Teri Deewani By Zeenia Sharjeel Readelle 50387 Teri Deewani (Episode 31) Last Episode (Last Part)
Rate this Novel
Teri Deewani (Episode 31) Last Episode (Last Part)
Teri Deewani By Zeenia Sharjeel
“مغیث کے جانے کا سن کر تو مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا۔۔۔ یہ سچ ہے بھری جوانی میں اولاد کا غم بہت تکلیف دہ ہوتا ہے”
جبران کا دوست پرویز اپنی وائف کے ساتھ چند دن پہلے واپس پاکستان لوٹا تھا دو ماہ پہلے ہوئے حادثے کے وقت وہ ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے جبران کے غم میں شریک نہیں ہوسکا اِس لیے اِس وقت اپنی بیوی کے ساتھ عالم ہاؤس میں جبران اور ستارہ سے تعزیت کرنے کی نیت سے آیا تھا
اس وقت کمرے میں جبران اور ستارہ کے علاوہ موحد اور محب بھی موجود تھے۔۔۔ پرویز کی بات سن کر جبران ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا جبکہ ستارہ کی آنکھیں اشکبار ہونے لگیں۔۔۔ محب عدم دلچسپی لیے وہاں بیٹھا تھا پرویز کی باتیں سن رہا تھا جبکہ موحد وہاں سے اٹھنے کا ارادہ رکھتا تھا اُسے کسی ضروری کام سے باہر جانا تھا تب ہی موضوع ایسا نکلا کے موحد کا اپنے قدموں پر اٹھنا مشکل ہوگیا
“بھائی اب آپ نے صوفیہ کے بارے میں کیا سوچا ہے مطلب اُس کے مستقبل کے بارے میں”
شائستہ کے پوچھنے پر جبران اور ستارہ سمیت موحد اور محب بھی شائستہ کی بات پر متوجہ ہوئے
“اُس کے بارے میں کیا سوچنا ہے بھابی وہ تو شروع سے ہی اِسی گھر میں پلی بڑھی ہے اسے اب یہی رہنا ہے ساری عمر میرے پاس”
جبران شائستہ کے اچانک سوال پر سنبھلتا ہوا محب کو دیکھ کر شائستہ کو جواب دینے لگا
“وہ بات تو آپ کی ٹھیک ہے بھائی صاحب اس میں کوئی شک نہیں آپ نے صوفیہ کو اپنی اولاد کی طرح پالا ہے لیکن وہ ساری زندگی مغیث کے نام پر تو آپ کے پاس نہیں گزار سکتی ویسے تو آپ ہی اُس کے سر پرست ہیں اُس بچی کے بارے میں جو فیصلہ کریں گے سوچ سمجھ کر کریں گے لیکن اگر آپ صوفیہ کو اپنے پاس ہی رکھنا چاہتے ہیں تو موحد سے اُس کی شادی کروادیں اس طرح اُس بچی کی زندگی میں بھی دوبارہ خوشیوں سے بھر جاۓ گی اور وہ آپ کے سامنے بھی رہے گی یہ میری تجویز ہے برا مت مانیے گا”
شائستہ کے مشورہ پر ڈرائینگ روم میں بیٹھے تمام افراد کو سانپ سونکھ گیا صرف محب تھا جو ماتھے پر شکن لائے ناگواری سے شائستہ کی ساری فضول گفتگو برداشت کررہا تھا اور جبران کے چہرے پر اتار چڑاؤ کے تاثرات دیکھ رہا تھا اس کا اپنا چہرہ ضبط کے باوجود بھی سرخ ہونے لگا
“عبدل چاۓ کیوں نہیں لاۓ ابھی تک”
عبدل جو کسی کام سے ڈرائنگ روم میں آیا تھا محب اسے ڈانٹتا ہوا پوچھنے لگا اور ڈرائینگ روم سے باہر نکل گیا
★
رات میں شدید ٹھنڈ ہونے کے باوجود وہ اپنی کھڑکی کے دونوں پٹ کھولے باہر چھائے گہرے اندھیرے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ بچپن سے لےکر آج تک اُس نے اپنے دل میں چھپے راز کو بھولے سے بھی کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیا تھا، بھلا کیسے وہ اپنی محبت اور پسندیدگی کو ظاہر کردیتا جبکہ وہ خود اچھی طرح جانتا تھا کہ جس سے وہ محبت کرتا ہے وہ اُسی کے بھائی سے بےتحاشہ محبت کرتی ہے۔۔۔ اور دیوانگی کی حد تک محبت کرتی
یہ سچ تھا اُس نے اپنی زندگی میں جس لڑکی کو بے تحاشا چاہتا تھا وہ صوفیہ تھی، اُس کی ہم عمر اُس کی سب سے گہری دوست ہونے کے ساتھ ساتھ وہ لڑکی اُس کی محبت بھی تھی۔۔۔ یہ بات اُس نے اپنے دل کے تہہ خانوں میں دفن کر کے رکھی ہوئی تھی
کسی سے محبت ہوجانا ایک فطری عمل ہوتا ہے اسے نہ جانے کب صوفیہ سے محبت ہوگئی، نہ جانے کیسے وہ صوفیہ کو چاہنے لگا تھا اِس کا اندازہ اُسے خود بھی نہیں ہوسکا۔۔۔۔ مگر اِس کے باوجود اُس نے کبھی بھی صوفیہ کو پانے کی خواہش نہیں کی تھی وہ صوفیہ کی خوشی میں خوش تھا اور اچھی طرح جانتا تھا کہ صوفیہ کی خوشیوں کا مرکز صرف مغیث عالم کی ذات ہے یعنی اس کا بھائی
بہت پاک صاف اور انوکھی قسم کی محبت تھی اُسے صوفیہ سے، بالکل اُس عاشق کی طرح جو اپنے محبوب کو خوش دیکھ کر اُسی کی خوشی میں جیتا ہے ویسے ہی وہ بھی صوفیہ کو ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتا تھا اور وہ اچھی طرح جانتا تھا اس کی خوشی مغیث عالم کے ساتھ رہنے میں تھی
لیکن اب اُس کا بھائی اِس دنیا میں نہیں رہا تھا اور صوفیہ نے مغیث عالم کی جدائی میں جو حالت اپنی بنا رکھی تھی،، صوفیہ کی حالت پر وہ دل میں اندر ہی اندر گڑھتا رہتا کاش کہ مغیث کی جگہ وہ اِس دنیا سے چلا جاتا صوفیہ کی حالت کو دیکھ کر وہ اکثر یہی دعا مانگتا
آج جو بات شائستہ کرکے گئی تھی اس کے بعد سب نے اپنی اپنی جگہ گہری چپ اختیار کرلی تھی، یہ بات تو اُس نے خود مغیث کے چلے جانے کے بعد بھی کبھی نہیں سوچی تھی جو شائستہ آج سب کے سامنے کر گئی تھی
کیا اب جبران اُسکے اور صوفیہ کے متعلق ویسے ہی سوچے گا جو شائستہ بول کر گئی تھی؟؟؟ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو صوفیہ کا ذہن اُسے دوست کی بجائے دوسرے روپ میں قبول کرنے کے لئے آمادہ ہوجائے گا؟؟؟ کیا اُسے اُس کی محبت اِس طرح ملنی تھی؟؟؟
یہ سارے سوالات موحد کے دماغ میں گردش کرنے لگے۔۔۔ اگر اس کی اور صوفیہ کی شادی کے بعد اُس کی محبت اور توجہ دینے سے صوفیہ ایک بار پھر زندگی کی طرف لوٹ کر آسکتی ہے اور وہ صوفیہ کی زندگی میں خوشیوں کے رنگ بھر سکتا تھا۔۔ تو اِس سے بڑھ کر موحد کی بھی کوئی خواہش نہیں تھی وہ صوفیہ کو خوش رکھنے کے لیے اپنی ساری زندگی اُس پر وار سکتا تھا
“کیا ہوگیا محب آخر کس بات کو لے کر اتنے اپ سیٹ ہیں، مجھ سے شیئر نہیں کریں گے”
مہرماہ کافی دیر سے کمرے میں محب کو چہل قدمی کرتا ہوا دیکھ رہی تھی بالآخر پوچھ بیٹھی،، شام سے رات ہوچکی تھی جبران کے فرینڈ کے جانے کے بعد سے مہرماہ نے نوٹ کیا تھا محب بالکل خاموش اور سنجیدہ تھا
“اپ سیٹ کس بات پر ہونا ہے پر شدید غصہ آیا ہے شائستہ آنٹی کی بات پر، اُسی غصے کو پینے کی کوشش کررہا ہوں، گھر آئے مہمانوں کو بھی اپنے آپ کو مہمان ہی سمجھنا چاہیے یہ نہیں کہ جو منہ میں آیا وہ اٹھاکر بول دیا”
مجب سر جھٹکتا ہوا بولا اور لیدر کے صوفے پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا
“آنٹی سے معلوم ہوئی جو بات شائستہ آنٹی کرکے گئی ہیں،، لیکن مجھے نہیں لگتا محب کہ انہوں نے کوئی ایسی معیوب بات کی ہے جس پر آپ اِس طرح غصہ کررہے ہیں”
مہرماہ ریلکس انداز میں بیڈ ہر بیٹھی ہوئی تھی وہ پاؤں نیچے اتار کر سلیپرز میں دونوں پاؤں ڈالتی ہوئی محب سے بولی اُس کی بات سن کر محب کے ماتھے پر بل نمایاں ہوئے وہ ضبط کرتا ہوا مہرماہ سے بولا
“تم جانتی ہو وہ کیا بول کر گئی ہیں گڑیا کے بارے میں۔۔۔ مغیث کی بیوی ہے وہ۔۔ کیسے شائستہ آنٹی یا کوئی دوسرا اُس کا نام موحد کے نام کے ساتھ جوڑ سکتا ہے” محب مہرماہ کو دیکھ کر ایک ایک لفظ چباکر بولا
“غلط،، وہ مغیث کی بیوی نہیں بیوہ ہے اب۔۔۔ اور اگر موحد سے اُس کی شادی کردی جائے تو اِس میں کوئی برائی نہیں ہے”
مہرماہ نے جیسے ہی محب کی بات کی اصلاح کرنی چاہی محب ویسے ہی زور سے چیخا
“شٹ اپ”
محب کے اِس طرح چیخنے پر وہ ایک پل کے لئے سہم گئی مہرماہ کے اس طرح سہما ہوا چہرہ دیکھ کر مجب کو اپنے رویے کا فوری طور پر احساس ہوا وہ نرم پڑتا بولا
“سوری، میرا مطلب تھا کہ ایسے کیسے ممکن ہوسکتا ہے موحد اور گڑیا۔۔۔ بالکل ناممکن سی بات ہے یہ تو”
اب کی بار محب سنبھلتا ہوا اور نرم لہجے میں مہرماہ سے بولا۔۔۔ اسے کم از کم اس وقت کچھ بھی غلط بول کر مہرماہ کے سامنے اوور ری ایکٹ نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔ مہرماہ چلتی ہوئی محب کے پاس آکر اس کے برابر میں بیٹھی
“ایسا کیوں ممکن نہیں ہوسکتا محب، آپ ٹھنڈے دماغ سے غور کریں موحد کے علاوہ کوئی دوسرا بیٹر آپشن صوفیہ کے لئے موجود نہیں ہے موحد اور صوفیہ کی گہری دوستی اور ان کے بیچ انڈراسٹینڈنگ کو آپ بچپن سے دیکھتے آۓ ہیں۔۔۔ موحد اب بھی صوفیہ کے لئے بہت فکرمند ہے، وہی ہے جو اِس وقت صوفیہ کو سنبھال سکتا ہے اُسے اِس فیس سے نکال سکتا ہے اور مجھے نہیں لگتا موحد کو اِس بات پر اعتراض بھی ہوگا۔۔۔ مغیث اب اِس دنیا میں نہیں رہا محب، شاید یہ بات صوفیہ کی طرح آپ خود بھی ابھی تک قبول نہیں کر پارہے جبھی آپ کو صوفیہ اور موحد کے بارے میں اس طرح سوچتے ہوئے عجیب سا محسوس ہورہا ہے”
مہرماہ اس کے پاس بیٹھی ہوئی اسے سمجھا رہی تھی محب اُس کی ساری باتیں خاموشی سے ضبط کیے سن رہا تھا بہت کچھ کہنے کے باوجود مہرماہ سے کچھ نہیں بول پایا مگر اب صورتحال ایسی نہیں تھی کہ چپ رہا جائے اُسے جبران سے اِس مسئلہ کو لےکر بات کرنا تھا کیونکہ گھر میں اٹھنے والے اِس مسئلہ کے ساتھ ساتھ صوفیہ کی دن بہ دن بگڑتی ہوئی حالت کے پیش نظر ایسا قدم اٹھانا ضروری ہوگیا تھا
**
“تم کیا چاہتے ہو پھر، اُس کو یہاں بلانا کیا اس کے لئے رسکی ثابت نہیں ہوگا”
محب کی بات سن کر جبران عجیب کشمکش میں پڑگیا تھا اس لیے اس بات پر محب سے پوچھنے لگا
“نہیں جابی ہم اُسے یہاں فوری طور پر نہیں بلا سکتے ورنہ اس کی اپنی جان کے خطرے کے ساتھ باقی تمام لوگوں کے اٹھتے سوالات۔۔۔ مگر جو حالت گڑیا نے اپنی بنالی ہے اور جس طرح کی باتیں گھر میں چل نکلی ہیں ان سب کو دیکھتے ہوئے ہمیں گڑیا کو اس کے پاس بھجوانا ضروری ہے”
محب رات میں جس فیصلے پر پہنچا تھا اُس کے لیے وہ اب جبران کے کمرے میں آکر اُس سے اُس کی رائے مانگ رہا تھا
“یعنی تمہاری ماں نے تم سے بھی موحد اور صوفیہ کے بارے میں بات کی ہے”
جبران کی بات پر محب اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا یعنی مہرماہ کی طرح اس کی ماما بھی مہرماہ کی ہم خیال تھی یعنی وہ بھی موحد اور صوفیہ کا سوچے بیٹھی تھیں
“اب آپ خود سوچیں لیں آگے کی صورتحال۔۔۔ اس بات کو آپ زیادہ دیر تک نہیں چھپاسکتے میں اس سے کانٹیکٹ کرکے موحد اور صوفیہ والے مسئلے کو تو نہیں۔۔۔ مگر صوفیہ کی حالت کے بارے میں اس سے شیئر کرتا ہو، جابی ایسا اب ضروری ہوگیا ہے”
محب جبران کو سمجھا رہا تھا مگر جبران کی نظریں دروازے پر کھڑی ستارہ پر تھی محب نے جبران کی نظروں کا تعقب کرتے دیکھا تو وہ بالکل خاموش ہوگیا
“ماما آپ۔۔۔ ابھی میں اور جابی گڑیا کی کنڈیشن کو لے کر سیریس ڈسکشن کر رہے تھے کہ۔۔
ستارہ کو اپنی جانب آتا ہوا دیکھ کر محب اس سے بولا
“مجھے جبران سے بات کرنا ہے اور تم بیچ میں کچھ بھی نہیں بولو گے”
ستارہ محب سے بولتی ہوئی جبران کے پاس آئی
“کیا چھپا رہے ہیں آپ دونوں مجھ سے اور تمام گھر والوں سے جبران، مجھے بالکل سچ بتائے گا”
ستارہ اس سے پوچھ رہی تھی اس کا وجود ہولے ہولے لرزنے لگا جبران پریشان ہوکر محب کو دیکھنے لگا محب نے آگے بڑھ کر جلدی سے ستارہ کی میڈیسن لےکر اس کے پاس آیا
“میں آپ کو ساری سچائی بتا دیتا ہوں ماما مگر اس سے پہلے آپ یہ میڈیسن لیں اور بالکل ریلیکس ہوجائیں”
محب جبران کو دیکھتے ہوئے ستارہ سے بولا شاید اب وقت آگیا ہے کہ چھپا ہوا سچ عالم ہاؤس کے تمام افراد کے سامنے آجاتا
★
“ایس ایچ او محسن کے کہنے پر وہ تھانے پہنچا جہاں پر نادر اور شارف پہلے سے موجود تھے
“میں تم تینوں کو کوئی چھوٹا موٹا چور اُچکا اور لٹیرے سمجھتا تھا لیکن تم تینوں نے چوری چکاری کے ساتھ ساتھ قتل و غارت گری بھی شروع کردی ہے اب”
مغیث کے وہاں پر پہنچنے کے بعد محسن نے ان تینوں سے بات کا آغاز کیا وہ تینوں پر قتل کے نام پر پریشان نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے یعنی وہ بندہ اُن کی وجہ سے مارا جاچکا تھا
“وہ گولی سیلف ڈیفنس کے لیے چلائی گئی تھی ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ آدمی اپنی جان سے جاتا ہے”
نادر نے جلدی سے محسن کو جواب دیا کیونکہ گولی اُس سے چلی تھی اُسے لگا کہ قتل کے مقدمے میں وہ اندر نہ چلا جائے
“کیا وہ آدمی سچ میں مر چکا ہے”
مغیث نے محسن کو دیکھ کر ایک بار پھر جوزف کے قتل کی تصدیق چاہی۔۔۔ اسے افسوس ہوا ان کی وجہ سے ایک انسانی جان جاچکی تھی
“وہ واقعی مر چکا ہے اور اب تم تینوں اپنی جان کی پرواہ کرو۔۔۔ جانتے ہو وہ کس کا آدمی تھا زمان خان کا، زمان خان سے تو تم تینوں اچھی طرح واقف ہوگے وہ کتنا خطرناک آدمی ہے۔۔۔ اس کے تعلقات کہاں تک ہیں تم تینوں اس سے بھی باخبر ہوگے”
محسن ان تینوں کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا ان تینوں کے ہی چہرے اِس وقت اپنے لئے فکر مندی اور پریشانی تھی
“پلیز محسن بھائی آپ تو ہم لوگوں کے بارے میں سب جانتے ہیں ہم تینوں یہ کام صرف تفریح سمجھ کر کرتے ہیں، ہم کوئی پیشہ ور مجرم نہیں ہیں ہماری مدد کریں ہم تینوں کو اِس مشکل سے نکالیں۔۔۔ہم لوگوں نے توبہ کرلی ہے ویسے بھی آگے اس کام سے”
سب سے زیادہ اِس وقت شارف پریشان لگ رہا تھا جو پریشان ہوکر ایس ایچ او محسن سے بولا
“اچھا تو تم چاہتے ہو میں تم تینوں کو بچا کر اپنی جان کے لیے خطرہ مول لوں۔۔۔ زمان خان اپنی رقم کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھی کی جان کا بدلہ بھی چاہتا ہے۔۔۔ اور اس نے تم تینوں کا کام تمام کرنے کے لئے مجھے چنا ہے وہ بھی اپنی آنکھوں کے سامنے۔۔۔ تم تینوں اگر اقرارِ جرم بھی کرلیتے ہو تب بھی تم لوگوں کی بچت نہیں ہوسکتی”
محسن کی بات سن کر وہ تینوں پریشان ہوچکے تھے تب نادر بولا
“زمان خان کا سارا پیسہ میرے پاس موجود ہے وہ پیسہ میں اپنے ساتھ لےکر آیا ہوں۔۔۔ اگر آپ ہم تینوں کو اس مصیبت سے نکال دے تو ہم تینوں الگ الگ سے آپ کو اس کا۔۔۔
نادر ایس ایچ او کو بول رہا تھا تب ہیڈ کنسٹیبل اُن تین پیشہ ورانہ مجرموں کے گرفتار ہونے کی اطلاع محسن کے پاس لےکر آیا جنہوں نے 2 ماہ میں ان لوگوں کی ناک میں دم کر رکھا تھا وہ تینوں جرم کی دنیا میں نئے ابھر کر سامنے آۓ تھے چوری چکاری کے ساتھ ریپ اور قتل و غارت کے جرم میں ملوث تھے
“ٹھیک ہے ایسا کرو اُن تینوں کے منہ بند کرو اور ہاتھوں میں ہتھکڑی لگاکر تینوں کو پولیس وین میں ڈالو۔۔۔ اور یہ دونوں بیگز بھی پولیس وین میں رکھ دو”
محسن کچھ سوچتا ہوا ہیڈ کانسٹیبل کو ارڈر دینے لگا پھر اُس نے مغیث نادر اور شارف کی طرف دیکھا
“تم تینوں کا نام ایڈریس اور پورا بائیوڈیٹا زمان خان کے پاس پہنچ چکا ہے،،، وہ شکل سے تم تینوں کو نہیں پہچانتا اس لیے آگے جیسا میں بولوں گا وہی اب تم تینوں کو کرنا ہوگا اگر تم لوگ اپنی زندگی چاہتے ہوں اور تم تینوں کی جان میں یقیناً مفت میں تو نہیں بخش رہا جلدی سے تم تینوں الگ الگ سے میرے آکاؤنٹ میں پچاس پچاس لاکھ کی رقم ٹرانسفر کروا دو”
محسن اُن تینوں کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ وہ تینوں ہی زندگی چاہتے تھے اِس لیے ویسا کرنے لگے جیسا محسن اُن سے بول کر گیا
“ستارہ رؤں مت تمہاری طبیعت خراب ہوگی تمہیں تو خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمارا بیٹا حیات ہے اور ساتھ خیریت کے ہے”
محب کے مکمل بات بتانے پر ستارہ زاروقطار رونے لگ گئی تو جبران اس سے بولا
“کیسے نہیں روؤں اتنی بڑی بات چھپائی آپ دونوں نے ہم سب گھر والوں سے، میرا بچہ زندہ ہے وہ اس دنیا میں موجود ہے اور آپ لوگوں نے اتنا بڑا جھوٹ بول دیا اُس کے متعلق سب سے”
ستارہ روتی ہوئی جبران سے شکوہ کرنے لگی تو محب ستارہ کا ہاتھ تھام کر اسے بولا
“مغیث زندہ ہے یہ بات مجھے بھی تب معلوم ہوئی جب میں اس کی ڈیڈ باڈی لینے کے لیے گئے تھے۔۔۔ اور اُسی کی سفٹی کے لیے میں نے اور جابی نے یہ حقیقت باقی تمام افراد سے چھپائی اور سب سے جھوٹ بولنا پڑا آپ کو بھی اس لیے نہیں بتایا کیوکہ ڈاکٹر نے منع کیا تھا کہ کوئی بھی شاکنگ نیوز آپ کے لئے خطرے کا سبب بن سکتی ہے”
محب ستارہ کے آنسو صاف کرتا ہوا اسے سمجھانے لگا
مغیث کی سچائی معلوم ہوتے ہی جبران اور اس نے پہلی فرصت میں مغیث کو ملک سے دور سیف جگہ پر بھجوا دیا تھا اس کی موت کو لےکر پورا ڈرامہ اسی وجہ سے کرنا پڑا تھا کہ زمان خان سے مغیث کی جان کو کوئی خطرہ نہ رہے سیم یہی کچھ نادر اور شارف کی فیملی کو بھی کرنا پڑا۔۔۔ ایس ایچ او محسن بھی اپنا ٹرانسفر کسی دوسری جگہ کروا چکا تھا
“مجھے اپنے بیٹے کو دیکھنا ہے جبران پلیز مجھے مغیث سے ملوا دیں مجھے ایک بار اس کا چہرہ دیکھنے دیں تاکہ مجھے سکون آجائے”
وہ روتی ہوئی محب سے اپنے ہاتھ چھڑوا کر جبران سے فریاد کرنے لگی۔۔۔ تو جبران دوبارہ بےبسی سے محب کو دیکھنے لگا ٹریولنگ اس کی صحت کے لیے صحیح نہیں تھی، محب نے ایک بار پھر ستارہ کو شانوں سے تھام کر اُسے سمجھانے کی کوشش کی
“ماما اگر آپ چاہتی ہیں مغیث سیف رہے تو اس طرح اسے ملنے کی ضد مت نہیں کریں آپ کو تھوڑا عرصہ صبر کرنا پڑے گا اُس کے بعد وہ عالم ہاؤس میں ہم سب کے ساتھ رہے گا لیکن ایسا ابھی ممکن نہیں ہوسکتا کچھ وقت کے بعد جب حالات مکمل طور پر درست ہوجائے گے، تب، لیکن گڑیا کی حالت کو دیکھتے ہوئے ہم دونوں نے اسے مغیث کے پاس بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے”
محب کے بولنے پر ستارہ خاموش ہوگئی اور خدا کا شکر کرنے لگی کہ اس کا بیٹا زندہ سلامت ہے
کیونکہ رومان نے اس سے کہا تھا کہ وہ اس سے ملنے والا ہے اس لئے وہ کلاس میں جانے کی بجائے کالج کے کینٹین کے پاس آکر اس کا ویٹ کررہی تھی ویسے بھی ابھی کلاس اسٹارٹ ہونے میں تھوڑا ٹائم بچا تھا، کل شام اُس کے گھر رومان کا بڑا بھائی محب عالم آیا تھا اُس کی باتوں شخصیت بیک گراؤنڈ اور بزنس سے عینی کا باپ اور چاروں بھائی کافی متاثر ہوئے تھے یہی وجہ تھی کہ جب محب عالم نے کانفیڈینس کے ساتھ اُس کی فیملی کے سامنے رومان کی پسندیدگی کا اظہار کیا جو کہ بقول محب کا چھوٹا بھائی عینی کے لیے رکھتا ہے تو عینی کی فیملی نے محب کی روعب دار پرسنیلٹی کو دیکھ کر کسی قسم کا کوئی خاص اعتراض نہیں کیا۔۔۔ جانے سے پہلے محب نے عینی کی فیملی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ جلد اپنے پیرنٹس اور باقی گھر والوں کو باقاعدہ پرپوزل کے لئے ان لوگوں کے گھر لےکر آئے گا
کل سے عینی بےحد خوش اور مطمئن تھی وہ رومان کا ویٹ کرتی ہوئی موبائل میں ٹائم دیکھنے لگی تبھی اسے دور سے رومان اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔۔۔ اُس کے چہرے پر سجی اسمائل سے وہ اس کی خوشی کا اندازہ خوب لگا سکتی تھی۔۔۔ لیکن وہ کتنا خوش تھا اِس کا اندازہ عینی کو تب ہوا جب رومان نے قریب آکر اسے زوردار قسم سے ہَگ کیا
“تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ہے یہ کیا کررہے ہو تم”
آج سے پہلے رومان نے کبھی ایسی حرکت نہیں کی تھی عینی بوکھلا کر اسے پیچھے دھکیلتی ہوئی بولی۔۔۔ وہ تو شکر تھا کہ صبح کا وقت ہونے کی وجہ سے کینٹین پر رش ہونے کی بجاۓ اِکا دُکا لوگ موجود تھے جنہوں نے رومان کی بےباک حرکت نہیں دیکھی
“دماغ خراب نہیں ہوا ہے بلکہ آج صبح مجھے جو خبر ملی ہے، تمہیں بتا نہیں سکتا کتنا خوش ہوں میں۔۔۔ یقین جانو اتنی خوشی مجھ سے کنٹرول نہیں ہو پارہی دل چاہ رہا ہے تمہیں کِس بھی کر ڈالو اسی خوشی میں”
رومان بولتا ہوا واقعی کِس کرنے کی نیت سے دوبارہ عینی کے قریب آیا تو عینی نے اُس کا ارادہ بھانپ کر پوری طاقت سے اِسے پیچھے دھکیلا۔۔۔ رومان دیوار سے جا ٹکرایا اور ہوش میں آیا
“بی ہیو یور سیلف رومان آج تمہیں کیا ہوگیا ہے آخر، مجھے بھی اِس بات کی خوشی ہے کہ تمھارے بھائی کے آنے پر میرے گھر والوں نے پوزیٹیو رسپانس دیا ہے مگر اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ تم چھچھورے پن اتر آؤ”
عینی کے بولنے پر رومان کو اچانک یاد آیا محب نے بھی تو اُس کو رات میں یہ خبر سنائی تھی، مگر آج صبح جب مہرماہ نے اُسے مغیث کے بارے میں بتایا تب اُس نے نہ صرف مہرماہ اور ستارہ کو خوشی اور جذبات کے عالم گلے لگایا تھا بلکہ ڈائینگ روم میں آتے ہوۓ موحد کو بھی خوشی سے چوم ڈالا اور عبدل تو بری طرح رومان سے ڈر گیا تھا کیوکہ اس نے عبدل کو گود میں اٹھا کر گول گول چکر لگانا شروع کردئیے رومان کی حالت کو دیکھ کر عبدل کو اپنی بیوی کو چھپانا پڑا۔۔۔ خوشی میں اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ کیا کر ڈالے خوشی سنبھالنے کے چکر میں وہ عینی کو بھی کِس کرنے والا تھا مگر عینی کے جھڑکنے پر وہ ایک دم ہوش میں آیا
“ہاں یار کل محب بھائی نے بھی تو پّکے بھائیوں والا کام کر ڈالا اتنی بڑی خوشی کی خبر تو میں بھول ہی گیا”
رومان کے بولنے پر عینی مشکوک ہوکر اسے حیرت سے دیکھنے لگی
“تو پھر اتنی دیر سے تم کس خبر پر خوش ہورہے تھے کیا کوئی لاٹری نکل آئی ہے تمہاری”
عینی حیرت زدہ ہوکر رومان سے پوچھنے لگی کیونکہ پچھلے دو ماہ میں اُس نے رومان کو اتنا زیادہ خوش نہیں دیکھا تھا
“لوٹری نہیں،، بلکہ خزانہ مل گیا ہے۔۔۔ عینی رئیلی آج میں اتنا خوش ہوں کہ بتا نہیں سکتا تمہیں”
رومان ایک بار پھر سنجیدگی سے عینی کو دیکھتا ہوا بولا
“بھلا ایسا کون سا خزانہ مل گیا جس پر تم اس طرح خوش ہورہے ہو کیا مجھے نہیں بتاؤ گے”
عینی کو اب جاننے کا تجسس ہونے لگا تو وہ رومان کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“ابھی نہیں بتاسکتا ناں یار مگر بہت جلد بتاؤں گا تم کلاس لینے جاؤں میں بھی نکلتا ہوں اب”
رومان اپنی خوشی پر قابو پاتا ہوا عینی سے بولا اسے اتنا بھی جذباتی نہیں ہونا چاہیے تاکہ وہ خوشی میں اس وقت سب کچھ ہی شیئر کر ڈالے۔۔۔ عینی کو وہ مغیث کا بتادیتا مگر جب مناسب وقت ہوتا تھا
“کہاں جاؤ گے پہلے کالج یا قبرستان”
عینی کو معلوم تھا اگر وہ منع کررہا ہے تو اس کے لاکھ پوچھنے پر بھی رومان اسے ابھی کچھ نہیں بتائے گا۔۔۔ مگر جو بھی بات تھی عینی کا معلوم تھا چند دنوں بعد وہ خود اس سے شئیر کرلے گا اس لیے عینی اس کے پیچھے نہیں پڑی
“قبرستان جانا اب ضروری نہیں ہے، میں کالج جاؤ گا”
جگمگاتی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ رومان نے بولتے ہوئے عینی کو ہمیشہ کی طرح چاکلیٹ کا پیکٹ تھمایا۔۔۔۔ یہ بات عینی میں بہت اچھی تھی کہ وہ دوسری لڑکیوں کی طرح کسی بات کو لےکر اس سے ضد نہیں کرتی تھی۔۔۔رومان الوداعی نظروں سے اُسے دیکھتا ہوا وہاں سے اپنے کالج جانے کے لیے روانہ ہوگیا
“جابی نہیں پلیز مجھے کہیں نہیں جانا، آپ چاہتے ہیں ناں کہ میں پہلے کی طرح خوش رہو اِس کمرے سے باہر نکل تو جیسا آپ چاہیں گے میں ویسے ہی کروں گی مگر پلیز مجھے کسی دوسری جگہ مت بھیجیں آپ سب لوگ یہی چاہتے ہیں ناں کہ میں مغیث عالم کی موت کو قبول کرلو ٹھیک ہے میں نے مان لیا وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے مگر مجھے ان کی یادوں کے ساتھ جینے دیں مغیث کا یہ کمرہ ہی میرے لئے میری پوری دنیا ہے۔۔۔ مجھے اِس کمرے سے اُن کی خوشبو آتی ہے مجھے اِس کمرے میں اُن کی یادوں کے ساتھ جینے دیں، میں نے قبول کرلیا ہے مغیث عالم کی موت کو مگر پلیز مجھے یہاں سے کہیں نہیں جانا”
بورڈ میں بیٹھی وہ نیلے جھانگ والے پانی کو دیکھتی ہوئی سوچ رہی تھی
اُس کے لاکھ رونے گڑگڑانے اور ولولا مچانے پر بھی اٌس کی ایک نہیں سنی گئی تھی بلکہ اُسے موحد کے ساتھ آئی لینڈ پر بھیج دیا جو ابودابی میں تھا
اگر اِس سفر میں مغیث عالم اُس کا شریکِ سفر ہوتا تو وہ لازمی اِس سفر کو انجوائے کرتی مگر مغیث کے بغیر زندگی کی ساری رونقیں ہی اِس کے لئے بےمعنی تھی۔۔۔
“صوفی یار مجھ سے کیوں ناراض ہو میں تو تمہیں زبردستی کڈنیپ کرکے یہاں نہیں لایا۔۔ جابی اور محب بھائی کے کہنے پر تمھارے ساتھ اس آئی لینڈ پر آیا ہوں تاکہ تمہاری طبیعت پر اچھے اثرات مرتب ہوسکے لیکن تمہاری بنی ہوئی سڑی سی شکل نے تو سارے سفر کا مزا ہی کرکرا کردیا ہے پلیز تھوڑا سا تو انجوائے کرو یار، یہاں آنا تمہارے لک کے لئے بھی اچھا ثابت ہوسکتا ہے”
بورڈ پر تیز ہوا کے دباؤ کی وجہ سے موحد اُس کے کاندھوں پر شال ڈالتا ہوا صوفیہ کو سمجھانے لگا
“کس لَک کی بات کررہے ہو تم، میری بدبختی کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا تم نے کہ بچپن میں میرے پیدا ہونے کے بعد میرے ماں باپ مرگئے اور ولیمے کے روز میرا شوہر مجھے چھوڑ کر اِس دنیا سے ہمیشہ کے لئے چلا گیا۔۔ جابی اور محب بھائی اگر یہ سمجھتے ہیں مجھے تمہارے ساتھ یہاں بھیج کر اگر وہ لوگ مجھے تم سے شادی کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار کرلیں گے تو یہ غلط فہمی ہے ان سب کی۔۔۔ اتنا حیران ہوکر دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے مجھے عبدل کی بیوی سے معلوم ہوچکا ہے ستارہ ممعانی جو ہم دونوں کے متعلق سوچے بیٹھی ہیں۔۔۔ موحد میری بات کان کھول کر سن لو ایسا کبھی بھی نہیں ہوسکتا ہے سنا تم نے”
صوفیہ موحد کی حیرت زدہ شکل دیکھ کر اس سے بولی اپنے کمرے تک محدود ہوکر رہنے کی وجہ سے اس کو معلوم نہیں تھا کہ عالم ہاؤس میں کس طرح کی باتیں چل رہی ہیں، یہ تو عبدل کی بیوی کی مہربانی تھی جو اُس نے ستارہ کے خیالات اُس پر ظاہر کردیے تھے تب صوفیہ کو سمجھ آیا گھر والوں نے کیوں اسے اور موحد کو یہاں اکیلے بھیجا تھا
“میں تم سے شادی کروں گا ہاہاہا۔۔۔ یعنی تمہیں لگتا ہے اگر کوئی دوسرا ہم دونوں کے متعلق ایسا سوچتا بھی ہے تو کیا میں ایگری ہوجاؤں گا نہ کرو یار صوفی ہاہاہاہا۔۔۔۔ او گاڈ صوفی ڈئیر مجھے اپنی عزت بہت عزیز ہے اور تم سے شادی کر کے میں ساری عمر تمہاری جھڑکیاں کھاتا رہوں میرا ایسا کوئی پلان نہیں۔۔۔ اور نہ ہی مجھ میں اتنا اسٹیمنا ہے ہاہاہاہاہا شادی اور تم سے، سو فنی یار۔۔۔۔ افففف سوری یار میری ہنسی نہیں رک رہی ہے عبدل کی بیوی کی باتوں کو تم سچ سمجھ رہی ہو تم بہت بیوقوف ہو صوفی۔۔۔ پرویز انکل کی وائف یہ بونگا سا مشورہ جابی کو دے کر گئی تھیں جن کی بات پر کسی نے کان بھی نہیں دھرنا ضروری سمجھا اور عبدل کی بیوی نے ناجانے تم سے کیا کیا بول دیا ہاہاہا۔۔۔۔ تم سے شادی کروا کر ماما مجھ سے دشمنی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی ڈئیر۔۔۔۔ انہوں نے میرے لئے بہت خوبصورت لڑکی تلاش کرنے کا سوچا ہے جو کم ازکم مجھے ذلیل نہیں کرے گی اور میری عزت کریں گی۔۔۔ تمہیں معلوم ہے میری بجاۓ رومان تمہارے ساتھ یہاں آنے کو تیار تھا بلکہ اس نے کافی ضد بھی کی تھی مگر محب بھائی نے اسے ڈانٹ کر بٹھا دیا کیونکہ اس کے پیپر ہونے والے ہیں۔۔۔۔ ماما اور بھابھی اپنی اپنی طبیعت کی وجہ سے اتنا لمبا سفر نہیں کرسکتی اور جابی ماما کو چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں تھے اس لیے پورے عالم ہاؤس میں بچتا ہے صرف ایک بیچارا سا موحد جس کو یہاں تمہارا باڈی گارڈ بناکر تمہارے ساتھ بھیج دیا اور تم سمجھ رہی ہو کہ میں تمہیں گھر والوں سے دور لاکر تمہارے ساتھ سیٹنگ کروں گا ہاہاہا حد ہوگئی یار ویسے”
موحد بولنے کے ساتھ ساتھ مستقل ہنسے جارہا تھا تو صوفیہ کو لگا جیسے موحد ہنس نہیں رہا بلکہ اس کی کہی ہوئی باتوں کا مذاق اڑا رہا تھا صوفیہ کو اُس کے ہنسنے پر غصہ آنے لگا وہ موحد کو گھورنے لگی
“شٹ اپ موحد ہنسنا بند کرو، اس طرح دانت نکالتے ہوئے تم مجھے بہت زہر لگ رہے ہو اگر یہ پانی گہرا نہیں ہوتا میں تمہیں اسی مہں دھکا دے دیتی”
موحد کے مستقل ہنسنے پر صوفیہ غصے میں بولی وہ بورڈ پر موجود سیٹ پر بالکل سیدھا ہوکر بیٹھ گیا اور چھوٹے بچوں کی طرح انگلی اُس نے اپنے منہ پر رکھ لی، صوفیہ ابھی بھی اس کی حرکت پر موحد کو گھور رہی تھی کیونکہ وہ اس وقت بالکل نان سیریس لگ رہا تھا وہ ہونٹوں پر انگلی رکھے اپنی ہنسی کنٹرول کررہا تھا جو اس سے کنٹرول نہیں ہورہی تھی۔۔۔ صوفیہ کے اس طرح مستقل گھورنے پر موحد کو ایک بار پھر ہنسنے کا دورہ پڑ چکا تھا اور وہ صوفیہ کو دیکھ کر ہنستے ہنستے سیٹ سے نیچے بوٹ کے تختے پر گرگیا اور ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگا
“ابھی تصور کرلو میں اور تم ہسبنڈ اور وائف ہیں، سوچو تم کس طرح روز روز میرا بینڈ بجایا کرو گی شادی کے بعد او گاڈ یہ خطرناک تصور، مجھے ہنستے ہنستے مار ڈالے گا”
وہ صوفیہ کا چہرہ دیکھ کر ہنستا ہوا بولا وہ اتنا ہنس رہا تھا کہ اس کا چہرہ سرخ اور ہنستے ہنستے اس کی آنکھیں نم ہونے لگی۔۔۔ صوفیہ موحد سے ناراض ہوکر دوسری جانب اپنا منہ پھیر کر بیٹھ گئی
سمندر کے بیچ و بیچ وسیع رقبے پر بنا ہوا یہ ایک ریزورٹ (Resort ) تھا جو دیکھنے میں بےحد خوبصورت تھا یہاں قطار کی صورت لکڑی کے ہٹس (Huts) موجود تھے۔۔۔ موحد جس ہٹ میں صوفیہ کو چھوڑ کر گیا تھا وہ ایک کمرے پر مشتمل تھا جہاں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔۔۔۔
اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں رگڑتی ہوئی صوفیہ ہیٹر کے قریب آ بیٹھی یہ ہٹ چھوٹا ہونے کے باوجود بےحد خوبصورت اور صاف ستھرا تھا مگر نہ جانے کیوں صوفیہ کو محسوس ہورہا تھا جیسے یہ پہلے سے کسی کے استعمال میں ہے، صوفیہ اپنے ذہن میں آئے ہوئے خیال کو جھٹکتی ہوئی چھوٹی سی لکڑی کی کھڑکی کھول کر باہر سورج غروب ہونے کا حسین منظر دیکھنے لگی
“آپ کے بغیر کچھ مکمل نہیں ہے سب کچھ ادھورا سا لگتا ہے، کسی حسین منظر میں دلکشی یا خوبصورتی محسوس نہیں ہوتی۔۔۔۔ اب کسی بھی چیز کی کشش اپنی طرف مائل نہیں کرتی مجھے۔۔۔۔ اِس سوچ کے ساتھ صوفیہ کے لیے زندہ رہنا بہت مشکل ہے کہ اُس کی زندگی میں اب مغیث عالم موجود نہیں ہے۔۔۔ آپ کو اپنے تصور اور سوچوں میں رکھ کر اگر میں زندگی گزار رہی تھی تو اس طرح میں خوش تھی مگر اس طرح گھر کے دوسرے لوگ خوش نہیں تھے لیکن اب اِس طرح میں خوش نہیں ہوں، آپ کو مرا ہوا تصور کرکے میرے لیے جینا بہت مشکل ہوجائے گا مغیث عالم یہ بات باقی سب کیوں نہیں سمجھتے”
اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے صوفیہ کی آنکھیں نم ہونے لگی لیکن پردوں کے ہلنے اور دروازہ بند ہونے سے صوفیہ کو محسوس ہوا جیسے کوئی اس ہٹ میں موجود اُس کی باتیں سن رہا تھا
“موحد تم ہوں ناں یہاں”
صوفیہ نے پلٹ کر چاروں طرف نظر دوڑائی مگر وہاں پر کوئی نہیں تھا۔۔۔ وہ چلتی ہوئی دروازے تک آئی اور دروازہ کھول کر دیکھنے لگی مگر باہر بھی کوئی نہیں تھا ہلکا ہلکا سا اندھیرا چاروں طرف پھیل رہا تھا جو سردی کی شدت میں بھی اضافہ کررہا تھا۔۔۔
یہ اس کا وہم نہیں ہوسکتا تھا ہٹ میں واقعی کوئی دوسرا موجود تھا بھلا کیا ضرورت تھی جابی اور محب بھائی کو اسے اتنا دور بھیجنے کی۔۔۔ وہ یہاں اکیلی کیسے رہے گی نجانے اُس کے گھر والے اتنے ایڈوانس کب سے ہوچکے تھے
وہ اپنے گرد شال کو اچھی طرح لپیٹتی ہوئی ہٹ سے باہر نکلی اور موحد کے ہٹ میں جانب جانے لگی مگر اس کے قدم ہٹ کے باہر دروازے پر ہی رک گئے۔۔۔۔ اندر سے اُسے موحد کے رونے کی آواز آرہی تھی جیسے وہ کسی سے باتیں کرتے ہوئے رو رہا ہو۔۔۔ صوفیہ نے دروازہ کھٹکھٹایا
“کیا ہوا موحد” دروازہ کھلنے ہی صوفیہ فکرمند ہوکر سامنے کھڑے موحد سے پوچھنے لگی
“کیا ہونا ہے مجھے بھلا اندر آجاؤ باہر سردی بڑھ رہی ہے”
موحد اسے اندر آنے کا کہہ کر خود ہٹ میں موجود چیئر پر بیٹھ گیا
“رو کیوں رہے تھے تم”
صوفیہ دروازہ بند کر کے پورے ہٹ میں نظریں دوڑاتی ہوئی موحد سے پوچھنے لگی۔۔۔ یہاں کون تھا بھلا جس سے وہ باتیں کرتا ہوا رو رہا تھا
“میں کیوں رونے لگا”
موحد الٹا صوفیہ سے سوال کرنے لگا
“اچھا رو نہیں رہے تھے تو پھر آنکھیں اتنی ریڈ کیوں ہورہی ہیں تمہاری”
صوفیہ اس کے سامنے کرسی پر بیٹھتی ہوئی موحد کو غور سے دیکھ کر سوال کرنے لگی
“نیند اور تھکن کی وجہ سے ڈئیر صوفی” موحد کے جواب سے اسے تسلی نہیں ہوئی تھی وہ کنفیوز ہوکر موحد کو دیکھنے لگی
“میرے یہاں آنے سے پہلے تم کس سے بات کررہے تھے کون تھا یہاں پر تمہارے ساتھ”
صوفیہ کی بات پر وہ ایک دم چونکا پھر ہنستا ہوا بولا
“تمھارا ہیرو مغیث عالم”
موحد کے جواب پر صوفیہ بالکل خاموش ہوگئی اس کے حسین چہرے پر چھائی اداسی مزید بڑھنے لگی
“کاش کے وہ سچ میں موجود ہوتے”
صوفیہ نے بہت آہستہ سے بولا اور موحد اس کا اداس چہرہ دیکھنے لگا۔۔۔ مگر وہ آج بےحد خوش تھا کیوکہ صوفیہ کے چہرے کی اداسی اب پل بھر کی ہی مہمان تھی
“یعنی دو ماہ کے عرصے بعد آج کے دن تم نے یہ بات تسلیم کرلی کہ مغیث بھائی اس دنیا میں نہیں رہے”
موحد کی بات پر صوفیہ کی آنکھیں نم ہونے لگی حلق سے آواز نکلنا مشکل ہوگئی۔۔۔ آج واقعی اس نے تسلیم کرلیا تھا مغیث اب اس دنیا میں نہیں یہ حقیقت قبول کرنے کے بعد صوفیہ کو محسوس ہوا جیسے اب وہ بھی مغیث کے بغیر نہیں جی پاۓ گی آج کی رات اس کی زندگی کی بھی آخری رات تھی شاید۔۔۔
بےساختہ ہی اس کی نظر سامنے ٹیرس کے لہراتے ہوئے جالی کے سفید پردوں پر پڑی جن کے درمیان مغیث کھڑا ہوا تھا صوفیہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے حیرت زدہ ہوکر اُسے دیکھنے لگی
“مو۔۔۔۔حد۔۔۔۔ وہ۔۔۔وہاں پر۔۔۔مغ۔۔۔مغیث۔۔۔عا۔۔۔لم”
ٹوٹا ہوا بےربط جملا لفظوں کی صورت اس کے منہ سے ادا ہوا حیرت اور بےیقینی سے مغیث کو دیکھ کر وہ پریشان ہونے لگی کیونکہ یہ کوئی خواب نہیں تھا وہ حقیقت میں یہاں موجود تھا
“وہاں کوئی موجود نہیں ہے صوفی”
صوفیہ کا چہرے کے تاثرات دیکھ کر موحد بناء ٹیرس کی طرف دیکھے اسے آرام سے سمجھاتا ہوا بولا
“نہیں تم دیکھو تو سہی وہ وہی کھڑے ہم دونوں کو دیکھ رہے ہیں”
اب کی بار صوفیہ نے ٹیرس کی جانب انگلی سے اشارہ کرکے موحد کو بتایا تو موحد نے گردن موڑ کر ٹیرس کی جانب دیکھا پھر صوفیہ کو دیکھنے لگا
“نظر آئے ناں تو تمہیں بھی”
صوفیہ بےچین ہوکر موحد سے پوچھنے لگی جس پر اُس نے نفی میں سر ہلایا
“وہاں پر کوئی بھی موجود نہیں صوفی یہ تمہارا وہم ہے کہ وہاں مغیث بھائی کھڑے ہم دونوں کو دیکھ رہے ہیں”
موحد نے پھر سے اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر صوفیہ ٹکٹکی باندھ کر مغیث کو دیکھنے لگی جو آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا موحد کے پاس آرہا تھا
“موحد وہ یہی آرہے ہیں ہم دونوں کے پاس”
صوفیہ لرزتے ہونٹوں کے ساتھ بےیقینی کی کیفیت میں موحد سے بولی اس کی نظرہں مغیث پر جمی ہوئی تھی۔۔۔ اگر یہ اس کا ویزن تھا تو اتنا پختہ کیسے، اگر یہ مغیث کی پرچھائی تھی تو اتنی صاف کیسے، اگر یہ خواب تھا تو کیا وہ اب گہری نیند کے بعد جاگنے والی تھی۔۔۔ مغیث اس سے چار قدم کے فاصلے پر موحد کے بائیں طرف آکر ٹھہر گیا
“سفر کی وجہ سے تم بھی بہت تھک گئی ہو، تھکن کے باعث تمہاری سوچیں تہھارے زہن پر حاوی ہورہی ہیں یہی وجہ ہے کہ تمہیں مغیث بھائی نظر آرہے ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ۔۔۔۔
موحد کی بات پر صوفیہ غصے میں کرسی سے کھڑی ہوکر چیخ پڑی
“یہ سب کچھ میں سوچ رہی ہوں۔۔۔ کیا تم اندھے ہوچکے ہو جو تمہارے اتنے نزدیک کھڑے تمہیں مغیث عالم نہیں دکھائی دے رہے۔۔۔ موحد عالم تم اندھے ہوسکتے ہو مگر میں پاگل نہیں ہوئی ہوں ابھی سمجھے تم”
صوفیہ غصے سے بھرے لہجے میں موحد سے بولی۔۔۔ موحد اپنے آس پاس دیکھنے کے بعد پورے ہٹ میں نظریں دوڑانے لگا جیسے صوفیہ کے غصہ کرنے پر وہ مغیث کو تلاش کررہا ہو۔۔۔ جس پر صوفیہ کا خون کھولنے لگا
“میں نے سنا ہے یہاں کی کافی بہت زبردست ہوتی ہے میں تمہارے لیے وہ لےکر آتا ہوں”
یعنی وہ اس کی بات ماننے کو تیار نہیں تھا کہ مغیث یہی موجود ہے اس لیے کرسی سے کھڑا ہوتا ہوا بولا۔۔۔
موحد ہٹ سے باہر جانے لگا صوفیہ غصے میں موحد کو گھورنے لگی مگر وہ شرارت سے مسکراتا ہوا ہٹ سے باہر نکل گیا لیکن وہ مسکرا کیو رہا تھا صوفیہ کو سمجھ میں نہیں آیا اس کی توجہ ایک بار پھر مغیث لےچکا تھا صوفیہ نے دیکھا وہ موحد کی کرسی پر بیٹھتا ہوا اپنے گال پر ہاتھ ٹکاۓ صوفیہ کو دیکھنے میں مصروف تھا صوفیہ ایک بار پھر سانس روک کر مغیث کو دیکھنے لگی اور ٹرانس کی کیفیت میں خود بھی اُس کے سامنے کرسی پر دوبارہ بیٹھ گئی
“ایسے کیا دیکھ رہی ہوں جانِ مغیث کیا آج پہلی بار تمہیں نظر آیا ہوں میں، پچھلے دو ماہ سے تم مجھ سے باتیں کرتی رہی ہو تب بھی تو تمہارے آس پاس ہوتا تھا میں، آج کیوں اتنی حیرت ہورہی ہے تمہیں مجھے دیکھ کر”
مغیث کو بات کرتا ہوا دیکھ کر صوفیہ بالکل شاکڈ تھی وہ اپنی دونوں آنکھیں مسلتی ہوئی مغیث کو دوبارہ دیکھنے لگی جو اس کے اتنے قریب بیٹھا اس سے باتیں کررہا تھا
“میں یہ بات کبھی بھی سوچنا نہیں چاہتی تھی کہ آپ اس دنیا میں موجود نہیں ہیں۔۔۔ سب نے مجھ سے کہا کہ آپ زندہ نہیں لیکن میرے دل نے نہیں مانا۔۔۔ میں نے اپنے تصور کی دنیا میں آپ کو ابھی تک زندہ رکھا ہے مغیث عالم۔۔۔ اپنے آپ کو ہر لمحے یقین دلاتی ہوں کہ آپ ہر وقت میرے ساتھ اپنے کمرے میں موجود ہیں، اپنے یقین کو پختہ کرنے کے لیے آپ سے باتیں کرتی ہوں میں۔۔۔ آپ سے باتیں کرتی ہنستی، بولتی لڑتی، ناراض ہوتی ہوں”
صوفیہ لرزتی آواز کے ساتھ مغیث کو سچ بتانے لگی تب مغیث نے اپنا ہاتھ اُس کی طرف بڑھایا جس سے تھامنے کی بجائے صوفیہ آنکھوں میں آنسو لاتی ہوئی نفی میں سر ہلانے لگی
“میں جانتی ہوں اگر میں نے آپ کا ہاتھ تھاما تو آپ پھر مجھے کبھی دکھائی نہیں دیں گے۔۔۔ میں آپ کو ایسے ہی ہر وقت اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتی ہوں مغیث عالم” صوفیہ بےبسی سے روتی ہوئی بولی مغیث کرسی سے اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اُسے دونوں بازؤوں سے تھام کر اپنے سامنے کھڑا کیا تو صوفیہ حیرت سے پوری آنکھیں کھول کر مغیث کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
اب وہ اس کے بےحد قریب تھا اس کو دونوں بازوؤں سے تھامے ہوئے۔۔۔ نہ تو وہ ہوا میں تحلیل ہوا تھا نہ ہی اُس کا عکس دھندلا ہوکر غائب ہوا تھا۔۔۔ یہ کوئی مغیث عالم کی روح یا شبیہہ نہیں جو چھونے سے غائب ہوجاتی بلکہ خود مغیث عالم تھا۔۔۔ انسانی اور جیتا جاگتا وجود صوفیہ کو لگا اب جیسے اسے اگلا سانس نہیں آئے گا،، وہ کانپتے ہاتھوں سے مغیث کے چہرے کو چھونے لگی اُس کی آنکھیں، ناک، کان، گال، ہونٹ۔۔ اس کے دونوں شانے اور بازوؤں کو دیوانہ وار چھوتی ہوئی بار بار حیرت سے اُس کو دیکھ رہی تھی، وہ زندہ تھا۔۔۔۔ اس کا مغیث عالم زندہ تھا۔۔۔
صوفیہ کی آنکھیں بھیگنے لگیں اور لب لرزنے لگے اس کا پورا بدن آہستہ آہستہ شاک سے کانپ رہا تھا۔۔۔ مغیث نے اُس کی کیفیت کو دیکھ کر صوفیہ کے نازک سے وجود کو اپنے بازوؤں میں بھر لیا
“کیسے کرلی تم نے میری جان اپنے مغیث عالم سے اتنی زیادہ محبت۔۔۔ میں تو شاید تمہاری اتنی زیادہ محبت کے قابل بھی نہیں ہوں”
مغیث صوفیہ کی وجود کو باہوں میں بھر کر اس سے پوچھنے لگا صوفیہ نے اُس کے بولنے پر ایک مرتبہ پھر مغیث کا چہرہ دیکھنا چاہتا۔۔۔ مغیث کی آنکھیں نم تھی اپنی دیوانی کی اس قدر محبت کو محسوس کر کے۔۔۔۔
“یہ کوئی خواب نہیں ہے، آپ زندہ ہیں مغیث عالم بولے ناں آپ کو کچھ نہیں ہوا”
صوفیہ مغیث کا چہرہ تھامیں اس سے پوچھنے لگی تو مغیث نے اُس کے ہونٹوں کو نرمی سے اپنے ہونٹوں سے چھوا
“اگر زندہ نہیں ہوتا تو تمہاری خاطر خدا سے اپنی زندگی کی بھیک مانگ لیتا مگر تمہارے لیے تمہارے پاس آجاتا”
مغیث کی بات سن کر صوفیہ مغیث کے سینے سے لگ گئی مغیث نے دوبارہ اس کے گرد اپنے بازوؤں کو حمائل کرتے ہوئے صوفیہ کے وجود کو اپنے اندر چھپالیا
“جتنی زیادہ تم نے مجھ سے محبت کی ہے صوفیہ اس سے بھی زیادہ محبت میں تمہیں دوں گا، جو سب تم نے برداشت کرلیا جتنا سہہ لیا ان دو ماہ میں۔۔۔۔ مگر اب میں تمہیں کبھی بھی کوئی دکھ نہیں دوں گا تم سے کبھی بھی دور نہیں جاؤں گا۔۔۔ ہر دم تمہیں چاہوں گا یہ وعدہ ہے مغیث عالم کا اپنی جان سے زیادہ عزیز بیوی سے”
مغیث صوفیہ کے وجود کو بازوؤں میں بھرے اس کے ساتھ خود اپنے سے بھی وعدہ کرنے لگا۔۔۔ اتنے میں ہٹ کا دروازہ کھلا اور موحد ٹرے میں تین کافی کے مگ لیے اندر چلا آیا
“لو جی میں سمجھا کہ ملنے ملانے کا سین اب تک ختم ہوچکا ہوگا لیکن یہاں تو ایسا لگ رہا ہے سین ابھی ابھی شروع ہوا ہے میرے خیال میں پہلے کافی پینا مناسب رہے گا اس رومینس کے چکر میں ٹھنڈی کافی پینے کا مزہ بالکل نہیں آۓ گا”
موحد نے ان دونوں کو اتنے قریب دیکھ کر کافی کے تینوں مگ باری باری ٹیبل پر رکھے اور شرارت بھرے لہجے میں دانت نکالتا ہوا ان ان دونوں سے مخاطب ہوا جو موحد کی موجودگی کے سبب اب ایک دوسرے سے الگ ہوکر کھڑے تھے۔۔۔ موحد اپنے دانتوں کی نمائش کرتا ہوا صوفیہ کو دیکھ رہا تھا تو صوفیہ بالکل سیریس ہوکر قدم بڑھاتی ہوئی اس کے پاس آئی
“صوفی ڈئیر میں نے کہا تھا ناں یہاں آکر تمہاری لَک چلنے والی ہے اور تم کتنی لکّی ہو یہ تمہیں معلوم ہونے والا ہے”
وہ ٹرے ہاتھ میں لیے اپنے پاس آتی صوفیہ کو دیکھ کر بولا تو مغیث وہی کھڑا مسکرانے لگا
“مغیث عالم اس کمرے میں موجود تھے اور وہ تمہیں نظر نہیں آرہے تھے یعنی تم اتنی دیر سے اُلّو بنارہے تھے مجھے”
صوفیہ نے موحد کے ہاتھ سے ٹرے لےکر وہی ٹرے اسے مارنے کی کوشش کی، لیکن موحد نے اپنا بچاؤ کرنے کے ساتھ ٹرے کو فوراً پکڑلیا
“یار کیا کررہی ہو یہ کوئی عالم ہاؤس کے برتن نہیں ہیں، اس کے ٹوٹنے کی الگ سے پیمنٹ ادا کرنی پڑے گی۔۔۔ تمہیں اُلوّ صرف میں نے نہیں بنایا بلکہ وہ جو موصوف کھڑے ہوۓ مسکرا رہے ہیں اِس کام میں انہوں نے بھی میرا ساتھ دیا”
موحد کے بولنے کے باوجود صوفیہ نے دو زبردست قسم کے مٌکے موحد کی پتلی سی کمر پر جڑ دیئے جس سے وہ بری طرح بلبلا اٹھا
“کیا کررہی ہو یار صوفی بےشک میں مرد ہوں مگر نازک قسم کا، مار کیوں رہی ہو مجھے۔۔۔ بھائی آپ اب بھی کھڑے ہوئے ہنس رہے ہیں بچاۓ ناں یار اِس بلا سے مجھے”
موحد نے اپنا بچاؤ کرتے ہوئے مغیث سے مدد مانگنی چاہیے
“چھوڑ دو ناں صوفیہ اسے وہ نازک سا بچہ ہے اور ہم دونوں کو دو بار ملانے میں اسی کا تو ہاتھ ہے”
مغیث موحد کو صوفیہ کے شَر سے بچاتا ہوا بولا جوکہ تیسرا کرارا سا مُکا اس کے پیٹ میں رسید کرنے کے چکر میں تھی
“چھوڑوں گی تو میں اب آپ کو بھی نہیں ہمت کیسے کی آپ سب نے مل کر میرے ساتھ ایسا بیہودہ مذاق کرنے کی”
مغیث نے صوفیہ کے دونوں ہاتھوں کو پکڑا ہوا تھا تاکہ موحد وہاں سے فرار ہوجائے۔۔۔۔ اور وہ واقعی اپنی جان بچاتا ہوا اپنا کافی کا مگ اٹھاکر ہٹ سے باہر نکل گیا۔۔۔ صوفیہ ناراض نظروں سے مغیث کو دیکھنے لگی
“دور گھڑی ہوئی مجھے کیا دیکھ رہی ہو میں خود بھی نہیں چاہتا کہ آج تم مجھے چھوڑو”
مغیث نے بولتے ہوئے صوفیہ کو اپنی جانب کھینچ لیا ساتھ ہی اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کرلیا۔۔۔ وہ اسے بازوؤں میں بھر کر ڈھیر سارا پیار کرنے لگا۔۔۔ کیوکہ کافی جتنی بھی مزے دار ہو صوفیہ کی موجودگی میں اب اپنی اہمیت کھو چکی تھی۔۔۔ دوسری جانب صوفیہ کا یہی حال تھا شدید ٹھنڈ میں کافی کی اشد ضرورت ہونے کے باوجود اسے مغیث عالم کی قربت کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا
**
The End❣️
