Teri Deewani By Zeenia Sharjeel Readelle 50387 Teri Deewani (Episode 7)
Rate this Novel
Teri Deewani (Episode 7)
Teri Deewani By Zeenia Sharjeel
تھوڑی دیر پہلے ہی محب آفس آیا تھا مہرماہ کی خالی سیٹ کو دیکھ کر وہ مہرماہ کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔ کل رات جبران کے منہ سے رشتہ طے کرنے والی بات سن کر وہ مستقل مہرماہ کو ہی سوچے جارہا تھا اس لڑکی کو اس کے باپ نے اسکے لیے پسند کیا تھا وہ جبران کی بات پر سب کے سامنے کیا اعتراض کرتا اس لیے خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا تھا مگر اس وقت وہ تھوڑا نہیں بہت زیادہ کنفیوز تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا مہرماہ کو لےکر وہ کس طرح کے ردعمل کا اظہار کرے۔۔۔ بے شک وہ خوش لڑکی تھی مگر ایک ساتھ زندگی گزارنے کے لیے صرف اچھی شکل و صورت اسکی ترجیح نہیں ہوتی بلکہ اور بھی دوسری ترجیحات تھی جن پر مہرماہ اترنا تو دور ٹک بھی نہیں سکتی تھی وہ لڑکی اسے اپنی عجیب حرکتوں سے اچھا خاصا اریٹیٹ کردیا کرتی تھی اس بات کا سوچ کر محب کو اب پریشانی ہونے لگی تھی
شادی سے متعلق لڑکی کے لیے اس کی کوئی خاص ڈیمانڈ نہیں تھی، وہ اپنے ماں باپ کی میرڈ لائف کو ناکام دیکھ کر بہت پہلے یہ فیصلہ کرچکا تھا وہ جب بھی شادی کرے گا جبران کی پسند سے کرے گا اس کے باوجود وہ اپنے لیے ایک میچور اور سلجھی ہوئی لڑکی بیوی کی صورت چاہتا تھا جو اس کو اس کی فیملی اور اس کے گھر کو اچھی طرح سنبھال سکے اسے یوں جاب کرنے والی لڑکی اپنے لیے پسند نہیں تھی کیوکہ اس کی نظر میں ایسی لڑکیاں کافی سوشل ہوتی ہیں اور وہ گھر بار کو صحیح طرح ٹائم نہیں دے سکتی مطلب اس کو گھریلو ٹائپ کی لڑکی پسند تھی دوسرا اسے مہرماہ کے اندر کافی لاؤابالی پن نظر آتا تھا چوبیس سال کی عمر میں بھی وہ کافی غیر سنجیدہ حرکتیں کیا کرتی تھی لیکن یہ سارے مسئلے وہ جبران کے سامنے رکھ کر رشتے سے انکار کرکے جبران کا دل نہیں توڑنا چاہتا تھا کیوکہ جبران نے ان تینوں بھائیوں کو سنگل پیرنٹ بن کر اکیلا پالا تھا اس لیے محب کا سوچنا تھا جبران اس کے لیے ہر طرح کے فیصلے کا حق رکھتا ہے ابھی وہ مہرماہ کو لےکر سوچوں میں غرق تھا کہ آفس کے روم کا دروازہ کھلا
“مے آئی کم سر”
مہرماہ نے دروازہ پر کھڑے ہوکر محب سے اندر آنے کی اجازت مانگی محب نے اشارے سے اسے اندر آنے کی اجازت دے دی کل ہی کی بات تھی جب اس نے مہرماہ کو بری طرح ڈانٹا تھا اور اپنے روم سے بھی نکال دیا تھا، آج وہ اس کی شکل بھی نہیں دیکھتا مگر اب بات مختلف تھی
آج وہ پورے ایک گھنٹہ لیٹ آئی تھی مگر اس نے مہرماہ سے اس کے لیٹ آنے کی وجہ نہیں پوچھی اور نہ اسے لیٹ آنے پر ٹوکا کیوکہ کل رات لیٹ سونے کی وجہ سے وہ بھی تھوڑی دیر پہلے ہی آفس آیا تھا۔۔۔ مہرماہ چوری چھپے پلکیں اٹھاکر محب کو دیکھنے کے ساتھ اپنا بیگ ٹیبل پر رکھنے کے بعد اس کی ٹیبل پر آئی
“سوری سر وہ دراصل صبح الارم سے میری آنکھ نہیں کھل سکی اور آنٹی نے بھی نہیں اٹھایا اس لیے آفس کے لیے لیٹ ہوگئی”
اس سے پہلے محب اس سے دیر سے آنے کی وجہ پوچھتا مہرماہ اس کے پاس جاکر خود اسے بتانے لگی۔۔۔ آج تو اسے محب سے اور بھی زیادہ ڈر لگ رہا تھا
“اٹس اوکے مس مہرماہ سٹ ڈاؤن”
محب غور سے مہرماہ کا پریشان چہرہ دیکھ کر نرم لہجے میں بولا
“پر سر بیٹھنا کہاں ہے۔۔۔ واپس جاکر اپنی سیٹ پر یا پھر یہاں آپ کے سامنے والی اس کرسی پر”
مہرماہ کنفیوز ہوکر پوچھنے لگی محب کا دل کیا وہ کہہ دے “میرے سر پر” مگر اس لڑکی سے کوئی بعید بھی نہیں تھی وہ سچ میں اس کے پاس آکر اس کے سر پر بیٹھنے کی کوشش بھی کرسکتی تھی
“جی مس مہرماہ میں نے آپکو یہی اپنے سامنے اس کرسی پر بیٹھنے کے لیے کہا ہے”
محب بغیر اکتاۓ یا بےزار ہوۓ مہرماہ سے بولا تو مہرماہ ہچکچھاتی ہوئی محب کے سامنے بیٹھ گئی محب خاموش نظروں سے مہرماہ کو دیکھنے لگا تو وہ مجب کے دیکھنے پر کنفویز ہوکر ٹیبل کو دیکھنے لگی محب اس کا ایک ایک انداز نوٹ کررہا تھا کبھی اس کا اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو مروڑنا تو کبھی اپنے بالوں کی لٹوں کو کان کے پیچھے کرنا پھر اپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے کاٹنا۔۔۔
جبکہ دوسری طرف مہرماہ کو محب کا دیکھنا بری طرح سے کنفیوز کرچکا تھا وہ بالکل شکور پان والے کی طرح اس کے چہرے کا معائنہ لے رہا تھا اور مہرماہ چاہ کر بھی اس حرکت پر محب پر لعنت نہیں بھیج سکتی تھی۔۔۔۔ پر یہ بھی ممکن تھا وہ اس رشتے کے متعلق کوئی بات کرنا چاہتا ہو ٹیبل کی سطح کو گھورتے ہوۓ مہرماہ کو ایک دم خیال آیا
محب نے اسے اپنے سامنے بیٹھنے کا تو بول دیا تھا مگر خود سوچ میں پڑگیا وہ مہرماہ سے بات کیسے کرے ایسا تو ہرگز نہیں تھا کہ وہ خود بھی رشتے والی بات سے انجان تھی تبھی محب اس سے پوچھنے لگا
“آپ کچھ کہنا چاہتی ہیں مس مہرماہ”
محب نے مہرماہ کے تاثرات نوٹ کرتے ہوئے بات کا آغاز کیا وہ جو ٹیبل کے شیشے پر اپنی انگلی پھیرتی ہوئی لکیر بنارہی تھی محب کی بات پر اپنی انگلی کا رخ محب کے چہرے کے آگے کرتی ہوئی بولی
“یہ دیکھیں سر آج پیون نے کپڑا نہیں مارا آپ کی ٹیبل پر”
مہرماہ کے بولنے پر محب نے اس کی انگلی کو دیکھنے کی بجاۓ بہت افسوس سے مہرماہ کو دیکھا
“اچھا سوری”
محب کے اس طرح دیکھنے پر مہرماہ خود ہی بولی تو محب نے لمبی سانس کھینچ کر مایوسی سے سر ہلاتے ہوۓ پیچھے کرسی سے ٹیک لگایا
“میں سمجھ گئی سر آپ یقینا رشتے والی بات کو لےکر اپ سیٹ ہوگے اور چاہتے ہوگے میں خود رشتے سے انکار کردو آپ یہی کہنا چاہتے ہیں ناں مجھ سے۔۔۔۔ آپ فکر مت کریں سر جیسا آپ چاہ رہے ہیں میں بالکل ویسا ہی کرو گی آپ کا بیچ میں نام نہیں آۓ گا”
اب کی بار مہرماہ کے بولنے پر محب بری طرح چونکا
“شکر ہے مس مہرماہ آپ نے کہا آپ سمجھ گئی یعنی آپ میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہے خوشی ہوئی جان کر لیکن آپ غلط سمجھی ہیں، اگر مجھے اس رشتے سے انکار کرنا ہوتا تو میں آپ کا سہارا ہرگز نہیں لیتا لیکن مستقبل کو لےکر جو بات مجھے پریشان کررہی ہے وہ آپ کی لاؤابالی طبعیت ہے۔۔۔ آپ کو اپنے اندر چینجنگ لانی ہوگی مس مہرماہ آئی ڈونٹ نو آپ نے میری بات کو انڈر اسٹینڈ کیا کہ نہیں”
محب صاف گوئی سے اس کے سامنے گویا ہوا کسی لڑکی میں نقص نکال کر رشتے سے انکار کردینا اس کی طبعیت نے گنورا نہیں کیا تھا جو لوگ ایسا کرتے تھے اس کی نظر میں وہ چھوٹی سوچ کے حامل ہوتے تھے مگر جو بات سیدھی سی تھی وہ بات محب نے بناء ہچکچاۓ مہرماہ کے سامنے رکھ دی
“یعنی آپ ایگری ہیں۔۔۔ اووو،،
جیسے مہرماہ کو توقع نہیں تھی محب سے اس بات کی، اس لیے “او” کو لمبا اور بہت افسوس سے کھنچا جس پر محب اسے الجھن بھری نظروں سے دیکھنے لگا جیسے جاننا چاہتا ہو وہ خود کیا سوچتی ہے اس بارے میں
“یعنی ٹھیک ہے۔۔۔ میں کوشش کروگی آگے آپکو شکایت کا موقع نہیں دو، آنٹی تو ہر وقت کہتی ہیں زیادہ چپڑ چپڑ مت کیا کرو اور اپنی زبان بند رکھا کرو اب شاید ایسا ہی کرنا پڑے آگے”
مہرماہ تھوڑا پریشان ہوکر بولی کیوکہ ایسا کرنا اس کے لیے تھوڑا مشکل تھا مگر کیا کرتی ستارہ دن رات اس کو سمجھاتی رہتی اسطرح دوسرے دوسرے گھر جاکر مشکل ہوجاۓ گی۔۔۔ محب کو پہلی بار اس کی کسی بات پر ہنسی آئی تھی
“اپ کی آنٹی یقینا عقلمند خاتون ہوگیں جو آپ کو چپڑ چپڑ کرنے سے روکتی ہیں آپ ان کی باتوں پر سنجیدگی سے غور کیا کریں اب بہت باتیں ہوگئی ہیں میرے خیال میں کچھ آفس کا کام بھی کرلینا چاہیے لیکن اس سے پہلے پلیز ایک گلاس پانی دے دیں تو مہربانی ہوگی آپ کی”
محب مہرماہ سے بولتا ہوا اس ٹاپک کو ختم کرچکا تھا
“شیور سر”
مہرماہ کرسی سے اٹھ کر کمرے کے کونے میں موجود ڈسپینسر سے محب کے لیے گلاس میں پانی نکالنے لگی۔۔۔ جبکہ محب اپنی جگہ سے اٹھ کر ٹیبل کے سامنے دیوار کیساتھ موجود صوفے پر آ بیٹھا
“یہ لیں سر پانی”
مہرماہ نے پانی سے بھرا گلاس محب کی طرف بڑھایا جو محب کے اوپر چھلک پڑا جس سے نہ صرف محب ایک دم اٹھ کر کھڑا ہوگیا بلکہ مہرماہ اپنی پوری آنکھیں کھول کر اس کی ڈریس پینٹ کو دیکھنے لگی جو ایسی جگہ سے گیلی ہوچکی تھی کہ مہرماہ شرمندگی سے نظریں چرانے پر مجبور ہوگئی
“یہ کیا کیا آپ نے، میں پوچھتا ہوں آپ کا دماغ کہاں پر تھا مس مہرماہ”
محب ناچاہنے کے باوجود غصہ کرتا ہوا مہرماہ سے پوچھنے لگا اس کی ڈریس پینٹ پر پانی گرا کر اس بےوقوف لڑکی نے ایسی جگہ سے اسے گیلا کیا تھا وہ بری طرح تلملا کر رہ گیا
“سر میرا دھیان یہاں تھوڑی تھا جہاں پانی گرا ہے، میرا مطلب یہ پانی کیسے گرگیا مجھے نہیں پتہ۔۔ لائیں میں آپ کی پینٹ ڈرائے کردیتی ہوں”
محب کو غصہ کرتا ہوا دیکھ کر مہرماہ کو رونا آنے لگا اوپر سے اس کو گھبراہٹ بھی ہونے لگی جس کی وجہ سے وہ سمجھ نہیں پائی کہ وہ کیا بول گئی
“یہ کس قسم کی فضول باتیں کررہی ہیں آپ مس مہرماہ، مطلب میں اپنی پینٹ آپ کو دے دوں آپ کا دماغ ٹھکانے پر ہے یا نہیں”
محب مہرماہ کی بات سن کر اس پر مزید غصہ کرتا ہوا بولا اسے شدت سے اپنے مستقبل کی فکر ہونے لگی جابی نے ناجانے یہ کیسی لڑکی اس کے لیے پسند کی تھی جو اپنی بےوقوفانہ حرکتوں سے نہ صرف اس کو عاجز کردیا کرتی تھی بلکہ آج تو اس لڑکی نے اسے ایسی جگہ سے گیلا کیا تھا جہاں اس کی سوچ بھی اب تک نہیں پہنچی تھی
“سر آپ پلیز مجھ پر اس طرح غصہ مت کریں ورنہ مجھے رونا آجائے گا آپ جانتے نہیں ہیں میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں”
مہرماہ کو اپنی بےوفوفانہ حرکت پر رونا ہی آنے لگا آج تو اپنے باس کی پینٹ گیلی کر کے حد ہی مکادی تھی
“آپ کو پریشان نہیں ہونا چاہیے مس مہرماہ بلکہ آپ کو اپنی حرکتوں پر جی بھر کے شرمندہ ہونا چاہیے،، آج آپ مجھے ایک بات بالکل سچ سچ بتادیں یہ سب جو آپ میرے ساتھ کرتی ہیں کیا جان بوجھ کر کرتی ہیں کیوکہ میں نہیں مانتا کوئی لڑکی اس حد تک بےوقوف ہوسکتی ہے”
محب اسے شرمندہ دیکھ کر مذید اس پر غصہ کرتا ہوا بولا اس سے پہلے کہ مہرماہ سچ میں رو پڑتی آفس کے روم کا دروازہ کھول کر مغیث روم میں آتا ہوا بولا
“بزی تو نہیں تھے تم”
بولنے کےساتھ ہی مغیث کی نظر محب پینٹ پر پڑی تو او شیپ اس کا منہ کھل گیا وہ محب کے بعد محب کے پاس کھڑی مہرماہ کو دیکھنے لگا
“نہیں نہیں مغیث میری بات سنو”
محب مغیث کے فیس ایکسپریشن دیکھ کر اس کا ذہن صاف کرنے کے غرض سے بولا
“شاید تم بزی تھے میں بہت غلط ٹائم پر روم میں آگیا ہوں نیکسٹ ٹائم روم لاک کرلینا”
مغیث کے تاثرات بالکل سنجیدہ تھے وہ کمرے سے جانے لگا
“فضول کی بکواس مت کرو میرے سامنے، بیٹھو یہاں مجھے بات کرنا ہے تم سے اور آپ یہاں پانی کا گلاس لےکر کھڑی اب کیا مجھے پورا شاور دلائے گیں جائیں آپ یہاں سے اور یہ فائل رضوان صاحب کو دے کر آئے”
محب مغیث کو بیٹھنے کا بول کر مہرماہ کو بھی آرڈر دیتا ہوا بولا وہ سر جھکائے فائل لےکر کمرے سے باہر نکل گئی
“میں نے پانی اس سے پینے کے لیے مانگا تھا مگر اس نے میری جگہ میری پینٹ کو پانی پلا دیا”
محب اس کو دیکھ کر وضاحت دیتا ہوا بولا جس پر مغیب چاہ کر بھی اپنی کنٹرول نہیں کر پایا
“ابھی صرف رشتے کی بات چلی ہے اور تم نے صفائیاں دینا شروع کردیں”
مغیث کو ابھی سے اپنے بھائی کی حالت پر ترس آنے لگا
“یار میں کنفیوز ہو چکا ہوں مطلب مجھے سمجھ میں نہیں آرہا جابی نے اس لڑکی میں آخر ایسا کیا دیکھ لیا جو اسے میرے پلے باندھ رہے ہیں”
محب کھل کر مغیث سے اپنے دل کی بات شیئر کرنے لگا
“جابی تمہارے سر پر بندوق رکھ کر تمہاری شادی نہیں کروا رہے ہیں اگر تمہیں اس رشتے میں دلچسپی نہیں ہے تو سمپل سی بات ہے انکار کردو اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے”
مغیث صوفے پر آرام سے بیٹھتا ہوا محب کو مشورہ دینے لگا
“جابی کے سامنے انکار کیسے کرسکتا ہوں میں وہ ہرٹ ہوگے اور تم جانتے ہو میں انہیں ہرٹ کرنے کا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا دوسرا کسی لڑکی کو ریجیک کرنا کچھ مناسب نہیں لگتا یار،، یہ لڑکی صحیح ہے مگر اس کی چند عجیب و غریب حرکتیں میرا خون جلا دیتی ہیں تم شاید سمجھ نہیں پارہے ہو میرے مسلئہ کو”
محب بےچینی کی سی کیفیت میں مغیث سے بولا۔۔۔۔ اصل میں وہ کل رات سے اس رشتے والی بات کو لےکر بری طرح کنفیوز ہوچکا تھا
“میں تمہارے مسلئہ کو اچھی طرح سمجھ چکا ہوں اور تمہاری عادت کو بھی بچپن سے جانتا ہوں تم نہیں چاہتے کہ جابی تمہاری وجہ سے ہرٹ ہو یعنی اگر انہوں نے اس لڑکی کو تمہارے لیے پسند کیا ہے تو تم اس سے انکار کرکے انہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتے اور یہ لڑکی بھی تمہیں صحیح لگتی ہے مطلب کے بری نہیں لگتی تو صاف ظاہر ہے تم اس لڑکی کے ساتھ آرام سے ایڈجست کرلو گے اور جن حرکتوں کی تم بات کررہے ہو تو دنیا میں ایسا کوئی بھی مرد نہیں ہے جو شادی کے بعد اپنی بیوی کی حرکتوں سے خائف نہ رہتا ہو، چاہے اس کی وائف ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہو تب بھی سب مردوں کا اپنی بیوی کو دیکھ کر خون جلتا ہے اور ویسے بھی ایک عجیب و غریب مخلوق پہلے ہی ہمارے گھر میں موجود ہے اب ایک اور کا اضافہ ہوجائے گا تو کوئی پریشانی والی بات نہیں، تم زیادہ مت سوچو اس بات کو”
مغیث کا خود اپنا موڈ بھی فریش تھا وہ محب کو بھی ریلیکس ہونے کا مشورہ دیتا ہوا بولا
“جسے تم عجیب و غریب مخلوق کہہ رہے ہو وہ عالم ہاؤس کی لاڈلی ہے اور تم یہ بھی جانتے ہو جابی نے اس کے اور تمہارے متعلق کیا سوچ رکھا اس لیے ہر وقت اس کے ساتھ سختی سے پیش مت آیا کرو”
محب نے باتوں کا رخ اپنی طرف سے اس کی طرف موڑ دیا تو مغیب بالکل خاموش ہوگیا وہ شروع سے ہی اس ٹاپک پر بات کرنے سے کتراتا آیا تھا یہ بات محب بھی جانتا تھا مغیث کو خاموش دیکھ کر وہ موضوع بدلتا ہوا بولا
“یہ بتاؤ آفس کیسے آنا ہوگیا آج تمھارا”
محب واپس اپنی چیئر پر بیٹھتا ہوا مغیث سے پوچھنے لگا
“جابی کو شکوہ تھا میرے آفس نہ جوائن کرنے کا تو سوچا آج سے پراپر طریقے سے آفس جوئن کرکے ان کا شکوہ دور کر دیتا ہوں”
مغیث ساری سوچوں کو اپنے ذہن سے جھٹک کر محب سے بولا
**★**
“مغیث بھائی یہ لیجئے گرما گرم چاۓ بغیر شکر کی”
عبدل چاۓ کا کپ مغیث کی طرف بڑھاتا ہوا بولا وہ تھوڑی دیر پہلے ہی گھر آیا تھا سر میں درد ہونے کی وجہ سے اس نے عبدل سے اپنے لئے چائے کا بولا تھا
“تم نے اس میں الائچی ڈال دی ہے”
چائے کا گھونٹ بھرتا ہوا وہ خونخوار نظروں سے عبدل کو دیکھ کر پوچھنے لگا
“مغیث بھائی یہ ٹی سیٹ کا آخری کپ بچا ہے خدارا اس کو مت ہوا میں آڑائیے گا۔۔۔ دراصل یہ چاۓ سکھی بناکر تھرماس میں بھر کر چلی گئی تھی میں آپ کے لیے فٹافٹ دوسری چائے بنالیتا ہوں”
مغیث نے جیسے ہی چائے سے بھرا کپ ہوا میں پھینکنے کا ارادہ کیا عبدل تیزی سے بولا
“فٹافٹ تم یہاں سے اپنی شکل گم کرو اور صوفیہ سے کہو وہ میرے لئے چائے بناکر لائے”
وہ اس وقت عبدل کے ہاتھ کی بنی ہوئی چائے پی کر خود کو بدمزہ نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے عبدل کو حکم دیتا ہوا بولا
“پر صوفیہ بی بی آپ کے لئے چاۓ کیسے بناسکتی ہیں وہ تو اپنی دوست کی منگنی میں چلی گئی ہیں”
عبدل ڈرتا ہوا مغیث کو بتانے لگا اور اپنی شامت کا انتظار کرنے لگا کیونکہ مغیث کے تاثرات دیکھ کر اندازہ ہورہا تھا صوفیہ کا اپنی دوست کی منگنی میں جانا بھی عبدل کی غلطی میں شمار ہوگا اور ایسا ہی ہوا وہ غصے میں ٹی سیٹ کا آخری بچا ہوا کپ فرش پر پھینک کر گاڑی کی چابی لیتا ہوا اپنے کمرے سے باہر نکلا
****
میوزک کی دھن پر وہ تینوں مہارت سے ایک جیسے اسٹیپ کررہی تھی،، سیٹیوں اور تالیوں کی آواز پورے ہال میں گونج رہی تھی۔۔۔ ڈانس کے دوران صوفیہ کی نظر اپنی طرف آتے ہوئے مغیث پر پڑی تو صوفیہ ڈانس بھول کر مغیث کو دیکھنے لگی جو اتنی بھیڑ کو نظر انداز کئے ڈانس فلور پر آتا ہوا صوفیہ کو کلائی سے پکڑ ڈانس فلور سے اتار کر ہال سے باہر کی جانب لے جانے لگا اس کے چہرے کے تاثرات اتنے غضبناک تھے کہ کسی فرد نے ہمت نہیں کی کہ وہ آگے بڑھ کر اسے روکتا یا ٹوکتا خود صوفیہ بھی خاموشی سے مغیث کے ساتھ چلتی رہی مگر جیسے ہی مغیث نے اسے کار میں بٹھاکر کار اسٹارٹ کی ویسے ہی صوفیہ کی زبان بھی اسٹارٹ ہوگئی
“شرم نہیں آئی آپ کو یوں سب کے سامنے تماشا کرتے ہوئے کتنی پریکٹس کی تھی میں نے ایک ایک اسٹیپ پر،، پورا ڈانس بھی مکمل نہیں کرنے دیا جسے سیکھنے میں مجھے پورا ہفتہ لگا تھا۔۔۔ بس کسی فضول ولن کی طرح اینٹری دے کر اٹھا لائے مجھے اپنے ساتھ”
صوفیہ مغیث کے غصے کی پرواہ کئے بغیر اس سے بولی تو مغیث ڈرائیونگ کرنے کے ساتھ ساتھ آنکھیں دکھاکر صوفیہ کو دیکھتا ہوا بولا
“مجھ سے پہلے تمہیں شرم سے ڈوب مرنا چاہئے یوں سر عام اتنے لوگوں کے سامنے خود کو تماشا بناتے ہوئے۔۔۔ بہت محنت لگی تھی ڈانس کی پریکٹس کرنے میں ذرا اپنے خیالات محب کے سامنے ظاہر کرنا،، کیسے اس کی گڑیا غیروں کی محفل میں ناچ کر آرہی ہے تاکہ وہ تمہیں آسکر ایوارڈ سے تو نوازے ہی خود اپنے سر پر بھی دس جوتے مارے جو وہ تمہیں خوشی خوشی اس محفل میں چھوڑ کر گیا تھا”
مغیث ڈرائیونگ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے سجے سنورے روپ کو دیکھتا ہوا بولا جامنی اور فروزی کانٹراس میں وہ کافی زیادہ دلکش اور حسین لگ رہی تھی یہی وجہ تھی کہ وہ کھل کر اس پر غصہ بھی نہیں کر پارہا تھا
“آپ چاہے مجھے کتنا ہی شرمندہ کرلیں مغیث عالم لیکن میں تب بھی یہی بولوں گی کہ مجھے اپنے ڈانس پرفارمنس مکمل نہ کرنے پر افسوس ہے سنا آپ نے”
صوفیہ نے بولنے کے ساتھ ہی مغیث کے بازو پر ہلکا سا مکا بھی جڑ دیا جو اس کے غصے کا اظہار تھا اور دونوں ہاتھ باندھ کر سیٹ پر سیدھی ہوکر بیٹھ گئی
“بہت شوق چڑھا ہے تمہیں اچھل کود کرنے کا کرواؤ ابھی تم سے یہی پر ڈانس”
مغیث صوفیہ کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا تو صوفیہ بالکل جذباتی انداز میں بولی
“آپ کے لیے تو میں خوشی خوشی آئیٹم سونگ پر پرفارم کرنے کے لئے تیار ہوں۔۔۔۔ یہ میرا دل یار کا دیوانہ۔۔۔ دیوانہ دیوانہ
صوفیہ گنگنانے کے ساتھ ہی اپنا کندھا ڈرائیونگ کرتے ہوئے مغیث کے کندھے سے ٹکراتی ہوئی مغیب کو قریب سے دیکھ کر آنکھ دباتی ہوئی اسمائل دینے لگی جس پر مغیث سنسان سڑک پر گاڑی روک چکا تھا
“اف مغیث لگتا ہے آپ کا دل بھی چاہ رہا ہے اس سونگ پر میرا ڈانس دیکھنے کا مگر یہاں گاڑی کیوں روک لی گھر جاکر مکمل سونگ پر ڈانس دکھاؤ گی ناں”
صوفیہ کی چلتی ہوئی زبان تب رکی جب مغیث نے گاڑی سے اس کو اتارنے کے بعد گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کردی
“یہ کیا کر رہے ہیں مغیث گاڑی کا دروازہ کھولیں”
صوفیہ ساری شوخی بھول کر پریشانی سے مغیث کی طرف کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی جوکہ لاک تھا
“تم اس سنسان سڑک پر اکیلی بندروں کی طرح اچھل کود کر کے اپنا ڈانس خود انجوائے کرو۔۔۔۔ جب بور ہوجاؤ تو گھر چلی آنا”
مغیث ہلکا سا شیشہ نیچے کرکے صوفیہ سے بولا اور گاڑی اسٹارٹ کرتا ہوا آگے نکل گیا صوفیہ ہکا بکا سی مغیث کو گاڑی آگے لے جاتا ہوا دیکھ کر گاڑی کے پیچھے بھاگنے لگی
“جوکر”
مغیث بیک ویو مرر سے صوفیہ کو گاڑی کے پیچھے بھاگتا ہوا دیکھ کر بڑبڑایا۔۔۔۔ 15 منٹ تک صوفیہ گاڑی کے پیچھے بھاگتی اسے مرر سے دکھائی دی لیکن چند سیکنڈ بعد جب مغیث کو صوفیہ نظر نہیں آئی تب اس نے گاڑی روک دی۔۔۔۔ وہ گاڑی سے اتر کر تیزی سے پیچھے کی طرف پیدل چلنے لگا
“صوفی”
مغیث صوفیہ کو آواز دیتا ہوا تیز تیز قدموں سے سڑک پر چلتا ہوا چاروں طرف نظریں دوڑانے لگا
“صوفیہ کہاں ہو تم”
مغیث تیز آواز میں چیختا ہوا بولا مگر وہاں صوفیہ کو نہ پاکر مغیث کا دل اندر سے ڈرنے لگا پریشانی اس کے چہرے سے واضح ہونے لگی۔۔۔ چند قدم کا فاصلہ طے کرنے کے بعد اسے دائیں طرف درخت کی آڑ میں جامنی رنگ کے آنچل کا سرا نظر آیا تو وہ غصے میں لب بھینچ کر تیزی سے درخت کی طرف بڑھا اور صوفیہ کو بازو سے کھینچ کر بیچ سڑک پر لایا
“دل چاہ رہا ہے تمہاری اس حرکت پر تمہارے گال پر دو ٹکاؤ اس طرح کا مزاق کوئی کرتا ہے بھلا”
صوفیہ کے چہرے پر شرارتی سی مسکراہٹ دیکھ کر مغیث اس پر غصہ کرتا ہوا بولا
“اچھا جو آپ میرے ساتھ کررہے تھے وہ ٹھیک کہ اگر سچ میں میرے ساتھ ایسا کچھ ہو جاتا جس سے میں ہمیشہ کے لیے آپ سے دور چلی جاتی تو”
صوفیہ کی بات مکمل ہونے پر مغیث نے ایک پل کے لیے خاموش نظروں سے صوفیہ کو دیکھا مگر اگلے ہی پل نہ جانے کیسا خوف مغیث کی آنکھوں میں سمٹ آیا بناء سوچے سمجھے مغیث نے آگے بڑھ کر صوفیہ کو اپنے بازوؤں میں چھپالیا،، صوفیہ خود بھی ایک لمحے کے لیے مغیث کی حرکت پر بری طرح بوکھلا گئی اس نے مغیث سے دور ہونے کی کوشش کی تو مغیث نے اسے اپنے سے جدا نہیں ہونے دیا۔۔۔ وہ حیران پریشان سی رات کے وقت مغیث کے بازؤوں میں چھپی ہوئی بیچ سڑک پر کھڑی تھی جب دو گاڑیاں بیک وقت تیزی سے ان دونوں کے دائیں اور بائیں جانب سے گزریں۔۔۔ جن میں موجود افراد ان دونوں کو دیکھ کر سیٹیاں مارتے، ہوٹنگ کرتے ہوئے آگے نکل گئے
“مغیث عالم یہ اچانک کیا ہوگیا ہے آپ کو”
وہ صوفیہ کو اپنے آپ سے جدا کرنے کے لئے تیار نہیں تھا تبھی صوفیہ مغیث کے حصار میں اس سے پوچھنے لگی
“محبت”
وہ اپنے مکمل حواس تو میں نہیں تھا جبھی ہلکی سی سرگوشی کے انداز میں بولا جس پر صوفیہ کا دل بری طرح دھڑک اٹھا کیوکہ آج مغیث نے اس کے سامنے اپنی محبت کا اعتراف کیا تھا۔۔۔ چند لمحے یونہی گزرنے کے بعد مغیث نے آہستہ سے اسے اپنے بازؤوں کے حلقے سے آزاد کیا تو صوفیہ پیچھے ہٹنے لگی مگر مغیث نے صوفیہ کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما وہ بھی بے خودی کے عالم میں صوفیہ کا چہرہ دیکھ رہا تھا تو صوفیہ کا اس کی طرف دیکھنا مشکل ہوگیا
“اب بہت مشکل لگ رہا ہے پیچھے ہٹنا مگر ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا صوفی یہ بالکل ٹھیک نہیں ہے تمہارے لئے،، تمہیں چاہنے کے باوجود دل میں بسانے کے باوجود وہ سب ممکن نہیں جو تم چاہتی ہو جو اب میں چاہتا ہوں ایسا نہیں ہوسکتا میں ایسا نہیں کرسکتا”
مغیث کے انداز میں بےبسی واضح تھی جو صوفیہ کو سمجھ میں نہیں آئی اس سے پہلے صوفیہ مغیث کی بات کا مطلب اس سے پوچھتی ایک ٹرک ہارن دیتا ہوا ان دونوں کے قریب سے گزرنے لگا۔۔۔ مغیث تیزی سے صوفیہ کو لےکر سائیڈ میں ہوا
“اوۓ ہیرو عاشقی کا زیادہ شوق چڑھا ہے تو کہیں سائیڈ پر جاکر اپنا شوق پورا کر”
ٹرک والا بولتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔۔ تبھی مغیث کے چہرے کے تاثرات ایک دم سنجیدہ ہوگئے وہ صوفیہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے گاڑی کی طرف لے جانے لگا
“مغیث عالم ابھی جو کچھ آپ نے بولا تھا ان باتوں کا کیا مطلب تھا مجھے وضاحت چائیے”
صوفیہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر بیچ سڑک پر رکتی ہوئی مغیث سے پوچھنے لگی
“خاموشی سے گھر چلو”
مغیث کے چہرے کے تاثرات سنجیدہ تھے وہ دوبارہ صوفیہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے گاڑی کی طرف لے جانے لگا
