Teri Deewani By Zeenia Sharjeel Readelle 50387 Teri Deewani (Episode 31) Last Episode (Part - 1)
Rate this Novel
Teri Deewani (Episode 31) Last Episode (Part - 1)
Teri Deewani By Zeenia Sharjeel
“کیا ہوا مہر”
رونے کی آواز جو کافی دور سے اسے اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی، نیند میں ڈوبی ہوئی آواز میں محب مہرماہ سے پوچھنے لگا۔۔۔۔ نیند سے بوجھل ہوتی آنکھیں کھولنے کے بعد جب اس نے اپنے برابر میں بےخبر سوتی ہوئی مہرماہ پر نظر ڈالی تو محب گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہوا اٹھ بیٹھا رات گزر چکی تھی۔۔۔ مغیث کا انتظار کرتے کرتے نہ جانے کب اُس کی آنکھ لگ گئی تھی محب کا دماغ ایک بار پھر رونے کی آواز پر گیا وہ نیند میں سمجھ رہا تھا شاید مہرماہ رو رہی ہے، محب بیڈ سے اٹھتا ہوا کمرے سے باہر نکل کر ہال میں آیا تو اس کی نظریں صوفے پر بیٹھی ہوئی صوفیہ پر پڑی جو گھٹنوں چہرہ چھپائے رو رہی تھی
“گڑیا یہاں آکر کیوں بیٹھ گئی ہو”
محب اس کے پاس آکر صوفیہ سے پوچھنے لگا جو ابھی تک کل والا ڈریس اور جیولری پہنی ہوئی تھی
“مغیث عالم بہت برے ہیں محب بھائی انہوں نے کل رات جلدی آنے کا وعدہ کیا تھا مگر دیکھیں اب صبح ہوگئی ہے اُن کا انتظار کرتے کرتے، وہ ابھی تک گھر واپس نہیں لوٹے، اب جب بھی وہ گھر واپس آئیں گے تو میں ان سے سخت والا ناراض ہوگیں”
صوفیہ روتی ہوئی محب سے بولی تو محب کو بھی مغیث پر تعجب ہوا اس سے پہلے وہ کچھ بولتا جبران اور ستارہ بھی اپنے کمرے سے باہر نکل آئے
“تم یہاں بیٹھی کیوں رو رہی ہو صوفیہ۔۔۔۔ اور مغیث کہاں پر ہے”
ستارہ نے صوفیہ کو مخاطب کیا وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ مغیث سے کسی بات پر بحث ہونے کی وجہ سے صوفیہ کمرے سے باہر آکر رو رہی ہے مگر صوفیہ ستارہ کی بات کا جواب دینے کی بجاۓ وہ اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپاکر رونے لگی تو ستارہ پریشان ہوکر جبران کو دیکھنے لگی
“مغیث کو اس کے کمرے سے بلاؤ محب”
جبران بھی یہی سمجھ رہا تھا کے مغیث اپنے کمرے میں موجود ہے جبھی وہ محب سے بولا
“جابی مغیث رات کو کسی کی کال آنے پر گھر سے باہر نکلا تھا یہی کہہ کر کہ وہ تھوڑی دیر میں لوٹ آئے گا”
مغیث نے لاپرواہی کا ثبوت دیا تھا اس لئے محب نے جبران کو سب کچھ بتادیا جس پر جبران کو شدید غصہ آیا ستارہ بھی حیرت سے محب کی بات پر اس کو دیکھ رہی تھی کہ مغیث ساری رات کا گھر سے نکلا ہوا تھا
“یہ بات تم نے مجھے رات میں ہی کیوں نہیں بتائی ٹانگیں توڑ ڈالتا میں اس کی باہر جانے کے نام پر”
جبران چیخ کر بولا۔۔۔ رومان اور موحد بھی اپنے اپنے کمروں سے باہر نکل چکے تھے صوفیہ ابھی بھی اپنا چہرہ چھپائے ویسے ہی بیٹھی ہوئی رو رہی تھی
“جبران کیا ہوگیا آپ کو اس طرح غصہ کیوں کررہے ہیں۔۔۔ رومان ذرا مغیث کے موبائل پر کال ملاؤ”
ستارہ جبران کو غصے میں دیکھ کر بات سنبھلنے کی غرض سے بولی، تبھی لینڈ لائن بجنے لگا جو موحد نے اٹھایا
“جی یہ مغیث عالم کے ہی گھر کا نمبر ہے میں ان کا بھائی موحد عالم بول رہا ہوں”
سب آنے والی کال کی طرف متوجہ ہوچکے تھے
“اتنی صبح یہ کس کی کال ہے موحد، میں کیا پوچھ رہا ہوں کون ہے فون پر”
موحد کے پتھرائے ہوئے چہرے کے تاثرات کو دیکھ کر محب موحد سے پوچھنے لگا کے ساتھ ہی اس نے موحد کے ہاتھ سے رسیور لے لیا سب کی توجہ اب محب کی طرف تھی لیکن موحد کے ٹی وی آن کرنے پر، نیوز چینل پر نشر ہونے والی خبر پر عالم ہاؤس کی پوری چھت جیسے عالم ہاؤس کے تمام افراد پر آگری تھی
اسکرین پر مغیث عالم کی تصویر کے ساتھ نادر اور شارف کی تصویریں بھی دکھائی جارہی تھی جن کا کسی بڑی جگہ واردات کے دوران پولیس کی گولیوں سے رات میں انکاؤنٹر ہوا تھا۔۔۔ صوفیہ صدمے کی کیفیت میں صوفے سے کھڑی ہوکر اسکرین پر مغیث کی تصویر دیکھ رہی تھی۔۔۔ مغیث کی موت کی خبر کی اطلاع،، جوکہ تھانے سے فون پر دی گئی تھی جسے سن کر محب کے ہاتھ سے رسیور چھوٹ چکا تھا
“جابی”
رومان نے آگے بڑھ کر لڑکھڑاتے ہوئے جبران کو تھاما اور سہارا دے کر صوفے پر بٹھایا
“ماما”
سینے میں اٹھنے والی شدید تکلیف کی لہر کے باعث ستارہ غش کھا کر نیچے گری تو محب اور موحد دونوں بھاگتے ہوئے اس کی طرف بڑھے۔۔۔۔ صوفیہ ابھی تک پتھر کا مجسمہ بنی ہوئی اسکرین کو دیکھے جارہی تھی
*****
عالم ہاؤس میں ایک کہرام مچ اٹھا اور مہرماہ ایسے بےخبر ہوکر سوئی تھی جب اٹھی تو اسے اپنی نیند پر افسوس ہونے لگا۔۔۔ تھکن کے سبب اس کی آنکھ رونے پیٹنے کی آوازوں پر کھلی تھی یہ رونے کی آوازیں رومان موحد کے ساتھ جبران کی بھی تھی۔۔۔ بدحواسی کے عالم میں وہ سنبھلتی ہوئی اپنے کمرے سے باہر نکلی تو محب ستارہ کے بےہوش وجود کو اٹھائے اسپتال لے جارہا تھا، صوفیہ کو سکتے کی کیفیت میں دیکھ کر،۔۔۔ جبران کے ساتھ رومان اور موحد کو روتا ہوا دیکھ کر اس کا اپنا دل پریشان ہوا جارہا تھا لیکن اسکرین پر چلنے والی نیوز پر اس کا دل خوف سے بری طرح کانپ اٹھا
*****
“صوفیہ ایسے کب تک بیٹھی رہوں گی پلیز اٹھو ناں کچھ بولو تو سہی”
مہرماہ اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی کافی دیر سے اسے اٹھانے اور کچھ بولنے پر اکسا رہی تھی جو اِمس وقت بالکل بےجان شے کی مانند نظر آرہی تھی تبھی محب کمرے میں آیا مہرماہ اسے دیکھ کر تیزی سے محب کی طرف بڑھی
“آنٹی کی طبیعت کیسی ہے محب پلیز مجھے ان کے بارے میں بتائیں”
محب کی آنکھیں رونے کی وجہ سے یا پھر شاید ضبط کرنے کی وجہ سے بےحد سرخ ہورہی تھی مہرماہ اپنے آنسوؤں پر قابو پاتی ہوئی محب سے پوچھنے لگی
“شدید صدمہ پہچننے کے وجہ سے اٹیک آیا ہے انڈر ابزویشن ہیں وہ ابھی۔۔۔ موحد اور رومان کو وہی چھوڑ کر آیا ہوں”
محب مہرماہ سے بول رہا تھا مگر اس کی نظریں صوفیہ پر ٹکی ہوئی تھی جو بالکل بےجان پتھر کی طرح دلہن کے لباس میں بالکل ساکت بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ مہرماہ ستارہ کے لیے فکرمند ہوکر، نہ چاہنے کے باوجود بھی رونے لگی یہ آج عالم ہاؤس میں کیسا طوفان اٹھ آیا تھا
“اور مغیث۔۔۔۔ اسس کک کی باڈی”
باڈی کے ساتھ “ڈیڈ” کا لفظ مہرماہ نے اس لیے نہیں بولا تھا کیونکہ ابھی تک اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ مغیث اب اس دنیا میں نہیں رہا۔۔۔ محب سے پوچھتے ہوۓ مہرماہ کی آواز بھی لڑکھڑائی تھی اور ساتھ ہی بےشمار آنسو اس کی آنکھوں سے مزید نکلے تھے
وہ لڑکی تھی وہ بھی نازک سی اس لیے رو رہی تھی۔۔۔ مگر محب مرد تھا اس کے اوپر آج غم کا پہاڑ ٹوٹا تھا مگر اسے حوصلے سے کام لینا تھا۔۔۔ مہرماہ کے اگلے سوال پر محب نے اپنی آنکھیں بند کرلیں جب اس نے دوبارہ اپنی آنکھیں کھولیں تو وہ مزید سرخ ہوچکی تھیں وہ اپنے آنسو باہر لانے کی بجائے انہیں اپنے اندر ہی اتار رہا تھا۔۔۔ جبران کو اپنا ہوش نہیں تھا، اب سب کچھ اسے ہی دیکھنا تھا اسے ہی سنبھالنا تھا۔۔۔ موحد اور رومان اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں کو اسپتال آنے سے پہلے اس نے گلے لگا کر دلاسہ دیا تھا جو بری طرح سے رو رہے تھے۔۔۔ کسی کو یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کس بات کا غم بناۓ مغیث عالم کی موت کا یا ستارہ کی حالت کا جو جوان بیٹے کی موت کا صدمہ لےکر خود زندگی اور موت کی کشمکش میں ہسپتال کے بستر پر موجود تھی۔۔۔ اور پھر مہرماہ کے سوالات
“فوری طور پر باڈی دینے سے انکار کردیا ہے پہلے کچھ کاروائی ہوگی بعد میں ہی باڈی مل سکتی ہے۔۔۔۔ گڑیا کا لباس تبدیل کرؤاو باہر لوگ آنا شروع ہوگئے ہیں”
محب دل گردہ بڑا کرتا ہوا بولا اور کمرے سے باہر نکل گیا مہرماہ ایک بار پھر صوفیہ کو دیکھنے لگی، وہ اپنے آنسو پوچھتی ہوئی صوفیہ کے پاس آئی اور اس کے ہاتھوں سے چوڑیاں اتارنے لگی جس پر صوفیہ نے جلدی سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا،، وہ مہرماہ کے اس عمل سے فوراً ہوش میں آگئی تھی
“یہ کیا کررہی ہے بھابھی آپ، مغیث عالم مجھ سے کہہ کر گئے تھے کہ میں اِسی روپ میں ان کا انتظار کرو وہ واپس آئیں گے تو مجھ سے خفا ہوگیں”
صوفیہ حیرت کا اظہار کرتی ہوئی مہرماہ سے بولی تو مہرماہ نے بری طرح رونا شروع کردیا
“وہ چلا گیا ہے صوفیہ، وہ ہم سب کو چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔ اب کبھی واپس نہیں آئے گا”
مہرماہ روتی ہوئی صوفیہ سے بولی تاکہ اسے صدمے کی کیفیت سے باہر نکال سکے جس پر صوفیہ بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی
“بکواس ہے یہ سب جھوٹ بالکل جھوٹ۔۔۔ میں نہیں مان سکتی، آپ مجھے دیکھ رہی ہیں ناں میں آپ کے سامنے زندہ کھڑی ہوں میری سانسیں چل رہی ہیں تو پھر ایسا کیسے ممکن ہے کہ مغیث عالم کی سانسیں بند ہوجائیں۔۔۔ کوئی کچھ بھی بولے میں نہیں مان سکتی کہ وہ اس دنیا میں نہیں ہیں سنا آپ نے”
صوفیہ مہرماہ سے بولتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
****
مغیث کو دنیا سے گئے دو ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا اس کی ڈیتھ کے دس دن بعد، جب تمام فارملٹیز پوری ہوگئی تب اس کی ڈیڈ باڈی گھر والوں کے حوالے کی گئی تھی۔۔۔ محب شناخت کے بعد جب بند تابوت میں مغیث کی ڈیڈ باڈی کو عالم ہاؤس لیا تھا تب ایک بار پھر عالم ہاؤس میں کہرام مچ اٹھا تھا۔۔۔ اس کا چہرہ کسی کو بھی دیکھنے نہیں دیا گیا تھا کیونکہ باڈی کافی حد تک سڑھنے لگی تھی اسلیے جلد سے جلد اس کی تدفین کردی گئی تھی۔۔۔ وہ وقت سب سے زیادہ محب پر بھاری تھا جو اپنے بوڑھے ماں باپ دونوں چھوٹے بھائیوں کے علاوہ صوفیہ کو بھی سنبھال رہا تھا، عبدل اور اس کی بیوی گھر کے نوکر تک غم سے نڈھال تھے
ڈیڈ باڈی کے ساتھ مغیث کے کپڑے والٹ موبائل اور دوسری چیزیں جو اس وقت اس کے پاس موجود تھی، تمام تر چیزیں گھر والوں کے حوالے کردی گئی تھی جنہیں دیکھ کر سبھی اشکبار تھے۔۔۔ ایسے ہی نادر اور شارف کے گھر والوں نے بھی نادر اور شارف کو کھوکر یہی کچھ حالات فیس کیے تھے مگر بعد میں محب کا ان دونوں کے گھر والوں سے کوئی کونٹیکٹ نہیں ہوا
کسی کے چلے جانے سے وقت نہیں رک جاتا یہ کہاوت عالم ہاؤس کے تمام مکینوں کے لیے اس حد تک صحیح ثابت ہوئی تھی کہ اب عالم ہاؤس میں پہلے کی طرح ہنسنے اور قہقہوں کی آوازیں نہیں گونجتی تھی مگر سب نے خود کو اپنے اپنے کاموں میں مصروف کرلیا تھا۔۔۔ چند دنوں کا سوگ منانے کے بعد موحد اور رومان نے اپنے اپنے یونیورسٹی اور کالج جانا شروع کردیا تھا۔۔۔ جبران نے خود کو کتابوں کے مطالعے میں مصروف کرلیا تھا لیکن ساتھ ہی وہ ستارہ کا بھی بہت زیادہ خیال رکھنے لگا تھا ستارہ کی طبیعت پہلے کی بانسبت بحال ہوگئی تھی مگر اب وہ ہر وقت اداس اور خاموش رہتی جبران اور محب ہر لحاظ سے اس کا خیال رکھتے اس کو بہلانے کی کوشش کرتے کیوکہ ڈاکٹرز کے مطابق اچانک سے ملنے والی کوئی بھی خوشی یا غم کی خبر اس کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی تھی
وقت اگر تھم چکا تھا یا رک چکا تھا تو وہ صرف اور صرف صوفیہ کے لیے، نہ ہی وہ کسی سے باتیں کرتی نہ ہی مغیث کے کمرے سے باہر نکلتی۔۔۔ اس نے مغیث کے کمرے میں اپنی دنیا بسالی تھی شروع شروع میں محب مہرماہ رومان یا موحد میں سے کوئی اس کے پاس کمرے میں جاتا تو وہ مغیث کا ذکر اس انداز میں کرتی جیسے مغیث مرا نہیں ابھی بھی موجود ہے،،، کوئی اس کو مغیث کی موت کا یقین دلاتا تو وہ بری طرح چیخنا چلانا شروع کردیتی وقتی طور پر سب نے اُس کو اُس کے حال پر چھوڑ دیا تھا
*****
“صوفی اٹھو۔۔۔ صوفی”
موحد صوفیہ کے بیڈ پر اُس کے سامنے آکر بیٹھا اور اسے جگانے کی کوشش کرنے لگا مگر وہ تھی کہ آنکھیں کھولنے کی کوشش ہی نہیں کررہی تھی۔۔ موحد نے بیڈ پر رکھا صوفیہ کے ہاتھ پر نرمی سے اپنا ہاتھ رکھا تب اُس نے آنکھوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی
“مغیث۔۔۔ مغیث عالم اتنی دیر کردی آپ نے واپس لوٹ کر آنے میں، آپ تو رات میں مجھ سے وعدہ کرکے گئے تھے کہ جلد لوٹ آۓ گیں”
بند آنکھوں کے ساتھ بولتی ہوئی ہے وہ موحد کا پکڑا ہوا ہاتھ اپنے ہونٹوں تک لے جانے لگی۔۔۔ موحد نے جلدی سے اپنا ہاتھ صوفیہ کے ہاتھ سے کھینچا،، اُس کے اِس طرح ہاتھ کھینچنے سے صوفیہ نے اپنی آنکھیں کھول دی
“صوفی یہ میں ہوں موحد”
موحد صوفیہ کے آنکھیں کھولنے پر اس کو بتانے لگے جس پر وہ مسکراتی ہوئی اٹھ کر بیٹھی۔۔۔
وہی ہشاش بشاش تروتازہ سی مسکراہٹ جو ہمیشہ سے اس کے چہرے پر سجی ہوتی تھی مگر اب اس کی خوبصورت آنکھوں کے گرد ہلکے نمایاں ہونے لگے تھے۔۔۔ موحد کو مغیث کی موت کا دن یاد آیا جب مغیث کے انتظار میں صوفیہ کی انکھیں جاگنے کی وجہ سے پتھرا چکی تھی تب اسے نیند کا انجیکشن دے کر سلایا گیا تھا
“موحد یہ تم ہو بدھو،، میں سمجھی مغیث عالم واپس آگئے۔۔۔ ذرا واپس آنے دو اپنے بھائی کو، پھر دیکھنا کیسے دو دو ہاتھ کرتی ہوں اُن سے۔۔۔ کل رات موصوف عبدل کا غصہ مجھ پر اتار رہے تھے۔۔۔ پچھلی بار بھی عبدل سب کے کپڑے ڈرائے کلین کے لئے لےکر گیا مگر مغیث کے کپڑے لے جانا بھول گیا اور اس بار بھی اس نے یہی حرکت کی۔۔۔ بیوی کے آجانے کے بعد عبدل دماغ سے بالکل ہی بھلکڑ ہوگیا ہے۔۔۔ مغیث کا غصہ دیکھتے ہوئے ان کی ساری شرٹس مجھے دھونا پڑی”
صوفیہ نے اٹھنے کے ساتھ ہی ہمیشہ کی طرح بولنا اسٹارٹ کردیا اب وہ بیڈ سے اٹھتے ہوئے وارڈروب میں سے مغیث کی ساری شرٹس نکال رہی تھی یہ ساری صاف ستھری دھلی دھلائی شرٹس جنھیں وہ پچھلے دو ماہ سے دھونے کے بعد خود ہی پریس کرتی،،، اور دوبارہ وارڈروب میں ہینگ کردیا کرتی۔۔۔
مغیث کی کسی بھی چیز کو وہ کسی دوسرے کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی تھی بلکہ اب تو اس نے مغیث کے کمرے کی صفائی بھی خود کرنا شروع کردی تھی
“صوفی کتنے دن ہوگئے ہیں تمہیں گھر سے باہر نکلے ہوئے میرا دل کررہا ہے آج کہیں باہر جانے کا،، محب بھائی نے مہرماہ بھابھی کو ہمارے ساتھ جانے کی پرمیشن دے دی ہے اور رومان بھی ریڈی ہے، تم بھی چلو ناں ہم سب مل کر خوب انجوائے کریں گے”
موحد بیڈ سے اٹھ کر صوفیہ کے پاس آیا اس کے ہاتھ سے مغیث کی ساری شرٹس لےکر آئرن اسٹینڈ پر رکھتا ہوا بولا۔۔۔ یہ پروگرام بھی اُس نے اسی وجہ سے بنایا تھا تاکہ صوفیہ کمرے سے باہر نکل سکے ورنہ مہرماہ رومان میں سے کسی کا بھی باہر جانے کا موڈ نہیں تھا لیکن اگر صوفیہ تیار ہوجاتی تو وہ سب کو باہر جانے کے لیے بولتا۔۔۔ اور صوفیہ کی وجہ سے مہرماہ یا رومان میں سے کوئی بھی انکار نہیں کرتا
“ہاں میں تمہارے ساتھ انجوائے کرنے نکلو تاکہ میرے پیچھے مغیث عالم آجائیں اور وہ مجھے عالم ہاؤس میں نہ پاکر میری اچھی خاصی انجوائمنٹ کروا دیں۔۔۔ معلوم نہیں ہے تمہیں اپنے بھائی کے مزاج کا”
صوفیہ موحد کی بات کو غیر سنجیدہ لیتی ہوئی بولی اور آئرن آن کرنے لگی۔۔۔ موحد خاموش کھڑا ہوکر صوفیہ کو دیکھنے لگا جو مغیث کی شرٹس پریس کرنے میں مصروف ہوچکی تھی، نہ جانے وہ کب اس فیس سے باہر نکلتی اسے اس طرح دیکھ کر موحد کو تکلیف ہوتی اسے اب صوفیہ کی بہت زیادہ فکر ہونے لگی تھی۔۔۔ موحد کو اپنی طرف دیکھتا پاکر صوفیہ بیچارگی سے مسکرائی
“تمہاری صحت تمہیں اجازت نہیں دیتی اتنی غمگین شکل بنانے کی،، خوش رہا کرو اس سے تمہارا خون بڑھے گا۔۔۔ اچھا اب رونے کی ضرورت نہیں ہے نیکسٹ ویک اینڈ پر پکا ہم سب باہر جاکر انجوائے کریں گے ابھی دیکھو مجھے مغیث عالم کے یہ سارے کپڑے پریس کرنے ہے۔۔۔ وہ ٹیبل پر بکھرا سامان دیکھ رہے ہو مغیث کا وہ سارا سامان ترتیب دے کر رکھنا ہے۔۔۔ نیکسٹ ویک اینڈ پر پکا پروگرام اوکے”
صوفیہ مسکراتی ہوئی موحد سے بولی کیونکہ وہ اپنے اس پیارے سے دوست کا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی۔۔۔ موحد بےبسی سے کھڑا ٹیبل پر مغیث کی رسٹ واچ، گلاسس ٹائی، پرفیومز، شیوینگ کٹ اور دوسری بکھری چیزیں دیکھنے کے بعد صوفیہ کو دیکھنے لگا جو مغیث کے کپڑے آئرن کررہی تھی وہ خاموشی سے کمرے سے باہر جانے لگا تبھی اسے صوفیہ کی آواز سنائی دی
“موحد ذرا عبدل کی بیوی کو سمجھا دینا آج کی طرح پیاز والا آملیٹ مغیث عالم کے آگے نہ رکھ دے۔۔ بار بار مغیث عالم عبدل کی بیوی کا لحاظ نہیں کریں گے۔۔۔ معلوم ہے ناں انہیں پیار اور پیاز سے کتنی چڑ ہے”
کپڑے پریس کرنے کے ساتھ وہ مسکراتی ہوئی بولے جارہی تھی وہ صوفیہ کی بات سن کر بغیر کچھ بولے اس کے کمرے سے باہر نکل گیا
*****
قبرستان کے احاطے سے باہر نکلتا ہوا وہ اپنے موبائل پر آیا عینی کا میسج دیکھنے لگا یہاں سے چند منٹ کے فاصلے پر موجود پارک میں وہ رومان کا ویٹ کررہی تھی رومان ہیلمٹ پہن کر اپنی بائیک پر بیٹھا۔۔۔۔ پچھلے دو ماہ سے اس کا یہی روٹین بن گیا تھا کالج آف ہونے کے بعد وہ تھوڑا ٹائم مغیث کے پاس لازمی گزارتا۔۔۔ محب نے اس کا ایڈمیشن دوسرے کالج میں کروا دیا تھا اس لیے اب عینی سے اس کی روز ملاقات نہیں ہو پاتی تھی لیکن وہ جانتی تھی رومان روز قبرستان جاتا ہے تبھی اس نے آج رومان کو ضروری بات کرنے کے لئے یہاں بلایا تھا رومان نے دور سے ہی عینی کو پارک میں ایک بینچ پر بیٹھا دیکھ لیا تھا وائٹ یونیو فارم میں موجود لازمی وہ کالج سے ڈائریکٹ یہاں آئی تھی
“تمہیں خود سے یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی اگر اتنی ضروری بات تھی تو مجھے رات میں کال پر بول دیتی میں تمہارے کالج آجاتا”
رومان اسے چاکلیٹ کا بڑا سا پیکج تھماکر اس کے برابر میں بینچ پر بیٹھتا ہوا بولا، چاکلیٹس عینی کو پسند تھی اور رومان جب بھی اس سے ملتا تھا اس کے لیے چاکلیٹ ضرور لیتا
“تمہارے کالج میرے کالج کا روڈ کافی دور ہے اس لیے تمہیں آنے کا نہیں بولا”
عینی چاکلیٹ کا پیکٹ سائیڈ پر رکھتی ہوئی رومان سے بولی
“کیوں تمہیں کیا لگ رہا تھا میں تمہارے بلانے پر تم سے ملنے نہیں آتا”
رومان آئی برو اونچی کرتا ہوا عینی سے پوچھنے لگا۔۔۔۔ رومان کی نظر اپنے لاۓ چاکلیٹ کے پیکٹ پر پڑی جو ہمیشہ کی طرح عینی نے کھانے کی بجائے سائیڈ پر رکھ دیا تھا یعنی وہ کسی بات کو لےکر پریشان تھی
“عینی کیا بات ہے آخر بتا بھی چکو، کل رات سے میں یہی سوچ کر پریشان ہوں”
وہ عینی کو دیکھتا ہوا بولا کل رات موبائل پر اس کے پوچھنے پر بھی عینی نے اس کو کچھ نہیں بتایا تھا
“بھائی کا اسٹوپڈ سا دوست ہے اس نے میرے لیے پرپوزل بھیجا ہے رومان،، کین یو بیلو اٹ بھائی سمیت میری پوری فیملی اس پرپوزل کو لےکر بہت ایکسائٹڈ ہے مجھے تو سوچ سوچ کر ٹینشن ہو رہی ہے کہ اب کیا ہوگا”
عینی اپنا مسئلہ رومان سے شیئر کرتی ہوئی بولی تو رومان کے چہرے پر ناگوار سا تاثر ابھرا
“دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ہے تمہاری فیملی کا ایسے کیسے وہ تمہارے پرپوزل کے بارے میں سوچ سکتے ہیں یہ کوئی عمر ہے 18 سال، اس عمر میں کون اپنی بیٹی کے لیے ایسا سوچ سکتا ہے”
رومان اپنی ناگواری عینی پر ظاہر کرتا ہوا وہ بولا تو عینی الٹا اس سے خفا ہونے لگی
“میں نے تمہیں پرپوز والی بات اس لیے نہیں بتائی ہے کہ تم میری فیملی کے لئے الٹا سیدھا بولنے لگ جاؤ اوکے”
عینی ناک منہ چڑھاتی ہوئی رومان سے بولی
“الٹا سیدھا کب بولا ہے یار میں نے تمہاری فیملی کا تو بس ایسا لگ رہا ہے جیسے تم اپنی فیملی پر کوئی بوجھ اور تمہاری فیملی اس بوجھ کو جلد سے جلد اپنے کندھوں پر اتارنا چاہتی ہے”
رومان بےزار سے لہجے میں سچائی بیان کرتا ہوا بولا کیونکہ 6ماہ پہلے بھی اس کا پرپوزل آیا تھا اور تب بھی اس کی فیملی اس پرپوزل کو لےکر کافی سیریس ہوچکی تھی تب عینی کے رونے پر (ابھی مجھے پڑھنا ہے) وہ لوگ خاموش ہوگئے
“یو نو رومان میں نے غلطی کی یہاں تمہارے پاس آکر اور تم سے اپنی پرابلم شیئر کرکے۔۔۔۔ تم یہاں بیٹھ کر ان چاکلیٹ سے منہ میٹھا کرو کیونکہ اب کی باری میں اس پروپوزل کو ریجیکٹ بالکل نہیں کرو گی”
عینی اس کو بولتی ہوئی بینچ سے اٹھنے لگی تو رومان نے جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑا
“کیسی ڈراؤنی باتیں کررہی ہو یار، تم میرے ساتھ اب ایسا سلوک کرو گی اچھا بیٹھو تو میں نکالتا ہوں اس مسئلہ کا کوئی سلوشن۔۔ یہ تم سے زیادہ میرا لیے مسئلے کی بات ہے”
رومان نرم پڑتا ہوا بولا اور عینی کو واپس بیٹھا دیا
“تم جانتے ہو اس پرابلم کا ایک ہی سلوشن ہے اور وہ یہ کہ تم اپنے پیرنٹس سے ہمارے بارے میں بات کرو”
عینی رومان سے بولی وہ خود بھی یہ بات جانتا مگر اس وقت جو گھر کی صورتحال چل رہی تھی ہے اس سچویشن میں بھلا کیسے وہ اپنے اور عینی کے متعلق بات کرتا۔۔۔ کاش کہ مغیث اس کے ساتھ ہوتا وہ اس کا یہ مسئلہ بھی چٹکی میں حل کردیتا۔۔۔ دن رات وہ اپنے بھائی کو مِس کرتا تھا جو بہت کم عرصے کے لیے اس کی زندگی میں آیا اور پھر ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔۔ وہ اداس ہوکر مغیث کے بارے میں سوچنے لگا
“خاموش کیوں ہوگئے ہو رومان اب اس میں سوچنے والی کیا بات ہے”
عینی رومان کو خاموش دیکھ کر ایک بار پھر سے بولی
“تم پریشان مت ہو میں کرتا ہوں کچھ نہ کچھ تم یہ چاکلیٹ تو کھاؤ”
رومان عینی کو بولتا ہوا اسے ریلکس کرکے خود سوچ میں پڑگیا کہ اس سلسلے میں اب وہ کس سے بات کرے
*****
“تم ایسی بات منہ سے نکال بھی کیسے سکتے ہو رومی، کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ گھر میں اِس وقت کیا حالات چل رہے ہیں انٹی اور صوفیہ کی حالت دیکھی نہیں تم نے۔۔۔ ویسے تو تمہیں اپنے تینوں بھائیوں میں سے سب سے زیادہ عزیز مغیث ہی تھا اور اس کے گزرنے کے ابھی دو ماہ بعد ہی تم۔۔۔ یہ تمہاری عمر ہے عشق لڑانے کی اور تمہیں اندازہ ہے اگر تمہارے خیالات کے بارے میں محب کو معلوم ہوگیا تو وہ کتنی باتیں سنائیں گے تمہیں”
جتنا رومان نے نہیں سوچا تھا مہرماہ نے اس سے زیادہ رومان کو باتیں سنادی تھی۔۔۔ وہ مہرماہ کو کیسے اپنی فیلنگز بتاتا کے مغیث اسے بےحد عزیز تھا جسے وہ کھو چکا ہے لیکن اب عینی کو کھونے سے ڈر رہا ہے تبھی وہ چاہتا ہے کہ کوئی بڑا عینی کے گھر والوں سے اس وقت کے لئے بات کرلے
کاش کے مغیث زندہ ہوتا رومان افسردگی سے پھر ایک بار سوچتا ہوا مہرماہ کے کمرے سے باہر جانے لگا مگر محب کو دروازے پر کھڑا دیکھ کر اُس کے قدم ٹھٹھک گئے۔۔۔ محب کے تاثرات سے وہ صحیح اندازہ نہیں لگا پایا تھا کہ وہ اسکی اور مہرماہ کی باتیں سن چکا ہے یا نہیں۔۔۔ رومان بناء کچھ بولے کمرے سے باہر نکل گیا
“کیسی طبیعت ہے تمہاری وامیٹنگ تو نہیں ہوئی صبح کے بعد سے دوبارہ”
محب مہرماہ کے پاس آکر اس کا چہرہ تھامے فریش موڈ میں مہرماہ سے پوچھنے لگا
صبح آفس جانے کے ٹائم پر اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس کا فورتھ منتھ اسٹارٹ ہوچکا تھا جس کے بعد اسے وامیٹنگ کا سلسلہ بھی اسٹارٹ ہوچکا تھا
“طبیعت تو ایسے ہی چلتی رہے گی آپ چینج کرلیں میں آپ کے لئے چائے لے کر آتی ہوں”
مہرماہ محب کو بولتی ہوئی وہاں سے جانے لگی تو محب نرمی سے اس کا بازو تھام کر اسے بیڈ پر بٹھادیا
“کیا بات ہے جس کو لےکر اپ سٹ ہو۔۔۔ کیوں اتنی ٹینس دکھائی دے رہی ہو”
محب مہرماہ کے برابر میں بیٹھ کر محبت سے اس کا ہاتھ تھام کر پوچھنے لگا مہرماہ چونک کر محب کو دیکھنے لگے۔۔۔
دو ماہ میں اس کے رویہ میں کتنی زیادہ تبدیلی آئی تھی اُس سمیت اب وہ گھر کے تمام افراد سے بہت نرمی سے بات کرتا تھا۔۔۔ یہ ایک اچھا اور پوزیٹو سائن تھا لیکن محب کے اتنے نارمل اور ریلکس رہنے سے لگتا ہی نہیں تھا جیسے اُسے مغیث کی موت کا کوئی دکھ تھا جبکہ مغیث کی ڈیڈ باڈی گھر لانے سے پہلے مہرماہ نے خود اُس کو اکیلے کمرے میں ٹوٹتے بکھرتے دیکھا تھا
لیکن عالم ہاؤس میں مغیث کی موت کے بعد اگر سب سے پہلے کسی نے خود کو سنبھالا تھا تو وہ محب ہی تھا یا تو اس کا شوہر اپنا غم چھپانے کا فن جانتا تھا یا پھر وہ اس معاملے میں تھوڑا بےحس تھا
“کیا آپ کو اپنے اردگرد ٹینشن نہیں دکھتی محب۔۔۔ آنٹی کی صحت اب پہلے جیسی نہیں رہی ہے صوفیہ کی کنڈیشن دیکھیں اُس کی دماغی حالت دیکھ کر تو اب مجھے خوف سا آنے لگا ہے اس نے اپنے آپ کو مغیث کے کمرے میں بالکل قید کرلیا ہے وہ اکیلے کمرے میں مغیث سے ہنس ہنس کر باتیں کرتی ہے۔۔۔ مغیث اسے کمرے میں ہر جگہ دکھائی دیتا ہے محب مجھے فکر ہونے لگی ہے اُس کی”
مہرماہ کے بولنے پر محب نے مہرماہ کا تھاما ہوا ہاتھ آہستہ سے چھوڑا اور کھڑا ہوکر ٹائی کی ناٹ کھولنے لگا
“ماما کو سمجھاتا تو ہوں جانے والا چلا گیا باقی جو تین بچے ہیں اب ان کی طرف دیکھیں اور گڑیا وہ ابھی صدمے میں ہے ٹھیک ہوجاۓ گی وقت کے ساتھ ساتھ” محب تھکے ہوئے انداز میں بولا اسے گھر میں سب سے زیادہ فکر ہی صوفیہ کی تھی مگر وہ بےبس تھا چاہ کر بھی اُس دیوانی کو کچھ نہیں سمجھا سکتا تھا
“غلط بول رہے ہیں آپ محب وہ وقت گزرنے کے ساتھ ٹھیک نہیں ہوگی بلکہ پاگل ہوجائے گی اسے گڑیا کہتے ہیں آپ پلیز اُس کو گڑیا کی طرح ٹریٹ مت کریں وہ جیتی جاگتی انسان ہے اگر بروقت اُسے اِس ماحول سے نہیں نکالا گیا تو مغیث کے بعد ہم صوفیہ کو بھی کھو دیں گے” مہرماہ بولتی ہوئی خود بھی پریشان تھی۔۔۔ آج صبح جب مہرماہ اس کے کمرے میں گئی تو صوفیہ مغیث سے باتیں کررہی تھی بقول صوفیہ کے اس وقت مغیث وہی کمرے میں صوفے پر بیٹھا ہوا تھا مہرماہ خالی صوفے کو دیکھ کر ایک لمحے کیلئے تو ڈر سی گئی تھی
“اچھا تم پریشان مت ہو تمہاری خود کی کنڈیشن ایسی نہیں کہ تم زیادہ کسی بات کی ٹینشن لو میں جابی سے بات کرتا ہوں اس بارے میں” محب کچھ سوچتا ہوا مہرماہ سے بولا اور اپنا لباس تبدیل کرنے چلاگیا
“اب کیا سوچنے لگ گئی ہو تم”
مہرماہ کو دماغی طور پر غائب دیکھ کر محب دوبارہ اُس کے پاس بیٹھتا ہوا اس کا ہاتھ تھام کر اپنائیت سے پوچھنے لگا
“آج دوپہر میں آپ کی رضوانہ چچی آئی تھیں۔۔۔ مجھے دیکھ کر کہہ رہی تھی کہ تمہارے ہاں پہلی اولا بیٹا ہے”
مہرماہ مسکراتی ہوئی محب کو بتانے لگی وہ خود بھی مہرماہ کی بات سن کر ہنستا ہوا بولا
“تم رضوانہ چچی سے پوچھ لیتی کہیں آنہوں نے اپنی آنکھوں میں جدید قسم کی الٹراسائنڈ مشین تو فکس کروا لیا جو آنے والے بچے کا جینڈر انہیں ابھی سے معلوم ہوگیا۔۔۔ ایک تو یہ رشتےدار اور اِن کے اندازے”
محب بیڈ پر لیٹا ہوا مسکرا کر بولا پھر اُس نے ہاتھ کے اشارے سے مہرماہ کو اپنے پاس بلایا۔۔۔ مہرماہ محب کے پاس آکر اس کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی
“ویسے آپ کو پہلی اولاد کیا چاہیے بیٹا یا بیٹی”
مہرماہ محب کے سینے پر سر رکھے اس سے پوچھنے لگی
“بیٹا ہو یا بیٹی، ہوگی تو ہماری پہلی اولاد۔۔۔ اور اپنی پہلی اولاد تو ہر انسان کو عزیز ہوتی ہے”
محب مہرماہ کو سمجھاتا ہوا بولا
“میرا تو دل کرتا ہے پہلے ہمارے ہاں بیٹا ہو اس کے بعد بیٹی” مہرماہ محب کے سینے پر انگلیاں پھیرتی ہوئی اسے اپنا مائنڈ بتانے لگی پھر محب کو دیکھ کر مسکرانے لگی
“یعنی ابھی تک چار بچوں والا ارادہ پکا ہے تمہارا”
محب کے پوچھنے پر مہرماہ نے مسکرا کر اقرار میں سر ہلادیا تو محب مسکرا دیا
“اگر تمہارے ارادے اور حوصلے پختہ ہیں تو پھر بحث کی کیا ضرورت،، پالنا تو تمہیں ہے۔۔۔ ویسے ابھی رومان تم سے کس سلسلے میں بات کررہا تھا”
محب کے اچانک پوچھنے پر مہرماہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور محب کو دیکھنے لگی یعنیٰ وہ رومان اور اسکی باتیں سن چکا تھا
*****
