354K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Deewani (Episode 6)

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

“اچھا بتاؤ ناں گڑیا پزا باہر جاکر کھانا ہے یا پھر گھر پر آرڈر کردو”

محب صوفیہ کے کمرے میں موجود اس کو بہلاتا ہوا پوچھنے لگا تو اسی وقت کمرے میں مغیث داخل ہوا دونوں کی نظریں مغیث پر گئی

“تم سے نہیں مانے گی یہ جس سے تھپڑ کھایا ہے اب پزا بھی اسی کو کھلانا پڑے گا” مغیث صوفیہ کی طرف بڑھتا ہوا محب سے بولا محب صوفیہ کے برابر میں بیٹھا ہوا تھا مغیث کی بات پر جہاں صوفیہ منہ بناکر غصے میں مغیث کو دیکھنے لگے وہی محب بھی اٹھ کر مغیث کے پاس آیا

“جابی آگئے ہیں وہ تمہیں بلا رہے ہیں بات سن ان کی جاکر”

محب کے کچھ بولنے سے پہلے مغیث اس سے بولا تو محب صوفیہ کو دیکھتا ہوا اس کے کمرے سے چلا گیا وہ جانتا تھا مغیث صوفیہ کو منانے کے لئے آیا تھا اور وہ صوفیہ کو منا بھی لے گا

“ہہمم تو ناراض ہو تم مجھ سے،، یقینا اس وقت تمھیں مجھ پر غصہ بھی بہت آرہا ہوگا”

مغیث صوفیہ کے برابر میں صوفے پر بیٹھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

“کوئی آپ کے گال پر ایک زور کا تھپڑ مارے تو کیا آپ کو پیار آئے گا اس پر”

صوفیہ غصہ کرتی ہوئی مغیث کو گھور کر پوچھنے لگی جس پر مغیث اپنے ہونٹوں پر آئی مسکراہٹ چھپاکر ایک دم بولا

“بالکل بھی پیار نہیں آئے گا اس وقت تو دل کرے گا تپھڑ لگانے والے کا سر ہی توڑ ڈالو”

مغیث صوفیہ کو دیکھتا ہوا اس سے بولا

“تو پھر اس وقت میرا بھی یہی دل چاہ رہا ہے مغیث عالم کہ میں آپ کا سر توڑ ڈالوں”

صوفیہ غراتی ہوئی بولی اور صوفے سے اٹھنے لگی تو مغیث نے صوفیہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے دوبارہ اپنے برابر میں بٹھا لیا

“میرے سر پر بال مار کر اور کیا کیا تھا تم نے میرا سر ہی تو توڑ ڈالا تھا، معلوم ہے کتنی زور سے آکر لگی تھی بال میرے سر پر”

مغیث صوفیہ کا ہاتھ تھام کر صوفیہ کو اس کی غلطی یاد دلانے لگا

“ہاں ہاں یاداشت کھو گئی تھی جیسے آپ کی بال لگنے سے،، اتنے ہی تو نازک ہیں ناں آپ۔۔۔۔ جابی نے آج تک میری کسی بھی غلطی پر مجھے کبھی بھی روکا یا ٹوکا نہیں،، محب بھائی کو دیکھ لیں اتنے غصے والے ہیں لیکن اس کے باوجود میرے شرارت کرنے پر مجھے گڑیا کہتے ان کی زبان نہیں تھکتی اور وہ بچارہ سا موحد اس کو تو اس کی صحت ہی اجازت نہیں دیتی کہ وہ ناحق مجھ سے ٹکرائے صرف ایک ہی آپ پورے اس پورے گھر میں مغیث عالم جو میری جان ہلکان کیے رکھتے ہیں جسے مجھ پر ذرا بھی ترس نہیں آتا”

صوفیہ مغیث کو دیکھ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتی ہوئے بولی اس کا ہاتھ ابھی بھی مغیث کے ہاتھ میں موجود تھا جسے دیکھتا ہوا مغیث ایک دم بول اٹھا

“اس لحاظ سے تو تمہیں مجھ سے چڑ ہوجانی چاہیے بلکہ نفرت کرنا چاہیے مجھ سے”

مغیث بولنے کے بعد اس کے سفید ہاتھوں سے اپنی نظر ہٹاتا ہوا صوفیہ کا چہرہ خاموشی سے دیکھنے لگا

“آپ سے نفرت کرنے کا میں تصور بھی نہیں کرسکتی مغیث عالم ایسا ممکن ہی نہیں ہے میرے لیے”

صوفیہ مغیث کی آنکھوں میں دیکھ کر جتاتی ہوئی اسے جواب دینے لکھی

“کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا دنیا میں میری جان، ابھی تم نے محبت کو اور مغیث عالم کو جانا ہی کتنا ہے”

مغیث نے بولتے ہوئے صوفیہ کے گلے میں موجود پینڈینٹ اتارنا چاہا ویسے ہی صوفیہ نے مغیث کا ہاتھ پکڑلیا اور نفی میں مغیث کو دیکھ کر اپنا سر ہلانے لگی

“یہ تمہارا نہیں ہے صوفی میں تمہیں اس سے زیادہ خوبصورت اور قیمتی پینڈیٹ گفٹ کروں گا”

مغیث نہیں چاہتا کہ صوفیہ کسی سے چھینا ہوا یا پھر کسی کا برتا ہوا پینڈنٹ استعمال کرے وہ صوفیہ کو پیار سے بہلاتا ہوا بولا

“میرا نہیں ہے تو اس پر ایس کیوں لکھا ہوا ہے کیا سکھی کو دینے کے لیے لےکر آئے ہیں آپ یہ پنڈینٹ”

بولنے کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی جسے دیکھکر مغیث نے اپنے ہاتھ پیچھے کرلیے وہ ایک معمولی سے پینڈینٹ کی وجہ سے صوفیہ کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا

“اچھا رو تو مت، تم رو گی تو مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا”

مغیث صوفیہ کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے بولا

“میں روتی ہوئی اچھی نہیں لگتی، شرارت کرتی ہوئی اچھی نہیں لگتی، آپ کو تنگ کرتی ہوئی اچھی نہیں لگتی۔۔۔تو مجھے بتائیں مغیث عالم آخر میں آپ کو اچھی کب لگتی ہوں”

مغیث کے یوں پینڈینٹ اتارنے پر وہ حساس ہوگئی تھی۔۔۔ وہ اپنی آنکھوں سے آنسو پہنچتی ہوئی مغیث سے پوچھنے لگی۔۔۔

صوفیہ کی بات پر مغیث کی نظریں اس کے چہرے پر جم سی گئی ایک پل کے لیے مغیث کا دل چاہا کے وہ اسے اپنی باہوں میں لے کر سچ سچ بتادے کہ اب وہ اسے کتنی اچھی لگنے لگی ہے۔۔۔ اس کی نظروں کا زاویہ اور دیکھنے کا انداز اب کیسے بدلتا جارہا ھا،، کس طرح سے اس کا دل آہستہ آہستہ اسے دغا دے رہا ہے۔۔۔ کبھی کبھار کیسے اس کا دل بری طرح مچل اٹھتا تھا وہ اپنے اندر یہ تبدیلی محسوس کرکے کبھی کبھی خود بھی بے چین ہو جاتا ہے۔۔۔ مغیث کا دل چاہا وہ اپنے دل کے سارے راز و نیاز اس پر ظاہر کردے

“کہاں کھو گئے”

صوفیہ اس کے چہرے کے آگے چٹکی بجاتی ہوئی بولی

“چلو باہر چلتے ہیں موحد کو بھی بول دو میں تم دونوں کا کار میں ویٹ کررہا ہوں”

مغیث اس کی بات کو نظرانداز کرتا ہوا خود ہی پروگرام بناتا ہوا بولا مگر اسی پل مغیث کا موبائل بجنے لگا

“ہاں نادر بولو۔۔۔ کیا شارف بھی وہاں پر پہنچ چکا ہے۔۔۔ میرا تھوڑا مشکل لگ رہا ہے یار آج کا پروگرام، او یہ تو یہ سچویشن ہے چلو پھر میں آتا ہوں”

مغیث اپنے موبائل پر نادر کی بات سن کر اس کی طرف متوجہ ہوچکا تھا وہ صوفیہ کو نظر انداز کرتا ہوا صوفے سے اٹھنے لگا تبھی صوفیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا

“نادر ایسا ہے یہ پروگرام کل پر رکھ لیتے ہیں یار، آج میں واقعی مصروف ہوں”

صوفیہ نے مغیث کا ہاتھ پکڑ کر اسے بولا تو کچھ بھی نہیں تھا مگر وہ جن شکوہ بھری نظروں سے مغیث کو دیکھ رہی تھی مغیث کو اسے نظرانداز کرکے جانے سے اچھا نادر کو منع کرنا لگا جس پر صوفیہ کے چہرے کو مسکراہٹ نے گھیرے میں لیا۔۔۔ مغیث اسے باہر آنے کا اشارہ کرکے خود اس کے کمرے سے نکل گیا

*****

“تم دونوں کا واپس گھر جانے کا ارادہ ہے یا میں خود اکیلا گھر چلا جاؤ”

وہ کافی دیر سے صوفیہ اور موحد کے ساتھ شاپنگ پلازہ میں موجود تھا وہ دونوں ہی مغیث کی جیب کافی حد تک شاپنگ کرکے ہلکی کرچکے تھے اور اب دونوں فوڈ کوٹ میں موجود تھے۔۔۔۔ مغیث گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہوا ان دونوں سے پوچھنے لگا

“بھائی ابھی تو طرف گیارہ بجے ہیں اصل انجواۓ مینٹ تو ابھی باقی ہے جو ہم سنی پلکس میں مووی دیکھ کر کریں گے”

موحد ایکسائیٹڈ ہوکر مغیث سے بولا موحد کا پروگرام سن کر مغیث اسے گھورنے لگا

“تمہاری کمزور صحت تمہیں اتنی ہی انجواۓ کرنے کی اجازت دیتی ہے جتنا تم کرچکے ہو، شرافت سے دونوں اٹھ جاؤ”

مغیث خود بھی کافی کا کپ پیچھے کرکے کرسی سے اٹھا اور ان دونوں کو آنکھیں دکھا کر روعب دار لہجے میں کہا تو صوفیہ اور موحد کو واقعی شرافت سے اٹھنا پڑا

“مجھے تو تمہارے مستقبل کی ابھی سے فکر ہورہی ہے لڑکی کچھ ہوش کے ناخن لو۔۔۔ کیسے یہ اینگری مین ہم دونوں معصوموں کو اپنی آنکھوں سے ڈراتا ہے،، مجھے نہیں لگتا ان میں پیار ویار کرنے کے جراثیم موجود ہوگے سوچ لو بعد میں یہ تمہارا غصے میں کیا حال کرے گیں”

مغیث ان دونوں سے آگے چل رہا تھا تب موحد صوفیہ کے ساتھ چلتا ہوا آئستہ آواز میں سرگوشی کرنے لگا

“ایک بار اس اینگری مین کو مکمل طور پر میرا ہونے دو پیار کرنا بھی آجاۓ گا موصوف کو اور تمہیں بھی معلوم ہوجاۓ گا کون کس کو بعد میں اپنی آنکھوں سے ڈراۓ گا”

صوفیہ موحد سے بھی زیادہ ہلکی آواز میں اس کو بولی تاکہ مغیث تک اس کی آواز نہ جاۓ۔۔۔ مغیث ان دونوں کی باتوں سے انجان اگے چل رہا تھا تب اس کہ نظر دور سے اپنی طرف آتے نادر اور شارف پر پڑی جس کی وجہ سے مغیث کو رکنا پڑا مغیث کو رکتا دیکھ کر موحد اور صوفیہ بھی وہی رک گئے

“او تو یہ مصروفیت ہے تمہاری، ویسے کافی دلچسپ مصروفیت ہے”

نادر مغیث کے قریب آتا ہوا صوفیہ کو دیکھ کر بولا نادر کی بات سن کر مغیث کے چہرے کے تاثرات ایک دم پتھریلے ہوگئے

“جاؤ تم دونوں جاکر گاڑی میں بیٹھو”

مغیث موحد کو گاڑی کی چابی پکڑاتا ہوا بولا

“دوستی میں بےتکلفی میں ایک حد تک برداشت کرتا ہوں،، یہ بات تم دونوں اپنے ذہن میں محفوظ کرلو کیوکہ یہ بات میں دربارہ نہیں بتاؤ گا”

موحد اور صوفیہ کے وہاں سے جانے کے بعد مغیث نادر اور شارف کو دیکھ کر خاصے جتانے والے انداز میں بولا

“کول ہوجا یار اس نے کون سا تیری سسٹر کو کچھ بول دیا ہے”

شارف مغیث کے ماتھے کی تیوری دیکھ کر بولا وہ دونوں ہی جانتے تھے کہ مغیث کے صرف دو بھائی ہیں اور اس کی کوئی بہن نہیں ہے

“یہ لڑکی کوئی غیر نہیں ہے میری فیملی کا حصہ ہے۔۔۔ اور میں اپنی فیملی کے ایک ایک فرد کے لئے بےحد حساس ہوں، تم دونوں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا”

مغیث ان دونوں کو دیکھ کر بولتا ہوا وہاں سے چلا گیا

“ویسے آیٹم برا نہیں ہے حساس ہونا تو بنتا ہے باس”

نادر آنکھ مارتا ہوا شارف سے بولا تو وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر کمینگی سے ہنسنے لگے

*****

سکھی نئی ملازمہ تھی جو چمبیلی کے بعد عالم ہاؤس میں کل سے کام کے لیے رکھ لی گئی تھی اس کے ہاتھ کی بدمزہ چائے پی کر مجب کا صبح ہی موڈ خراب ہوچکا تھا۔۔۔ آج آفس کے لیے اس کا دیر سے نکلنا ہوا، سگنل کے آتے ہی گاڑی روکنے پر اس کی نظر اپنے برابر رکی گاڑی پر گئی جو اسی کے آفس ورکر کی تھی مگر جو بات محب کو ناگوار گزری وہ اس گاڑی میں بیٹھی ہوئی لڑکی تھی محب اس لڑکی کو اچھی طرح پہچان چکا تھا وہ علوی کی بیوی تھی۔۔۔ محب نے اس کو دو سے تین مرتبہ علوی کے ساتھ اپنی کالونی کے گھر میں آتے جاتے دیکھا تھا، لیکن اس وقت وہ علوی کی بجائے شہاب کی گاڑی میں موجود تھی بےتکلف انداز میں شہاب کے کندھے پر سر رکھے وہ مسکرا کر شہاب سے باتیں کررہی تھی ان دونوں کو ایک دوسرے میں مگن دیکھ کر محب کی سوچ کا رخ کہیں بہت سال پیچھے چلاگیا

“بکواس بند کرو اپنی ذلیل عورت کیا میں تمہیں جانتا نہیں ہوں اپنی ماں اور فراز کی بیٹی کا بہانہ بناکر تم فراز کے ساتھ گلچھڑے اڑا رہی ہوتی ہو۔۔۔۔ تمہیں اس بات سے غرض نہیں ہے کہ کل رات سے محب کو بخار ہے یا مغیث کہ اسکول سے کمپلین کی کالز آئی ہیں جس پر تم نے اپنے کان بھی نہیں دھرے کہ وہ اسکول میں جاکر پڑھتا ہے یا پھر دوسرے بچوں سے لڑتا ہے تمہیں تو رنگ ریلیاں منانے سے فرصت نہیں ہے” پرانی یادوں کی جنگ ایک دم دماغ میں چھڑ چکی تھی جس سے اس کا موڈ مزید خراب ہوچکا تھا وہ تلخ یادوں اور علوی کی بیوی پر لعنت بھیجتا ہوا آفس پہنچا جہاں اسے آفس میں موجود علوی دکھا

علوی کو دیکھ کر محب کو اس سے ہمدردی محسوس ہونے لگی۔۔۔ اپنی بیوی اور چار سالہ بیٹی کے ساتھ جب وہ اسے دیکھتا تو بظاہر ایک خوشحال فیملی کا گمان ہوتا مگر وہ بیچارہ لاعلم تھا اس کے پیچھے اس کی بیوی اسی کے آفس کلویک کے ساتھ۔۔۔۔ محب سر جھٹکتا ہوا اپنے کمرے میں جانے لگا سیٹ پر بیٹھے رضوان صاحب کو دیکھ کر محب نے اشارے سے روم میں آنے کا بولا، رضوان صاحب محب کے ساتھ ہی اس کے کمرے میں چل دیے

*****

“ہینڈ فری کانوں میں لگائے، دونوں پیروں کو جوتوں سے آزاد کر کے ٹیبل پر رکھے ہوۓ وہ ببل چباتی ہوئی کرسی پر ٹیک لگائے سکون سے آنکھیں بند کئے بیٹھی تھی، آدھے سے زیادہ تو دوپٹہ اس کا فرش پر جھول رہا تھا جس کی مہرماہ کو پرواہ بھی نہیں تھی خوشی اس کو صرف اس بات کی تھی کہ آج کا باس آفس نہیں آیا تھا اسی خوشی میں تھوڑی دیر پہلے ہی اس نے پیون سے اپنے لئے سموسے بھی منگوائے تھے مگر صرف چٹنی کے ساتھ کیچپ کے استعمال سے وہ اچھی خاصی ڈر چکی تھی

دروازہ کھولنے پر محب جیسے ہی آفس کے کمرے میں داخل ہوا مہرماہ کو دیکھ کر اس کا پہلے سے خراب موڈ مزید خراب ہوا، مہرماہ کو خبر بھی نہیں تھی کہ دروازے پر کھڑا محب اس کو ناپسندیدہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ مجب نے اپنے ساتھ کھڑے رضوان صاحب پر نظر ڈالی جو مہرماہ کو ببل کا غبارہ پھلاتے ہوۓ اپنی ہنسی کو روکنے کے بعد محب کو دیکھ رہے تھے

محب نے انہیں واپس جانے کا اشارہ کیا اور چلتا ہوا اپنی کرسی پر آکر بیٹھا مگر آنکھیں بند ہونے کی وجہ سے اور کانوں میں ہینڈ فری لگے ہونے کی وجہ سے مہرماہ کو خبر بھی نہیں ہوسکی کہ محب کرسی سے ٹیک لگائے بیٹھا مہرماہ کو ہی دیکھ رہا تھا

اس کا دل چاہا وہ مہرماہ کی اسی انداز میں ویڈیو بناکر جبران کے نمبر پر بھیج دے لیکن کسی لڑکی کی یوں چوری چھپے ویڈیو بنانا اس کی تربیت کو زیب نہیں دیتا تھا

محب غور سے مہرماہ کا چہرہ دیکھنے لگا اچھی خاصی پرکشش لڑکی ہونے کے باوجود وہ اپنی فضول حرکتوں کی وجہ سے اس کو اریٹیٹ کیا کرتی تھی جس کسی سے بھی اس لڑکی کی شادی ہوتی یقینا وہ شخص قابل رحم ہوتا محب مہرماہ کو دیکھ کر سوچ ہی رہا تھا تب مہرماہ نے اپنے اوپر کسی کی مسلسل نظروں کو محسوس کر کے آنکھیں کھولیں اور سامنے کرسی کرسی پر محب کو دیکھ کر وہ بری طرح شرمندہ ہوئی تھی

غبارہ پھلاتی ہوئی ببل کو اس نے جلدی سے واپس اپنے منہ میں ڈالا اور کانوں سے ہینڈ فری کھینچ کر ٹیبل سے اپنے دونوں پاؤں ہٹاکر نیچے رکھے ساتھ ہی اپنا فرش پر جھولتا ہوا دوپٹہ کندھے پر ڈالا

“سوری سر وہ تھوڑا ریلکس محسوس کرنے کے چکر میں۔۔۔ مہرماہ ببل چبانا بند کرتی ہوئی شرمندہ ہوکر محب کو وضاحت دینے لگی

“بیڈروم اور آفس میں اچھا خاصا فرق ہوتا ہے مس مہرماہ یہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے”

محب مہرماہ کو شرمندہ دیکھ کر طنزیہ انداز میں بولا

“جی سر آئندہ خیال رکھوں گی”

مہرماہ واقعی شرمندہ تھی اس لیے سر جھکاتی ہوئی بولی اب وہ تیز نہیں زمیں میں اپنی نظریں گاڑھی ہوئی آہستہ آہستہ ببل چبارہی تھی

“اپنے شوز پہن لیجئے مس مہرماہ”

محب اس کو بناء شوز کے کرسی پر بیٹھا دیکھ کر بولا تو مہرماہ نے کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی ایک شو میں اپنا پاؤں ڈالا جو قریب تھا جبکہ دوسرا شو اس کی پہنچ سے کافی دور تھا کرسی پر بیٹھے بیٹھے دونوں ہاتھوں سے کرسی کے ہینڈل کو پکڑے ذرا سا آگے کھسک کر وہ دوسرا جوتا پہننے کے لئے اپنی ٹانگ آگے بڑھانے لگی جس کے نتیجے میں وہ بری طرح فرش پر نیچے گر پڑی

محب بناء کوئی ری ایکٹ کیے خاموشی سے اس کو زمین بوس ہوۓ دیکھ رہا وہ اندازہ کرسکتا تھا مہرماہ کو کافی زور سے لگی ہوگی لیکن جس طرح وہ جوتا پہننے کی کوشش کررہی تھی محب کو پہلے سے ہی اندازہ تھا انجام یہی ہونا ہے

“بغیر دیر لگائے ایک سیکنڈ کے اندر کھڑی ہوجائیے مس مہرماہ او فوار شوز پاؤں میں ڈالیں”

محب اس پر ترس کھائے بنا سختی سے بولا تو مہرماہ کراہتی ہوئی فرش سے اٹھی وہ محب کو غصے میں دیکھ کر بنا کچھ بولے جلدی سے اپنا جوتا پہن کر سیٹ پر بیٹھنے لگی

“کیا میں نے آپ کو بیٹھنے کی پرمیشن دی ہے مس مہرماہ وہاں کونے میں جاکر کھڑی ہو جائیے”

وہ پہلے سے بھی زیادہ غصے میں مہرماہ کو ڈانٹتا ہوا بولا تو مہرماہ مرے مرے سست قدم اٹھاتی ہوئی اس کونے میں کھڑی ہوگئی جہاں محب نے اسے کھڑے ہونے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔ محب کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اس لڑکی کو سخت سست سنائے مگر اس سے پہلے ڈور ناک ہونے پر اس نے اندر آنے کی پرمیشن دی

“لے جاؤ یہ سموسے واپس”

محب غصے میں پیون کو بولتا ہوا غضب ناک تیورں سے مہرماہ کو دیکھنے لگا تو مہرماہ شرمندہ ہوگئی۔۔ محب سر جھٹک کر اپنا غصہ کم کرتا ہوا لیپ ٹاپ آن کرنے لگا، غیرارادی نظر اس کی مہرماہ پر پڑی جو اس کے کہنے پر کونے میں کھڑی منہ میں موجود ببل چبائی جارہی تھی

“کیا ہیں آپ مس مہرماہ، لڑکی یا کوئی گائے یا بھینس۔۔۔ بند کریں یہ جگالی کرنا اور فورا تھوکیں اپنے منہ سے اس ببل کو”

محب نے ایک بار پھر مہرماہ کو بری طرح جھڑکا۔۔۔ مگر محب کا پارہ مذید ہائی اس وقت ہوا جب مہرماہ نے وہی کھڑے رہ کر ڈسٹبن کی طرف رخ کئے منہ سے ببل تھوکنا چاہیے جو ہوا میں اڑ کر ڈسٹبن کی بجائے اس کے ساتھ پردے پر چپک گئی

“واٹ ربش”

محب زور سے ٹیبل پر ہاتھ مار کر غصے میں کرسی سے اٹھا اور قدم بڑھاتا ہوا مہرماہ تک پہنچا

“تمیز، لحاظ، شرم، عقل۔۔۔۔ ایک لڑکی ہونے کے باوجود یہ تمام چیزیں آپ کے اندر بالکل ناپید ہے مس مہرماہ۔۔۔ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ آپ کو ذرا بھی احساس نہیں کہ آپ ایک لڑکی ہیں اور لڑکی کو کیسا ہونا چاہیے۔۔۔ اگر آپ چاہتی ہیں کہ میں آپ کے انسلٹ نہ کرو تو فوراً کمرے سے چلی جائیے”

غصہ جب محب کی برداشت سے باہر ہوا تو اس نے مہرماہ کو کمرے سے باہر جانے کا بول دیا اور یہ اچھا ہوا کہ مہرماہ کمرے سے باہر چلی گئی

****

“تو کیا جبران انکل نے موبائل پر بات کرتے ہوئے آپ کی آواز نہیں پہچانی”

مہرماہ حیرت سے ستارہ کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی جس پر ستارہ ہلکا سا مسکرائی

“میں کیا بےقوف ہوں جو جبران سے اپنی اصل آواز میں بات کرو گی” ستارہ مہرماہ کی حیرت زدہ شکل دیکھ کر اسے بولی

“مگر مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آرہا آنٹی کہ وہ آپ سے بات کیوں کرنا چاہ رہے تھے” مہرماہ ابھی بھی کنفیوز تھی کہ آج جبران نے اسپیشلی اس سے اس کے کسی بڑے کا نمبر کیوں مانگا تھا کوئی ضروری بات کرنے کے لیے، جبکہ ان کے بڑے صاحبزادے نے تو اسے آج اپنے آفس کے کمرے سے باہر نکال دیا تھا

“جبران نے تمہیں محب کے لئے پسند کیا ہے وہ چاہتا ہے تمہاری اور محب کی شادی ہوجائے اس نے مجھ سے تمہارا رشتہ مانگا ہے محب کے لیے”

ستارہ بالکل نارمل انداز میں مہرماہ کو بتاتی ہوئی اس کو بری طرح حیران کرچکی تھی

“آپ یہ بات مجھے اتنے آرام سے بتارہی ہیں آپ کو جبران انکل کی بات پر ذرا بھی حیرت نہیں ہو رہی” مہرماہ ستارہ کا اتنا نارمل ری ایکشن دیکھ کر حیرت زدہ سی اس سے سوال کرنے لگی

“ہوئی تھی جب اس نے مجھ سے تمہارا رشتہ محب کے لیے مانگا تھا مگر پھر میں نے سوچا اس میں کوئی ایسی انہونی بات بھی نہیں ہے۔۔۔ تم میرے بیٹے کی شریک حیات بنوں گی تو اس سے بڑھ کر میرے لئے خوشی کی اور کیا بات ہو سکتی ہے اس لیے میں نے محب سے تمہارے رشتے کی حامی بھر لی اور جبران کو پوزیٹو رپلائی کیا”

ستارہ نے ابھی بھی عام سے انداز میں بات کرکے ایک بار پھر مہرماہ کو حیران اور ساتھ میں تھوڑا پریشان بھی کردیا تھا وہ ایک کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی

“انٹی آپ ایسے کیسے محب سر سے میرا رشتہ طے کرسکتی ہیں”

مہرماہ سچ میں پریشان ہوتی ہوئی ستارہ سے پوچھنے لگی تو ستارہ بھی کرسی سے اٹھ کر مہرماہ کے پاس آئی

“اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق تم نے مجھے خود دیا تھا تو پھر اب کیا اعتراض ہے تمہیں”

ستارہ مہرماہ سے شکوہ کرتی ہوئی بولی

“آپ میرے لیے کوئی بھی فیصلہ کرنے کا حق رکھتی ہیں مگر محب سر۔۔۔ آپ سمجھ کیوں نہیں رہی ہیں وہ مجھے بالکل بھی پسند نہیں کرتے میں نے بتایا تو تھا آپ کو، کتنا غصہ کرتے ہیں وہ مجھ پر”

سائٹ پر ہوا واقعہ وہ ستارہ کو بتاچکی تھی مہرماہ ستارہ کو یاد دلاتی ہوئی بولی مگر آج والا اپنا کارنامہ وہ ستارہ کو نہیں بتا سکی

“غصہ اسے تم پر نہیں بلکہ اپنی کم عقل سیکرٹری پر آتا ہے،، لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ اپنی سیکرٹری کو پسند کرنے لگا ہے اور اس نے ہی جبران سے اپنی پسند کا اظہار کیا ہوگا ورنہ جبران ایسے کیسے مجھ سے تمہارے رشتے کی بات کرتے۔۔۔ مہرو میں محب کی عادت اچھی طرح جانتی ہو وہ بچپن میں کپڑے تک اپنی مرضی کے مطابق پہنتا تھا میں یا جبران اس پر اپنی مرضی نہیں تھوپ سکتے تھے، دیکھو مہرہ میں خود بھی اب یہی چاہتی ہوں کہ محب سے تمہاری شادی ہوجائے، بس تم اسے میری خواہش سمجھ لو”

ستارہ مہرماہ کو سمجھاتی ہوئی آخر میں اپنی خواہش کا اظہار کرنے لگی تو مہرماہ خاموش ہوگئی اس کے دماغ میں کئی سوالات اٹھنے لگے

“کیا سوچ رہی ہو تم اگر تمہیں محب پسند نہیں ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے میں رات میں جبران کو فون کر کے منع کردیتی ہوں”

ستارہ مہرماہ کو پریشان دیکھ کر بولی محب اور مہرماہ کے رشتے کا سوچ کر وہ خوش ہوگئی تھی مگر وہ مہرماہ کی بھی خوشی چاہتی تھی

“میں وہ بات نہیں سوچ رہی ہوں اگر آپ خوش ہیں تو پھر مجھے اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن ان سب معاملات کو طے کرنے کے لیے آپ کو جبران انکل اور اپنی پوری فیملی کا سامنا کرنا پڑے گا صرف اس رشتے کی وجہ سے”

مہرماہ ستارہ کو دیکھتی ہوئی بولی جس پر ستارہ ہلکا سا مسکرائی

“میں نے باتوں ہی باتوں میں جبران کو اپنے پردہ کرنے کا بتا دیا ہے اس لیے جو بھی معاملات ہوگے وہ فون پر طے ہوجاۓ گیں اگر کچھ معالات کے لیے انہیں یہاں آنا پڑا تو تم اس کی فکر نہ کرو میں مینج کرلوں گی”

ستارہ مہرماہ کو دیکھ کر تسلی دیتی ہوئی بولی چند ماہ پہلے عمرہ کی سعادت کے بعد سے اس نے باقاعدگی سے نقاب کرنا شروع کردیا تھا

“اور اگر بعد میں کبھی یہ بات کھلی تو۔۔۔ یہ سب کچھ آخر کب تک چھپا رہ سکتا ہے”

مہرماہ فکرمند لہجے میں ایک اور جواز پیش کرتی ہوئی بولی

“بعد کی بعد میں دیکھی جاۓ گی۔۔۔ جتنا تم سوچ رہی ہو اتنا بڑا کوئی مسئلہ نہیں ہے، میں تم پر کبھی کوئی پریشانی نہیں آنے دوگی”

ستارہ مہرماہ کی فکر دور کرتی ہوئی بولی

“پر آنٹی آپ کو رومی کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے تھا۔۔۔ ناجانے وہ کیسا ری ایکٹ کرے۔۔۔ مجھ سے تو وہ بہت خفا ہوگا اور آپ کو میری بھی اس کے ساتھ اٹیچمنٹ کا اندازہ ہے میں اسے بالکل بھی اپنے آپ سے خفا نہیں دیکھ سکتی”

مہرماہ ستارہ کو دیکھتی ہوئی بولی ستارہ خود بھی جانتی تھی کہ مہرماہ کے علاوہ خود اس کا سب سے چھوٹا بیٹا بھی مہرماہ سے کتنا اٹیچ ہے

“رومان کو سمجھانا میرا کام ہے۔۔۔ تم ہر طرح کی فکر اور پریشانی سے بالکل آزاد ہوجاؤ اور اپنے کمرے میں جاکر آرام کرو”

ستارہ مہرماہ کو بولتی ہوئی خود بھی اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ مہرماہ نے محب کو تصور میں لاتے ہی دوبارہ پریشان ہونا شروع کردیا

*****

“کبھی کبھی گھر والوں کے پاس بیٹھ کر بھی وقت گزرا لیا کرو اچھا لگتا ہے جب تمام گھر کے افراد ایک ساتھ اکھٹے بیٹھے ہوتے ہیں”

مغیث گھر میں داخل ہوا تو سیدھا اپنے کمرے میں جانے لگا تبھی سیٹنگ ایریا میں صوفے پر بیٹھا ہوا جبران مغیث سے بولا۔۔۔۔ مغیث بنا کوئی جواب دیئے جبران کی بات مانتا ہوا خاموشی سے صوفے پر آکر بیٹھ گیا۔۔۔ اس وقت روم میں جبران کے علاوہ محب، صوفیہ اور موحد سب ہی موجود تھے

“ہاں تو صوفیہ بیٹا کیا کہہ رہی تھی تم”

جبران نے باتوں کا آغاز وہی سے کیا جہاں مغیث کے آنے سے پہلے باتوں کا سلسلہ رکا تھا

“دیکھیں ناں جابی یہ موحد کتنا بدتمیز ہے کل کے فنکشن میں میرے ساتھ چلنے کے لیے مان ہی نہیں رہا جبکہ سمارا مجھ سے زیادہ اس کی اچھی دوست ہے۔۔۔ یہ پھر بھی اس کی انگیجمینٹ پارٹی میں میرے ساتھ جانے کے لیے تیار نہیں ہے”

صوفیہ اپنی پریشانی بیان کرتی ہوئی اور موحد کی شکایت لگاتی ہوئی جبران سے بولی

“ایکسکیوز می سمارا میری کوئی اچھی دوست نہیں ہے وہ ایک بےوفا لڑکی ہے اس نے میرے ساتھ جینے مرنے کی قسم کھائی اور اب باہر ملک سے آنے والے اپنے باڈی بلڈر کزن کے ساتھ منگنی کررہی ہے میں بالکل بھی اس بےوفا لڑکی کی منگنی میں نہیں جاؤں گا۔۔۔ تم کیا چاہتی ہو سمارا کا منگیتر مجھے اپنی باڈی دکھا کر تپاتا رہے”

موحد کی بات سن کر صوفیہ ہنسنے لگی وہی محب اور جبران بھی مسکرانے لگے جبکہ مغیث سر جھٹک کر موحد کے ڈرامے بازی کو اگنور کرکے ریموٹ کنٹرول سے ایل ای ڈی آن کرچکا تھا

“آپ مسکرا رہے ہیں جابی،، آپ کا سب سے چھوٹا ہونہار بیٹا جو بیوفائی کی چوٹ کھانے کے باوجود اب بھی دل و جان سے شادی کرنے کے لیے راضی ہے اور آپ کو اس کی کوئی فکر ہی نہیں ہے”

موحد صدمہ لیتا ہوا جبران کو دیکھ کر بولا محب اور صوفیہ بدستور موحد کی باتوں اور اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر مسکرا رہے تھے

“تم سے پہلے جو یہ دو بڑے بیٹھے ہوئے ہیں پہلے ان کا نمبر آئے گا اس کے بعد تمہاری شادی کی باری ہے”

جبران موحد کو دیکھ کر یاد دلاتا ہوا بولا جبران کی بات پر بےاختیار مغیث اور صوفیہ کی نظر میں بیک وقت ایک دوسرے سے ٹکرائی مغیث نے فورا اپنی نظروں کا زاویہ اسکرین کی طرف کرلیا جبکہ صوفیہ بھی دوبارہ موحد کی طرف متوجہ ہوئی

“یہ دونوں موصوف تو کسی کام کے ہی نہیں ہیں جابی۔۔۔ میرا مطلب ہے آپ بھی ان دونوں کی شادیوں کی بات کررہے ہیں جنہیں شادی کے نام سے ہی کوئی دلچسپی نہیں ہے اور جو شادی کرنا چاہ رہا ہے اس بیچارے کی تو کوئی سنتا ہی نہیں”

موحد کے بولنے پر محب اسے مصنوعی انداز میں ڈانٹتا ہوا بولا

“تمہاری صحت تمہیں شادی جیسی بھاری ذمہ داری اٹھانے کی اجازت نہیں دیتی ہے جو تم بےشرموں کی طرح اپنی شادی کے لیے روئے جارہے ہو،، شرافت سے پہلے اپنی پڑھائی پر دھیان دو اور گڑیا میں کل تمہیں تمہاری فرینڈ کی انگیجمنٹ پارٹی میں چھوڑ آؤ گا تم اس کو بےوفائی کا غم منانے دو”

محب نے موحد کو ڈانٹنے کے ساتھ صوفیہ کا بھی مسئلہ حل کیا جس سے وہ کھل اٹھی مگر مغیث کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر صوفیہ کی مسکراہٹ تھم گئی یقینا اسے صوفیہ کا سمارا کی انگیجمنٹ میں جانا اچھا نہیں لگا تھا

“اب جبکہ شادی کا موضوع چل نکلا ہے تو کیوں نہ آج پھر سب سے پہلے بڑے سے شروعات کرلی جائے تو پھر کیا سوچا ہے تم نے اپنی شادی کے متعلق”

جبران محب کو دیکھتا ہوا بولا تو سب محب کی جانب دیکھنے لگے جبکہ محب وہی پرانے انداز میں مسکراتا ہوا بولنے لگا

“اس وقت یہ کون سا ٹاپک لے کر بیٹھ گئے ہیں آپ جابی”

سب ہی محب سے اسی پرانے جواب کی توقع کررہے تھے اس لیے سبھی مسکرانے لگے

“ٹاپک واپک کی بات کو چھوڑو اگلے دس سال کے بعد بھی مجھے تم سے اسی جواب کی توقع ہے۔۔۔۔ تم طرف یہ بتاؤ کیا تمہیں کوئی لڑکی پسند ہے اگر پسند ہے تو پھر مجھے اس کا نام بتاؤ ورنہ پھر اس کے لیے حامی بھرو جو میں نے تمہارے لیے پسند کی ہے”

جبران محب کے جواب کو اگنور کرکے محب سے اس کی پسند کے بارے میں پوچھنے لگا اور اپنا ارادہ بھی اس پر ظاہر کرنے لگا۔۔۔ مغیث ٹیوی کا والیوم ہلکا کر کے ان کی طرف متوجہ ہوا کیونکہ جبران کے انداز سے لگ رہا تھا آج وہ کچھ نہ کچھ کرنے کی ٹھان بیٹھا تھا

“جابی آپ جانتے تو ہیں میری عادت کو،، مغیث کی طرح میں بھی لڑکیوں سے ذرا فاصلے پر رہتا ہوں اس لیے جو بھی آپ کی پسند ہوگی وہ مجھے دل سے قبول ہوگی”

آج اسے فرار ہونے کی کوئی راہ نہیں دکھی تھی تو وہ سعادت مندی سے جبران کو بولا مگر یہ سچ بھی تھا کوئی خاص لڑکی اس کے ذہن پر نقش نہیں تھی جس کا وہ جبران کے سامنے نام لیتا اور یوں بھی بچپن والی اپنی مرضی کرنے کی عادت اس کی بچپن گزرنے سے ساتھ ختم ہوچکی تھی

“ٹھیک ہے تو مہرماہ ہے میری پسند۔۔۔ وہ بچی مجھے پہلے دن سے تمہارے لیے پسند آگئی تھی تبھی میں نے سوچ لیا تھا کہ اسے تمہاری دلہن بناکر عالم ہاؤس میں لےکر آؤں گا۔۔۔ نہایت سیدھی اور شریف بچی ہے اس کی عادت اور نیچر تو تم دیکھ ہی چکے ہوگے اور میں اس کی آنٹی سے بھی رشتے کی بات طے کرچکا ہوں امید ہے تمہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا”

جبران نے خالی محب کے اوپر ہی نہیں بلکے کمرے میں موجود تمام افراد کے سر پر بم پھوڑا تھا سب کو حیرت اس بات پر ہوئی کہ جبران محب کا رشتہ طے بھی کرچکا تھا جبکہ مہرماہ کا نام سن کر محب کو اپنے آس پاس دھماکوں کی آوازیں آنے لگی

“مس مہرماہ وہی ناں جسے آپ نے چند دنوں پہلے پرسنل سیکرٹری رکھا تھا ہماری کمپنی میں۔۔۔ ویری نائس جابی مان گئے آپ کی چوائس کو وہ لڑکی کافی سوٹ کرے گی محب کو”

سب سے پہلے مغیث نے باتوں میں حصہ لیا مہنے بھر پہلے جب اتفاق سے اس کا آفس جانا ہوا تھا تب اس نے مہرماہ کو دیکھا تھا۔۔۔ دکھنے میں تو وہ اچھی خاصی لڑکی تھی لیکن محب اس سے کافی خائف نظر آرہا تھا اور سر کھپانے والے انداز میں گفتگو کررہا تھا کیونکہ مہرماہ اپنی کم عقلی کی وجہ سے محب کے لیپ ٹاپ کا سارا سسٹم ہینگ کرچکی تھی۔۔۔ مغیث کی بات پر محب مغیث کو دیکھنے لگا اسے سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ جبران کی چوائس کی تعریف کررہا ہے یا پھر اس پر طنز کیوکہ وہ اپنے بات کہہ کر مسکراتا ہوا دوبارہ ایل ای ڈی کی اسکرین کی طرف متوجہ ہوچکا تھا

“او مس مہرماہ آفس والی وہ تو کافی کیوٹ سی ہیں واقعی جابی آپ کی چوائس پرفیکٹ ہے”

موحد جبران کو دیکھ کر خوشدلی سے بولا اس کے چہرے کے تاثرات بتارہے تھے وہ جبران کی چوائس پر خوش تھا

“یعنی پورے گھر نے مہرماہ بھابھی کو دیکھا ہوا ہے اور نہیں دیکھا تو صرف میں نے، میں کچھ نہیں جانتی مجھے ابھی کے ابھی محب بھائی کی دلہن کو دیکھنا ہے اور بس دیکھنا ہے میں نے بول دیا”

صوفیہ برا مناتی ہوئی بولی اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ مہرماہ کو دل سے محب کی بیوی ایکسپٹ کرچکی ہے

“جلد چلیں گے ان لوگوں کی طرف پھر تم اپنی ہونے والی بھابھی کو دیکھ لینا”

جبران مسکراتا ہوا صوفیہ سے بولا پھر خاموش بیٹھے محب کو دیکھنے لگا

“تم کیوں خاموش ہوگئے ہو کچھ بولو گے نہیں”

جبران اب کی بار محب کو دیکھتا ہوا خود سے محب سے پوچھنے لگا جس پر محب سب کو دیکھنے کے بعد جبران کو دیکھ کر اس سے بولا

“آپ کو لگتا ہے مس مہرماہ،،، یعنی مہرماہ صحیح چوائس رہے گی میرے لیے”

محب الجھتا ہوا الٹا جبران سے سوال پوچھنے لگا

“بالکل صحیح چوائس رہے گی اسی لئے تو میں نے اس تمہارے لیے پسند کیا ہے میرا انتخاب اگر تمہیں پسند نہیں یا تمہیں کوئی اعتراض ہے تو تم مجھ سے بول سکتے ہو”

جبران محب کو کنفیوز دیکھ کر بولا تو سب کی نظریں دوبارہ محب پر ٹک گئی۔۔۔۔ محب بھی سب کو دیکھتا ہوا جبران سے بولا

“آپ نے میرے لئے پسند کیا ہے تو کچھ سوچ کر ہی کیا ہوگا سب ہی خوش ہیں تو پھر مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے”

محب بولنے کے ساتھ ہی صوفے سے اٹھا اور اپنے کمرے میں چلا گیا

“بیچارہ مشرقی بچہ شرما گیا اپنے رشتے کی بات پر”

مغیث سنجیدگی سے آہستہ آواز میں بولا اس کی بات پر موحد اور صوفیہ کے دانت نکلنے لگے جبکہ جبران مسکراتا ہوا اپنے موبائل کی کال رسیو کرتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا

“یوں محب بھائی کی حالت پر مزے لینے کی ضرورت نہیں ہے اگلا نمبر آپ کا ہی ہے”

موحد مغیث کو دیکھتا ہوا بولا جس پر مغیث گھور کر موحد کو دیکھنے لگا جبکہ صوفیہ کی بانچھیں مزید کھل گئی

“تمہاری زبان آج کچھ زیادہ ہی نہیں چل رہی ہے، اپنی اسٹڈیز پر دھیان دو۔۔۔ اور تمہیں بھی دانت نکالنے کی ضرورت نہیں ہے کسی دوست کی انگیجمنٹ پارٹی میں نہیں جارہی ہوں تم، سنا تم نے”

مغیث موحد کو ڈانٹنے کے ساتھ صوفیہ کو بھی ڈانٹتا ہوا بولا

“اے مسٹر ایٹیٹیوڈ یہ اپنا حکم مجھ پر شادی کے بعد چلائیے گا فی الحال تو میں اس سے پہلے آپ کے روعب میں آنے والی بالکل بھی نہیں”

صوفیہ موحد کے پاس سے اٹھ کر مغیث کے برابر میں صوفے پر بیٹھتی ہوئی بولی

“تم سے شادی کرے گا کون”

مغیب صوفیہ کا چہرہ غور سے دیکھتا ہوا سنجیدگی سے اس سے سوال کرنے لگا جبکہ موحد ان دونوں کو شروع ہوتا ہوا دیکھ کر ریموٹ اٹھاتا ہوا چیئنل چینج کرنے لگا

“مجھ سے شادی وہی کرے گا جس کا چہرہ آپ اس وقت میری آنکھوں میں دیکھ رہے ہیں”

صوفیہ مغیث کو دیکھتی ہوئی کونفیڈنس سے بولی مغیث صوفیہ کی آنکھوں میں اپنا عکس غور سے دیکھنے لگا

“یہ دیکھو کچھ لوگوں نے گروپ کی صورت میں بینک روبری کی ہے”

موحد کے بات پر مغیث کے ساتھ ہی صوفیہ کو بھی اسکرین کی طرف متوجہ ہوئی جہاں نیوز چائنل پر ایک بینک کے اندر چوری کا منظر صاف دکھایا جارہا تھا کیسے وہ لوگ ہاتھ میں ہتھیار لیے اپنا چہرہ چھپائے بناء خوف بینک کو لوٹ رہے تھے۔۔۔۔ مغیث بالکل سیدھا ہوکر صوفے پر بیٹھ گیا اور بھرپور توجہ کے ساتھ اسکرین کو غور سے دیکھنے لگا

“پولیس کہاں جاکر سوئی ہوتی ہے،، کسی گھر میں چوری کرنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن اتنے بڑے بینک میں اتنی سکیورٹی کے باوجود، کیسے یہ لوگ سب کے سامنے پورے بینک کو کھلے عام لوٹ سکتے ہیں۔۔۔ پولیس کیا جھک مار رہی ہوتی ہے آخر پکڑتے کیوں نہیں ہیں یہ ایسے بےضمیر لوگوں کو”

موحد ویڈیو میں کیشیئر کو دیکھتا ہوا بولا جیسے ان ڈکیت میں سے ایک آدمی بری طرح مار رہا تھا تاکہ دوسرے لوگوں میں بھی خوف پیدا کیا جاسکے مغیث موحد کی بات سن کر چونکا

“پولیس کو معلوم ہوتا ہے ان کو ان کا حصہ آرام سے گھر پہنچا دیا جاۓ گا اس لیے وہ لوگ دکھاوے کے لیے اوپری کاروائی کرکے کیس کلوز کردیتے ہیں۔۔۔ بینک روبری جہاں پر اتنے سارے لوگ موجود ہوں مکمل پلاننگ کے ساتھ ہی کی جاتی ہے پولیس کے ساتھ ساتھ بینک کے دوسرے افراد بھی ان لوگوں کے ساتھ ملوث ہوتے ہیں”

مغیث صوفے سے ٹیک لگائے آرام سے بیٹھا ہوا اسکرین پر نظریں جمائے موحد کی بات کا جواب دینے لگا

“یعنی کوئی بھی اپنے پیشے سے ایماندار نہیں ہوتا اس طرح بےایمانی کرکے کمایا ہوا پیسہ یہ لوگ کتنے دنوں تک چلا سکتے ہیں۔۔۔ ایسے لوگوں کو حرام کا پیسہ کبھی بھی راس نہیں آتا نہ ہی یہ پیسہ ان تمام لوگوں کو سکھ دے سکتا ہے”

صوفیہ بھی باتوں میں حصہ لیتی ہوئی بولی جس پر مغیث عجیب سے انداز میں مسکرایا

“کہنے کی باتیں ہیں یہ سب، سب کو سب کچھ ہی راس آجاتا ہے”

مغیث صوفیہ کی بات کو اہمیت نہ دیتا ہوا بولا تو صوفیہ اپنا رخ مغیث کی طرف کرتی ہوئی بولی

“آپ کو جابی کے وہ دوست یاد نہیں انصر انکل جو کسٹم میں ہوتے تھے۔۔۔ کتنا بڑا غبن کیا تھا انہوں نے جس کی وجہ سے ان کو جیل بھی ہوئی ان کا ایک بیٹا ایکسیڈنٹ میں مارا گیا اور دوسرا بیٹا ہسپتال میں کسی بیماری کی نظر ہوگیا۔۔۔ فراڈ سے کمایا ہوا پیسہ بچا پایا ان کو یا پھر ان کے دونوں بچوں کو۔۔۔ مفت کی بدنامی الگ پائی،، ایسے کمایا ہوا پیسہ پھر ایسے ہی نکلتا ہے”

صوفیہ کی بات ختم ہوئی تو مغیث کے ماتھے پر شکن ابھری پھر موحد بول اٹھا

“بالکل صحیح کہہ رہی ہو تم صوفی اور یہ لوگ جو کھلے عام ہتھیار کے زور پر کمزور لوگوں سے ان کا پیسہ چھینتے ہیں،، لاوارثوں کی طرح ان کی لاشیں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر میں پڑی ملتی ہیں ان لوگوں کی فیملی بدنامی کے ڈر سے ان لوگوں کو پہچاننے سے بھی انکار کردیتی ہے۔۔۔۔ اور پولیس والے بھی کسی دوسرے کا الزام ایسے لوگوں کے سر تھوپ کر ان لوگوں کا انکاؤنٹر کردیتے ہیں یہی ایسے لوگوں کا انجام ہوتا ہے حرام موت مرنا”

موحد خود بھی جذباتی ہوکر بولا تو وہ مغیث خاموشی سے موحد کو دیکھ کر صوفے سے اٹھا اور کمرے سے باہر چلا گیا

“بھائی کو کیا ہو گیا اچانک”

موحد مغیث کو روم میں جاتا ہوا دیکھ کر حیرت سے صوفیہ سے پوچھنے لگا

“معلوم نہیں ہے تمہیں مغیث عالم کی طبیعت کا کب انہیں کون سی بات بری لگ جاتی ہے یہی تو پتہ نہیں چلتا”

صوفیہ بولتی ہوئی خود بھی سونے کے لیے اپنے کمرے میں جانے کے لیے اٹھ گئی