Tere Sitam By Fatima Readelle50292 Tere Sitam (Episode 23)
Rate this Novel
Tere Sitam (Episode 23)
Tere Sitam By Fatima
عرش نے گھر پر سب کو بتا دیا تھا کہ عروہ کو ہوش آ چکا ہے اور اب اس کی طبیعت کچھ بہتر ہے وہ خود ہی اسے لے کر گھر آ جائے گا اور پھر وہ اگلے دن صبح ہی عروہ کو لے کر شاہ حویلی پہنچ چکا تھا
حورین کو دیکھ کر عروہ تڑپ کر ان کے سینے سے لگی تھی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی
” مم مام ۔۔ سب ختم ہو گیا ۔۔ مام ۔۔ “
وہ شدت سے روتے ہوئے نفی میں سر ہلا رہی تھی شاہ حویلی کے مکین منہ چھپا کر رونے لگے تھے
” مم مام میں نے آپ کو کتنا بلایا ۔۔ کتنا یاد کیا ۔۔ کوئی بھی نہیں تھا میرے پاس ۔۔ بھائی کو بب بابا کو ۔۔ کوئی نہیں آیا ۔۔ مجھے بچانے ۔۔ “
وہ اتنے دن سے خاموش تھی تو تب بھی اس کی خاموشی چیخ چیخ کر اس پر ہوا ہر ستم بیان کرتی تھی اور آج تو وہ خود اپنے پر ہوئے ستم بتا رہی تھی وہ اس طرح رو رہی تھی کہ شاہ حویلی کے مکین سمیت ملازمین بھی رونے لگے تھے
” وہ ہنستا تھا مام ۔۔ میری بے بسی پر ۔۔ وہ مزاق اڑاتا تھا میری بے بسی کا ۔۔ “
وہ تڑپ تڑپ کر بول رہی تھی حورین کو اس کے الفاظ اپنے سینے پر چبھ رہے تھے جبکہ ضامن شاہ بیٹی پر ہوئے ظلم سن کر کرب سے آنکھیں میچ رہے تھے عرش شاہ نے سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا تھا مریم لبوں پر ہاتھ رکھے اپنی سسکیاں روک رہی تھی
” مام ۔۔ اس نے سب ختم کر دیا ۔۔ سب کچھ مام ۔۔ کچھ نہیں بچا میرے پاس ۔۔ “
” سب ٹھیک ہو جائے گا میری جان ۔۔ “
حورین کی آواز بمشکل ہی کسی نے سنی ہوگی کیونکہ آنسوؤں کا گولا ان کے گلے میں اٹکا ہوا تھا
” کچھ نہیں ٹھیک ماما ۔۔ سب کچھ ختم ہو گیا ۔۔ میں ختم ہو گئی ماما ۔۔ “
عروہ نفی میں سر ہلاتی بولی تھی
” میری تو دنیا ختم ہو گئی ماما ۔۔ “
” نہیں بیٹا ۔۔ “
حورین نے تڑپ کر اسے دیکھا تھا
” ماما میری ساری خواہشیں ختم ہو گئیں ۔۔ میں مر گئی اندر سے ماما ۔۔ “
وہ سسکتے ہوئے بول رہی تھی شاہ حویلی میں آج اکلوتی اور لاڑلی بیٹی کی آہیں سسکیاں گونج رہی تھیں
” بھائی مجھے کیوں لے کر آئے ہیں یہاں ۔۔ مار دیں نا مجھے ۔۔ جان سے مار دیں نا مجھے ۔۔ “
وہ اب حورین سے خود کو چھڑا کر عرش کی جانب بڑھی تھی
” مجھے مار دیں بھیا ۔۔ مجھے قبرستان لے جائیں ۔۔ وہاں دفن کر دیں ۔۔
” عروہ ۔۔ کیا بول رہی ہو یہ سب ۔۔ پاگل ہو گئی ہو ۔۔ “
عرش شاہ نے تڑپ کر اسے اپنے سینے میں بھینچا تھا
” نہیں بھائی ۔۔ پلیز ۔۔ میری بات مان لیں پلیز ۔۔ مجھے مار دیں ۔۔ مجھے نہیں جینا ۔۔ میرا سب کچھ ختم ہو گیا ہے بھای ۔۔ “
وہ عرش سے خود کو الگ کرتی اس کے آگے ہاتھ جوڑتی بولی تو اشعر اس کے قریب آیا اور اسے اپنے سینے سے لگا کر بلند آواز میں رونے لگا
” بھائی آپ کہیں نا عرش بھیا کو ۔۔ وہ ۔۔ وہ اپنی گن سے مجھے مار دیں ۔۔ پلیز بھائی کہیں نا بھیا سے ۔۔ مجھے نہیں جینا ۔۔ “
وہ اب اشعر کے سامنے ہاتھ جوڑتی بول رہی تھی اشعر نے اس کے ہاتھ تھام کر محبت سے بوسا دیا
” بھائی کی گڑیا چپ ہو جاؤ ۔۔ “
وہ عروہ کی ویران اور نم آنکھوں میں دیکھتا التجائیہ انداز میں بولا تھا جبکہ سب ہی یہ منظر دیکھتے آبدیدہ تھے
” ڈیڈ ۔۔ آپ مار دیں نا ۔۔ بھیا کو بتائیں ۔۔ میں ایک لاش ہوں بس ۔۔ مجھے دفنا دیں ۔۔ کیوں کوئی میری بات نہیں مانتا ۔۔ پلیز ۔۔ “
وہ اب ضامن شاہ کی جانب بڑھی تھی اور ان کے آگے ہاتھ جوڑتی رونے لگی
” میری بیٹی ۔۔ تم اپنے بابا کو سزا دے دو ۔۔ یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے میرا بچہ ۔۔ “
ضامن شاہ عروہ کے ہاتھ تھام کر چومنے کے بعد اپنے ہاتھ اس کے آگے جوڑ کر بولے تھے
” ڈیڈ پلیز ۔۔ خود کو سنبھالیں ۔۔ “
عرش شاہ ان کی جانب بڑھا تھا اور ان کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے تھے
” نہیں عرش ۔۔ میں اپنی بیٹی کا مجرم ہوں ۔۔ میں اپنی بیٹی کی فرمانبرداری کو اس رضا سمجھ رہا تھا ۔۔ یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے ۔۔ میرے گناہ ہیں ۔۔ میرے غلط فیصلے ہیں ۔۔ “
ضامن شاہ نے پھر سے عروہ کے سامنے ہاتھ جوڑے تھے جو کہ عرش شاہ نے تھام لیے تھے
” بھائی سب کچھ ختم ہو گیا بھائی ۔۔ “
عروہ نے تھکے ہوئے انداز میں عرش سے کہا تھا جبکہ عرش اب اسے خود سے لگا کر التجائیہ انداز میں دیکھنے لگا تھا
” مت کرو اس طرح عروہ ۔۔ میری گڑیا ۔۔ ہم سب کو معاف کر دو ۔۔ اپنے بھائی کو معاف کر دو ۔۔ تمہارا بھائی کچھ نہیں کر سکا اپنی لاڑلی کے لیے ۔۔ معاف کر دو ۔۔ مگر اس طرح مت کرو ۔۔ “
عرش شاہ کی آواز میں دکھ اور غم تھا مریم نے دکھ سے سب کو دیکھا تھا
” بب بھائی ۔۔ خخ ختم ۔۔ ہو گیا سس سب ۔۔ “
وہ نڈھال سی ہو گئی تھی کہ عرش نے اسے سہارا دیا
” یہ کیا کر دیا بھائی آپ نے ۔۔ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آپ کسی معصوم کو اس حال تک پہنچا سکتے ہیں ۔۔ “
مریم اپنی آنکھیں کرب سے بند کرتی بڑبڑائی تھی
//////////////////////
” مام آپ نے مجھے بلایا ۔۔ ؟”
وہ حورین شاہ کے کمرے میں اجازت لے کر جب داخل ہوا تو وہ نماز پڑھ کر اٹھ رہی تھیں
” یہاں آؤ میرے پاس ۔۔ “
وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئیں اب بیڈ کے پائنتی طرف بیٹھ گئی تھیں جبکہ عرش شاہ ان کے برابر آ بیٹھا تھا اپنی ماں کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر وہ انہیں احترام سے دیکھنے لگا جبکہ حورین اپنے خوبرو بیٹے کو بغور دیکھ رہی تھیں
عرش صرف ان کا بیٹا نہیں تھا بلکہ وہ اپنے ماں باپ کا دوست بھی تھا جس سے ضامن اور وہ ہر موضوع پر بات کر لیتے تھے عرش بچپن سے ہی بہت ذہین اور سمجھدار بچہ تھا ہر بات کو سمجھنے والا ، چھوٹے بہن بھائی کا ہر طرح سے خیال رکھنے والا ، پر سکون مزاج والا ، ٹھنڈے دماغ والا ،
” کیا بات ہے ماما ۔۔ پریشان ہیں ۔۔ ؟”
وہ ان کو اپنی جانب دیکھتا پوچھ رہا تھا حورین نے چونک کر اسے دیکھا
” نن نہیں بیٹا ۔۔ اللہ پاک کا کرم ہے ۔۔ “
حورین نے سردار بھرتے ہوئے کہا
” ڈیڈ کہاں ہیں ۔۔ “
وہ ضامن شاہ کی غیر موجودگی نوٹ کرتا بولا
“مسجد گئے ہیں ۔۔ “
حورین کے جواب پر عرش نے سر ہلایا
” عرش مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔ “
وہ پھر سے بولی تھیں
” جی مام کہیے ۔۔ “
عرش نے سنجیدگی سے انہیں دیکھا
” روحان ۔۔ روحان کے لیے کیا سوچا ہے تم نے ۔۔ میرا مطلب ہے ۔۔ تمہارے بابا کہہ رہے تھے کہ انہیں روحان سے کوئی تعلق نہیں رکھنا ۔۔ “
وہ عرش کو جانچتی نگاہوں سے دیکھتی گویا ہوئیں تو عرش نے ایک گہرا سانس لیا
” مجھے بھی ڈیڈ نے یہی کہا ہے ۔۔ پھر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ روحان کو اپنی بیوی پر شدید تشدد کرنے پر عدالت کے ذریعے سزا دلوائی جائے ۔۔ وہی کیس چل رہا ہے آج کل ۔۔ “
عرش شاہ نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سرسری سا بتایا
” آپ کیا چاہتی ہیں ماما ۔۔ ؟”
حورین کو خاموش بیٹھے دیکھتے ہوئے عرش شاہ نے پوچھا
” ہر ماں کی طرح میں بھی اپنے بچوں کی خوشی چاہتی ہوں ۔۔ میں بس اپنی بیٹی کی خوشیاں چاہتی ہوں عرش ۔۔ بس یہ چاہتی ہوں کہ اس بار جو بھی ہو عروہ کی مرضی سے ہو ۔۔ “
وہ نم آنکھوں بولی تھیں
” بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں مام آپ ۔۔ عروہ جیسا چاہے گی ویسا ہی ہوگا ۔۔ رہی بات اصول کی تو روحان کو قانون کے ذریعے سزا ملے گی ۔۔ اس نے میری بہن کو زندگی بھر کا روگ دے دیا ہے ۔۔ میں اسے آسانی سے جانے نہیں دوں گا ۔۔ “
عرش کے لہجے میں غم و غصے کی جھلک تھی حورین نے محض سر ہلایا
” اور اپنے بارے میں سوچا ہے تم نے ۔۔ “
چند لمحوں بعد حورین نے دوبارہ بات شروع کی
” کس بارے میں بات کر رہی ہیں مام آپ ۔۔ “
عرش کے ماتھے پر بل پڑا تھا وہ ناسمجھی سے انہیں دیکھ رہا تھا
” میں امل اور مریم کے بارے میں بات کر رہی ہوں ۔۔ “
حورین نے اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھا تھا جبکہ عرش نے ان کی بات پر سر جھکایا تھا
” دیکھو عرش ۔۔ تم میرے بہت سمجھدار بیٹے ہو ۔۔ تم نے زندگی میں ہمیشہ اپنا ہر فیصلہ مجھ پر چھوڑا ہے ۔۔ فرمانبرداری سے میری ہر بات مانی ہے ۔۔ تمہارے سٹڈی سبجیکٹ سے لے کر مریم کے ساتھ شادی تک ہر فیصلہ میں نے کیا ۔۔ مگر امل کے ساتھ نکاح کرنے سے پہلے ۔۔ پوچھنا تو دور ۔۔ تم مجھے بعد میں آ کر بتا رہے ہو ۔۔ “
ان کے لہجے میں افسردگی تھی
” مجھے معاف کر دیں ماما ۔۔ غلطی ہو گئی مجھ سے ۔۔ آپ سے نہیں پوچھا تھا تبھی زندگی میں پہلا فیصلہ ہی غلط کیا میں نے ۔۔ “
وہ ندامت سے سر جھکائے بیٹھا معافی مانگ رہا تھا
” ایسے کیوں کہہ رہے ہو بیٹا ۔۔ اگر غلط کیا ہے تو اسے صحیح بھی تو تم نے خود کرنا ہے ۔۔ “
وہ اسے دیکھتی گویا ہوئی تھیں جبکہ عرش نے اثبات میں سر ہلایا تھا
” جی میں نے ہی ٹھیک کرنا ہے ۔۔ جلد ہی امل کو طلاق ق۔۔”
” خبر دار عرش ۔۔ یہ لفظ اپنی زبان پر دوبارہ مت لانا ۔۔ “
انہوں نے عرش کے لبوں پر ہاتھ رکھا تھا ان کے انداز میں سختی تھی
” نکاح شادی ۔۔ !! یہ سب مذاق ہے کیا ۔۔ ؟؟ مجھے تم سے اس بے وقوفی کی امید نہیں تھی عرش ۔۔ “
وہ ان کی خاموشی پر دوبارہ بولی تھیں
” تم کبھی امل کو نہیں چھوڑو گے ۔۔ “
انہوں نے حکمیہ انداز میں کہا تھا
” میں امل کو نہیں ۔۔ وہ مجھے چھوڑے گی ماما ۔۔ وہ مجھے اور مریم کو ساتھ برداشت نہیں کر سکتی ۔۔ اسے بانٹنا نہیں آتا ۔۔ خود ہی تھک جائے گی ۔۔ اور الگ ہو جائے گی مجھ سے ۔۔ “
عرش شاہ نے سنجیدگی سے کہا تھا
” اس کا مطلب تم امل کو آزما رہے ہو ۔۔ اس کا امتحان لے رہے ہو ۔۔ ؟”
انہوں نے افسوس سے اسے دیکھا
” اس سب کی ضرورت نہیں ماما ۔۔ میں اسے جان گیا ہوں ۔۔ وہ ساتھ مل کر کسی کے رہ ہی نہیں سکتی ۔۔ “
عرش شاہ تلخی سے مسکرایا
” عرش کچھ خوف خدا کرو ۔۔ اگر نکاح کر چکے ہو تو برابری کے حقوق دو دونوں بیویوں کو ۔۔ “
حورین نے حلیہ انداز میں کہا
” یہ مجھ سے نہیں ہو گا ماما ۔۔ “
” ٹھیک ہے پھر چلے جاؤ ۔۔ مجھے اپنی شکل مت دیکھانا ۔۔ “
وہ منہ موڑ کر بیٹھ گئی تھیں
” آپ امل کی خاطر ۔۔ مجھ سے ۔۔ اپنے بیٹے سے منہ موڑ رہی ہیں ۔۔ “
” بیٹا تم سمجھ کیوں نہیں رہے ۔۔ نکاح مزاق نہیں ہے ۔۔ جب دل چاہا کر لیا اور جب دل چاہا توڑ دیا ۔۔ یہ کھیل نہیں ہے ۔۔ نمازی ہو نا تم ۔۔ جب تک اپنی بیویوں کے حقوق برابر ادا نہیں کرو گے تب تک تمہاری کیا عبادت قبول ہے ۔۔ خدا اپنے حقوق معاف کر یتا ہے مگر اپنے بندوں کے نہیں ۔۔ “
وہ سمجھانے والے انداز میں بولی تھیں عرش اب بالکل خاموش ہو چکا تھا
” مام اس نے بھرے خاندان کے سامنے مجھ پر اتنا بڑا الزام لگایا ۔۔ صرف مجھے اور مریم کو الگ کرنے کے لیے ۔۔ میں معاف نہیں کر سکتا اسے ۔۔ مجھے اس سے گھن آتی ہے ۔۔ وہ لڑکی کسی کی نہیں ہو سکتی ۔۔ “
وہ سر ہلاتا بولا تھا امل کے ذکر پر اس کے لہجے میں بیزاری در آئی تھی
” ایسے الفاظ اپنی بیوی کے لیے مت استعمال کرو ۔۔اس سے غلطی ہوئی ہے عرش ۔۔ بلکہ گناہ ۔۔ مگر تم نے کیا کیا اس کے ساتھ ۔۔ نکاح کر کے چھوڑنا چاہتے ہو اسے ۔۔ زندگی خراب کرنا چاہتے ہو اس کی ۔۔”
ان کا انداز سختی لیے ہوا تھا عرش خاموش رہا
” دیکھو عرش ۔۔ امل سے نرمی کا رویہ رکھو ۔۔ جو بھی ہے مگر اب وہ تمہاری بیوی ہے ۔۔ دونوں کو برابر رکھو اگر مریم اور امل کی آنکھ میں ایک بھی آنسو تمہاری وجہ سے آیا تو اس کا جواب تمہیں خدا کے آگے دینا ہو گا ۔۔ “
وہ اب عرش کا ہاتھ تھام کر نرمی سے اسے سمجھا رہی تھیں
” مام اگر میں اپنے دل میں امل کے لیے گنجائش بنا بھی لوں تو ۔۔ مریم کو اچھا نہیں لگے گا ۔۔ میں اسے مزید دکھ نہیں دینا چاہتا ۔۔ “
عرش کے انداز میں بے بسی تھی
” بیٹا مریم تو کیا ۔۔ کوئی بھی عورت اپنے شوہر کے ساتھ کسی دوسری عورت کو برداشت نہیں کر سکتی ۔۔ لیکن اگر تم دونوں کو خوش رکھو گے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں ۔۔ “
وہ عرش شاہ کے بال سہلاتی بولی تھیں
” امل بھی تو نہیں رہنا چاہتی ہو گی میرے ساتھ ۔۔ ماما آپ سمجھیں نا ۔۔ مریم صرف بیوی نہیں ہے میری ۔۔ بلکہ محبت کرتا ہوں اس سے ۔۔ جبکہ امل کی شکل دیکھتا ہوں تو غصہ آتا ہے مجھے ۔۔ دونوں میں برابری کرنا بہت مشکل ہے ۔۔ “
وہ جھنجھلا کر بولا تھا
” کچھ بھی مشکل نہیں ہے ۔۔ اچھا میری بات سنو ۔۔ یہ تم کیا کرتے پھرتے ہو ۔۔ چھ مہینے سے امل کو اسلام آباد میں رکھا ہوا ہے اور مریم کو یہاں ۔۔ دو دن کے لیے یہاں آتے ہو پھر واپس چلے جاتے ہو ۔۔ کیا کھیل ہے یہ ۔۔ پہلے کی بات اور تھی ۔۔ مگر اب دونوں کو برابر رکھو ۔۔ یہ سب میں اب برداشت نہیں کروں گی ۔۔ مریم کو بھی اپنے ساتھ رکھو ۔۔ شوہر جہاں ہو بیوی کو بھی وہی ہونا چاہیے ۔۔ اپنے ساتھ لے کر جاؤ مریم کو ۔۔ “
وہ اسے حکم دے رہی تھیں عرش شاہ نے بے بسی سے انہیں دیکھا
” مام کیا ہو گیا آپ کو ۔۔ وہ دونوں ساتھ کیسے رہیں گی ۔۔ امل نے اگر مریم کو کوئی سخت لفظ بول دیا تو مریم نے تو رو رو کر برا حال کر لینا ہے اپنا ۔۔ “
” عرش ایسا کچھ نہیں ہو گا ۔۔ اب تمہیں دونوں کو برابر رکھنا ہے ۔۔ اب ان دونوں کی آنکھوں میں تمہاری وجہ سے آنسو نہ دیکھوں میں ۔۔ “
انہوں نے اسے تنبیہ کی تھی وہ مزید بول ہی نہ سکا تھا
” اب جاؤ مریم کے پاس ۔۔ دو دن کے لیے آ کر احسان جو کرتے ہو اس پر ۔۔ “
وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھیں اس کا مطلب تھا وہ اب ان کے کمرے سے جا سکتا ہے
عرش بے بسی سے انہیں دیکھتا اٹھ کر باہر نکل آیا اسے کل صبح پھر اسلام آباد چلے جانا تھا اور مریم ہمیشہ کی طرح پھر سے اس کے جانے سے اداس ہو جائے گی
///////////////////////
وہ کالے گاگلز آنکھوں سے اتار کر ہاتھ میں لیتا اپنی سرکاری گاڑی سے اترا اور اپنی رعب دار شخصیت لیے مضبوط قدم اٹھاتا لان میں موجود نئے پھولوں کی کیاری پر ایک نگاہ ڈالتا گھر میں داخل ہوا
ہمیشہ کی طرح امل اپنی مخصوص جگہ پر ہاتھ میں پانی کا گلاس تھامے کھڑی عام سے حلیے میں اس کی منتظر تھی وہ اسے کسی ناپسندیدہ شے کی طرح دیکھتا اس کے قریب سے گزرا جبکہ امل اس کی پیروی میں چلنے لگی
وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا اور صوفے پر بیٹھ گیا جبکہ امل نے اس کے سامنے پانی کا گلاس کیا گلاس تھام کر عرش شاہ نے لبوں سے لگانے کے بجائے ہاتھ میں تھامے رکھا جبکہ امل اب زمین پر بیٹھی اور اس کے قدموں پر جھکی اس کے جوتوں کے تسمے کھولنے لگی نگاہیں جھکائے وہ اس کے بوٹ اور جرابیں اتار چکی تھی اور پھر پھرتی سے اٹھی اور شوز رینک میں سے سلیپرز لا کر عرش شاہ کے پیروں میں پہنائے
وہ ہاتھ میں گلاس تھامے سپاٹ چہرے سے امل کو دیکھ رہا تھا یہ حورین کی اس رات والی باتوں کا اثر تھا کہ وہ خاموش تھا ورنہ اتنی دیر وہ امل کو اپنے سامنے برداشت نہیں کرتا تھا
جبکہ امل اب ڈرائنگ روم سے اس کے کپڑے لا کر واشروم میں لٹکا رہی تھی وہ دھیرے سے اٹھا اور گلاس سامنے پڑے شیشے کے میز پر پٹکا جس کی آواز سنتی وہ واشروم کے دروازے سے نکلتی ٹھٹھکی مگر چہرہ جھکائے ایک طرف ہوئی
” اتنی فرمانبرداری کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ کہا تھا میں نے تمہیں ۔۔ !”
اس کے بےحد قریب ہوتا وہ جس سختی سے گویا ہوا امل کی گھنی پلکیں لرز گئیں مگر ہنوز خاموش رہی وہ جھنجھلا گیا ابھی کل ہی تو اس نے امل کو اس کا کوئی بھی کام کرنے سے سختی سے منع کیا تھا
” چار دن میں زبان نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے کیا ۔۔ ؟ تم اتنی فرمانبردار اور شریف ہو تو نہیں جتنی بننے کی کوشش کر رہی ہو ۔۔ !”
وہ جو اسے چھو کر بھی گھن محسوس کرتا تھا آج ایک ہاتھ اس کی گردن پر رکھے دوسرے ہاتھ سے اس کے لبوں کو نرمی سے سہلا رہا تھا امل نے اس کے نرم لمس پر اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو پیچھے دھکیلا اور ہلکا سا مسکرائی جبکہ اس کی مسکراہٹ نے عرش علی شاہ کو سلگا دیا
” سمجھتی کیا ہو خود کو تم ۔۔ ؟؟”
” آپ کی بیوی ۔۔!”
وہ بے ساختہ بول گئی مگر نڈر رہی کہ اس کے لہجے کی مضبوطی نے عرش شاہ کو چونکا دیا
” اوقات نہیں ہے تمہاری میرے سامنے کھڑے بھی رہنے کی ۔۔ پھر اس رشتے کا حوالہ کیوں دیتی ہو ۔۔ ؟”
وہ یک دم تعش میں آیا تھا کہ بے رحمی سے اسے دھکا دیا وہ لڑکھڑا کر بمشکل سنبھلی تھی
” یہ واحد رشتہ ہے جس کا حوالہ دیتے ہوئے مجھے فخر محسوس ہوتا ہے ۔۔ “
اس کے انداز سے سرشاری جھلک رہی تھی وہ اتنی بے خوف تھی کہ اس کے اطمینان پر عرش شاہ کے ماتھے پر مزید بل پڑے جبکہ امل کو ایک پل کے لیے اپنے الفاظ پر افسوس ہوا تھا اسے علی اور رامین یاد آئے تھے مگر پھر سر جھٹک دیا کہ انہیں تو بس اپنی ایک بیٹی ہی عزیز تھی دوسری کو تو وہ بھول ہی گئے تھے
” خوش فہمی ہے تمہاری ۔۔ کیونکہ اس رشتے اور تمہاری حیثیت کچھ نہیں ہے میرے آگے ۔۔ بہت اچھے سے جانتی ہو تم ۔۔ “
وہ طنزیہ مسکرایا تھا
” خوش نصیبی ہے میری ۔۔ شاہ جی کہ آپ میرے ہیں ۔۔ !”
وہ پورے استحقاق سے بولی تھی کہ عرش شاہ نے سر جھٹکا
” تمہارا یقین جلد توڑوں گا میں ۔۔ گندگی کے ڈھیر سے جان چھڑانا چاہتا ہوں میں ۔۔ “
وہ تڑخ کر بولا تھا اور اس کے الفاظ نے امل کا سر جھکا دیا تھا وہ جب بھی اس سے مخاطب ہوتا تھا اسی طرح دل دکھاتا تھا وہ اب ٹوٹنے لگی تھی
” کھانا لے آؤں ۔۔؟ حکم کریں شاہ جی یا ابھی چائے پیئں گے ۔۔ ؟”
وہ آنکھوں کو جھپکتی بات بدل گئی تھی اس کے تڑپ کر بات بدلنے پر عرش علی شاہ مسکرایا
” تمہارے ہاتھ سے تو میں آب حیات بھی نہ پیوں ۔۔”
لوہا گرم دیکھ کر وہ مزید گویا ہوا
” ملازمہ نے بنایا ہے کھانا ۔۔ !”
اس نے عام سے انداز میں جواب دیا جبکہ امل کے اتنی جلدی نارمل ہونے پر ایک بار پھر عرش شاہ مضطرب ہوا
” لڑکی میرے سامنے مت آیا کرو ۔۔!”
وہ نگاہوں کا رخ بدلتا حکمیہ بولا جبکہ امل کے لب جانے کس ازیت کو محسوس کرتے مسکرائے
” آپ کا یہ حکم ماننا میرے بس میں نہیں ۔۔ “
وہ واقعی بے بس ہوئی تھی اس کی بات سنتا عرش اس کے قریب ہوا اور بے رحمی سے اس کی گردن پکڑی وہ آنکھوں میں آنسو لیے تڑپ گئی مگر لب ہنوز مسکرا رہے تھے یہ شخص ہی اسے اندھیرے میں روشنی کی مانند لگتا تھا
” اپنی منحوس شکل لے کر دفع ہو جاؤ ۔۔ “
وہ امل کی آنکھوں میں جھانکتا غرایا اور ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا اس بار وہ زور سے دیوار سے جا لگی کہ درد سے بری طرح مچل اٹھی
” کسی دن میرے ان ہاتھوں سے مرو گی تم ۔۔ “
وہ پھر سفاکیت سے بولا اور جانے کے لیے مڑا مگر امل کی ہنسی نے اسے واپس اس کی جانب مڑنے پر مجبور کیا
” شاہ صاحب آپ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ مجھے زندگی سے آزاد کر سکیں ۔۔ “
وہ عرش کی آنکھوں میں تکتی جیسے اسے چیلنج کر رہی تھی
اس کا لہجہ ، انداز تھکا ہوا تھا مسلسل نفرتیں اور دھتکار بھی انسان کو تھکا دیتی ہیں دوسری ضرب اس کے سینے پر اپنوں کی جدائی نے لگائی تھی چھ مہینوں سے عرش شاہ نے اسے اس کے گھر والوں سے ملنے نہیں دیا تھا نہ ہی ان لوگوں کی جانب سے کوئی اسے ملنے آیا تھا کیا مریم ہی اس کے ماں باپ کے لیے اہم تھی کیا اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی
” ہاں نہیں کروں گا تمہیں آزاد اس زندگی سے ۔۔ جانتی ہو کیوں ۔۔ ؟”
وہ دانت پیس کر بولا اس لڑکی کی لمبی زبان اسے قطعی پسند نہ تھی وہ سوالیہ انداز میں اسے تکنے لگی تو عرش گویا ہوا
” کیونکہ موت آسان ہے ۔۔ زندگی مشکل ہے ۔۔”
وہ اشتعال میں آیا اور ٹیبل پر پڑا واز اٹھا کر دیوار پر دے مارا مگر امل کے کانوں میں اس کے بولے الفاظ گونجنے لگے وہ یک ٹک کمرے کے وسط میں کھڑی اسے دیکھے گئی
” فی الحال چلی جاؤ یہاں سے ۔۔ ! “
وہ کہتا ہوا واشروم کی جانب بڑھ گیا جبکہ امل کسی کانچ کی گڑیا کی طرح ٹوٹ کر فرش پر گری اور سسکنے لگی
وہ جتنا خود کو اندر سے مار کر عرش کے مطابق خود ڈھال رہی تھی اتنا ہی ٹوٹ رہی تھی وہ ہمیشہ اپنے الفاظ سے اسے توڑ دیتا تھا مگر وہ پھر اگلے دن ویسے ہی اس کے سامنے کھڑی ہوتی
وہ جانتی تھی عرش جان بوجھ کر اس سے اتنا سخت رویہ رکھتا ہے وہ کئی بار اسے کہہ چکا تھا کہ وہ اگر جانا چاہتی ہے تو واپسی کے دروازے کھلے ہیں مگر وہ اب عرش شاہ کو کیسے بتاتی کہ یہ قید اس نے اپنے لیے خود چنی ہے
///////////////////////
