Teri Deewani By Zeenia Sharjeel Readelle 50387

Last updated: 22 November 2025

354K
32

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

"مجھے اپنے کمرے میں جانا ہے مغیث عالم اب پلیز مجھے جانے دیں" اس کی گردن کے ساتھ شرم سے چہرہ بھی سرخ ہوچکا تھا صوفیہ کو لگا اگر وہ مذید مغیث کے کمرے میں رہی تو وہ آج ہی ساری لمٹ کراس کردے گا جبکہ دوسری طرف مغیث کو صوفیہ کا یوں اپنے سے دور کرنا ذرا پسند نہیں آیا وہ پیچھے تو ہوا تھا مگر اس کے دونوں ہاتھ ابھی تک وارڈروب پر ہی ٹکے ہوۓ تھے اپنے ماتھے پر بل لیے صوفیہ سے بولا "اگر تم اس وقت میرے کمرے سے گئی تو یاد رکھنا آئندہ تمہیں اپنے کمرے میں گھسنے نہیں دوگا" مغیث صوفیہ کو دھمکی دیتا ہوا بولا ساتھ ہی وہ اس کے ہونٹوں پر جھکنے لگا تو صوفیہ نے تیزی سے اپنے چہرے کا رخ دوسری جانب کیا "کہاں تو آپ نکاح کے لیے راضی نہیں تھے اور اب ایسی بےتابی دکھا رہے ہیں کہ فلموں کے رومینٹک ہیروز کو بھی شرم آجاۓ" صوفیہ آنکھیں بند کیے بولی مغیث کا یہ انداز دیکھ کر اس کی حالت غیر ہورہی تھی اس کی بات پر مغیث ایک دم بولا "ان ہیروز سے تھوڑی سی شرم تم بھی ادھار لےلو اور اپنا منہ بند کرلو، تم سے گرہز برتنے کی یہی وجہ تھی کیوکہ میں جانتا تھا میرے نکاح میں آکر میری دسترس میں تمھاری یہی حالت ہونی ہے" مغیث نے بولتے ہوۓ ٹھوڑی سے صوفیہ کا چہرہ تھام کر اس کے چہرے کا رخ اپنے چہرے کی طرف کیا صوفیہ کی بند آنکھیں دیکھ کر مغیث اس کے ہونٹوں پر جھک گیا اب کی بار صوفیہ اسکی شدتوں کی تاب نہ لاتے ہوۓ تڑپ اٹھی اور مغیث کو پیچھے کی طرف دھکیل کر شرم کے باوجود غصے میں اسے دیکھنے لگی جو بناء شرمندہ ہوۓ اپنے ہونٹ پر لگا صوفیہ کے ہونٹ کا خون صاف کرنے لگا "یہ کون سی محبت ہے آپ کی، بالکل ہی خونخوار درندے بن گئے ہیں آپ تو، اگر اب آپ نے اپنے دانتوں کا استعمال کیا تو توڑ دو گی میں آپ کے سارے دانت" صوفیہ جو تھوڑی دیر پہلے اپنی گردن پر جلن محسوس کررہی تھی اب اپنے زخمی ہونٹ سے رستا ہوا خون صاف کرکے مغیث کو دھمکی دیتی ہوئی بولی جس کا اثر لیے بغیر مغیث نے اسے اپنی جانب کھینچا وہ جو پھلجڑی بنی ہوئی کھڑی تھی مغیث کے کھینچنے پر ایک دم اس کے سینے سے ٹکرائی "تمہاری یہ فراٹے بھر کر چلتی ہوئی زبان تو میں بعد میں بند کرو گا لیکن پہلے تمھارے شک وشبہات دور کرکے تمہیں یہ سمجھادو کہ میں کس قسم کا مرد ہوں تاکہ آئندہ تم میری مردانگی کو چیلنج نہ کرسکو" مغیث نے سنجیدگی سے بولتے ہوۓ گلے سے صوفیہ کا دوپٹہ کھینچنا چاہا ویسے ہی صوفیہ نے مغیث کی کلائی پکڑلی "وہ سب میں نے آپ کو ہمارے نکاح پر راضی کرنے کے لیے بولا تھا مغیث آپ یہ بات خود بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں"

صوفیہ مغیث کا چہرا دیکھتی ہوئی بولی

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!