354K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Deewani (Episode 16)

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

جب تک نادر چار دیواری کے اطراف میں پہنچا وہاں صوفیہ کے علاوہ کوئی دوسرا موجود نہیں تھا

“سارا پلان چوپٹ کرکے رکھ دیا الو کے پٹھے نے”

نادر غصے میں مغیث کا سوچ کر بڑبڑایا

“مغیث کہاں ہیں؟”

صوفیہ نادر کو وہاں آتا دیکھ کر پریشانی کے عالم میں اس سے مغیث کا پوچھنے لگی تو نادر غور سے اس کا پریشان چہرا دیکھ کر زوردار قہقہہ لگاتا ہوا بولا

“وہ تو اس لڑکی کے ساتھ مزے لے رہا ہے لڑکی کی خوبصورتی دیکھ کر پھسل گیا بیچارا، کہنے لگا پہلے میں اس بلا سے اپنا دل بہلاؤں گا بعد میں تمہیں موقع ملے گا۔۔۔ نخرے کمال کے ہیں ویسے مغیث صاحب کے”

نادر کمینگی کا ثبوت دیتا ہوا صوفیہ سے بولا

“بکواس بند کر اپنی، وہ تمہاری طرح کی گھٹیا نیچر کے مالک نہیں ہیں بتاؤ کہاں ہیں مغیث مجھے ان کے پاس جانا ہے”

نادر کی بکواس پر صوفیہ کا دل چاہا وہ نادر کے منہ پر کھینچ کر طماچہ رسید کردے مگر صوفیہ وہاں سے جانے لگی تو نادر بھی صوفیہ کے پیچھے چلا آیا

ایک بڑے سے پتھر کے پیچھے جھاڑیوں کے پاس پہنچ کر صوفیہ کے قدم وہی رک گئے جہاں اقراء کا وجود زمین پر موجود تھا جبکہ مغیث اقراء کے پاس بیٹھا ہوا اس کے ہاتھ کی نبص ٹٹول رہا تھا

“ابے ایسے کون کرتا ہے یار بےہوش ہی کر ڈالا تو نے بچی کو، میں نے پہلے ہی تجھ سے بولا تھا ڈری ہوئی ہے ذرا پیار سے ہینڈل کرنا مگر تو بھی ناں”

نادر وہاں آتا ہوا مغیث کو دیکھ کر بولا تو مغیث سر اٹھاکر ناگواری سے نادر کو دیکھنے لگا مگر نادر سے دو قدم دور وہاں صوفیہ کو دیکھ کر مغیث نادر کی فضول بکواس اور اس ل

اقراء کو نظرانداز کرتا ہوا صوفیہ کے پاس آیا جو حیرت سے مغیث کو دیکھے جارہی تھی

“کیا کیا ہے آپ نے اقراء کے ساتھ”

صوفیہ صدمے کی کیفیت میں مغیث کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی مگر وہاں اچانک آتی ہوئی قدموں کی آوازوں پر مغیث اور نادر دونوں کے کان کھڑے ہوگئے مغیث نے سرے سے ہی صوفیہ کی بات پر توجہ نہیں دی

“مجھے نہیں لگتا اب یہاں ڈر کے مارے کوئی واپس آئے گا یہ کوئی اور ہی ہے شارف معلوم نہیں کہاں مر گیا ہے،، میرے خیال میں ہمیں یہاں سے نکلنا چاہیے ورنہ ہم لوگ بری طرح پھنس سکتے ہیں”

نادر مغیث سے بولتا ہوا مغیث کے جواب کا انتظار کئے بناء اس کی گاڑی کی طرف تیزی سے بھاگا

“وہ ٹھیک کہہ رہا ہے صوفیہ ہم لوگوں کو یہاں سے جلدی نکلنا چاہیے”

مغیث نے صوفیہ سے بولتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے نکلنا چاہا تو صوفیہ نے اپنا ہاتھ جھٹکے سے چھڑوایا

“مجھے آپ جیسے انسان کے ساتھ کہیں نہیں جانا، دور ہوجائیں میری نظروں سے”

صوفیہ دکھ سے مغیث کو دیکھتی ہوئی بولی وہ کتنا زیادہ گرا ہوا انسان تھا اس کی ایسی طبیعت ہوگی صوفیہ یہ بات تصور میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی

“یہ فضول بحث کا وقت نہیں ہے صوفیہ یہاں سے نکلو”

قدموں کی آواز اسی سمت بڑھ رہی تھی اور اس وقت صوفیہ کا بحث کرنا مغیث کو زہر لگ رہا تھا تبھی وہ صوفیہ کا بازو پکڑ کر زبردستی اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا

“چھوڑ دیں مجھے مغیث عالم ورنہ میں پوری دنیا کے سامنے چیخ چیخ کر آپ کے بارے میں بتاؤں گی کہ آپ کتنے گرے ہوئے انسان ہیں”

صوفیہ کے زور سے بولنے پر اور اپنا بازو چھڑوا کر اسے دوسری سمت جاتا ہوا دیکھ کر مغیث کا پارہ ہائی ہونے لگا اس نے جاتی ہوئی صوفیہ کا دوپٹہ زور سے کھینچا اور صوفیہ کا منہ دوپٹے سے باندھنے لگا

“بیوقوف لڑکی جس رستے تم جارہی ہو ناجانے کون پہلے سے اسی طرف سے یہاں ہماری طرف آرہا ہے،، تم خود بھی مرو گی اور مجھے بھی مرواؤ گی جس کو جو بھی بتانا ہو وہ بعد میں بتادینا مگر ابھی یہاں سے چلو”

صوفیہ کا منہ بند کرنے کے بعد مغیث اس کے ہاتھ چلانے کی پروا کیے بغیر اس کو اپنے کندھے پر ڈالتا ہوا اپنی گاڑی کی طرف تیزی سے بڑھنے لگا

*****

“آآآآ”

کچن سے آتی مہرماہ کی چیخ پر محب تیزی سے کچن کی طرف بڑھا محب کے پیچھے پیچھے ہی موحد بھی کچن کی طرف بھاگا مگر کچن میں چیخیں مارتی ہوئی مہرماہ اپنی جان بچاکر کچن سے بھاگنے کی کوشش میں سامنے سے آتے محب سے بری طرح ٹکرائی

“مہر ہوش میں آؤ کیا ہوا ہے تمہیں”

وہ چیخیں مارنے کے ساتھ اتنی ڈری ہوئی تھی کے محب مہرماہ کو دونوں شانوں سے پکڑکر جھنجھوڑتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

“کچن میں اتنے بڑے سائز کا چوہا تھا محب جو میرے پاؤں کے اوپر سے گزرا تھا،، اسی کے خوف سے میں بری طرح اچھل پڑی وہ خود بھی میری چیخوں سے کنفیوز ہوگیا اور کچن سے بھاگنے کی بجاۓ کچن میں ہی گول گول چکر لگانے لگا۔۔۔۔ جب میں نے کچن سے نکلنا چاہا تو کمینہ میرے پاؤں کے نیچے بھی آگیا۔۔۔۔ اللہ جی یہ میری قسمت میں کس کس طرح کے عذاب لکھ دیئے ہیں عالم ہاؤس میں آکر کبھی چوہا، کبھی ببر شیر۔۔۔ میں تو اب سخت پریشان ہوچکی ہوں”

ببر شیر غصے کی وجہ سے وہ یقینا محب کو بول رہی اس وقت اتنی شدید بوکھلائی ہوئی تھی سنجیدگی کا خول خود پر سے اتارے وہ نان اسٹاپ بولی جارہی تھی، محب نے مہرماہ کی ساری کہانی ضبط کرکے سنی اس وقت اسے صوفیہ کی ٹینشن تھی اس لیے وہ مہرماہ کو ڈانٹتا ہوا بولا

“تمھاری یہ بچکانہ حرکتیں کب ختم ہوگی، جابی کتنی ٹینشن میں ہیں گڑیا کے ابھی تک گھر نہ پہنچنے کی وجہ سے اوپر سے تم چیخ چیخ سر میں درد کررہی ہو، میں نے تمہیں سمجھایا تھا ناں تم اس گھر میں سب سے بڑی بہو کے رتبے پر فائز ہو خیال ہے تمہیں کچھ”

محب نے آخری جملہ بولنے کے ساتھ اس کے دوپٹے کی طرف اشارہ کیا جو کندھے پر ٹکا ہوا مگر آدھے سے زیادہ زمین پر جھول رہا تھا محب کے احساس دلانے پر فورا مہرماہ نے اپنا دوپٹہ درست کیا مگر اسے محب پر سخت قسم کا غصہ آیا تھا جو موحد کے سامنے اسے ڈانٹ رہا تھا

“بڑی بہو بن کر کون سی بچکانہ حرکت کردی میں نے، کیا یہاں بیٹھی میں گڑیا گڈے کی شادی کروا رہی ہوں میں جو آپ آکر باتیں سنانے لگے ہیں مجھے۔۔۔۔ چوہا دیکھ کر ہر نارمل انسان چیختا ہی ہے میں کیا چوہے کے ساتھ مل کر کچن کے گول گول چکر لگانے لگتی”

مہرماہ خود بھی بگڑے ہوۓ تیور کے ساتھ بولی تو محب بالکل خاموش ہوگیا اسے توقع نہیں تھی مہرماہ اس طرح اچانک زبان کھولے گی وہ بھی موحد کے سامنے

“محب بھائی ٹھیک ہی تو بول رہی ہیں بھابی۔۔۔ آپ انہیں کیوں ڈانٹ رہے ہیں ٹینشن تو چوہے نے دی ہے ناں اسے کیا ضرورت تھی بھابی کے پاؤں کے اوپر چڑھنے کی اور شکر ہے بھابی آپ نے چوہے کے ساتھ گول گول چکر نہیں لگاۓ ورنہ سات پھیرے ہوجانے پر محب بھائی کے لیے ٹینشن بن جاتی،۔۔۔۔ محب بھائی اگر آپ کو غصہ کرنا ہے تو چوہے پر کریں مگر ببر شیر بھی اب چوہے کی منہ لگتا بھلا کہاں اچھا لگے گا”

موحد موحول میں پیدا ہونے والی تلخی کا اثر ختم کرنے کے غرض سے بولا تو محب کی توپوں کا رخ موحد کی طرف ہوگیا

“فضول میں بک بک مت کیا کرو موحد کام کی بات بتاؤ کیا کہہ رہا تھا مغیث ابھی کال پر، اور اتنی دیر سے اس نے اپنا موبائل کیو آف کیا ہوا تھا گھر میں کیا ٹینشن ہوچکی ہے اسے تو کچھ خبر بھی نہیں ہے”

محب نے مہرماہ کی بدتمیزی کو نظر انداز کرکے موحد سے مغیث کی کال کے بارے میں پوچھنے لگا جس کی چند منٹ پہلے موحد کے موبائل پر آئی تھی

دو گھنٹے پہلے موحد گھر پہنچ چکا تھا مگر صوفیہ کے لیے اس نے جو بری خبر سنائی تھی اس سے جبران اور محب دونوں ہی پریشان ہوچکے تھے۔۔۔ کسی کو بھی ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ دونوں وینز کے پیچھے جو کوسٹر آدھے راستے تک ان وینز کے پیچھے چل رہی تھی وہ اچانک کہاں غائب ہوگئی تھی۔۔۔ پولیس کوسٹر کی تلاش میں تھی لیکن جن جن کے پیارے ابھی تک گھر نہیں پہنچے تھے وہ سب ٹینشن میں تھے۔۔۔۔۔ جبران نے ٹینشن میں سب کو اپنے کمرے سے باہر بھیج دیا تھا جبکہ محب مسلسل یونیورسٹی اور پولیس والوں سے رابطے میں تھا

“میری تو چوہے جتنی اوقات بھی نہیں ہے جو میں بک بک کرو آپ کے سامنے خیر اچھی خبر یہ ہے کہ صوفی کا معاملہ ہو تو مغیث بھائی لاپروا کیسے ہوسکتے ہیں آپ بھی ریلیکس ہوجائیں، انہوں نے یہی بتانے کے لیے کال کی تھی کہ صوفی بالکل ٹھیک ہے اور وہ لا رہے ہیں اسے اپنے ساتھ گھر”

موحد کے بتانے پر مہرماہ نے شکر ادا کیا جبکہ محب نے بھی سکون کا سانس لیا ساتھ ہی وہ حیرت زدہ ہوکر موحد سے بولا

“مطلب مغیث جانتا تھا کہ گڑیا کہاں پر ہے۔۔۔ کیا باقی سارے لوگ بھی بحفاظت گھر پہنچ گئے ایسی کوئی انفارمیشن ابھی مجھے یونیورسٹی والوں نے تو نہیں دی”

محب الجھتا ہوا موحد سے پوچھنے لگا

“مغیث بھائی گھر پہنچیں گے تبھی مکمل بات بتائیں گے ابھی تو انہوں نے جو میسیج مجھے دیا وہ میں نے آپ کو بتادیا اور جابی کو بھی بتاکر آتا ہوں تاکہ وہ بھی ٹینشن فری ہوجائیں”

موحد بولتا ہوا وہاں سے چلاگیا تو محب دوبارہ مہرماہ کی طرف متوجہ ہوا

“کیا کررہی تھی اتنی دیر سے کچن میں، کتنے پسینے آرہے ہیں تمہیں”

محب مہرماہ کو پسینے سے شرابور حالت میں دیکھ کر نرمی سے پوچھنے لگا۔۔۔ اسے احساس ہوچکا اس نے فضول میں ہی مہرماہ کو بچکانے پن کا طنعہ دیا تھا اب اس نے ساری الٹی سیدھی عادتیں اپنے اندر سے ختم کرلی تھی

“آپ نے دو دن سے آگ لگانے والی کوئی باتیں نہیں بولی ناں تو اس لیے کچن میں چولہا کے سامنے کھڑی خود کو آگ لگارہی تھی”

مہرماہ نے بغیر ادب لحاظ کیے تڑخ کر جواب دیا۔۔۔ ادب لحاظ کرکے بھی اسے کیا صلہ ملنا تھا محب کو بولتی ہوئی وہ وہاں سے جانے لگی تو محب مہرماہ کی کلائی پکڑتا ہوا اس کو اپنی جانب کھنچ کر مضبوط حصار میں لیتے ہوۓ مہرماہ کے ہونٹوں پر اپنی محبت کی چھاپ چھوڑنے لگا مہرماہ اس کا حصار توڑتی دور ہوئی اور ہونق بنی ہوئی محب کو دیکھنے لگی۔۔۔ وہ محب کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے پوچھنا چاہ رہی ہو یہ آخر کیا تھا

“غصے اور آگ والا گیم کافی ہوگیا ہے ہم دونوں کے بیچ، رات کو جب بیڈروم میں آنا تو اپنا سارا غصہ باہر ہی تھوک کر آنا”

محب مہرماہ کو نرم لہجے میں سمجھاتا ہوا خود وہاں سے چلاگیا

“غصہ تھوک کر آنا جیسے غصہ تو ہر وقت میرے سر پر سوار رہتا ہے۔۔۔ خود ڈریگن بنے منہ سے آگ نکلتے ہیں اور مجھے بول رہے ہیں”

مہرماہ بڑبڑاتی ہوئی خود بھی وہاں سے چلی گئی

*****

“تم تو موحد سے کال پر کہہ رہے تھے کہ صوفیہ بالکل ٹھیک ہے، پھر اس طرح اس کو اٹھاکر کیوں لارہے ہو کیا ہوا ہے اس کو”

جیسے ہی مغیث صوفیہ کو اٹھائے ہال میں داخل ہوا تو ایک ایک کرکے سب اپنے کمرے سے باہر نکلے،، صوفیہ کو دونوں بازو میں اٹھائے وہ خاموشی سے اس کے کمرے کی طرف بڑھا تو جبران بھی اس کے پیچھے صوفیہ کے کمرے میں آتا ہوا مغیث سے پوچھنے لگا

“کچھ نہیں ہوا ہے، راستے میں اس کی آنکھ لگ گئی تھی تو میں نے اسے جگایا نہیں، نیند خراب ہوتی اس لیے اٹھاکر لارہا ہوں”

مغیث نارمل لہجے میں بولتا ہوا صوفیہ کو آرام سے بیڈ پر لٹانے لگا جبران پریشانی سے صوفیہ کو دیکھنے لگا جبکہ کمرے میں آتا ہوا محب مغیث کی بات پر حیرت زدہ ہوتا ہوا بولا

“یہ ایسے کیسے سو رہی ہے اتنی آواز کے باوجود نہیں جاگ رہی کیا تم سچ بول رہے ہو یہ واقعی ٹھیک ہے”

محب کے پوچھنے پر مغیث نے محب کو دیکھا پھر کمرے میں داخل ہوتی مہرماہ کے ساتھ ہی آتے موحد کو دیکھ کر بولا

“پانی سے بھرا ہوا جگ لے آؤ موحد تاکہ میں پورا جگ اس کے اوپر انڈیل دیتا ہوں جب یہ جاگ جائے گی تو اس سے خود ہی پوچھ لینا سب کے سب کہ یہ ایسے کیو سو رہی ہے۔۔۔ تم تو حد کرتے ہو ایسا عجیب سوال کرکے جیسے یہ سو نہیں رہی ہو بلکہ میں اسے بےہوشی کا انجکشن لگاکر بیہوش کرکے یہاں لایا ہوں”

مغیث محب کی بات پر برا مناتا ہوا جواب دینے لگا۔۔۔۔ جبکہ ڈرنے یا گھبرانے کی بجاۓ اس نے گھر والوں کے سامنے خود کو بالکل ریلکس رکھا ہوا تھا۔۔۔ سب ابھی بھی صوفیہ کو دیکھ رہے تھے مہرماہ باقاعدہ صوفیہ کے قریب جاکر اسے غور سے دیکھنے لگی وہ اتنے لوگوں کی موجودگی میں کتنے آرام سے پرسکون نیند سورہی تھی مہرماہ کو کافی حیرت ہوئی

“مگر بھائی صوفی ملی کہاں سے آپ کو،، اور باقی سارے ٹیچرز اور اسٹاف۔۔۔۔ کیا وہ سب بھی اپنے گھر پہنچ گئے ہیں، ویسے آپکو معلوم کیسا ہوا صوفی گھر پر موجود نہیں تھی۔۔۔ اتنی دیر سے آپ تو خود بھی گھر پر موجود نہیں تھے”

موحد ایک ایک کرکے وہ سارے سوالات مغیث سے پوچھنے لگا جو کمرے میں موجود سارے لوگ جاننا چاہتے تھے

“ایک آدمی صبح کا گھر سے نکلا ہوا رات کے ایک بجے گھر آیا ہے اور تمھاری تفتیش شروع ہوگئی۔۔۔۔ یہ سب کے سامنے موجود ہے ناں صحیح سلامت تو جب یہ صبح جاگے گی پوری کہانی اسی سے سن لینا اور تسلی کرلینا فلالحال میں تو اپنے کمرے میں جاکر آرام کرنا چاہتا ہوں”

مغیث اب کی بار بگڑے ہوۓ موڈ کے ساتھ موحد سے بولا تو سب ہی نے مغیث سے مذید سوالات کا ارادہ ترک کردیا ویسے بھی صوفیہ سب کے سامنے موجود تھی مغیث کا ری ایکشن بالکل نارمل تھا یعنی کوئی ٹینشن والی بات نہیں تھی اس لیے سب ریلکس ہوگئے جبران سب کو اپنے اپنے کمرے میں جانے کا بول کر خود بھی اپنے کمرے میں چلا گیا اور موحد بھی جاچکا تھا

“کھانا لاؤ مغیث تمہارے لیے”

مہرماہ صوفیہ پر سے نظریں ہٹاکر مغیث سے پوچھنے لگی جو جبران کے جانے کے بعد صوفیہ کی گردن صحیح سے تکیہ پر رکھ کر اس پر کمفرٹر ڈال رہا تھا مغیث کے انداز میں صوفیہ کے لیے کتنی کئیر تھی مہرماہ صوفیہ کی قسمت پر رشک کرنے لگی۔۔۔ محب غور سے مہرماہ کا چہرہ دیکھ رہا تھا جیسے اسے اندر تک پڑھنا چاہتا ہو کہ وہ کیا سوچ رہی تھی

“بلاوجہ اس لڑکی نے اپنے بالوں کا کلر چینج کرلیا، اور ناک میں یہ تار ڈالنے کی ضرورت تھی بھلا نیچرل لک کتنا سوٹ کرتا تھا اس پر، ہاں کھانا میں اپنے کمرے میں ہی کھاؤ گا”

مغیث مہرماہ کو جواب دینے سے پہلے صوفیہ کے نئے لک پر تبصرہ کرتا ہوا بولا، یہ دونوں کام صوفیہ نے اس کی غیر موجودگی میں کرواۓ تھے جب وہ شہر سے باہر تھا۔۔۔ ساتھ ہی مغیث صوفیہ کے بالوں سے بینڈ نکال کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ رہا تھا تاکہ صوفیہ کے آرام میں خلل نہ پڑے وہ ہر طرح سے مطمئن ہونے کے بعد اپنے کمرے میں جانا چاہتا تھا

“لیکن صوفیہ کے لیے تمھارا اپنائیت بھرا انداز اور تمھاری نظریں بتارہی ہیں یہ تمہیں اس لک میں بھی بری نہیں لگ رہی۔۔۔ میں کھانا گرم کرکے تمھارے کمرے میں رکھ دیتی ہوں”

مہرماہ مسکراتی ہوئی بولی اسکی مسکراہٹ میں عجیب افسردگی شامل تھی جو محب نے محسوس کی جبکہ مہرماہ کی بات پر مغیث مسکرایا

“بری تو یہ مجھے اس وقت بھی نہیں لگتی تھی جب یہ میرا خون جلایا کرتی تھی۔۔۔ کبھی فرصت سے بتاؤ گا یہ کتنا غصہ دلاتی آئی ہے بچپن سے مجھے”

آنکھیں بند کی ہوئی صوفیہ کا چہرہ دیکھ کر مغیث مہرماہ کو بتانے لگا وہ دل ہی دل میں دعا کررہا تھا صوفیہ کے دل سے اس کے لیے محبت کبھی ختم نہ ہو

“کیا آج ساری رات اس کو دیکھ کر گزانے کا ارادہ ہے۔۔۔ ابھی نکاح ہوا ہے تمہارا اتنی بےتابی دکھانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ جاؤ مہر اس کو کھانا دے کر فورا کمرے میں آؤ رات کافی ہوچکی ہے”

محب جو خاموش کھڑا تھا ان دونوں کے بیچ مداخلت کرتا ہوا بولا اور کمرے میں چلاگیا مہرماہ محب کو جاتا دیکھ کر خود بھی کچن میں چلی آئی

*****

“میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی آپ کے بارے میں کہ آپ اتنے برے انسان ہوگیں۔۔۔۔ آج مجھے جی بھر کر اپنے اوپر افسوس ہورہا ہے کہ کیوں انتخاب کیا میں نے آپ کا”

مہرماہ مغیث کے کمرے میں کھانا رکھ کر جاچکی تھی تب مغیث کو صوفیہ کے بولے جملے یاد آنے لگے جو چند منٹ پہلے وہ گاڑی میں بیٹھی ہوئی مغیث سے بول رہی تھی

“کیوکہ تمہارے سر پر عشق کا بھوت سوار تھا اور آنکھوں پر محبت کی پٹی باندھی ہوئی تھی۔۔۔ ویسے بھی سوچنے سمجھنے کے لیے ایک عدد دماغ ضروری ہوتا ہے جو تمھارے پاس نہیں ہے۔۔ مجھ سے نکاح کا فیصلہ تمہارا ذاتی فیصلہ تھا کسی نے بھی یا میں نے تمہیں فورس ہرگز نہیں کیا تھا نکاح کرنے کے لیے، اب جبکہ ہم دونوں ایک پائیدار رشتے میں باندھ چکے ہیں تو افسوس کیسا، جو تم نے آج دیکھا اسے زیادہ ذہن پر سوار کرنے کی ضرورت نہیں بھول جاؤ سب، اور اپنے فیصلے پر پچھتانے کی بجاۓ یاد رکھنا آگے تمہیں ثابت قدم رہنا ہے”

وہ کار ڈرائیو کرتا ہوا صوفیہ کو پرسکون لہجے میں مشورہ دیتا ہوا بولا۔۔۔ وہاں سے نکلنے کے تھوڑی دیر بعد ہی اس نے صوفیہ کا منہ کھول دیا تھا

“آپ مجھے سب کچھ بھول جانے کے لیے کہہ رہے ہیں، ذرا سی شرمندگی ہے آپ کو اپنے عمل پر کیا کرتے پھر رہے ہیں آپ،، آج جو بھی کچھ ہوا یا میری آنکھوں نے جو کچھ دیکھا وہ میں ساری زندگی نہیں بھول سکتی سنا آپ نے۔۔۔ اور آپ کو کیا لگ رہا ہے آپ کی حقیقت جان کر میں کیا خاموش بیٹھوں گی گھر پہنچ کر میں آپ کی اصلیت سب کو بتاؤ گی مغیث عالم”

مغیث کا پرسکون انداز اس کو دکھی کرنے کے ساتھ ساتھ اندر تک آگ لگا گیا تھا جس پر صوفیہ چیختی ہوئی بولی تو مغیث نے ایک دم کار کو بریک لگایا صوفیہ کا سر ڈیش بورڈ پر لگتے لگتے بچا

“کیا بتاؤ گی گھر جاکر سب کو میرے بارے میں، ذرا یہاں مجھے بتاؤ پھر میں تمہیں اچھی طرح بتاتا ہوں”

وہ غصے میں صوفیہ کی کلائی سختی سے پکڑتا ہوا پوچھنے لگا

“آپ مجھے اسطرح خوفزدہ کرکے میری آواز دبا نہیں سکتے مغیث عالم چند دنوں پہلے جو میری نظروں سے گزرا اب بات اس سے بڑھ کر ہے نہ ہی میں خاموش رہوگی اور نہ ہی اب میں آپ سے کوئی رشتہ رکھو گی”

چند گھنٹے پہلے گزرے سارے منظر یاد کرکے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کی دماغ کی رگیں پھٹ جاۓ گی، جبکہ صوفیہ کی بات نے مغیث کے غصے کو مذید بڑھاوا دیا

“ہمارا نکاح تمہاری خوشی اور آمادگی پر ہوا ہے لیکن رشتہ قائم نہ رکھنے والی بات اب دوبارہ اپنی زبان پر مت لانا ورنہ ابھی تک تم نے میرا اصل غصہ نہیں دیکھا ہے اور اگر گھر پہنچ کر آج والے واقعے کے متعلق تم نے کسی سے بھی کسی قسم کی بکواس کی تو یاد رکھنا تم،، میرا وہ روپ دیکھوں گی جو تم نے ابھی تک نہیں دیکھا ہے”

مغیث نے صوفیہ کو اس کے ارادے سے باز رکھنے کی اور ڈرانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی مگر وہ خود بھی صوفیہ کی فطرت کو اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ اچھی خاصی ضدی طبیعت کی لڑکی تھی جو شروع سے ہی اس کی دھمکیوں اور باتوں کو خاطر میں نہیں لاتی تھی لیکن مغیث کو اس بات کا بھی اچھی طرح اندازہ تھا کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے اور اسے مشکل میں نہیں ڈال سکتی۔۔۔ وہ مغیث کی بات سن کر جن نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی مغیث اچھی طرح جھنجھلا اٹھا

“نادر نے بالکل صحیح بولا تھا آج جو کچھ ہوا اس کے بعد مجھے تمہیں گھر واپس لےکر جانا ہی نہیں چاہیے”

مغیث نے بولتے ہوۓ ڈیش بورڈ کی چھوٹی سی دراز سے ایک سرنچ اور انجکشن نکالا جسے صوفیہ خوفزدہ نظروں سے دیکھنے لگی

“کک کیا کررہے ہیں آپ”

وہ مغیث کو دیکھ کر گھبراتی ہوئی پوچھنے لگی شاید صوفیہ کو اندازہ ہوچکا تھا وہ اس کے ساتھ اب کیا کرنے والا تھا اس لئے وہ کار کا دروازہ کھولنے لگی جوکہ لاک تھا

“اگر آپ نے میرے ساتھ کوئی بھی ایسی حرکت کی تو میں آپ کو بخشوں گی نہیں مغیث عالم، میں یہ ساری باتیں جابی اور محب۔۔۔۔

صوفیہ کے پرزور احتجاج اور دھمکی کی پرواہ کیے بغیر وہ انجیکشن صوفیہ کے بازو میں لگاچکا تھا جس کے بعد وہ بےہوش ہوگئی

“تمہاری بیٹری آج ساری رات ڈاؤن رہے گی تب ہی میں کچھ آگے کے لئے پلان کرسکتا ہوں”

وہ صوفیہ کو بولتا ہوا دوبارہ کار اسٹارٹ کرچکا تھا