354K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Deewani (Episode 1)

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

صبح کے وقت عالم ہاؤس میں عجیب افراتفری کا سماں تھا صوفیہ کو آج خود بھی یونیورسٹی جلدی پہنچنا تھا مگر وہ اس وقت کچن میں عبدل کے ساتھ ہاتھ بٹاتی ہوئی ناشتہ بنانے کے ساتھ مسلسل بڑبڑاۓ جارہی تھی

“یعنی حد ہوتی ہے آخر میں خود کیا ہوں۔۔۔۔ ایک ننھی سی جان اور اچانک ہی کام والی کے بھاگنے سے پورے گھر کی ذمہ داری میرے ناتواں کندھے پر آجاتی ہے۔۔۔۔ جابی کو صبح ناشتے کے ساتھ اخبار نہ ملے تو سمجھو صبح ہی صبح گھر میں طوفان کی آمد کے امکانات۔۔۔ محب عالم کو وقت پر کپڑے پریس، چمکتے ہوۓ جوتے اور ساتھ ہی پرفیکٹ ناشتہ نہ ملے تو سمجھوں گھر میں قہر نازل ہونے کا خدشہ اور وہ دنیا کا سب سے نرالا اور واہیات انسان،، موحد عالم۔۔۔۔ اس کے لیے ہر دوسرے دن یہ شاہی ناشتہ تیار کرو ورنہ گھر میں چیخ و پکار کا سلسلہ شروع مجھے تو کبھی کبھی یہ گھر نہیں بلکہ ان آدمیوں کی وجہ سے چڑیا گھر لگتا ہے یااللہ میری یہ ننھی سی جان کیسے لوگوں میں پھنس چکی ہے”

موحد کے لیے لسی سے بھرا ہوا جگ تیار کرتی ہوئی صوفیہ پریشان سی بولی جبکہ اس کی مسلسل چلتی ہوئی زبان پر بریک لگنے کے بعد عبدل فوراً بول اٹھا

“صوفی بی بی آپ شاید عالم ہاؤس کی سب سے اعلٰی ہستی کا نام لینا بھول گئی ہیں اپنے مغیث عالم جن کی وجہ سے آپ کو آج صبح صبح کچن کا منہ دیکھنا پڑا رہا ہے نہ ہی وہ چمبیلی پر ناحق غصہ کرتے نہ ہی بچاری چمبیلی ناراض ہوکر اپنی نوکری چھوڑ کر جاتی نہ ہی یوں صبح سویرے آپ کو کچن میں کھڑے ہوئے ناشتہ بنانا پڑتا مجھے تو مغیث بھائی کا مزاج ہی سمجھ نہیں آتا،، یہ پانچویں ملازمہ تھی جو مغیث بھائی کی بداخلاقی کو برداشت نہیں کرپائی اور نوکری چھوڑ کر بھاگ گئی”

عبدل ٹھنڈی آہ بھرتا ہوا صوفیہ سے بولا

“مغیث عالم کے تو کیا ہی کہنے، انہیں تو عورت کا وجود اس گھر میں برداشت ہی نہیں ہوتا، یہ تو میں ہی ڈھیٹ ہوں جو جابی کی وجہ سے میں اب تک اس گھر میں زندہ چلتی پھرتی ہوئی نظر آرہی ہو ورنہ تو انہوں نے مجھ معصوم کی قبر بھی عالم ہاؤس کے پچھلے حصے پر بنادی ہوتی۔۔۔ اور یہ تم ٹھنڈی آہیں بھر کر اس چکنی چمبیلی کو یاد کرنا چھوڑو۔۔۔ کل کی طرح آج بھی مغیث عالم کے سامنے پیاز والا آملیٹ نہ رکھ دینا ورنہ تمہاری قبر ضرور اس عالم ہاؤس کے پچھلے حصے میں تیار ہوجائے گی”

صوفیہ آملیٹ کی کٹی ہوئی پیاز دیکھ کر عبدل کو یاد دلانے لگی تبھی چیختی چنگھاڑتی ہوئی مختلف صدائیں ان دونوں کو کچن تک سنائی دی

“آج اخبار والا آیا ہے کہ نہیں اور یہ ناشتہ تیار کیو نہیں ہوا ابھی تک”

“بلو رنگ کی فائل کہاں غائب ہوگئی ٹیبل سے، چمبیلی دو منٹ میں فارغ ہوکر فائل ڈھونڈو،، عبدل میرے جوتے پالش کیوں نہیں ہوئے ہیں ابھی تک”

“یار عبدل ناشتہ جلدی لےکر آؤ میں یونیورسٹی کے لیے لیٹ ہورہا ہوں”

سب لوگوں کی آوازیں سن کر عبدل جلدی جلدی ٹرالی میں ناشتہ سیٹ کرنے لگا جبکہ صوفیہ کورنر سے اخبار اٹھاتی ہوئی کچن سے باہر نکلی مگر کوریڈور میں ہی اسے جبران اپنی طرف آتا ہوا دکھائی دیا جس کے ہاتھ میں بلو رنگ کی فائل موجود تھی

“کیا جابی آپ بھی ابھی تک اخبار میں خبریں پڑھتے ہیں آج کل موبائل اور انٹرنیٹ کا دور ہے اور آپ نے اس دور میں ابھی تک وہی پرانا والا گھسا پٹا اسٹائل اپنایا ہوا ہے”

صوفیہ جبران عالم کو ہاتھ میں اخبار پکڑاتی ہوئی بولی جو روز گھر کے لان میں ناشتہ کرنے کے ساتھ اخبار پڑھنے کا عادی تھا

“مجھ بوڑھے پر اب یہی اسٹائل سوٹ کرتا ہے ویسے بھی چالیس سال سے عادت ہے مجھے اخبار پڑھنے کی، جاؤ یہ فائل جاکر مجب کو دے آؤ ورنہ اگر اسے غصہ آگیا تو سب پر ہی بری طرح برس پڑے گا”

جبران صوفیہ کو فائل پکڑاتا ہوا بولا جبکہ وہ خود اخبار لےکر لان میں چلا گیا

“میں پوچھتا ہوں آخر یہ فائل ڈھونڈنے میں اتنی دیر کیوں لگائی تم نے”

کمرے میں داخل ہوتے ہی محب عالم کی گرجدار آواز صوفیہ کے کانوں میں پڑی

“کیا ہے ناں محب بھائی اس فائل بچاری کے پاس اپنے پاؤں موجود نہیں ہیں ورنہ یہ ناچیز آپ کا حکم جاری ہوتے ہی خود آپ کے کمرے میں دوڑی چلی آتی اور اپنے آپ کو آپ کے سامنے پیش کردیتی”

صوفیہ مسکرا کر محب کو مخاطب کرتی ہوئی اس کی فائل ٹیبل پر رکھتی ہوئی بولی۔۔۔ محب کے ماتھے کے بل چمبیلی کی بجائے صوفیہ کو دیکھ کر غائب ہوگئے، وہ صوفیہ کی فضول گوئی کو خاطر میں لائے بغیر بولا

“تمہیں کیا ضرورت تھی فائل لانے کی،، یونیورسٹی نہیں جانا تمہیں اور یہ چمبیلی کہاں غائب ہوگئی آج”

صوفیہ پر محب بچپن سے کم ہی غصہ کرتا تھا مگر چمبیلی کا نام لیتے ہوئے ایک بار پھر اس کے ماتھے پر بل واضح ہوئے

“غائب نہیں ہوئی بھاگ گئی کام چھوڑ کر آپ کے جوشیلے بھائی کے جوش اور غصے کی بدولت”

صوفیہ وارڈروب کا پٹ کھول کر اس میں سے دو پریس شدہ شرٹس نکال کر محب کے سامنے رکھتی ہوئی نرم لہجے میں اسے بتانے لگی

“کسی صحیح بات پر ہی مغیث نے جھاڑا ہوگا اسے، ہر وقت کام کرنے کی بجاۓ دانت نکلے رہتے تھے اس کے، جیسے اس گھر میں انسان نہیں بلکہ چلتی پھرتی کامیڈی فلمیں موجود ہو”

محب اپنے لئے ایک شرٹ سلکیٹ کرتا ہوا بولا تو محب کی بات سن کر صوفیہ کے بھی اپنے دانت اسی طرح نکل پڑے جو محب کو ناگوار گزرے

“گڑیا کتنی بار سمجھایا ہے تمہیں کہ اپنے مزاج میں سنجیدگی لاؤ اب بیس سال کی ہوچکی ہو، اچھی لڑکیوں ہر وقت دانت نکلتے ہوئے ذرا اچھی نہیں لگتی”

محب صوفیہ کو دیکھ کر نرمی سے ٹوکتا ہوا بولا تو صوفیہ کی کِھلی ہوئی بانچیں خود ہی سکھڑ گئی۔۔۔ مجب کی اس قدر سنجیدہ طبیعت دیکھ کر صوفیہ کی اس لڑکی پر ترس آنے لگا جو مستقبل میں محب عالم کی بیوی بننے والی تھی

“میرے دانتوں میں کیڑے تھوڑی لگے ہوئے ہیں جو آپ کو میرے دانت برے لگ رہے تھے،، حد ہوتی ہے محب بھائی اس گھر میں تو بندے کا خوش رہنا بھی مشکل ہے”

صوفیہ شکوہ کرتی ہوئی بولی تو محب افسوس سے نفی میں سر ہلانے لگا وہ بھلا اسے خوش ہونے سے کب روک رہا تھا وہ تو بس اتنا سمجھا رہا تھا بلاوجہ ہر وقت ہنسنا کوئی اچھی بات نہیں

“اچھا شوز رہنے دو باقی کام میں خود ہی دیکھ لیتا ہوں تم ناشتہ ریڈی کرو اور خود بھی یونیورسٹی جانے کے لئے تیار ہوجاؤ”

مجب صوفیہ کو ڈریسنگ روم میں جاتا ہوا دیکھ کر بولا خود آفس کے لیے اپنے کپڑے تبدیل کرنے چلا گیا

****

“یا میرے مالک”

محب کے کمرے سے باہر نکلتی ہوئی وہ ہال میں آئی تو ڈائننگ ٹیبل پر موجود منظر دیکھ کر صوفیہ اپنے دل پر ہاتھ رکھتی ہوئی بےساختہ بولی کیوکہ سامنے ٹیبل پر ہوا میں اڑتی ہوئی پلیٹ اس سے پہلے موحد کے سر سے ٹکراتی، موحد بروقت اپنا سر نیچے کرچکا تھا جبکہ کچن سے باہر نکلتا ہوا عبدل بھی اپنی سمت آتی ہوئی پلیٹ کو دیکھ کر چوکنا ہوا اور فوری طور پر اپنے بچاؤ کے لیے ایک سائیڈ پر ہوکر دیوار سے چپک گیا۔۔۔ پلیٹ اُس سے تھوڑی دور فاصلے پر دیوار سے لگنے پر چھناکے سے ٹوٹ گئی اور اس پلیٹ میں موجود آملیٹ دیوار پر چپک کر نیچے گرگیا

“پیاز کیوں ڈالی میرے آملیٹ میں، میں نے کل بھی بکواس کی تھی کہ پیاز والے آملیٹ سے مجھے شدید چڑ ہے، کس کو مرنے کا دل چاہ رہا ہے صبح صبح میرے ہاتھوں سے”

مغیث عالم کی گرجدار آواز پورے ہال میں گونجی تو عبدل کی جان پر بن آئی کیونکہ آج بھی غلطی سے صوفیہ کا پیاز والا آملیٹ مغیث کے آملیٹ کی جگہ پر رکھ چکا تھا

“تم نے آج بھی اس چکنی چمبیلی کے غم میں میرا پیاز والا آملیٹ ایک سڑیل انسان کے آگے رکھ دیا تمہیں معلوم نہیں ہے مغیث عالم کو پیاز اور پیار دونوں سے کتنی بڑی چڑ ہے”

صوفیہ ہال میں آتی ہوئی اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر عبدل پر برس پڑی۔۔۔۔ جس پر مغیث غصے میں سرخ آنکھوں سے صوفیہ کو گھورنے لگا جبکہ لسی پیتے ہوۓ موحد نے کوشش کی تھی کہ کُلّی کی صورت لسی اُس کے منہ سے باہر نہ نکل پڑے

“بکواس بند کرو اپنی، یہ سڑیل کسے کہہ رہی ہو تم۔۔۔ صبح صبح اگر تم میرے منہ لگی تو میں تمہارا دماغ اچھی طرح درست کردو گا”

صوفیہ بغیر پیاز کا آملیٹ مغیث کے سامنے رکھنے لگی تو وہ صوفیہ کو دیکھ کر غصے میں بولا مغیث کا پارہ ہائی دیکھ کر موحد شرافت سے لسی پینے میں مصروف ہوگیا

“بس آپ کے اسی مزاج کو دیکھ کر تو یہ دیوانی اپنا دل ہار بیٹھی ہے۔۔۔ آپ مجھے منہ لگانے کا ٹائم بتادیں میں اپنا دماغ درست کرکے خود اُس ٹائم پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاؤں گی”

صوفیہ کی بات پر مغیث کو آگ لگ گئی جبکہ موحد صوفیہ کی بےباکی اور دلیری پر بری طرح ہنستا ہوا مگر مغیث کے آنکھیں دکھانے پر ہنسی کنٹرول کرکے کھانسنے لگا

“اپنی حد میں رہو بےشرم لڑکی میں تمہارا اِس گھر میں صرف اور صرف جابی کی وجہ سے لحاظ کرتا ہوں ورنہ کب کا تمہیں اپنے اِن ہاتھوں سے جان سے مار ڈالتا”

صوفیہ اکثر اُس سے بےباکی سے مخاطب ہوتی مغیث کو صوفیہ کے یہ بےباک انداز ذرا پسند نہیں آتا وہ شعلہ باز نظروں سے صوفیہ کو دیکھ کر دھمکی دیتا ہوا بولا

“کیو کرو شرم اگر شرماتی رہی تو کنواری نہیں رہ جاؤ گی آپ سے کوئی امید بھی نہیں ہے کہ بھولے سے جھوٹے منہ پیار بھرے دو بول ہی بول دیں۔۔۔ مغیث عالم یہ صرف آپ کی سُست طبیعت کا نتیجہ ہے جو میں اتنی ڈھیٹ اور بےشرم ہوچکی ہو”

صوفیہ کے مزید بولنے کی دیر تھی مغیث نے کرسی سے اٹھ کر اچانک صوفیہ کا منہ زور سے دبوچا جو پاؤٹ کی شکل اختیار کرگیا۔۔۔۔ مگر مغیث کی توجہ اپنے چھوٹے بھائی کے قہقہے کی طرف تھی

“اگر اب تمہارے دانت نکلے یا تمہارے چہرے پر ہنسی آئی تو میں تمہارے سارے دانت توڑ کر تمہاری ہنسی کو اتنا بھیانک بنادو گا کہ تم خواب میں بھی ہنسنے سے ڈرو گے”

مغیث نے موحد کو دیکھ کر دھمکی دی تو وہ شرافت کا لبادہ اوڑھ کر اپنا ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگیا مغیث نے اپنی نظروں کا زاویہ دوبارہ صوفیہ کی طرف کیا جو اُس کا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹانے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی جبکہ عبدل ایسی صورتحال کو دیکھ کر اپنی جان بچاتا ہوا دوبارہ کچن میں چلاگیا

“کچھ حیا ہے تمہارے اندر یا عقل نام کی کوئی چیز ہے تم میں۔۔۔۔ جو منہ میں آتا ہے جس کے سامنے چاہے بول دیتی ہو۔۔۔ مطلب جانتی ہو اپنی باتوں کا،، آئندہ اگر میں نے تمہارے منہ سے کوئی الٹی سیدھی بات سنی تو پھر اپنا انجام دیکھنا کیا کرتا ہوں میں تمھارے ساتھ”

مغیث نے صوفیہ کو شرم دلاتے ہوئے زور سے اُس کا منہ جھٹکا مگر شور شرابے کی آواز سن کر اندر آتا ہوا جبران یہ منظر دیکھ چکا تھا

“یہ کیا ہنگامہ مچایا ہوا ہے تم نے صبح ہوتے ہی اور اسطرح رویہ اپنانا جاتا ہے گھر کے دوسرے فرد سے”

جبران مغیث کے پاس آکر اس کو ٹوکتا ہوا بولا

“آپ خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں مجھے غصہ دلانے کے پیچھے صرف اور صرف اِس کا ہاتھ ہوتا ہے،، معلوم ہے آپ کو یونیورسٹی میں پہنچ کر اب یہ کس قسم کی فضول باتیں کرنے لگی ہے میرے سامنے۔۔ صرف آپ کے اور محب کے بلاوجہ سر چڑھانے پر یہ ہر وقت گھر میں بچی بنی رہتی ہے، عقل نام کی کوئی چیز نہیں ہے اِس میں بس فضول میں کچھ بھی بلوالو اس سے”

مغیث جبران کو دیکھتا ہوا بولا تو صوفیہ فوراً جبران کے پاس آئی

“ارے ارے ایسا کیا فضول بول دیا میں نے جو شکایتیں لگارہے ہیں آپ میری، جابی ایک تو اِن کی ڈانٹ پھٹکار کی وجہ سے چمبیلی کام چھوڑ کر چلی گئی کتنی محنت سے عبدل کے ساتھ مل کر میں نے سب کے لئے ناشتہ بنایا ایک ذرا سی غلطی سے پیاز والے آملیٹ کی پلیٹ اِن کے سامنے کیا رکھ دی عبدل نے، انہوں نے غصے میں ہوا میں پلیٹ ہی اڑانا شروع کردی یہ موحد آپ کے سامنے بیٹھا ہے پوچھیں اس سے ایسا کیا کہہ دیا مجھ معصوم نے انہیں”

صوفیہ برا مناتی ہوئی جبران سے بولی وہ اپنی مکمل باتیں چھپا گئی تھی موحد صوفیہ کی چالاکی پر پوری آنکھیں کھولے اُسے دیکھنے لگا

“پر نکل آئے ہیں اِس کے بہت زیادہ،، پہلی فرصت میں کوئی اچھا سا رشتہ دیکھ کر چلتا کریں اِس عجوبے کو اس گھر سے”

مغیث صوفیہ کو گھورتا ہوا جبران سے بولا وہ بچپن میں پہلے چھوٹی چھوٹی شرارتیں کرکے اُسے تنگ کیا کرتی تھی لیکن چھ ماہ پہلے یونیورسٹی میں ایڈمیشن ہونے کے بعد اُس کے انداز اور تیور بالکل بدل چکے تھے۔۔۔ پورے چھ سال چھوٹی ہونے کے باوجود وہ سب کے سامنے اُس کا پورا نام لےکر اُسے مخاطب کرتی تھی

“مجھے تمہارے مشورے کی ضرورت نہیں ہے کہ مجھے کیا کرنا ہے،، یہ عالم ہاؤس کی رونق ہے اِس کے چہچہانے سے اور بولنے سے ہی اِس گھر میں زندگی کا احساس ہوتا ہے اسے تو میں ہمیشہ اسی گھر میں اپنے پاس رکھوں گا”

جبران صوفیہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر مغیث سے بولا تو صوفیہ خوش ہوگئی۔۔۔ جبران کو صوفیہ اپنی بھانجی میں ہمیشہ اپنی مرحوم بہن کی جھلک نظر آتی تھی اس نے اپنی بہن کی اکلوتی نشانی کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنے کا سوچ رکھا تھا۔۔۔ جبران کی بات سن کر مغیث ناشتے کے بغیر گھر سے نکلنے لگا صوفیہ نے باہر جاتے ہوۓ مغیث کی ایک دم کلائی پکڑی

“اچھا بابا سوری ناں پلیز ناشتہ کیے بغیر گھر سے مت نکلیں، نہیں تو آپ اچھی طرح جانتے ہیں میں بھی سارا دن کچھ نہیں کھاؤں گی پھر”

صوفیہ کے بولنے پر مغیث اپنے ماتھے کی تیوری ٹھیک کرتا ہوا واپس اپنی جگہ پر جاکر بیٹھ گیا کیونکہ وہ جانتا تھا صوفیہ سچ بول رہی تھی اور وہ صوفیہ کو اپنی وجہ سے بھوکا نہیں رکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔ مغیث کو اپنی جگہ پر بیٹھتا ہوا دیکھ کر صوفیہ مسکراتی ہوئی موحد کے برابر میں بیٹھ گئی تھوڑی دیر بعد ہی محب بھی ناشتے کی ٹیبل پر آگیا

*****

“مس مہرماہ کہاں پر ہے فوراً بھیجیں انہیں روم میں”

محب انٹرکام پر بول رہا تھا تب اس کی نظریں آفس کے اپنے روم کے دروازے پر ٹک گئی، شوخ رنگ کے کپڑے پہننے، بالوں کو جوڑے کی شکل دینے کے بعد لاتعداد بالوں کی لٹیں نکالے ڈارگ رنگ کی لپ اسٹک اور فل میک اپ کیے وہ اندر داخل ہونے والی تھی مگر سامنے کرسی پر محب کو دیکھ کر ایک دم رک گئی

“کل کی طرح آپ آج بھی آفس لیٹ آئی ہیں آپ کو آفس کی ٹائمنگز کا نہیں معلوم”

محب سخت لہجے میں اپنے سامنے کھڑی 24 سالہ لڑکی کو دیکھ کر پوچھنے لگا جس کو جبران عالم ایک ہفتے پہلے بطور سیکرٹری ایک ذمہ دار پوسٹ پر فائز کرچکا تھا اور محب دو دن میں ہی اندازہ لگا چکا تھا کہ یہ لڑکی سکیٹری کی پوسٹ پر تو کیا ریسپشنلسٹ کی نوکری کرنے کی بھی اہل نہیں تھی

“سوری سر پر میں تو ٹائم پر پہنچتی ہوں آپ ہی آفس دو دن سے آدھے گھنٹے پہلے آجاتے ہیں۔۔۔ اگر آپ کی اجازت ہو تو میں روم کے اندر آجاؤ”

مہرماہ سچ بیان کرتی ہوئی سادگی سے بولی جس پر محب غصے میں اس لڑکی کو دیکھنے لگا

“تو آپ کے کہنے کا کیا مطلب ہے مس مہرماہ میں کیا اپنے گھر سے بےزار یا فالتو کا انسان ہو جس کو گھر میں کوئی کام نہیں ہے”

محب مہرماہ کی زبان درازی پر برہم ہوتا ہوا بولا تو مہرماہ ایک دم محب کے انداز پر ڈر گئی

“نو سر میرے وہ کہنے کا مطلب نہیں تھا میں اپنی بات کی آپ سے ایکسکیوز کرلیتی ہوں پلیز آپ مجھے روم میں آنے کی تو اجازت دے دیں”

مہرماہ کو ڈر تھا کہ کہیں یہ نوکری اس کے ہاتھ سے نہ چلی جائے جو اس کی لک سے جبران عالم نے اس کو دی تھی اس لئے معذرت طلب لہجے میں وہ بولی اور اندر آنے کی دوبارہ اجازت مانگنے لگی

“آپ روم کے اندر ہی موجود ہے مس مہرماہ اب مہربانی کرکے اپنی چیئر پر تشریف لے جائیں اور یہ فائل مسٹر ثاقب کے حوالے کردیں باقی ثاقب کو کام میں خود سمجھادوں گا”

محب مہرماہ کو دیکھتا ہوا واضح لفظوں میں اُس کو اُس کا کام بتانے لگا کیوکہ یہ لڑکی نہ تو کوالیفیکیشن کے لحاظ سے اِس سیٹ کی اہل تھی اور ساتھ ہی اس میں عقل کی بھی کافی کمی تھی جو کام بولو محب کو کم ہی امید ہوتی کہ وہ کام مکمل طور پر انجام دے پاتی

“مسٹر ثاقب کون سے والے سر، وہ مسٹر ثاقب جو گنجے ہیں یا وہ جو چشماٹو ہیں میرا مطلب ہے جو چشمہ لگاتے ہیں”

کیوکہ آفس میں دو ثاقب نام کے ورکر تھے اس لیے مہرماہ محب سے سنجیدگی سے پوچھنے لگی

“واٹ نانسین، یہ آپ مجھ سے کس انداز میں مخاطب ہیں مس مہرماہ، میں ثاقب زمان کی بات کررہا ہوں ثاقب مراد تو آفیشلی لیو پر ہیں کومن سینس نام کی کوئی چیز آپ میں موجود ہے یا نہیں۔۔۔ آئندہ فضول قسم کی بات کرتے ہوۓ احتیاط کرئیے گا”

محب ماتھے پر بل ڈال کر ناگواری ظاہر کرتا ہوا مہرماہ سے بولا جو سوری سر کہتی ہوئی اپنے بیگ میں کچھ تلاشنے لگی۔۔۔ بیگ سے موبائل نکال کر وہ جس انداز میں موبائل میں اپنا چہرہ ہر زاوئیے سے دیکھ رہی تھی محب سمجھ گیا تھا وہ کیمرہ آن کرکے یا تو اپنا میک آپ چیک کررہی تھی یا سیلفی لے رہی تھی

“مس مہرماہ آپ کو اندازہ بھی ہے آپ اِس وقت جس سیٹ پر بیٹھی ہیں وہ کس قدر حساس ہے”

مجب مہرماہ کی حرکتیں دیکھ کر اسے اُس کی پوزیشن اور اُس کو اُس کے عہدے کا احساس دلانے لگا۔۔۔ مگر مہرماہ نہ جانے محب کی بات کو کن معنوں میں لے گئی اور ایک دم چیخ مارتی ہوئی کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی ایک سیکنڈ کے لیے محب خود بھی پریشان ہوگیا کہ آخر اُسے ہوا کیا ہے

“سر آپ نے پہلے کیوں نے بتایا کہ اِس کرسی پر کچھ موجود تھا،، کیا دیکھا آپ نے میری سیٹ پر کیا کوئی کیڑا ویڑا تھا کیا”

مہرماہ گھبراتی ہوئی محب سے پوچھنے لگی جس پر محب کا دل چاہا وہ اِس لڑکی کو اپنے آفس کے کمرے سے باہر نکال دے وہ حساس سیٹ کا ناجانے کیا مطلب سمجھی تھی

“آپ کا دماغ تو خراب نہیں ہوچکا ہے مس مہرماہ، میرے کہنے کا مطلب تھا آپ ایک ذمہ دار سیٹ پر بیٹھ کر ایسی حرکتیں کیسے کرسکتی ہیں۔۔۔ میں نے آپ کو یہ فائل ثاقب کو دینے کا بولا اور آپ کرسی پر بیٹھی اپنی سیلفیاں لے رہی ہیں میرے خیال سے لاپرواہی کی حد یہاں آکر ختم ہوجاتی ہے”

محب اب کی بار مہرماہ کو شرمندہ کرتا ہوا بولا جو وہ شاید ہوچکی تھی مگر وہ شرمندہ ہوتی محب سے بولی

“میں سیلفی نہیں لے رہی تھی سر، بلکہ اپنے دونوں ائیر رنگز چیک کررہی تھی کیوکہ لیفٹ والے کا لاک لُوز تھا”

مہرماہ کے بولنے پر محب اب کی بار اسے گھور کر رہ گیا پھر سر جھٹک کر محب نے اپنا موبائل اٹھالیا کیوکہ اِس لڑکی کو کچھ بھی کہنا بےکار تھا

جبکہ مہرماہ کرسی پر بیٹھنے کی بجاۓ محب سے وہ فائل لینے کے لئے اُس کے پاس آئی جو ثاقب (چشماٹو) کو دینا تھی لیکن اس کی بدقسمتی یہ ہوئی کہ محب رولینگ چیئر کو ٹیبل سے ذرا سائیڈ میں کرکے اس پر بیٹھا ہوا گلاس وال سے باہر دیکھ کر موبائل پر کسی کو کال ملانے لگا تھا عین اس سے دو قدم کے فاصلے پر نہ جانے کیسے مہرماہ کا پاؤں بری طرح مڑا اور مہرماہ گرنے سے خود کو بچاتی ہوئی سیدھا محب کی طرف آئی مہرماہ کا سر بری طرح سے محب کے پیٹ میں جاکر لگا۔۔۔۔ مجب کرسی پر بیٹھا ہوا اچانک آئی اس افتاد پر بری طرح اُچھل پڑا

“آپ اندھی تو نہیں ہوچکی ہیں مس مہرماہ یہ کیا کررہی ہیں پیچھے ہٹیں”

محب غصے کی شدت میں لال پیلا ہوتا ہوا بولا وہی مہرماہ بھی اپنی غلطی نہ ہونے کے باوجود اچھی خاصی شرمندہ ہوئی اور فوراً سنبھلتی ہوئی پیچھے ہوئی

“سس۔۔۔ سوری سر رئیلی سوری وہ دراصل مجھے اونچی ہیلز پہننے کی عادت نہیں ہے نہ تو معلوم نہیں میرا پاؤں کیسے مڑگیا”

مہرماہ محب وہ غصے میں دیکھ کر شرمندہ ہوتی ہوئی بتانے لگی۔۔۔ لیکن ہیلز کا تو اس نے بہانہ بنایا تھا اب وہ اپنے باس کو کیا بتاتی کہ وہ دن میں تین سے چار دفعہ گرتی سنبھلتی اور ہر کسی سے ٹکراتی رہتی ہے

“تو کہتا ہے کون ہے آپ کو یہ روز اُونچی ہیلز پہن کر اور یوں کارٹون بن کر آفس آنے کے لیے۔۔۔ دیکھیں مس مہرماہ اگر آپ کو یہاں پر جاب کرنا ہے تو خدارا اپنا یہ حلیہ کل سے درست کرکے آئیے گا اور پلیز اپنی آنکھیں کھول کر چلنے کی کوشش کیا کریں اور ساتھ ہی اپنا دماغ بھی حاضر رکھیں”

محب نے ایک دو بار اس کو اور بھی گرتے سنبھلتے دیکھا تھا جبھی وہ اس کو وارننگ دیتا ہوا بولا

مہرماہ محب کو اوکے سر بول کر فائل لیتی ہوئی اپنی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔ اب وہ محب کو کیا بتاتی وہ انٹرویو دینے سمپل ہی آئی تھی وہ تو رہتی ہی سمپل تھی مگر جبران عالم کے کہنے پر اور تھوڑا سا خود کو ماڈرن دکھانے کے لیے اس نے اپنا گیٹ اپ چینج کیا تھا۔۔۔ لیکن وہ کارٹون تو ہرگز نہیں دکھ رہی تھی جیسے اُس کے باس نے آج اسے بول دیا تھا