354K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Deewani (Episode 21)

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

“محب پلیز مجھے اٹھنے تو دیں میں آپ کی ہیلپ کروا دیتی ہوں آپ یہ سب کیسے کریں گیں”

ناشتہ بنانے کے لیے ایک گھنٹہ گزر چکا تھا محب کو کچن میں آئے ہوئے مگر ناشتہ بنانے کے چکر میں وہ کچن کو اچھا خاصا پھیلا چکا تھا مہرماہ بےبسی سے کرسی پر بیٹھی ہوئی کچن کا کباڑہ ہوتے دیکھ رہی تھی،،، ایک بار پھر ہمت کرتی ہوئی وہ محب سے پھر بولی۔۔۔ کیوکہ کارن فلیکس کا پیکٹ کیبنٹ سے نکالنے کے چکر میں وہ کتنا سارا سامان کیبنٹ سے باہر نکال کر پھیلا چکا تھا

“کیسے کروں گا مطلب کر تو رہا ہوں۔۔۔ تم تیسری بار یہ بات بول چکی ہو مہر، یہ بتاؤ کہ تم مجھے سکون سے ناشتہ بنانے دوگی کہ نہیں، بولا ہے ناں تم سے کہ چپ چاپ خاموشی سے بیٹھی رہو اور مجھے ناشتہ بنانے دو”

مہرماہ کے بولنے پر اب کی بار محب اسے ڈانٹ کر بولا تو مہرماہ اپنا سا منہ لےکر دوبارہ خاموش ہوگئی

“یہ کون آگیا باہر”

ڈور بیل کی آواز پر محب مہرماہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“اخبار والا ہوگا” مہرماہ کے بولنے پر محب کچن سے باہر نکل گیا کیوکہ واچ مین گیٹ پر نہیں تھا اسے آنے میں گھنٹہ بھر تھا۔۔۔ جبران کو ناشتے کے وقت اخبار پڑھنے کی عادت تھی اس بات سے پورا عالم ہاؤس واقف تھا

“محب جلدی آئے دودھ ابل رہا ہے کیا میں اٹھ کر چولہا بند کردو”

ابلتے ہوئے دودھ کو دیکھ کر وہ محب کے ڈر سے اٹھی نہیں بلکہ اس نے وہی سے صدا لگانا ضروری سمجھا جس کے جواب میں محب اسے سختی سے منع کرتا ہوا دوڑ کر کچن میں آیا مگر تب تک دودھ برتن سے باہر نکل کر چولہے کا ستیاناس کرچکا تھا (چلو جی اسی کی کمی رہ گئی تھی)مہرماہ دل ہی دل میں گڑھتی ہوئی سوچنے لگی

“دودھ ہی تو گرا ہے آسانی سے صاف ہوجاۓ گا تم تو نہ جانے کیوں اتنی ٹینشن لے رہی ہو کہا تو ہے تم سے ریلکس بیٹھی رہو”

محب مہرماہ کی شکل دیکھتا ہوا بولا جیسے تیسے کرکے محب نے جبران کا ناشتہ تیار کیا تو مہرماہ نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا

“اچھا بتاؤ تم انڈا کھاؤ گی ناں”

بڑی مشکل سے ایک ہالف فرائی ایگ بنانے کے بعد محب نے مہرماہ سے پوچھا جس پر اس نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا کیونکہ انڈا بنانے کے چکر میں محب تین انڈے توڑ کر فرائی پین کی جگہ زمین پر گرا چکا تھا

ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد محب نے نہ صرف ناشتے کے برتن دھوئے بلکہ کچن کی مکمل صفائی کرکے ساری چیزیں ترتیب سے رکھیں،، اب وہ موب کی مدد سے پورے گھر کی صفائی کررہا تھا،، بہتے ہوۓ پسینے کی وجہ سے وہ شرٹ اتار چکا تھا جس کے بعد وہ دوپہر کے لیے ہلکا پھلکا لنچ بھی بنانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر تمام کمروں کی صفائی کے بعد ڈسٹنگ کرتے کے ہوۓ اس کی ہمت جواب دے چکی تھی تبھی اس نے نہ صرف دوپہر کا لنچ باہر سے منگوانے کا سوچا بلکہ رات کا ڈنر بھی وہ باہر سے لانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ اس وقت کمرے میں آکر وہ موحد کو کال کرتا غصے میں اسے گھر آنے کا بول رہا تھا موبائل رکھ کر وہ فری ہوا تو اس کا موبائل دوبارہ بجنے لگا

****

صبح جب صوفیہ کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو مغیث کے بازؤوں میں لپٹا پایا

“اپنے ہاتھ تو ہٹاۓ مغیث چھوڑیں مجھے واشروم جانے دیں”

صوفیہ اس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کرنے کے ساتھ بولی

“کیا کرو گی واشروم جاکر چھوڑو یونہی لیٹی رہو”

صوفیہ کو نیند میں ڈوبی ہوئی مغیث کی آواز سنائی دی

“ہیں یہ کیا بولے جارہے ہیں نیند میں، چھوڑنے والا کام نہیں ہے بھئی پیچھے ہٹیں”

مغیث کو بازو اپنے اوپر سے ہٹاتی ہوئی وہ بیڈ سے اٹھی تو مغیث تکیہ کو بازو میں بھر کر کروٹ لےکر لیٹ گیا۔۔۔ بتاؤ بھلا تکیہ نہیں ہوگیا بلکہ مغیث عالم کی محبوبہ ہوگئی،، توبہ بہت جذباتی انسان ہیں یہ تو اندر سے۔۔۔ صوفیہ دل میں بولتی ہوئی رات والے منظر کا سوچ کر واشروم چلی گئی

وہ شاور لےکر واپس آئی تو اس نے مغیث کو سوتا ہوا پایا صوفیہ مغیث کا موبائل لےکر ٹیرس میں آگئی جہاں آکر اس نے محب کے نمبر پر کال ملائی کیوکہ جبران کا نمبر آف تھا محب سے بات کرکے وہ واپس آئی تب تک مغیث جاگ چکا تھا

“کس کو کال کرکے آرہی ہو”

اپنا موبائل صوفیہ کے ہاتھ میں دیکھ کر مغیث صوفیہ سے پوچھنے لگا۔۔۔ کل رات مغیث کی بڑھتی ہوئی شدتوں کا اثر تھا کہ اس وقت صوفیہ اس سے نظریں نہیں ملا پارہی تھی

“پولیس اسٹیشن کال ملائی تاکہ پولیس کو آپ کا مجھے کڈنیپ کرنے والا کارنامہ بتاسکو”

صوفیہ مغیث کا موبائل جگہ پر رکھتی ہوئی اس سے بولی

“مل گیا سکون تمہیں جابی سے بات کرکے”

مغیث اس کی بےوجہ ہانکنے والی عادت کو نظر انداز کرتا ہوا خود بھی بیڈ سے اٹھا اور شرٹ پہنتا ہوا پوچھنے لگا وہ صوفیہ کا اپنے سے نظریں چرانا محسوس کرچکا تھا

“جابی کا سیل آف تھا مگر محب بھائی سے بات ہوگئی۔۔۔ شکر ہے کل سے اب تک گھر کے کسی فرد کی تو آواز سنی۔۔۔ ویسے وہ بتارہے تھے جابی بالکل ٹھیک ہیں بس مہرماہ بھابھی سلپ ہونے کی وجہ سے ریسٹ کررہی ہیں، آج تو مشکل ہے وہ کل آئے گیں یہاں مجھ سے ملنے”

صوفیہ اس کو بتاتی ہوئی بالوں کو جوڑے کی شکل دے کر کچن میں آگئی ساتھ ہی مغیث بھی اس کے پیچھے کچن میں چلا آیا

“اور تم نے کیا کیا بتایا بلکہ میری کیا کیا شکایتں لگائی اپنے محب بھائی سے”

مغیث صوفیہ کی پشت پر کھڑا اسے اپنے حصار میں لیتا ہوا پوچھنے لگا

“آپ کے کارنامے بتانے والے نہیں بلکے چھپانے والے ہیں مغیث عالم”

صوفیہ آئستہ سے بولتی ہوئی چولہے پر چاۓ کا پانی رکھنے لگی اس کی بات پر مغیث کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ٹہر گئی یقینا وہ اس کے رات والے کارنامے کا ذکر کررہی تھی

“اچھا تو یہ رات والے کارنامے کا اثر ہے جو تم شرمیلی سی بھیگی بلی بنی ہوئی ہو اس وقت”

مغیث یونہی اسے اپنے حصار میں لیے صوفیہ کو چھیڑتا ہوا شرارت سے پوچھنے لگا صوفیہ نے رخ موڑ کر اسے دیکھا تو مغیث اسی کی جانب دیکھ رہا تھا وہ صوفیہ کو آنکھ مار کر مسکرایا

“زیادہ چہکنے کی ضرورت نہیں ہے یہ بلی غرانا بھی اچھی طرح جانتی ہے اور پنجے چلانا بھی”

صوفیہ کی بات پر مغیث اب کی بار زور سے ہنسا

“تو پھر کل رات اس خونخوار بلی کو کیا ہوگیا تھا۔۔۔ کہیں یہ بلی کل رات شیر کو اپنے اوپر حاوی دیکھ کر ڈر تو نہیں گئی تھی”

مغیث صوفیہ کے گرد بازوؤں کو مذید تنگ کرتا ہوا اس کی حالت سے لطف اٹھاتا ہوا پوچھنے لگا

“کیا ہے مغیث عالم پیچھے ہٹیں ناشتہ بنانے دیں مجھے، اب دوپہر ہونے کو آئی ہے کتنی دیر سے آنکھ کھلی ہے”

مغیث کی بات پر اس سے کوئی جواب نہیں بن پایا تو وہ جھنجھلاتی ہوئی بولی جس پر مغیث اس کے گال پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا بولا

“تو کس نے کہا تھا کہ پوری رات جاگو، میں تو اپنے کام میں لگا ہوا تھا تم سوجاتی۔۔۔ ویسے جان مغیث تم نے وہ مثال سچ کر دکھائی جو بادل گرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔۔۔ محبت کا اظہار تو تم بہت نڈر انداز میں کرتی تھی مگر کل رات اتنی جلدی ہار گئی مجھے دوبارہ موقع نہیں دیا تم نے رومینٹک ہونے کا”

مغیث کی بات پر صوفیہ نے اپنے چہرے کا رخ دوبارہ اس کی طرف کیا اور شرمائے بغیر اسے گھورتی ہوئی دیکھنے لگی جس پر مغیث ایک بار پھر ایسے ہنسا جیسے وہ صوفیہ کے اس روپ کو بھی انجواۓ کررہا ہو

“اچھا اوکے بابا اب تنگ نہیں کررہا تم ناشتہ بناؤ میں فریش ہوکر آتا ہوں اس کے بعد ایک ضروری کام سے جانا ہے مجھے، کل کی طرح دیر نہیں لگاؤں گا جلدی واپس گھر آجاؤں گا”

صوفیہ کا اچھا موڈ دیکھ کر مغیث اس کو اپنا پروگرام بتانے لگا تو صوفیہ بریڈ واپس پلیٹ میں رکھ کر مغیث کے پاس آئی

“کل رات جو آپ نے چاہا وہ کیا آج آپ کو میری بات ماننا پڑے گی آج آپ وہی کریں گے جو میں بولوں گی”

صوفیہ کے لہجے میں بہت مان تھا وہ مغیث کے قریب آکر اس کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھتی ہوئی بولی

“عالم ہاؤس جانے کی بات پر ضد مت کرنا صوفی میں وہاں نہیں جاؤں گا”

مغیث کو صوفیہ کا دل توڑنا اچھا نہیں لگا تھا مگر پھر بھی وہ بول کر اس کا ہاتھ اپنے سینے سے ہٹاتا ہوا واپس کمرے میں جانے لگا

“نہیں ہم عالم ہاؤس نہیں جارہے بلکہ ستارہ ممانی سے ملنے جائیں گے اور مغیث آپ میری بات ماننے سے بالکل بھی انکار نہیں کریں گے”

صوفیہ کے بولنے پر مغیث پلٹ کر خاموشی سے اسے دیکھنے لگا وہ اسے اس کی ماں سے ملنے کا کہہ رہی تھی مطلب کے موحد اسے بھی ستارہ کے بارے میں بتاچکا تھا

“دیکھو صوفی اس معاملے کو فی الحال رہنے دو”

مغیث نے نرمی سے اسے سمجھانا چاہا

“اس دنیا میں اللہ کے بعد اگر ہم سے کوئی بناء غرض کی محبت کرتا ہے تو وہ ہمارے والدین ہیں مغیث عالم، آپ کو تو اوپر والے کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے آپ کو دوبارہ آپ کی ماں سے ملوا دیا ہے ہم سب میں سے کسی کی بھی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا مغیث، اپنی زندگی کو ناراضگی کی گلے شکوؤں کی اور دوریوں کی نظر مت کریں،،، جو ماضی تھا وہ پرانی یاد بن کر اب گزر چکا ہے۔۔۔ پلیز ستارہ ممانی کو ایک بار گلے سے لگالیں وہ آپ کی ماں ہیں انہوں نے کتنے سالوں سے آپ لوگوں سے دوری برداشت کی ہے۔۔۔ آپ ے جانے کے بعد سے وہ آپ کو یاد کررہی تھی”

صوفیہ مغیث کو دیکھتی ہوئی بولی یاد کرنے والی بات لازمی اسے موحد نے بتائی ہوگی مغیث جانتا تھا موحد روز یونیورسٹی سے ستارہ کے پاس جاتا تھا

“دوری انہوں نے برداشت نہیں کی ہے بلکہ ہم لوگوں نے برداشت کی ہے وہ ہم سے دور ہوئی اور پھر رابطہ رکھنا بھی گوارا نہیں کیا انہوں نے”

مغیث ماتھے پر شکن لاتا ہوا بولا اور وہ ابھی کچھ اور بولتا مگر صوفیہ بول اٹھی

“مغیث جو بھی ہوا جس کی بھی غلطی تھی ان باتوں کو یاد کرکے اپنا دل جلانے سے یہ اچھا نہیں ہے کہ پرانی گزری ہوئی باتوں کو نظر انداز کرکے ایک نئی شروعات کی جائے، میں نے بول دیا ہے بس آج شام ہم سے ستارہ ممانی سے ملنے کے لیے جائیں گے اور وہاں جاکر آپ کوئی بھی پرانی بات نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی بات پر غصہ ہوں گے۔۔ کل رات میں نے اپنے شوہر کو بہت رومینٹک موڈ میں دیکھا تھا آج میرا دل کررہا ہے اپنے شوہر کو ایک اچھے بیٹے کے روپ میں دیکھنے کا”

صوفیہ نے آخری جملہ ادا کرتے ہوئے مغیث کے سینے پر سر رکھ دیا۔۔۔ صوفیہ کی بات سن کر مغیث کے ماتھے کی شکنیں غائب ہوگئی

“دوبارہ اپنے شوہر کو رومینٹک موڈ میں کب دیکھنا ہے یہ بھی بتادو”

مغیث کے پوچھنے کا انداز بالکل سنجیدہ تھا صوفیہ مغیث کے سینے سے سر اٹھاکر اس کو گھورتی ہوئی بولی

“کل رات سے آپ کو رومینٹک موڈ میں دیکھ رہی ہوں،، ابھی کے لیے کافی ہے اب پلیز فریش ہوکر آجائے مجھے ناشتہ تیار کرنے دیں”

صوفیہ مغیث کو پیچھے دھکیلتی ہوئی بولی تو مغیث مسکراہٹ چھپاکر کمرے میں چلا گیا اس نے نادر اور شارف کو میسج کرکے آج کا پلان کینسل کردیا تھا کیونکہ صوفیہ کی باتوں کا اثر تھا یا پھر دل میں چھپی خواہش وہ خود بھی ستارہ سے ملنے کو بےتاب تھا۔۔۔ جبکہ دوسری طرف صوفیہ اپنی چھوتٹی سی کامیابی پر خوش تھی اسے لگ رہا تھا وہ آئستہ آئستہ مغیث کو راہ راست پر لے آۓ گی

******

“اتنے اچھے ڈنر کے لیے بہت بہت شکریہ” مہرماہ محب کے ساتھ ہوٹل سے باہر نکلتی ہوئی بولی شادی کے بعد آج دوسری بار محب اسے اپنے ساتھ کہیں باہر لےکر آیا تھا

“تم خوش ہو تمہیں ڈنر پسند آیا اچھی بات ہے، ویسے مجھے پرسنلی یوں لوگوں کی بھیڑ میں کھانا کھانا کچھ خاص پسند نہیں”

محب مہرماہ کے ساتھ چلتا ہوا اسے بتانے لگا تو مہرماہ کی مسکراہٹ پھیکی پڑگئی

“ارے میں نے تمہیں صرف اپنی پسند اور ناپسند کے بارے میں بتایا ہے میرا یہ مطلب نہیں تھا کہ تم میری بات کو فیل کر جاؤ، میں نے بھی اس وقت تمہارے ساتھ یہ ڈنر بہت انجوائے کیا ہے۔۔۔ اب فیس پر دوبارہ ویسے ہی اسمائل لاؤ اچھی لگتی ہے مجھے تمہارے چہرے پر مسکراہٹ”

ناجانے وہ کیوں اتنا اسٹریٹ ہوتا جارہا تھا یا پہلے بھی تھا مگر مہرماہ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیکی پڑتے دیکھ کر اس نے فورا بات سنبھال لی اور سکون بھرا سانس لیا کہ مہرماہ دوبارہ مسکرانے لگی

محب خود بھی اس کو دیکھ کر آئستہ سے مسکرادیا مگر مہرماہ کو اندازہ ہوگیا تھا وہ صرف اپنے گھر والوں کے ساتھ گھلنے ملنے والا انسان ہے باہر کی دنیا سے وہ جلد اکتا جاتا ہے۔۔۔ نہ اس کی ریزرو نیچر اسے کسی دوسرے کے ساتھ اتنی جلدی فری ہونے دیتی۔۔۔ شادی اس کے شوہر کی زندگی میں ایک نیا چینج ہے شاید اس لیے وہ کبھی کبھی اس کے ساتھ یوں روکھا اجنبی کے جیسے بی ہیو کرجاتا ہے۔۔۔ کیوں کہ باہر سے آئی ایک اجنبی لڑکی سے وہ فری طور پر اپنے گھر والوں جیسا فری نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔ شاید آگے چل کر آہستہ آہستہ اسے اپنی بیوی کی عادت پڑجاۓ اور اس کے شوہر کے رویے اور طعبیت میں تبدیلی آجاۓ۔۔۔ یہ سب مہرماہ کی اپنی سوچ اپنا نظریہ تھا محب کے بارے میں۔۔۔ مہرماہ اس کی ذات کے بارے میں سوچ رہی تھی تب وہ چونکی جب محب نے ساتھ چلتے چلتے اس کا ہاتھ پکڑا مہرماہ محب کو بےخیالی میں دیکھنے لگی

“تم خوش ہو ناں مہر۔۔۔ مجھے لگا تمہیں باہر لے جاؤ گا تو یہ چینج تمہیں اچھا لگے گا میں تمہیں یہاں اس لیے لایا ہوں تاکہ ایک جیسی روٹین سے ہٹ کر تھوڑا چینج تمہیں اچھا لگے”

محب مہرماہ کے ساتھ چلتا ہوا سنجیدگی سے اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے تک وہ خوش دکھ رہی تھی مگر اب محب نے محسوس کیا اس کی بات سے مہرماہ اچانک چپ سی ہوگئی تھی

“آپ ایسے کیوں سوچ رہے ہیں کہ میں خوش نہیں ہوں۔۔۔ میں واقعی بہت خوش ہوں محب۔۔۔آپ بہت اچھے ہیں”

مہرماہ اسے یقین دلاتی ہوئی بولی اس کا شوہر اسکو خوش رکھنے کے لیے کتنے جتن کررہا تھا۔۔۔۔ مہرماہ کی بات سن کر محب مسکرانے لگا

“مس شیری آپ کی نیو سیکٹری دکھنے میں کیسی ہے محب،، آج صبح آپ کے موبائل پر اس کی کال آرہی تھی آواز تو ویسے بڑی پیاری سی ہے اس کی”

مہرماہ نے ساتھ چلتے محب سے یونہی پوچھ لیا جس پر محب نے پہلے مہرماہ کو گھورا پھر ہنستا ہوا بولا

“پلیز مہر تم شکی بیویوں کی طرح مجھ پر شک مت کرنا۔۔۔ خوبصورت سیکرٹری رکھنے کا مجھے کوئی شوق نہیں تمہیں یاد ہو تو تمہیں جابی نے آپائنٹ کیا تھا اور مس شیری سے میں تمہیں ملوا دوں گا تم خود دیکھ لینا وہ کیسی ہیں۔۔۔ ویسا میں تمہیں بتادو وہ عمر میں مجھ سے چھ سات سال بڑی اور میرڈ بھی ہیں۔۔۔ دوسری بات میری نیچر ان مردوں جیسی ہے جو آفس میں آفئیر چلاکر اپنی شادی شدہ لائف کو خود مشکل بنالیتے ہیں”

محب نے ابھی بھی مہرماہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا وہ نرمی سے اسے بتاتا ہوا بہت پیارا لگا۔۔۔۔ مہرماہ محب کی بات پر مسکرا دی وہ شک کیسے کرسکتی تھی اپنے شوہر پر جس طرح کی محب کی نیچر تھی مہرماہ کو اچھی طرح اندازہ تھا وہ اس طرح کے معاملات سے کافی دور ہے

“مجھے ایسے لگ رہا ہے محب، مجھے آپ سے محبت ہوجاۓ گی آگر آپ یونہی باہر میرا اتنی دیر تک ہاتھ پکڑے رہے تو”

مہرماہ محب کو دیکھتی ہوئی بولی مہرماہ کی بات پر وہ ایک بار پھر ہنسا

“شادی کے بعد بیوی کا شوہر سے اور شوہر کا بیوی سے محبت کرنے کے علاوہ کوئی آپشن بچتا بھی نہیں ہے۔۔۔ میں تو سمجھ رہا تھا تمہیں اب تک مجھ سے محبت ہوگئی ہوگی۔۔۔ میں تو اب آئستہ آئستہ کرنے لگا ہوں تم سے محبت”

محب کے اسطرح بولنے پر مہرماہ کا دل ذور سے دھڑکا۔۔۔ مہرماہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی جو اس وقت سنجیدہ نہیں روشن تھی ساتھ ہی مسکرا بھی رہی تھی محب نے خود بھی مسکرا کر اس کے ہاتھ پر ہلکا سا دباؤ ڈال کر ہاتھ چھوڑ دیا

“کار تھوڑی دور پارک ہے تم ایسا کرو یہی رکو میں کار یہاں لےکر آتا ہوں”

محب مہرماہ کے پاؤں کی وجہ سے بولا جس پر سوجھن تو نہیں تھی مگر آج اتنا زیادہ چلنا بھی اس کے لیے ٹھیک نہیں تھا۔۔۔ وہ بولتا ہوا اپنے گاڑی کی طرف چل دیا

جبکہ مہرماہ اس کی بات مانتی ہوئی وہی کھڑی محب کا انتظار کرنے لگی یہ سب اس کو بہت اچھا لگ رہا تھا محب کا مسکرا کر اس سے بات کرنا اس کی کئیر کرنا اور محبت کا اعتراف محب ایسے ہی اس کے ساتھ رہتا تو اسے بھی محب سے محبت ہوجانی تھی مہرماہ مسکراتی ہوئی سوچنے لگی۔۔۔

“ارے مس مہرماہ یہ آپ ہیں ناں کیسی ہیں آپ”

اجنبی مردانہ آواز پر مہرماہ نے چونک کر پیچھے دیکھا لیکن اگلے ہی پل وہ اس نوجوان کو پہچان گئی تھی وہ محب کے آفس میں کام کرتا تھا اور اس کا کلیک رہ چکا تھا مگر محب سے اس کی شادی ہونے سے پہلے ہی وہ جاب چھوڑ کر جاچکا تھا

“میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں مسٹر شہاب”

مہرماہ اسے اپنی خیریت بتاتی ہوئی شہاب سے اس کی خیریت پوچھنے لگی وہ ایک شریف لڑکا تھا اپنے کام سے کام رکھنے والا مہرماہ کی طرح اس کی بھی آفس میں زیادہ علیک سلیک نہیں تھی علاوہ رضوان صاحب کے۔۔۔ اتنے دنوں بعد وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر دونوں باتیں کرنے لگے

“او رئیلی آپ کا مطلب ہے سر محب آپ کے ہسبینڈ ہے یہ تو کافی حسین اتفاق ہوگیا آپ کی زندگی میں”

شہاب مہرماہ اور محب کی شادی کی خبر سن کر خوشگوار حیرت سے بولا تو مہرماہ بھی اس کی بات پر مسکرادی تبھی ان دونوں کو اپنی طرف گاڑی کے ہارن نے متوجہ کیا

“کیا بغیرتی چل رہا ہے یہاں پر، شرم نہیں آرہی تمہیں شادی ہوکر یوں غیر مرد کے ساتھ باتیں کرتے ہوۓ کار میں آکر بیٹھو”

محب نے گاڑی سے اترے بناء شہاب کے سامنے ہی مہرماہ کو بری طرح جھڑکتے ہوئے بولا جس پر محب کا اتنا برا لہجہ اور الفاظ سن کر مہرماہ ایک پل کے لئے سناٹے میں آگئی اس کے ساتھ کھڑا شہاب بھی حیرت زدہ ہوکر محب کو دیکھنے لگا۔۔۔ محب خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہوا ناگوار نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا

“محب آپ نے پہچانا نہیں یہ شہاب ہیں جو ہمارے آفس میں۔۔۔

مہرماہ خجالت سے سرخ چہرہ لیے محب کا لب لہجہ نظر انداز کرتی ہوئی اسے شہاب کا بتارہی تھی تبھی محب دوبارہ سخت لہجے میں بولا

“کند ذہن نہیں ہوں میں اسے پہچان چکا ہوں اور نہ ہی اندھا ہوں تمہیں بھی اچھی طرح دیکھ چکا ہوں،، تم کار میں آکر بیٹھتی ہو یا میں تمہیں یہی چھوڑ کر چلا جاؤں”

مجب کہ غرا کر بولنے پر مہرماہ بری طرح شرمندہ ہوچکی تھی وہ شہاب سے نظر ملائے بغیر گاڑی کی طرف بڑھی اور خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئی شرم کے مارے وہ شہاب کی طرف دیکھ بھی نہیں پائی تھی

“دوسرے کی بیویوں سے ہنس کر بات کرنے والے بےغیرت مرد،، ان جیسے مردوں کی ساری غیرت اپنی عورتوں پر آکر ختم ہوتی ہے”

شہاب محب کا اتنا برا رویہ دیکھ کر بناء کچھ بولے وہاں سے جانے لگا تھا مگر محب کی بڑبڑاہٹ پر وہ دوبارہ محب کے پاس آکر مخاطب ہوا

“میں آپ کو اچھا خاصا پڑھا لکھا انسان سمجھتا تھا مگر آج آپ کو جان کر کافی مایوسی ہوئی، پڑھے لکھے ہونے کے باوجود آپ ذہنی طور پر ایک بیمار انسان ہیں”

شہاب کی بات سن کر محب غصے میں آپے سے باہر ہوگیا شہاب تو وہاں سے جاچکا تھا مگر محب بھی اس کے پیچھے گاڑی سے باہر نکلنے لگا تو مہرماہ اس کے غصے سے بری طرح ڈر گئی اور محب کا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی

“وہ جاچکا ہے محب کیوں بات کو بڑھا رہے ہیں سامنے فیملی بھی ہماری طرف دیکھ رہی ہے پلیز جانے دیں”

مہرماہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکتی ہوئی بولی شاید اس تذلیل پر وہ رو دینے کو تھی۔۔۔

محب نے غصے میں دیکھا برابر گاڑی میں بیٹھی ہوئی فیملی واقعی ان کی طرف متوجہ ہوکر انہی کو دیکھ رہی تھی

“کون لگتا ہے وہ تمہارا جو اس کو بچانے کے لیے تم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے روکا۔۔۔ کس خوشی میں تم اس سے ہنس ہنس کر بات کررہی تھی کون سا سگا تھا وہ تمہارا۔۔۔ تمہیں باہر لےکر آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم اپنے آپے سے ہی باہر آجاؤ”

مجب آس پاس کے ماحول کو نظرانداز کرتا ہوا مہرماہ پر بری طرح چیخا۔۔۔

“میں سوچ بھی نہیں سکتا میری بیوی جسے میں خوش رکھنے کے لیے کیا کیا جتن کررہا ہوں۔۔۔ اور وہ باہر نکل کر یوں میری عزت کو نیلام کرے گی۔۔۔ تمہارے اس عمل نے کتنی ذہنی اذیت پہنچائی ہے مجھے تم جانتی ہو”

اب محب کو غصہ کم اس کی آنکھوں میں وحشت اذیت اور بےمعنی سا ڈر زیادہ سمایا ہوا تھا۔۔۔ اور محب کا یہ انداز دیکھ کر مہرماہ خود بھی اس سے ڈر گئی تھی

“آپ میرے ساتھ اتنا برا سلوک نہیں کرسکتے محب خدارا خاموش ہوجائیے میں آپ کے جملوں کی مذید مار نہیں سہہ پاؤگی تکلیف ہورہی ہے مجھے”

مہرماہ نے محب کی باتیں سن کر رونا شروع کردیا تو محب نے گاڑی اسٹارٹ کردی سارے راستے گاڑی میں مہرماہ کے رونے کی آواز گونج رہی تھی گاڑی عالم ہاؤس کے سامنے آکر رکی تو وہ غصے میں بھرا مہرماہ کو دیکھ کر بولا

“کس کو دکھانا چاہتی ہو اپنے نے یہ آنسو۔۔۔ صاف کرو انہیں فورا”

محب کے غصے میں غرانے پر مہرماہ نے آنسو سے تر چہرہ صاف کیا

“آئندہ اگر میں نے تمہیں کسی بھی غیر مرد کے ساتھ ہنس ہنس کر بات کرتے ہوئے دیکھا تو یاد رکھنا بہت برا پیش آؤ گا میں تمہارے ساتھ۔۔۔ اچھی بیوی وہ ہوتی ہے جو اپنے شوہر کے ساتھ ساری عمر مخلص رہے۔۔۔ میں تم سے سنسئیر ہوں تو چاہو گا تم بھی میرے ساتھ وفاداری نبھاؤ”

محب مہرماہ سے بولتا ہوا خود گاڑی سے باہر نکل گیا