53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam (Episode 16)

Tere Sitam By Fatima

عرش شاہ نے روحان کا نمبر ٹریس کروایا تھا جس کی لوکیشن معلوم ہونے پر وہ اپنا سب کام چھوڑ چھاڑ کر شازل کی بتائی جگہ پر روانہ ہوا تھا یہ ایک ایک پل اس کے لیے اذیت سے کم نہیں تھا اس کی بہن ایک بے حس ، مطلب پرست شخص کی دسترس میں تھی جو یقیناً اس کے ساتھ نرمی تو ہرگز نہیں برت رہا ہوگا

وہ جب اس جگہ پہنچا جہاں روحان نے عروہ کو رکھا ہوا تھا تو اسے وہاں پہنچ کر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ روحان عروہ کو وہاں سے لے کر پہلے ہی روانہ ہو چکا تھا گھر کا لاک دروازہ توڑنے کے بعد جب وہ گھر میں داخل ہوا تو گھر کا حلیہ بتا رہا تھا کہ کچھ وقت پہلے یہاں کوئی موجود تھا غصے کے عالم میں عرش شاہ نے شیشے کے میز کو ٹھوکر مار کر توڑ دیا اسے نہیں معلوم تھا کہ روحان اس قدر شاطر دماغ رکھتا ہے ابھی وہ اسی بات پر غور وفکر کر رہا تھا کہ اب وہ عروہ کو کہاں لے کر جا سکتا ہے اتنے میں اس کا موبائل بج اٹھا

” ہیلو ۔۔ “

” پہنچ گئے سالے صاحب ۔۔ ؟؟”

روحان کی طنزیہ آواز عرش کے کانوں میں پڑی تو اس نے اپنی مٹھی بھینچ لی

” روحان میری بہن کہاں ہے ۔۔ ؟”

وہ یک سو اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے پوچھنے لگا جواب میں روحان نے قہقہہ لگایا

” تم میرا نمبر ضرور ٹریس کرواؤ گے یہ بات میں جانتا تھا ۔۔ عرش شاہ ۔۔ مگر تم جانتے ہو تم نے میرا پیچھا کر کے کتنی بڑی غلطی کی ہے ۔۔ ؟”

اب روحان نہایت سنجیدہ سا بولا تھا

” روحان تم ٹھیک نہیں کر رہے ہو ۔۔ عروہ کو چھوڑ دو ۔۔ وہ معصوم ہے ۔۔ تمہیں مجھ سے مسئلہ ہے نا تو مجھ سے مقابلہ کرو ۔۔ بزدلوں کی طرح عروہ کا استعمال مت کرو ۔۔ “

وہ مدھم سا بولا تھا دل تو اپنی بہن کے لیے تڑپ رہا تھا

” عرش شاہ اب تمہاری بہن کی زندگی مزید تکلیفوں سے بھرنے والی ہے ۔۔ “

وہ عرش کی حالت کا مذاق اڑا رہا تھا

” وہ بے قصور ہے روحان اسے کچھ مت کہنا ۔۔ پلیز ۔۔ “

عرش کا انداز التجائیہ تھا

” وہ بے قصور نہیں ہے عرش شاہ ۔۔ وہ ایک بد کردار لڑکی ہے ۔۔ نامحرموں سے رات کی تاریکی میں ملاقاتیں کرتی ہے ۔۔ “

روحان نے نفرت بھرے انداز میں کہا

” بکواس بند کرو روحان میں تمہاری جان لے لوں گا اگر میری معصوم بہن پر کوئی تہمت لگائی تم نے ۔۔ “

روحان کی زبان سے نکلا زہر سن کر عرش آپے سے باہر ہو گیا وہ کیسے اتنا غلط بول سکتا تھا

” سچ یہی ہے عرش شاہ ۔۔ تم اور تمہاری بہن دوسروں کو دھوکا دیتے ہو ۔۔ تم نے دوسری شادی کر کے میری بہن کو دھوکا دیا اور تمہاری بہن اپنے دل میں جانے کتنے عاشق رکھتی ہے ۔۔ “

وہ اپنے نکاح سے پہلی ایک رات یاد کرتا ہوا بول رہا تھا

” شٹ اپ ۔۔ تم میری بہن کے لائق ہی نہیں ہو ۔۔ ڈیڈ کے فیصلے سے آج مجھے نفرت ہو رہی ہے ۔۔ میں اپنی بہن کو تمہارے ساتھ نہیں رہنے دوں گا تم میں زرا غیرت نہیں ہے وہ تمہاری بیوی ہے تمہاری عزت ہے اور تم دوسرے کے سامنے اس کے کردار کی دھجیاں اڑا رہے ہو ۔۔ “

عرش شاہ لہجے میں حقارت لیے غرایا

” یہی سچ ہے ۔۔ اور سچ کڑوا ہی ہوتا ہے عرش شاہ ۔۔ “

وہ چیخ کر بولا تھا

” اور تم کیا ہو روحان ۔۔ ؟؟ میرے ڈیڈ نے کیا نہیں کیا تمہارے لیے ۔۔ اور تم نے ان کی ہی بیٹی کو تکلیفوں میں رکھا ہوا ہے ۔۔ “

عرش شاہ کے انداز میں اذیت ہی اذیت تھی

” تمہارے لیے ایک بری خبر ہے عرش شاہ ۔۔ !”

روحان نے سٹپٹاتے ہوئے بات کا رخ بدلا

” عروہ تو ٹھیک ہے نا ۔۔ پلیز روحان اسے مت تکلیف دو وہ بے قصور ہے ہر معاملے میں ۔۔ “

وہ بے حد پریشان ہوا تھا

” تمہیں یہ سن کر افسوس ہو گا عرش شاہ میں اور عروہ اس وقت پاکستان سے بہت دور آ چکے ہیں ۔۔ “

وہ مزے سے بتا رہا تھا جبکہ عرش شاہ بے یقینی کی کیفیت میں تھا

” کک کیا ۔۔ !”

” اب میں عروہ کو تبھی چھوڑوں گا جب تم مریم کی جان چھوڑو گے ۔۔ “

وہ مزید گویا ہوا تھا اس کا ارادہ پختہ تھا

” تمہارے کہنے پر میں مریم کو چھوڑ دوں ۔۔ مذاق سمجھ رکھا ہے ہماری زندگی کو ۔۔ ؟؟”

موبائل اسپیکر پر عرش شاہ کی دھاڑتا آواز گونجی

” پہلے میں کہہ رہا تھا کہ تم اپنی دوسری بیوی کو طلاق دو مگر اب میں کہتا ہوں تم مریم کو چھوڑو ۔۔ تم اس کے قابل ہی نہیں ہو ۔۔ تم نے بے وفائی کی ہے اس کے ساتھ ۔۔ اب جب تک تم مریم کو نہیں چھوڑو گے تم اپنی بہن کی آواز سننے سے بھی ترسو گے ۔۔ “

وہ سفاکیت سے بول رہا تھا

” مریم میری بیوی ہے ۔۔ اسے تو میں کبھی نہیں چھوڑو گا ۔۔ اور عروہ کو تمہاری قید سے جلد ہی آزاد کرواؤ گا میں روحان ۔۔ “

وہ کہہ کر کال کاٹ چکا تھا روحان سے کسی بھی اچھائی کی امید نہیں تھی وہ زامن شاہ کا ہر احسان بھول چکا تھا وہ بھول چکا تھا کہ اگر زامن شاہ ان کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ نہ رکھتے تو آج وہ سڑکوں پر رک رہا ہوتا

رخ موڑے لیٹی روحان کی کال پر گفتگو سنتی عروہ نے دکھ سے آنکھیں میچ لیں وہ اسے اس کے گھر والوں سے بہت دور لے آیا تھا وہ بس اتنا جانتی تھی کہ وہ اس وقت امریکا میں ہے

ابھی وہ عرش کے سامنے جیسے اس کے کردار کو دو کوڑی کا کر رہا تھا عروہ کا جی چاہا وہ خود کو ختم کر کے یا پھر خدا اس کی سماعت کی حس چھین لے کم از کم وہ روحان کے زبان سے نکلے غلیظ الفاظ اور تہمتیں تو نہ سن پائے گی نا جو اس کی روح میں کیل پیوست کر رہے تھے

لبوں پر ہاتھ رکھے وہ بے ساختہ نکلنے والی سسکیوں کا گلا گھونٹ رہی تھی ورنہ جانتی تھی کہ اگر روحان کے کانوں میں اس کے رونے کی آواز گئی تو وہ پھر سے آگ بگولہ ہو جائے گا

جبکہ روحان موبائل سائیڈ پر رکھتا ایک نظر کروٹ لیے لیٹی عروہ کو دیکھ کر چھت کو گھورنے لگا تھا اسے اب کل کا منظر یاد آیا جب عروہ نے پہلی بار اس کے سامنے ہاتھ جوڑے تھے کہ اسے کہیں دور نہ لے کر جائے یا کم از کم ایک مرتبہ اس کے گھر والوں سے ملوا دے وہ اتنے دنوں میں کبھی بھی ایسے منتیں نہیں کرتی تھی بلکہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر ہر بات کا جواب دیتی تھی کل اسے عروہ کی سسکیوں نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا مگر وہ پھر بھی بے حس بنا رہا تھا اور سختی سے اس کا چہرہ دبوچ کر اسے وارننگ دی تھی کہ ایک لفظ بھی زبان سے مت نکالنا اور اس وقت وہ اتنی ڈری ہوئی تھی کہ واقعی پھر خاموش آنسو بہاتی رہی تھی جبکہ اس کی زبان پہ قفل لگ چکا تھا وہ سمجھ چکی تھی کہ اب وہ اپنوں سے بہت دور آ چکی ہے یہاں اس کی امیدیں دم توڑ چکی تھیں

//////////////////////////////

وہ کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح گھر لوٹا تھا بکھرا بکھرا سا حلیہ ، بکھرا سا وجود لیے سامنے ہی امل صوفے پر بیٹھی تھی وہ اسے مکمل نظر انداز کرتا اپنے کمرے کی سمت بڑھ گیا جبکہ امل نے چونک کر اسے دیکھا آج وہ اسے بہت تھکا ہوا لگا تھا

امل نے دوپٹہ درست کیا اور کچن میں آ کر پانی کا گلاس بھرا اور عرش کے کمرے کی سمت بڑھی کمرے کا دروازہ کھولا پا کر وہ دستک دیے بغیر کمرے میں داخل ہوئی وہ بوٹس سمیت بیڈ پر لیٹا ہوا تھا آنکھوں پر بازو جمائے وہ ساکت تھا

” شاہ جی ۔۔ !”

بے ساختہ امل نے اسے پکارا جبکہ امل کی پکار پر عرش نے آنکھوں پر رکھا بازو ہٹا کر ایک جھٹکے سے سر اٹھایا اپنے سامنے پانی کا گلاس تھامے کھڑی امل کو دیکھ کر وہ تذبذب کا شکار ہوا کیونکہ امل اس کے کمرے میں پہلے کبھی نہیں آئی تھی

” کوئی کام ہے ۔۔ ؟؟”

انداز بلکل نارمل تھا جبکہ امل کو عرش شاہ کی آنکھوں کے کنارے کچھ بھیگے ہوئے سے لگے تھے

” آپ ٹھیک نہیں لگ رہے مجھے ۔۔ پلیز یہ پانی پیئیں ۔۔ “

وہ چند قدم آگے بڑھتی ہوئی بولی تھی اب ان دونوں میں چند انچ کا فاصلہ تھا

” امل مجھے اکیلا چھوڑ دو ۔۔ “

انداز آج بھی سرد تھا مگر آج امل کو برا نہیں لگا تھا بلکہ اس پر ترس آ رہا تھا جانے کیوں اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے عرش رویا ہے وہ اسی طرح لیٹا ہوا تھا نگاہیں چھت کی سمت تھیں امل نے آگے بڑھ کر گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور عرش شاہ کے قدموں کی طرف آئی اور اس کے بوٹ اتارنے لگی جیسے ہی عرش نے امل کے ہاتھوں کا لمس اپنے بوٹس پر محسوس کیا ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا جبکہ اس کے اچانک اٹھنے پر امل بھی اچھل کر پیچھے ہوئی

” کیا کر رہی ہو یہ تم ۔۔ کون سا کھیل ہے یہ تمہارا ۔۔ ؟؟”

وہ غصے میں بولا تھا

” آپ مجھے اتنا غلط کیوں سمجھتے ہیں ۔۔ ؟؟ میں جانتی ہوں مجھ سے بہت غلطیاں ہوئیں ہیں ۔۔ میں نے آپ کا ، مریم کا اور سب گھر والوں کا بہت دل دکھایا ہے ۔۔ میں شرمندہ ہوں اس سب پر ۔۔ مجھے احساس ہے کہ مجھ سے غلطی ہوئی تھی ۔۔ بلکہ گناہ ہوا ہے ۔۔ مگر پلیز میرا یقین کریں ۔۔میں بھی اذیت میں ہوں سب سے دور رہ کر ۔۔ “

وہ رونے لگی تھی عرش نے اس کے چہرے کو گہری نگاہوں دیکھا مگر اسے اس کے آنسو واقعی سچے لگے

” آپ نے اس رات مجھے بہت بڑی رسوائی سے بچایا تھا ۔۔ مجھے بے آبرو ہونے سے بچایا تھا ۔۔ میں آپ کا یہ احساس کبھی نہیں بھول سکتی ۔۔ “

وہ روتی ہوئی بول رہی تھی

” امل مجھے اکیلا چھوڑ دو ۔۔ “

عرش شاہ نے نگاہوں کا رخ دوسری جانب کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا

” آپ پلیز پانی تو پی لیں ۔۔ “

وہ اب پانی کا گلاس دوبارہ ہاتھ میں لیتی عرش کو پیش کرتی بولی چہرے پر ابھی بھی آنسو چمک رہے تھے جبکہ عرش نے ماتھے پر بل ڈالے پانی سے بھرا گلاس امل سے لے کر فرش پر دے مارا اس کی اس حرکت پر امل سہم کر اپنی جگہ ساکن ہو گئی

” کہہ رہا ہوں نا میں تمہیں ۔۔ اکیلا چھوڑ دو مجھے ۔۔ ایک بار کہی بات سمجھ نہیں آتی تمہیں ۔۔ جانتی ہو تمہاری ایک غلطی کی وجہ سے میری بہن کس اذیت سے گزر رہی ہے ۔۔ نہیں بلکہ اس میں تمہاری غلطی نہیں ہے ۔۔ میری غلطی ہے مجھے تم سے نکاح کرنا ہی نہیں چاہیے تھا ۔۔ نا میں تمہارے ساتھ نکاح کرتا اور نا روحان ، عروہ سے نکاح کرتا ۔۔ “

وہ دھاڑتی آواز میں بولا تھا جبکہ امل اس کے الفاظ میں الجھ گئی

” کیا مطلب ۔۔ عروہ کا نکاح ۔۔؟”

اس نے حیرت زدہ انداز میں پوچھا جبکہ عرش نے بیزاری سے سر جھٹکا

” امل اس سے پہلے میں اپنا ضبط کھو دوں ۔۔ مجھے اکیلا چھوڑ دو ۔۔ جاؤ ۔۔ “

وہ یکدم پھر سے دھاڑا تو امل نے فرش پر بکھرا کانچ سمیٹا اور عرش کی اذیت کو سمجھنے لگی جبکہ اس کے دماغ میں فوراً اشعل کا خیال آیا تھا وہ جانتی تھی عروہ اور اشعل ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں پھر یہ روحان بیچ میں کیوں آ گیا تھا اس دوران عرش اسے کانچ سمیٹ کر جاتا ہوا دیکھ کر دوبارہ لیٹ چکا تھا

/////////////////////////////

” مام یہ کھانا کھا لیں پلیز ۔۔ !”

وہ حورین کے کمرے میں اسے کھانا دینے آئی تھی حورین نے اسے ایک نظر دیکھ کر محض سر ہلایا تھا ان کے ساتھ رامین اور پھوپھو بھی بیٹھی ہوئی تھیں جبکہ مریم واپس مڑنے لگی جب حورین نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے پکارا

” مریم بیٹا ۔۔ !”

” جی مام ۔۔ ؟”

وہ چونک کر انہیں دیکھنے لگی

” تمہاری روحان سے بات ہوئی ۔۔ ؟ کچھ بتایا اس نے کہاں ہے عروہ ۔۔ وہ ٹھیک ہے ؟؟”

مامتا کی تڑپ ان کے ہر انداز سے واضح تھی جبکہ مریم نے ندامت سے سر جھکا لیا اس کے پاس ان کے لیے تسلی کا کوئی لفظ نہیں تھا کیونکہ روحان کا نمبر مسلسل بند تھا

” کوئی بات نہیں بیٹا ۔۔ تم شرمندہ مت ہو ۔۔ “

مریم کا خاموشی سے سر جھکا لینے سے حورین نے اس کا گال تھپکتے ہوئے کہا رامین نے بھی مریم کا اترا ہوا چہرہ دیکھا اس بچی کی زندگی میں خوشیاں کم مدت کے لیے کیوں ہوتی تھیں جبکہ پھوپھو بلکل خاموش تھیں

” سوری مام ۔۔ “

ان کے پیار بھرے انداز پر اس کی آواز بھیگ گئی

” ارے اس میں تمہارا کیا قصور ۔۔ ؟؟ تم نے تھوڑی کچھ کیا ہے ۔۔ عرش نے تو نہیں کچھ کہا تمہیں ۔۔ “

وہ اسے اپنے پاس بیٹھاتیں پیار سے استفسار کرنے لگیں جبکہ ان کے سوال پر مریم نے نفی میں سر ہلایا

” دیکھو بیٹا ۔۔ اس بار عرش آئے گا تو تم اس کے ساتھ جاؤ گی ۔۔ انکار مت کرنا ۔۔ بیٹا بیوی اپنے شوہر کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہے ۔۔ “

حورین نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا

” اور ہاں مریم ۔۔ ایک بات یاد رکھو ۔۔ تم رامین اور علی کی بیٹی ہو ۔۔ کبھی بھی روحان کے کیے گئے عمل پر خود کو قصوروار مت سمجھنا ۔۔ “

اس مرتبہ رامین نے اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈالتے ہوئے اپنائیت کا احساس دلاتے ہوئے کہا مریم نے سرشاری سے ان دونوں کو دیکھا سامنے بیٹھی دونوں ہستیوں نے اسے ماں جیسا پیار دیا تھا

وہ کچھ دیر ان کے پاس بیٹھنے کے بعد اپنے کمرے میں چلی گئی تھی عرش سے اس کی روز بات ہوتی تھی مگر کچھ دن سے عرش اسے بہت پریشان لگ رہا تھا یقیناً وہ عروہ کی وجہ سے فکرمند تھا زامن ماموں بھی گھر میں کم نظر آتے تھے وہ بھی بہت پریشان رہتے تھے روحان نے یہ ٹھیک نہیں کیا تھا ابھی وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب اس کا موبائل بجنے لگا یہ تو باہر کا نمبر تھا مریم نے جھٹ سے کال اٹھائی

” ہیلو مریم ۔۔ کیسی ہو ۔۔ ؟؟”

روحان کی آواز سن کر مریم نے گہرا سانس لیا

” آپ نے جو کچھ کیا ہے اس کے بعد کیسی ہو سکتی ہوں میں بھائی ۔۔ ؟؟”

اس کے انداز میں ناراضگی واضح تھی

” عرش نے کچھ کہا ہے تمہیں ۔۔ یا کسی اور نے ۔۔؟ بتاؤ مجھے ۔۔ ؟”

وہ فکر مند ہوا

” کسی نے کچھ نہیں کہا مجھے یہی تو مسئلہ ہے بھائی ۔۔ اتنا کچھ ہو گیا لیکن شاہ جی نے ۔۔ حورین مام ۔۔ زامن ماموں ۔۔ کسی اور نے بھی کچھ نہیں کہا مجھے ۔۔ پھر آپ نے ایسا کیوں کیا بھائی ۔۔ ؟”

وہ لہجے میں دکھ لیے پوچھ رہی تھی

” میں نے کیا کیا مریم ۔۔ ؟”

وہ انجان بنا پوچھ رہا تھا

” عروہ کو نکاح کے بعد کہاں لے گئے آپ ۔۔ اس کی رخصتی کروا کے لے کر گئیں ہیں یا پھر اغواء کیا ہے آپ نے اسے ۔۔ بتائیں بھائی آپ کہاں ہیں ۔۔ عروہ کہاں ہے ۔۔ ؟”

وہ بے چینی سے پوچھ رہی تھی

” بھائی کا حال بھی نہیں پوچھا تم نے اور بس عروہ کی فکر کر رہی ہو ۔۔ “

وہ بات بدل کر بولا

” بھائی یہ لوگ ہمارے مسیحا ہیں ۔۔ انہوں نے ہمیں مشکل وقت میں سہارا دیا ہے ۔۔ یقین کریں رامین ماما نے میری خاطر اپنی بیٹی سے اب تک بات تک نہیں کی ۔۔ حورین مام روز صرف ایک سوال پوچھتی ہیں مجھ سے کہ روحان سے بات ہوئی ؟؟ عروہ کیسی ہے ۔۔ ؟ اور میرے پاس ان کے سوال کا کوئی جواب نہیں ہوتا ۔۔ شرمندگی سے سر جھکا لیتی ہوں اور وہ پھر بھی مجھے تسلی دیتی ہیں کہ تم شرمندہ مت ہو بیٹا ۔۔ اور عرش شاہ وہ اتنے پیار اور محبت سے مجھ سے بات کرتے ہیں ۔۔ مجھے عزت دیتے ہیں اتنے سب کے بعد بھی ان کا انداز نہیں بدلا ۔۔ پھر بھی اگر میں ان لوگوں کے پیار اور خلوص کی قدر نہ کروں تو میں انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں ہوں ۔۔ “

وہ زندگی میں پہلی بار اتنے غصے میں بات کر رہی تھی روحان نے اس کے الفاظ پر غور کیا مطلب وہاں کسی کا بھی رویہ مریم کے ساتھ بگڑا نہیں تھا

” مگر عرش شاہ نے دوسری شادی تو کی ہے نا ۔۔ اس نے تمہارے ساتھ بے وفائی کی ہے مریم ۔۔ اپنی آنکھوں سے عرش کی محبت کی پٹی اتار کر دیکھو تو تمہیں احساس ہو اس نے تمہاری جگہ کسی اور کو دے دی ہے ۔۔ “

وہ اسے اپنے انداز میں حقیقت سے روشناس کروا رہا تھا

” وہ میرا اور عرش کا معاملہ ہے بھائی ۔۔ آپ عروہ کو لے کر فوراً حویلی آئیں۔۔”

وہ دو ٹوک ہوئی تھی جبکہ روحان حیرت زدہ ہوا

” اپنا خیال رکھنا مریم ۔۔ “

وہ کہہ کر کال کاٹ چکا تھا جبکہ مریم بھائی بھائی کہتی رہ گئی

//////////////////////////////