Tere Sitam By Fatima Readelle50292 Tere Sitam (Episode 7)
Rate this Novel
Tere Sitam (Episode 7)
Tere Sitam By Fatima
بیک وقت عرش شاہ نے دو لڑکیوں کو آسمان سے زمین پر پٹخا تھا امل کی تو اسے کوئی پرواہ نہیں تھی بلکہ یہی تو اس کا مقصد تھا کہ وہ امل کی انا کو پارہ پارہ کر دے گا مگر اس سارے انتقام میں اس نے مریم کے اعتماد اور مان کو بھی قدموں تلے کچل کر رکھ دیا تھا وہ کتنی حساس ہے یہ عرش شاہ سے بہتر کون جان سکتا ہے جس نے مریم کو بے انتہا چاہا تھا اپنی تمام شدتیں اس پر وار دی تھی مگر آج جو دکھ اس نے مریم کو دیا تھا شاید اس کا مداوا کوئی نہ تھا
اپنے ساتھ بیٹھے وجود سے بے خبر وہ گاڑی ڈرائیو کرتا مسلسل مریم کے بارے میں سوچ رہا تھا جو اس کا سکون تھی مگر اسی سکون کو آج عرش شاہ نے اپنے غصے اور انتقام میں بے سکون کر دیا تھا جانے اس وقت مریم کی کیا حالت ہو گی اس قدد ذہنی دباؤ کے باوجود وہ بہت تیز ڈرائیو کر رہا تھا ساتھ بیٹھی امل کو گہری رات کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ بیٹھے گم صُم سے عرش کے سپاٹ چہرے کو دیکھ کر بھی خوف آ رہا تھا
بھوک سے بے حال ، نیند سے بوجھل ہونے کے باوجود وہ ساکت بیٹھی تھی جانے کتنے گھنٹے گزر گئے تھے انہیں سفر کرتے ہوئے اب تو صبح بھی ہو چکی تھی
گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تو امل نے چہرہ کھڑکی کی جانب کر کے اس بڑی سی عمارت کو دیکھا جو شاید کوئی سرکاری عمارت تھی
چوکیدار سمیت گارڈز نے اسے سلیوٹ کیا تھا ، وہ گاڑی سے باہر نکلا تھا اور بغیر کچھ کہے ماتھے پر بل ڈالے آگے بڑھنے لگا اس کے پیچھے ایک گارڈ بھی تھا جبکہ چوکیدار اور دوسرے گارڈز اب امل کو دیکھ رہے تھے جو گاڑی میں بیٹھی رہ گئی تھی یکدم امل کو سبکی کا احساس ہوا تھا عرش شاہ اسے وہیں چھوڑ کر جا چکا تھا وہ سر جھکائے گاڑی سے اتری اور اسی سمت بڑھ گئی جہاں عرش شاہ گیا تھا دوسرے فلور پہ ہی عرش اسے ایک فلیٹ کے اندر جاتا نظر آیا وہ بھی خاموشی سے اس کی جانب بڑھی
دروازے کے پاس رک کر اس نے باہر لگی نیم پلیٹ دیکھی جس پر ایس پی عرش شاہ لکھا ہوا تھا وہ گادڑ اب امل کو دیکھتا واپس مڑ گیا جبکہ امل نے فلیٹ میں قدم رکھا
وہ کچھ الجھی ہوئی تھی کیونکہ جہاں تک اسے معلوم تھا عرش شاہ کا لاہور میں اپنا گھر تھا پھر وہ سرکاری فلیٹ میں کیوں آیا تھا
بہرحال ان کے تعلقات اچھے نہیں تھے اور یہ وقت مناسب تھا اسی لیے وہ اس وقت اس سے کچھ پوچھنے کی پوزیشن میں نہیں تھی وہ سامنے ہی صوفے پر بیٹھ کر اپنے جوتے اتار رہا تھا
پھر وہ اٹھ کر ایک کمرے میں چلا گیا بے ساختہ امل نے طویل سانس لیا اور اب وہ اطراف کا جائزہ لینے لگی اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ یہ سرکاری فلیٹ تھا جو کہ بے حد سارہ مگر نفاست سے سجا ہوا تھا ہر چیز صاف ستھری اپنی جگہ پر تھی فلیٹ میں شاید دو ہی کمرے تھے جس میں سے ایک میں عرش گیا تھا دوسرے کا دروازہ بھی بند تھا سامنے ہی کچن تھا
وہ کافی دیر سے کھڑی تھی کہ اب تو اس کی ٹانگیں بھی شل ہو رہی تھیں ابھی وہ صوفے پر بیٹھنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ عرش شاہ پولیس یونیفارم میں ملبوس ایک ہاتھ سے بال سیٹ کرتا دوسرے سے اپنی پینٹ کی جیبیں کنگال رہا تھا اس کے بال ابھی نم تھے یقیناً وہ شاور لے کر آیا تھا تبھی پہلے کی نسبت خاصا فریش لگ رہا تھا پھر سامنے میز پر پڑی کار کی چابی اور اپنا موبائل اٹھا کر بیرونی دروازے کی طرف بڑھا باہر سے دروازہ لاکڈ ہونے کی آواز آئی تھی بے اختیار امل کو شدت سے رونا آیا مطلب وہ اسے یہانمں چھوڑ کر کہیں جا چکا تھا مگر عرش شاہ اتنا بے حس کیسے ہو سکتا ہے
اسے شدید بھوک لگی ہوئی تھی سختی سے ہتھیلی سے آنسو پونچھتی وہ کچن کی سمت بڑھی ہر کیبنٹ اور فرج کنگالنے کے بعد جب اسے کھانے کو کچھ نہ ملا تو اس کا دل کیا وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے اور پھر وہ روئی پھوٹ پھوٹ کر روئی کیونکہ اسے احساس ہو رہا تھا کہ وہ اپنے ساتھ کتنا کچھ غلط کر چکی ہے
/////////////////////////
” عرش ۔۔ !”
وہ اچانک ٹرانسفر پر اسلام آباد آیا تھا آتے ساتھ ہی ایک کیس میں پھنس گیا تھا دو دن سے وہ گھر نہیں گیا تھا ابھی بس وہ سارے کام نبٹا کر تھانے سے نکلا تھا مگر گاڑی میں بیٹھ کر سوچوں کا رخ ایک مرتبہ پھر کل والے واقعے پر چلا گیا تھا شازل کی آواز پر وہ چونکا تھا شازل اب اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ چکا تھا
” مجھے تو لگا تو چلا گیا ہو گا ۔۔ لیکن تو گاڑی میں ہی بیٹھا ہے ابھی ۔۔ سب ٹھیک ہے نا ۔۔ ؟”
شازل کو اس کا انداز آج صبح سے ہی عجیب خاموش سا لگ رہا تھا مگر موقع نہ ملا پوچھنے کا ابھی بھی عرش کچھ الجھا ہوا لگ رہا تھا
” ہاں میں ٹھیک ہوں ۔۔ “
بھاری آواز میں جواب آیا یقیناً وہ دو راتوں سے سویا نہ تھا یہ اسی کا اثر تھا
” اچھا چل تیرے گھر چلتے ہیں وہیں جا کر بات کریں گے ۔۔ “
شازل نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا
” نہیں ۔۔ مجھے گھر نہیں جانا ۔۔ “
گھر جانے کے نام پر عرش یکدم ہی بوکھلا گیا تھا
” عرش تو پریشان ہے ۔۔ ؟ کیا ہوا ہے ۔۔ ضرور مریم بھابھی کے لیے پریشان ہے ۔۔ اتنی دور جو ٹرانسفر ہو گیا تیرا ۔۔ سچ میں مجھے تو تجھے تھانے میں دیکھ کر حیرت ہوئی ۔۔ تو نے مجھے بھی نہیں بتایا تیرا اسلام آباد ٹرانسفر ہو گیا ہے ۔۔ “
شازل مزید بھی بول رہا تھا وہ اس کا ٹریننگ میں دوست رہ چکا تھا ابھی اچانک ہی عرش کو دیکھ کر شازل کو خوشی ہوئی تھی مگر عرش تو مریم کے نام پر ہی سرد آہ بھر کے رہ گیا تھا
” یار میں نے ابھی کسی کو بھی نہیں بتایا ۔۔ بس آ گیا ۔۔ “
عرش مدھم سا گویا ہوا
” کیا مطلب کسی کو نہیں بتایا ۔۔ انکل کو تو پتہ ہو گا ۔۔ ؟”
شازل حیرت زدہ سا گویا ہوا جبکہ عرش نے ماتھے پر ہاتھ مارا ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ زامن شاہ کو اس کے ٹرانسفر کا نہ معلوم ہوا ہو
” تجھے کہاں چھوڑنا ہے ۔۔ “
عرش نے سر جھٹک کر گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے شازل سے پوچھا
” یار وہیں بلڈنگ میں ۔۔ جہاں تیرا فلیٹ ہے ۔۔ “
شازل نے جواب دے کر خاموشی اختیار کر لی
////////////////////////
شازل کو چھوڑ کر اپنے گھر جانے کے بجائے وہ وہیں گاڑی میں بیٹھا تھا پھر موبائل نکال کر ایک نمبر ڈائل کیا اور کان سے لگا لیا
” عرش بھائی کیسے ہیں آپ ۔۔ ؟ “
کال اٹینڈ ہوتے ہی دوسری جانب سے بے تابی سے پوچھا گیا تھا
” اشعر ، میں بہت بے چین ہوں ۔۔ ایک پل کو بھی سکون نہیں آ رہا مجھے ۔۔ “
عرش شاہ کے لہجے میں دکھ ہی دکھ تھا دوسری جانب اشعر اس کی کیفیت سمجھتا سرد آہ بھر کر رہ گیا
” بھائی ۔۔ پلیز ہمت کریں ۔۔ !”
اشعر بے بسی کے عالم میں بولا
” مام ، ڈیڈ ، مریم سب ناراض ہوں گے نا مجھ سے ۔۔ ؟”
وہ ٹوٹے ہوئے انداز میں بولا تھا
” بھائی سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ ! پریشان نہ ہوں۔۔ “
اشعر نے اسے کھوکھلی تسلی دی کیونکہ وہ خود بھی جانتا تھا کہ معاملات کہاں تک خراب ہو چکے ہیں
” مام ۔۔ ڈیڈ میری کال نہیں اٹینڈ کر رہے ۔۔ جبکہ مریم سے بات کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں ہے ۔۔ پھر بھی تم کہہ رہے ہو میں پریشان نہ ہوں ۔۔ ؟”
وہ بے بسی کی انتہا پر تھا دوسری جانب اشعر بلکل خاموش ہو گیا
” مریم کیسی ہے ۔۔ ؟”
عرش شاہ پھر سے گویا ہوا اس کے انداز میں بے چینی واضح تھی
” آنی کے گھر سے مام ڈیڈ لے آئے تھے انہیں ۔۔ لیکن جب سے آپ گئے ہیں وہ بس روتی ہیں بھائی ۔۔ آپ جانتے ہیں نا وہ بہت سنسیٹیو ہیں ۔۔ اور آپ تو ان کے لیے سب کچھ ہیں ۔۔ آپ کی جانب سے ملا دکھ نہیں سہا جا رہا ان سے ۔۔ “
اشعر کے انداز میں دکھ ، پریشانی اور کچھ غصے کی رمق بھی تھی
” کاش میرا اچانک ٹرانسفر نہ ہوا ہوتا ۔۔ تو میں آ سکتا وہاں ۔۔ “
وہ بڑبڑایا تھا مگر اشعر سن چکا تھا
” جی ۔۔ میں جانتا ہوں ۔۔ آپ کا اتنی جلدی کراچی آنا مشکل ہے اب ۔۔ کل ڈیڈ ، مام کو آپ کے ٹرانسفر کا بتا رہے تھے ۔۔ “
اشعر نے صبح ہوئی زامن شاہ اور حورین کی گفتگو عرش کو بتائی
” ہممم عروہ کیسی ہے ۔۔ سب کا خیال رکھنا ہے تمہیں اشعر ۔۔ “
عرش نے کنپٹی دباتے ہوئے کہا
” جی بھائی ۔۔ “
اشعر نے کچھ سوچ کر اسے مخاطب کیا
” بھائی ۔۔ !”
” ہممم ؟؟”
” بھائی وہ امل نے کچھ بتایا کہ ۔۔ اس نے یہ سب کیوں کیا ۔۔ کیا چاہتی ہے وہ ۔۔ “
اشعر کی بات پر عرش کے ماتھے پر شکن بڑھے
” اشعر ۔۔ میری سکون بھری زندگی میں اس خود غرض لڑکی نے زہر گھول دیا ۔۔ تم دیکھنا ۔۔ سکون تو اسے بھی میسر نہیں کروں گا میں ۔۔ جیسے اسے اپنا نام دے کر میں پچھتا رہا ہوں نا ۔۔ وہ بھی پچھتائے گی ۔۔ پل پل احساس دلاؤں گا میں اسے کہ اس نے عرش شاہ کے خلاف سازش کر کے کیا غلطی کی ہے ۔۔ “
وہ انتقام کی آگ میں بری طرح جل رہا تھا
” بھائی پلیز ۔۔ غصہ مت کریں ۔۔ “
اشعر کو جانے کیوں عرش کا لہجہ بے حد خوف میں مبتلا کر رہا تھا
” اشعر وہ لڑکی بہت خود غرض ہے ۔۔ بے حس ہے ۔۔ اسے احساس نہیں ہے کہ اس نے کیا کیا ہے ۔۔ اس کی وجہ سے میں مریم کو دکھ دے چکا ہوں ۔۔ “
” زندگی میں یہ پہلا فیصلہ میں نے نفرت اور غصے میں لیا تھا اور اس پر مجھے پچھتاوا ہو رہا ہے ۔۔ میں اس لڑکی کا وہ حشر کروں گا کہ وہ پناہ مانگے گی ۔۔ “
وہ واقعی پچھتا رہا تھا جبکہ اشعر کو اس کا انداز خوفزدہ کر رہا تھا
” بھائی پلیز ۔۔ !”
” اوکے سب کا خیال رکھنا اور اپنا بھی ۔۔ میں جلدی آنے کی کوشش کروں گا ۔۔ “
عرش نے فوراً بات بدلی اور نرمی سے اسے بولا پھر کال کاٹ دی
” مریم میری جان آئی مس یو ۔۔ تم ہی میری زندگی ہو ۔۔ میری بیوی ہو ۔۔ میرے دل کی ملکہ ہو ۔۔ آئی لو یو میری جان ۔۔ “
موبائل پر چمکتی مریم کی کھلکھلاتی تصویر دیکھ کر وہ اس سے مخاطب تھا
/////////////////////////
تکلیف کیا ہوتی ہے ، مان ٹوٹنا کیا ہوتا ہے ، محرومی کیا ہوتی ہے ، یہ کوئی مریم سے پوچھتا جس کی ساری زندگی اندھیر ہو گئی تھی اپنے محبوب شوہر کی بے اعتنائی نے اسے کتنا دکھ پہنچایا تھا یہ وہی جانتی تھی یا اس کا خدا جانتا تھا وہ ٹوٹ گئی تھی بکھر گئی تھی ، کیا ہر دکھ اسی کے نصیب میں لکھا گیا تھا کیا ہر امتحان اسی سے لیے جانا تھا
دنیا میں جب آنکھ کھلی تو باپ کی حقیقت نے سارے دنیا میں شرمسار کر دیا کچھ عرصے بعد ماں بھی چھوڑ گئی زمانے کی ٹھوکروں سے بچانے کے لیے زامن ماموں اسے اور اس کے بھائی کو اپنے ساتھ لے آئے تھے مگر یہاں بھی ان دونوں بہن بھائی کو جدائی کا سامنا کرنا پڑا
رامین ماما اور علی پاپا نے بہت پیار دیا حورین مام اور زامن بابا نے بھی ہر طرح سے پیار دیا پڑھایا لکھایا شاہ حویلی کے سب سے بڑے اور قابل وارث سے شادی کر دی وہ اپنی آنے والی زندگی سے کتنا خوف زدہ تھی
مگر عرش شاہ ایک بہت ذمہ دار اور عزت و محبت کرنے والا ہمسفر ثابت ہوا تھا عرش شاہ کی ہمراہی میں تین سال مریم کی زندگی کے حسین ترین سال گزرے تھے مگر پھر جیسے اس کی زندگی امتحانوں میں داخل ہو چکی تھی
یہ دکھ کم تھا کہ وہ کبھی ماں نہیں بن سکتی تھی اس پر عرش کی دوسری شادی نے اسے آسمان سے زمین پر پٹخا تھا کیا مریم کبھی یقین کر سکتی تھی کہ عرش شاہ اس سے منہ موڑ کر جائے گا مگر ایسا ہو گزرا تھا ہاں یہ قیامت خیز پل وہ گزار چکی تھی سہہ چکی تھی دو دن سے وہ اپنا موبائل پاس رکھے عرش شاہ کے کسی پیغام کی منتظر تھی ایسا تو کبھی نہیں ہوا تھا کہ عرش شاہ نے اسے یاد نہ کیا ہو مگر وہ جس کی منتظر تھی وہ شاید بے بر تھا اور خود کال کرنے کی اس میں ہمت نہیں تھی
یہاں سب اس کا بہت خیال رکھ رہے تھے مگر ہر کوئی ہی اس سے نگاہیں چرائے پھر رہا تھا وہ بلکل خاموش تھی عروہ کتنی کوشش کرتی اس سے بات کرنے کے لیے مگر وہ تو جیسے سب سن کے بھی کچھ نہیں سن پا رہی تھی ہاں مگر اسے عرش شاہ کا انتظار تھا بے صبری سے انتظار تھا جو اس کی زندگی تھا مگر ایک ڈر ایک خوف اس کے دل میں بیٹھ چکا تھا کہ اب عرش شاہ صرف اس کا نہیں تھا بلکہ وہ دو حصوں میں بٹ چکا تھا یہی بات مریم کو بے چین کر رہی تھیں بے سکون کر رہی تھیں اضطراب میں مبتلا کر رہی تھیں
/////////////////////////
وہ دو دن سے اس فلیٹ میں بولائی بولائی پھر رہی تھی دو ، تین دن سے اس نے کچھ نہ کھایا تھا
پانی پی پی کر اس نے گزارا کیا تھا آج تک کبھی اسے اتنی اذیت نہیں پہنچی تھی جتنی ان دو ، تین دن میں اس نے دیکھ لی تھی عرش شاہ خود تو دو دنوں سے ایسا گیا تھا کہ مڑ کے اس کی خبر تک نہ لی تھی وہ مر رہی ہے یا ابھی تک زندہ ہے
زندگی میں اتنی گالیاں اس نے کبھی کسی کو نہ دی تھی جتنی عرش شاہ کو ان دو دن میں دی تھیں اس کا بس نہیں چل رہا تھا عرش سامنے آئے اور یہ اس کا گلا دبا دے
ابھی بھی وہ نڈھال سی صوفے کے ساتھ ٹیک لگائے نیچے فرش پر بیٹھی تھی وہ دو دن سے سب کو کال کر چکی تھی مگر کسی نہ اس کی کال نہیں سنی تھی ماما ، پاپا اور عرش کو تو وہ ان گنت کالز کر چکی تھی مگر بے سود رہا تھا
” خدا کرے عرش تم مر جاؤ ۔۔ تمہیں پانی بھی نصیب نہ ہو ۔۔ تم بھی ماں باپ کو ترسو ۔۔ تمہیں بھی وہ دھتکار دیں ۔۔ تم بھی بھوکے مرو ۔۔ کوئی تمہارا اپنا تمہارے پاس نہ ہو ۔۔ تنہائی کے خوف سے مرو ۔۔ “
وہ جھولی پھیلا پھیلا کر عرش کو بد دعائیں دے رہی تھی وہ واقعی اس وقت اپنے حواسوں میں نہیں تھی ورنہ کم از کم اب عرش کو اتنی بد دعائیں نہ دیتی جس نے اس کی عزت کی حفاظت کی تھی اور اسے اپنی عزت بنایا تھا مگر نہیں وہ ایک جذباتی لڑکی تھی جسے اس وقت محض اتنا یاد تھا کہ عرش شاہ اسے یہاں بھوکا پیاسا رکھ کر مارنا چاہتا ہے اسے تنہائی سے بے تحاشہ خوف محسوس ہو رہا تھا مگر کیا کرتی کسے پکارتی
” خدا تمہیں پوچھے عرش شاہ ۔۔ !”
اور وہ زور زور سے چلانے لگی رونے لگی مدد کے لیے پکارنے لگی مگر کوئی نہیں تھا جو اس کی آہ و بکا سنتا
////////////////////////
