53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam (Episode 2)

Tere Sitam By Fatima

” امل موڑ کیوں آف ہے تمہارا ۔۔ ؟”

وہ تینوں اس وقت لیب میں تھیں اور امل کے سپاٹ چہرے کو دیکھتی عزا نے پوچھا جبکہ اس کی بات پر پاس کھڑی فضہ بھی امل کی جانب متوجہ ہوئی سفید کیپری کے ساتھ سفید ہی گٹنوں تک آتی شرٹ پر کلر فل دوپٹہ گلے میں ڈالے وہ کھلے کاندھے تک آتے بالوں میں بے حد حسین لگ رہی تھی مگر فضہ کو ان کا خاندانی نظام معلوم تھا جہاں کی لڑکیاں اس طرح تو بلکل بھی باہر نہیں نکلتی تھیں مگر جانے امل کو کیوں اتنی چھوٹ تھی جبکہ مریم اور عروہ بھی ان کی یونیورسٹی میں پڑھتی تھیں اور انہیں کبھی بھی انہوں نے عبائے کے بغیر نہیں دیکھا تھا

” کچھ نہیں یار آج مریم کے سسرال والوں نے آنا ہے ڈنر پر۔۔ اور میرا بلکل موڑ نہیں گھر جانے کا۔۔ “

امل روکھے سے انداز میں بولی تھی

” مریم کے سسرال والے تمہارے بھی کچھ لگتے ہیں یار ۔۔ “

عزا نے اسے یاد کروانا ضروری سمجھا

” ہاں لگتے ہیں ۔۔ بٹ آئی ڈونٹ کئیر ۔۔ !”

وہ کاندھے اچکاتے لاپرواہی سے بولی

” ایسے تو مت کہوں یار ۔۔ تمہاری خالہ تم سے کتنا پیار کرتی ہیں ۔۔ اور تم ایسے کہہ رہی ہو ۔۔ “

فضہ کو امل کا انداز برا لگا تبھی ٹوک گئی

” یار بس خالہ ہی اچھی ہیں ۔۔ انہیں کی وجہ سے میں ان کے گھر والوں کو برداشت کر لیتی ہوں ۔۔ ورنہ مجھے زہر لگتے ہیں وہ سب ۔۔ “

امل جو محسوس کرتی تھی وہی بولی

” یار کیسے بات کررہی ہو تم امل ۔۔ وہ سب اتنے لوننگ ہیں ۔۔ “

فضہ ہمسائی ہونے کی وجہ سے اس کی فیملی کو اچھے سے جانتی تھی اس سے رہا نہ گیا تو بول اٹھی

” گھر پہ مما اور یہاں تم ۔۔ ہر بات پہ ٹوکتی کیوں ہو ۔۔ ؟”

کتابیں شلف پر پٹختی وہ چلائی

” کیا ہو گیا ہے یار ۔۔ میں تو بس نارمل بات کر رہی تھی ۔۔ “

امل کے چلانے پر فضہ دھیمے لہجے میں بولی

” لیکن تمہیں اپنی خالہ کی فیملی سے چڑ کس بات کی ہے ۔۔ “

عزا نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا وہ اس کی بچپن کی دوستیں تھیں امل کی فطرت جانتی تھی کہ وہ دل میں ضرور کوئی بات رکھے بیٹھی تھی

” عزا یار وہی سو سال پرانی بات کہ اس کے نانا اور نانی کی ڈیتھ زامن انکل کی وجہ سے ہوئی ۔۔ “

فضہ سر جھٹکتی بولی تو عزا نے امل کو دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا جبکہ امل نے فوراً جواب دیا

” ہاں تو ہوئی ہے ۔۔ “

” تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے امل ۔۔ فضول باتیں کیوں سوچتی ہو ۔۔؟ “

فضہ کو امل پر شدید غصہ آیا تھا

” فضہ اب تم ایک لفظ بھی مت بولنا ۔۔ “

اس سے پہلے فضہ مزید بولتی امل نے اسے گھورتے ہوئے تنبیہہ کی

” اچھا بتاؤ مریم کیسی ہے ۔۔ ؟”

عزا نے فضہ کو نظروں سے خاموش رہنے کی تنبیہ کی اور امل سے سوال داغا

” ٹھیک ہی ہوگی ۔۔ “

وہ لمبا سانس لیتی بولی تو اس کے سرسری سے جواب پر اس بار عزا کو بھی دکھ ہوا

” ہر بات ایک طرف امل ۔۔ لیکن مریم سے کیا مسلہ ہے تمہیں ۔۔ ؟میں بہت بار نوٹ کر چکی ہوں جب سے اس کی شادی ہوئی ہے تم اس کا نام تک سننا گوارا نہیں کرتی ۔۔ اتنا پیار کرنے والی بہن ہے تمہاری ۔۔ جان دیتی ہے تم پہ ۔۔”

عزا کو آج جانے کیوں امل کی ان حرکتوں پر غصہ آ رہا تھا یہ بچپن کی دوستی ہی تھی کہ عزا اور فضہ بے جھجھک اس سے ہر معاملے پر بات کر لیتی تھیں ورنہ کلاس میں تو کیا پوری یونیورسٹی میں امل علی سے الجھنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی

” مجھے اس سے کوئی مسلئہ نہیں ہے عزا ۔۔ “

امل نے نگاہیں چراتے ہوئے جواب دیا

” بٹ میں نے تو بہت بار نوٹ کیا ہے کہ تم مریم کے بارے میں بات بھی نہیں کرتی ہو ۔۔ بہن ہے یار وہ تمہاری ۔۔ “

” عزا پلیز سٹاپ اٹ ۔۔ “

امل کے چہرے کے ناگوار تاثرات دیکھتے ہوئے فضہ نے عزا کو کہا تو وہ خاموش ہو گئی

جبکہ ان دونوں کے خاموش ہونے پر امل دیوار پر نگاہیں جمائے بچپن میں کھو گئی وہ دن اسے یاد آیا جب وہ سب ویک اینڈ پر حورین خالہ کے گھر تھے زامن انکل اور اپنے پاپا کے مابین گفتگو نے تیرا سالہ امل کے چکے دماغ پر گہرا اثر ڈالا

” زامن کیا ہو گیا ہے۔۔ ؟ اتنا پریشان کیوں ہے ۔۔ ؟ “

وہ لوگ کھیل رہے تھے اور وہ چھپنے کے لیے جگہ ڈھونڈ رہی تھی جب اس کے پاپا کی آواز اسے سنائی دی تو وہ وہی دروازے کی اوٹ میں چھپ گئی

” جانتے ہو آج سلیمان شاہ کی برسی ہے ۔۔ آج بھی مجھے وہ وقت نہیں بھولا جب حورین اور رامین کو میری وجہ سے گھر چھوڑنا پڑا تھا ۔۔ “

زامن کے لہجے میں آج بھی درد تھا

” زامن یار کیا ہو گیا ہے ۔۔ وہ سب بھول جا یار ۔۔ “

” کیسے بھول جاؤں یار ۔۔ آج بھی بوجھ ہے میرے دل پر ۔۔ کہیں نہ کہیں سمعیہ چچی اور سلیمان شاہ کی موت کا ذمہ دار میں ہوں ۔۔ “

” ایسے نہیں کہہ یار ۔۔ زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے ۔۔ “

وہ دونوں ماضی دہرا رہے تھے جبکہ امل سب سن کر شاکڈ ہو گئی

یہ وہ الفاظ تھے جنہوں نے امل کو زامن شاہ سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا بلکہ زامن شاہ کے ساتھ ساتھ اسے عرش شاہ ، اشعر شاہ اور عروہ سے بھی نفرت ہو گئی وقت کے ساتھ اس نے حورین خالہ کے گھر جانا بند کر دیا شاہ ہاؤس کے مکین جب ان کے گھر آتے تو وہ یا تو اپنی دوستوں کے گھر چلی جاتی یا پھر کمرے میں بند ہو جاتی تین سال پہلے جب مریم کا رشتہ عرش شاہ سے ہوا تو امل کا دل کیا عرش شاہ کا قتل کر دے مگر افسوس وہ یہ نہ کر سکی اور مریم اور عرش کی شادی ہو گئی اسے عرش سے نفرت تھی کیونکہ وہ اسے اس کے باپ سے کمپیئر کرتی تھی جب بھی مریم کو دیکھتی تو اس کے چہرے پر درد کی جھلک تلاشتی مگر ہمیشہ ناکام رہی کہ مریم ہمیشہ اسے خوش نظر آئی تھی

/////////////////////////

” واہ جی واہ ۔۔ آج بڑے بڑے لوگوں نے ہم غریبوں کے غریب خانے کو آمد کا شرف بخشا ہے ۔۔”

وہ کچن میں پانی پینے آئی تھی جب پشت سے مردانی آواز نے اسے متوجہ کیا ہاتھ میں گلاس تھامے وہ مڑی تو اشعل دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا مسکرا رہا تھا

” تم میڈیکل پڑھ رہے ہو کہ اردو میں پی ایچ ڈی کر رہے ہو ۔۔ اتنی پیوئر اردو بولنے لگے ہو ۔۔ !”

عروہ مسکرا کر کہتی تھوڑا آگے بڑھی

” یہ عشق کا کمال ہے محترمہ ۔۔ بڑے بڑوں کو بہت کچھ سیکھا دیتا ہے ۔۔ “

اشعل نے ایک آنکھ کا کونا دباتے ہوئے شرارت سے کہا جبکہ اس کی بات پر عروہ نے آبرو اچکائے

” عروہ زامن شاہ نام ہے میرا ۔۔ تمہارے عشق وشق کے جھانسوں میں نہیں پڑنے والی میں ۔۔ “

اس مرتبہ عروہ نے گلاس شلف پر پٹخا اور دوٹوک انداز میں بولی

” عروہ میں تم سے ۔۔ “

” راستہ چھوڑو اشعل ۔۔ !”

ابھی اشعل کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ سرد انداز میں کہتی وہ آگے بڑھ گئی جبکہ اشعل نے سرد آہ بھری

وہ بچپن سے اسے پیار کرتا تھا جس کا عروہ سے دانستہ ذکر بھی کیا کرتا تھا مگر عروہ نے کبھی اس کی محبت کو بڑھاوا نہیں دیا تھا اور شاید لڑکیوں کو عروہ زامن شاہ جتنا ہی مضبوط ہونا چاہیے ہر لڑکی کو اپنے جذبات پر اختیار ہونا چاہیے اور یہی بات اشعل کو عروہ کی بہت پسند تھی

///////////////////////

” آپ بہت جلدی جا رہے ہیں ۔۔ “

وہ بیڈ پر بیٹھی عرش کو جانے کے لیے تیار ہوتا دیکھ رہی تھی جب دھیرے سے عرش کو مخاطب کیا اس کی بات پر برش کرتے عرش کے ہاتھ تھامے

” میری جان ۔۔ اتنی ہی چھٹی ملی تھی ۔۔ “

مریم کی اداسی بھانپ کر وہ کاندھے اچکا کر بولا

” آپ نے لی ہی دو دن کی تھی ۔۔ “

مریم منہ بسورتی بولی

” نیکسٹ ٹائم زیادہ دن کے لیے آؤں گا ڈارلنگ ۔۔ “

وہ مصنوعی بےچارگی سے بولا اور مریم کی جانب بڑھا

” وعدہ ۔۔ ؟”

” پکا وعدہ ۔۔ “

مریم کے وعدہ لینے پر عرش مسکراتے ہوئے بولا

” اپنا خیال رکھنا میری جان ۔۔ میں جلد ہی آؤں گا ۔۔ “

مریم کو سینے سے لگا کر عرش نے اس کے کان میں سرگوشی کی

” آپ بھی اپنا خیال رکھئیے گا شاہ جی ۔۔ “

” اوکے جان ۔۔ “

مریم کے ماتھے پر لب رکھنے کے بعد اس نے اپنی سیاہ جیکٹ پہنی موبائل ، چابیاں اور والٹ لے کر جب وہ کمرے سے نکلا تو مریم کا دل جانے کیوں بے ساختہ اداس ہوا ایسا لگا وہ بیڈ پر ڈھے سی گئی جیسے عرش اس سے بہت دور جا رہا ہے اپنی کیفیت وہ سمجھنے سے قاصر تھی کئی لمحے ایسے ہی گزرے جب موبائل کی آواز سے وہ ہوش میں آئی

” آرہی ہوں میں سارہ ۔۔ “

موبائل کان سے لگا کر وہ بولتی ہوئی اٹھی اور عبایا پہنے کمرے سے نکلی

” مام میں اپنی دوست سے ملنے جاؤں ۔۔ “

لاؤنج میں اسے حورین سامنے ہی مل گئی تو فوراً اجازت لے لی

” اوکے بیٹا دھیان سے جانا ۔۔ اور ڈرائیور کو لے جانا ۔۔ “

حورین نے مسکراتے ہوئے اسے ہدایت کی جبکہ مریم خدا حافظ کہتی آگے بڑھ گئی

////////////////////////

” کیا ہوا تم پریشان ہو ۔۔ ؟”

وہ ابھی ہی ڈاکٹر سارہ کے پاس آئی تھی مگر مسلسل خاموش تھی

” نہیں ۔۔ بس وہ عرش گئے ہیں نا تو ۔۔ بسسس ۔۔ “

عرش کے دور جانے پر وہ ایسے ہی اداس ہو جاتی تھی اس کی عرش کے لیے محبت دیکھ کر ڈاکٹر سارہ نے آنکھیں میچیں پھر فوراً کھولیں اور مریم کو دیکھا جو اس وقت وبائے میں ملبوس اجلے نکھرے روپ کے ساتھ اس کے سامنے تھی

” تم نے مجھے کسی ضروری بات کے لیے بلایا تھا نا ۔۔ ؟ سب ٹھیک ہے سارہ ۔۔ ؟ میری رپورٹس آگئیں ۔۔ “

مریم نے تھوڑا آگے کو جھکتے ہوئے پوچھا

” ہممم تمہاری رپورٹس آ گئیں ہیں ۔۔ “

” اچھا ۔۔ بتاؤ کیا میں پریگننٹ ہوں ۔۔ ؟”

مریم نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا تو ڈاکٹر سارہ نے نفی میں سر ہلایا جبکہ مریم کے چہرے پر اداسی کی رمک آئی تھی

” ہممم ۔۔ شکر ہے میں نے ۔۔ اپنی طبیعت کا عرش کو نہیں بتایا تھا ورنہ ۔۔ رپورٹ نگیٹیو آنے پر انہیں دکھ ہوتا ۔۔ “

مریم بھری آواز میں بولی تھی اس نے بہت کچھ سوچا تھا اگر اس کی پریگننسی کی رپورٹ پازیٹو آئی تو عرش کتنا خوش ہوگا باقی سب گھر میں کتنا خوش ہوں گے جشن منایا جائے گا

” میری بات بہت بڑا دل کر کے تمہیں سننی ہو گی مریم ۔۔ “

چند لمحوں بعد ڈاکٹر سارہ نے اپنے سامنے بیٹھی مریم کو دیکھتے ہوئے اداسی سے کہا

” کیا بات ہے سارہ ۔۔ ؟”

” میں بےشک تمہاری دوست ہوں ۔۔ لیکن میں ایک ڈاکٹر بھی ہوں ۔۔ میں تم سے چاہ کر بھی یہ حقیقت چھپا نہیں سکتی ۔۔ “

ڈاکٹر سارہ کے ہر انداز سے پریشانی جھلک رہی تھی

” کیا بات ہے سارہ ۔۔ تم مجھے ڈرا رہی ہو ۔۔ “

مریم کا لہجہ لرز گیا تھا اسے بے چینی سی ہونے لگی تھی کیا اور بھی کچھ تھا جو ڈاکٹر سارہ بتانا چاہتی تھی

” مریم تمہاری رپورٹس ٹھیک نہیں ہیں ۔۔ !”

ڈاکٹر سارہ افسردگی سے گویا ہوئی جبکہ مریم کی دھڑکن مدھم ہوئی

” کک کیا ہے ؟؟ ررر رپورٹس میں !”

مریم کو ڈھیروں وسوسوں نے آن گھیرا

” مریم تم کبھی ماں نہیں بن سکتی ۔۔ !”

یہ الفاظ نہیں تھے بلکہ مریم کی محرومی کا سندیسہ تھے کئی لمحے وہ سامنے بیٹھی شہر کی بہترین ڈاکٹر سارہ کو سکتے کی سی کیفیت میں تکتی رہی

” مریم ۔۔ !”

اپنی جانب پتھرائی نگاہوں سے تکتی مریم کو جب ڈاکٹر سارہ نے پکارا تو مریم نے اسے ایسے دیکھا جیسے امیدوار دیکھتا ہے

” خدا کی ذات سب سے بڑی ہے مریم ۔۔ انشاء اللہ وہ تمہاری سنیں گے ۔۔ ناامید مت ہونا ۔۔ “

سارہ آج زندگی میں پہلی بار مریم کو تسلی دے رہی تھی وہ اور بھی بہت کچھ بول رہی تھی مگر مریم کی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے کمرے میں اس کی دبی دبی سسکیاں گونج رہیں تھی مریم ایک صابر اور حوصلہ مند لڑکی تھی ہمیشہ دوسروں کو تسلی دینے والی آج خود ایسی کانچ کی گڑیا کی مانند ٹوٹی تھی کہ سنبھالتے نہیں سنبھل رہی تھی

” میں شاہ جی کو کیسے بتاؤں گی یہ بات سارہ ۔۔ ؟”

یکدم اس کے آنسو تھمے اور وہ روندی آواز میں بولی

” وہ بہت اچھا انسان ہے مریم ۔۔ وہ خدا کی مصلحت سمجھے گا ۔۔ “

ڈاکٹر سارہ نے اسے تسلی دی

” ایسا کیوں ہوا سارہ ۔۔ میرے ساتھ ہی کیوں ۔۔ ؟”

مریم ایک بار پھر سسکی تھی

” خدا اپنے نیک لوگوں کو ہی آزمائش کے لیے چنتا ہے مریم ۔۔ “

سارہ نے اسے گلے لگایا تھا اور وہ اپنی محرومی کا سوچتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

/////////////////////