354K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Deewani (Episode 24)

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

“یہ کون سا ٹائم ہے مغیث عالم آپ کے گھر آنے کا رات کے بارہ بج رہے ہیں آپ کو ذرا بھی احساس ہے کہ میں گھر میں اکیلی ہوں”

جیسے ہی مغیث سیڑھیاں چھڑتا اوپر آیا ویسے ہی صوفیہ ٹیرس میں کھڑی اونچی آواز میں بولی۔۔۔ مغیث اسے بازو سے پکڑتا ہوا کمرے کے اندر لایا اور اس کا بازو چھوڑتا ہوا غصے میں بولا

“گھر آنے میں اگر ذرا سی دیر کیا ہوگئی تم پورے محلے کو کیا سنا رہی ہو،، ویسے بھی تم گھر میں موجود ہو کسی جنگل میں نہیں”

مغیث لہجے میں ناگواری ظاہر کرتا ہوا صوفیہ سے بولا۔۔۔ آج نادر اور شارف اسے اٹھنے نہیں دے رہے تھے اور کل رات سے صوفیہ نے بھی اسی بات کو لےکر منہ بنایا ہوا تھا مگر وہ پھر بھی صوفیہ کا احساس کرتا ہوا جلدی چلے آیا تھا مگر یہاں دیر سے آنے کا طنعہ سن کر اسے غصہ آنے لگا

“یہ ذرا سی دیر ہوتی ہے ٹائم دیکھا ہے آپ نے، صبح سے یہ وقت آیا ہے آخر کر کیا رہے تھے آپ اپنی ان آوارہ دوستوں کے ساتھ”

صوفیہ کو مغیث کے غصہ کرنے پر مزید غصہ آیا کیوکہ غلطی اسی کی تھی دیر سے گھر آنے کے باوجود اپنی غلطی ماننے کی بجائے الٹا وہ اس پر ناراض ہورہا تھا۔۔۔ جبکہ دوسری طرف مغیث جو بوتل سے منہ لگاۓ پانی پی رہا تھا صوفیہ کو بدتمیزی سے بات کرتا دیکھ کر بوتل کو میز پر پٹختا ہوا بولا

“حد میں رہو اپنی اور ذرا آواز نیچی کرکے بات کرو، گھر کا نوکر نہیں ہوں میں کوئی جو تم مجھ سے اس لہجے میں بات کررہی ہوں۔۔۔ میں جو بھی کرتا پھرو اپنے دوستوں کے ساتھ تمہیں بتانا ضروری نہیں سمجھتا،، چاہے میں رات کے بارہ بجے آؤ یا پھر ساری رات گھر سے غائب رہو تمہیں اس سے غرض نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ شادی کے بات بہت سی لڑکیاں اکیلی رہتی ہیں، وہ اپنے شوہر کے دیر سے گھر آنے پر ان پر چڑھ نہیں دوڑتی تمہاری طرح، اس لیے تم سے بھی تمیز سے رہنا سیکھ لو”

مغیث اپنی طرف سے اچھی طرح اس کی طبیعت صاف کرتا ہوا بیڈ روم میں جانے لگا مگر صوفیہ کی بڑبڑاہٹ جو اسے صاف سنائی دے چکی تھی پلٹ کر واپس صوفیہ کے پاس آیا

“چھپ کر منہ ہی منہ میں کیا بول رہی ہوں مجھے، ذرا سامنے سے بولو”

وہ جب سے گھر لوٹا تھا صوفیہ مسلسل بدتمیزی کرنے کے ساتھ زبان چلاۓ جارہی تھی جو وہ اب تک برداشت کررہا تھا مگر اب اس کی برداشت جواب دینے لگی

“آپ مجھے نہیں بتائیں گے تب بھی کیا مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ کیا کرتے پھررہے ہیں اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ خالی خولی سڑکوں پر اپنے باپ کا نام اچھالنے کے سوا اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔۔۔۔۔ اور آپ کے وہ آوارہ قسم کے زلیل دوست بہت اچھا ہوگا کہ وہ کسی گاڑی کے نیچے آکر مر جائے تاکہ ان سے آپ کی جان تو چھوٹے۔۔۔ ڈرتی ہوں کیا میں آپ سے، آپ سے تو وہ گھر کا ملازم بہتر ہے جو عزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی کما۔۔۔

صوفیہ کے باقی کے جملے اس کے منہ میں ہی رہ گئے کیونکہ اس کے گال پر پڑنے والا مغیث کا طماچہ اس کی زبان کو بند کرچکا تھا

“میرے آگے تم کچھ بھی بکواس کرو گی اور میں خاموشی سے چپ کرکے سنتا رہوں گا اس خوش فہمی میں مت رہنا، اگر تمہارے ساتھ ہر وقت پیار سے پیش آتا ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں تم میرے سر چڑھ جاؤ اب چلے ذرا میرے آگے تمہاری یہ زبان پھر دیکھنا کیا کرتا ہوں میں تمہارے ساتھ”

مغیث اسے سن کر کھڑا ہوا دیکھ کر کپڑے تبدیل کرنے چلا گیا جب وہ چینج کرکے آیا وہ تب بھی اسی پوزیشن میں ویسے ہی کھڑی تھی مغیث اسے نظر انداز کرتا ہوا کچن میں چلا آیا اچھا تھا کہ وہ اسے تھوڑی دیر نظر انداز کیے رکھتا مغیث اپنے لیے کھانا نکالنے لگا تب اسے صوفیہ ٹیرس پر جاتی دکھائی دی بلا ارادہ وہ پلیٹ وہی رکھکر صوفیہ کے پیچھے چلا آیا

“کہاں جارہی ہو”

صوفیہ کو سیڑھیوں کی طرف جاتا ہوا دیکھ کر معیث اس کے پیچھے آتا ہوا بولا، مگر صوفیہ اس کو نظر انداز کرتی ہوئی سیڑھیوں سے اترنے لگی

“کیا پوچھ رہا ہوں میں تم سے، رکو صوفیہ کمرے میں چلو”

مغیث اسے سیڑھیاں اترتا ہوا دیکھ کر اس کے پیچھے آتا ہوا صوفیہ کا ہاتھ پکڑ کر بولا

“چھوڑ دے میرا ہاتھ، مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ سنا آپ نے”

صوفیہ مغیث کے ہاتھ پکڑنے پر زور سے چلاکر بولی تو نیچے پورشن میں لائٹ آن ہوگئی۔۔۔ مغیث کو صوفیہ کے چیخنے پر مذید غصہ آنے لگا

“کیا ڈرامہ کر رہی ہوں اندر چل کر یہ تماشا کرو پھر تمہیں میں اچھی طرح بتاتا ہوں”

مغیث صوفیہ کا ہاتھ چھوڑیں بنا دانت پیس کر بولا اسے واپس اوپر لے جانے لگا

“اور کیا بتائیں گے آپ مجھے سکون نہیں ملا آپ کو مجھ پر ہاتھ اٹھاکر یا پھر سچ بولنے پر جان سے مارنا چاہتے ہیں آپ مجھے،، بول دیا ناں اب میں آپ کے ساتھ نہیں رہوگی”

صوفیہ دوبارہ اونچی آواز میں بولی تو مغیث کا ضبط دوبارہ جواب دینے لگا مگر وہ برداشت کرتا ہوا بولا

“تم جان بوجھ کر شور مچا رہی ہوں صوفیہ جو بھی جھگڑا کرنا ہے وہ کمرے میں چل کر کرو یہاں تماشہ مت بناؤ اپنا اور میرا،، یہ ہمارا نہیں کسی دوسرے کا گھر ہے”

مغیث اس کے اونچی آواز میں شور کرنے پر سمجھا ہی رہا تھا کہ طالب اور رخسار باہر نکل آۓ

“کیا ہورہا ہے مغیث سب خیریت ہے”

طالب مغیث کو دیکھ کر پوچھنے لگا تو مغیث نے صوفیہ کا پکڑا ہوا ہاتھ چھوڑ دیا وہ دونوں میاں بیوی نیچے کھڑے ہوۓ سیڑھیوں پر موجود مغیث اور صوفیہ کی جانب دیکھ رہے تھے

“جی طالب بھائی سب خیریت ہے بس اس کا باہر جانے کا موڈ ہورہا تھا تو اسے سمجھا رہا تھا کہ آہستہ آواز میں بات کرو، سوری آپ دونوں کی نیند بھی ڈسٹرب ہوگئی ہماری وجہ سے شاید”

مغیث طالب کو دیکھ کر بات بناتا ہوا بولا اس سے پہلے طالب یا رخسار میں سے کوئی کچھ بھی بولتا صوفیہ نیچے سیڑھیاں اترنے لگی

“رخسار بھابھی بات یہ نہیں ہے آپ پلیز مجھے اپنے موبائل سے ایک کال ملانے دیں میں اب مزید یہاں ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی، یہاں سے جانا چاہتی ہوں میں”

صوفیہ اچھی طرح جانتی تھی اس وقت مغیث اسے اپنا موبائل کبھی یوز کرنے نہیں دیکھا لیکن وہ موحد کو یہاں بلانا چاہتی تھی تاکہ یہاں سے جاسکے

“صوفیہ بچوں جیسی حرکتیں مت کرو اوپر کمرے میں چل کر بات کرو،، یوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض نہیں ہوا کرتے تم طالب بھائی بھابھی کو بھی پریشان کررہی ہو اور جس کو کال کرکے بلاؤ گی اسے بھی پریشان کرو گی پلیز اپنے روم میں چلو”

مغیث صوفیہ کی بات پر خود بھی نیچے سیڑھیاں اترتا ہوا بغیر غصے کے بولا اس وقت غصے کی بجائے تحمل سے کام لینا ہی عقلمندی تھی کیونکہ جو سین صوفیہ کری ایٹ کرچکی تھی اس کے بعد مغیث کو نہیں لگ رہا تھا کہ اسے بھی مزید غصہ دکھانا چاہیے وہ کسی طرح صوفیہ کو اوپر روم میں لے جانا چاہتا تھا جبکہ طالب اور رخسار دونوں میاں بیوی خاموش کھڑے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے

“کس چھوٹی بات کو لےکر آپ سے ناراض ہوئی ہوں میں مغیث عالم مجھ پر ہاتھ اٹھاکر آپ نے چھوٹی بات کی ہوگی اگر بدلے میں آپ کے اوپر ہاتھ اٹھاتی تو وہ ہرگز چھوٹی بات نہیں ہوتی” صوفیہ نے مغیث کو دیکھ کر جواب دیا جس سے نہ صرف مغیث سناٹے میں آگیا بلکہ طالب اور رخسار بھی حیرت زدہ ہوکر مغیث کو دیکھنے لگے جس پر مغیث کا دل چاہا وہ زمین میں گڑھ جائے

“کیا میں آپ کا موبائل یوز کر سکتی ہوں طالب بھائی” مغیث نے صوفیہ کے کہتے سنا جس پر طالب نے اپنی جیب سے موبائل نکال کر صوفیہ کی طرف بڑھانے میں ذرا دیر نہیں کی صوفیہ موبائل پر یقینا موحد کا نمبر ڈائل کررہی تھی مغیث خفگی سے صوفیہ کو دیکھنے لگا

“موحد میں بات کر رہی ہوں صوفیہ، یہاں پر میرے پاس جلد سے جلد پہنچوں”

وہ مغیث کی نظروں کو نظر انداز کئے موحد سے بولنے لگی

“ہاں سب خیریت ہے تم بتاؤ تم ابھی اسی وقت آرہے ہوں یا پھر میں خود ہی عالم ہاؤس آجاؤ”

اب کی بار صوفیہ جھنجھنلا کر بھراۓ ہوئے لہجے میں بولی اور موبائل طالب کو تھماکر سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اوپر چلی گئی۔۔۔

وہ دونوں جن نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے مغیث ان دونوں میاں بیوی سے نظریں نہیں ملایا پارہا تھا وہ نظر چراتا ہوا بناء کچھ بولے خود بھی سڑھیاں چڑھتا اوپر چلاگیا۔۔۔۔ جہاں صوفیہ بیگ کے اندر اپنے کپڑے ڈال رہی تھی مغیث کا پارہ ایک بار پھر ہائی ہونے لگا اس نے جھپٹنے والے انداز میں بیگ اٹھاکر دور فرش پھینک اور سختی سے صوفیہ کے دونوں بازو پکڑتے ہوئے اسے پیچھے دیوار سے لگایا جس پر صوفیہ کا سر بھی دیوار سے ٹکرایا وہ آہستہ آواز میں کراہی ضرور مگر ڈرے بناء مغیث کو دیکھنے لگی جو غصے میں اسے ایسی نظروں سے دیکھ رہا تھا جیسے ابھی کچا چبا ڈالے گا

“سکون نہیں ملا ان دونوں کے سامنے میری بےعزتی کرکے جو اب موحد کو تم نے یہاں بلایا ہے، اگر موحد کے سامنے تم نے کوئی بھی بکواس کی صوفیہ تو میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گا” مغیث غصے میں غراتا ہوا صوفیہ سے بولا وہ بالکل نہیں چاہتا کہ صوفیہ موحد کے سامنے کوئی تماشہ کرے اور بات عالم ہاوس تک جائے یا پھر صوفیہ عالم ہاوس چلی جائے

“کیسا محسوس کررہے ہیں آپ اپنی انسلٹ پر شرمندگی سے نظریں نہیں ملائی جارہی تھی کیا طالب بھائی اور ان کی بیوی سے،، تو سوچیں مجھے پر جب آپ نے ہاتھ اٹھاکر مجھے میری نظروں میں ذلیل کے تو مجھے کیسا محسوس ہورہا ہوگا آپ کو تو شرم نہیں آتی ناں مجھے میری نظروں میں زلیل کرتے ہوۓ۔۔۔ اور مغیث آپ واقعی جان لےلیں اپنے ہاتھوں سے میری کیوکہ آپ جیسے شخص سے محبت کرکے اور نکاح کرنے کے بعد اب میں یہی ڈیذرو کرتی ہوں شاید عزت دار زندگی گزانا میری قسمت میں لکھا ہی نہیں ہے”

صوفیہ مغیث کو دیکھتی ہوئی بولی اس کا لہجہ اس قدر ٹوٹا بکھرا تھا کہ مغیث کے ہاتھوں کی گرفت اس کے بازوؤں پر ڈھلی ہوگئی اور چہرے پر غصے کے اثرات بھی غائب ہوگئے۔۔۔ وہ خاموشی سے جا کر بیڈ پر بیٹھ گیا صوفیہ مغیث کو دیکھنے کے بعد دوبارہ بیگ اٹھاکر اپنے کپڑے اس میں رکھنے لگی

“موحد جب آئے گا تو کوئی بھی بہانہ بنا دینا تم کہیں بھی نہیں جارہی”

مغیث اسے دوبارہ کپڑے ڈالتا ہوا دیکھ کر بولا تو صوفیہ کے ہاتھوں کی حرکت روکی وہ نم آنکھوں سے مغیث کو دیکھنے لگی

“اگر مجھ سے محبت نہ سہی مگر میرا اتنا احساس تو کرتے ہوگے آپ، کہ مجھے اپنی آنکھوں کے سامنے گھٹ گھٹ کر مرتا دیکھنا نہیں چاہیں گے۔۔۔ آپ اس روش کو چھوڑنا نہیں چاہتے مغیث مگر میں آپ کو اس راستے پر چلتا ہوا نہیں دیکھ سکتی آپ کو اس روپ میں دیکھ کر اندر اندر ہی گھولتی چلی جاؤگی میں اور پھر سچ میں ایک دن مر جاؤں گی۔۔۔ پلیز مجھے یہاں سے جانے دیں کیونکہ آپ اپنے رویے سے یہ ظاہر کرچکے ہیں کہ آپ کو اپنے رشتوں سے زیادہ عزیز اپنی شوق ہیں”

صوفیہ کی بات سن کر وہ خاموش رہا صوفیہ دوبارہ بیگ میں اپنے کپڑے ڈالنے لگی تھوڑی دیر بعد وہاں موحد آگیا

“میں واپس جانا چاہتی ہوں موحد”

صوفیہ نے موحد سے اتنا ہی کہا۔۔۔ موحد نے صوفیہ کی روئی ہوئی آنکھوں کو دیکھا اور پھر ایک خاموش نظر اس نے مغیث پر ڈالی جو اپنا سر پکڑے بیڈ پر چپ بیٹھا تھا

“چلو”

وہ صوفیہ کا بیگ اٹھاکر اتنا ہی بولا اور کمرے سے باہر نکل گیا صوفیہ نے باہر نکلنے سے پہلے آنسو بھری آنکھوں سے مغیث کو دیکھا جو سر اٹھاکر سرخ آنکھوں سے اسی کو دیکھ رہا تھا صوفیہ اس کی آنکھوں میں رک جانے کی التجا دیکھتے ہوۓ بھی اپنے دل کو مار کر موحد کے پیچھے چلی گئی

*****

“خدارا مہرو مجھے بتاؤ تو آخر ہوا کیا ہے تم کپڑوں سے بھرا بیگ اٹھاکر یہاں آگئی ہو ابھی موحد بھی صوفیہ کو مغیث کے پاس سے لینے گیا ہے وہاں وہ موحد سے عالم ہاؤس جانے کی ضد کررہی ہے۔۔۔ یہ سب ہو کیا رہا ہے دیکھو اگر سے تم جھگڑا کرکے یہاں آئی ہو تو مجھے بتاؤ”

شام سے مہرماہ ستارہ کے پاس آئی ہوئی تھی مگر وہ ستارہ رومان یا موحد کے پوچھنے پر کسی کو کچھ بھی نہیں بتارہی تھی۔۔۔ موحد اس وقت ستارہ کے پاس موجود تھے جب صوفیہ نے اسے کال کرکے بلایا تھا اس لئے ستارہ اور بھی زیادہ پریشان ہوگئی تھی، وہ شام کی طرح ایک بار پھر مہرماہ سے سوال کرنے لگی

“ماما آپ سمجھ رہی ہیں بجو اپنے شوہر سے جھگڑ کر یہاں آئی ہوگیں، کیا بجو کی لڑائی کرنے والی نیچر ہے یا پھر آپ کو اپنے بڑے بیٹے کی نیچر کا اندازہ نہیں ہوا ابھی تک۔۔۔ پلیز آپ بجو سے کچھ بھی پوچھ کر انہیں مزید ڈسٹرب نہیں کریں”

مہرماہ کی بجاۓ رومان ستارہ سے بولا مہرماہ نے ستارہ کی بات کا اب بھی کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔ نہ ہی وہ رومان کے بولنے پر کچھ بولی وہ شام کی طرح ویسی ہی خاموش بیٹھی ہوئی تھی،، اس وقت وہ اپنے موبائل کی اسکرین پر محب کا میسج دیکھ رہی تھی جو چند گھنٹے پہلے اس کے پاس آیا تھا۔۔۔ جس میں محب نے اس کے یوں گھر چھوڑ کر آنے پر اس پر سخت غصہ کیا تھا محب نے میسج میں مہرماہ کو دل دکھانے والی باتیں بولیں تھی جیسے وہ ہمیشہ بولتا آیا تھا اور ساتھ یہ بھی بولا تھا کہ اب وہ کبھی بھی اس کو واپس لینے نہیں آئے گا۔۔۔۔ مہرماہ اپنا موبائل آف کرکے بیڈ پر آنکھیں بند کرکے لیٹ گئی

“ٹھیک ہے پھر میں محب سے ہی فون کرکے پوچھ لیتی ہوں آخر کیا بات ہے” ستارہ مہرماہ کو دیکھ کر رومان کو جواب دیتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی ساتھ ہی ستارہ کو مغیث کی بھی فکر تھی وہ بھی تو اکیلا تھا نہ جانے صوفیہ کس بات پر ناراض ہوکر گھر چھوڑ گئی تھی

*****

“عبدل کہاں مر گئے ہو”

محب ابھی آفس سے گھر پہنچا تھا تب عبدل کو محب کی گرجدار آواز سنائی دی وہ دوڑتا ہوا محب کے کمرے میں آیا

“محب بھائی آپ ہی کے لیے چاۓ بنا رہا تھا”

عبدل نے کمرے میں آنے کے ساتھ محب جو جواب دیا۔۔۔ کل سے محب کو شدید غصے میں دیکھ کر عبدل کی جان پر بنی ہوئی تھی وہ ڈرتا ہوا محب سے بولا

“تمہارے ہاتھ کی بدمزہ چاۓ پی کر زلیل نہیں ہونا مجھے، مہر سے کہو وہ چاۓ بناکر لاۓ میرے لیے۔۔۔۔ بلکہ اس سے بولو جب وہ آفس سے آیا کرو تو وہ کچن کی بجاۓ یہاں کمرے میں موجود رہا کرے میرے سامنے”

سر میں اٹھنے والے شدید درد کے باعث وہ پین کلر منہ میں ڈال پانی پینے لگا تو عبدل ہونق ہوکر محب کو دیکھے گیا

“بھابھی تو کل سے اپنے میکے گئی ہوئی ہیں محب بھائی”

عبدل محب کی غائب دماغی پر افسوس کرتا ہوا اسے یاد دلانے لگا وہی عبدل کے منہ سے جملہ سن کر محب کو پانی حلق سے اتارنا مشکل ہوگیا

“وہ میکے چلی گئی ہے تو مجھے کیا بتارہے ہو، غائب کرو اپنی شکل میرے کمرے سے”

محب نے غراتے ہوۓ بولنے کے ساتھ پانی کا گلاس عبدل کا نشانہ لےکر دے مارا۔۔۔ مگر اس سے پہلے ہی عبدل محب کے کمرے سے ایسے غائب ہوچکا تھا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔۔۔ عبدل کل سے ہی خود کو محب ک شر سے ایسے ہی بچا رہا تھا

محب ڈھلیے انداز میں صوفے سے ٹھیک لگاۓ اپنی کنپٹی کو دبانے لگا کل سے اس کو مہرماہ کے اوپر شدید غصہ تھا وہ اسے بناء پوچھے اس کو بتائے بغیر یہاں سے چلی گئی تھی۔۔ محب مہرماہ کو نہ تو واپس لانے کا ارادہ رکھتا تھا نہ ہی مہرماہ کو اس نے کال کی تھی۔۔۔۔ البتہ میسج کرکے اس نے مہرماہ کو یہ ضرور باور کروایا تھا کہ وہ کبھی اچھی بیوی نہیں بن سکتی وہ نافرمان ہے اور یہ بچہ اس نے پیدا کیا تو وہ یہ بچہ خود ہی خود ہی پالے گی،،

غصے کے بناء محب نے آج صبح مغیث کو اپنے آفس میں دیکھ کر اسے بھی سخت قسم کی باتیں سنائی تھی باتیں سناتے وقت وہ یہ بھی بھول گیا تھا کہ مغیث اسی کے ہی اصرار کرنے پر آج افس اس کے پاس آیا تھا، محب نے مغیث کو بتایا تھا وہ ایک غیرذمہ دار اور لاپرواہ شخص تھا جو صوفیہ کا بالکل احساس نہیں کرتا تھا محب کو اس پر شدید قسم کا غصہ اس لیے تھا کیوکہ کل رات صوفیہ موحد کے ساتھ عالم ہاؤس آچکی تھی

کل رات صوفیہ نے محب کے کچھ بھی پوچھنے پر اسے کچھ نہیں بتایا تھا وہ بھی بالکل خاموش تھی ہے۔۔۔ جبران اور محب کے سامنے بس آنسو بہاۓ جارہی تھی جس سے جبران اور محب نے اندازہ لگایا تھا غلطی یقینا مغیث کی ہوگی جبران کو بھی اب مغیث پر شدید قسم کا غصہ تھا

محب جس وقت مغیث کو باتیں سنا رہا تھا اسے اچھی طرح اندازہ تھوڑی دیر باتیں سننے کے بعد مغیث بھی غصے میں بھڑک جائے گا کیوکہ محب اپنے چھوٹے بھائی کی عادت اچھی طرح جانتا تھا مگر توقع کے برخلاف وہ محب کی ساری باتیں خاموشی سے سنتا گیا آگے سے مغیث نے ایک لفظ بھی نہیں بولا

مہرماہ پر غصے کے چکر میں وہ آفس میں اپنے ورکرز پر بھی وقفے وقفے سے غصہ نکال رہا تھا۔۔۔ آفس سے تھوڑی دیر نکلنے سے پہلے اس کے پاس ستارہ کی بھی کال آئی جس پر ستارہ نے محب سے اس کی اور مہرماہ کی ناراضگی کی وجہ جاننا چاہی، محب نے ستارہ سے بھی کافی رکھائی سے بات کی اسے بتایا کہ مہرماہ ایک کم عقل بیوقوف اور بات نہ ماننے والی نافرمان لڑکی ہے اور ستارہ کو یہ بھی کہا کہ ناراضگی کی وجہ وہ خود اپنی بیٹی سے پوچھ لے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے پاس چلی آئی تھی

“اسی بات کا تو خوف ستاۓ رہتا تھا مجھے، اور وہی کیا تم نے میرے ساتھ۔۔۔ اچھا نہیں کیا بالکل اچھا نہیں کیا مہر”

آنکھیں بند کیے اپنی کنپٹی دباتے ہوۓ وہ بڑبڑا رہا تھا تب اس کے کمرے میں جبران چلا آیا

“بات کرسکتا ہو اس وقت تم سے”

جبران کی بات پر محب سیدھا ہوکر بیٹھا

“کیوں نہیں جابی بولیں کیا بات ہے، اگر ضروری بات ہے تو آپ مجھے بلوا لیتے اپنے پاس”

وہ کسی سے بھی بدتمیزی بدکلامی کرلے مگر جبران سے بدتمیزی یا بدکلامی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا اس لئے احتراماً اس سے بولا

“مہرماہ گھر چھوڑ کر کیوں گئی ہے محب مجھے بغیر گھمائے سیدھا سیدھا اپنی بات کا جواب چاہیے”

جبران سامنے صوفے پر بیٹھ کر ڈائریکٹ وہی سوال پوچھنے لگا جس کا وہ جواب جاننا چاہتا تھا کل تک اسے لگ رہا تھا مہرماہ اپنے گھر رہنے گئی تھی، لیکن آج اس موحد نے بتایا تھا کہ مہرماہ اور محب کے درمیان لڑائی کی وجہ سے مہرماہ گھر چھوڑ کر گئی تھی

“جابی وہ ایک ناسمجھ لڑکی ہے میری بات کو سمجھنے کی بجائے الٹا اس بات کی مخالفت میں وہ گھر چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔۔ گستاخی معاف لیکن اب میں خود سے اسے ہرگز لینے نہیں جاؤں گا” محب اصل بات بولتا ہوا کترایا وہ صاف لفظوں میں آخر مہرماہ کے گھر چھوڑ کر جانے کی کیا وجہ بتاتا

“تمہاری کس بات پر اختلاف کیا ہے مہرماہ نے کیا میں جان سکتا ہوں”

جبران کے سوال کرنے پر وہ خاموش رہا کیا بتاتا،، جبران نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا مگر اب کی بار جبران کے لہجے میں ہلکی سی سختی بھی شامل تھی۔۔۔۔ محب وجہ بتانے کے لئے اپنا گلا کھنگارنے لگا

“میں فوری طور پر بچے کی ذمہ داری نہیں چاہتا میں نے اس سے بولا فی الحال ہمہیں اس بارے میں نہیں سوچنا چاہیے اس لیے کل میں اسے اپنے ساتھ ہاسپیٹل آبورشن کے لیے۔۔۔۔

اپنی نظریں جھکاتا ہوا بس وہ اتنا ہی بول پایا اسے اندازہ تھا باقی کے بات جبران خود ہی سمجھ گیا ہوگا۔۔۔ محب نے نظریں اٹھاکر دیکھنے کی ہمت نہیں کی تھی کہ اس وقت جبران کے تاثرات کتنے غضیلے تھے محب اس کا اندازہ جبران کی پھٹکار سے لگانے لگا جو اب اس کو پڑ رہی تھی

“بے وقوف نالائق انسان تمہیں شرم نہیں آئی اپنی اولاد کے بارے میں اپنی بیوی سے ایسی بات کرتے ہوئے۔۔۔ کم عقل ناسمجھ تمہاری بیوی نہیں بلکہ تم خود ہو،، کیا کرنے جارہے تھے تم اپنی بیوی کو اسپتال جاکر۔ِ تم اس قدر احمق انسان نکلوگے محب مجھے تم سے بالکل بھی توقع نہیں تھی ابھی اور اسی وقت جاؤ اور مہرماہ کو واپس عالم ہاؤس لےکر آؤ”

جبران محب کی اچھی طرح کھچائی کرنے کے بعد اسے مہرماہ کو واپس لانے کے لئے بولا تو محب نے جھکا ہوا سر اٹھاکر جبران کو دیکھا

“جابی مجھے ڈر لگتا ہے اگر بعد میں مہرماہ مجھے چھوڑ گئی تو میری اولاد میری طرح بغیر ماں کے کیسے اپنی زندگی گزارے گی”

محب کے بولنے پر جبران اس کو غصے میں کچھ بولتا ہوا ایک دم رک گیا اس کا بڑا یہ بیٹا اس وقت اٹھائیس سالہ مرد نہیں بلکہ کوئی سہما ہوا بچہ لگ رہا تھا۔۔۔ شاید وہ ان محرومیوں کا شکار تھا جو اس نے بغیر ماں کے بچپن میں برداشت کی تھی۔۔۔ جبران چاہ کر بھی ستارہ کے بغیر اپنے بیٹوں کو اچھا بچپن نہیں دے پایا تھا جس کا منہ بولتا ثبوت ایک بیٹا اس کے سامنے بیٹھا تھا اور دوسرا عالم ہاؤس سے دور،، کیا ان دونوں کی زندگی بھی اس کی طرح ناکام گزرنے والی تھی۔۔۔۔ نہیں وہ ایسا ہرگز نہیں ہونے دینا چاہتا تھا

“محب جیسا تم سوچ رہے ہو ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا،، مہرماہ بہت اچھی بچی ہے، میاں اور بیوی کا تعلق تو بہت نزدیک کا ہوتا ہے تم نے مہرماہ کے ساتھ وقت گزارتے کیا اسے اتنا ہی جانا ہے، وہ کم عقل ہے یا نہ سمجھ ہے اس بات کو چھوڑو، یہ بتاؤ اس نے کب تمہارے حکم کی خلاف ورزی کی۔۔۔ اس بات کو چھوڑ دو کہ اس نے تمہاری بات کو رد کرتے ہوئے گھر چھوڑ کر چلی گی ایسا کوئی بھی ماں اپنی اولاد کے ساتھ نہیں کرسکتی کہ دنیا میں لانے سے پہلے اس کے خاتمے کا سوچے۔۔۔ بیٹ ایسا ضروری نہیں ہے کہ جو حالات تم نے بچپن میں فیس کیے ہو وہ تمہاری اولاد بھی فیس کرے یہ کس کتاب میں لکھا ہوا ہے بتاؤ مجھے۔۔۔۔ آج میں تمہارے سامنے اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ مجھے ستارہ کے چلے جانے کے بعد ہمیشہ پچھتاوا رہا کہ میں نے کیوں اسے گھر سے نکال دیا۔۔۔ وہ کوئی بدکردار عورت نہیں تھی ہاں اس سے یہ غلطیاں ضرور ہوئی تھی کہ وہ تم لوگوں کو، مجھے، یا پھر میرے گھر کو ٹائم نہیں دے پاتی تھی جس کے بدلے میں اس کا دل دکھانے کے لئے میں اس کے کردار پر ایسے جملے بول دیتا۔۔۔ کوئی بھی صاف کردار کی عورت اپنی کردار کشی برداشت نہیں کرسکتی تمہاری ماں نے بھی برداشت نہیں کیا، اس لیے وہ مجھے چھوڑ گئی اس کے جانے کے بعد میں آج تک پچھتا رہا ہوں کہ کاش کہیں سے ایک بار ہی سہی وہ میرے سامنے آجائے اور میں اس سے اپنے کیے کی معافی مانگ لو، کیا ہوجاتا اگر میں اس وقت ذرا سا ظرف دکھا لیتا میری اپنی بہن کی بیٹی صوفیہ بھی تو یہی اسی گھر میں پلی بڑھی ہے فراز کی بیٹی بھی اگر یہی پل جاتی تو کیا ہو جاتا”

مجب نے جبران کا چہرہ دیکھا جو اس وقت آنسوؤں سے تر تھا وہ ہمیشہ اپنے باپ کو مضبوط دیکھتا آیا تھا جو آج اس کے سامنے یوں اپنی غلطی پر پشیمان ہوکر رو رہا تھا۔۔۔ جبران اپنے آنسو صاف کرتا ہوا دوبارہ بولا

“جو غلطی تمہارا باپ کرچکا ہے اسے دہرانے کی بجائے اس سے سبق سیکھو محب،، اپنے ماضی کو سوچ کر اپنے حال کو برباد مت کرو نہیں تو مستقبل میں سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں رہے گا پھر”

جبران سے سمجھاتا ہوا بولا

اور صوفے سے اٹھا اس نے سوچا تھا وہ محب کے ساتھ جاکر مہرماہ کو واپس لے آئے گا آخر کو وہ اس کی بہو تھی اس کے خاندان کو کتنی بڑی خوشی دینے والی تھی۔۔۔ اتنے میں کمرے میں عبدل آیا

“جبران صاحب مہرماہ بھابھی کی امی آئی ہیں وہ کہہ رہی ہیں انہیں آپ سے اور محب بھائی سے بات کرنا ہے اس لیے میں انہیں ڈرائینگ روم میں بٹھا کے آیا ہوں”

عبدل نے ستارہ کا پیغام جبران کو دیا تو وہ سر ہلاکر عبدل کو جانے کا اشارہ کرتا ہوا محب کو اپنے ساتھ ڈرائنگ روم میں چلنے کا کہنے لگا