354K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Deewani (Episode 2)

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

ہائی وے سے دائیں جانب مڑتی ہوئی شاہراہ جو رات کے پہر اِس وقت کافی سنسان تھی۔۔۔ اُن چاروں نے پہلے ہی پلان کر رکھا تھا کہ کسی کم فیملی یا اکیلے ڈرائیو کرنے والے انسان کی گاڑی کو روکنا ہے وہ چاروں اپنے شکار کی تلاش میں چھپے ہوئے بیٹھے تھے سامنے سے ایک گاڑی آتی ہوئی دکھائی دی جس میں ایک مرد اور ایک عورت موجود تھی تو وہ چاروں چوکنا ہوگئے۔۔۔ شارف بہکے بہکے قدم اٹھاتا ہوا اچانک روڈ پر آیا اور گاڑی کے سامنے بیہوش ہوکر گِر پڑا

“احمد کار روکے دیکھیں وہ لڑکا نہ جانے کیا ہوگیا اس بےچارے کو”

ماریہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے اپنے شوہر کو دیکھ کر بولی اور اس کی توجہ اس لڑکے کی طرف دلانے لگی جس کو وہ دور سے سڑک پر گرتا ہوا دیکھ چکی تھی

“چھوڑو یار ہم نے کونسا اس کو کار سے ٹکر ماری ہے یا وہ ہمارا کوئی رشتہ دار تھوڑی ہے جو میں اس کے لئے اپنی کار روکو”

احمد کا رات کے اس پہر گاڑی روکنے کو بالکل بھی ارادہ نہیں تھا جبھی وہ اپنی بیوی کو انکار کرتا ہوا بولا

“امی بالکل صحیح کہتی ہیں آج کل دور بہت بےحسی کا ہے یہی سوچ کر بچارے کی مدد کردیں کہ کل کو کوئی حادثہ ہمارے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے”

ماریہ کے بولنے پر احمد اپنی گاڑی روک کر غلطی کرچکا تھا جس کا اندازہ اسے تب ہوا جب دائیں اور بائیں جانب جھاڑیوں میں چھپے ہوئے تین افراد وہاں سے برآمد ہوئے جن کے ہاتھوں میں اسلحٰہ موجود تھا،، ان میں ایک کے اشارے کرنے پر احمد اور ماریہ دونوں کو گاڑی سے نکل کر باہر آنا پڑا وہی شارف بھی اٹھ کر ان دونوں میاں بیوی کے پاس آگیا

“کافی عقلمند ہو تم دونوں، اب شرافت سے اپنی گاڑی میں بیٹھو اور سیدھے یہاں سے گھر جاؤ”

ان چاروں کو احمد یا ماریہ کو کچھ بھی بولنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی جو جو ان کے پاس قیمتی سامان موجود تھا اسلحے کے خوف سے وہ دونوں میاں بیوی ایک ایک چیز نکال کر خود ہی ان چاروں کے حوالے کرتے چلے گئے تھے۔۔۔۔ جس کے بعد ان میں سے ایک شخص نے ان دونوں کو وہاں سے واپس جانے کا مشورہ دیا۔۔۔

احمد اور ماریہ وہاں سے جانے کے بعد شارف کے علاوہ باقی کے تینوں افراد نے اپنے اپنے چہرے پر سے نقاب ہٹا دیئے اور قہقہہ مار کر ہنستے ہوۓ وہ چاروں اپنی فتح کا جشن منانے لگے ان چاروں میں سے صرف عارف ہی ایسا تھا جو یہ کام پیسوں کے غرض سے کرتا تھا باقی وہ تینوں اچھے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور یہ کام صرف اور صرف انجوائے منٹ کے لئے کرتے تھے

*****

اپنے دوستوں کے پاس سے گھر پہنچتے پہنچتے اُس کو رات کے تین بج چکے تھے۔۔۔۔ ڈرگ کا استعمال آج اس نے پہلی بار کیا تھا جس کی وجہ سے اس کا سر بےتحاشا بھاری ہورہا تھا اور بری طرح چکرا بھی رہا تھا بقول نادر کہ پہلی بار کے استعمال میں ایسا ہی محسوس ہوتا ہے مگر اس کے بعد پھر انسان خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے اور دنیا جہاں کے فکر و غم سے غافل ہوجاتا ہے۔۔۔ ویسے تو اس کو نہ ہی کسی قسم کی فکریں لاحق تھی نہ ہی کوئی غم تھا لیکن پچھلے چھ ماہ سے وہ جس قسم کی صحبت میں اپنا وقت گزار رہا تھا اسے یہ سارے تجربہ کرنے کی عادت پڑچکی تھی۔۔۔۔ آج نادر کے مشورے پر اس نے یہ جادوئی پاؤڈر استعمال کیا تھا لیکن تب سے اسے بےتحاشا گھبراہٹ محسوس ہورہی تھی اپنے کمرے کی لائٹ کھلی ہوئی دیکھ کر اور صوفیہ کی اپنے کمرے میں موجودگی دیکھ کر مغیث کا دماغ گھوم گیا

“تم اس وقت میرے کمرے میں کیا کررہی ہو”

اس وقت مغیث کی آنکھیں بےتحاشہ سرخ ہورہی تھی وہ لہجے میں سختی لاتا ہوا صوفیہ سے پوچھنے لگا جو ایک کونے میں صوفے پر بیٹھی ہوئی خود بھی اونگھ رہی تھی

“یہ کنیز آپ کا انتظار کرنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتی ہے میرے سر کے تاج۔۔۔ آپ گھر آگئے ہیں تو بتائیں آپ کی کیا خاطر داری کرو”

صوفیہ مغیث کو کمرے میں دیکھ کر صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی اور فلمی انداز اپناتی ہوئی بولی تو مغیث کی تیوری پر بل چڑھ گئے

“اپنا چہرہ میرے سامنے سے گم کرلو صوفیہ اس وقت میں تمہاری فضول حرکت برداشت کرنے کے موڈ میں ہرگز نہیں ہوں”

مغیث سنجیدگی سے صوفیہ کو وارننگ دیتا ہوا بیڈ کی طرف بڑھا اور جوتوں سمیت بیڈ پر لیٹ گیا۔۔ مغیث کی آنکھوں کے ڈورے حد درجہ سرخ دیکھ کر صوفیہ سارا ہنسی مزاق بھول کر بالکل سیریس ہوگئی اور اسے مغیث کی فکر ہونے لگی

“ایسے کیوں لیٹ گئے ہیں، طبعیت تو ٹھیک ہے ناں آپ کی،،، کیا محسوس کررہے ہیں مغیث عالم پلیز مجھے بتائیں”

صوفیہ مغیث کے پاس آتی ہوئی اس کے شانے پر اپنا ہاتھ رکھ کر فکرمند سی اس سے پوچھنے لگی۔۔۔ اپنے شانے پر نرم و نازک سا صوفیہ کے ہاتھ کا لمس محسوس کرکے مغیث نے اپنی بند آنکھیں کھولیں تو اسے صوفیہ کا چہرہ نظر آنے لگا جس پر فکرمندی کی پرچھائیاں نمایاں نظر آرہی تھیں

“گھبراہٹ ہورہی ہے اسپیڈ بڑھاؤ اے۔سی کی”

مغیث نے بولتے ہوئے اپنی آنکھیں دوبارہ بند کرلی جبکہ صوفیہ اس کی بات پر عمل کرنے کے بعد بیڈ پر مغیث کے پاس بیٹھ گئی۔۔۔ صوفیہ نے محسوس کیا کہ وہ اب بھی بےچین تھا مغیث کے ماتھے پر ننھے ننھے پسینوں کے قطرے دیکھ کر صوفیہ مغیث کے پاؤں سے شوز اتانے لگی

“ذرا بھی فکر نہیں کرتے ہیں مغیث عالم آپ اپنی معلوم نہیں آپ نے یہ اپنا کیا روٹین بنایا ہوا ہے۔۔۔۔ کن آوارہ دوستو میں مصروف رہتے ہیں اب آپ۔۔۔ میرا بس چلے تو آپ کے تمام دوستوں کو بھاڑ میں جھونگ ڈالو جو نہ تو خود کسی کام کے ہیں اور نہ ہی آپ کو کوئی ڈھنگ کا کام کرنے دیتے ہیں”

صوفیہ مغیث کے شوز اتارنے کے بعد سوکس اتارتی ہوئی مسلسل بولے جارہی تھی اور اس کی آواز مغیث کو اپنے دماغ پر ہتھوڑے کی ماند لگ رہی تھی تبھی وہ سرخ آنکھیں کھول کر صوفیہ پر بری طرح غرایا

“اگر تمہیں یونہی بک بک کرتے رہنا ہے تو میرے کمرے سے چلی جاؤ صوفیہ مجھے اس وقت صرف سکون کی طلب ہے”

مغیث کے بری طرح سے ٹوکنے پر صوفیہ ایک دم خاموش ہوگئی کیونکہ مغیث کے تیور دیکھ کر لگ رہا تھا اگر صوفیہ نے اس کی بات نہیں مانی تو وہ واقعی اسے اپنے کمرے سے نکال باہر کرے گا جبکہ مغیث کی حالت کے پیش نظر صوفیہ اس وقت اس کے پاس رہنا چاہتی تھی اس لئے خاموشی سے اپنے دوپٹے سے مغیث کے چہرے پر آیا ہوا پسینہ صاف کرنے لگی۔۔۔ صوفیہ کا یہ عمل مغیث کو سکون پہنچانے لگا اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے مغیث کے ہاتھوں کی حرکت وہی تھم گئی۔۔۔۔ صوفیہ کے آنچل کی خوشبو اپنے اندر اتارتا ہوا وہ صوفیہ کی کلائی پکڑ کر اپنے چہرے سے اس کا دوپٹا ہٹاتا ہوا صوفیہ کا چہرہ غور سے دیکھنے لگا

“ملا سکون، کچھ بہتر ہوئی آپ کی طبیعت۔۔۔ بتائیں نہ مغیث عالم فرق پڑا کچھ”

مغیث کے یوں خاموشی سے دیکھنے پر صوفیہ فکرمندی سے مغیث سے پوچھنے لگی نہیں تو اس کا ارادہ محب کو جگا کر یہاں لانے کا تھا

“میری شرٹ کے بٹن کھول دو اور کمرے کی لائٹ بند کرکے اپنے کمرے میں چلی جاؤ”

مغیث اسے حکم دیتا ہوا اپنی آنکھیں بند کرچکا تھا شاید یہ پہلی بار ڈرگ لینے کا اثر تھا جو اسے بری طرح گھبراہٹ محسوس ہورہی تھی چاہ کر بھی اس کا ذہن مکمل طور پر سکون محسوس نہیں کر پارہا تھا نہ ہی وہ پوری طرح اپنے آپ کو ہوش و حواس سے غافل محسوس کررہا تھا۔۔۔۔صوفیہ ایک ایک کرکے اس کی شرٹ کے تمام بٹن کھولنے کے بعد اپنا مومی ہاتھ مغیث کے سینے پر رکھ کر نرمی سے اس کا سینہ سہلانے لگی۔۔۔۔ اس عمل سے ایک بار پھر مغیث کو اپنے اندر سکون اترتا ہوا محسوس ہوا وہ اپنی آنکھیں بند کیے لیٹا رہا

“میں محب بھائی کو بولتی ہوں وہ آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گے”

صوفیہ مغیث کا چہرہ دیکھ کر پریشانی سے بولی

“فضول کی باتیں مت کرو خبردار جو تم نے اس وقت کسی دوسرے کو میرے کمرے میں بلایا”

مغیث ایک بار پھر اس کو ڈانٹتا ہوا بولا وہ اپنی سرخ آنکھوں سے صوفیہ کا روہانسی چہرہ دیکھ کر ایک پل کے لیے خاموش ہوا، پھر بولا

“اس وقت کیو اتنی فکر ہورہی ہے میری،، ویسے تو ہر وقت تم میرا خون جلائے رکھتی ہو”

وہ صوفیہ کے چہرے پر اپنے لیے ڈھیر ساری فکر دیکھ کر بولا

“وہ سب آپ کا خون جلانے کے لئے نہیں کرتی بلکہ آپ کے فیس پر اسمائل دیکھنے کے لئے کرتی ہوں۔۔۔ آپ نہیں جانتے آپ کے آپ کے فیس پر اسمائل کتنی پیاری لگتی ہے مجھے”

صوفیہ اعتراف کرتی ہوئی بولی وہ اب اپنی پسندیدگی کا اظہار بھی اسکے سامنے بھی یونہی بناء ہچکچاۓ کرنے لگ گئی تھی۔۔۔۔ لیکن شاید وہ اس کی باتوں کو سیریس نہیں لیتا تھا۔۔۔ صوفیہ کی بات سن کر مغیث نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر صوفیہ کے بالوں کو مٹھی میں جکڑا اور اچانک سے اُس کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب لے آیا

“مغیث”

مغیث کے اس عمل سے صوفیہ پوری کی پوری اُس پر جھک گئی اگر وہ اپنے ہاتھ مغیث کے سینے پر نہ رکھتی تو اُس کے ہونٹ مغیث کے ہونٹوں سے ٹکرا جاتے۔۔۔ آج سے پہلے کبھی مغیث نے اسطرح کی حرکت نہیں کی تھی وہ اپنی ڈھرکنوں کا شور سنتی ہوئی مغیث کا چہرہ اتنے قریب سے دیکھنے لگی،

“اپنے اندر سے یہ بچپنا ختم کردو ورنہ نقصان اٹھاؤ گی،، شاید تمہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ تم ایک بیوقوف قسم کی لڑکی ہو، اس سے بڑھ کر تمہاری بیوقوفی کا منہ بولتا ثبوت اور کیا ہوسکتا کہ تم رات کے اس پہر میرے کمرے میں موجود ہو۔۔۔۔ جتنی تم بیوقوف ہو اتنا ہی میں خطرناک ہو جس دن تم نے میرا اصلی روپ دیکھ لیا ناں میرے سائے سے بھی دڑو گی تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ دور رہا کرو مجھ سے چلی جاؤ میرے کمرے سے”

مغیث اُس کے بالوں کو جھٹکے سے چھوڑتا ہوا اپنا رخ اسکی طرف سے پھیرتا ہوا لیٹ گیا۔۔۔ مغیث کی ساری باتیں صوفیہ کے سر گزر گئی لیکن صوفیہ اس کی آخری بات مانتی ہوئی چپ کرکے کمرے سے باہر نکل گئی

****

“ستارہ میڈم کہاں پر ہیں”

آفس سے گھر میں داخل ہونے کے ساتھ ہی اس نے ملازم سے اپنی بیوی کے بارے میں پوچھا

“صاحب جی وہ تو کسی کام سے باہر نکلی ہوئی ہیں”

ملازم کی بات سن کر اس کے ماتھے پر شکن نمودار ہوئی تھی۔۔۔ وہ آفس میں بیٹھا ہوا ستارہ کو مسلسل گھر کے نمبر پر کال ملا رہا تھا مگر دو گھنٹے سے فون مسلسل مصروف تھا اور یہ ستارہ کی خاص عادت تھی، جب گھر پر کوئی مہمان آتا تو وہ سب سے پہلے فون بزی کرتی تھی

“میرے پیچھے گھر میں کون آیا تھا”

ایش ٹرے میں موجود سگریٹ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے دیکھ کر اس نے ملازم سے پوچھا جبکے وہ ملازم کا جواب پہلے سے جانتا تھا جو اسے ایش ٹرے میں موجود سگریٹ کے ٹکرے بتارہے تھے

“فراز صاحب آئے تھے آپ کے آفس سے نکلنے کے بعد تقریبا دس بجے سے بارہ بجے تک وہ یہی پر موجود تھے”

ملازمت تفصیل سے اپنے سامنے کھڑے اپنے مالک کو بتانے لگا ملازم کی بات سن کر اس کے ماتھے پر موجود شکنوں میں مزید اضافہ ہوا کیونکہ وہ دس بجے سے ستارہ کو کال ملا رہا تھا اور اس کی بیوی اپنے منہ بولے بھائی کے ساتھ مصروف تھی جو اچانک بہرین سے اس کی خوشحال زندگی میں آگیا تھا، اس کو فراز ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا اور نہ ہی اس کو فراز کی ستارہ کے ساتھ بےتکلفی پسند تھی

“دونوں بچے کہاں پر ہے اس وقت”

وہ غصے میں سر جھٹکتا ہوا ملازم سے اپنے دونوں بیٹوں کے بارے میں پوچھنے لگا

“صاحب جی وہ دونوں تھوڑی دیر پہلے ہی سامنے والے پارک میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے گئے ہیں آپ کہتے ہیں تو دونوں کو بلا لیتا ہوں”

ملازم اپنے مالک کا بگڑا ہوا موڈ دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا جس پر وہ ملازم کو بنا کچھ بولے نفی میں اشارہ کرتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا

ماضی کی تلخ یادیں آج پھر اس کے ذہن پر حملہ آور ہوئی تو وہ بےسکونی محسوس کرتا ہوا اپنے کمرے کی کھڑکی کے دونوں پٹ کھول کر کھڑکی کے سامنے کھڑا ہوگیا۔۔۔ جب اس کا شدت سے دل گھبراتا یا پھر وہ اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا تو پرانی البم نکال کر ستارہ کی تصویروں سے کبھی باتیں کر لیتا یا پھر اس سے شکوے گلے کرلیتا۔۔۔ وہ ستارہ کو اس کی غفلت اور لاپرواہی کی سزا دینا چاہتا تھا مگر یہ نہیں جانتا تھا وہ ستارہ کو خود سے دور کرکے اس کو نہیں بلکہ خود اپنے لیے سزا تجویز کررہا تھا اور شاید یہ سزا اب اس کو ساری زندگی سہنی تھی

****

آج وہ آفس میں اور دنوں کی بانسبت نارمل حلیے میں آئی تھی۔۔۔ نفیس سے قمیض شلوار پر ہم رنگ دوپٹہ لئے بالوں کو باندھے، میک اپ سے اس کا چہرہ بالکل پاک تھا اور دوسری بات محب کو جو اچھی لگی تھی وہ یہ کہ اس نے ابھی تک کوئی الٹا کام نہیں کیا تھا۔۔۔ مطلب پریزنٹیشن سے متعلق اس نے بہت محنت سے سارے پوائنٹ اکھٹے کیے تھے جن کو سننے کے بعد محب نے بنا کوئی نقطہ اٹھاۓ اس کی پریزنٹیشن کو اوکے کیا تھا مہرماہ اپنی اس چھوٹی سی کامیابی پر ہی بہت خوش تھی

“سر پرسوں مسٹر شہریار نے آفیشلی لنچ پر آپ کو انوائیٹ کیا ہے اور مسٹر رضوان کے ساتھ پرسوں ہی آپ کو سائٹ پر وزٹ پر جانا ہے۔۔۔ تو کیا مسٹر شہریار کے ساتھ لنچ کا پروگرام ڈن کردو”

مہرماہ محب کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی جو اس وقت کھڑکی کے سامنے کھڑا ہوا چائے پی رہا تھا

“جی مس مہرماہ پرسوں شہریار کے ساتھ لنچ اوکے کردیں لیکن سائٹ پر جانے کا پروگرام ابھی رہنے دیں کچھ اور بھی ایشوز ہیں جن کو سولو کرکے پھر میں خود سائٹ کا وزٹ کرلوں گا”

محب بولتا ہوا چائے کا سپ لینے لگا مگر چائے غلطی سے اس کی شرٹ پر چھلک پڑی

“او شٹ”

محب چائے سے بھرا ہوا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اپنے شرٹ کو دیکھنے لگا

“کوئی بات نہیں سر میں ابھی اس داغ کا حل نکال دیتی ہوں ایک منٹ دکھاۓ ذرا”

مہرماہ اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے فوراً کرسی سے اٹھتی ہوئی محب کے پاس آنے لگی

“نو مس مہرماہ اٹس اوکے آپ رہنے دیں”

محب نے مہرماہ کو منع کرنا چاہتا تھا مگر مہرماہ کی بیٹ لک یہ ہوئی کہ فرش پر گری ہوئی چائے سے اس کا پاؤں بری طرح سلپ ہوا

“سررررر”

اپنے بچاؤ کے لیے مہرماہ کو کچھ نہیں سوجھا تو اس نے بنا سوچے سمجھے پوری طاقت سے محب کی ٹائی کھینچی جس کے نتیجے میں محب کا اپنا بیلنس بھی برقرار نہیں رہ سکا مہرماہ تو فرش پر بری طرح گری ہی تھی محب بھی اس کو سنبھالنے کے چکر میں اسی کے اوپر گر پڑا

کاش سر پر چوٹ لگنے سے اس کی یاداشت کھو جاتی تو کم سے کم آنکھیں کھولنے پر اس کو اتنی شرمندگی تو نہیں ہوتی۔۔۔محب کو اپنے اوپر دیکھ کر مہرماہ کے اوسان مزید خطا ہوگئے

“آپ کو معلوم ہے آپ انتہا درجے کی ایک بیوقوف لڑکی ہے مس مہرماہ”

وہ قہر برساتی نظروں سے مہرماہ کو گھورتا ہوا بولا

“میں آپ کی بات سے اتفاق کرتی ہوں مگر سر پلیز آپ میرے اوپر سے تو اٹھ جائیں میں بری طرح دب چکی ہوں”

مہرماہ خود شرمندہ ہوتی ہوئی محب کو اس کی پوزیشن کا احساس دلانے لگی جو مکمل اُس کے اوپر جھکا ہوا اُسے غصے سے دیکھ رہا تھا

“یہ بات تو آپ ایسے بول رہی ہیں جیسے میں بہت شوق سے آپ کے اوپر آکر گرا ہوا انجوۓ کررہا ہوں۔۔۔ آپ میری لگامیں چھوڑیں گی تبھی میں اُٹھ کر کھڑا ہو سکو گا”

محب دانت پیستا ہوا غصے میں مہرماہ سے بولا تو مہرماہ کی نظریں محب کی ٹائی پر گئی جو ابھی بھی مہرماہ نے پوری طاقت سے پکڑی ہوئی تھی

“سس سوری سر میرا بالکل بھی دھیان نہیں گیا اس طرف”

مہرماہ نے بولتے ہوۓ اس کی ٹائی چھوڑی تو محب اٹھ کر کھڑا ہوگیا ابھی بھی اس کے چہرے پر ناگواری چھائی ہوئی تھی جسے دیکھ کر مہرماہ اپنی بےوقوفی پر ایک بار پھر شرمندہ ہونے لگی