354K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Deewani (Episode 12)

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

وہ صبح سویرے بیدار ہوئی تو خوبصورت سی مسکراہٹ خود بخود اس کے ہونٹوں چھوگئی۔۔۔۔ اسے رات کا وقت یاد آنے لگا جب موحد اسے غصے میں باتیں سناتا ہوا اس کے کمرے میں بیڈ پر لٹاکر گیا تھا۔۔۔ اپنے آپ کو کل والے لباس میں دیکھ کر صوفیہ بیڈ سے اٹھی تو اس کی نظریں اپنے ہاتھ کی انگلی پر ٹھہر گئی جہاں پر ایک خوبصورت سی ڈائمنڈ کی رینگ موجود تھی جسے دیکھر صوفیہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی،، وہ جانتی تھی کہ یہ رینگ اس کو کس نے پہنائی ہوگی لیکن مغیث نے اس کو کس وقت یہ رینگ پہنائی صوفیہ کو یاد نہیں تھا مگر اسے مغیث کی وہ جرتیں یاد آنے لگیں جو وہ رات میں ہوٹل کے کمرے میں دکھا رہا تھا صوفیہ ان لمحات کو یاد کرکے شرمانے لگی وہ اپنا ڈریس چینج کرنے کی بجائے اپنے کمرے سے مغیث کے بیڈروم میں چلی آئی جہاں وہ بےخبر سو رہا تھا اس کے بیڈ روم کا دروازہ آہستہ سے بند کرکے وہ مغیث کے پاس آئی تو بےساختہ اس کی نظریں جھک گئی ایسا نہیں تھا کہ بغیر شرٹ کے وہ مغیث کو پہلی بار دیکھ رہی تھی مگر کل رات مغیث اپنے جذبات اور احساسات کو اس پر واضح کرتے ہوئے اسے اچھا خاصہ نروس کرگیا تھا صوفیہ مغیث کی بند آنکھوں کو دیکھ کر بیڈ کے کنارے پر مغیث کے چہرے کے سامنے بیٹھی اس نے جس کو شدتوں سے چاہا بہت آرام سے پالیا تھا وہ اپنے آپ کو اس وقت دنیا کی سب سے خوش نصیب لڑکی تصور کررہی تھی

“مغیث عالم مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا آپ اتنے رومینٹک بھی ہوسکتے ہیں شروع سے ہی آپ کو غصے میں اور پھر سنجیدہ دیکھتی آئی ہوں لیکن کل رات آپ نے اپنا ایک الگ روپ دکھایا ہے جس کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی ہوں کہ آپ کے کس روپ سے محبت کرو”

صوفیہ بےحد آہستہ آواز میں مغیث کو دیکھ کر سرگوشی کرتی ہوئی بولی اس کے بعد وہ اپنا چہرہ مغیث کے چہرے کے مزید نزدیک لائی تو اس کی آواز اور بھی دھیمی ہوگئی

“اگر آپ روز اسی طرح بےباکی کے مظاہرے دکھاتے رہے تو آپ کی یہ دیوانی مذید دیوانی ہوجائے گی اس پر تھوڑا سا رحم کیجئے گا آپ کا اتنا سارا پیار میں ایک ساتھ بالکل ڈائجسٹ نہیں کر پاؤں گی، لیکن مجھ سے پیار کرنا کبھی مت چھوڑئیے گا۔۔۔ آپ کا دیا ہوا تحفہ بےحد خوبصورت ہے اب میری طرف سے یہ تحفہ آپ قبول کرلیں۔۔۔ آپ کے جاگتے کے بعد اسے دینے کی ہمت بھی نہیں کرپاؤ گی”

صوفیہ مغیث کا چہرہ دیکھتی ہوئی بولی جس کے بعد اس نے مغیث کی پیشانی پر آہستہ سے اپنے ہونٹ رکھے اور فورا پیچھے ہوگئی کیونکہ آج اپنی بےباکی پر وہ خود بھی شرما گئی تھی یہ ہمت تو وہ مغیث کے جاگنے پر ہرگز نہیں کرسکتی بھی۔۔۔ صوفیہ بیڈ سے اٹھ کر اپنے کمرے میں جانے لگی تبھی اس کا پاؤں کسی چیز سے ٹکرایا

صوفیہ نے جھک کر وہ چھوٹے سائز کی تھیلی اٹھائی جس میں سفید رنگ کا سفوف موجود تھا جسے دیکھ کر صوفیہ کے چہرے کے تاثرات ایک دم تبدیل ہوئے آخر یہ کیا چیز تھی اور مغیث کے پاس کیوں تھی؟؟

صوفیہ ہاتھ میں تھیلی لیے بےخبر سوۓ ہوئے مغیث کو دیکھنے لگی کچھ سوچتے ہوئے اس نے مغیث کے چہرے سے اپنی نظریں ہٹائیں مگر اسی پل مغیث اپنی سرخ آنکھیں کھول چکا تھا صوفیہ تیھلی میں موجود پاؤڈر اپنی ہتھیلی پر نکالتی ہوئی جیسے ہی اپنا چہرہ ہتھیلی کے قریب لائی ویسے ہی مغیث نے اچانک اس کی کلائی سختی سے پکڑی

“کیا کررہی ہو تم میرے کمرے میں”

مغیث غصے میں صوفیہ کی کلائی پکڑتا ہوا اسے اس کا ہاتھ چہرے تک لے جانے سے روکنے کے ساتھ بیڈ پر بیٹھتا ہوا صوفیہ سے پوچھنے لگا

“مغیث یہ۔۔۔۔ یہ کیا چیز ہے” صوفیہ مغیث کی بات کو نظرانداز کرتی ہوئی اس کی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر ڈرتی ہوئی مغیث سے پوچھنے لگی۔۔۔ اسے ڈر مغیث کا نہیں بلکہ اپنے ہاتھ میں موجود پاؤڈر سے لگ رہا تھا جو وہ سمجھ رہی تھی، دعا کرنے لگی یہ وہ چیز نہ ہو مگر مغیث نے صوفیہ کی ہتھیلی پر موجود پاؤڈر غصے میں اپنا ہاتھ مار کر ہوا میں اڑایا وہ صوفیہ کو غصے میں بیڈ سے نیچے دھکا دیتا ہوا خود بیڈ سے اٹھا

“تمہیں کیا لگتا ہے کیا چیز ہے یہ،، تم مجھے بتاؤ جواب دو کیا چیز ہے یہ” صوفیہ فرش پر گر کر سنبھل بھی نہیں پائی تھی مغیث تیزی سے اس کی طرف بڑھتا ہوا اسے بازو سے پکڑ کر فرش سے اٹھاکر غراتا ہوا صوفیہ سے پوچھنے لگا

“آپ۔۔۔۔ کیا آپ ڈرگس کا استعمال کرتے ہیں”

پوچھنے کے ساتھ نہ صرف صوفیہ کی آنکھوں سے اشک رواں ہونے لگے تھے بلکہ ڈرگس کا سوچ کر اس نے کانپنا شروع کردیا تھا جبکہ دوسری طرف مغیث صوفیہ کے منہ سے یہ جملہ سن کر مذید پاگل ہوا اس نے اشتعال میں صوفیہ کو سامنے دیوار پر دھکا دیا اس سے پہلے وہ دیوار سے ٹکرا کر نیچے گرتی مغیث تیزی اس کی پشت پر پہنچ کر اسے بازو سے پکڑ کر صوفیہ کا رخ اپنی طرف کرتا ہوا بولا

“کسی کو بتاؤ گی اس بارے میں،، دیکھ رہی ہوں جواب دو کسی کو بتاؤں گی تم اس بارے میں”

وہ صوفیہ کا منہ سختی سے پکڑتا ہوا غصے میں صوفیہ کو دیکھ کر پوچھنے لگا صوفیہ بےیقینی سے مغیث کو دیکھ رہی تھی اس نے ڈرگس لینے سے انکار نہیں کیا تھا بلکہ الٹا وہ اس کو ڈراتا ہوا اسی سے پوچھ رہا تھا کہ وہ یہ بات کس کو بتائے گی

“جابی کو، میں جابی کو بتاؤ گی آپ کے بارے میں”

صوفیہ اسے اپنا ارادہ بتانے لگی جس پر مغیث نے غصے میں آکر صوفیہ کو بیڈ کی طرف دھکا دیا اور خود کھڑکی کے پردے ڈالنے لگا صوفیہ نے بیڈ سے اٹھ کر بھاگتے ہوۓ کمرے سے نکلنا چاہا مگر اس سے پہلے مغیث نے صوفیہ کو کھینچ کر دروازے کے ساتھ والی دیوار پر لگایا اور اپنا ایک ہاتھ اس کے ہونٹوں پر رکھا

“اگر تمہارے رونے کی آواز اس کمرے سے باہر گئی تو میں تمہارے ٹکڑے کر ڈالوں گا صوفیہ”

مغیث نے سرخ آنکھوں سے صوفیہ کو گھورتے ہوئے وارننگ دی کیوکہ باہر قدموں کی آواز سے ان دونوں کو اندازہ ہوچکا تھا کہ کوئی کمرے کی طرف آرہا تھا۔۔۔ دروازہ بجنے پر مغیث سے ہلکا سا دروازہ کھولا جس سے صرف وہی نظر آرہا تھا دروازے کے ساتھ دیوار پر صوفیہ کھڑی تھی مغیث نے اپنا ہاتھ ابھی بھی صوفیہ کے منہ پر رکھا ہوا تھا جبکہ مغیث کی کہنی صوفیہ کے کندھے پر بری طرح چبھ رہی تھی

“صوفی تو لگتا ہے کل سے شاید بےہوش پڑی ہے ابھی بھی اپنے کمرے کا دروازہ نہیں کھول رہی، آپ کو ناشتہ کرنا ہے تو بتا دیں”

موحد مغیث کا آدھا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا کیوکہ آدھے کھلے دروازے سے اسے مغیث کا آدھا چہرہ ہی نظر آرہا تھا

“مجھے ناشتہ کرنا ہوگا تو میں خود کرلوں گا تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اب مجھے ڈسٹرب مت کرنا”

وہ موحد سے بولتا ہوا دروازہ بند کرچکا تھا کیونکہ موحد اسے اس وقت یونیورسٹی جانے کے لیے تیار دکھ رہا تھا وہ جانتا تھا موحد اب اسے دوبارہ ڈسٹرب نہیں کرے گا۔۔۔ مغیث ایک بار پھر صوفیہ کو دیکھنے لگا جس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوکر اس کے ہاتھوں میں جذب ہورہے تھے

“اچھا تو جابی کو بتاؤ گی تم میرے بارے میں”

مغیث اپنا ہاتھ صوفیہ کے منہ سے ہٹاتا ہوا ایک بار پھر اس سے پوچھنے لگا مغیث کی بات سن کر صوفیہ ڈر کر نفی میں سر ہلانے لگی

“پلیز مغیث مجھے اپنے کمرے میں جانے دیں”

وہ روتی ہوئی مغیث سے بولی آج مغیث کا یہ روپ دیکھ کر اس کا دل بری طرح ٹوٹ چکا تھا۔۔۔ وہ ہمیشہ سے صوفیہ کی حرکتوں اور باتوں پر خار کھاتا اس پر غصہ کرتا آیا تھا مگر آج جو اس نے صوفیہ کے ساتھ سلوک کیا تھا صوفیہ اس کے بارے میں کبھی بھی نہیں سوچ سکتی تھی،اور وہ نشہ کرنے کا عادی تھا ایسا تو وہ تصور میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی

“چلی جانا یہاں سے مگر میری بات کو اپنے ذہن میں محفوظ کرنے کے بعد”

مغیث بولتا ہوا بیڈ کے پاس آیا اور اپنی شرٹ پہننے لگا جس کے بعد وہ سائیڈ ٹیبل کی ڈراز کی طرف بڑھا صوفیہ سسکتی ہوئی دیوار سے ٹیک لگائے کھڑی تھی اسے ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا مغیث ڈرگس کا استعمال کرتا ہے وہ یہی سوچ کر مسلس روۓ جارہی تھی جب دوبارہ مغیث اس کے پاس آیا تو اس کے ہاتھ میں بلیٹ موجود تھا جسے دیکھ کر صوفیہ نے رونا بند کردیا وہ خوفزدہ سی مغیث کو دیکھنے لگی مغیث نے صوفیہ کے قریب آکر اپنا بازو اس کی کمر میں ڈال کر اسے خود سے قریب کیا جبکہ دوسرے ہاتھ میں موجود بلیٹ وہ صوفیہ کے چہرے کے قریب لایا

“مغیث نن نہیں پلیز۔۔۔ یہ کک کیا کررہے ہیں آآآپ”

صوفیہ خوف سے پوری آنکھیں کھولے کانپتی ہوئی مغیث سے پوچھنے لگی یہ آخر مغیث کا کون سا روپ تھا

“شش ایسے ہی کھڑی رہو ہلنا نہیں بالکل، اور میری بات بہت دھیان سے سنو۔۔۔ یہ تمہارا چہرہ ہے ناں صوفی بہت حسین ہے، مجھے اس کے ایک ایک نقش سے بےحد پیار ہے۔۔۔ اتنا پیار کے میں اس چہرے کو اپنے سامنے رکھ کر پلکیں چھپکائے بناء چوبیس گھنٹے تک دیکھتا رہو،، تب بھی میرا دل اس مشغلے سے نہیں بھرے گا۔۔۔ تم چاہتی ہو ناں کہ میں اپنا آپ تم پر عیاں کرو دیکھو میں نے اپنی سوچ تمہیں بتادی بلکہ وہ بات بھی تمہیں آج معلوم ہوگئی ہے جو تمہیں کبھی بھی معلوم نہیں ہونی چاہیے تھی۔۔۔ صوفیہ میں پسند نہیں کرتا کوئی دوسرا میرے بارے میں جاننے کی کوشش کرے، یا پھر زبردستی میری چیزوں میں گھسے۔۔۔۔ تمہارے ساتھ کی خواہش اپنے دل میں پالنے کے باوجود میں نہیں چاہتا تھا کہ ہم دونوں ایک ہو جائیں جبھی میں تمھیں اپنے قریب آنے سے منع کرتا تھا،، دیکھو کیا ملا تمہیں میرے بارے میں جان کر،، آنسو ہیں اس وقت تمہاری آنکھوں میں، رو رہی ہو تم میرے بارے میں جان کر۔۔۔ کیا تم چاہتی ہو جیسے آج تمہارا دل دکھا ہے ویسے ہی میرے بارے میں جان کر جابی بھی روۓ ان کا دل بھی ایسے ہی دکھے بتاؤ صوفی کیا تم اب بھی یہ سب جابی کو بتاؤ گی”

وہ بلیٹ والا ہاتھ اس کے چہرے سے دور کرکے اپنا چہرہ صوفیہ کے چہرے کے قریب کرتا ہوا اس سے نرمی سے پوچھنے لگا

“میں آپ کو برباد ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتی مغیث، آپ کو معلوم ہے ناں یہ زہر ہے جو آپ اپنے اندر اتار رہے ہیں، آپ جان کر ایسا کررہے ہیں کیوں آخر،، پلیز اس عادت کو چھوڑ دیں،، نہیں تو میں واقعی۔۔۔۔”

صوفیہ نے جیسے ہی بولنا چاہا تو مغیث نے بلیٹ دوبارہ صوفیہ کے دائیں گال پر رکھا

“نہیں تو کیا” وہ صوفیہ کی دھمکی پر اس سے پوچھنے لگا صوفیہ خوف کے مارے مغیث سے کچھ نہیں بولی

“صوفی اگر تم نے میرے متعلق کسی کو بھی کچھ بھی بتایا تو میری بھی ایک بات یاد رکھنا یہ جو تمہارا خوبصورت چہرہ ہے ناں اسے میں بلیٹ سے بگاڑ ڈالوں گا اور ایسا کرتے ہوئے مجھے بہت تکلیف بھی ہوگی لیکن اس کے باوجود میں ایسا ضرور کروں گا۔۔۔ اگر تم نے میرے متعلق کسی سے بھی کچھ بھی کہا تو”

مغیث صوفیہ کو وارننگ دیتا ہوا صوفیہ کی آنکھوں میں اپنے لیے خوف دیکھ کر واشروم میں چلاگیا جبکہ صوفیہ وہی دیوار سے لگتی ہوئی نیچے بیٹھ کر رونے لگی

*****

محب کی صبح آنکھ کھلی تو اپنے برابر میں مہرماہ کو نہ پاکر اس نے اپنی نظریں کمرے کے چاروں اطراف دوڑائی، ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے رکھے چھوٹے سے اسٹول پر وہ اسے بیٹھی ہوئی نظر آئی

“صبح کے دس بج گئے اور تم نے مجھے ابھی تک نہیں جگایا”

دیوار پر لگی کلاک میں ٹائم دیکھتا ہوا وہ بیڈ سے اٹھنے کے ساتھ مہرماہ سے بولا جو اپنے گیلے بالوں میں برش پھیر رہی تھی

“میری بھی تھوڑی دیر پہلے ہی آنکھ کھلی تھی”

مہرماہ اسٹول سے اٹھ کر محب کے پاس آتی ہوئی اسے بتانے لگی کل رات خوشگوار لمحات محب کی باہوں میں گزارنے کے سبب حیا سے اس کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں

“رات سونے سے پہلے تمہیں صبح کا الارم لگانا چاہیے تھا آفس جانے کے ٹائم معلوم نہیں ہے تمہیں میرا”

وہ مہرماہ کی جھکی ہوئی نظریں دیکھ کر اسے اس کی لاپرواہی کا احساس دلانے لگا تو مہرماہ نظریں اٹھاکر حیرت سے محب کو دیکھنے لگی۔۔۔

“آپ آج صبح آفس جائیں گے” مہرماہ حیرت ذدہ سی اپنے سامنے کھڑے محب سے پوچھنے لگی۔۔۔گزری ہوئی رات کا شائبہ اس کی آنکھوں میں لہجے میں یہ انداز میں ڈھونڈنے سے نہیں مل رہا تھا

“کیوں آج ایسا کیا ہوگیا جو میں آفس نہ جاؤ”

محب چہرے پر سنجیدہ تاثرات لئے مہرماہ کا حیرت ذدہ سا چہرہ دیکھ کر الٹا اس سے سوال کرنے لگا

“نہیں وہ پرسوں ہی ہماری شادی ہوئی ہے ناں تو اس لیے میں نے ایسا پوچھا”

مہرماہ محب کو جیسے یاد دلاتی ہوئی بولی کل رات والا محب کا رویہ اور انداز اس وقت بالکل بدل چکا تھا

“شادی ہوئی ہے تو کیا ہوا یہ کوئی انہونی عمل تو نہیں جس کی وجہ سے انسان اپنے روزمرہ کے کام چھوڑ کر بیٹھ جاۓ اور خوش ہوتا رہے کہ میری شادی ہوئی ہے”

وہ ایسے ہنستا ہوا بولا جیسے مہرماہ کی بات کا مذاق اڑا رہا ہو اس کی بات پر مہرماہ شرمندہ سی ہوگئی

“اچھا اب شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بس یہ بات اپنے ذہن میں بٹھالو کہ صبح آٹھ بجے آفس کے لیے تمہیں ڈیلی مجھے جگانا ہوگا”

محب مہرماہ کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر اسے نرمی سے بولا اور واش روم چلا گیا تو مہرماہ صوفے پر بیٹھ گئی اور محب کے آنے کا انتظار کرنے لگی تاکہ وہ باتھ لےکر باہر نکلے تو وہ محب کے ساتھ کمرے سے باہر نکلے ایسے اکیلے اسے کمرے سے باہر جانا تو عجیب سا لگ رہا تھا

“تم ابھی تک کمرے میں بیٹھی ہوئی کیا کررہی ہو”

محب باتھ لےکر باہر نکلا تو حیرت زدہ ہوکر صوفے پر بیٹھی ہوئی مہرماہ سے پوچھنے لگا

“میں تو آپ کے باہر آنے کا ویٹ کررہی تھی محب”

مہرماہ اس کے حیرت کرنے پر کنفیوز ہوتی ہوئی اسے بتانے لگی اور صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی جیسے اس نے صوفے پر بیٹھ کر کوئی غلطی کردی ہو

“تو ناشتہ کون بنائے گا پھر”

محب شرٹ پہننے کے ساتھ جتانے والے انداز میں اسے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جس پر مہرماہ ایک بار پھر تھوڑی حیرت زدہ ہوکر پریشانی سے اسے دیکھنے لگی

“کیا میں ناشتہ بناؤ آپ کا”

آج اس کی شادی ہوئے دوسرا دن تھا اس لئے مہرماہ کنفیوز ہوکر محب سے پوچھنے لگی جس پر محب ہیئر برش ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتا ہوا مہرماہ کے پاس آیا۔۔۔ مہرماہ کا مہندی لگا ہوا ہاتھ پکڑ کر اس کا ہاتھ دیکھنے لگا

“یہ سب پرانی اور فرسودہ باتیں میرے سامنے معنی نہیں رکھتی ہیں کہ ابھی تو لڑکی کی شادی ہوئی ہے تو وہ مہینے بھر تک کام کو ہاتھ نہیں لگائی گی یا ابھی ہاتھوں کی مہندی بھی نہیں ہٹی وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں تم جلد سے جلد اس گھر کی ذمہ داری سنبھالو اسی طرح تم اسے اپنا گھر سمجھو گی اور اس میں اچھی طرح سے ایڈجسٹ بھی ہوجاؤ گی۔۔۔۔ ویسے تو صبح ناشتہ عبدل بناتا ہے تمہیں اس کے ساتھ چھوٹے موٹے کاموں میں اس کی ہیلپ کرنا ہوگی جیسے ابتک گڑیا کرتی آئی ہے۔۔ تمہیں معلوم ہے وہ بہت چھوٹی عمر سے جابی اور ہم تینوں بھائیوں کے کام کرتی آئی ہے میں چاہتا ہوں تم اس کے کاموں میں تھوڑا بہت حصہ دار بن جاؤ” محب مہرماہ کا ہاتھ تھامے اسے آرام سے سمجھانے لگا جس پر مہرماہ نے اثبات میں سر ہلایا اور محب سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر کچن کا رخ کرنے لگی

“رکو”

مہرماہ کو کمرے سے جاتا دیکھ کر محب بولا اور چلتا ہوا مہرماہ کے پاس آیا غور سے اس کا چہرا دیکھتا ہوا کچھ سوچ کر دوبارہ اس سے مخاطب ہوا

“شاید لڑکیوں کی یہ سائیکی ہوتی ہے کہ وہ شادی سے پہلے ہی بہت کچھ امیجن کرلیتی ہیں کہ ان کا ہسبینڈ،، ان کی جائز ناجائز ہر بات مانے کا،، ہر وقت ان کی فرمائش پوری کرے گا یا پھر ہر وقت محبت بھرے جملے بول کر ہر ٹائم ان سے محبت جتاۓ گا۔۔۔ میں تمہاری سوچ کے بارے میں نہیں جانتا مگر تم پر اپنی سوچ واضح کردیتا ہوں، میں ایک سیدھا سادہ میچور اور کافی حد تک پریکٹیل بندہ ہوں۔۔۔۔ دوسرے مرد ایسے ہی ہوتے ہوگے جیسا کہ لڑکیاں سوچتی ہیں اور چاہتی ہیں مگر میں ان مردوں جیسا نہیں جو بات بات پر بیوی ہر قسم کی ناجائز اور فضول سی فرمائشیں پوری کریں یا پھر بیوی سے ہر وقت محبت جتاۓ۔۔۔ مجھے یہ سب کرنا نہیں آتا مہر،، یہ سب میں تمہیں اسی لیے نہیں بتارہا کہ تم پریشان ہوجاؤ یا دکھی ہوجاؤ بلکہ یہ سب میں تمہیں اس لیے بتارہا ہوں تاکہ تم مجھ سے تواقعات زیادہ نہ رکھو اس طرح تم ہرٹ نہیں ہوگی”

محب کی ساری باتیں وہ غور سے اس کا چہرہ دیکھ کر خاموشی سے سن رہی تھی تو مہرماہ کو یہی سمجھ آرہا تھا سامنے کھڑا شخص جو اب اس کا شوہر بن چکا ہے وہ اسے اپنے سے زیادہ ایکسپکٹیشن رکھنے سے خود منع کررہا تھا