہ کی درد سے چیخنے کی آواز آئی جس پر محب پلٹ کر مہرماہ کی طرف بڑھنے لگا جو زمین پر اپنا پاؤں پکڑے بیٹھے ہوۓ رو رہی تھی

“او میرے خدا میں کہاں جاکر اپنا سر ماروں۔۔۔۔ یہ کیا کرلیا آپ نے اپنے پاؤں کو مس مہرماہ”

محب مہرماہ کو دیکھ کر مزید غصے سے بولا کیوکہ اس کی سینڈل سے پار ہوتی ہوئی ایک نوکداری بڑی سی کیل مہرماہ کے پاؤں کو بری طرح زخمی کرگئی تھی

“وہ جو سامنے پلر نظر آرہا ہے ناں اس کے قریب جاکر اپنا سر ذرا زور سے مارئیے کیونکہ اس وقت آپ غصہ کرتے ہوئے بہت برے لگ رہے ہیں مجھے۔۔۔۔ ایک لڑکی جو آپ کے بھروسے آپ کے ساتھ اس جگہ پر آئی ہے وہ آپ کی ذمہ داری ہے اور آپ اس کو زخمی حالت میں دیکھ کر اس پر یوں غصہ کریں گے۔۔۔۔ جائیں آپ محمود صاحب کو بلاکر لاۓ میں اب انہی کے ساتھ یہاں سے نیچے اترو گی”

مہرماہ محب کے غصے کی پرواہ کیے بغیر روتی ہوئی بولی محب حیرت سے اس روتی ہوئی لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو اس کو سر مارنے کی جگہ بتانے کے ساتھ برا بھی بولتی ہوئی بلاوجہ میں شرمندہ کررہی تھی وہ اس کی ذمہ داری کب بنی تھی یہ بات محب کو پتہ بھی نہیں چلی مگر محمود کا نام سن کر محب اپنا غصہ کنٹرول کرتا ہوا نرم پڑگیا

“لائیے ذرا دکھاۓ مجھے اپنا پاؤں”

مہرماہ کو روتا ہوا دیکھ کر محب نیچے جھکتا ہوا مہرماہ کے پاؤں کا جائزہ لینے لگا

“بریو بنیں مس مہرماہ یہ معمولی سی چوٹ ہے یہ دیکھیے نکل گئی کیل آپکے پاؤں سے”

محب نے بولنے کے ساتھ ہی مہرماہ کے پاؤں سے کیل نکالی جس پر مہرماہ ایک دم زور سے چیخی ساتھ ہی اس کے رونے میں مزید اضافہ ہوگیا

“چلیں مس مہر ماہ اب خاموش ہوجائیں میں آپ کو سہارا دیتا ہوں کھڑی ہوجائیں پلیز”

مہرماہ کے رونے پر وہ جی بھر کر بیزار ہوا تھا مگر پھر بھی ضبط کرتا ہوا نرمی سے مہرماہ کو بہلاتا ہوا بولا

“مجھے آپ کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے آپ پلیز محمود صاحب کو بلائے”

مہرماہ وہی بیٹھی ہوئی نراٹھے پن سے بولی وہ اتنے بدتمیز انسان کا احسان نہیں لینا چاہتی تھی نہ ہی مزید اس سے کوئی بات کرنا چاہتی تھی

“محمود صاحب کیا آپ کے چچا لگے ہوۓ ہیں جو آپ کو سہارا دینے کے لیے یہاں آۓ گیں اور اگر وہ آپ کو سہارا دے بھی دیتے ہیں تو پھر ان کو سہارا کون دے گا چلیں ہاتھ بڑھاۓ اپنا میری طرف”

محب اب کی بار محمود کا نام سن کر ساری نرمی بھلاۓ مہرماہ کو ڈانٹتا ہوا بولا ساتھ ہی خود نیچے جھک کر مہرماہ کو اٹھانے لگا

****

“واہ واہ کیا گیند اڑائی ہے ہوا میں ہماری صوفی بی بی نے جیسے اپنے مغیث بھائی دن رات کھانے کی پلیٹیں ہوا میں اڑاتے رہتے ہیں ویلڈن صوفیہ بی بی”

عبدل لان میں موجود فلڈنگ کے ساتھ ساتھ کمنٹری بھی کررہا تھا جبکہ صوفیہ بیٹنگ اور موحد بولنگ کررہا تھا

“اور اپنے کمزور سے موحد بابو گیند کا وزن اٹھائے کافی ہمت دکھاتے ہوئے۔۔۔۔ اور یہ ماری ظالم نے گیند”

عبدل کیچ پکڑنے میں ناکام رہا صوفیہ نے ایک اور بار بال کو زوردار شارٹ مارا۔۔۔۔ بال ہوا میں بلند ہوکر دور تک گئی اور گیٹ سے داخل ہوتے ہوئے مغیث کے سر پر زور سے جالگی

“واہ واہ واہ۔۔۔۔ نہ نہ نہ بیٹا عبدل اندر بھاگ”

ان تینوں کی نظریں بال کے بعد غصے میں

سے بھرے مغیث پر گئی جو دندناتا ہوا لان کے اندر آیا جسے دیکھ کر عبدل فورا وہاں سے رفو چکر ہوگیا

“سوری بھائی، یار غلطی ہماری نہیں تھی بال کو آپ نہیں دکھے”

موحد مغیث کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر مزاحیہ انداز میں بولا مگر مغیث موحد کی بات کو نظر انداز کرتا ہوا صوفیہ کی طرف بڑھا اور زوردار تھپر اس کے منہ پر جڑدیا۔۔۔

مغیث کے بھاری ہاتھ کے زوردار تپھڑ نے ایک پل کے لیے صوفیہ کے دماغی نظام کو درہم برہم کردیا مگر پھر وہ صدمے اور بےیقینی کی کیفیت میں مغیث کو دیکھنے لگی

“ہر وقت تمہیں جوکروں جیسی حرکتیں کرنے کے علاوہ کچھ آتا ہے کہ نہیں آتا”

مغیث غصے میں صوفیہ کو آنکھیں دکھاتا ہوا چیخا صوفیہ ابھی بھی بےیقینی اور خاموشی سے مغیث کو دیکھے جارہی تھی جس کا آج پہلی بار زندگی میں اس پر ہاتھ اٹھا تھا

“بھائی اس نے جان بوجھ کر بال آپ کو نہیں ماری تھی”

موحد آگے بڑھ کر صوفیہ کے پاس آتا ہوا مغیث سے بولا

“خاموش کرو تم، ورنہ ایک زور کا ہاتھ تمہارے گال پر بھی لگاؤں گا”

موحد کو جھاڑتا ہوا وہ قہر برساتی نظروں سے صوفیہ کو دیکھ کر وہاں سے چلا گیا

****

“ہاتھ اٹھایا ہے تم نے آج گڑیا پر”

شام کو آفس سے آنے کے بعد محب مغیث کے کمرے میں آتا ہوا اس سے پوچھنے لگا تو مغیث موحد کو دیکھنے لگا جو محب کے ساتھ ہی اس کے کمرے میں آیا تھا لازمی دوپہر والے واقعے کا ذکر اسی نے محب سے کیا تھا

“اس کی حرکتوں کے بارے میں نہیں بتایا اس نے تمہیں، ہر وقت چھوٹی بچی بنی رہتی ہے”

مغیث بیڈ سے اٹھ کر موحد کو گھورتا ہوا محب سے بولا

“بھائی صوفی نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا تھا لیکن آپ نے آج جان کر اس کا دل دکھایا ہے”

موحد ناراضگی سے بیچ میں مداخلت کرتا ہوا بولا تو مغیث آنکھیں دکھاتا ہوا موحد سے بولا

“بند کرو اس کی چمچہ گیری کرنا اور دفع ہوجاؤ میرے کمرے سے”

مغیث موحد پر بھڑکتا ہوا بولا تو موحد سچ میں مغیث کے کمرے سے باہر چلا گیا

“وہ گڑیا کی چمچہ گیری نہیں کررہا ہے مغیث بلکہ آج کے تمہاری حرکت پر موحد کا دل دکھا ہے جیسے تمہاری حرکت کا سن کر میرا دل دکھا ہے۔۔۔ تمہارا ہاتھ کیسے اٹھ گیا اس پر، وہ بچپن سے اس گھر میں موجود ہے اس گھر میں سب کی لاڈلی ہے سب کو اپنا سمجھتی آئی ہے جابی کو اگر تمہاری اس حرکت کا پتہ چل گیا تو جانتے ہو انہیں کتنا دکھ ہوگا۔۔۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ سب کو دکھی کرنے کے باوجود تمہیں اپنی حرکت پر ذرا بھی شرمندگی نہیں ہے۔۔۔۔ جاتے جاتے میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا جو ہمہیں پیار کرتے ہیں ہمیں بھی ان کی قدر کرنا چاہیے”

محب مغیث کو بولتا ہوا اس کے کمرے سے چلا گیا جبکہ مغیث دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔ جب سے اس نے صوفیہ کے گلے میں وہ پینڈینٹ دیکھا تھا تب سے اس صوفیہ پر غصہ آرہا تھا وہ کتنے مزے سے پورے گھر میں وہ پینڈینٹ پہننے گھوم رہی تھی اور اپنی باتوں سے سب پر یہ واضح کر رہی تھی کہ یہ پینڈینٹ اسے مغیث نے دیا ہے۔۔۔ صوفیہ کی اس حرکت کا غصہ وہ تھپڑ کی صورت نکال چکا تھا مگر وہ محب کے کمرے میں آنے سے پہلے ہی اپنی حرکت پر شرمندہ تھا اوپر سے محب کی باتوں نے اسے اپنے سخت رد عمل کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیا مغیث سر جھٹکتا ہوا اپنے کمرے سے باہر نکل گیا