Tere Sitam By Fatima Readelle50292 Tere Sitam (Episode 30) Last Episode
Rate this Novel
Tere Sitam (Episode 30) Last Episode
Tere Sitam By Fatima
شاہ جی ؛ مریم نے عرش کی باہوں میں لیٹے ہوئے اسے پکارا
حکم کریں میری جان : عرش نے محبت بھرے لہجے میں کہا
میں آپ سے کچھ مانگوں شاہ جی ؟؟ مریم نے عرش کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے معصومیت سے پوچھا
اررے جانِ شاہ حکم کریں نا آپ
پہلے وعدہ کریں آپ انکار نہیں کریں گے ، مریم بضد ہوکے کہنے لگی
بیگم آپ کے لیے تو عرش شاہ کی جان بھی حاضر ہے آپ حکم تو کریں ۔۔ عرش نے مریم کو باہوں میں گھیرتے ہوئے کہا
و–ہ شا–ہ جی ۔۔ مریم نے ٹھہرتے ہوئے کہا
کہیں نا مریم ۔۔ عرش نے مریم کا ماتھا چومتا ہوئے کہا
شاہ جی آپ امل کو معاف کردیں میری خاطر اور اسے بیوی ہونے کا حق دے دیں ۔۔ مریم نے سانس روکے ایک جھٹکے میں کہا
مریم کی بات سنتے ہی عرش ساکت ہوگیا اور اٹھنے لگا
شاہ جی پلیز ۔۔ عرش کو اٹھتا دیکھ مریم نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے پکارا
میں مانتی ہوں امل نے بہت غلط کیا ہے جو. قابل معافی نہیں ہے ، پر دیکھیے نا اسکو بہت سزا مل چکی ہے اور اللہ بھی اپنے اس بندے سے خوش ہوتا ہے جو فراخ دلی کا مظاہرہ کریے پلیز شاہ جی امل کو معاف کردیں ہوسکتا ہے اللہ ہم سے خوش ہوجائے اور ہم پر کرم کردے پلیز شاہ جی پلیززز ، مریم نے آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے کہا
میری جان روئیں مت ، عرش نے تڑپ کر کہا
آپکی ساری باتیں بجا ہیں ، لیکن آپ بتائیں اسنے جو کیا ہے وہ قابل معافی ہے؟ مجھے میرے گھر سے دور کیا میری بیوی میرے والدین کو دکھ پہنچایا اور مجھے درندہ ثابت کرنے کی کوشش کی ، میں کیسے بھول جاؤں ؟ میری ماں کی تربیت غلط ثابت ہوئی میری بیوی کی محبت جھوٹی پڑی اسکا مان ٹوٹا ؟ میری کیا خطا تھی مریم؟ کونسے جنم کی نفرت کا بدلہ لیا ہے اس نے ، میں نے نکاح سزا کے طور پر کیا تھا اور جو مجھے یہ بھی غلط لگتا ہے ، میرے دل میں میری زندگی میں میری حیات میں صرف مریم کی جگہ ہے اور رہے گی کسی اور کے لیے کبھی نہیں بن سکتی معاف کیجیے گا جانِ شاہ آپ جان مانگ لیتی تو عرش شاہ آپ پر نچاور کردیتا
عرش مریم کے پاس بیٹھتے ہوئے کہنے لگا
شاہ جی جو ہوا وہ مقدر میں لکھا ہوگا ، تقدیر کا لکھا کون ٹال سکتا ہے؟ آپ امل کو ایک موقع دیں
مریم نے اداسی سے کہا
مریم میری تقدیر کا لکھا تب ہی پورا ہوگیا تھا جب آپ آئی تھیں میری زندگی میں میں نے ضرور کوئی ایسی نیکی کی ہوگی جس کے صلے میں آپ ملی ہیں مجھے ، ایسا کچھ مت کہیں جو میں نا کرسکوں ،
التجائی انداز میں عرش کہنے لگا
مریم کچھ اور نا کہہ سکی اور عرش کے سینے سے لگ گئی
آپ پھر جارہے ہیں ۔۔ مریم نے اداس ہوتے ہوئے کہا
کام ہے ناں جان جلدی آجاؤں گا عرش نے بال سیٹ کرتے ہوئے کہا
ہمممم ٹھیک ۔۔ مریم نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا
آہااااں مطلب بیگم اب یہ ادا دیکھا کر گائل کرے گی ہمیں ، کمر کر گرد بازوں کا حصار کرتے ہوئے مریم کو خود سے لگاتے ہوئے عرش نے شیطانی سے کہا
شرم سے مریم کا چہرہ سرخ ہونے لگا ۔۔
جاتے جاتے محبت کا مشروب تو پلادیں اپنے دیوانے کو بیگم
مریم کے ہونٹوں پر جھکتے ہوئے عرش نے مدھوشی سے کہا
شرم۔ کے مارے مریم نے آنکھیں بند کرلی ، پیار کی مہر دیتے ہوئے عرش ڈیوٹی پر چلا گیا
باغیچے میں ٹہلتی ہوئی عروہ کو دیکھ کر اشعل اسکے پاس آیا
عروہ ۔۔!
آ-ہااں اررے اشعل تم کیسے ہو ؟
عروہ اچانک اشعل کو سامنے پاکر ہڑبڑا گئی
تمہارے بغیر کیسا ہوسکتا ہوں ؟؟ اشعل نے پھیکی مسکراہٹ سے کہا
ہممم ، عروہ نے رخ پھیرتے ہوئے کہا
تم کیسی ہو؟ اشعل نے پوچھا !
جسکی دینا اجڑی ہوئی ہو وہ بھلا کیسی ہوسکتی ہے اشعل ، عروہ دکھ سے کہنے لگی
عروہ ۔۔! اشعل نے پکارا
جی
مجھ سے شادی کروگی ؟ اشعل نے نم آنکھوں سے پوچھا
اشعل ۔۔ عروہ نے لرزتی ہوئی الفاظ میں کہا
بولو عروہ ، مجھ سے شادی کروگی؟ ؟
آپ ابھی بھی مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں ؟ عروہ نے اشعل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
ةم۔ دونوں بچپن سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں عروہ مجھے فرق نہیں۔ پڑتا
تم۔ میرا ساتھ دوگی ناں ؟ عروہ کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے اشعل نے کہا
ہاں اشعل ، اشعل کا ہاتھ تھامتے ہوئے عروہ نے نم آنکھوں سے کہا
گیلری میں کھڑے ضامن شاہ اور حورین جو سب دیکھ رہے تھے حورین خوشی سے رب کا شکر ادا کرنے لگی ، دیکھیے ضامن ہماری عروہ آج خوش ہے
اور اشعل ہی وہ لڑکا ہے جو اپنی محبت ہماری عروہ پر نچاور کرسکتا ہے آپ ان دونوں کا ساتھ دیں گے ناں ؟
ہاں حورین میں پہلے ہی اپنی پھول سی بچی کی زندگی تباہ کرچکا ہوں ، پھوپھو صحیح کہہ رہی تھیں کہ باپ کا کیا اولاد پہ آتا ہے ، دیکھو ناں میرا کیا میری عروہ پر آیا
ضامن شاہ نے روتے ہوئے کہا
اررے ایسا مت کہیں ، جو ہونا تھا وہ ہوگیا اب کچھ بھی غلط نہیں ہوگا سب ٹھیک ہوجائے گا انشااللہ ، حورین نے ضامن شاہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا
انشاللہ ، ضامن شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا
مریم
مریم
مریم میری جان
عرش مریم کو پکارتے ہوئے پورے گھر کا چکر لگانے لگا
اررے بھئی کیا ہوگیا کیوں چِلا رہے ہو عرش ، حورین نے بدحواسی سے پوچھا
مام میری بیگم کہاں ہے ! عرش نے شرارت بھرے لہجے میں کہا
کیوں میری بیٹی سے کیا کام ہے تمہیں ہاں ، حورین نے مزاحیہ انداز میں کہا
وہ میں اسے محبت کی سواری پر لے کے جانا چاہتا ہوں ناں
شرارت سے عرش نے کہا
بدمعاش : عرش کا کان پکڑتے ہوئے حورین نے کہا
ججی شاہ جی سوری وہ میں کپڑے سکھارہی تھی
مریم بیٹا لگاو اس شیطان کی کلاس ، ہنستے ہوئے حورین وہاں سے جاتے ہوئے کہنے لگی
ہممم تو کیا ارادہ ہے میری جان کا ، حورین کے جاتے ہی مریم کو آنکھ مارتے ہوئے عرش نے کہا
کیسا ارادہ ، سرخی مائل چہرے سے مریم نے انجان بنتے ہوئے کہا
آئیے بتاتا ہوں ، مریم۔ کا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں لے جاتے ہوئے عرش نے کہا
یہ میں۔ آپکے لیے لایا ہوں مریم ، چمکیلی بلیک ساڑی مریم کو دیتے ہوئے عرش نے کہا
یہ بہت خوبصورت ہے شاہ جی ، مریم نے خوش ہوتے ہوئے کہا
آپ آج شام کو عروہ کے نکاح میں یہی پہنیں گی آئی سمجھ
مریم کے ناک کو پکڑتے ہوئے عرش نے کہا
جی ، مریم نے شرماتے ہوئے کہا
شاہ حویلی کی تیاریاں عروج پہ تھی ، آج عروہ شاہ کا نکاح اشعل علی سے کیا جارہا تھا
سفید کام کی ہوئی شورٹ شرٹ اور بنارسی شرارے میں نفاسیت سے ڈوپٹہ سر پہ سجائے دلہن بنی عروہ قیامت ڈھارہی تھی
سفید شیروانی پر مسکراہٹ سجائے اشعل سب پر بھاری تھا
بلیک ساڑی پہنے بالوں کو اسٹریٹ کرتے ہوئے اونچی ہیل پہنے وہ عرش کے سامنے آئی
ماشاللہ ماشاللہ بیگم قتل کا ارادہ ہے؟ عرش نے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے مریم کی تعریف کی
کیوں ناں یہی پر دوبارہ آپ سے نکاح کرلوں ، مریم کے کانوں کے پاس عرش نے سرگوشی کی
آپ بھی ناں شاہ جی ، ہلکی سی چست عرش کے بازو پہ لگاتے ہوئے مریم شرمائی
تھوڑی نظر ادھر بھی کرلیں شاہ جی ، ریڈ میکسی پہنے بالوں کو کرل کرتے ہوئے ڈارک ریڈ لپ اسٹک لگائے کمر پر ہاتھ رکھ کر امل ، عرش سے مخاطب ہوئی
امل کی آواز پر عرش نے گھوم کر اسکی طرف دیکھا ، میری مریم۔ سے خوبصورت کوئی اور ہوسکتی ہے بھلا مریم۔ کی کمر میں باہیں ڈال کر عرش نے کہا
چلیں ، مریم نکاح ہونے والا ہے ، مریم کو دیکھتے ہوئے عرش نے کہا
اور کتنا تڑپائیں گے عرش شاہ ، امل نے دل میں۔ کہا
مریم نے امل کو دیکھا جو رخ موڑ گئی
نکاح مبارک ، نکاح مبارک کی آوازیں گونجنے لگی ،
مریم بیٹا ، جو مٹھائی میں نے کہا تھا وہ لے آئیے ، حورین نے مریم سے کہا
جی مام ابھی لائی ، جیسے مریم آگے ہوئی اتنے میں اسے چکر آیا ، اس سے پہلے مریم زمین پر گرتی دو مضبوط ہاتھوں نے اسے سنبھال لیا
اررے بیگم سنبھال کر کیا ہوگیا ؟ عرش نے اسے تھامتے ہوئے کہا
پتا نہیں شاہ جی دو دن سے بہت چکر آرہے ہیں
آپ نے ہمیں کیوں نہیں بتایا مریم ؟ حورین نے پریشانی سے کہا
ہاں۔ مریم مام کو کیوں نہیں۔ بتایا آپ خود ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں گئی ، عرش نے مریم کے بال پیچھے کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
چلیں مریم ہم ابھی جارہے ہیں ہاسپٹل ، مریم۔کا ہاتھ پکڑتے ہوئے عرش نے کہا
رکیں شاہ جی ، ابھی نہیں جاسکتے دیکھیں ناں کتنے مہمان ہیں گھر میں ، مہمانوں کی طرف نگاہ گھماتے ہوئے مریم نے کہا
اوہوو بیٹا ہم لوگ ہیں ناں آپ جائیں ، عرش جلدی سے لے جاؤ مریم کو ، حورین نے مریم کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
جی مام ، چلیے بیگم ، گاڑی کی چابیاں نکالتے ہوئے عرش نے مریم سے کہا
رکو /! میں بھی ساتھ جاؤنگی مریم کے ، پیچھے سے امل نے آواز دی
کوئی ضرورت نہیں ہے ، عرش شاہ خود کافی ہے اپنی بیوی کے لیے ، عرش نے چڑ کر جواب دیا
امل نے کچھ بولنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ مریم نے کہا میں ٹھیک ہوں امل تم پریشان مت ہوں ، شاہ جی ہے ناں میرے ساتھ
لیکن مریم تم اس کا ۔۔ چلو بیٹا امل میری ہیلپ کردو امل کچھ کہنے لگی تھی کہ حورین اسے اپنے ساتھ لے گئی
رکیں مام ، امل ہاتھ چھڑوا کے بھاگی
رکو عرش ، عرش رکو مت بیٹھو اس میں
امل چیختی ہوئی دوڑی ۔۔
مریم اور عرش کو دھکا دیتے ہوئے امل گاڑی کے اوپر جا لگی
یہ کیا بدتمیزی ہے جاہل لڑکی عرش کہتے ہوئے مڑا اتنے میں ایک زوردار دھماکہ ہوا
مریم اور عرش دور جا گرے ، امل
مریم چیخی
شاہ جی شاہ جی یہ کیا ہوا ، شاہ جی امل
شاہ جی امل کو دیکھیں ناں امل امل کہاں ہو امل
دھماکے کی آواز سےپوری شاہ حویلی میں تہلکا مچ گیا ، عرش پاس آیا اور مریم کو اٹھایا
اٹھیں مریم ، عرش تکلیف سے کہنے لگا
شاہ جی یہ کیا ہوا ، میری امل کہاں ہے شاہ جی میری امل کہاں ہے ، عرش کا کالر پکڑے مریم روتے ہوئے کہنے لگی
کیا ہوا عرش یہ دھماکہ کیسا ؟ ذامن شاہ عجلت میں عرش سے مخاطب ہونے لگے
پتا نہیں ڈیڈ ، عرش زخمی ہوچکا تھا اپنے سر سے بہتے خون پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہنے لگا
عرش کی گاڑی بلاسٹ ہوچکی تھی ، اور اس کے پاس امل کی لال میکسی کا ٹکڑا پڑا ملتا ہے ،
امل ؟؟ امل تم کہاں ہو ، عرش دیوانہ وار امل کو ڈھونڈتے ہوئے چیخنے لگا
مام مام میری امل کہاں ہے مام یہ یہ یہ اتنا سارا خوو–ن
خون دیکھتے ہی مریم بےہوش ہوگئی
امللل
خون پر ہاتھ رکھتے ہوئے عرش شاہ چیخا
یا خدا یہ کیا ہوگیا میری امل بچی نہیں رہی ؟ پھوپھو سینہ پیٹتے ہوئے رونے لگی
امل بیٹا یہ کیا کردیا تم۔نے کیوں کیا ، حورین روتے روتے کہنے لگی
نہیں مام امل ایسے نہیں مرسکتی ، مام وہ ایسے نہیں مرسکتی مریم ، مریم کہاں ہے عرش بدحواس ہونے لگا
مریم ، مریم آنکھیں کھولیں
مریم !
مریم آپ سن رہی ہیں
مریممم ، مریم اٹھیں
مریم اٹھیں نا
مریم آپ سن کیوں نہیں رہی
ڈیڈ مریم جواب کیوں نہیں دے رہی ڈیڈ
عرش کے اوسان خطا ہونے لگے
بیٹا مریم کو فورن ہسپتال لے کے جاؤ زامن شاہ نے کہا
ڈیڈ امل ڈیڈ امل
ڈیڈ یہ امل ایسے نہیں کرسکتی
عرش شاہ روتے ہوئے کہنے لگا
میری ٹیم بلائیں ڈیڈ وہ پتا کرے گی یہ کیا ہوا ہے فورن ڈیڈ
عرش بیٹا خود کو سنبھالو ، اور مریم کو لے کے جاؤ پلیز ، میں دیکھتا ہوں ادھر زامن شاہ نے کہا
جی ڈیڈ مریم کو باہوں میں اٹھاتے ہوئے عرش نے کہا
ڈاکٹر
ڈاکٹر
ڈاکٹر دیکھیں میری مریم آنکھیں کیوں نہیں کھول رہی
عرش نے سسکتے ہوئے کہا
آپ یہی رکیں میں انکا چیک اپ کرتی ہوں ، ڈاکٹر نے کہا
اتنے میں عرش شاہ کا موبائل بجتا ہے ،
ہیلو سر ، سی سی ٹی وی کیمرے کے مطابق گاڑی میں بم امل شاہ نے خود لگایا تھا ، یہ کسی اور کی نہیں بلکے انکی اپنی سازش تھی ، انکے کمرے سے ایک ڈائری ملی ہے آپ جلدی آجائیں
عرش شاہ کے ہاتھ سے مموبائل گرا ، اتنے میں ڈاکٹر بائر آئی
عرش بھاگا کیا ہوا ہے میری مریم کو ؟؟؟
کچھ نہیں یہ ماں بننے والی ہیں اور انکا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے بہت احتیاط کی ضرورت ہے
میں۔ مل سکتا ہوں اپنی وائف سے ؟
جی بلکل ،
عرش بھاگا بھاگا پہنچا
مریم
عرش نے پکارا
شاہ جی کیا سچ میں ہم والدین بننے والے ہیں کیا سچ میں اللہ نے میری سن لی ، مریم روتے ہوئے کہنے لگی
ہاں جانِ شاہ اللہ نے ہماری سن لی
لیکن امل ؟ امل کہاں ہے شاہ جی وہ ۔ ٹھیک ہے نا ؟
مریم نے عرش کو ہلاتے ہوئے پوچھا
آئیں۔ پہلے گھر چلے بتاتا ہوں سب ، مریم کو سہارا دیتے ہوئے عرش نے سنجیدگی سے کہا
حوریں دروازے پہ ہی مریم اور عرش کا انتظار کرنے لگی ، جیسے ہی عرش پر نظر پڑی دوڑ کے آئیں
کیا ہوا عرش مریم کیا ہوا ؟ آپ ٹھیک ہیں۔ نا بچا؟ چوٹ تو نہیں لگی نا
مام عرش حورین کے گلے لگا
کیا ہوا ہے عرش کچھ بول
مام اللہ نے آپ سب کی سن لی ، آپ دادی بننے والی ہیں ، عرش نے حورین۔ کو بتایا
کیا سچ ؟ شکر ہے میرے رب میرے رب نے اپنا کرم کیا
مریم کو گلے لگاتے ہوئے حورین نے کہا
تو خوش ہورہی ہے حورین ؟ ایک طرف ماتم اور ایک طرف خوشی ؟ یہ ہے ہی منحوس اپنی بہن کو بھی کھا گئی میرے عرش کو کب کھائے گی
خبردار دادو ، اگر ایک لفظ اور کہا تو میں لحاظ بھول جاؤنگا ، عرش نے غصے سےکہا
عرش مریم۔ کو کمرے میں لے کے جائیں ، حورین نے کہا
پھوپھو آپ ہماری بڑی ہیں اسکا مطلب یہ نہیں کہ آپ کچھ بھی کہیں گی ، زبان سنبھال کر بات کریےگا دوبارہ ، مریم کے جاتے ہی حورین نے غصے سے کہا
رونا بند کریں میری جان آپ کیوں رورہی ہیں ۔۔ مریم کو روتا دیکھ عرش نے اپنی باہیں اسکے گرد حائل کرتے ہوئے کہا
دادو صحیح کہہ رہی ہیں شاہ جی میرے باپ کا کیا میرے آگے آیا ہے ، میں نے اپنی بہن کھو دی ، لیکن شاہ جی میں جینا آپکے ساتھ چاہتی ہوں اور مرنا آپ سے پہلے چاہتی ہوں عرش کے سینے میں منہ چھپا کے مریم ہچکیوں سے رونے لگی
خبردار مریم اگر یہ لفظ زبان سے نکالے تو ، آپ جان ہیں میری اور آپکی بہن نے خود یہ کارنامہ کیا ہے ، مریم کے آنسو صاف کرتے ہوئے عرش نے کہا
یہ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ، مریم نے حیرانگی کا مظاہرہ کیا
یہ دیکھیے ، امل کی ڈائری مریم کو دیتے ہوئے عرش نے کہا
تحریرِ امل
میں امل علی بہت مغرور لڑکی تھی ، لیکن شاہ فیملی سے بچپن کی نفرت نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا ، میں پوری شاہ فیملی کو تباہ کرنا چاہتی تھی پر مجھے کیا پتا تھا کہ میرے ساتھ ہی الٹ جائے گا سب ، میں عرش شاہ سے کبھی نکاح نا کرتی لیکن اس پر لگائے جھوٹے الزام نے مجھے برباد کردیا ، عرش چاہے نفرت برساتا رہا لیکن مجھے اس سے اب محبت ہوگئی ہے اور مجھ سے مریم۔ کی شراکت برداشت نہیں۔ ہورہی ، مریم تمہیں مرنا ہوگا ، تبھی عرش شاہ امل شاہ کا ہوگا ، مریم کی طبیعت کچھ دنوں سے خراب ہے اور یقینن عرش اسے ہاسپٹل لے کے جائے گا ، اس لیے میں نے عرش کی گاڑی میں بم فٹ کرلیا ہے ، مریم تم کونسا میری سگی بہن ہو مجھے تھپڑ مارا تھا نا تم نے اسکا خمیازہ بھگتو
میں عرش کو مریم کے ساتھ کبھی نہیں جانے دونگی ایسے کسی کو شک بھی نہیں ہوگا اور مریم بھی راستے سے ہٹ جائے گی ہاہاہا عرش میرا ہوجائے گا
رکھی ہیں میں نے دل کی تسلی کے لیے تمہاری تصاویر
کیا کوئی گناہ ہے تم سے عشق کرنا میرے سرتاج
امل شاہ
مریم کے ہاتھ سے ڈائری چھوٹ جاتی ہے ، اسکا مطلب
اسکا مطلب میری بہن ہی میری دشمن تھی ، منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے مریم سسکی ، شاہ جی یہ میری امل ایسی نہیں۔ تھی
جانِ شاہ اسکی فطرت میں۔ ہی گندگی تھی ، اچھا ہوا اپنے پلان۔ میں پھنس کے مرگئی نہیں تو میں اپنے ہاتھوں سے جان۔ لے لیتا اسکی ، عرش نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا
آپ کچھ مت سوچیں ، ہمارے لیے سوچیں مریم ہمارے بچے کے لیے سوچیں
ہماری زندگی میں رنگ بھردیے گئے ہیں جانِ شاہ زندگی کے یہ ستم ، ہائے تیرے ستم ، عرش نے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
آپ بھی ناں شاہ جی مریم۔ نے مسکراتےہوئے عرش کے کندھے پر سر رکھ دیا
ختم شد
