Tere Sitam By Fatima Readelle50292 Tere Sitam (Episode 6)
Rate this Novel
Tere Sitam (Episode 6)
Tere Sitam By Fatima
یہ رات شاہ حویلی والوں کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھی پارٹی میں موجود لوگوں کی سوالیہ نگاہیں زامن شاہ کا جھکا سر مزید جھکا رہیں تھی معاشرے میں ان کا اور ان کے خاندان کا ایک نام تھا ، عزت تھی ، مقام و مرتبہ تھا جسے وہ کسی صورت بھی کم نہیں ہونے دے سکتے تھے مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ انہیں اپنے بیٹے پر بھی بھروسہ تھا وہ پریقین تھے کہ عرش کبھی بھی کسی بھی حالت میں ، حتیٰ کہ نشے کی حالت میں بھی کسی کی بیٹی کو بے آبرو کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا مگر فی الوقت وہ اور حورین خاموش تھے کہ الزام لگانے والی امل تھی
حورین کو دھچکا عرش کے نشے میں ہونے کی وجہ سے لگا تھا کہ ان کی تربیت ایسی تو نہیں تھی
یہی بات مریم کو بھی پریشان کر رہی تھی آج تک اس نے عرش کو اپنے سامنے سگریٹ پیتے ہوئے بھی نہیں دیکھا تھا نشہ کرنا تو بہت دور کی بات تھی ورنہ وہ عرش پر اندھا اعتماد کرتی تھی وہ خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی کہ عرش یہ حرکت کرے گا اسے یقین تھا کہ امل کو غلط فہمی ہوئی تھی یہی بات کلئیر کرنے وہ امل کے پیچھے گئی تھی
” امل تمہیں بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔ شاہ جی ایسا سوچ بھی نہیں سکتے ۔۔ “
گھر پہنچتے ہی مریم نے امل کو دیکھتے بات کا آغاز کیا تھا
” مریم اس شخص نے تمہاری آنکھوں پر اپنے پیار کی پٹی باندھی ہوئی ہے ۔۔ تمہیں اسی لیے میری باتیں جھوٹی لگ رہی ہے ۔۔ !”
امل بھی مریم کے سامنے تڑخ کر بولی تھی
” میں تمہیں جھوٹا نہیں کہہ رہی ہوں ۔۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ عرش ایسا کبھی نہیں کر سکتے ۔۔ “
ایک نظر رامین کے سپاٹ چہرے کو دیکھتے ہوئے مریم نے کہا
” ماما ۔۔ میں سچ کہہ رہی ہوں ۔۔ میں اتنا بڑا جھوٹ نہیں بول سکتی ۔۔ وہ وہ ۔۔ بہت گھٹیا ۔۔ اور گرا ہوا آدمی ہے ۔۔ “
امل نے رامین کو دیکھتے ہوئے کہا اور پھر وہ مریم کی جانب مڑی
” مریم اب تم اس کے پاس نہیں جاؤ گی ۔۔ وہ بدکردار آدمی ہے ۔۔ “
اس کے الفاظ سے دل برداشتہ ہو کر مریم نے ایک زوردار تھپڑ اسے مارا تھا
” اس قدر گھٹیا الفاظ اگر تم نے عرش کے بارے میں استعمال کیے تو میں بھول جاؤں گی کہ تم میری بہن ہو ۔۔ اور مجھے بہت عزیز ہو ۔۔ “
مریم غصے کی شدت سے کپکپانے لگی تھی اور اس کی آواز اس قدر تیز تھی کہ علی ان دونوں کے قریب آئے جبکہ امل سکتے کی سی کیفیت میں مریم کو تکتی جا رہی تھی رامین اور اشعل بھی اپنی جگہ ساکت تھے
” پاپا ۔۔ مریم نے مجھے مارا ہے ۔۔ مجھ پہ ہاتھ اٹھایا ہے ۔۔ اس گھٹیا آدمی کی وجہ سے اس نے مجھے مارا ۔۔ “
امل صدمے کی کیفیت میں علی کی جانب بڑھی اور مریم کی جانب اشارہ کرتی بول رہی تھی
” امل میں تمہاری اخلاق سے گری ہوئی باتیں اور حرکتیں بہت دیر سے برداشت کر رہا ہوں ۔۔ اس سے زیادہ کی امید مجھ سے مت رکھو ۔۔ اور اپنے کمرے میں چلی جاؤں ۔۔ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔۔ “
علی نے مٹھیاں بھینچ کر کہا ان کے لہجے میں بے حد سختی تھی
” پاپا یہ آپ کہہ رہے ہیں ۔۔ ؟ آپ بھی مجھے غلط سمجھ رہے ہیں ۔۔ “
امل کو اپنا منصوبہ ناکام ہوتا محسوس ہو رہا تھا
” اچھا تو پھر مجھے اس سوال کا جواب دو ۔۔ تم عرش کے روم میں کیا کرنے گئی تھی ۔۔ جھوٹ مت بولنا کیونکہ میں نے تمہیں خود دیکھا ہے خوشی خوشی اس کے روم میں جاتے ہوئے ۔۔ باپ ہوں میں تمہارا ۔۔ جانتا ہوں تمہیں ۔۔ “
علی نے کاندھوں سے پکڑ کر امل کو جھنجھوڑ ڈالا تھا امل کے تو جیسے پیروں سے زمین نکل گئی تھی
” علی ۔۔ کیا کر رہے ہو یہ تم ۔۔ خبردار اگر میری بچی کو کچھ کہا تم نے ۔۔ “
پھوپھو جو کہ ان لوگوں کے نکلتے ہی خود بھی اشعر کے ساتھ یہاں آئی تھیں علی کی تمام باتیں سن کر غرائی تھیں
” پھوپھو ، علی جوکر رہے ہیں وہ سب ٹھیک ہے ۔۔ ماں باپ سے بہتر کوئی اپنی اولاد کو نہیں جانتا ۔۔ جانے وہ کون سے ماں باپ ہوتے ہیں جو آنکھوں پر پٹی باندھ لیتے ہیں اور اولاد کی ہر جائز ناجائز بات میں ان کا ساتھ دیتے ہیں ۔۔ اور اگر اب تمہاری زبان بند نہ ہوئی امل تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔۔ جاؤ اپنے کمرے میں ۔۔ “
رامین بھی غصے میں جانے کیا کیا بول رہی تھی جبکہ امل کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا
” رامین تم چپ کرو ۔۔ اور خبردار میری بچی کو کسی نے کچھ کہا ۔۔ اسی لیے بھاگی آئی ہوں میں اپنی بچی کے پاس ۔۔ چلو میرا بچہ ۔۔ تم میرے ساتھ چلو ۔۔ “
پھوپھو نے امل کو اپنے ساتھ لگایا اور ایک نظر رامین اور علی کو دیکھتے ہوئے کہا
” پھوپھو اسے یہیں رہنے دیں ۔۔ “
اس بار علی نے ایک نظر امل کو دیکھتے ہوئے پھوپھو سے نہایت ٹوٹے ہوئے انداز میں کہا
” ہاں تاکہ تم بچی کومار مار کر ہلکان کر دو ۔۔ نہیں ۔۔ تم چلو میرے ساتھ امل ۔۔ “
وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی تھیں
” یہ بات یاد رکھنا امل اگر تم نے ایک قدم بھی یہاں سے نکالا تو پھر میری میت پر رونے بھی مت آنا ۔۔ “
علی کے دلخراش الفاظ نے امل کے قدم روکے تھے جبکہ مریم اور رامین کی سانسیں مدھم ہوئی
” پاپا جب آپ کو مریم اور اس کا شوہر مجھ سے زیادہ عزیز ہیں تو مجھے بھی کسی کی پرواہ نہیں ۔۔ “
امل نے کٹھور بنتے ہوئے کہا اور پھوپھو کے ساتھ ہو لی جبکہ پیچھے علی کرسی پر ڈھے گئے
” ماما پاپا۔۔ “
ان کے جانے کے بعد مریم رامین اور علی کی جانب بڑھی
” تم بھی جاؤ بیٹا اس وقت تمہیں عرش کے ساتھ ہونا چاہیے ۔۔ اسے تمہاری ضرورت ہے ۔۔ “
علی نے مریم کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے جھکی نگاہوں اور جھکے کاندھوں کے ساتھ کہا
” اس وقت آپ لوگوں کو بھی میری ضرورت ہے ۔۔ “
وہ رو کر کہتی ہوئی رامین کے سینے سے لگ گئی جبکہ اشعل نے بھی باپ کو سہارا دیا تھا
اور رامین اور علی یہی سوچتے رہ گئے کہ امل کی تربیت میں کب کمی چھوڑی تھی انہوں نے کہ آج وہ ان کی عزت اپنے پیروں تلے روند کر گئی تھی
/////////////////////////
ساری رات اس نے انگاروں پر گزاری تھی کئی بار اس کے موبائل پر مریم کی کالز آئی تھیں مگر وہ نظر انداز کرتا سگریٹ پھونکتا رہا رہ رہ کر امل کی گھٹیا حرکت اسے یاد آ رہی تھی مگر وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ امل نے ایسا کیا کیوں تھا آخر ایسی کون سی دشمنی تھی اسے جو اس نے نکالی تھی کہ اسے اپنی عزت کا بھی خیال نہ رہا تھا ایک لڑکی ہو کر اس نے انتہائی قدم اٹھایا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا امل کی جان نکال دے
صبح کے آٹھ بجے اس کا موبائل دوبارہ بجا تھا جس پر چھوٹی دادی کی کال آ رہی تھی دکھتے سر کو ہاتھوں میں تھام کر اس نے موبائل سائیڈ ٹیبل سے اٹھایا اور یس کر کے کان سے لگا لیا
” جی چھوٹی دادو ۔۔ ؟”
بوجھل آواز میں پوچھا گیا
” دادی کی جان کیسا ہے ۔۔ ؟”
ان کی محبت بھری آواز ابھری تھی عرش شاہ نے گہرا سانس لیا
” دادو ۔۔ اتنے سب کے بعد بھی آپ میرا حال پوچھ رہی ہیں ۔۔ “
عرش کی آنکھوں میں نمی اتری تھی بلاشبہ ایک غیرت مند مرد کبھی اپنے کردار کی تنقید پر سکون سے نہیں رہ سکتا امل نے اس کی مردانگی کو بری طرح دھچکا دیا تھا
” دادی صدقے ۔۔ اس کا ایک ہی حل ہے ۔۔ اگر تو دادی کی بات مان لے ۔۔ “
ان کی بات عرش کی سمجھ میں نہ آئی تھی
” اس کا کیا حل ہو سکتا ہے دادو ۔۔ “
وہ جھنجھلا گیا تھا بھلا گزرے لمحے بھی کبھی واپس آئے ہیں
” تم امل سے نکاح کر لو ۔۔ دیکھو عرش ۔۔ ایسے کرنے سے ہر ایک کی زبان بند ہو جائے گی ۔۔ “
انہوں نے تھوڑا جھجھک کر کہا تھا جبکہ عرش کئی پل کچھ بول نہ سکا تھا
” دیکھو بیٹا ۔۔ جو ہونا تھا وہ ہو گزرا ۔۔ اب سمجھداری سے کام لو ۔۔ امل اور تمہارا نکاح بہت ضروری ہے ۔۔ تاکہ زامن شاہ کو دنیا کے سامنے صفائیاں پیش نہ کرنی پڑیں ۔۔ “
وہ اسے خاموش پا کر مزید سمجھا رہی تھیں
” امل اس وقت میرے گھر پہ ہے ۔۔ کیونکہ علی اور رامین بہت سختی کر رہے تھے اس کے ساتھ ۔۔ اس لیے میں لے آئی اسے اپنے ساتھ ۔۔ تم آ رہے ہو نا بیٹا ۔۔ “
وہ بول رہی تھی اور ان چند لمحوں میں ہی عرش شاہ نے اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ امل اور مریم کی زندگی کا بھی بہت بڑا فیصلہ کر لیا
////////////////////////
” یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں چھوٹی دادو ۔۔ میں اور عرش شاہ سے نکاح ۔۔ ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا ۔۔ وہ مریم کا شوہر ہے ۔۔ میرا عرش شاہ سے نکاح نہیں ہو سکتا “
عرش سے بات کرنے کے بعد وہ امل کے پاس آئی تھیں جو پہلے ہی اپنے ماں باپ کے ردعمل پر صدمے میں تھی ان کی بات سن کر تو وہ جیسے ہتھے سے اکھڑ گئی تھی
” دیکھو امل بیٹا ہوش کے ناخن لو ۔۔ مریم تمہاری سگی بہن نہیں ہے ۔۔ تمہارا نکاح عرش سے بہت ضروری ہے ۔۔ ہمارے خاندان کی عزت کی خاطر ۔۔ “
پھوپھو نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی مگر وہ مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی
” نہیں کسی صورت میں اس سے نکاح نہیں کروں گی ۔۔ “
بے شک اسے اپنے ماں باپ سے بے شمار شکوے تھے جنہوں نے اس سے زیادہ مریم اور عرش کو اہمیت دی تھی مگر پھر بھی وہ خواب میں بھی عرش شاہ سے نکاح کا نہیں سوچ سکتی تھی
” دیکھو اس لڑکی نے تمہیں کل گال پہ تھپڑ مارا تھا نا ۔۔ تم بھی عرش سے نکاح کر کے اس کی روح پر تھپڑ مارو ۔۔ “
اب اسی طریقے سے وہ امل کو منا سکتی تھیں
” وہ لڑکی آج نہیں تو کل عرش کے دل سے اتر جائے گی ۔۔ جو اسے اولاد کی خوشی نہیں دے سکتی ۔۔ پھر دیکھنا تم شاہ حویلی پہ راج کرو گی ۔۔ کیونکہ یہ تمہارا ہی حق ہے میری بچی ۔۔ “
ان کی باتیں امل کو بلکل خاموش کر گئی تھیں وہ پہلے ہی بہت زیادہ پریشان تھی کیونکہ اس کے ماں باپ نے اس پر بھروسہ نہیں کیا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا عرش شاہ اور مریم کو جان سے مار دے
سب سے بڑا نقصان یہی تو تھا کہ علی اور رامین نے اس کی بات پر بلکل بھی یقین نہیں کیا تھا ورنہ اس کا پلین بلکل کامیاب تھا زامن شاہ اور عرش شاہ سے بدلے کی خاطر اس نے اپنی عزت کا بھی خیال نہ کیا تھا اور زمانے کے سامنے اپنی اور اپنے ماں باپ کی عزت کا جنازہ نکال دیا تھا اور پھر بھی کوئی عرش شاہ کو غلط قرار دے ہی نہیں رہا تھا
/////////////////////////
” عرش ۔۔ امل پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے بیٹا ۔۔ میں تو بے حد پریشان ہوں ۔۔ “
عرش جیسے ہی پھوپھو کے گھر پہنچا انہوں نے اسے پریشانی کے عالم میں یہ خبر دی
” کیا مطلب چھوٹی دادو ۔۔ ؟”
عرش کے ماتھے پر بل بڑھے
” وہ تمہارے سے نکاح پہ راضی نہیں تھی مگر خاموش ہو گئی تھی ۔۔ مجھے لگا وہ مان گئی ہے ۔۔ مگر اب وہ پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے ۔۔ “
وہ حقیقتاً پریشان تھیں
” آپ نے آنی سے کال کر کے پوچھنا تھا ۔۔ یقیناً وہیں گئی ہو گی ۔۔ “
وہ بے زار سا گویا ہوا تھا
” بیٹا میں نے پوچھا ہے اشعل سے ۔۔ وہ کہہ رہا ہے کہ امل وہاں نہیں آئی ۔۔ “
ان کی بات پر عرش نے سر جھٹکا
” بیٹا مجھے بہت پریشانی ہو رہی ہے ۔۔ علی اور رامین کے رویے سے بہت دلبرداشتہ تھی وہ کل رات سے ۔۔ کہیں کچھ کر ہی نہ لے خود کے ساتھ ۔۔ “
وہ سینے پر ہاتھ رکھتی گویا ہوئیں
” اچھا ہے دادو وہ خود کو ختم کر لے کیونکہ اگر اس نے خود کو خود سزا نہ دی تو ۔۔ اسے میں سزا دوں گا ۔۔ اور میری سزا ایسی ہو گی کہ وہ تا حیات نہیں بھولے گی ۔۔ “
” ارے بیٹا کن سوچوں میں ہو ۔۔ ؟ پلیز امل کو ڈھونڈ لاؤ ۔۔ “
عرش کو پر سوچ انداز میں کھڑے دیکھ کر انہوں نے اس کا شانہ ہلاتے ہوئے کہا
” جی میں جاتا ہوں ۔۔ “
وہ اثبات میں سر ہلاتا واپس مڑ گیا
امل کی اچانک گمشدگی کی خبر دونوں گھروں میں پہنچ چکی تھی رامین اور علی کا دل تڑپ رہا تھا زامن شاہ اور حورین کی کوئی تسلی کام نہیں آ رہی تھی مریم ہنی جگہ پریشان تھی مختصر یہ کہ سب ہی کل والا واقعہ بھلائے بس امل کی سلامتی کی دعا زیر ب دہرا رہا تھا زامن اور علی بھی عرش کے ساتھ اسے ڈھونڈ رہے تھے مگر سارا دن گزر گیا امل کا کچھ پتہ نہ چلا
////////////////////////
وہ گھر سے نکل تو گئی تھی مگر اب جاتی کہاں ایک خیال آیا کہ فضہ یا عزا کے گھر چلی جائے مگر پھر دل نہ مانا وہاں جانے کو بھی کیونکہ وہ جانتی تھی وہاں سے اسے باآسانی ڈھونڈ لیا جائے گا اس پارک میں بیٹھے اسے صبح سے شام اور شام سے رات ہو گئ تھی اب تو پارک میں اکا دکا ہی کوئی رہ گیا تھا وہ صبح سے ایک بنچ پر بیٹھی سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی اسے پچھتاوا ہو رہا تھا کہ اسے عرش شاہ کی نفرت میں اتنا آگے نہیں جانا چاہیے تھا کہ اپنی اور اپنے ماں باپ کی عزت کا بھی خیال نہیں کیا تھا
” لیکن پھر بھی پاپا کو تو مجھ پہ ہر حال میں یقین کرنا چاہیے تھا نا ۔۔ “
” عرش شاہ سے نکاح تو میں کبھی بھی نہیں کروں گی ۔۔ اگر میں وہاں رکتی تو چھوٹی دادو ایسا کروا دیتی ۔۔ لیکن مجھے نفرت ہے عرش شاہ سے ۔۔ “
وہ صبح سے مسلسل یہی باتیں سوچ رہی تھی کل رات سے اس نے کچھ کھایا نہیں تھا بھوک کی شدت بھی اسے محسوس ہو رہی تھی
” کیا بات ہے چڑیا ۔۔ آج کس سے روٹھ کر آئی ہو ۔۔ “
پارک کا چوکیدار امل کے برابر بیٹھتا خباثت سے گویا ہوا جبکہ اس کی آواز پر امل جیسے اچھل پڑی تھی مگر اس نے امل کا ہاتھ سختی سے جکڑ لیا
” ارے میں منانے ہی تو آیا ہوں میری جان ۔۔ “
آنکھوں میں ہوس لیے وہ امل گھورنے لگا جس نے جینز پر کھلی سی شرٹ پہنی ہوئی تھی اور سکارف کو گلے کے گرد لپیٹا ہوا تھا چہرے پر معصومیت کے ساتھ ساتھ حیرت اور گھبراہٹ اور آنکھوں میں لہراتا خوف اسے مزید پرکشش بنا رہا تھا
” چچ چھوڑو مجھے ۔۔ !”
وہ بمشکل اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے بولی
” چھوڑ دوں گا مگر پہلے تیرے حسن کو خراج تو بخش دوں ۔۔ چل شرافت سے مان جا ورنہ کرنی تو میں نے اپنی مرضی ہے ۔۔ “
وہ امل کا سکارف کھینچ کر نکالتا ہوا امل کو اپنے مزید قریب کرتا گیا جبکہ اس کے اس مل سے امل کی گردن سرخ ہو گئی مگر امل کو اس وقت تکلیف اس غلیظ شخص کا لمس اور آنکھوں کی خباثت دے رہی تھی
” پپ پلیز چچ چھوڑ دو ۔۔ “
” کہا نا چھوڑ دوں گا ۔۔ پہلے میرا دل خوش کر دے ۔۔ میری چنچل ۔۔ “
امل کے چہرے کو اپنے چہرے کے قریب کرتے ہوئے وہ غرایا اس پل امل نے شدت سے اپنی موت مانگی تھی یہ وہ پل تھا جب امل علی کو شدت سے احساس ہوا کہ عزت آبرو عورت کے لیے کیا ہوتی ہے کل اس نے عرش کے کردار کو مشکوک کرنے کی خاطر جو ڈرامہ کیا تھا آج قدرت اسے سچ کر رہی تھی آنکھوں میں آنسو بھرے وہ اس پل بس اپنی موت مانگی رہی تھی تا کہ یہ غلیظ شخص اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے مگر نہیں یہ انسان تو نہیں تھا یہ تو درندہ تھا اسے کیذفرق پڑتا تھا کہ اس کے وجود میں سانسیں ہوں یا نہ ہوں اسے توبس اپنی ہوس پوری کرنی تھی اور وہ تو امل کے مرنے کے بعد بھی اس کے بے جان وجود سے پوری کر سکتا تھا اسی پلامل نے اپنی دعا بدلی اور اپنے لیے خدا کے حضور محافظ مانگا جو اس وحشی سے اس کی عزت محفوظ کر سکے اور پھر امل علی نے اسے خدا سے مانگا جس سے وہ بےحد نفرت کرتی تھی ، امل علی نے ، عرش شاہ کے آنے کی دعا مانگی اور اس قدر شدت سے مانگی کہ اپنی آنکھیں اس امید پر بند کر دیں کہ جب کھولے گی تو عرش شاہ اسے بچانے کے لیے آ چکا ہوگا
اور پھر وہ تو گناہ گاروں کا بھی تو خدا ہے وہ کیسے اپنے بندے کو نا امید لوٹا سکتا ہے اس نے امل کی دعا پر کن فرما دیا امل علی نے بند آنکھوں سے محسوس کیا کہ کسی نے غلیظ آدمی کو اس سے کھینچ کر دور کیا تھا جب سے نے آہستہ سے آنکھیں وا کیں تو سامنے ایک جوان اس درندے کو بےتحاشہ مارتے ہوئے کچھ بول بھی رہا تھا امل نے اپنے ہواس محال کیے تو اسے غور سے دیکھنے لگی جس نے سیاہ شلوار قمیض زیب تن کی ہوئی تھی دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں میں دو انگوٹھیاں تھیں اسی ہاتھ سے واپس شخص کو زور زور سے مکے مار رہا تھا وہ اور کوئی نہیں تھا بلکہ وہی تھا اس سے وہ صرف نفرت ہوتی تھی ، وہ تھا جس کو برباد کرنے کے لیے اس نے انتہائی قدم اٹھایا تھا ، وہ جس نے آنے کی اس نے شدت سے دعا کی تھی ہاں وہ عرش شاہ تھا زامن شاہ کا بیٹا !!!
اس شخص کو نیم مردہ کرنے کے بعد عرش شاہ امل کی سمت مڑا اور گھاس پر پڑا اس کا سکارف اٹھا کر اس کے سر پر دیا اور اس کی کلائی تھام کر اپنے ساتھ چلانے لگا امل کو گاڑی میں پٹخ کر وہ خود بھی آ بیٹھا اور سپاٹ چہرہ لیے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا
علی ولا کے سامنے گاڑی روک کر اس نے ساکن بیٹھی امل کیجانب اپنا رخ کیا
” جاؤ اندر ۔۔ ! تمہارا گھر آ گیا ہے ۔۔ “
ٹھنڈا ٹھار لہجہ تھا کہ امل نے چونک کر اسے دیکھا
” مم میں اس حالت میں پہ پاپا کے سامنے کیسے جاؤں گی ۔۔ مجھے اندر نہیں جانا ۔۔ “
وہ بے ساختہ ہی بولی تھی پھر شرمندگی سے سر جھکا گئی عرش شاہ تمسخرانہ انداز میں ہنسا
” کل بھی تو اسی حالت میں بھرے خاندان کے سامنے اپنی عزت و آبرو کا لاگ الاپ رہی تھی ۔۔ اس وقت شرم نہیں آئی تمہیں ۔۔ پھر اب کیسی شرم ۔۔ “
وہ اس کے جھکے سر کو دیکھتا جتا رہا تھا
” صبح ہونے سے پہلے اگر تم نے گھر میں قدم نہ رکھا تو ۔۔ تمہارے باپ کی عزت پامال ہو جائے گی ۔۔ اس لیے جاؤ اندر جاؤ ۔۔ “
وہ درشتگی سے گویا ہوا تھا اور امل سے منہ پھیر لیا مگر وہ ہنوز ایک ہی سمت میں سر جھکائے خاموش بیٹھی ہوئی تھی جب گاڑی کی خاموشی میں عرش شاہ کی آواز نے اشتعال برپا کیا
” نکاح کرو گی تم ۔۔ مجھ سے ابھی اسی وقت ۔۔ !”
اس کے الفاظ نے امل کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیا
امل جانتی تھی معاشرے میں اگر اپنے باپ کی عزت برقرار رکھنی تھی تو عرش شاہ سے نکاح کرنا ضروری تھا اور پھر امل نے اپنی انا کو کچلتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا
عرش شاہ نے اسی پل گاڑی ریورس کی اور پھر کسی ہوٹل کے روم میں چند لمحوں میں ہی وہ امل علی سے امل عرش شاہ بن گئی تھی نکاح کے بعد عرش اسے لیے ایک بار پھر علی ولا کے سامنے تھا
ان دونوں کو آتا دیکھ کر سب ان کی جانب لپکے
” امل میری بچی ۔۔ “
علی نے اسے آگے بڑھ کر سینے سے لگانا چاہا جب عرش شاہ نے نکاح نامے کی ایک کاپی ان کی جانب بڑھائی جبکہ امل اس کی اس پیش رفت پر گھبرا گئی تھی
” یہ کیا ہے عرش ۔۔ ؟”
زامن شاہ نے آگے بڑھ کر وہ کاغذ عرش سے لیا اور کھول کر پڑھنے لگا مگر اس سے پہلے نکاح نامہ زامن شاہ کے ہاتھوں سے چھوٹ کرگرتا اسے علی نے تھام لیا اور پڑھنے لگا
” یہ سب کیا ہے عرش شاہ ۔۔ “
زامن شاہ کی دھاڑتی آواز ایک ایک کو سہمنے پر مجبور کر گئی تھی
” میرا اور امل کا نکاح نامہ ہے ڈیڈ ۔۔ “
اس کے الفاظ سب کی سماعتوں پر ہتھوڑے کی مانند لگے تھے مریم کے اندر کچھ چھن سے ٹوٹا تھا جبکہ رامین اور حورین نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا تھا
” تمہاری پہلے سے ایک بیوی موجود ہے ۔۔ تم یہ سب کیسے کر سکتے ہو عرش ۔۔ ؟”
زامن شاہ غصے سے غرا رہے تھے
” دوسری شادی کرنا کوئی گناہ نہیں ہے ڈیڈ ۔۔ میں امل سے نکاح کر چکا ہوں ۔۔ یہی حقیقت ہے ۔۔ !”
وہ سپاٹ انداز میں بول رہا تھا جبکہ مریم کے آنسو چہرہ بھگونے لگے
” ٹھیک ہے مگر اب ہمارا امل سے کوئی تعلق نہیں ۔۔ تم اسے لے جا سکتے ہو ۔۔ “
اس سے پہلے زامن مزید بولتا علی بول اٹھے ان کے الفاظ سے امل نے بوکھلا کر انہیں دیکھا
” نن نہیں پاپا ۔۔ پلیز ۔۔ ایسے نہیں بولیں ۔۔ “
وہ علی کی جانب بڑھی تھی جب عرشنے اس کا بازو اپنے شکنجے میں لے لیا
” یہاں سے چلو اب ۔۔ “
وہ روتی ہوئی چیختی چلاتی امل کو کھینچتا ہوا باہر لایا اور گاڑی میں بیٹھایا
” ہاہاہا دیکھا اپنوں کا منہ پھیرنا ۔۔ کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے امل بی بی ۔۔ ؟”
وہ اسے دیکھتا مسلسل تمسخر اڑا رہا تھا جبکہ امل کی زبان جیسے بولنا بھول چکی تھی
” بہت جلد تمہیں خود سے نفرت ہونے والی ہے امل ۔۔ !”
وہ گاڑی سے اترنے والی تھی جب عرش شاہ کے الفاظ نے اس کے قدم جکڑ لیے وہ سوالیہ نظروں سے عرش شاہ کو دیکھنے لگی
” تم نے مجھے درندہ کہا تھا نا ۔۔ اب دیکھنا میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں امل بی بی ۔۔ “
وہ ٹھہرے ہوئے انداز میں بولا تھا لہجے میں بے انتہا سختی تھی
” کک کہاں لے کے جا رہے ہو مجھے ۔۔ ؟؟”
اسے زندگی میں پہلی بار عرش شاہ سے خوف محسوس ہوا تھا الفاظ بمشکل حلق سے ادا کو پائے تھے
” میں تو تمہیں اپنے ساتھ اپنے گھر لے کر جا رہا ہوں لیکن تمہارے لیے وہ جگہ جہنم سے کم نہیں ہو گی یقین رکھو ۔۔ “
وہ معنی خیزی سے گویا ہوا جبکہ امل اس کی آنکھوں میں نفرت دیکھتی کپکپا گئی
/////////////////////////
