Teri Deewani By Zeenia Sharjeel Readelle 50387 Teri Deewani (Episode 3)
Rate this Novel
Teri Deewani (Episode 3)
Teri Deewani By Zeenia Sharjeel
“ڈر گئی ہو اس رات والے واقعے کے بعد سے، چلو اچھا ہی ہے دیر سے ہی سہی عقل تو آئی تمہیں”
صوفیہ شام کے لئے چائے تیار کررہی تھی تب مغیث کچن میں آتا ہوا صوفیہ کو دیکھ کر بولا کیوکہ اس رات والے واقعے کے بعد سے تین دن ہوچکے تھے صوفیہ نے اسے مخاطب نہیں کیا تھا۔۔۔ مغیث کی بات سن کر صوفیہ مسکراتی ہوئی اس کے پاس آئی اور اپنے ہاتھ باندھ کر بولی
“مغیث عالم سب سے پہلے تو آپ اپنی یہ خوش فہمی دور کرلیں کہ میں آپ سے ڈر گئی ہوں اس رات اگر میں آپ کے کمرے سے چپ چاپ چلی گئی تھی تو اس کو اپنی جیت سمجھ کر خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ رہی تین دن سے آپ کو نظرانداز کرنے کی بات تو میرے سمسٹرز اسٹارٹ ہوگئے ہیں اور اس وجہ سے میں بہت بزی ہوں کیوکہ اس بار مجھے موحد سے زیادہ نمبر لینے ہیں تو سمجھ لیں اسی وجہ سے میں نے آپ کی جان بخشی ہوئی ہے ورنہ آپ سے محبت کرنے کا دم تو نے ساری زندگی بھرتی رہو گی”
صوفیہ نے بےباک انداز سے مغیث کو جواب دیا جسے سن کر مغیث کی پیشانی پر بل نمایاں ہوئے وہ پچھتانے لگا کہ اس نے کیوں صوفیہ کو خود سے مخاطب کیا
“غلط کیا جو میں نے تمہیں خود سے مخاطب کرکے ورنہ تین دن سے تمہاری بکواس نہیں سنی تھی کم از کم زندگی میں سکون تھا”
مغیث بولتا ہوا کچن سے جانے لگا وہ کچن میں اس مقصد کے لیے آیا تھا تاکہ کچھ کھانے کو مل جاۓ کیوکہ دوپہر اس نے کھانا نہیں کھایا تھا۔۔۔ مغیث کو جاتا ہوا دیکھ کر صوفیہ نے اچانک اس کا ہاتھ پکڑلیا مغیث ایک پل کے لئے اُس کی جرات پر حیران ہوا کیوکہ یہ جرت آج اس نے زندگی میں پہلی بار کی تھی
“غلط، بالکل غلط بول رہے ہیں آپ مغیث عالم آج آپ نے مجھے خود سے
مخاطب کرکے اِس بات کا ثبوت دیا ہے کہ تین دن سے آپ نے میرے منہ سے کوئی محبت بھرا جملہ نہیں سنا جس کو سننے کے اب آپ اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ یہی بےسکونی آپ کو میرے پاس کھینچ لائی ہے”
صوفیہ کے بولنے کی دیر تھی مغیث نے غصے میں اپنا ہاتھ جو صوفیہ کے ہاتھ میں موجود تھا بری طرح جھٹکا اور خود اس کا بازو پکڑا
“بکواس بند کرو اپنی، لڑکی کو اس قدر بھی بےشرم نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنے منہ سے کسی مرد کے سامنے اپنی محبت کا اعتراف کرے”
گویا مغیث نے وہی کھڑے کھڑے صوفیہ کو شرم دلانے کی کوشش کی تھی جس پر صوفیہ اپنا چہرہ مغیث کے چہرے کے قریب لاتی ہوئی بولی
“سچ سننا ہضم نہیں ہوا تو مجھے شرم دلانے لگے آپ مغیث عالم مگر آپ ایسی باتیں بول کر میری محبت کا گلا نہیں دبا سکتے مجھے اس بات پر کوئی شرم نہیں کہ میں اپنی محبت کا اعتراف اس مرد کے سامنے کررہی ہو جسے میرا دل شدت سے چاہنے لگا ہے اور مجھے پورا یقین ہے میرے جذبوں میں اتنی سچائی ہے کہ ایک دن آپ کو بھی اس محبت سے محبت ہوجاۓ گی اور وہ دن جلد آۓ گا جب آپ میرے سامنے اپنی محبت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاۓ گے”
صوفیہ نے اتنے کانفیڈینس سے یہ بات کی کہ مغیث اس کے انداز پر صوفیہ کو دیکھتا رہ گیا جس کے بعد مغیث نے صوفیہ کے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر اس کا چہرہ اپنے چہرے سے مزید قریب کیا۔۔۔ مغیث کی اس حرکت پر صوفیہ ایک پل کے لئے بری طرح سٹپٹائی تھی، مغیث خاموشی سے لیکن بہت غور سے صوفیہ کا چہرہ دیکھ رہا تھا اس کی سانسوں کی گرمائش کو اپنے چہرے پر محسوس کرکے صوفیہ کی پلکیں بےاختیار نیچے جھک گئی
“دعا کرو کہ ایسا دن نہ آۓ اگر ایسا ہوگیا تو تمہارے پاس پچھتاوں کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔۔۔ اپنی زندگی کو مشکلات کی نظر مت کرو ورنہ تمہارا انجام برا ہوگا”
مغیث صوفیہ کو تنبہی کرتا ہوا اس کے بالوں کو اپنی مٹھی سے آزاد کرچکا تھا۔۔۔ مگر صوفیہ اس کی بات پر تڑپ گئی بے اختیار صوفیہ کے ہاتھ مغیث کے گریبان تک گئے جسے پکڑ کر اس نے مغیث کو خود سے دوبارہ اپنے قریب کرلیا
“میں پچھتانے کے لیے خوشی خوشی آمادہ ہوں مغیث عالم،، مگر مجھے خود سے دور کرنے کی بات کبھی مت کریئے گا۔۔۔ اور نہ ہی کبھی ایسی کوشش کرئیے گا ورنہ آپ کی یہ دیوانی زندہ نہیں رہ سکے گی۔۔۔ آپ سے محبت میں نے اپنا انجام سوچ کر نہیں کی ہے تو انجام والی بات کو بھی جانے دیں”
صوفیہ اس کا گریبان پکڑے سنجیدہ انداز میں بولی اس کی سنجیدگی کا یہ عالم تھا کہ بات کرتے ہوئے صوفیہ کی آنکھوں کے گوشے نم ہونے لگے جسے دیکھ کر مغیث شاکڈ ہوا۔۔۔۔ وہ کل تک اس کی باتوں کو نہ تو سیریس لیتا تھا نہ ہی زیادہ سوچتا تھا کیوکہ ہمیشہ سے اسے بےتکہ بولنے کی عادت تھی لیکن اس وقت جو روپ وہ صوفیہ کا دیکھ رہا تھا وہ واقعی اس کے لیے لمحہ فکریہ تھا نہ جانے وہ کن راستوں پر نکل چکی تھی
بچپن میں چھوٹی عمر سے ہی وہ اسے عالم ہاؤس میں دیکھتا آیا تھا، جبران اور محب کی وہ لاڈلی تھی جبکہ موحد کی ہم عمر ہونے کی وجہ سے وہ موحد کی پکی دوست تھی باقی بچتا تھا وہ خود تو اس نے بچپن سے اب تک اسے خود سے ایک حد سے زیادہ بےتکلف نہیں ہونے دیا تھا پھر اسے محبت کیسے ہوسکتی تھی
“کچھ حاصل نہیں ہوگا تمہیں اس محبت سے بےوقوف لڑکی، بہتر یہی ہے اپنے قدم یہی روک لو ورنہ تمہیں تمہاری یہ محبت برباد کر ڈالے گی۔۔۔ ڈر جاؤ گی تم محبت کے انجام پر”
مغیث نے ایک بار پھر اسے سمجھانا چاہا
“بولا تو ہے ابھی میں نے آپ سے کہ آپ سے محبت انجام سوچ کر نہیں کی، نہ ہی مجھے کوئی ڈر ہے نہ ہی پرواہ”
صوفیہ کچھ بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھی مغیث نے افسوس کرتے ہوۓ اپنے گریبان سے صوفیہ کے ہاتھ ہٹانے چاہے، مغیث نے اس کی دونوں کلائیاں پکڑیں۔۔۔ مگر صوفیہ کے ہاتھوں کی سختی سے لگ رہا تھا وہ اس کا گریبان چھوڑنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے تب مغیث اس کے ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹائے بغیر اس کی کلائیاں پکڑے ہوئے صوفیہ کا چہرہ دیکھنے لگا، جیسے وہ اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی یوں ٹکٹکی باندہ کر پلکیں جھپکائے بغیر۔۔۔۔ ایک دوسرے کو دیکھنے کے چکر میں ان دونوں کو ہی خبر نہیں ہوئی کہ کب چائے کا پانی ابال کر کیتلی سے باہر آچکا تھا کچن کے اندر آتا ہوا موحد حیرت سے منہ اور آنکھیں کھولے یہ فلمی منظر دیکھنے لگا
یوں تیرا دیکھنا ہمیں گھائل نہ کر ڈالے ظالم۔۔۔۔۔
اس نازک سے دل کا تو سوچ تھوڑا سا تو رحم کر۔۔۔۔
موحد کے شعر پڑھنے پر وہ دونوں ایک دم ہوش میں آئے صوفیہ نے جلدی سے مغیث کا گریبان چھوڑا، مغیث صوفیہ سے فاصلہ اختیار کرتا ہوا موحد کو گھورنے لگا۔۔۔ جو اپنے بڑے بھائی کی چوری پکڑے جانے پر دانت نکالتا ہوا آگے بڑھ کر چولہا بند کررہا تھا
“اتنا چیپ شعر سنانے کی ہمت کیسے کی تم نے۔۔۔ بہت زیادہ شاعری آگئی ہے تمہیں،، اتاروں ابھی تم پر سے شاعری کا بھوت”
مغیث اپنے روپ میں واپس آچکا تھا جبھی وہ موحد کو آنکھیں دکھاتا ہوا بولا جبکہ صوفیہ ایک سائیڈ پر کھڑی ہوکر دونوں بھائیوں کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی
“یہ شعر میں نے آپ کے لئے نہیں بلکہ صوفی کے لئے بولا تھا میری کیا مجال ہے جو میں آپ کو چھیڑو،، نہ تو مجھ کمزور انسان میں اتنی ہمت ہے نہ ہی اتنا حوصلہ یہ ڈیپارٹمنٹ تو بچپن سے ہماری صوفی نے سنبھالا ہوا ہے۔۔۔ لیکن آج میں نے محسوس کیا ہے اب آپ خود بھی خوشی خوشی اِس سے چھڑوانے کے لیے تیار ہوچکے ہیں”
موحد نے آخری جملہ مغیث کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے بہت شرارت سے بولا تھا جس کا رد عمل یوں سامنے آیا کہ مغیث کے فولادی بازو نے موحد کی نازک سی گردن کو اپنی لپیٹ میں لےلیا
“کچھ زیادہ ہی نہیں چہکنے لگے ہو تم، توڑ ڈالو تمہاری یہ کمزور سی گردن”
مغیث کی اپنی گردن پر گرفت دیکھ کر موحد کی ساری شوخی رفوچکر ہوچکی تھی، جبکہ صوفیہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر آنے والی ہنسی کو کنٹرول کررہی تھی
“بھائی کیا کررہے ہیں یار آپ تو سیریس ہوگئے ہیں رحم کھائیں کچھ مجھ معصوم کی گردن پر، میں مرد ہوں لیکن تھوڑا نازک مزاج سا۔۔۔ یار آپ کی محبت مار ڈالے گی مجھے قسم سے،، تم وہاں کھڑی دانت کیا نکال رہی ہو بچاؤ نہ یار مجھے بھائی سے”
موحد مغیث کے مضبوط شکنجے میں نازک سی چڑیا کی طرح پھڑپھڑا رہا تھا آخر کار صوفیہ سے مدد مانگنے لگا اس سے پہلے صوفیہ مغیث کو مخاطب کرتی مغیث خود اس کی گردن اپنی گرفت سے آزاد کرتا ہوا صوفیہ پر نظر ڈال کر کچن سے باہر نکل چکا تھا
“کچھ شرم کرو بےرحم لڑکی میری درگت بنتے دیکھ کر کیسے تمہاری بتی سی باہر نکل رہی تھی اس وقت سے ڈرو جس دن میری بجائے تمہاری یہ بطخ جیسی گردن اس ظالم کے شکنجے میں آئے گی”
موحد صوفیہ کو گھورتا ہوا بولا جو اب بھی کھڑی ڈھیٹ بنی ہنس رہی تھی
*****
“کیا کررہی تھی تم اتنی دیر سے اس فراز کے گھر پر”
اب کی بار جبران کی آواز پہلے سے کافی زیادہ تیز تھی ستارہ جبران کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر تحمل سے بولی
“جبران فراز کی بیٹی کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی وہ بناء ماں کے ڈیڑھ سال کی معصوم بچی ہے فراز ساری رات اس کی طبیعت خرابی کی وجہ سے جاگتا رہا اور صبح آفس میں اس کی امپورٹنڈ میٹنگ تھی اس لیے میں تھوڑی دیر کے لئے مہرو کو سنبھالنے کے لیے فراز کے گھر پر چلی گئی تھی”
ستارہ جبران کے غصے سے گھبراتی ہوئی اب کے بار پوری بات تفصیل سے جبران کو بتانے لگی
“کبھی تمہیں اپنی اولاد بھی نظر آئی ہے اس فراز کی اولاد کے آگے۔۔۔ تمہیں تو یہ تک معلوم نہیں تمہارے پیچھے مغیث سیڑھیوں سے گر پڑا اور اس کا سر پھٹ گیا اپنی اولاد کو نوکروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر تم اس فراز کی اولاد کو سنبھال رہی ہو جاھل عورت، میں سب جانتا ہوں تمہاری گڑھی ہوئی کہانیاں، اگر میری اولاد تمہارے پیٹ میں نہ ہوتی تو ابھی فارغ کردیتا میں تم جیسی دھوکے باز عورت کو”
جبران کی کمرے سے باہر آتی ہوئی آواز نہ صرف گھر میں موجود نوکر سن رہے کہ بلکہ دوسرے کمرے میں موجود محب اور مغیث بھی حیرت ذدہ سے اپنے باپ کی باتیں سن رہے تھے
“محب کیا جابی ٹھیک بول رہے ہیں ہماری ماما کو ہم دونوں سے زیادہ فراز انکل کی وہ گڑیا پیاری ہے”
محب سے دو سال چھوٹا مغیث اپنے بستر سے اٹھ کر محب کے پاس آکر اس سے سوال کرنے لگا
“مجھے نہیں معلوم جابی ٹھیک بول رہے ہیں یا نہیں لیکن مجھے فراز انکل اور ان کی بیٹی ذرا سی بھی پسند نہیں ہے اور یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ہماری ماما ہم دونوں سے زیادہ ان دونوں کو امپورٹنس دیتی ہیں”
محب اکتائے ہوئے لہجے میں مغیث سے بولا
“وہی تو میں بول رہا ہوں ہماری ماما کو ہم دونوں سے زیادہ اس لٹل گرل اور فراز انکل سے پیار ہے تمہیں معلوم ہے وہ لٹل گرل ہر وقت روتی رہتی ہے جس دن پر فراز انکل اسے ہمارے گھر پر لے کر آئے تھے تب میرا دل کررہا تھا کہ میں اس نے لٹل گرل کو میں اٹھاکر ڈسٹ بن میں پھینک ڈالو”
مغیث اپنے نادر خیالات اپنے بڑے بھائی سے شئیر کرتا ہوا بولا جسے سننے میں محب کو کوئی خاص دلچسپی نہ تھی کیوکہ جس دن فراز اپنی چھوٹی سی بیٹی کو لےکر ستارہ کے پاس آیا تھا تب محب فورا ہی گھر کے پاس بنے ہوۓ پارک میں چلا گیا تھا اور تب تک وہی موجود رہا جب تک اسے اپنے گھر کے پاس فراز کی گاڑی نظر آئی کیوکہ اسے بھی اپنے باپ کی طرح اپنی ماں کے منہ بولے بھائی اور اس کی بیٹی میں رتی برابر دلچسپی نہیں تھی
“میرے خیال میں جو لوگ ہمیں ناپسند ہو ہمیں ان لوگوں کی باتیں نہیں کرنی چاہیے مغیث”
محب یہ ٹاپک ختم کرنے کی غرض سے بولا ساتھ ہی اسکول کا بیگ اور کاپیز نکالنے لگا کیونکہ آج ان دونوں کے ٹیوٹر بھی نہیں آئے تھے اور کمرے سے باہر آتی آوازوں سے محب کو اندازہ ہوچکا تھا کہ ستارہ جبران میں سے بھی کوئی ان دونوں کو نہیں پڑھائے گا
****
“ان چھوٹے چھوٹے مسئلوں کو آپ خود ہینڈل کرلیا کریں رضوان صاحب میرے ذمہ میں دوسرے بھی اہم کام ہوتے ہیں”
محب رضوان صاحب سے بولتا ہوا اپنے آفس کے کمرے کی طرف جانے لگا بریک ٹائم سے پہلے ایمپلائز میں کوئی مسئلہ اٹھا تھا جس کے لئے رضوان صاحب نے اسے بلایا معاملہ حل کرنے کے چکر میں لنچ کا ٹائم نکل چکا تھا اب تھوڑی دیر بعد اسے ایک ضروری میٹنگ کے لیے جانا تھا۔۔۔ رسٹ واچ میں ٹائم دیکھتا ہوا وہ کمرے میں داخل ہوا تو مہرماہ کی ٹیبل خالی تھی جسے نظر انداز کرکے محب اپنی ٹیبل پر آیا اور ریلیکس انداز میں کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس نے اپنا سر پیچھے ٹیک لیا، ابھی وہ آنکھیں بند کیے ریلکس انداز میں بیٹھا ہی تھا مشکل سے چند سیکنڈ گزرے تھے تب اسے کوئی آہٹ سی محسوس ہوئی
بے ساختہ اس نے اپنی آنکھیں کھول کر مہرماہ کی ٹیبل کی جانب دیکھا جہاں ٹیبل کے نیچے اسے مہرماہ کا دوپٹہ نظر آیا، محب غور سے مہرماہ کے دوپٹے کو دیکھتا ہوا اس کی ٹیبل کے پاس آیا
“یہ کیا کررہی ہیں آپ مس مہرماہ ٹیبل کے نیچے گُھسی ہوئی فوراً باہر نکلیں”
محب نے حیرت سے مہرماہ کی کرسی پر پلیٹ رکھی دیکھی جس میں چٹنی اور کیچپ موجود تھا پھر غصے میں اُس نے ٹیبل کے نیچے سے مہرماہ کو باہر آنے کا حکم دیا جس کو مانتے ہوۓ مہرماہ دونوں ہتھیلیاں فرش پر جمائے گھٹنوں کے بل چلتی ہوئی ٹیبل سے باہر نکلنے لگی
“سوری سر وہ میرا سموسہ ٹیبل کے نیچے گرگیا تھا تو میں اُس کو ڈھونڈ رہی تھی، آگے ہاتھ تو بڑھائیے جلدی سے”
مہرماہ کے عجلت میں بولنے پر محب نے ناسمجھنے والے انداز میں مہرماہ کی طرف ہاتھ بڑھایا شاید وہ سہارا لےکر اٹھنا چاہتی تھی مگر مہرماہ نے محب کے ہاتھ پر سموسہ رکھا اور ٹیبل پکڑتی ہوئی کھڑی ہوگئی محب حیرت زدہ ہوکر سموسے کو اور پھر مہرماہ کو دیکھنے لگا
“آپ اس سموسے کو ڈھونڈنے کے چکر میں ٹیبل کے نیچے گھوڑا بنی ہوئی تھی مس مہرماہ۔۔۔ ڈسکسٹنگ”
محب غصے میں کھولتا ہوا ہاتھ میں پکڑا سموسہ ٹیبل پر پٹختا ہوا بولا اور اپنے سامنے کھڑی 24 سالہ لڑکی کو دیکھنے لگا جو کہیں سے بھی اپنی عمر کے لحاظ سے میچور نہیں لگتی تھی
“سر گھوڑا نہیں گھوڑی۔۔۔ میرا مطلب ہے میں لڑکی ہوں تو گھوڑا کیسے بن سکتی ہوں آپ نے میرا سموسہ بھی پھینک دیا دیکھیں اس کا سارا بھرتا باہر نکل آیا میں نے تو لنچ بھی نہیں کیا تھا ابھی تک”
سب سے پہلے تو مہرماہ نے محب کی اردو گرامر ٹھیک کی کیوکہ کل وہ اُسے اُس کی انگلش گرامر کے خراب ہونے پر ٹوک رہا تھا۔۔۔۔ پھر اس نے ٹیبل پر گرا اپنا سموسہ دیکھا جو آج اس کی قسمت میں نہیں تھا سموسہ پھینکنے کی وجہ سے اسے اپنے باس پر بڑا غصہ آیا مگر وہ غصہ کیسے کرسکتی تھی اسلیے نرمی سے محب کو جتاتی ہوئی بولی
“شٹ اپ مس مہرماہ اتنی فضول قسم کی حرکتوں کے ساتھ آپ اتنی بےتکی باتیں کیسے کرسکتی ہیں، کتنی بڑی گھوڑی آئی مین لڑکی ہیں آپ، یوں ٹیبل کے نیچے گھسنا آفس روم میں سموسے کھانا کیا یہ حرکتیں زیب دیتی ہیں آپ کو۔۔۔ میں آپ کو اپنے آفس کے روم میں تو بالکل برداشت نہیں کرسکتا آج ہی میں جابی سے بات کرو گا”
محب مہرماہ کو ڈانٹتا ہوا بولا تو مہرماہ شرمندگی سے سر جھکا گئی
“سوری سر مگر پلیز آپ جبران سر سے کچھ مت بھولیے گا ورنہ ان کی نظروں میں میرا امیج خراب ہوجائے گا جس کے بعد مجھے بہت دکھ ہوگا کیوکہ وہ مجھے ایک عقلمند لڑکی سمجھتے ہیں، بھلے مجھ میں عقل زیادہ نہ ہو مگر میری فرینڈز اور دوسرے آفس کے ورکرز اکثر طنزیہ انداز میں مذاق اڑا کر کہتے ہیں کہ میں زیادہ دنوں تک اس سیٹ پر نہیں ٹک سکتی۔۔۔ ارے کیوں نہیں ٹک سکتیں بھلا کیا اس سیٹ پر کِیلیں لگیں ہوئی ہیں یا پھر کانٹے اُگے ہوئے ہیں۔۔۔ میں ان سب لوگوں کو غلط ثابت کرنا چاہتی ہوں پلیز سر مجھے ایک موقع دیں اگر آپ کو سموسے نہیں پسند تو میں اب کبھی سموسوں کی طرف دیکھو گی تک نہیں”
مہرماہ نے بولتے ہوئے منتیں کرنے کے ساتھ رونا بھی شروع کردیا محب بےزار سے انداز میں مہرماہ کو دیکھنے لگا، پھر ٹیبل پر رکھے ٹشو باکس رکھے میں سے ٹشو نکلتا ہوا مہرماہ کی طرف بڑھا کر بولا
“جو بھی کوئی اس طرح بول رہا ہے مس مہرماہ وہ ہرگز غلطی نہیں کہہ رہا کیوکہ آپ واقعی۔۔۔۔ لیکن آپ پلیز رونا بند کریں میں جابی سے کچھ بھی نہیں کہہ رہا اور پلیز خاموشی سے اپنی سیٹ پر ٹک جائیے”
محب کو اس کے رونے کے ساتھ ناک سے سُوں سُوں کی آواز نکالنا انتہا کا عاجز کررہا تھا اور اس کو دوسرے بھی کام تھے وہ اس فضول کی بحث میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے مہرماہ کو کرسی پر بیٹھنے کے لئے بولنے لگا
محب کی بات سن کر اس کی جان میں جان آئی کہ وہ جبران کو کچھ بھی نہیں بولنے والا، مہرماہ اپنے آنسوؤں کو پوچھتی ہوئی واقعی کرسی پر ٹک گئی
“او نو مس مہرماہ شٹ”
اس سے پہلے محب مہرماہ کی توجہ کرسی پر رکھی پلیٹ کی جانب دلاتا مہرماہ کرسی پر بیٹھ کر چٹنی اور کیچپ سے اپنی قمیض پیچھے سے رنگ چکی تھی۔۔۔ جس کے بعد وہ صدمے لےکر مشکل سے ہی کھڑی ہو پائی جبکہ محب خاموشی سے مگر اپنا سر پکڑ کر وہی کھڑا رہ گیا۔۔۔ مہرماہ اپنی سفید قمیض پر کیچپ کا نشان دیکھ کر بری طرح شرمندہ ہوگئی محب بھی چور نظروں سے رنگین داغدار قمیض دیکھنے لگا
“سر اب کیا ہوگا،، آپ کو تو معلوم ہے نہ کہ یہ کیچپ کا نشان ہے”
مہرماہ روتی ہوئی آواز میں محب سے پوچھنے لگی اس کی بات سن کر محب پوری آنکھیں کھولے مہرماہ کو دیکھنے لگا مگر اس کی روتی ہوئی شکل دیکھ کر وہ اپنا لہجہ نرم کیے بولا
“جی مس مہرماہ یہ کیچپ کا ہی نشان ہے میں اِس بات کی گواہی دے سکتا ہوں”
اب کی بار مہرماہ کی شکل دیکھ کر محب کو اس کے حالت پر ترس آنے لگا۔۔۔ اِس میں کوئی شک نہیں تھا وہ اچھی خاصی خوبصورت لڑکی تھی لیکن اِس درجے بےقوف ہوگی محب کو آج معلوم ہوگیا
“سر کیا میں واقعی بہت زیادہ بے وقوف ہوں”
مہرماہ دکھی دل سے محب سے پوچھنے لگی کیونکہ اس کی سفید قمیض پوری طرح خراب ہوچکی تھی اور وہ اپنے باس کے سامنے اس سچویشن میں کافی اکورڈ فیل کررہی تھی۔۔۔ محب کو لگا جیسے مہرماہ نے اس کے دل کی بات جان لی ہو
“جی مس مہرماہ اس میں کوئی شک و شبہات والی بات نہیں ہے یہ آپ خود بھی اچھی طرح سمجھ سکتی ہیں”
بےشک اس صورت حال میں وہ اس لڑکی پر ترس کھاسکتا تھا مگر اس کا حوصلہ بڑھانے کے لیے یہ جھوٹ ہرگز نہیں بول سکتا تھا کہ وہ ایک عقلمند لڑکی ہے۔۔۔ محب صاف گوئی کی انتہا کرتا ہوا بولا تو مہرماہ بھبھک بھبھک کر رونے لگی
“دیکھیں رونے سے کچھ نہیں ہوگا میرا ڈرائیور آپ کو آپ کے گھر چھوڑ آئے گا۔۔۔ آپ واش روم میں جاکر یہ داغ صاف کرلیں”
محب مہرماہ کے مسئلہ کا حل نکلتا ہوا بولا
“داغ بالکل اچھے نہیں ہوتے سر”
مہرماہ آئستہ آواز میں بولتی ہوئی آنسو صاف کرتی واش روم چلی گئی مگر اس کی بات پر محب کے ہونٹوں پر ہنسی رینگنے لگی۔۔۔ مگر دوسرے ہی پل وہ مہرماہ کی بےبسی کو محسوس کرتا ہوا خود کی ہنسی پر لعنت بھیجتا ہوا اپنی کرسی پر بیٹھ گیا
****
“اس آدمی اور اس کی عورت کو دیکھا تھا پسٹل کو دیکھ کر کیسے ڈر کے مارے کانپ رہے تھے اور انکے دونوں بچے کس طرح بلک بلک کر رو رہے تھے”
نائٹ کلب میں بیٹھا ہوا شارف اپنے باقی کے تینوں دوستوں سے اس فیملی کے بارے میں تبصرہ کرنے لگا جن کو تھوڑی دیر پہلے ان لوگوں نے ہتھیار کی بنیاد پر لوٹا تھا۔۔۔ ہمیشہ کی طرح واردات کرنے کے بعد وہ لوگ نائٹ کلب میں بیٹھے ہوۓ سارا مال برابر تقسیم کرکے تازہ ہوئی واردات کے بارے میں تبصرہ کررہے تھے
“یار میرا تو یہ ماننا ہے یہ مڈل کلاس لوگ سالے اوپر سے غربت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں ابھی اس آدمی کو ہی لےلو اچھی خاصی مہنگی گاڑی رکھی ہوئی تھی اور اس کی بیوی نے کیسے بھر بھر کر سونا پہنا ہوا تھا اور دونوں نے ایسے مظلموں کی طرح سے شکل بنائی ہوئی تھی جیسے ہم لوگ ان سے ان کی ساری جمع پونجی چھین رہے ہو”
نادر سگریٹ کا کش لگاتا ہوا مزید اس فیملی پر تبصرہ کرتا ہوا بولا تو نادر کی بات سن کر عارف بول اٹھا
“ہوسکتا ہے نادر واقعی اس آدمی نے محنت کرکے ایک ایک پیسہ کمایا ہو اس عورت کے پاس وہی سارا زیور موجود ہو جس کو ہم نے آج گن پوائنٹ پر اس سے چھین لیا، اس کی بیوی کو خوفزدہ دیکھ کر اور دونوں بچوں کو روتا ہوا دیکھ کر مجھے کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا یار معلوم نہیں ہم لوگ اس تھرل اور ایڈونچر کے چکر میں کتنے مجبور اور بےبس لوگوں کی بددعائیں بھی سمیٹتے چکے ہوگیں اب تک”
عارف باقی تینوں کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوا بولا
“ابے اگر اُس عورت کے پاس وہی سارا زیور تھا تو اُس کو کس بےقوف نے مشورہ دیا تھا کہ سارا زیور پہن کر گھر سے باہر نکلے اور یہ آج کل تو باتیں کیسی کررہا ہے میں نوٹ کررہا ہوں پچھلے دو تین وارداتوں سے تیرا ضمیر بلاوجہ جاگ جاتا ہے سلادے یار اِس ضمیر کو اور انجوۓ کر لائف کو”
شارف عارف کو مشورہ دیتا ہوا باقی تینوں کو دیکھ کر ہنسنے لگا
“مغیث تمہارا کیا کہنا ہے اس ایڈونچر کے نام پر، جو یہ سب کچھ ہم کررہے ہیں کیا یہ سب کچھ کرنا جائز ہے”
عارف شارف کی بات کو نظرانداز کرتا ہوا مغیث سے پوچھنے لگا جو اپنے ہاتھ میں موجود “ایس” الفابیٹ کا پینڈینٹ کو غور سے دیکھ رہا تھا یہ تازہ ہوئی واردات کے چھینے گئے مال میں سے اس کے حصے میں آیا تھا
“میرا تو یہ کہنا ہے اس ایڈونچر کے نام پر یوں چھوٹے موٹے ڈاکیں ڈالنے سے بہتر ہے ہمیں کچھ بڑا کرنا چاہیے،، بڑا مطلب کچھ رسکی،،، جسے کرنے میں خطرہ ہو مگر مزا بھی آجاۓ”
مغیث کے خیالات جان کر عارف کو اس پر افسوس ہونے لگا کیوکہ وہی اسے نادر اور شارف کے مقابلے میں سنجیدہ اور سلجھا ہوا لگتا تھا
“دیکھ عارف اس کو،، اور کچھ سیکھ اس سے۔۔۔ اصل ہیرو تو یہ ہے ہم چاروں میں سے مجال ہے جو یہ آج تک کسی خطرے سے گھبرایا ہو۔۔۔ ابھی دو مہینے پہلے کیسے ہم لوگ بری طرح پھنس گئے تھے لیکن تب بھی اس نے اپنے ساتھ ہم تینوں کو بھی اس مشکل سے نکالا تھا اور ڈی ایس پی کی مٹھی گرم کرکے بات ہماری فیملیز تو کیا باہر تک نہیں آنے دی تھی”
نادر خوش ہوکر عارف کو یاد دلانے لگا
“اب کی بار بینک روبری کا آئیڈیا کیسا رہے گا”
شارف ایکسائٹڈ ہوتا ہوا ان تینوں کو دیکھ کر پوچھنے لگا
“ناٹ آ بیڈ آئیڈیا میرے خیال میں اسی پر پلان کرنا چاہیے ہمیں”
مغیث شارف کے آئیڈیا کو سرہاتا ہوا بولا۔۔۔ اپنے چہرے کے تاثرات سے نادر نے بھی شارف کو اپنی آمدگی دی جبکہ عارف ان تینوں کو دیکھ کر ٹیبل سے اٹھتا ہوا بولا
“مجھے نہیں معلوم مغیث تم کس فن اور انجواۓ منٹ کے چکر میں یہ سب کررہے ہو ان سب سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔۔۔ لیکن یہ بات تم، اور تم لوگ تب سمجھو گے جب کسی بڑی مصیبت میں پھنسو گے میں مذید تم تینوں کا اس کام میں ساتھ نہیں دے سکو گا”
عارف ان تینوں کو دیکھ کر بولتا ہوا وہاں سے چلا گیا تو مغیث بنا کچھ بولے عارف کو وہاں سے جاتا ہوا دیکھنے لگا، ایک بار عارف کے پوچھنے پر اس نے عارف کو بولا تھا وہ یہ سب فن اور انجواۓ مینٹ کے لئے کرتا ہے آج عارف اسے اسی بات کا طعنہ دے کر چلا گیا تھا
“ابے چھوڑ یار اُس سالے کو ابھی دو دن بعد خود ہی آکر ہمیں دوبارہ جوائن کرے گا۔۔۔ ایک دوسرا آئیٹم منگوایا ہے اسپیشل تیرے لیے اسے چیک کر”
نادر مغیث کو عارف کی طرف متوجہ دیکھ کر اس سے بولا اور دور کھڑے ویٹر کو اشارہ کرنے لگا جو ٹرے میں موجود سرینچ اور انجکشن لے کر ان لوگوں کے پاس آیا
“نہیں یہ شے مجھے ریلکس نہیں کرتی بلکے بےچینی اور گھبراہٹ کو مزید بڑھا دیتی ہے”
مغیث نادر کو دیکھتا ہوا بتانے لگا کیونکہ وہ جانتا تھا یہ بھی اس جادوئی پاؤڈر کی طرح جادوئی انجکشن تھا جو اسے ہوش وخروش سے بیگانہ ضرور کرے گا مگر جلد سکون نہیں دے گا
“ریلکس یار یہ پہلے والے مال کی طرح لوکل نہیں بلکہ اوریجنل ہے ایک بار ٹیسٹ کرلو”
نادر مغیث سے بولتا ہوا آنکھوں ہی آنکھوں میں شارف کو اشارہ کرنے لگا اس کے اشارے پر شارف سرنج کی مدد سے انجیکشن بھرنے لگا جس کو اس نے مغیث کے بازو میں لگا دیا۔۔۔ مغیث صوفے کے پیچھے اپنا سر ٹھکاۓ اور آنکھیں بند کئے ہوئے بیٹھا تھا اب نادر اور شارف یہی عمل اپنے اپنے ساتھ دہرا رہے تھے
