354K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Deewani (Episode 14)

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

آج گھر میں داخل ہوتے ہوئے اگر غیر ارادی طور پر وہ ستارہ کا چہرہ نہ دیکھتا تو کبھی بھی نہیں جان پاتا تھا کہ نقاب کے پیچھے ہستی اس کی سگی ماں تھی، اس وقت موحد ستارہ کے پاس بیٹھا ہوا کبھی کسی بات پر خوش ہورہا تھا تو کبھی کسی بات پر ستارہ سے شکوہ کررہا تھا بچپن میں گزری اپنی محرومیوں پر وہ اس کو بتاکر کبھی اشکبار ہوجاتا تو ستارہ بھی موحد کے ساتھ ساتھ آنسو بہانے لگتی تھوڑی دیر بعد وہ اپنے آنسو صاف کرکے ستارہ کے اس طرح ملنے پر اپنے آپ کو خوش قسمت کہتا تو ستارہ اس کو پیار کرنے لگتی۔۔۔ مہرماہ خاموش بیٹھی ہوئی ان دونوں کو مسکراتا ہوا دیکھ رہی تھی اتنے سالوں سے وہ اور رومان ستارہ کی سالگرہ سیلیبریٹ کرتے آئے تھے شاید ہی وہ اپنی کسی برتھ ڈے والے دن اس طرح خوش نظر آئی تھی جس طرح وہ آج خوش دکھائی دے رہی تھی مہرماہ ستارہ کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر سوچنے لگی اور خود بھی اس کو خوش دیکھ کر مسکرانے لگی

رومان تھوڑی دیر پہلے یہ جذباتی منظر دیکھ کر وہاں سے جاچکا تھا،، اسے عالم ہاؤس کہ کسی فرد کی طرح موحد کی ذات میں بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی، موحد کو ستارہ کے ملنے کی اتنی خوشی تھی کہ وہ رومان کا رویہ محسوس کرنے کے باوجود اس نے رومان کے رویہ کو زیادہ نہیں سوچا تبھی ایک دم موحد کے موبائل پر محب کی کال آنے لگی جسے ریسیو کرکے وہ کان سے لگائے محب سے کچھ بولتا محب خود بول پڑا

“مہر کو فون دو”

محب کا انداز ایسا تھا موحد نے بنا کچھ بولے اپنا موبائل مہرماہ کی طرف بڑھا دیا جسے پکڑتے ہوئے مہرماہ موحد کے تاثرات سے سمجھ چکی تھی کہ کال کس کی ہوسکتی ہے

“محب دراصل تھوڑی دیر پہلے میرے پاس رومان کی کال آئی تھی اس نے مجھے ڈرا ہی دیا کہ آنٹی کی طبیعت۔۔۔۔”

مہرماہ نے موبائل پکڑ کر ایک سانس میں بولنا شروع کردیا مگر محب کی غصے سے بھری آواز نے اس کی بولتی ہی بند کردی

“میں نے تمہاری بکواس سننے کے لیے کال نہیں ملائی ہے ابھی اور اسی وقت تم اور موحد باہر آؤ میں ویٹ کررہا ہوں نیچے گاڑی میں”

محب اپنی بات سخت لہجے میں بول کر کال کاٹ چکا تھا جبکہ موحد اور ستارہ دونوں ہی مہرماہ کا خجالت اور شرمندگی سے سرخ چہرہ دیکھنے لگے جیسے وہ فورا مسکراہٹ کے پیچھے چھپاکر ایک دم کھڑی ہوگئی

“یوں اچانک محب کو بتائے بغیر موحد کے ساتھ آگئی ہوں تو وہ پریشان ہوگئے ہیں،، بول رہے ہیں کہ آنٹی سے ایکسکیوز کرلینا ذرا جلدی میں ہوں اس لئے ملنے نہیں آسکتا، وہ میرا ویٹ کررہے ہیں باہر،، چلو موحد تم بھی گھر چلو بعد میں دوبارہ آجانا یہاں”

مہرماہ ستارہ کو بتانے کے ساتھ ساتھ جانے کے لئے فورا تیار ہوچکی تھی ساتھ ہی اس نے موحد سے بھی چلنے کا کہا جس پر ستارہ غور سے مہرماہ کے چہرے پر گبھراہٹ اور خوف دیکھ کر کہیں ماضی میں پیچھے چلی گئی جب وہ جبران کے ڈر سے گھر پہنچنے سے پہلے ایسے ہی پریشان ہوا کرتی تھی

“بھابھی آپ پلیز اکیلی چلی جاہیں، بھائی سے کہہ دیجیئے گا کہ میں یہاں سے اپنے فرینڈ کے پاس جاؤ گا یا پھر کوئی بھی بہانہ بنادیئے گا میں اب رات تک ہی گھر آؤں گا”

موحد کی بات پر ستارہ ہلکا سا مسکرائی مگر آج اسے مہرماہ کی فکر ہوچلی تھی اپنے فیصلے پر دل بری طرح خوف کا شکار تھا۔۔۔۔ مہرماہ سے ستارہ سے مل کر جلدی سے فلیٹ سے باہر نکل گئی، زیادہ ٹائم ضائع کرکے وہ اپنی مزید شامت نہیں لانا چاہتی تھی

*****

“کہاں پر ہے موحد”

غضب بھری نظر مہرماہ پر ڈال کر وہ مہرماہ کو اکیلے گاڑی کی طرف آتا دیکھ کر بری طرح چیخا

“اسے اپنے دوست کے پاس جانا ہے تو وہ۔۔۔

مہرماہ گاڑی میں بیٹھتی ہوئی محب کو بتانے لگی مگر محب اس کی بات پر دلچسپی ظاہر کیے بغیر گاڑی اسٹارٹ کرچکا تھا تو مہرماہ خاموش ہوگئی۔۔۔۔ مہرماہ نے ایک نظر محب کی طرف دیکھا تو وہ خاموش مگر کافی غصے میں ڈرائیونگ کررہا تھا دو بار سگنل پر گاڑی رکنے پر وہ اگے گاڑی والے کو بھی باتیں سنا کر جھگڑ رہا تھا مہرماہ دل ہی دل میں جلد سگنل کھلنے کی دعا کرنے لگی

“محب آج آنٹی کا برتھڈے تھا تو رومی نے آنٹی کو سرپرائز دینے کے لیے مجھے وہاں بلالیا تھا مجھے تو پتا بھی نہیں تھا کہ”

وہ گھر پہنچنے سے پہلے بات کلیئر کرنے کے غرض سے بولی تب محب غصے میں دوبارہ چیخا

“بےوقوف عورت خاموش ہوکر بیٹھو دیکھ نہیں رہی میں ڈرائیونگ کررہا ہوں” اپنی تذلیل پر مہرماہ بالکل خاموش ہوگئی، راستے میں لوگوں سے جھگڑتا ہوا، اس پر چیختا ہوا مہرماہ کو وہ کہیں سے پڑھا لکھا اور ایک کامیاب کمپنی چلانے والا انسان نہیں لگ رہا تھا مہرماہ پہلے کی طرح اپنے خیالات کا اس کے منہ پر اظہار بھی نہیں کرپائی وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ اس وقت اس کی کوئی بھی بات سننا نہیں چاہتا تھا۔۔۔ گھر آتے ہی محب گاڑی پارک کرتا ہوا گھر کے اندر چلاگیا تو مہرماہ بھی گاڑی سے اتر کر محب کے پیچھے ہال میں آئی شکر کہ وہاں اس وقت کوئی نہیں تھا وہ محب کے پیچھے اپنے کمرے میں پہنچی

“اپنے گھر پہنچ کر تم میری ذات سے اتنی بےخبر ہوچکی تھی کہ میری کال ریسیو کرنا تم نے ضروری نہیں سمجھا، کیسی عورت ہو تم، شرم نہیں آئی تمہیں غیروں کے لیے اپنے شوہر کو نظرانداز کرتے ہوئے”

مہرماہ کے بیڈروم میں داخل ہوتے ہی محب کمرے کا دروازہ بند کرتا ہوا غصے میں مہرماہ پر دھاڑا

“میرا سیل فون گھر پر رہ گیا تھا محب اس لئے مجھے معلوم نہیں ہوسکا آپ مجھے کال کررہے تھے لیکن آپ جنہیں غیر بول رہے ہیں وہ میرے لئے غیر نہیں ہیں بلکہ وہ بھی میرے اپنے ہیں پالا ہے آنٹی نے مجھے”

مہرماہ محب کے غصے کے آگے کچھ نہیں بولتی خاموش رہتی اگر محب غصے میں صرف اسی کی ذات پر بات کرتا اور لفظوں کا درست استعمال کرتا مگر مہرماہ کے آگے سے جواب دینے پر محب کا پارہ مزید ہائی ہوگیا

“وہ لوگ غیر نہیں ہیں تو تم یہاں میرے گھر پر کیا کررہی ہو، کیوں کی ہے تم نے شادی بولو۔۔۔ جب ایک لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو اس کے اپنے بھی پراۓ ہوجاتے ہیں اس لڑکی کے لیے اور جن کو تم اپنا کہہ رہی ہو وہ پہلے سے ہی غیر ہیں تمھارے لیے۔۔۔۔ کیا رشتہ ہے تمہارا تمہاری آنٹی سے یا پھر ان کے بیٹے سے، علاوہ اس کے کہ انہوں نے بچپن میں تمہیں پالا ہے۔۔۔۔ میں پسند نہیں کرتا ان لوگوں سے تمہارا ملنا، اب تک یہ بات تمہاری چھوٹی سی عقل میں نہیں آئی۔۔۔۔ سیل فون گھر پر رہ گیا تھا جانتا نہیں ہوں میں تم جیسی لڑکیوں کی چالبازیوں کو،، جان بوجھ کر تم اپنا موبائل گھر پر چھوڑ کر گئی تھی تاکہ میں تم سے رابطہ ہی نہ کرسکو۔۔۔ شوہر کے پیچھے ان کے گھر سے باہر نکلنے والی عورتیں میری نظر میں صرف دھوکے باز عورتیں ہیں اور اگر تم نے اگر مجھ سے دھوکہ بازی کی تو یاد رکھنا مہر میں ان کمزور مردوں میں سے نہیں ہوں جو عورت کو چھوڑ دیں میں تمہارا بہت برا حشر کرو گا”

آفس سے واپس گھر آنے پر محب نے مہرماہ اور موحد کو گاڑی میں بیٹھ کر گھر سے باہر نکلتے ہوئے دیکھ لیا تھا، گھر میں پہنچ کر عبدل سے ساری صورت حال جاننے کے بعد وہ ان دونوں کے پیچھے پہنچا تھا۔۔۔۔

“آپ کے الفاظ اور آپ کا رویہ بہت توہین آمیز ہے محب،، میں آپ کے پیچھے آپ کے گھر سے کسی غیر مرد کے چکر میں تو نہیں نکلی تھی جو آپ دھوکے بازی کا الزام لگارہے ہیں مجھ پر، آپ کو اتنی بےاعتباری ہے مجھ پر،، آپ کو کیا لگتا ہے میں جان بوجھ کر اپنا موبائل گھر پر چھوڑ کر گئی تھی آپ کی باتوں نے بہت زیادہ دل دکھایا ہے میرا آج”

مہرماہ بولتی ہوئی اپنی آنکھوں میں آۓ آنسو صاف کرنے لگی۔۔۔ شادی اگر انہی چیزوں کا نام تھی تو یہ اس کے لیے کافی تلخ تجربہ ثابت ہوا تھا

“میرے سامنے یوں جھوٹے آنسو بہا کر تم مجھ سے ہمدردی کی توقع رکھوں گی تو یہ تمہارے لیے بےکار سی کوشش ہے،، کیا میں نہیں جانتا تم میرے آفس جانے کے بعد میرے پیچھے کیا کچھ کررہی پھرتی ہو”

محب سخت لہجے میں بولتا ہوا ڈریس چینچ کرنے ڈریسنگ روم میں جانے لگا تو مہرماہ اس کے جملے پر غور کرتی ہوئی محب کا راستہ روک کر اس کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی

“کیا کچھ کرتی ہوں میں آپ کے پیچھے آپ کے گھر میں”

وہ اب اپنا غصہ دباۓ محب کو دیکھ کر پوچھنے لگی اس کے شوہر نے اس کے لیے کتنی بےاعتباری اپنے دل میں رکھی ہوئی تھی اس کے لئے مہرماہ کو دکھ ہونے لگا

“میرے افس جانے کے بعد تم گھنٹوں اپنی آنٹی اور انکے بیٹے سے موبائل پر باتیں کرتی ہو، کیا مجھے نہیں معلوم تمہاری حرکتیں۔۔۔ اب کہو تو یہ بھی بتادو کہ تم کیا دکھڑے سناتی ہوگی میرے پیچھے،، آنٹی آپ کو معلوم ہے محب کتنے ظالم ہیں شادی کے دوسرے دن ہی مجھے گھر کی ذمہ داری سنبھالنے کو بول دیا اس گھر میں میری حیثیت کسی نوکرانی کی سی ہے، شادی کے بعد وہ نہ تو مجھے ہنی مون پر لےکر گئے نہ ہی کہیں گھمانے پھرانے لےکر جاتے ہیں اور تو اور آپ لوگوں کے ملنے پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔۔۔ اگر میں آپ سے اور رومی سے موبائل پر روز روز باتیں نہ کرو تو شاید مر ہی جاؤ۔۔۔۔ اور مر ہی جانا چاہیے تم جیسی ناشکری عورتوں کو جو صرف اپنے شوہر کو گدھا سمجھتی ہیں جو دن بھر باہر نکل کر محنت کرکے پیسے کمائے اور تم جیسی عورتیں ان کے پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرو”

محب مسلسل بولا جارہا تھا اور مہرماہ خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی وہ کتنا زیادہ بیوی کے رشتے سے بدگمان تھا،، محب غصے بھری نظر مہرماہ پر ڈال کر ڈریسنگ روم میں کپڑے چینج کرنے چلاگیا

مہرماہ سن ہوکر ویسے ہی کھڑی رہی،، اس نے کب ستارہ سے یا رومان سے اس قسم کی باتیں کی تھی، وہ تو ہر روز موبائل فون پر ستارہ کو یہی بتاتی تھی محب اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ بےحد خوش ہیں محب بہت اچھا شوہر ہے، اس نے تو یہ تک ستارہ کو نہیں بتایا تھا کہ محب کو اس کے ان دونوں سے ملنے پر اعتراض تھا کتنے مان نے ستارہ نے اس کی شادی اپنے بڑے بیٹے سے کراوائی تھی

“آنٹی آپ بہت غلط سوچ رہی تھی اپنے بیٹے کے بارے میں، محب کی نیچر بہت زیادہ چیلنج ہے میں ان کے ساتھ کیسے خوش رہ کر پوری زندگی گزار سکتی ہوں انہیں تو عورت ذات پر ہی اعتبار نہیں ہے۔۔۔ مجھ پر اعتبار نہیں ہے جو ان کی بیوی ہے جو ان کے ساتھ رہتی ہے”

مہرماہ دل میں سوچتی ہوئی اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرنے لگی دروازہ پر دستک پر محب بھی کپڑے چینج کرکے ڈریسنگ روم سے باہر نکل آیا

“بھابھی یہ آپ کا موبائل موحد بھائی کے کمرے میں آپ بھول گئی تھی شاید”

مہرماہ کے دروازہ کھولنے پر عبدل اس کو اس کا موبائل تھماتا ہوا چلاگیا جو مہرماہ کمرے کے ڈسٹ بن میں ڈال کر کمرے سے باہر نکل گئی

“بلاوجہ کے ڈرامے”

محب مہرماہ کی حرکت دیکھ کر بڑبڑاتا ہوا خود بھی کمرے سے باہر نکل گیا

*****

“میں نے بھی تمہیں اپنے ساتھ باہر واک پر چلنے کی آفر کی تھی مگر تم مجھے انکار کرکے موحد اور گڑیا کے ساتھ واک کرنے چلی گئی”

مہرماہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی محب مغیث کو خدا حافظ کہہ کر اپنا موبائل سائیڈ پر رکھتا ہوا اس سے بولا۔۔۔

دو دن پہلے ہوئی تلخی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے آج محب نے خود سے پہل کرتے ہوئے مہرماہ کو کھانے کے بعد واک پر چلنے کا بولا جس پر مہرماہ نے انکار کردیا، وہ مہرماہ کے انکار کو اتنا زیادہ محسوس نہیں کرتا اگر اس کے چند منٹ بعد مہرماہ موحد اور صوفیہ کے ساتھ باہر واک پر نہ جاتی

“اگر آپ کو میرا موحد اور صوفیہ کے ساتھ واک پر جانا برا لگا تو آپ مجھے منع کردیتے میں ان کے ساتھ نہیں جاتی”

مہرماہ محب کو بولتی ہوئی پاؤں میں موجود کینوس اتار کر سلیپرز پہننے لگی۔۔۔۔

دو دن پہلے جس انداز میں محب نے اس کو باتیں سنائی تھی مہرماہ نے اس دن سے اپنا موبائل کا استعمال بند کردیا تھا لیکن وہ ساتھ ہی اسی دن سے محب سے بھی بات چیت کرنا بند کرچکی تھی

“میں نے ایسا تو نہیں بولا کہ مجھے برا لگا بس تم نے میرے ساتھ جانے کی بجائے کسی دوسرے کو ترجیح دی تو تھوڑا محسوس ہوا بہرحال آج موسم اچھا تھا اسلیے واک پر چلنے کے لیے کہا تھا تم سے”

محب کا لہجہ اس وقت نرم تھا شاید وہ مہرماہ سے صلح کرنے کے چکر میں تھا یا پھر مہرماہ کا خود کو نظر انداز کرنا اسے محسوس ہوا تھا

“وہ دونوں دوسرے کہاں ہیں محب، وہ دونوں تو آپ کے “اپنے” ہیں اور ویسے بھی وقت ان لوگوں کے ساتھ اچھا گزرتا ہے جو لوگ آپ کو کچھ سمجھتے ہیں اور آپ کا احساس کرتے ہیں”

محب کا نرم لہجے میں دیکھ کر مہرماہ کا دل نہیں کیا کہ وہ بدلے میں نرمی برتے اسلیے محب کو بولتی ہوئی ڈریسنگ روم میں کپڑے تبدیل کرنے چلی گئی جب وہ نائٹ ڈریس (شارٹ شرٹ کے ساتھ ٹراؤزر) تبدیل کرکے باہر نکلی تو محب وہی کھڑا کسی گہری سوچ میں غرق تھا مہرماہ سر جھٹکتی ہوئی ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آئی۔۔ اپنی طبعیت کی ساری شوخی اور مذاق کرنا تو جیسے وہ بھول چکی تھی اسے تو اب ہنسنا بھی اچھا نہیں لگتا تھا،، وہ لوشن اٹھاکر اپنے ہاتھوں پر مساج کرنے لگی تب اس نے شیشے میں سے محب کو اپنے پاس آتے دیکھا۔۔۔ ہاتھوں کی حرکت اس وقت تھمی جب محب نے اس کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ کر مہرماہ کا رخ اپنی طرف کیا

“فور ہیڈ پر کیا ہوا ہے تمہارے، میں نے شام میں دیکھا تھا” محب فکرمند لہجے میں اس کے ماتھے پر آئی برو کے پاس ننھے سے پمپل کو دیکھ کر پوچھنے لگا جو اس کے سفید چمکتی اسکن پر نمایاں ہورہا تھا

“کیا آپ کو کچھ چاہیے محب،،، ہاں چائے کی طلب ہورہی ہوگی میں بناکر لاتی ہوں”

مہرماہ محب کی بات کو نظرانداز کرتی ہوئی اپنے کندھے سے اس کے ہاتھ ہٹاکر جانے لگی تو محب کے جملے پر اس نے اپنے قدم باہر جانے سے روک لئے

“اگر چاۓ چاہیے ہوگی تو میں گڑیا یا عبدل کو بول دو گا، تم شام سے کچن میں موجود ہو اب تھوڑا آرام کرلو”

وہی نرم لہجہ دل کو چھوتا انداز۔۔۔ مہرماہ نے سنجیدہ نظر محب پر ڈالی تو وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا، یوں بلاجواز مسکراہٹ اور اس کی باتیں،، اب مہرماہ سے ہضم کرنا مشکل ہونے لگی۔۔۔ مہرماہ بنا کچھ بولے بیڈ پر اپنی جگہ پر آکر لیٹ گئی تو محب بھی کمرے کا دروازہ لاک کرتا ہوا بیڈ پر اپنی جگہ پر لیٹ گیا

اس سے پہلے مہرماہ اپنا رخ کروٹ لےکر دوسری جانب کرتی محب نے نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑلیا جس پر مہرماہ نے کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔۔۔۔ اتنا رلانے دل دکھانے کے بعد وہ آخر کیوں کررہا تھا ایسے؟؟؟ مہرماہ کا دل چاہا وہ محب کا ہاتھ جھٹک کر اپنا ہاتھ کھینچ لے اور کمرے سے باہر نکل جاۓ، مگر چاہنے کے باوجود وہ ایسا نہیں کر پائی

“تمہارے اوپر یہ سی گرین کلر بہت اچھا لگتا ہے یہی کلر تم نے اس دن بھی پہنا ہوا تھا ناں جب تم آفس میں گھوڑا میرا مطلب ہے گھوڑی بنی ہوئی ٹیبل کے نیچے سموسہ ڈھونڈ رہی تھی”

محب کے جملے پر مہرماہ نے اپنی بند آنکھیں کھولیں اور اسے غصے میں دیکھنے لگی مگر وہ مہرماہ کو دیکھ کر ابھی بھی مسکرا رہا تھا۔۔۔ نہیں بلکہ شاید یہ مسکراہٹ اس کا مذاق اڑانے والی تھی۔۔۔ وہ بھی تو کتنی فضول حرکتیں کرتی اور کتنا بےتکہ بولتی تھی اس وقت

“یہ سی گرین کلر نہیں بلکہ فروزی کلر ہے۔۔۔ اور اس دن بھی میں نے سی گرین کلر نہیں پہنا ہوا تھا بلکہ وائٹ کلر پہنا ہوا تھا سی گرین واحد ایسا کلر ہے جو مجھے زہر لگتا ہے اور میں وہ رنگ نہیں پہنتی”

مہرماہ نے اسے جتانے کے ساتھ اپنا ہاتھ بھی کھچنا چاہا جس پر محب نے گرفت سخت کرلی مہرماہ چاہ کر بھی اپنا ہاتھ نہیں چھڑا سکی

“ہاں یاد آیا اسی دن تو کیچپ نے اپنا کام دکھایا تھا تمھاری شرٹ پر۔۔۔۔ سر آپ کو معلوم ہے ناں یہ کیچپ کا داغ ہے”

محب اس کی پرانی بات یاد کرکے دہراتا ہوا بولا ساتھ ہی ہنسا بھی، مہرماہ اپنا ہاتھ چھڑوا کر اٹھ کر بیٹھ گئی

“آخر مسئلہ کیا ہے آپ کے ساتھ محب”

مہرماہ سیریس ہوکر محب سے پوچھنے لگی لیکن وہ بیڈ پر لیٹا ہوا ابھی بھی مہرماہ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔۔ جیسے مہرماہ کے غصے کرنے سے لطف انداز ہورہا ہو

“مسئلہ یہ ہے میں کہنا چاہ رہا تھا تم پر یہ فروزی کلر اس وقت بہت اچھا لگ رہا ہے، شادی کے پہلی صبح جو تم نے مرجنڈا کلر پہنا تھا اس میں تم کافی “کیوٹ” لگ رہی تھی پھر اس کے نیکسٹ ڈے تم نے بلیک کلر پہنا تھا اس رات تو تم نے میرے انداز سے خود اندازہ لگالیا ہوگا کہ اس دن تم کیسی لگ رہی تھی،، اس کے نیکسٹ ڈے تم نے نارنجی کلر پہنا تھا جو مجھے خاص پسند نہیں مگر اس میں بھی تم مالٹے کی مانند کھٹی میٹھی سی لگ رہی تھی اور تم سی گرین کلر جب پہنو گی تو مجھے پورا یقین ہے تم اس میں بھی کافی حسین لگو گی”

محب بیڈ پر لیٹا ہوا ایک ایک کرکے اسے بالکل وہی کپڑوں کے رنگ بتانے لگا جو مہرماہ نے شادی کے شروع دن پہنے تھے وہ ابھی بھی مہرماہ سے دوستی کرنے کے موڈ میں تھا جبھی مہرماہ کو دیکھکر اسمائل دے رہا تھا

“آپ نے شادی کے دوسرے دن مجھ سے بولا تھا کہ آپ ان مردوں میں سے نہیں ہیں جو بیوی کی بےوجہ تعریفیں کرتے ہیں اور یہ بھی کہ میں آپ سے کوئی ایکسپکٹینشن نہ رکھو۔۔۔ تو پھر آخر یہ سب کیوں کررہے ہیں آپ۔۔۔ مقصد کیا ہے آپ کا ان ساری باتوں کے پیچھے”

مہرماہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا وہ محب سے پوچھنے لگی تو محب بھی اٹھکر بیٹھ گیا تبھی مہرماہ ایک دم بولی

“اوہ تو اب سمجھ میں آیا ان ساری باتوں کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو چائے کی طلب نہیں بلکہ کسی اور چیز کی طلب ہورہی ہے۔۔۔۔۔ مہرماہ تو بھی صدا بےوقوف تھی اور رہے گی جو اتنی سی بات نہیں سمجھ پائی اپنے شوہر کی”

مہرماہ نے محب کو بولنے کے ساتھ اپنی عقل پر بھی ماتم کیا۔۔۔ تو مہرماہ کی بات پر محب کے تاثرات ایک دم تبدیل ہوۓ جیسے اسے یہ بات ناگوار گزری ہو

جبکہ مہرماہ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد اپنے بالوں کو کھول کر کندھے پر ایک سائیڈ پر کرنے لگی، ایک کے بعد ایک نائٹ ڈریس کا بٹن کھولنے پر محب کو اس پر شدید غصہ آیا وہ مہرماہ کا ہاتھ پکڑتا ہؤا بولا

“کیا بکواس ہے یہ کیا سمجھ رکھا ہے تم نے مجھے،، صرف اس چیز کے لیے میں اتنی دیر سے تمہارے ترلے کررہا ہوں، بیوی ہو تم میری، مجھے اس بات کا احساس ہے کہ میری باتوں سے تمہارا دل دکھا ہوگا اور تم سمجھ رہی ہوکہ میں وہ سب کرنے کے لئے۔۔۔ صحیح کہا جاتا شادی کرنے کے بعد تو مرد الو کا پٹھہ بن جاتا ہے جو ذرا سی غلطی ہوجانے پر بیوی کو مناۓ اس کے ترلے منتیں کرے۔۔۔ بھاڑ میں جاؤ تم میری بلا سے”

محب مہرماہ کو غصے میں سناتا ہوا کروٹ لے کر بیڈ پر لیٹ گیا جبکہ مہرماہ کا دل چاہا محب کا رخ اپنی صرف کرکے اس انسان کا نام پوچھے جو مردوں کے بارے میں یہ بولتا ہے اور نام پتہ چل جانے پر جاکر اس شخص کو جوتے لگاکر یہ بتاۓ کہ شادی کے بعد مرد نہیں بلکہ عورت الو کی پٹھی بن جاتی ہے۔۔۔ مہرماہ دل ہی دل میں گڑھتی ہوئی خود بھی دوسری طرف رخ کرکے لیٹ گئی

*****

“ہمارا پورا بیچ یہاں یونیورسٹی کے ساتھ پکنک پر انجوائے کرنے آیا ہے لیکن یہاں آکر بھی تم نے منہ بنایا ہوا ہے آخر ہوا کیا ہے اب تمہارے موڈ کو”

موحد اپنے دوستوں کے پاس سے آٹھ کر صوفیہ کے پاس آکر پوچھنے لگا جو اپنے گروپ کی تمام لڑکیوں سے الگ تھلک ایک جگہ خاموش کھڑی ہوئی تھی

“ہونا کیا ہے میرے موڈ کو تمہارے دو نمبری بھائی نے تو میری قسمت ہی خراب کردی ہے پورے چار دن سے آفس کے کام سے دوسرے شہر میں موجود تھے،، ذرا بھی میرا خیال نہیں آیا ان کو، بندہ دوسری جگہ پر جاکر کال کرکے حال چال ہی پوچھ لیتا ہے الٹا پرسوں میرے کال کرنے پر مجھ سے فرما رہے ہیں کام کی بات ہو تو بات کرو ورنہ کال رکھ دو یعنی بےحسی اور بےمروتی کی آخری حد ہے جو مغیث عالم پر آکر ختم ہوتی ہے”

صوفیہ ناک بھوں چڑھاتی ہوئی موحد کو اپنے جلے دل کا حال سنانے لگی

“توبہ کرو صوفی کیسی ناشکری لڑکی ہو تم محب بھائی کے کہنے پر مغیث بھائی دوسرے شہر آفس کے کام سے گئے تھے نہ کہ تم سے عاشقیاں بگھارنے،،، کل رات ہی میرا بھائی پورے چار دن کے بعد گھر لوٹا تھا۔۔۔۔ میری ان گناہ گار آنکھوں نے خود دیکھا کیسے میرا بھائی پوری فیملی کے بیچ بیٹھا ہوا ہر تھوڑی دیر بعد تمہیں وقفے وقفے سے تاڑ رہا تھا مگر تم وہاں اپنی گردن اکڑاۓ ان کو دیکھنے کی بجاۓ مہرماہ بھابھی سے باتیں کرتی رہی۔۔۔ اب جب تم نے مجھے منہ کھولنے پر مجبور کر ہی دیا ہے تو یہ بھی سن لو مجھے تو یہ تک معلوم ہے پورے عالم ہاؤس کو سوتا ہوا سمجھ کر میرا معصوم بھائی رات کے پہر تمھارے بیڈروم کے دروازہ کا لاک کھولنے کی کوشش کررہا تھا جو تم نے جان بوجھ کر لگایا ہوا تھا، بیچارا میرا معصوم بھائی مجھے دیکھ کر کیسے شرمندہ ہوکر وضاحت دے رہا تھا کہ وہ تو صرف پانی پینے کے لئے اٹھا تھا”

موحد کے منہ سے اپنا کل رات کا کارنامہ سن کر صوفیہ قہقہہ مار کر ہنس دی پھر موحد کو آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی

“تم کیا اپنے بھائی اور مجھ پر نظر رکھتے ہو ہمارے نکاح کے بعد سے شرم نہیں آتی تمہیں، جوتے پڑواؤ ابھی میں گھر پہنچ کر تمہیں محب بھائی سے،، ارے یار محب بھائی سے یاد آیا تم نے نوٹ کیا موحد،، شادی کے بعد سے اپنے محب بھائی کچھ زیادہ عجیب سے سڑیل ٹائپ کے انسان نہیں ہوتے جارہے،، اچھی خاصی بیوی ملنے کے باوجود ماتھے پر آنکھیں چھڑاۓ رکھتے ہیں دونوں بھائی ہی ایک جیسے ہیں دونوں کو قدر ہی نہیں ہے اپنی بیویوں کی”

صوفیہ موحد کے ساتھ چہل قدمی کرتی ہوئی بولی جبکہ باقی سارے اسٹوڈنٹس کو ٹیچر وین میں بیٹھنے کا بول رہے تھے

“خیر جتنے غصے کے تیز مغیث بھائی ہے وہ پھر بھی تمہاری حرکتوں اور زبان کا لحاظ کرجاتے ہیں مگر محب بھائی کو تو میں نے بھی نوٹ کیا ہے بیچاری مہرماہ بھابھی کا قصور نہ بھی ہو تب بھی سیریس ہوکر ایسے بات کرتے ہیں جیسے پیار سے بات کرنے پر مہرماہ بھابھی ان سے شاپنگ کے پیسے مانگ لیں گیں”

موحد افسوس کرتا ہوا صوفیہ سے بولا

“کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ وہ ستارہ ممانی کے بارے میں جان گئے ہو جبھی ایسا رویہ رکھا ہوا ہے انہوں نے بھابھی سے”

صوفیہ ایک دم رکتی ہوئی آنکھیں پھیلا کر موحد سے بولنے لگی۔۔۔ اس دن گھر آنے کے بعد ہی موحد نے ستارہ کے بارے میں صوفیہ کو بتادیا تھا اب عالم ہاوس میں مہرماہ اور موحد کے علاوہ صوفیہ بھی ستارہ کے بارے میں جانتی تھی

“اگر ایسا ہوتا تو تمہیں کیا لگتا کہ محب بھائی یوں چپ بیٹھے ہوتے ایک طوفان آچکا ہوتا پورے عالم ہاؤس میں اب تک اس انکشاف پر”

موحد دوبارہ چہل قدمی کرتا ہوا صوفیہ سے بولا جس پر صوفیہ نے اس کی بات کی تائید کی

“خیر میں نے تو بھئ محب بھائی کی طبیعت صاف کرنے کا سوچ لیا ہے جو سب وہ تین چار دن سے مہرماہ بھابھی کے ساتھ کررہے ہیں ان سب باتوں کو جابی کے علم میں لانا ضروری ہے کیوکہ وہی محب بھائی کو سیخ کی طرح سیدھا کرسکتے ہیں اور محب بھائی بھی جابی کی ہی بات سمجھ سکتے ہیں تمہیں معلوم ہے مہرماہ بھابھی اب اپنا سیل فون بھی یوز نہیں کررہی ہیں”

صوفیہ موحد کے ساتھ چلتی ہوئی اس کو بتانے لگی تبھی ان دونوں کو سر زاہد کی آواز سنائی دی

“آپ دونوں کہاں جارہے ہیں سارے اسٹوڈنٹس وین میں بیٹھ چکے ہیں۔۔۔ موحد آپ بوائز والی وین کی طرف جائیں اور صوفیہ گرلز والی وین فل ہوچکی ہے آپ جاکر کوسٹر میں بیٹھیں جہاں ٹیچر اور سارا اسٹاف موجود ہے”

وہ دونوں ہی اپنی باتوں کا سلسلہ ترک کرکے سر زاہد کی بات سن کر اپنی اپنی وین کی طرف چل دیئے ویسے بھی شام کے سائے گہرے ہوکر رات کی تاریکی میں میں ڈال چکے تھے گھر پہنچتے پہنچتے ان لوگوں کو تقریبا دس بج جاتے

*****

“زبردست وہ دیکھو شکار خود ہماری طرف آرہا ہے پلان یہ ہے کہ اس چھوٹی کوسٹر کو ہم ٹارگٹ کریں گے آگے جو دو بڑی وینس ہیں ان کے گزر جانے بعد”

سنسان روڈ پر دائیں اور بائیں دونوں طرف گھنا جنگل موجود تھا سڑک پر دور سے آتی ہوئی وین کو دیکھ کر جنگل میں چھپا ہوا نادر اور شارف سے بولا

“وہ تو ٹھیک ہے لیکن ابھی تک مغیث نہیں آیا ہے میرے خیال میں ہمہیں پہلے اس کا ویٹ کرنا چاہیے اگر اندر افراد زیادہ ہوئے تو ہم دونوں سے سنبھالنا مشکل نہ ہوجائے”

شارف نے دور سے آتی ہوئی وینس پر نظر رکھتے ہوئے نادر کو مشورا دیا جس پر وہ بدمزا ہوا

“تو نے تو مغیث کو نہ جانے کیا سمجھ لیا ہے، جیسے ہم دونوں اس کے بناء کچھ کر ہی نہیں سکتے، کوسٹر زیادہ بڑی نہیں ہے اس میں افراد کم ہوگے ہم دونوں آرام سے سب پر قابو پاسکتے ہیں ویسے بھی مغیث پندرہ سے بیس منٹ میں یہاں پہنچنے والا ہے۔۔۔ تیار ہوجاؤ وینس یہاں سے گزرنے والی ہیں”

نادر شارف سے بولا تو وہ ایک دم الرٹ ہوگیا

*****

“یہ کیسی آواز تھی گاڑی کیوں رک گئی اچانک”

دھماکے کی آواز پر کوسٹر میں موجود تمام ٹیچرز صوفیہ اور اس کے ساتھ موجود ایک اور اسٹوڈنٹ جو کوسٹر میں موجود تھی ڈر گئی

“شاید ٹائر برسٹ ہوگیا ہے گھبرانے کی بات نہیں میں نیچے اتر کر دیکھتا ہوں”

ڈرائیور سر زاہد کو دیکھ کر بولنے لگا

“دونوں وینس آگے نکل چکی ہیں میرے خیال میں کسی ایک وین کے ڈرائیور کو کال کرکے روکنے کا کہہ دو”

دوسرے میل ٹیچر نے سر زاہد کو مشورہ دیا

“یہاں زیادہ دیر رکنا مناسب نہیں ہوگا ویسے بھی رات زیادہ ہوچکی ہے کسی دوسرے کو مصیبت میں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے،، ڈرائیور تم اتر کر چیک کرو کیا مسئلہ ہے جلد سے جلد اس راستے سے نکلنے کی کرو”

اسٹاف کے مختلف لوگوں کی باتیں سن کر ڈرائیور کو کوسٹر سے باہر نکل آیا

“اوئے باقی سب بھی اس دڑبے سے باہر نکلوں اگر کسی نے ہوشیاری دکھائی تو وہ اپنی جان سے جائے گا”

شارف یہ بولتے ہوئے کوسٹر کا دروازہ کھول دیا اس کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر فی میل ٹیچرز کے ساتھ صوفیہ اور اقرا کی بھی خوف سے چیخیں نکل گئی

“تو بھاگ کہاں رہا ہے تیزی دکھائے گا اتار دو اس پستول کی گولیاں ابھی تیری کھوپڑی میں”

ڈرائیور نے وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی تو نادر نے اس کو پکڑ کر بری طرح پیٹنا شروع کردیا جس سے تمام افراد ان دونوں سے مزید ڈر گئے۔۔۔ شارف کوسٹر میں موجود تمام افراد کو نیچے اتروا چکا تھا

“تم میں اگر کسی نے چالاکی دکھائی تو یاد رکھنا اس پستول کی ساری گولیاں اسی وقت اس کے اندر بھر دوں گا،، سب کے سب اپنے موبائل میرے حوالے کردو۔ پہلی فرصت میں،، نادر تو جلدی سے اس کوسٹر کو ٹھکانے پر لگا پھر ان سب کو بھی ٹھکانے پر لےکر چلنا ہوگا”

شارف نے نادر سے کہا ساتھ ہی اس کی نظر صوفیہ پر پڑی جسے دیکھ کر وہ بری طرح ٹھٹھک گیا صوفیہ خود بھی ان دونوں کو دیکھ کر اچھی طرح پہچان چکی تھی خوف کے مارے بس خاموشی سے دیکھتی رہی

*****

گھنے جنگل کے بیچو بیچ یہ ایک چھوٹا سا میدان تھا جس کے چاروں اطراف میں اینٹوں سے آدھی دیوار بنائی گئی تھی،، مغیث جب وہاں پر پہنچا تو اس نے سرسری نظر بارہ سے پندرہ افراد پر ڈالی جو ایک ساتھ جڑے ہوئے، ڈرے سہمے ہوئے ایک کونے میں بیٹھے تھے کیوکہ نادر اور شارف دونوں کے ہاتھوں میں ہتھیار موجود تھے

“آج یہاں پہنچنے میں لیٹ ہوگیا سب کام صحیح طریقے سے کرلیا تم دونوں نے مل کر”

مغیث نادر اور شارف کی طرف دیکھتا ہوا خود بھی پستول نکال چکا تھا آج نادر اور شارف کی طرح اس نے بھی اپنا چہرا کسی ماسک سے چھپانے کی زحمت نہیں کی تھی

“ہم نے تو اپنا کام صحیح طریقے سے کرلیا مگر مسئلہ تیرے لئے کھڑا ہوچکا ہے”

شارف مغیث سے بول رہا تھا تب سر زاہد نے ان تینوں کی توجہ سب پر سے ہٹتے دیکھ کر وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کرنی چاہیے، سب سے پہلے مغیث، بھاگتے ہوۓ زاہد کی طرف متوجہ ہوا اس نے اپنے ہاتھ میں موجود پستول سے زاہد کے پیر کا نشانہ لیا۔۔۔ گولی کی آواز سے باقی تمام لوگ خوف سے چیخنے اور رونے لگے جنھیں شارف اور نادر نے قابو کیا، جبکہ زاہد جس کے پاؤں کے پاس سے گولی گزری تھی مغیث تیزی سے اس کی جانب لپکا اور دو تھپڑ اس کو رسید کرتا ہوا گریبان سے پکڑ کر بولا

“میرا نشانہ چونکا نہیں ہے اس پستول کی گولی سے کہی لوگ اپنی جان سے گئے ہیں اگر تم اپنی زندگی کی سلامتی چاہتے ہو شرافت سے جاکر اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ”

مغیث نے زاہد کا گریبان پکڑ کر تیز آواز میں باقی سب میں دہشت پیدا کرنے کے لیے ڈائیلاگ بولا زاہد کو گریبان سے پکڑ کر باقی سب لوگوں کی طرف دھکا دیا، وہ دوبارہ شارف کی طرف مڑا جب چیخ کر روتی ہوئی لڑکی کی آواز پر وہ دوبارہ پلٹنے پر مجبور ہوا