53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam (Episode 8)

Tere Sitam By Fatima

” حورین تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا ۔۔ کیا کہہ رہی ہو یہ تم ۔۔ ؟”

حورین کی بات پر ضبط کے باوجود زامن شاہ کی آواز بلند ہو گئی تھی

” زامن دیکھیں ۔۔ مریم ، عرش کی بیوی ہے ۔۔ اور اس وقت یہی مناسب رہے گا کہ مریم عرش کے پاس ہو ۔۔ آپ اسے عرش کے پاس بھیج دیں ۔۔ “

حورین نے اپنی بات دوبارہ دہرائی تھی جبکہ زامن نے انہیں غصے میں گھورا تھا

” تم اپنے بیٹے کو معاف کر سکتی ہو ۔۔ مگر مجھ سے یہ امید مت رکھنا ۔۔ عرش اب میرے گھر میں قدم بھی نہیں رکھے گا ۔۔ بلکہ مریم کا تو میں سایہ بھی اب اسے دیکھنے نہیں دوں گا ۔۔ “

وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولے تھے

” یقیناً پارٹی والی رات جو بھی ہوا اس پر عرش نے غصے میں وہ قدم اٹھایا ہو گا ۔۔ ورنہ عرش کبھی بھی مریم کے ساتھ ایسا نہ کرتا ۔۔ “

حورین نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تھی

” وہ کیا سمجھتا ہے غصے میں آ کر کوئی بھی قدم اٹھائے گا تو ہم سب بھول جائیں گے ۔۔ اس نے مریم کے ساتھ ظلم کیا ہے ۔۔ اور تم سے بہتر شاید کوئی نہیں جانتا کہ بیہ آپی میرے لیے کیا تھیں ۔۔ جب میں ان کے ساتھ ہوئے ظلم کا بدلہ سلمان شاہ کی بے قصور بیٹی سے لے سکتا ہوں تو ۔۔ اب ان کی بیٹی مجھے اسی طرح عزیز ہے ۔۔ اتنی کہ میں ساری زندگی عرش کی شکل بھی نہ دیکھوں ۔۔ “

زامن شاہ غصے میں جانے کیا کیا بول گئے تھے جبکہ حورین کے دل میں اتنے عرصے بعد آج بھی ویسی ہی ٹیسیں اٹھیں تھی جیسی آج سے بیس سال پہلے والے زامن شاہ کی باتیں سن کر اٹھتی تھیں

” زز زامن ۔۔ میں تو بس اس لیے ایسا کہہ رہی تھی کہ دونوں ساتھ رہیں گے تو مریم ٹھیک ہو جائے گی ۔۔ آپ جانتے ہیں عرش ہی مریم کا سکون ہے ۔۔ وہ محبت کرتی ہے عرش سے ۔۔ “

وہ اپنی اندرونی کیفیت پر قابو پاتی دھیمے سے بولی تھیں

” مریم وقت کے ساتھ سنبھل جائے گی ۔۔ مگر تم اور تمہارا بیٹا اسے بھول جاؤ اب ۔۔ “

زامن شاہ ابھی بھی غصے میں بولے تھے

” زامن پلیز غصے میں کوئی فیصلہ مت کریں ۔۔ خدا کے لیے یہ انتقام ، غصے میں کیے گئے فیصلوں کی ریت اب ختم کر دیں ۔۔ کیوں اپنی نسل کو اس غصے کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں ۔۔ پلیز دونوں بچوں کو الگ مت کریں ۔۔ “

حورین ، زامن کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتی منتیں کرتے ہوئے بولی تھی

” حورین میں اب تمہاری زبان سے عرش کے لیے ہمدردی نہ سنوں ۔۔ مجھے دیر ہو رہی ہے میں جا رہا ہوں ۔۔ “

زامن شاہ نے اس کا ہاتھ جھٹکا تھا اور سختی سے کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئے

” زامن آپ کیوں نہیں سمجھ رہے ۔۔ غصے میں کیا گیا فیصلہ انسان کو پچھتانے پر مجبور کر دیتا ہے ۔۔ اور عرش بھی آپ کا بیٹا ہے ۔۔ زندگی میں آپ نے بھی تو غصے میں ایسے بہت سے فیصلے کیے جنہوں نے آپ کو پچھتاوے میں دھکیل دیا تھا ۔۔ مگر میں مریم کو عرش سے جدا نہیں ہونے دوں گی ۔۔ کبھی نہیں ہونے دوں گی ۔۔ کبھی بھی نہیں ۔۔ “

آنکھوں میں اترتی نمی کو انگلی کی پوروں سے صاف کرتے ہوئے حورین ایک عزم میں خود سے مخاطب تھی

///////////////////////

جیسے ہی عرش شاہ نے فلیٹ کا لاک کھول کر دروازہ وا کیا گھور اندھیروں نے اس کا استقبال کیا تھا جیب سے موبائل نکال کر اس نے ٹارچ آن کی اور سوئچ بورڈ کی سمت بڑھا لائیٹ آن کرنے کے بعد اس نے دوبارہ دروازہ اندر سے لاکڈ کر دیا وہ جیسے کی مڑا سامنے ہی وہ صوفے کے پاس فرش پر سکڑی سمٹی لیٹی ہوئی تھی بے ساختہ عرش کو اس کے وجود سے بےزاری محسوس ہوئی اپنی بے زاری پر قابو پاتا وہ اس کی جانب بڑھا اور اسے بازو سے پکڑ کر زور سے ہلایا یہاں تک کہ وہ نڈھال سی ہڑبڑا اٹھی

” اٹھو ۔۔ !”

جب وہ آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھنے لگی تو عرش نے اس کے بکھرے وجود سے نگاہیں ہٹا کر ماتھے پر بل ڈالے کہا اور اسی صوفے پر بیٹھ کر سر صوفے کی پشت سے ٹیک لگانے کے بعد آنکھیں میچ لیں

” مم مجھے ۔۔ بب بھوک ۔۔ لگی ہے ۔۔ “

نقاہت کے سبب وہ بمشکل الفاظ ادا کر پائی تھی اس کی آواز پر عرش شاہ نے آنکھیں وا کیں

” تو میں کیا کروں ۔۔ ؟”

اسے دیکھتے ہوئے عرش شاہ غرایا تو وہ اس کی اتنی بلند آواز پر اپنی جگہ سے اچھل پڑی

” مم میں ۔۔ نن نے ۔۔ تین دن سے کک کچھ ۔۔ نہیں کھایا ۔۔ !”

بے بسی سے بولتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے تھے اس کی بات سن کر عرش شاہ نے جیب میں پڑا موبائل نکالا اور اب وہ کچھ کھانے کے لیے آرڈر کر رہا تھا بے اختیار امل کو وہ اس پل بہت اچھا لگا تھا جبکہ عرش شاہ اب اسے نظر انداز کرتا کمرے میں جا چکا تھا

اور پھر اگلے چند منٹوں میں دروازے پر دستک ہوئی تھی وہ ہمت کرتی خوشی سے دروازے کی جانب لپکی تھی مگر پیچھے سے کسی نے سختی سے اسے دبوچا تھا وہ لڑکھڑا کر فرش پر گری تھی اب عرش شاہ اسے گھورتا آگے بڑھا اور دروازہ کھول کر آرڈر ریسیو کر رہا تھا پیچھے وہ ابھی بھی فرش پر ہی پڑی تھی

جبکہ عرش شاہ ایک بار پھر دروازہ لاکڈ کرتا مڑا اور اسے مکمل نظر انداز کرتا اوپن کچن کی جانب بڑھا پلیٹس میں کھانا نکالنے کے بعد اس نے پاس پڑی کرسی گھسیٹی اور براجمان ہو گیا اگلے پانچ سے سات منٹس میں کھانا کھانے کے بعد اس نے ہاتھ صاف کیے اور کمرے میں چلا گیا

جبکہ اتنی دیر سے امید سے اسے کھانا کھاتے ہوئے دیکھتی امل یکدم فرش سے اٹھی اور اس پلیٹ کی جانب بڑھی عرش کی پلیٹ میں کچھ سالن بچا ہوا تھا جبکہ روٹی آدھی سے کچھ زیادہ پڑی تھی وہ کھانے پر جھپٹی تھی اور بڑے بڑے نوالے بنا کر کھانے لگی پہلی بار اسے رزق کی قدر کا احساس ہوا تھا کھانے کے دوران کئی بار اسے کھانسی آئی تھی مگر وہ مسلسل نوالے منہ میں ڈالتی رہی تھی پھر عرش کے ہی جھوٹے گلاس میں بچا پانی اپنے لبوں سے لگا لیا ابھی اسے مزید بھوک لگی تھی مگر کھانا ختم ہو چکا تھا اداسی سے اس نے اپنے کب سے بہتے آنسو پونچھے اور لاؤنج میں آ کر صوفے پر لیٹ گئی اور پھر جانے وہ کب تک روتی سسکتی رہی تھی اسے کچھ خبر نہ تھی کب نیند اس پر مہربان ہوئی تھی

//////////////////////

وہ بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے ٹانگیں لمبی کیے آنکھیں میچے اسی بے خبر کی یادوں میں گم تھی جب سائیڈ ٹیبل پر پڑا موبائل فون بننے لگا ہمیشہ کی طرح اسے عرش کی کال کا گمان ہوا جھٹ سے آنکھیں کھولیں اور ر موبائل فون ہاتھ میں لیا اس بار اس کے اداس چہرے پر خوشی کی رمق آئی تھی

اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ کپکپاتے ہاتھوں سے یس کر کے فون کان سے لگا لیا

دوسری جانب بیڈ پر دراز عرش شاہ نے مریم کے کال اٹینڈ کر لینے پر خدا کا شکر ادا کیا مگر وہ بلکل خاموش تھی

” مریم میری جان ۔۔ !”

بے حد محبت سے پکارا گیا مریم کے آنسو بہنے لگے مگر وہ بلکل خاموش تھی

” میری جان کیسی ہو ۔۔ ؟”

بے تابی سے پوچھا گیا انداز میں پریشانی ، فکر اور محبت واضح تھی مگر وہ محض آنسو بہا رہی تھی

” کچھ تو بولو جان ۔۔ غصہ کرو ۔۔ کچھ بھی کہہ لینا مگر پلیز بات تو کرو ۔۔ ایسے خاموش آنسو مت بہاؤ ۔۔ “

وہ بوجھل انداز میں ندامت سے بولا تھا اور پھر موبائل کے سپیکر سے مریم کی دبی دبی سسکیاں سنائی دینے لگی اور پھر وہ شدت سے رونے لگی جبکہ عرش شاہ نے ضبط کرتے ہوئے آنکھیں میچ کر دوبارہ کھولیں

وہ کافی دیر روتی رہی مگر عرش شاہ کے پاس کوئی لفظ نہیں تھا وہ شرمندہ تھا بے حد شرمندہ تھا

” پلیز مت رو مریم ۔۔ تمہارا اتنے درد سے رونا مجھے تکلیف دے رہا ہے ۔۔ !”

جب وہ خاموش نہ ہوئی تو عرش بے بسی سے بولا جبکہ مریم اب کال کاٹ چکی تھی بے اختیار عرش بے چین ہوا دوبارہ کال ملائی مگر وہ کال پک نہیں کر رہی تھی وہ مسلسل کال ملا رہا تھا بے حد اضطراب کی کیفیت میں عرش شاہ اب نمبر ملاتا ہوا کمرے میں چکر کاٹ رہا تھا مسلسل کال کرنے کے تقریباً ایک گھنٹے کے بعد مریم نے دوبارہ کال پک کی لیکن اس بار واقعی عرش شاہ کے پاس الفاظ ختم ہو گئے تھے

” رات بہت ہو گئی ہے ۔۔ آپ کو اس وقت اپنی دوسری بیوی کو ٹائم دینا چاہیے ۔۔ “

وہ طنز کرنا نہیں چاہتی تھی مگر عورت کی فطرت تھی سو کر بیٹھی

” میرا سب کچھ آپ ہیں مریم ۔۔ میری بیوی ۔۔ میری ہمراز ۔۔ میری ہمسفر ۔۔ میرے دکھ سکھ کی ساتھی ۔۔ میری زندگی ۔۔ میرا دل ۔۔ میرا سکون ۔۔ میرا چین ۔۔ میری سانسیں ۔۔ میری خواہش ۔۔ میری محبت ۔۔ میرا عشق ۔۔ !! اور اتنے پاک ۔۔ اتنے خلوص والے جذبات کے بعد کسی تیسرے کی بلکل گنجائش نہیں میری زندگی میں ۔۔ ہاں ایک غلطی ہوئی ہے مجھ سے ۔۔ وہ بھی جلدی ٹھیک کر دوں گا ۔۔ مگر یہ یاد رکھیں ۔۔ آپ میری کل متاع ہیں ۔۔ پلیز آئیندہ خود کو کسی اور کا میری زندگی میں مقابلہ مت کیجئے گا ۔۔ “

وہ اس قدر محبت اور سچائی سے گویا ہو تھا کہ مریم کے دل میں سکون اتر گیا تھا بے چینی اور اضطراب جیسے ناپید ہو گیا تھا

” پلیز کچھ تو بولیں مریم ۔۔ !”

وہ اس کی منت کر رہا تھا

” جی ۔۔ !”

” پلیز مریم مجھے کبھی غلط مت سمجھنا ۔۔ میری زندگی میں جو تمہارا مقام ہے وہ ۔۔ کوئی دوسری لڑکی حاصل نہیں کر سکتی ۔۔ تم میرا سب کچھ ہو ۔۔ پلیز کبھی دور مت ہونا ۔۔ ورنہ عرش شاہ مر جائے گا ۔۔ “

وہ عاجزی سے بول رہا تھا

” پلیز ایسے نہیں بولیں ۔۔ !”

عرش کی آخری بات پر وہ تڑپ گئی تھی

” پھر مت روٹھو مجھ سے ۔۔ ! میں تمہاری بے رخی برداشت نہیں کر سکتا ۔۔ “

وہ امید سے بولا تھا

” میں کیوں روٹھوں گی آپ سے ۔۔ میں ناراض نہیں ہوں آپ سے ۔۔ “

وہ دل بڑا کرتی ہوئی گویا ہوئی تھی اس شخص کی آواز ہی مریم کے سکون کا سبب تھی

” تم بہت اچھی ہو مریم ۔۔ بہت اچھی ۔۔ اگر تمہاری جگہ کوئی اور ہوتی تو پتہ نہیں اتنا ہنگامہ کرتی مگر تم نے میری غلطی کو برداشت کر لیا ہے ۔۔ “

وہ مدھم سا مسکرا کر بولا تھا

” آپ میرا سب کچھ ہیں عرش ۔۔ سب کچھ ۔۔ میں چاہ کر بھی آپ سے رخ نہیں پھیر سکتی ۔۔ “

وہ روندی آواز میں بولی تھی

” تمہاری بہت یاد آ رہی ہے ۔۔ !”

کچھ پل بعد عرش اچانک بولا تھا

” مجھے بھی ۔۔ “

بے ساختہ ہی اس کی زبان پھسلی تھی

” تم بولا رہی ہو تو قسم سے سب چھوڑ کر آ بھی جاؤں گا ۔۔ کہہ کر تو دیکھو ایک بار ۔۔ “

اس کے لہجے میں محبت ہی محبت تھی جبکہ اس کی بات سن کر مریم کے لب مسکرائے

” نہیں شاہ جی آپ اپنا کام دیکھیں ۔۔ کچھ دنوں بعد آ جائیے گا ۔۔ “

عرش کی بے چینی محسوس کرتی وہ مسکرا کر بولی تھی جبکہ مریم کے دل کو سکون پہنچا تھا تو عرش کو بھی اب سکون آیا تھا

//////////////////////////

صبح کھانے کے میز پر سب موجود تھے مگر مریم آج بھی نہیں تھی زامن شاہ کر ماتھے پر شکن پڑے تھے

” مریم کہاں ہے ۔۔ کسی نے اسے بلانے کی زہمت تو نہیں کی ہو گی ۔۔ !”

بغیر کسی کو دیکھے انہوں نے طنز کیا تھا جبکہ ان کی بات سن کر سب کے ہاتھ کھانے سے رک گئے حورین نے ان کے غصے میں تلملائے چہرے کو دیکھا اور عروہ کی جانب رخ کیا

” عروہ جاؤ ۔۔ مریم کو بلا کر لے کر آؤ ۔۔ !”

حورین نے عروہ کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا

” مام میں نے انہیں بلایا تھا مگر انہوں نے دروازہ نہیں کھولا ۔۔ “

عروہ نے باپ کو غصے میں دیکھتے ہوئے حورین کو جواب دیا اس نے کبھی اپنے باپ کو اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا جتنا وہ ان چار ، پانچ دن میں اسے دیکھ چکی تھی

” ایک بار پھر جاؤ ۔۔ “

حکم زامن کی جانب سے آیا تھا

” جی ڈیڈ ۔۔ “

سر ہلاتی ہوئی وہ اٹھی تھی

” کم از کم ۔۔ بچوں کے سامنے تو ایسے غصے نہ کریں ۔۔ عروہ پہلے ہی آپ کے غصے سے سہمی ہوئی ہے ۔۔ “

حورین نے اشعر اور پھوپھو کی موجودگی کی وجہ سے آواز دھیمی رکھتے ہوئے زامن سے کہا تو وہ احساس ہونے پر لب بھینچ کر رہ گئے

کچھ ہی دیر میں مریم نے عروہ کے ساتھ ڈائننگ ہال میں قدم رکھا اور تھوڑی بلند آواز میں سلام کیا مگر اس کا اداس چہرہ دیکھ کر زامن شاہ اور حورین نے ایک دوسرے کو دیکھا

” وعلیکم السلام بیٹا آؤ یہاں بیٹھو ۔۔ “

کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے زامن نے کہا تو مریم خاموشی سے حورین کے ساتھ والی کرسی پر براجمان ہو گئی

پھوپھو نے اس کے بکھرے بکھرے حلیے اور سوجی آنکھوں کو دیکھ کر نگاہیں چرائیں تھی

” یونیورسٹی جانا کیوں چھوڑا ہوا ہے آپ نے مریم ۔۔ ؟”

وہ چائے کے سپ لے رہی تھی جب زامن شاہ نے نرمی سے استفسار کیا

” وو وہ ڈیڈ ۔۔ !!”

ان کے اچانک سوال پر اسے سمجھ نہ آئی کیا جواب دے

” کل سے ضرور جاؤ گی آپ ۔۔ !”

انہوں نے جیسے اسے حکم دیا تھا مریم نے بے ساختہ حورین کو دیکھا جو سر جھکائے بیٹھی بے دلی سے ناشتہ کر رہی تھیں

” جی ۔۔ وہ ڈیڈ مجھے پاپا کے گھر جانا ہے ۔۔ !”

زامن شاہ کا ستا ہوا چہرہ دیکھتے اس نے جیسے اجازت چاہی تھی

” ٹھیک ہے ۔۔ حورین ۔۔ مریم کو ساتھ لے جانا اور اپنے ساتھ ہی واپس لے کر آنا ۔۔ “

انہوں نے سر ہلاتے ہوئے اس بار حورین کو مخاطب کیا جواباً انہوں نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا جبکہ مریم مزید بولی تھی

” ڈیڈ ۔۔ مجھے کچھ دنوں کے لیے وہیں رہنے جانا ہے ۔۔ مم میں ۔۔ وہیں سے یونیورسٹی چلی جایا کروں گی ۔۔ “

وہ جھجھک کر بولی تھی اس کی بات پر زامن شاہ نے چائے کا کپ میز پر رکھا

” عرش کی وجہ سے جانا چاہتی ہو تم یہاں سے بیٹا ۔۔ ؟؟ “

انہوں نے اچانک ہی سوال کیا تھا سب کی نظریں اپنی جانب اٹھتی دیکھ کر مریم کا سر خودبخود نفی میں ہلا

” دیکھو بیٹا ۔۔ یہ تمہارا گھر ہے ۔۔ اس پر تمہارا زیادہ حق ہے ۔۔ تم اس گھر کی بیٹی بھی ہو ۔۔ تم میرے لیے عروہ جیسی ہو ۔۔ اور رہی بات عرش کی تو ۔۔ وہ اب اس گھر میں نہیں آئے گا ۔۔ اب اس کا ہمارے سے کوئی تعلق نہیں ۔۔ سب سن لیں ۔۔ “

وہ نرمی سے گویا ہوئے تھے جبکہ آخر میں انداز خودبخود حتمی ہو گیا تھا جبکہ ان کی بات پر مریم کی تو جیسے سانسیں بے ترتیب ہوئی تھیں حورین نے بھی تڑپ کر زامن شاہ کو دیکھا جو اس وقت نہایت سفاک انسان لگ رہے تھے

” زامن یہ تم کیا کہہ رہے ہو ۔۔ عرش اس گھر کا بڑا بیٹا ہے ۔۔ خون ہے تمہارا ۔۔ تم اس لڑکی کی وجہ سے اپنی اولاد سے منہ موڑو گے ۔۔؟ “

پھوپھو بلند آواز میں بولی تھیں

” آپ ہماری بڑی ہیں ۔۔ ماں کے بعد آپ کو ہی ہم نے اپنا بڑا سمجھا ہے پھوپھو ۔۔ ہر معاملے میں آپ کے فیصلے کو اہمیت دی ۔۔ مگر مزید مریم کے معاملے میں میں کسی کی نہیں سنوں گا ۔۔ مریم جو فیصلہ کرے گی اس میں ۔۔ میں اس کے ساتھ ہوں ۔۔ چاہے مجھے ساری عمر عرش سے منہ ہی کیوں نہ موڑنا پڑے ۔۔ “

وہ سفاکیت سے کہتے اٹھ کھڑے ہوئے تھے

” زامن پلیز ۔۔ “

حورین نے انہیں پکارا تھا ان کی پکار میں تڑپ تھی

” ایک اور بات ۔۔ ہنی اگلے چند دنوں میں پاکستان آ رہا ہے ۔۔ “

وہ حورین کی پکار نظر انداز کرتے پرسکون سے بولے تھے جبکہ ان کی بات پر سب چونکے تھے

” کیوں ۔۔ ؟؟”

پھوپھو نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا

” کیونکہ میں نے اسے بہت اسرار کر کے یہاں بلایا ہے ۔۔ “

وہ عام سے انداز میں بولے جبکہ حورین اس معاملے میں بلکل خاموش تھی

” مگر اس کی ضرورت کیا تھی ۔۔ اچھا بھلا وہ وہاں نوکری کر رہا ہے ۔۔ پھر تمہارا اسے یہاں بلانے کا مقصد ۔۔ ؟”

وہ سختی سے پوچھ رہی تھیں مریم نے بے ساختہ سر جھکا لیا ان کے باپ کی وجہ سے ، ان دونوں بہن بھائی کو ہمیشہ لوگوں کی باتیں سننی پڑی تھیں

” کیونکہ میں ہنی کی شادی عروہ سے کرنا چاہتا ہوں ۔۔ “

بہت آرام سے انہوں نے شاہ حویلی کے مکینوں کے سر پر بمب پھوڑا تھا ان کی بات پر عروہ کی تو سانسیں مدھم ہوئی تھیں حورین نے بے یقینی سے زامن شاہ کو دیکھا

” یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں زامن ۔۔ “

حورین صدمے کی سی کیفیت میں بولی تھی اشعر کو بھی باپ کی یہ بات کچھ خاص پسند نہیں آئی تھی جبکہ مریم خود بھی حیرت زدہ تھی

” یہی کہ ہنی کے آتے ہی ہم عروہ کا اس سے نکاح کر دیں گے ۔۔ “

وہ ایک نظر پھوپھو کو دیکھ کر بولے تھے

” یہ تم کیا کہہ رہے ہو زامن ۔۔ خبردار اگر یہ بے ہودہ بات سوچی تم نے ۔۔ !”

پھوپھو زامن شاہ کو دیکھتیں دبی دبی آواز میں غرائی تھیں

” اس میں برائی کیا ہے پھوپھو ۔۔ ہنی اچھا لڑکا ہے ۔۔ نیک ہے ۔۔ قابل ہے ۔۔ سب سے بڑی بات ہمارا اپنا ہے ۔۔ اور کیا چاہیے ہمیں ۔۔ “

وہ حتمی انداز میں گویا ہوئے تھے لہجہ پختہ تھا جبکہ عروہ مزید کچھ نہ سن سکی اور نامحسوس انداز میں وہاں سے نکلتی چلی گئی

” زامن ہماری بیٹی ابھی کم عمر ہے ۔۔ پڑھ رہی ہے ۔۔ یہ سب ابھی ٹھیک نہیں ہے ۔۔ “

نم آنکھوں سے زامن شاہ کو دیکھتے ہوئے حورین نے کہا

” یہ انکار کے فضول جواز ہیں حورین ۔۔ !”

انہوں نے ان کی بات رد کی تھی

” زامن یہ ظلم ہے ۔۔ ہنی ، عروہ سے کم از کم پندرہ سال بڑا ہو گا ۔۔ پلیز ایسے نہیں کریں ۔۔ “

اس بار حورین بولتے ہوئے رو پڑی تھیں

” پلیز فضول باتوں کو بیچ میں مت لاؤ حورین ۔۔ “

حورین کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اس بار زامن نرمی سے گویا ہوئے تھے

” ہوش کرو زامن ۔۔ وہ لڑکا ہماری بچی سے بہت بڑا ہے عمر میں ۔۔ یہ مناسب جوڑ نہیں ہے ۔۔ عروہ بلکل کم عمر ہے ۔۔ “

اس بار پھوپھو شدید غصے میں بولی تھیں

” میرے اور حورین میں بھی عمر کا بہت فرق تھا ۔۔ الحمداللہ اچھی زندگی گزار رہے ہیں ۔۔ بات ختم پھوپھو ۔۔ میں فیصلہ کر چکا ہوں ۔۔ “

وہ سختی سے کہتے ہوئے ڈائننگ ہال سے نکل گئے جبکہ پیچھے سب اپنی اپنی جگہ پریشان اور بے چین تھے

” پھوپھو ۔۔ !”

حورین کو زامن کا یہ فیصلہ بلکل ٹھیک نہیں لگا تھا جانے کیوں ان کا دل بری طرح گھبرا رہا تھا

” پھوپھو یہ بلکل ٹھیک نہیں ہے ۔۔ عروہ ابھی بہت چھوٹی ہے ۔۔ زامن اپنی ہی بیٹی کے ساتھ یہ ظلم کیوں کر رہے ہیں ۔۔ ؟”

وہ بے چینی سے گویا ہوئی تھیں

” تم بے فکر رہو حورین ۔۔ ایسے کچھ نہیں کرنے دیں گے ہم زامن کو ۔۔ “

انہوں نے جیسے حورین کو کھوکھلی تسلی دی تھی جبکہ وہ خود بھی جانتی تھیں کہ زامن شاہ اپنا فیصلہ نہیں بدلیں گے

” زامن نہیں سنیں گے کسی کی ۔۔ “

” پھوپھو آپ کو پتہ ہے ۔۔ میں ہمیشہ عروہ کو زیادہ ہنسنے نہیں دیتی تھی ۔۔ کیونکہ اس کی ہنسی بہت خوبصورت ہے ۔۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں میری بچی کی ہنسی کو نظر نہ لگ جائے ۔۔ آپ دیکھیں انہیں ۔۔ اپنی پھولوں جیسی بیٹی کے ساتھ کیا کر رہے ہیں یہ ۔۔ چاہے وہ کتنا مرضی قابل اور اچھا ہو مگر ہے تو بہت بڑا نا عروہ سے ۔۔ “

وہ اس بار غصے سے بولتی ہوئی رو پڑی تھیں جبکہ مریم کے بھی آنسو نکل آئے تھے اشعر نے مٹھیاں سختی سے بھنچی تھی

////////////////////////////