Tere Sitam By Fatima Readelle50292 Tere Sitam (Episode 5)
Rate this Novel
Tere Sitam (Episode 5)
Tere Sitam By Fatima
کافی دن گزر گئے تھے لیکن عرش شاہ ابھی تک حویلی میں ہی موجود تھا جیسے واپسی کا ارادہ ہی نہ رکھتا ہو وہ زیادہ تر مریم کے ساتھ پایا جاتا تھا کافی حد تک مریم بھی سنبھل چکی تھی یہ تبدیلی یقیناً عرش شاہ کی بے شمار محبت ، اور خیال رکھنے کی وجہ سے تھی ورنہ اتنی بڑی بات کے بعد وہ ٹوٹ گئی تھی جسے عرش شاہ نے بڑی محبت سے سمیٹا تھا
امل بھی بہت دن سے کسی موقع کی تلاش میں تھی
کہ ایسا کچھ کرے تاکہ مریم ، عرش شاہ کو چھوڑ دے وہ جانتی تھی عرش شاہ ، مریم سے بے تحاشہ محبت کرنے لگا ہے مریم کی جدائی یقیناً عرش شاہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گی اور جب شاہ حویلی کا بڑا وارث مجنوں بنا پھرے گا تو زامن شاہ بھی منہ کے بل گرے گا اور یہی سے تو شاہ حویلی کی بربادی کی شروعات ہو گی
اپنی سوچوں میں گم وہ آج پھر حویلی آئی تھی جہاں کسی تقریب کی تیاریاں عروج پر تھیں وہ جانتی تھی یہ انتظام زامن شاہ اور حورین کی شادی کی سالگرہ کے سلسلے میں منعقد ہوئی ہے اور اس دن سے بہتر پلان پر عمل کرنے کا اور کون سا دن ہو سکتا ہے امل علی آج مسرور سی حویلی میں داخل ہوئی تھی سرخ رنگ کی لانگ فراک اور چوڑی دار پاجامہ زیب تن کیے دوپٹہ کاندھے کے ایک طرف سینے پر پھیلائے وہ اچھی خاصی تیار تھی بال اس کے جوڑے کی صورت میں بندھے ہوئے تھے جس کی وجہ سے کانوں میں پہنے جھمکے مزید اس کی شخصیت کو دلکش بنا رہے تھے
ہر طرف مہمان تھے شاہ حویلی خوبصورتی سے سجی ہوئی تھی اس کی نگاہ شاہ حویلی کے مکینوں کو تلاش رہی تھیں جو کہ خوش گپیوں میں مگن تھے حورین کے ساتھ کھڑا زامن شاہ سفید تھری پیس میں آج بھی بے حد وجہہ لگ رہا تھا مگر امل علی کو اس سے نفرت محسوس ہوئی نگاہ پھیر کر حورین کو دیکھا جو سیاہ ساڑھی میں دمکتے چہرے کے ساتھ اس پارٹی کا حسن لگ رہی تھی انہیں دیکھ کر امل کے لب مسکرائے پھر باری باری سب کا جائزہ لینے کے بعد امل کی نظر عرش شاہ اور مریم پر پڑی جو اشعر شاہ کی کسی بات پر مسکرا رہے تھے
ان دونوں بھائیوں کو مسکراتے دیکھ کر امل کا خون کھول گیا وہ دونوں بھائی بلیک کلر کے تھری پیس میں ملبوس تھے اگر نفرت کو ایک طرف رکھ کر دیکھا جائے تو زامن شاہ کے دونوں بیٹے ان کی طرح بے حد وجہہ مرد تھے سر جھٹکتی وہ مریم کی جانب متوجہ ہوئی جو سرخ رنگ کی ساڑھی میں بے حد حسین لگ رہی تھی اتنی بڑی بات کے بعد بھی آج وہ اسے مسکراتے دیکھ رہی تھی تو یہ سب عرش شاہ کی کوششوں کا ثمر تھا ایک پل کو تو اس کا دل کیا کہ وہ جو سوچ کر آئی ہے اسے یہیں ختم کر دے اگر مریم ، عرش شاہ کے ساتھ خوش ہے تو یقیناً عرش شاہ میں کوئی تو ایسی خوبی ہے ورنہ اتنی بڑی بات جاننے کے بعد تو محبتیں پھیکی پڑ جاتی ہیں مگر یہاں تو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو
کیا مریم کو عرش شاہ سے زیادہ کوئی اتنا چاہ سکتا ہے ؟؟ کیا مریم عرش شاہ سے زیادہ کسی کو چاہ سکتی ہو ؟؟ کیا مریم ، عرش شاہ سے جدائی کے بعد خوش رہ سکے گی ؟؟
اک پل کو اس کے قدم ڈگمگائے تھے زامن شاہ کی اولاد کو برباد کرتے کرتے کہیں وہ اپنی بہن کو ہی اذیت نہ دیدے مگر نہیں وہ پیچھے نہیں ہٹے گی کسی صورت بھی نہیں اپنے ضمیر کی آواز کو ڈپٹ کر وہ ایک بار پھر اپنے ارادے میں پختہ تھی
/////////////////////////
” اچھی لگ رہی ہو ۔۔ منتہاء جو کہ کچھ فاصلے پر لگے آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر اپنے خوبصورت لمبے بال درست کر رہی تھی اشعر شاہ کی آواز پر پلٹی
” تم بھی بس ٹھیک لگ رہے ہو ۔۔ !”
اشعر شاہ کی پر وقار شخصیت کو دیکھتے ہوئے وہ مسکراہٹ دبائے بولی تھی
” اونہہ ۔۔ تم نا پٹو گی میرے ہاتھ سے ۔۔ “
اشعر شاہ نے اسے گھورتے ہوئے کہا تو وہ کھلکھلا اٹھی
” دیکھو اس محفل میں سب سے زیادہ حسین تو حورین آنٹی لگ رہی ہیں ۔۔ “
منتہاء نے نگاہوں کا زاویہ بدلا تھا وہ حورین کو ستائشی نظروں سے تکتی گویا ہوئی
” آخر مام کس کی ہیں ۔۔ !”
اشعر کا انداز فخریہ تھا منتہاء کا قہقہہ بےساختہ تھا
” بھائی آپ یہاں ہیں ۔۔ میں کب سے ڈھونڈ رہی تھی آپ کو ۔۔ او ہو ووو ۔۔ کیا بات ہے ۔۔ تو آپ بھی یہاں پر ہیں ۔۔ وہی میں کہوں یہ اشعر بھائی کونے میں کیا کر رہے ہیں ۔۔ اس کا مطلب یہاں رومانس ہو رہا ہے ۔۔ “
اس سے پہلے ان دونوں میں مزید بات ہوتی کہ وہاں عروہ پہنچ گئی اور باری باری انہیں دیکھتی شرارت سے گویا ہوئی اس کی آواز اور بات پر جہاں منتہاء سٹپٹا گئی وہیں اشعر شاہ نے اسے گھورا
” بیٹا تو رک ۔۔ تیری تو میں مام سے کلاس لگواتا ہوں ۔۔ کچھ زیادہ ہی فضول بولنے لگی ہو ۔۔ “
اشعر نے اسے مصنوعی غصے سے گھورتے ہوئے کہا
” ارے میں نے ایسا کیا کہہ دیا جو آپ بھڑک گئے ۔۔ “
حورین کے نام کی دھمکی سن کر عروہ نے اپنی نشیلی آنکھوں میں من من بھر آنسو اتارے اور نہایت معصومیت سے بولی
” ارے میری پیاری بہن ۔۔ چلو نہیں بتاتا ۔۔ کیا یاد کرو گی ۔۔ کتنا اچھا بھائی ہے ۔۔ “
اشعر نے اسے بازو کے گھیرے میں لیا جبکہ منتہاء ان دونوں کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی
” آپ میرا بتا دیں مام کو ۔۔ پھر میں ڈیڈ اور عرش بھائی کو بتا دوں گی کہ آپ ۔۔ منتہاء آپی سے اکیلے میں رومانس کر رہے تھے ۔۔ “
وہ شرارت سے کہتی بھاگ گئی جبکہ اشعر شاہ اپنی چالاک بہن کو دیکھتا رہ گیا
” میں دیکھتا ہوں اس کو ۔۔ ورنہ اس کا کوئی پتہ نہیں ۔۔ ڈیڈ اور عرش بھائی سے مار پڑوا دے مجھے ۔۔ “
اشعر ، منتہاء کو کہتا عروہ کے پیچھے ہو لیا تبھی منتہاء کی نگاہ اشعل پر پڑی جو کچھ فاصلے پر کھڑا اسی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا جہاں سے ابھی عروہ اور اشعر گئے تھے منتہاء اس کی سمت بڑھی
” تم عروہ کو پسند کرتے ہو نا ۔۔ ؟”
اپنی پشت سے آتی جانی پہچانی آواز پر وہ پلٹا جبکہ منتہاء کی بات پر اشعل اک پل کو تو سن ہو گیا
” تمہاری آنکھوں میں صاف دکھتا ہے ۔۔ “
منتہاء نے کاندھے اچکا کر کہا
” جی ۔۔ !”
اشعل نے یک لفظی جواب دیا تو منتہاء کی مسکراہٹ گہری ہو گئی
//////////////////////////
” مریم کو دیکھا آپ نے ۔۔ ماشاءاللہ بہت خوش نظر آ رہی ہے ۔۔ ورنہ بلکل ٹوٹ سی گئی تھی “
رامین نے سامنے کھڑے عرش اور مریم کو ہنستے مسکراتے دیکھ کر علی کو مخاطب کیا
” یہ سب عرش کی وجہ سے ہوا ہے ۔۔ اور پھر حورین بھابھی اور زامن نے بھی مریم کو بیٹی بنا کر رکھا ہوا ہے ۔۔ بیہ آپی اگر آج زندہ ہوتیں تو اپنی بیٹی کو اتنا خوش دیکھ کر بہت مطمئن ہوتیں ۔۔ “
علی نے بھی مریم اور عرش کو دیکھتے ہوئے کہا
” صحیح کہہ رہے ہیں آپ ۔۔ انہوں نے بہت دکھ دیکھے تھے اپنی زندگی میں ۔۔ آج ہوتی تو اپنی اولاد کو خوش دیکھ کر بہت خوش ہوتیں ۔۔ “
رامین کے لہجے میں دکھ کی آمیزش تھی
” صحیح کہہ رہی ہو ۔۔ میں نے تو بیہ آپی کی حالت دیکھی ہے نا ۔۔ آج بھی مجھے ان کی اذیتوں سے بھری زندگی نہیں بھولی ۔۔ تو سوچو زامن کا کیا حال ہوتا ہوگا یہ سب سوچ کر ۔۔ “
علی کی آنکھوں کے سامنے ماضی کی کچھ دردناک یادیں لہرائی تھیں
” آپ پریشان نہ ہوں ۔۔ دیکھیں اب سب کچھ ٹھیک ہے ۔۔ “
علی کے لہجے اور چہرے کا درد دیکھ کر رامین اس کا ہاتھ تھام کر تسلی دیتے ہوئے بولی
” رامین تم بہت اچھی ہمسفر ہو ۔۔ تم نے میرا ہمیشہ بہت ساتھ دیا ہے ۔۔ خاص طور پر مریم کو اولاد کی طرح پالا ہے تم نے اللہ کے بعد بیہ آپی اور زامن کے سامنے سرخرو کر دیا تم نے مجھے ۔۔ “
علی دل کی گہرائیوں سے کہہ رہا تھا اسے یاد آیا جب وہ اور زامن مریم کو لائے تھے تو پھوپھو نے ہنگامہ برپا کر دیا تھا اور زامن کس قدر پریشان تھا پھر علی نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی اور دوستی کا حق ادا کیا کہ مریم کو وہ اور رامین اپنے بچوں کی طرح پالیں گے اور ہوا بھی کچھ ایسا ہی تھا
//////////////////////////
” آج بھی اتنی ہی حسین ہو تم ڈارلنگ ۔۔ ! پوری محفل تم ہی نے جیتی ہوئی ہے ڈاکٹر صاحبہ ۔۔ “
ادھر ادھر دیکھتے ہوئے زامن شاہ نے حورین کے ذرا قریب ہوکر سرگوشی کی تو حورین کے لبوں پر دلکش مسکراہٹ بکھری
” آپ بھی کچھ کم نہیں ہیں آئی جی صاحب ۔۔ ! آج بھی اتنے ہی ڈیشنگ ہیں ۔۔ “
حورین نے مسکراتے ہوئے کہا تو زامن شاہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی
” کیا بات ہے مام ڈیڈ آپ کی ۔۔ یقین کریں اکثر لوگ آپ دونوں کو ہمارے بڑے بہن بھائی کہہ رہے ہیں ۔۔ یو بوتھ آر لوکنگ سٹننگ ۔۔ “
عرش شاہ ، مریم کا ہاتھ تھامے ان دونوں کے قریب آیا اور آنکھوں میں شرارت لیے تعریف کی تو زامن شاہ نے گردن اکتاتے ہوئے پہلے سے ٹیک کالر مزید درست کیا
” جی مام ڈیڈ ۔۔ آپ دونوں بہت اچھے لگ رہے ہیں ۔۔ !”
مریم نے بھی ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا
” تھینکس بیٹا ۔۔ “
جواباً زامن شاہ نے سر ذرا سا خم کرکے اس کا شکریہ ادا کیا تھا
” ڈیڈ آپ مام کو لے کر ہنی مون پر کیوں نہیں چلے جاتے ۔۔ جہاں تک مجھے لگتا ہے آپ دونوں کبھی گئے نہیں ہوں گے ۔۔ “
عرش شاہ کی بات پر مریم کی دبی دبی ہنسی پر حورین نے عرش کو گھورا
” شرم کرو عرش ۔۔ “
” ویسے آئیڈیا اچھا ہے تمہارا ۔۔ “
زامن شاہ نے حورین کی کمر میں ہاتھ ٹکاتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا
” تو بس پھر ۔۔ ویڈنگ اینیورسری کا یہ گفت میری طرف سے ۔۔ “
عرش نے زامن کی سرگوشی سن کر فوراً کہا تو مریم نے اس کا بازو پکڑ کر ذرا سی چٹکی کاٹی
” جان آپ کو بھی لے جاتا ہوں ۔۔ آپ کیوں غصہ کر رہی ہو ۔۔ “
عرش نے جھوٹی سی سی کرتے ہوئے بازو کو سہلا کر کہا جبکہ عرش کی والہانہ بات پر مریم ، زامن اور حورین کے سامنے سٹپٹا گئی
” دونوں باپ بیٹے ایک جیسے ہیں ۔۔ “
حورین بلند آواز میں بڑبڑاتی مریم کا ہاتھ تھامتی آگے بڑھ گئی
” خوبصورت بیوی کسی خاطر میں لاتی ہی نہیں ہم معصوم شوہروں کو ۔۔ “
عرش نے باپ کو دیکھتے ہوئے افسوس سے کہا تو زامن شاہ کا قہقہہ فضا میں بلند ہوا
/////////////////////////
نا جانے کیوں اس کا سر چکرا رہا تھا جس باعث وہ زینے طے کرتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا لڑکھڑاتے قدموں سے چلتے ہوئے اس نے اپنی ٹائی کی ناب ڈھیلی کی اور سیاہ کوٹ کو اتار دیا ریلنگ کا سہارا لیتے ہوئے وہ بار بار اپنی آنکھیں مسل رہا تھا جبکہ دور کھڑی امل کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ تھی وہ بھی آہستگی سے ادھر ادھر دیکھتی اس کے پیچھے چلنے لگی تھی
عرش شاہ نے بند ہوتی آنکھوں کو بمشکل کھولتے ہوئے اپنے کمرے میں قدم رکھا اور لڑکھڑاتے ہوئے بیڈ کی جانب بڑھا اور منہ کے بل گر گیا
امل علی ، عرش کے کمرے میں داخل ہوئی اور اپنے پیچھے دروازہ بند کر دیا اور کمرے کے وسط میں کھڑی بیڈ پر اوندھے منہ پڑے عرش شاہ کو دیکھنے لگی پھر دھیرے دھیرے اس کی سمت اپنے قدم بڑھائے
” اب دیکھنا عرش شاہ ، تمہاری اور تمہارے باپ کی عزت دو کوڑی کی کر دوں گی ۔۔ صرف چند لمحے ، اس کے بعد تم اور تمہارا باپ کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہو گے ۔۔ اور پھر مریم بھی تم سے جدا ہو جائے گی ۔۔ یقیناً یہ صدمہ تمہارے لیے ناقابل برداشت ہوگا ۔۔ “
مکرو ہنسی ہنستے وہ نفرت سے سرگوشی نما انداز میں بولی لہجہ بے حد سرد تھا
پھر امل نے اپنی فراک کی بائیں آستین کو کھینچ کر چھاڑ دیا ، دوپٹہ اتار کر دور فرش پر اچھال دیا ، چوڑیاں ہاتھوں سے توڑ دیں ، ہتھیلی میں ہوتے درد کو برداشت کرتے لبوں کو سختی سے آپس میں پیوست کیا اور پھر ہتھیلی سے رستہ خون پھٹی ہوئی نیم برہنہ بازو پر لگا دیا ، بالوں کا جوڑا کھول دیا اب بال بکھرے بکھرے لگ رہے تھے ، ہونٹوں پر لگی لپسٹک کو پھیلا دیا
اپنا حلیہ ایک حد تک بگاڑ کر اب اس نے دوبار عرش شاہ کو دیکھا وہ آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا
آنکھوں کو دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے رگڑنے کے بعد اب اس نے زور زور سے رونا اور چیخنا شروع کر دیا امل کے اس عمل سے عرش شاہ کی آنکھیں کھلی اور سیدھے ہو کر وہ بیڈ سے بمشکل اٹھا اپنے سامنے امل کو اتنی بری حالت میں دیکھ کر اسے بے حد حیرت ہوئی ابھی اس سے پہلے وہ امل کو کچھ کہتا یا پوچھتا ، دروازہ زور زور سے بجنے لگا وہیں امل کے رونے اور چلانے میں شدت آئی وہ اپنے ماں باپ کو مدد کے لیے پکار رہی تھی اس کی نیم برہنہ حالت دیکھ کر عرش شاہ نے نگاہوں کا رخ پھیر لیا مگر دروازہ مسلسل بج رہا تھا اور کئی آوازیں ایک ساتھ آ رہی تھیں عرش نے ایک بار پھر آنکھیں مسلی اور دروازے کی سمت بڑھا جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا سامنے ہی علی ، رامین ، مریم اور زامن حورین کے ساتھ ساتھ اور بھی لوگ جھانک رہے تھے
” ماما ۔۔ !”
امل اپنے بکھرے حلیے سمیت رامین کی سمت لپکی تھی
شاہ حویلی کے مکین بے یقینی سے کبھی عرش شاہ کے لڑکھڑاتے قدموں کو اور کبھی امل کی بے حال حالت کو پتھر بنے دیکھ رہے تھے
” امل ۔۔ یی یہ ۔۔ سب کیا ہے ۔۔ ؟”
رامین کی آواز بمشکل نکلی تھی
” ماما ۔۔ ععع عرش ۔۔ شش شاہ ۔۔ نے مم میرے ۔۔ ساتھ ۔۔ “
وہ رامین کے گلے لگی سسکتی ہوئی بات ادھوری چھوڑ کر پھر شدت سے رو پڑی جبکہ اس کے ادھورے الفاظ نے ہی عرش شاہ کو آسمان سے زمین پر پٹخ دیا وہ کئی پل سن کھڑا رہا ہر کوئی اس کی ادھوری بات کو مفہوم سمجھ چکا تھا جبکہ رامین نے امل کو بازوؤں سے تھام کر اپنے سامنے کیا
” کیا کہہ رہی ہو ۔۔ ؟ “
وہ غرائی تھی جبکہ مریم نے دیوار کا سہارا لیا تھا حورین نے نفی میں سر ہلایا تھا جبکہ زامن شاہ کا سر جھکا تھا
” ماما انہوں نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا اور ۔۔ اور میرے ساتھ زبردستی کی ۔۔ “
امل ایک بار پھر بولتے ہوئے رامین کے گلے لگ پڑی جبکہ عرش شاہ کا دل چاہا امل کا گلا گھونٹ دے ، اس کی زبان کو کاٹ ڈالے ، اس کے وجود کو آگ لگا دے ، جو اتنا بڑا الزام لگا کر اس کے کردار کی دھجیاں اڑا رہی تھی
” یہ کیا بکواس کر رہی ہو تم ۔۔ آنی یہ جھوٹ بول رہی ہے ۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔۔ “
عرش دو قدم آگے بڑھا تھا اور رامین کو بولا تھا
” انہوں نے شراب پی ہوئی ہے ۔۔ دیکھیں ان سے کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا ۔۔ !”
امل نے سب کی توجہ عرش کی سمت کروائی تھی
مریم نے عرش کی بے تحاشہ سرخ آنکھوں کو دیکھا جنہیں وہ بار بار ہتھیلی سے رگڑ رہا تھا عرش شاہ ، زامن اور حورین کو پکارتا ان کی جانب بڑھا مگر بیچ میں امل بول پڑی
” مام ۔۔ ڈیڈ ۔۔”
” میں جھوٹ نہیں بول رہی ماما ۔۔ خالہ ۔۔ یہ انسان نہیں ہے ۔۔ درندہ ہے ۔۔ جانور ہے ۔۔ یہ دیکھیں انہوں نے میری کیا حالت کی ہے ۔۔ اگر آپ لوگ نہ آتے تو جانے یہ میرے ساتھ ۔۔ “
امل کی زبان سےنا زیبا گفتگو سن کر عرش طیش میں آیا مگر اس سے پہلے وہ جارحانہ انداز میں امل کی جانب بڑھتا کمرے کی فضا میں زوردار تھپڑ کی آواز گونجی تھی ساتھ ہی امل کا وجود زمین بوس ہوا تھا جبکہ علی ایک بار پھر امل کی سمت بڑھے اور اسے کھنچ کر فرش سے اٹھانے کے بعد دوسرا تھپڑ رسید کرنے ہی والے تھے کہ زامن شاہ آگے بڑھے اور علی کو قابو کر کے پیچھے ہٹایا
” دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا علی ۔۔ بچی پر ہاتھ اٹھا رہے ہو ۔۔ !”
زامن شاہ نے غراتے ہوئے انہیں جنجھوڑ ڈالا تھا جبکہ علی کی نگاہیں ابھی بھی فرش پر پڑی امل کی سمت تھی جو توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے ایک بار پھر فرش پر گر چکی تھی اور بے یقینی کے عالم میں اپنے نہایت شفیق باپ کو دیکھ رہی تھی جس نے کبھی بلند آواز میں اس سے بات تک نہ کی تھی مگر تو منظر بدل چکا تھا
” مہمان جمع ہیں نیچھے ۔۔ اشعر ، اشعل اور زامن تم لوگ نیچھے جاؤ مہمانوں کو رخصت کرو پہلے ۔۔ پھر یہ معاملہ دیکھیں گے ۔۔ “
پھوپھو بروقت بولی تھیں مبادہ بات زیادہ نہ بڑھ جائے
ان کی بات پر علی کمرے سے سب سے پہلے نکلے تھے ان کے پیچھے زامن شاہ ، اشعر اور اشعل تھے جبکہ عرش شاہ کی نفرت بھری نگاہیں سر جھکائے فرش پر بیٹھی روتی ہوئی امل پر تھیں اسی اثناء میں حورین جو کہ مریم کے ساتھ کھڑی تھی آگے بڑھی اور عرش کا رخ اپنی جانب کیا
” یہ سب کیا ہے عرش ۔۔ “
حورین کا اشارہ عرش کی لڑکھڑاہٹ پر تھا
” مام میں نہیں جانتا ۔۔ بٹ بلیو می ۔۔ یہ جھوٹ بول رہی ہے ۔۔ “
عرش نے حورین کو دونوں بازوؤں سے تھاما تھا اور یقین دلاتا بولا
” اسے لے کر گھر چلو ۔۔ “
علی کمرے میں داخل ہوتا بولا رامین نے امل کو بازوؤں سے تھاما اور کمرے سے نکل گئی
ان تینوں کے کمرے سے نکلنے کے بعد کمرے سے مریم نکلی تھی اور پھر آگے پیچھے سب نکل گئے اب محض عرش شاہ کمرے میں تنہا رہ گیا
” امل علی یہ تم نے جو بھی کیا ۔۔ بہت غلط کیا ہے ۔۔ اب دیکھنا میں تمہارے ساتھ کرتا کیا ہوں ۔۔ آٹھ آٹھ آنسو رو گی تم ۔۔ رحم کی بھیک مانگو گی مجھ سے ۔۔ ایسی موت مارو گا تمہیں کہ چیخ اٹھو گی ۔۔ عرش شاہ کو درندہ تم نے خود بنایا ہے ۔۔ اب میری درندگی سے واقعی تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا ۔۔ “
سب گھر والوں کی نظر میں اس کا کردار کس قدر مشکوک ہو گیا تھا ماں کی آنکھوں میں مان ٹوٹنے کی رمک تھی ، باپ کا سر شرمندگی سے جھکا تھا اور اتنی پیار کرنے والی ، فرمانبردار بیوی اس سے منہ موڑ کر گئی تھی یہ سوچیں عرش شاہ کو واقعی حیوان بننے پر مجبور کر رہی تھیں
////////////////////////
