Tere Sitam By Fatima Readelle50292 Tere Sitam (Episode 9)
Rate this Novel
Tere Sitam (Episode 9)
Tere Sitam By Fatima
وہ تقریباً ایک گھنٹے سے اپنے دفتر میں کرسی پر بیٹھے اضطرابی کیفیت میں موبائل ہاتھ میں تھامے سکرین پر چمکتی عروہ کی تصویر دیکھ رہے تھے اپنی معصوم بیٹی کی زندگی سے بھرپور کھلکھلاتی مسکراتی تصویر انہیں مسکرانے پر مجبور کر رہی تھی کیا وہ اپنی بچی کے ساتھ کچھ زیادتی کرنے جا رہے تھے ، وہ شدید الجھن کا شکار تھے اور پھر حورین بھی تو اس فیصلے سے خوش نہیں تھی آخر وہ ماں تھی شاید اپنی جگہ ٹھیک تھی
اسی لیے انہوں نے ہنی کو رشتے کے لیے ہاں کرنے سے پہلے گھر والوں کا ردعمل دیکھتا مناسب سمجھا جو کہ بلکل ان کی تواقع کے مطابق تھا مگر وہ فیصلہ کر چکے تھے کہ ہنی کو انکار نہیں کریں گے
اب زامن شاہ نے موبائل پر ایک نمبر ملایا اور گہرا سانس لینے کے بعد موبائل فون کان سے لگا لیا
” السلام علیکم ماموں ۔۔ !”
دوسری جانب دوسری بیل پر ہی فون پک کر لیا گیا تھا اور اسپیکر سے بھاری مردانہ آواز ابھری تھی
” وعلیکم السلام بیٹا ۔۔ کیسے ہو ۔۔ ؟”
زامن شاہ نے ہنی کا حال احوال پوچھا
” ٹھیک ۔۔ آپ سنائیں ۔۔ ؟”
سنجیدہ لب و لہجہ اس کی شخصیت کی عکاسی تھا
” بیٹا مجھے ۔۔ عروہ کے لیے تمہارا پرپوزل قبول ہے ۔۔ !”
انہوں نے بھی سنجیدگی سے کہا جبکہ سات سمندر پار بیٹھے روحان عاصم کے لب مسکرائے تھے مگر پھر سکڑ گئے
” حیرت ہے ۔۔ مجھے تو لگا تھا آپ انکار کر دیں گے ۔۔ !”
وہ دل کی بات زبان پر لے آیا تھا اسے واقعی حیرت ہوئی تھی
” تم نے پہلی بار زندگی میں کچھ مانگا ہے مجھ سے بیٹا ۔۔ بے شک عروہ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے ۔۔ لیکن تمہیں انکار نہیں کر سکتا ۔۔ بس میری بچی کو خوش رکھنا ہے تم نے ہنی ۔۔ “
ان کی آواز شاید بھیگی ہوئی تھی یا روحان کو محسوس ہوئی تھی مرد جتنا بھی مضبوط ہو مگر ہر باپ بیٹیوں کے لیے شاید کمزور ہی ہوتا ہے
” عرش شاہ راضی ہے اس رشتے پہ ۔۔ ؟”
وہ بات بدل گیا تھا اس کے اچانک سوال پر اک پل کو زامن شاہ خاموش ہو گئے
” عروہ میری بیٹی ہے ۔۔ اور اس کی زندگی کا فیصلہ میں ہی کروں گا ۔۔ عرش کی رضا مندی ضروری نہیں ہے ۔۔ !”
وہ ٹھہرے ہوئے انداز میں گویا ہوئے تھے
” ہممم مریم کیسی ہے ماموں ۔۔ ؟”
روحان نے ہنکار بھرتے ہوئے مریم کا احوال پوچھا
” مریم ٹھیک ہے ہنی ۔۔ میں صرف کہتا نہیں ہوں اسے اپنی بیٹی سمجھتا بھی ہوں ۔۔ جیسے تم فکر مند ہو اس کے لیے ۔۔ میں بھی ہوں ۔۔ ! آخر تم اور مریم میری بہن کی اولاد ہو ۔۔ “
وہ سچائی سے بول رہے تھے جبکہ روحان بلکل خاموش ہو گیا تھا
” اور تم کب آ رہے ہو پاکستان پھر ۔۔ ؟”
روحان کو خاموش پا کر انہوں نے بات کا رخ بدلا
” اب تو بہت جلد ۔۔ !”
مزید مختصر بات کر کے اس نے کال کاٹ دی تھی
اور اب وہ ٹیرس میں کھڑا امریکہ کی فضا میں سگریٹ کا دھواں چھوڑ رہا تھا
وہ کم عمری میں ہی زمانے کی تلخیوں سے واقف ہو چکا تھا وہ شاید دس سال کی عمر سے جانتا تھا کہ اس کے باپ نے اس کی ماں کا ریپ کیا تھا نکاح تو بعد میں فارمیلٹی پوری کی تھی اس کے دادا اور باپ ہر غلط اور برے کام میں ملوث تھے اس کا باپ دوسری عورتوں سے ناجائز تعلقات رکھتا تھا کئی مرتبہ اس نے اپنے باپ کو اپنی ماں کو جانوروں ، وحشیوں کی طرح مارے دیکھا تھا بے شک اس کے دادا اور باپ اس سے بے حد پیار کرتے تھے مگر اسے کبھی ان دونوں سے انسیت نہیں رہی تھی کیونکہ وہ اپنی بے بس ماں کو تکلیف دینے والے کو قطعاً اچھا نہیں سمجھتا تھا
پھر ایک دن اس کے دادا کی موت کے بعد اس کا باپ بھی پولیس کی حراست میں تھا وہ دن بہت کٹھن تھا اس کی ماں کی حالت جانے کیوں خراب تھی مگر پھر زامن ماموں انہیں لینے آئے تھے زامن ماموں نے انہیں اپنے ساتھ رکھنا چاہا تھا مگر اس کی ماں نے انکار کیا تھا پھر زامن ماموں نے انہیں ایک محفوظ جگہ منتقل کیا تھا
وہ اکثر ڈھیر ساری چیزیں لے کر انہیں ملنے آتے تھے کچھ دن بعد اس کی ماں نے ایک خوبصورت پری کو جنم دیا تھا پھر جیسے ان کی بے رنگ زندگی میں کچھ خوشیاں آئی تھیں مگر زیادہ دن انہیں یہ خوشی راس نہ آئی تھی بظاہر اس کی ماں ٹھیک لگتی تھی مگر وہ اندر سے ختم ہو چکی ہے یہ بات ان کی اچانک موت نے ثابت کر دی تھی اور ان کی صابر ماں اس ظالم اور بے رحم دنیا سے موڑ گئی تھیں
وہ پھر سے تنہا ہو چکے تھے اس بار پھر زامن ماموں نے ان دونوں بہن بھائی کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا تھا اور انہیں اپنے ساتھ شاہ حویلی لے آئے تھے جہاں حورین مامی تھی جو بہت شفیق تھیں مگر پھر چھوٹی نانو کی ناراضگی کی وجہ سے زامن ماموں نے اسے امریکہ بھیج دیا تاکہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکے اور اس طرح اس کی چھوٹی سی گڑیا جیسی بہن اس سے دور ہو گئی مگر اسے یقین تھا مریم محفوظ اور شفیق ہاتھوں میں ہے
اور پھر ایک دن زامن ماموں نے مریم کا ہاتھ اپنے چہیتے بیٹے کے لیے مانگا اس وقت روحان کو لگا اس کے باپ کی گھناؤنے ماضی کی پرچھائی بھی مریم پر نہیں پڑے گی ، عرش بہت قابل اور اچھا لڑکا تھا اس نے فوراً ہامی بھر دی تھی
پھر زامن ماموں کے بے حد اسرار پر بھی صرف اس لیے وہ پاکستان نہیں آیا تھا کہ پاکستان میں اس کی بہت بری یادیں تھیں لیکن اب تین سال بعد وہ اس رات مریم کی کال کی وجہ سے ہڑبڑا کر اٹھا تھا وہ رو رہی تھی بہت زیادہ رو رہی تھی سسکتے ہوئے اس نے عرش کے دوسرے نکاح کے بارے میں بتایا تھا اور اس پل روحان کا دل کیا عرش شاہ کو جان سے مار دے جس نے اس کی بہن کے ساتھ ظلم کیا تھا اسی وقت اس نے پاکستان واپسی کا ارادہ کر لیا تھا
” تم کیا سمجھتے ہو عرش شاہ ۔۔ میری بہن لا وارث ہے ۔۔ تم اس کے سر پر سوتن لے آؤ گے اور تمہیں کوئی پوچھے گا نہیں ۔۔ ؟ اب میں تمہیں بتاؤں گا کہ جب سات سمندر پار بیٹھی بہن روتے ہوئے اپنے ساتھ ہوا ظلم بتاتی ہے تو اس بھائی پر کیا گزرتی ہے ۔۔ !”
اس کی آنکھیں مارے ضبط کے سرخ ہو چکی تھیں انگلی میں دبایا سگرٹ فرش پر گرا کر اب وہ اسے اپنے بوٹ سے مسل رہا تھا
/////////////////////////
وہ حیران تھی کہ روحان نے اسے تو اس رشتے کا نہیں بتایا تھا ان کی تو ابھی کل ہی فون پر بات ہوئی تھی
وہ ہمیشہ اس سے ضد کرتی تھی کہ بھائی پاکستان آ کر شادی کر لیں مگر وہ ہمیشہ ٹال جاتا تھا اور اب انتخاب بھی کیا تو عروہ کا جو کہ ایک حیران کن بات تھی اس نے روحان کا نمبر ملا کر فون کان سے لگایا روحان کے کال اٹینڈ کرتے ہی اس نے رشتے کی بابت دریافت کیا روحان کی تصدیق پر وہ لب بھینچ کر رہ گئی
” لیکن بھائی عروہ تو بہت چھوٹی ہے آپ سے ۔۔ “
جب اس نے یہ بات مریم کو بتائی تو وہ فوراً بول اٹھی تھی
” اس کی عمر میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی ۔۔ مجھے صرف اپنی بہن کی خوشی عزیز ہے ۔۔ “
وہ بولا تو اس کے انداز میں خود غرضی تھی
” میری خوشی ۔۔ ؟”
” کیا تم نہیں چاہتی میں پاکستان آ جاؤں ۔۔ ؟”
روحان نے سوال داغا
” لیکن شاہ جی کبھی نہیں مانیں گے ۔۔ “
وہ جھجھکر بولی تھی
” زامن ماموں میرا پرپوزل ایکسپٹ کر چکے ہیں ۔۔ “
اس نے جیسے مریم کو آگاہ کیا
” بھائی یہ سب ٹھیک تو ہے ۔۔ ؟ لیکن ۔۔ ! “
وہ ڈرتے ڈرتے کہتے ہوئے بات ادھوری چھوڑ گئی
” او سنو مریم تم عرش کی فکر مت کرو ۔۔ پاکستان آ کر پہلا کام میں اس سے اپنی بہن کے ساتھ کی زیادتی پر جواب طلب کروں گا ۔۔ !”
روحان کے لہجے کی تلخی مریم کو بری لگی تھی
” بھائی پلیز ۔۔ “
وہ کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گئی تھی
” اوکے تم کوئی ٹینشن نہیں لینا ۔۔ جلد ملاقات ہو گی ۔۔ “
مریم کو تسلی دے کر اس نے فون بند کر دیا جبکہ مریم کی سوچوں کا محور ایک بار پھر عرش کی ذات تھی
جب اس دشمن جاں کی کال آ گئی مگر اس وقت تو وہ مصروف ہوتا ہے یس کر کے موبائل کان سے لگاتے ہوئے اس نے سوچا تھا
” کیا حال ہیں میری جان ۔۔ ؟”
ہشاش بشاش سا انداز تھا
” ٹھیک ۔۔ آپ کیسے ہیں ۔۔ ؟؟ یاد آ گئی آپ کو میری ۔۔ “
نروٹھے پن سے پوچھا گیا
” جان یہ کیسی بات کر دی آپ نے ۔۔ میں آپ کو بھول سکتا ہوں ۔۔ ؟”
وہ محبت سے چور انداز میں گویا ہوا
” اس وقت کہاں ہیں ۔۔ ؟”
مریم نے مسکراتے ہوئے پوچھا
” تھانے میں ہوں جان ۔۔ “
” آپ کو تو ڈیوٹی ٹائم پہ بات کرنا پسند نہیں ہے ۔۔ “
” ہاں لیکن مجھے ایسا لگا ۔۔ میری جان مجھے یاد کر رہی ہے ۔۔ سو ملا لی کال ۔۔ !”
اس کے جواب پر مریم کی مسکراہٹ گہری ہوئی
” کھانا کھایا آپ نے ۔۔ ؟”
” جان من میں اتنے رومنٹک موڑ میں ہوں اور تم الگ ہی چل رہی ہو ۔۔ “
عرش نے بد مزاح ہوتے ہوئے کہ تو مریم کھلکھلا کر ہنسی
کافی دیر وہ دونوں باتیں کرتے رہے تھے جہاں عرش سے بات کر کے اسے سکون پہنچا تھا وہیں اسے بوجھل پن بھی محسوس ہوا تھا عرش کو لے کر یہ ڈر اپنی جگہ تھا اسے کہ اگر عرش اپنی دوسری بیوی اور بچوں میں مصروف ہو گیا اور اسے بھول گیا تو وہ کیسے جیے گی وہ اپنی اور عرش شاہ کی محبت میں کسی تیسرے کو شامل نہیں کر سکتی تھی سب سے بڑی بات وہ عرش کو کبھی اولاد کی خوشی نہیں دے سکتی تھی اور جانے کچھ عرصے بعد عرش تو اس کے وجود کو ہی فراموش کر بیٹھتا اس کی زندگی جانے کب سکون میں آئے گی وہ سوچ کر رہ گئی
///////////////////////////
آج ناشتے کی میز پر صرف حورین اور مریم تھیں زامن شاہ کام کے سلسلے میں آج جلدی جا چکا تھا اشعر بھی کالج گیا ہوا تھا جبکہ عروہ ابھی تک ناشتے کے لیے نہیں آئی تھی مریم بلکل خاموش سر جھکائے بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی حورین نے اسے بغور دیکھا وہ شاداب چہرے والی لڑکی مرجھا سی گئی تھی ایک ٹیس ان کے دل میں اٹھی انہوں نے ہمیشہ مریم کو اپنی بیٹی کی طرح سمجھا تھا آج اگر وہ تکلیف میں تھی تو حورین بھی بےسکون تھی
” مریم ۔۔ !”
انہوں نے اسے پیار سے پکارا
” جی مام ۔۔ ؟”
مریم نے انہیں نگاہیں اٹھا کر دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہی تھیں
” عرش سے بات ہوئی بیٹا ۔۔ ؟”
سوال ایسا تھا کہ مریم نگاہیں چرا گئی
” اس میں شرمندہ ہونے والی کون سی بات ہے بیٹا ۔۔ وہ تمہارا شوہر ہے ۔۔ اور پلیز زامن کی باتوں کی وجہ سے پریشان مت ہو ۔۔ وہ عرش کے اٹھائے ہوئے قدم پر شدید غصے میں ہیں ۔۔ لیکن تم عرش سے اپنے تعلقات خراب مت کرو بیٹا ۔۔ میری بات مانو تو عرش کو بولو وہ تمہیں ساتھ رکھے اپنے ۔۔
آج اگر تم اسے میسر نہ ہوئی تو تبھی وہ دوسری کی طرف مائل ہوگا یہ مرد کی فطرت ہے بیٹا ۔۔ تم سمجھدار ہو پلیز اپنے شوہر کو خود سے دور مت کرو ۔۔ “
وہ میز پر رکھے مریم کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے ایک ماں کی طرح سمجھا رہی تھیں جبکہ مریم کو ان کی باتیں صحیح لگی تھیں
” ڈ ڈیڈ کو برا لگے گا ۔۔ اگر میں شاہ جی کی سائیڈ لوں گی ۔۔ “
وہ اپنی مشکل انہیں بتاتے ہوئے اداس تھی
” تم اگر دل سے عرش کو معاف کر کے اس کے پاس جانا چاہو گی تو زامن کو برا نہیں لگے گا ۔۔ ہمیں سب سے زیادہ تمہاری خوشی عزیز ہے ۔۔ “
انہوں نے اس کے ہاتھ کو نرمی سے سہلاتے ہوئے کہا
” دیکھو بیٹا میں تمہیں اس طرح اداس نہیں دیکھ سکتی ۔۔ تم یقین کرو زامن رات کو سو نہیں پاتے ہیں کہ عرش نے تمہارے ساتھ ظلم کیا اور ہم کچھ کر نہ سکے ۔۔ خیر اب یہی بہتر ہے کہ تم عرش کے ساتھ رہو ۔۔ “
وہ نرمی سے اسے سمجھا رہی تھیں
” آپ بھی تو شاہ جی سے ناراض ہیں ۔۔ !”
مریم نے جیسے انہیں یاد کروایا جبکہ حورین نے دکھ سے مدھم سا مسکرا کر اسے دیکھا
” مریم ، شوہر اور بیوی کا رشتہ جتنا مضبوط ہوتا ہے نا اتنا ہی کمزور بھی ہوتا ہے ۔۔ کیونکہ یہ واحد رشتہ ہے جو ٹوٹ جاتا ہے ۔۔ تم دیکھو کہ اولاد جیسی بھی ہو ماں باپ اس سے رشتہ نہیں توڑ سکتے ۔۔ ہاں وقتی طور پر ناراضگی کا اظہار ضرور کرتے ہیں ۔۔ اس لیے کہہ رہی ہوں تمہیں پلیز عرش کے ساتھ رہو ۔۔ اس کے پاس چلی جاؤ ۔۔ “
وہ ایک ماں کی طرح اسے سمجھا رہی تھی
” آ آ آپ دونوں بہت اچھے ہیں مام ۔۔ میری وجہ سے آپ دونوں اپنے بیٹے سے بات تک نہیں کر رہے ۔۔ صرف میرا ساتھ دے رہے ہیں ۔۔ میں بہت خوش نصیب ہوں کہ اتنی اچھی ساس ہیں میری۔۔ “
وہ اپنا دوسرا ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھتی عقیدت سے گویا ہوئی تھی
” تم مجھے ساس سمجھتی ہوگی لیکن میں تمہیں بلکل اپنی عروہ کی طرح سمجھتی ہوں ۔۔ اور آئیندہ کبھی ساس مت کہنا مجھے ۔۔ ماں ہوں میں تمہاری ۔۔ “
” چلو تم ناشتہ کرو ۔۔ میں عروہ کو دیکھتی ہوں وہ ابھی تم نیچے نہیں آئی ۔۔ “
وہ کرسی سے اٹھیں اور مریم کر سر پر بوسہ دیتے ہوئے نہایت محبت سے بولی آگے بڑھ گئیں جبکہ مریم نم مسکراتی آنکھوں سے ان کی پشت کو دیکھتی رہ گئی
//////////////////////////
وہ آج کالج نہیں گئی تھی اسے شدید بخار تھا بار بار اسے اشعل کا شرارت بھرا انداز ، مسکراتی آنکھیں یاد آ رہی تھیں وہ دونوں بچپن سے ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اشعل تو کئی بار اس کے سامنے اپنی پسندیدگی کا اظہار کر بھی چکا تھا ہاں مگر عروہ نے ہمیشہ اسے سختی سے انکار کیا تھا وہ ہمیشہ اپنے جذبات چھپا لیتی تھی اور آج وہ رو رہی تھی
” دل ان سے کیوں ملتے ہیں ۔۔ جو نصیب میں نہیں ہوتے ۔۔ “
وہ یہ سوچتے ہوئے سسک اٹھی
حورین جب اسے صبح جگانے آئی تو وہ بخار میں تپ رہی تھی اس کو دیکھ کر حورین کا دل تڑپ اٹھا ان کی بیٹی بہت حساس تھی جس نے ہنی کے رشتے والی بات کا اتنا اثر لیا تھا کہ ایک رات میں ہی اپنی یہ حالت کر لی تھی
وہ رو رہی تھی مسلسل رو رہی تھی بڑی مشکل سے انہوں نے اسے سوپ پلا کر دوائی دی تھی اور اب دوائیوں کے زیر اثر سوئی عروہ کے پاس بیڈ پر بیٹھی وہ عرش کے بارے میں سوچ رہی تھیں جس کی کال وہ کافی دنوں سے نظر انداز کر رہی تھیں اتنے میں دروازے پر آہٹ ہوئی اور رامین اندر داخل ہوئی
” السلام علیکم آپی ۔۔ “
“وعلیکم السلام۔۔ !”
“میں مریم کے پاس آئی تھی لیکن ملازمہ سے معلوم ہوا کہ عروہ کو بخار ہے ۔۔ سب ٹھیک ہے نا آپی ۔۔ کیا ہوا عروہ کو ۔۔ ؟”
حورین کے پاس جگہ بنا کر بیٹھتے ہوئے وہ بولی تھیں
” رامین میرے گھر کو کسی کی نظر لگ گئی ہے ۔۔ “
بولتے ہوئے وہ رو پڑیں تو رامین نے انہیں گلے سے لگا لیا
” صحیح کہہ رہی ہیں آپ ۔۔ واقعی ہمارے گھر کو کسی کی نظر لگ گئی ہے ۔۔ مجھے مریم نے ۔۔ ہنی اور عروہ کے رشتے کا بتایا ۔۔ مجھے زامن بھائی پہ حیرت ہو رہی ہے ۔۔ وہ ایسے کیسے کر سکتے ہیں ۔۔ ؟”
حورین کے آنسو پونچھتے ہوئے وہ حیرت زدہ سی گویا ہوئیں
” میں نہیں جانتی ۔۔ مگر وہ تو کسی کی نہیں سن رہے ۔۔ بس فیصلہ کیے بیٹھے ہیں ۔۔ “
حورین آنسو پونچھتے ہوئے بولیں
” بیہ اور اس کے بچوں سے اپنی محبت ثابت کرنا چاہتا ہے ۔۔ اور کیا وجہ ہو سکتی ہے ۔۔ “
کمرے میں داخل ہوتی پھوپھو کی آواز پر ان دونوں نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا
” زامن نے اپنے جذباتی پن اور غصے کی وجہ سے پہلے بیہ کی وجہ سے حورین کے بے قصور ہوتے ہوئے بے انتہا ظلم کیے اس پر ۔۔ اور اب مریم اور روحان سے محبت ثابت کرنے کے لیے اپنی بیٹی کے ساتھ ظلم کر رہا ہے ۔۔ “
انہوں نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے رامین کو دیکھتے ہوئے کہا
” پھوپھو پلیز ۔۔ مریم کا معاملہ بلکل الگ ہے ۔۔ آپ ہر بات میں مریم کی تذلیل کرتی ہیں ۔۔ اسی لیے زامن چڑتے ہیں ۔۔ “
حورین نے انہیں مزید کچھ کہنے سے روکا
” جو سچ ہے وہی کہہ رہی ہوں بیٹا میں ۔۔ تم دوسروں کی خاطر اپنی اولاد سے منہ موڑ کر غلط کر رہی ہو ۔۔ نکاح ہی کیا ہے عرش نے ۔۔ کوئی گناہ تو نہیں کیا جو ۔۔ تم دونوں میاں بیوی اس کی شکل دیکھنے کے بھی روا دار نہیں ہو ۔۔ “
وہ سر ہلاتے ہوئے بولی تھیں
” پھوپھو مجھے مریم ، عروہ کی طرح عزیز ہے ۔۔ وہ میری بہو ہی نہیں بیٹی بھی ہے ۔۔ عرش نے اس کا مان توڑا ہے اسے تکلیف پہنچائی ہے ۔۔ میرا مان توڑا ہے جو مجھے اپنے بیٹے پہ تھا ۔۔ فی الحال تو حقیقتاً میں عرش کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی ۔۔ “
عرش اور مریم والے معاملے سے ابھی نکلے نہیں تھے کہ عروہ کی کیفیت نے انہیں مزید توڑ دیا تھا وہ شکست زدہ انداز میں گویا ہوئی تھیں
” خدا اولاد نیک دے بس ۔۔ “
رامین کی دکھ میں کی گئی بات پر حورین اور پھوپھو نے چونک کر انہیں دیکھا
” حورین بیٹا ۔۔ میں تو کہتی ہوں زامن سے بات کرو ۔۔ عروہ کے معاملے میں جلدی مت کرے ۔۔ “
بے خبر سوئی عروہ کو دیکھتی پھوپھو گویا ہوئیں
” ہاں آپی ۔۔ آپ کہیں تو میں علی سے بات کروں ۔۔ وہ زامن بھائی سے بات کریں ۔۔ “
رامین نے اپنی تجویز پیش کی
” یہ شادی روکنے کے لیے زامن اور روحان کو مریم بھی تو منا سکتی ہے ۔۔ مگر وہ خاموش ہے ۔۔ تم اور زامن عرش سے بات تک نہیں کر رہے ۔۔ صرف مریم کی وجہ سے ۔۔ یہ تم دونوں کا خلوص ہے ۔۔ تو کیا مریم اپنے بھائی کو سمجھا نہیں سکتی کہ وہ زامن کو انکار کر دے ۔۔ دیکھو بھلا کیسا حال ہو گیا بچی کا ۔۔ “
عروہ کا سرخ چہرہ دیکھتی وہ آخر میں پریشانی سے گویا ہوئیں جبکہ حورین اب بلکل خاموش تھی
//////////////////////////
وہ شام کو گھر لوٹا تھا وہ آج جلدی تھانے سے نکلا تھا کیونکہ اسے گروسری لینی تھی دروازہ لاکڈ کر کے مڑا تو وہ آج بھی سکڑی سمٹی سامنے ہی فرش پر بیٹھی تھی عرش نے سامان کچن میں رکھا اور اس کے قریب آیا وہ پانچ دن سے اسی لباس میں تھی بال بہت روکھے سے ہو گئے تھے چہرہ بھی شاید صحیح سے دھلا ہوا نہیں تھا اور چہرے پر اداسی ، نقاہت جبکہ آنکھوں میں خوف کے پہرے تھے وہ کہیں سے بھی امل علی نہیں لگ رہی تھی اسے اس حالت میں دیکھ کر عرش شاہ کے مونچھوں تلے لب مسکرائے
” امل علی یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے ۔۔ چچچچ “
وہ بظاہر افسوس کرتا بولا تھا مگر لہجے کا طنز امل کے سر کو جھکا رہا تھا
” اتنی بے بسی ۔۔ !”
وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے مزید بولا
” افسوس ۔۔ “
” خیر سامان لے آیا ہوں میں ۔۔ کھانا بنا کے کھا لو ۔۔ “
اسے مسلسل خاموش پا کر وہ پھر سے بولا تھا
” مم مجھے کھانا بنانا نہیں آتا ۔۔ “
خوراک پوری نہ ہونے کے باعث وہ کمزور ہو رہی تھی بات بھی بمشکل کر پائی تھی عرش شاہ نے اپنا چہرہ اس کے قریب کیا
” لوگوں کو بے وقوف بنانا تو بہت آتا ہے ۔۔ اور دوسروں پر الزام لگانا ۔۔ ان کا سکون چھننا ۔۔ کسی کو برباد کرنا ۔۔ کسی کی زندگی میں زہر گھولنا تو کوئی تم سے سیکھے ۔۔ “
اس کا چہرہ سختی سے دبوچے وہ غرایا کہ وہ درد کے باوجود سسک بھی نہ سکی
” اچھا ایک بات تو بتاؤ ۔۔ تمہیں مجھ سے کس بات کی دشمنی ہے ۔۔ اپنی بہن کا بھی خیال نہیں کیا ۔۔ “
چہرے پر گرفت ڈھیلی کرتے ہوئے وہ اس بار رازداری سے پوچھ رہا تھا جبکہ امل اپنے چہرے پر رکھے اس کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے مسلسل بے آواز رو رہی تھی
” اتنا گھٹیا الزام ۔۔ مجھ پہ کیوں لگایا ۔۔ “
وہ اسے جھٹکے سے فرش پر پٹختا دھاڑا
” پپ پلیز مجھے ۔۔ گھر ۔۔ چھوڑ آؤ ۔۔ “
وہ شدت سے روتے ہوئے ہچکیاں لیتے ہوئے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بولی
” اب تو یہیں مرو گی تم ۔۔ گھر کو تو بھول ہی جاؤ ۔۔ “
فرش پر رکھے امل کے چہرے کے پاس زور سے بوٹ مارنے کے بعد وہ دھاڑتا ہوا باہر نکل گیا جبکہ پیچھے وہ دھاڑیں مار مار کر روتی رہ گئی
//////////////////////////
