Tere Sitam By Fatima Readelle50292 Tere Sitam (Episode 28)
Rate this Novel
Tere Sitam (Episode 28)
Tere Sitam By Fatima
” رضیہ حورین بی بی کتنی اچھی ہیں ۔۔ “
وہ دونوں اس وقت رات کے کھانے کا انتظام کر رہی تھیں جب ایک ملازمہ نے دوسری کو مخاطب کیا
” ہاں صحیح کہہ رہی ہو تم ۔۔ دیکھا نہیں کہ مریم بی بی کے بھائی نے عروہ بی بی کے ساتھ کتنے ظلم کیے ۔۔ پھر بھی حورین بی بی اور عرش صاحب نے مریم بی بی کو آج تک کچھ نہیں کہا ۔۔ “
دوسری نے سر ہلاتے ہوئے اس کی بات پر اتفاق کیا
” ہاں نا ۔۔ ورنہ وٹے سٹے ہو جائیں تو اگر ایک کا گھر اجڑے تو دوسرے کا بھی بس نہیں پاتا ۔۔ “
پہلی والی دھیمی آواز میں بولی تھی تاکہ ان کی گفتگو شاہ حویلی کا کوئی مکین نہ سن سکے
” اور مریم بی بی کی تو اولاد بھی نہیں ہے ۔۔ اگر بندہ کہے کہ شاید عرش صاحب اولاد کی خاطر خاموش ہیں ۔۔ ورنہ بہن کے ساتھ ہوئے ظلم پر ایک لمحہ نہ لگاتے مریم بی بی کو گھر سے نکالنے پر ۔۔ “
رضیہ نے بھی اس پاس نگاہیں دوڑاتے ہوئے کہا
” سنا تھا کہ بڑے بڑے گھروں میں رہنے والوں کے دل چھوٹے ہوتے ہیں ۔۔ مگر بڑی بی بی بڑی ظرف والی ہیں ۔۔ “
سلمہ کی بات پر رضیہ نے اثبات میں سر ہلایا
” صحیح کہہ رہی ہو ۔۔ اپنی بیٹی سے زیادہ کسی کو کوئی عزیز نہیں ہوتا ۔۔ مگر بڑی بی بی نے آج تک مریم بی بی کو اف تک نہیں کیا ۔۔ “
رضیہ نے پیاز کاٹتے ہوئے کہا
“لیکن عرش صاحب نے دوسری شادی کرکے بڑا غلط کیا ۔۔ مریم بی بی بڑی اچھی ہیں ۔۔ “
سلمہ اس مرتبہ لہجے میں افسوس لیے بولی تھی
” ارے کہاں سے غلط کیا ۔۔ اتنے دن ہو گئے امل بی بی اور عرش صاحب کو یہاں آئے ہوئے ۔۔ ایک دن نہیں میں نے دیکھا کہ انہوں نے امل بی بی سے بات بھی کی ہو ۔۔ ارے ان کے تو کمرے میں بھی نہیں جاتے صاحب ۔۔ “
رضیہ نے رازدارانہ انداز میں کہا
” کیا کہہ رہی ہو تم ۔۔ ؟”
سلمہ نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا
” ہاں میں سچ کہہ رہی ہوں ۔۔ عرش صاحب روز ہی مریم بی بی کے کمرے میں ہوتے ہیں ۔۔ امل بی بی کو تو پوچھتے بھی نہیں ۔۔ “
رضیہ کی بات پر سلمہ نے دھیرے سے سر ہلایا
“اے رضیہ ۔۔ !”
کچن کے دروازے پر کھڑی چھوٹی دادو کی کرخت آواز پر دونوں ہی اچھل پڑیں
” جج جی جی بی بی ۔۔ “
رضیہ کی زبان بری طرح لڑکھڑائی
” تم دونوں یہاں پر جس کام کے لیے ہو وہی کام کرو ۔۔ اگر گھر کے معاملات پر نظر رکھی تو پہلی فرصت میں نکال باہر کروں گی تم دونوں کو ۔۔ “
وہ دونوں پر سرد اور سخت نگاہیں ڈالتی بولی تھیں
” معاف کر دیں بی بی جی آئیندہ ایسا نہیں ہو گا ۔۔ “
رضیہ نے ان کے آگے ہاتھ جوڑ دیے
” معاف کر دو ۔۔ ہنننہہہ “
چھوٹی دادو نحوت سے سر ہلاتی کچن سے نکل گئیں
////////////////////////
” ڈیڈ وہ روحان کا کیا کرنا ہے ۔۔ “
عرش شاہ کافی دیر سے حورین اور ضامن شاہ کے کمرے میں بیٹھا ادھر ادھر کی باتیں کر رہا تھا چند ایک باتوں کے بعد اس نے اچانک ضامن شاہ کو دیکھتے ہوئے سوال داغا تو حورین اور ضامن شاہ نے چونک کر اسے دیکھا
” اپنے بیٹوں کی طرح ہمیشہ سمجھا میں نے اسے ۔۔ “
ضامن شاہ نے ایک سرد آہ بھری اور بولنا شروع کیا
” پاکستان سے دور اسی لیے بھیجا کہ اس کے باپ کے کالے کرتوت کا سایہ بھی روحان پہ نہ پڑے ۔۔ ورنہ اپنی آنکھوں سے دور نہ کرتا اسے ۔۔جیسے مریم کو نہیں کیا ۔۔ “
ان کے لہجے میں دکھ واضح تھا
” اپنی سب سے قیمتی اثاثہ اس کے حوالے کر دیا میں نے ۔۔ لیکن اس نے میری بیٹی کو زندہ لاش بنا دیا ۔۔ “
آواز اور آنکھیں یہ بات کرتے ہوئے بھیگ گئیں
” ضامن ۔۔ “
حورین نے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا
” مان تھا مجھے بہت اس پہ حورین ۔۔ “
انہوں نے حورین کی جانب دیکھ کر ٹوٹے ہوئے شکست زدہ انداز میں کہا
” توڑ دیا اس نے میرا مان ۔۔ “
” ڈیڈ صرف آپ کی وجہ سے ۔۔ صرف آپ کی وجہ سے میں نے روحان کو چھوڑ دیا ۔۔ ورنہ جو اس نے میری بہن کے ساتھ کیا ہے نا ۔۔ ایسی سزا دیتا کہ اس کی روح کانپ جاتی ۔۔ “
عرش شاہ کا چہرہ ضبط کے باعث سرخ ہو ما تھا اس کے لہجے میں غصہ اور غم تھا
” یقین کرو عرش ۔۔ اگر وہ بیہ آپی کا بیٹا نہ ہوتا تو ۔۔ اس وقت ہم خاموش نہ ہوتے ۔۔ “
ضامن نے نے عرش کو دیکھتے ہوئے تھکے ہوئے انداز میں کہا تو حورین نے دکھ سے انہیں دیکھا
” ڈیڈ اب آگے کیا کرنا ہے ۔۔ روحان ، عروہ سے ملنا چاہتا ہے ۔۔ “
چند لمحے خاموشی کے بعد عرش نے پھر سے بات شروع کی تو حورین نے بے چینی سے اسے دیکھا
” عروہ کی مرضی ہے بیٹا ۔۔ اگر وہ چاہتی ہے روحان سے ملنا تو ٹھیک ہے ۔۔ ورنہ جیسا تم چاہو کرو ۔۔ “
ضامن شاہ نے حورین سے نگاہیں چرا کر کہا
” عروہ کو بلایا ہے میں نے ۔۔ بس آتی ہو گی ۔۔ “
حورین نے عرش کو دیکھتے ہوئے کہا
” اگر اجازت ہو تو تشریف رکھوں کمرے میں ۔۔ “
کمرے کا دروازہ کھول کر چھوٹی دادو نے وہی قدم روک کر ضامن شاہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا لہجے میں طنز کی آمیزش تھی
” کیسی بات کر رہی ہیں پھوپھو آپ ۔۔ آپ ہی کا گھر ہے ۔۔ آئیں نا ۔۔ “
ضامن شاہ سمیت عرش شاہ اور حورین نے بھی سر اٹھ کر انہیں دیکھا اور ضامن شاہ نے عقیدت بھرے انداز میں کہا
” کہاں گھر بیٹا ۔۔ بھائی مر گیا تو سمجھو ۔۔ میرا میکہ ختم ۔۔ “
چھوٹی دادو کمرے میں داخل ہو کر چہرے پر افسوس سجائے بولیں
” کیسی باتیں کر رہی ہیں پھوپھو ۔۔ آپ تو ہماری بڑی ہیں ۔۔ ہر معاملے میں آخری فیصلہ آپ کا ہی ہے ۔۔ “
ان کی بات پر ضامن شاہ نے احترام سے کہا جبکہ عرش اور حورین نے خاموش نگاہ ان دونوں پر ڈالی
” نہیں بیٹا ۔۔ مجھے کہاں کوئی اپنا سمجھتا ہے ۔۔ “
وہ آنکھوں سے آنسو پونچھتی بولیں
” ایسا تو نہ کہیں چھوٹی دادو ۔۔ “
عرش شاہ نے احترام سے ان کے ہاتھ تھام لیے
” اچھا ہوا ۔۔ عرش تم بھی مجھے یہیں مل گئے ۔۔ مجھے تم سب سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔ “
انہوں نے ایک نظر عرش کو دیکھ کر ضامن اور حورین کو کہا
” جی جی پھوپھو کہیں ۔۔ “
حورین نے سر کو جنبش دی اور کہا
” ضامن شاہ تمہارے گھر کے قصے نوکروں کی زبان سے سن کر آ رہے ہیں ہم ۔۔ “
انہوں نے اب ضامن شاہ کو دیکھا تھا لہجے میں سختی در آئی تھی
” کیا مطلب ۔۔ “
ضامن شاہ نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا
” مطلب یہ کہ ہماری بہوؤں اور بیٹوں کی ذاتی باتیں ملازمین کر رہے ہیں ۔۔ “
اب انہوں نے عرش کی جانب دیکھا تھا جو پہلے ہی ناسمجھی سے انہیں دیکھ رہا تھا
” ہم سمجھے نہیں پھوپھو ۔۔ کیا کہنا چاہ رہی ہیں آپ ۔۔ “
حورین نے ان کا سرد پن محسوس کر کے پوچھا
” عرش شاہ دو بیویوں میں مساوی سلوک رکھنا چاہیے ۔۔ تم نے ایک کو ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھا ہوا ہے اور دوسری کا حال تک پوچھنا گوارا نہیں کرتے ۔۔ “
چھوٹی دادو نے طنزیہ انداز میں کہا تو عرش شاہ نے ان کی بات پر سر جھکا لیا
” ضامن تمہارا اور تمہاری بیوی کا کام ہے کہ اپنے بیٹے کو سمجھاؤ ۔۔ دونوں بیویوں کے حقوق برابر ہوتے ہیں ۔۔ عرش اتنے دن سے یہاں ہے ۔۔ ایک دن بھی یہ امل کے کمرے میں نہیں گیا ۔۔ یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ شاہ حویلی کے ملازمین کہہ رہے ہیں ۔۔ “
اب انہوں نے ضامن شاہ کو دیکھتے ہوئے کہا جو پہلے ہی ماتھے پر بل ڈالے انہیں دیکھ رہے تھے
” عرش ۔۔ چاہتے کیا ہو تم ۔۔ ہم نے زبردستی امل سے شادی کروائی ہے تمہاری ۔۔ ؟ “
ضامن شاہ جب عرش شاہ سے مخاطب کی آواز ذرا بلند اور سخت تھی
” نہیں ۔۔ “
عرش شاہ نے سر جھکائے نفی میں سر ہلایا
” پھر ایسا کیوں کر رہے ہو تم ۔۔ ؟ میاں بیوی کی لڑائی جھگڑے ان کے درمیان رہیں تو اچھا ہوتا ہے ۔۔ کسی تیسرے تک وہ بھی ملازمین تک بات نہیں جانی چاہیے ۔۔ اور آج تم امل کے کمرے میں جاؤ گے ۔۔ “
انہوں نے تنبیہی انداز میں حکم دیتے ہوئے کہا اور ایک خاموش نگاہ حورین پر ڈالی جو بے تاثر چہرہ لیے عرش کو دیکھ رہی تھیں
” جی ڈیڈ ۔۔ “
” اگر نکاح کر ہی لیا ہے تو اس کے بعد جو زمہ داریاں ہیں تمہاری وہ بھی پوری کرو ۔۔ “
وہ مزید گویا ہوئے تھے
” جی ڈیڈ ۔۔ “
عرش شاہ نے سر ہلایا تھا تبھی دروازے پر ہوتی دستک پر سب نے ایک ساتھ نگاہ اس طرف کی
” آ جائیں ۔۔ “
اجازت ملنے پر عروہ کمرے میں داخل ہوئی
مدھم سے رنگ کا جوڑا پہنے سر پر سیاہ چادر لیے جب وہ داخل ہوئی تو اس کے چہرے پر اداسی تھی جیسے صدیوں سے مسکرائی نہ ہو ، نگاہیں اور سر ایسے جھکا ہوا تھا جیسے کوئی مجرم ہو
ضامن شاہ اور حورین سمیت عرش شاہ اور چھوٹی دادو نے تڑپ کر اسے دیکھا
” آؤ میری شہزادی ۔۔ “
وہ کچھ آگے بڑھی تو ضامن شاہ نے اسے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ ہنوز سر جھکائے ان کے پاس بیٹھ گئی
” عروہ بیٹا اپنی پڑھائی شروع کر دو ۔۔ میں نے آپ کی یونیورسٹی میں بات کر لی ہے ۔۔ “
چند لمحوں بعد ضامن شاہ کی جب ہمت ہوئی تو وہ بھی نگاہیں جھکائے بولے
” جی ۔۔ “
عروہ نے بغیر بحث کیے یک لفظی جواب دیا تو عرش نے مضطرب ہو کر اسے دیکھا
” عروہ وہ ۔۔ بیٹا میں پہلے کہہ رہا ہوں ۔۔ جیسا آپ چاہو گی ویسا ہی ہو گا ۔۔ کوئی زور زبردستی نہیں ہے ۔۔ “
انہوں نے تمہید باندھی تو عروہ نے سوالیہ انداز میں انہیں دیکھا
” روحان ملنا چاہتا ہے آپ سے ۔۔ “
وہ سر اور نگاہیں جھکائے بولے تو عروہ نے باری باری سب کے جھکے سر اور نگاہیں دیکھیں اور پھر گہرا سانس لیا
” جیسا آپ چاہیں بابا ۔۔”
غیر مرئی نقطے کو تکتے ہوئے وہ سپاٹ انداز میں بولی تو ضامن شاہ نے دکھ سے اسے دیکھا
” عروہ اگر تم نہیں چاہو گی تو ۔۔ کوئی تمہیں اس سے ملنے کے لیے فورس نہیں کرے گا گڑیا ۔۔ “
عرش شاہ نے اسے محبت پاش نگاہوں سے تکتے ہوئے کہا
” ویسے نا بڑی کوئی بے وقوفی کر رہے ہو تم لوگ ۔۔ خاموشی سے عروہ کی جان چھڑانے کے بجائے تم لوگ چاہتے ہو کہ عروہ ، روحان سے ملے ۔۔ ابھی بھی کوئی گنجائش ہے روحان کے لیے تم لوگوں کے دل میں ۔۔ ؟ “
چھوٹی دادو افسوس سے ضامن اور حورین کو دیکھتے ہوئے گویا ہوئیں
” ایسی بات نہیں ہے پھوپھو ۔۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ یہ دونوں خود فیصلہ کریں ۔۔ “
حورین نے نہایت سنجیدگی سے عروہ کو دیکھتے ہوئے کہا
” عروہ بچے کوئی زبردستی نہیں ہے ۔۔ اگر تم نہیں چاہتی تو مت ملو ۔۔ “
پھر وہ عروہ کو مخاطب کرتے ہوئے بولیں
” اس کا مطلب ہے آپ لوگ چاہتے ہیں کہ میں ان سے ملوں ۔۔ ؟ “
عروہ نے حورین اور ضامن کو دیکھا اور سپاٹ انداز میں پوچھا
” اوکے بابا ۔۔ جیسا آپ آپ لوگ چاہیں ۔۔ “
کسی کے بھی کچھ بولنے سے پہلے عروہ آنکھوں میں کرب لیے بولی اور آنسو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتی کمرے سے نکل گئی
” حد کرتے ہو ویسے تم دونوں ۔۔ “
چھوٹی دادو بھی ایک افسوس بھری نگاہ ضامن شاہ اور حورین پر ڈالے کمرے سے نکل گئیں جبکہ عرش شاہ نے بھی ایک خاموش نگاہ ان دونوں پر ڈالی اور خود بھی کمرے سے نکل گیا جبکہ ضامن نے حورین کو دیکھا
” ضامن میری بچی کی زندگی خراب کر دی اس نے ۔۔ توڑ دیا اس نے میری بچی کو ۔۔ گود اجاڑ دی اس کی ۔۔ زندہ لاش بنا دیا ۔۔ پھر بھی ہمیں اسے برداشت کرنا پڑ رہا ہے صرف اس لیے کہ وہ بیہ آپی کا بیٹا ہے ۔۔ “
حورین لہجے میں کرب لیے بولیں
” حورین میں نہیں چاہتا کہ قیامت کے روز میری بہن مجھ سے منہ موڑے ۔۔ اگر روحان اور عروہ چاہیں گے ساتھ رہنا تو ان دونوں کی مرضی ۔۔ “
وہ سنجیدگی سے بولے تو حورین نے آنکھوں میں دکھ لیے انہیں دیکھا
” میں نے تو کبھی کسی کی بیٹی کا برا نہیں چاہا ۔۔ یا اللہ میری بیٹی کی آزمائش ختم کر دے ۔۔ اس کی ویران آنکھیں دوبارہ روشن کر دے ۔۔ “
چند لمحوں بعد حورین نے دل میں دعا کی تھی بیٹی کا دکھ ان دونوں کو اندر سے مار رہا تھا
//////////////////////////
وہ بھاری قدموں سے چلتا مریم کے کمرے کی جانب بڑھا رہا تھا اسے اب یہ بات پریشان کر رہی تھی کہ وہ مریم کو کیسے بتائے گا کہ اب اسے امل کے ساتھ اپنے شوہر کو بانٹنا ہے اور سب سے زیادہ اسے خود پریشانی ہو رہی تھی کہ وہ امل کے ساتھ ایک کمرے میں کیسے رہے گا
” یا اللہ ۔۔ میری مشکلیں آسان کر ۔۔ میں جانتا ہوں ۔۔ میں دونوں بیویوں کو دکھ دے رہا ہوں ۔۔ کیا کروں ۔۔ اگر امل کو اس کے حقوق دے دیےتو مریم کے دل پر قیامت گزرے گی ۔۔ اور اگر امل کو ایسے ہی رکھا یا بے وجہ طلاق دے دی تو تب بھی گناہ کا مرتکب ہو جاؤں گا ۔۔ “
وہ دل میں خالق سے مخاطب جب کمرے میں داخل ہوا تو مریم شاید اسے کا انتظار کر رہی تھی
” آپ کے موبائل پہ کال آ رہی تھی ۔۔ “
مریم نے اس کے پریشان چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا
” اچھا “
وہ اس سے نگاہیں چرائے اس کے ہاتھ سے موبائل لے کر دیکھنے لگا جس پر شازل کی کال دوبارہ آ ہی تھی
” ہیلو ۔۔ “
مریم کو تکتے اس نے موبائل کان سے لگایا چند ایک ضروری باتوں کے بعد جب وہ موبائل رکھ کر پلٹا تو مریم مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی
” میں آپ کا سر دبا دوں ۔۔ “
وہ عرش کو مسلسل کنپٹی مسلتے دیکھ رہی تھی اسی لیے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی
” کیا بات ہے آج بڑا پیار آ رہا ہے میری بیگم کو ۔۔ “
وہ مریم کو کلائی سے پکڑ کر اسے اپنے مزید قریب کرتے ہوئے گویا ہوا
” مجھے تو ہمیشہ ہی آتا ہے ۔۔ “
مریم نے ایک ادا سے کہا
” ہائے ۔۔ میری جان ۔۔ “
بے اختیار عرش نے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے اور پھر سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا
” آپ کسی بات پہ پریشان ہیں ۔۔ ؟”
مریم بھی سنجیدگی سے پوچھنے لگی
” نن نہیں ۔۔ مریم وہ ۔۔ آج ۔۔ “
عرش کے پاس الفاظ ختم ہو گئے تھے جن میں وہ مریم سے یہ بات کرتا مریم نے ناسمجھی سے اسے دیکھا آخر ایسی کیا بات تھی کہ عرش شاہ کی زبان لڑکھڑا رہی تھی
” وہ مریم آپ آرام کریں ۔۔ رات کو میرا انتظار مت کیجیے گا ۔۔ “
وہ مریم کو نرمی سے خود سے جدا کرتا نگاہیں چرائے بولا تو مریم نے پریشانی سے اسے دیکھا
” آپ کہیں جا رہے ہیں ۔۔ ؟”
وہ اس کے جھکے سر کو دیکھتی ہوئی پوچھ رہی تھی
” ہاں ۔۔ “
” کہاں ۔۔ “
” امل کے روم میں ۔۔ “
الفاظ تھے یا پگھلا ہوا سیسہ ، مریم کے سینے پر کئی تیر پیوست ہوئے تھے جبکہ عرش نے اس کی جانب نہ دیکھا تھا اس میں ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی
” جی ۔۔ “
چند لمحوں بعد مریم نے آنکھوں کی نمی چھپاتے ہوئے کہا اور ڈریسنگ روم میں جانے لگی جب عرش نے اس کا بازو پکڑ لیا
” بہت دکھ دیتا ہوں نا میں آپ کو ۔۔ “
ندامت بھرا انداز تھا
” نہیں یہ تو ہونا ہی تھا ۔۔ میں نے اپنے آپ کو تیار کر لیا ہے ۔۔ آپ میری فکر نہیں کریں ۔۔ “
مریم نے اس سے اپنے بازو چھڑاتے ہوئے نگاہیں جھکائے کہا
” کیسے نہیں کروں ۔۔ بہت شرمندہ ہوں میں آپ سے مریم ۔۔ “
وہ شکست زدہ انداز میں بولا
” کافی رات ہو گئی ہے آپ جائیں ۔۔ “
وہ دھیرے سے کہتی ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گئی جبکہ عرش شاہ کچھ دیر اس کے باہر آنے کا انتظار کرتا رہا مگر پھر شکست زدہ قدموں سے چلتا کمرے سے نکل گیا
” یا اللہ میری آزمائش ختم کر دے ۔۔ مجھے اولاد دیدے ۔۔ میرے سارے زخموں پر مرہم لگ جائے گا ۔۔ “
ڈریسنگ روم میں آ کر اس کے آنسو بہنے لگے تھے اور لبوں پر دعا تھی
//////////////////////////
وہ جب واش روم سے نکلی تو عرش شاہ کو اپنے کمرے میں دیکھ کر حیرت زدہ ہوئی یہاں تک کہ اسے اپنے دوپٹے کا بھی ہوش نہیں تھا جو صوفے پر عرش شاہ کے پاس پڑا تھا جبکہ عرش شاہ نے امل کا کمرے میں آنا محسوس کرکے بھی موبائل سے نگاہیں نہ ہٹائیں امل دھیرے سے چلتی صوفے کے پاس آئی اور دوپٹہ لے کر ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھی
” آج آپ کو کیسے یاد آ گیا کہ میرا بھی آپ سے کوئی رشتہ ہے ۔۔ “
امل کی طنز بھری آواز پر عرش شاہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو رات کے لباس میں ملبوس ہاتھوں پر لوشن لگا رہی تھی
” ہاں بد قسمتی سے میرا تمہارے ساتھ رشتہ ہے ۔۔ “
عرش نے بھی اسی کے انداز میں اسے جواب دیا
” پھر آج کیسے خیال آ گیا میرا ۔۔ ؟”
امل نے اس کی جانب رخ کرتے ہوئے پوچھا
” لائٹ آف کرو ۔۔ اور آرام سے سو جاؤ ۔۔ بحث کا موڑ نہیں ہے میرا ۔۔ “
عرش شاہ موبائل رکھ کر بیڈ کی جانب بڑھ گیا اور بیڈ کے ایک طرف دراز ہونے کے بعد بلنکٹ اوڑھ لیا جبکہ امل نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا اور گہرا سانس لیتی لائٹ آف کر کے بیڈ کی دوسری طرف بڑھی دل میں کرب تھا جو بڑھتا ہی جا رہا تھا وہ جانتی تھی عرش شاہ محض فارمیلٹی پوری کرنے کی غرض سے اس کے کمرے میں آیا ہے جبکہ دوسری جانب عرش شاہ کے دل پر مزید بوجھ بڑھا تھا وہ آج پھر نا چاہتے ہوئے بھی دونوں کو دکھ دینے کا باعث بنا تھا
یہ رات شاہ حویلی کے ہر مکین پر جیسے بھاری ثابت ہوئی تھی حورین اور ضامن شاہ بظاھر آنکھیں بند کیے لیٹے تھے مگر نیند کوسوں دور تھی عروہ کے لیے تو ویسے ہی آج مزید تکلیف بڑھی تھی اس کے ہر زخم آج دوبارہ ہرے ہو گئے تھے یہاں مریم کی ساری رات کانٹوں پر گزر رہی تھی دوسری جانب عرش شاہ اور امل کمرے کی خاموشی میں اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے
////////////////////////
