Tere Sitam By Fatima Readelle50292 Tere Sitam (Episode 24)
Rate this Novel
Tere Sitam (Episode 24)
Tere Sitam By Fatima
مریم اپنے کمرے کی کھڑکی سے بہت دیر سے عروہ کو لان میں اکیلے بیٹھے دیکھ رہی تھی اس نے ہمیشہ عروہ کو ہر وقت گھر میں ہنستے مسکراتے ، سب سے لاڈ اٹھواتے دیکھا تھا
اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اتنی اچھی اور پیاری لڑکی جو ہر وقت اپنی شرارتوں اور کھلکھلاہٹوں سے سب کے چہرے پر مسکراہٹ لے آتی تھی آج وہی لڑکی یوں اداسی کی تصویر بنی ہوئی تھی
عروہ کو دیکھ کر ہر وقت مریم کو دکھ ہوتا تھا اس نے عروہ اور امل کو ہمیشہ اپنی چھوٹی بہنوں کی طرح سمجھا تھا عروہ نے بھی ہمیشہ اس کی محبت اور خلوص کی قدر کی تھی
مگر امل تو جب سے اس کی شادی ہوئی تھی بدل ہی گئی تھی وہ پہلے جیسے نہ تو اب اس کے ساتھ اپنی باتیں شئیر کرتی تھی نہ ہی ڈھنگ سے بات کرتی تھی بلکہ دور دور رہتی تھی کئی بار مریم نے کوشش کی تھی کہ امل اس سے کھل کر بات کرے آخر ایسی کیا بات ہے کہ وہ بچپن کے ساتھ سے جی چرانے لگی تھی اور پھر یوں عرش پر اتنا بڑا الزام لگانا ، عرش سے نکاح کرنا ، ان دونوں میں وقت اور حالات نے مزید دوریاں اور رنجشیں پیدا کر دیں تھی
وہ علی اور رامین کو کتنی بار کہہ چکی تھی کہ اس کی خاطر وہ امل سے منہ نہ موڑیں آخر وہ ان کی بیٹی ہے مگر وہ دونوں یہی کہتے تھے کہ امل نے ماں باپ کی عزت کی پرواہ کیے بغیر گھر سے قدم باہر نکالا تھا اسی لیے اب امل کے ساتھ ان کا کوئی رشتہ نہیں
مگر وہ جانتی تھی کہ وہ دونوں امل کے لیے کتنے پریشان رہتے تھے مگر ایک عورت ہونے کے ناتے امل کے بارے میں عرش سے بات کرنے کی ہمت اس میں بھی نہیں تھی ایک دو بار اس نے عرش سے کہا تھا کہ وہ امل کو ماما بابا سے ملوانے لے آئے مگر عرش نے اسے امل کے متعلق کسی قسم کی بھی بات کرنے سے سختی سے منع کیا تھا اس کے بعد وہ بھی بے بس ہو چکی تھی
اور اب پچھلے کئی مہینوں سے سب عروہ کے لیے بہت پریشان تھے عروہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بعد بھی عرش اور گھر والوں کا رویہ اس کے ساتھ بالکل پہلے جیسا تھا وہ تو سوچتی تھی کہ حورین مامی کو یا عرش کو اب اس کے روحان کی بہن ہونے کی وجہ سے اس سے نفرت ہو جائے گی
مگر عرش اور حورین ماما تو ابھی بھی ویسے ہی اس سے پیار کرتے تھے اور اس کی فکر کرتے تھے روحان کی وجہ سے کسی نے اسے سخت نگاہ سے بھی نہیں دیکھا تھا حالانکہ وہ خود شرمندہ سی رہتی تھی کیونکہ اس کے بھائی نے ان عظیم لوگوں کے سامنے اسے سر اٹھانے کے قابل بھی نہیں چھوڑا تھا
وہ عروہ کے لیے بہت دعائیں کرتی تھی کہ خدا اس معصوم لڑکی کو پھر سے ویسے ہی ہنستا مسکراتا کر دے مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ ہر دعا کہاں قبول ہوتی ہے
وہ قدم قدم چلتی لان میں آئی تھی عروہ ابھی بھی کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی اس کے چہرے پر رقم کرب نے مریم کو سر جھکانے پر مجبور کر دیا وہ آہستگی سے آ کر اس کی سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی
” عروہ ۔۔ !!”
دھیرے سے اس نے عروہ کو پکارا تھا مگر شاید وہ دماغی طور پر وہاں موجود ہی نہیں تھی اسی لیے اس نے مریم کی پکار نہ سنی اور ہنوز خاموش کسی غیر مرئی نقطے کو تکتی رہی
” عروہ ۔۔ !”
اس مرتبہ مریم نے قدرے بلند آواز میں اسے پکارا تھا عروہ یک دم چونکی تھی اور نا سمجھی سے مریم کو دیکھنے لگی تھی
” یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہو ۔۔ ؟”
مریم نے جھجھکتے ہوئے بات کا آغاز کیا
” ویسے ہی ۔۔ “
عروہ نے سنجیدگی سے دو لفظی جواب دیا اور سامنے لگے پودوں کو دیکھنے لگی
” طبیعت کیسی ہے ۔۔ ؟”
مریم کے سوال پر عروہ نے محض سر ہلایا مریم لب بھینچ کر رہ گئی
” بب بھائی نے بہت غلط کیا ۔۔ مگر ایک شخص پر زندگی ختم نہیں ہوتی عروہ ۔۔ میری دعا ہے کہ خدا تمہارے نصیب اچھے کریں ۔۔ “
مریم نے سر اور نگاہیں جھکائے بہت ہمت کر کے بات جاری رکھی تھی مگر عروہ ہنوز خاموش تھی
” مم مجھے ۔۔ مم معاف ۔۔ “
” یہ پودا دیکھ رہی ہیں آپ ۔۔ ؟”
اس نے سامنے لگے پودے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مریم کی بات کاٹی تھی مریم نے بے ساختہ اس جانب دیکھا جہاں عروہ نے انگلی سے اشارہ کیا تھا
وہ ایک سوکھا ہوا مرجھایا ہوا پودا تھا یقیناً کسی باعث وہ پودا مردہ ہو چکا تھا
اب مریم نے ناسمجھی سے دوبارہ عروہ کو دیکھا
” یہ مردہ ہو چکا ہے ۔۔ جیسے اس پودے میں زندگی کی کوئی رمق نہیں ہے نا ۔۔ ایسے ہی اب میری زندگی ہے ۔۔ بالکل اس پودے کی طرح ۔۔ میرے اندر جینے کی کوئی امید نہیں ہے ۔۔ میرے وجود میں سانسیں چل رہی ہیں مگر زندگی ختم ہو گئی ہے ۔۔ آپ جانتی ہیں ۔۔ میں محض زندہ لاش ہوں ۔۔ میرے جذبات ، خواہشات ، خوشیاں سب ختم ہو گئیں ۔۔ میں اندر سے کھوکھلی ہو گئی ہوں ۔۔ بس یہ سانسوں کا کھیل چل رہا ہے ۔۔ زندگی وہی رک گئی ہے ۔۔ “
اسکے لہجے میں کئی خواب ٹوٹنے کی چرکیاں تھیں مریم نے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو پونچھا اور عروہ کے چہرے کو دیکھنے لگی جس کی شادابی مانند پڑ گئی تھی بلکہ چہرے پر کئی نیلے نشان ، پیشانی پر پرانے زخموں کے نشانات واضح تھے
” عروہ تم اپنی سٹڈی کنٹینیو کرو نا ۔۔ اس طرح تمہارا دھیان بھی بٹ جائے گا ۔۔ اور پھر چار سال بعد شاہ حویلی میں ایک اور ڈاکٹر کا اضافہ ہو جائے گا ۔۔ “
مریم نے بات کا رخ بدلا تھا اور آنکھوں میں نمی لیے ہلکے پھلکے انداز میں گویا ہوئی تھی اس کی بات پر عروہ تلخی سے مسکرائی
” بھابھی اب میرے لیے سٹڈی بہت مشکل ہے ۔۔ “
عروہ کی آواز میں نمی تھی
” ایسے کیوں بول رہی ہو عروہ ۔۔ ؟”
مریم پریشان سی ہو گئی تھی
” میڈیکل پڑھنے کے لئے دماغ کا صحیح ہونا بہت ضروری ہے ۔۔ اور میرا دماغ اب ٹھیک نہیں ہے ۔۔ اب مجھے نہیں سمجھ آتا کہ میں کیا بول رہی تھی یا کہاں بیٹھی ہوں کیسے آئی ہوں ۔۔ دماغ بلکل سن ہو جاتا ہے ۔۔ میں اب میڈیکل نہیں پڑھ سکوں گی ۔۔ “
عروہ کے چہرے پر ایک کے بعد ایک اذیت کے تاثرات آ رہے تھے مریم سے مزید کچھ بولا نہ گیا اور اپنے آنسو پونچھتی عروہ کو پھر کہیں کھویا دیکھنے لگی
///////////////////////
” اشعل بیٹا میں نے تمہیں منع کیا تھا یہاں آنے سے ۔۔ “
وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی شاہ حویلی آئی تھیں مگر اشعل کو سامنے دیکھ کر ان کے اوسان خطا ہو گئے تھے اشعل تو ہاسٹل میں تھا پھر وہ یہاں کیوں آیا تھا انہوں نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اسے کہا
” ماما میں صرف ایک بار عروہ کو دیکھ لوں ؟؟ “
اشعل کے لہجے میں بے بسی تھی وہ التجائیہ انداز میں پوچھ تھا
” نہیں بیٹا ۔۔ یہ ٹھیک نہیں ہے ۔۔ پہلے ہی روحان نے اس معصوم بچی پر اتنے بہتان باندھے ہیں ۔۔ مزید تم اسے مشکل میں مت ڈالو ۔۔ “
رامین نے اپنے بیٹے کی آنکھوں میں نمی دیکھتے ہوئے نرمی سے اسے کہا
” ماما میں صرف اسے ایک بار دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔ ایک بار ملنا چاہتا ہوں ۔۔ “
وہ ان کے دونوں ہاتھ تھامتا منت کر رہا تھا رامین نے نفی میں سر ہلایا
” اشعل تمہیں میری قسم جو تم عروہ سے ملے ۔۔ یا کوئی کوشش کی تم نے عروہ سے ملنے کی ۔۔ !”
ان کے انداز میں سختی تھی اشعل نے بے بسی سے انہیں دیکھا
” ماما ۔۔ “
” ہاں تم نہیں ملو گے ۔۔ خبردار اگر تمہاری وجہ سے عروہ کو مزید کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑا ۔۔ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی ۔۔ “
وہ حتمی انداز میں بولی تھیں
” اچھا آپ ہی بتا دیں کہ وہ اب کیسی ہے ۔۔ ؟”
اشعل نے تھکے ہوئے انداز میں پوچھا تو رامین نے آنکھوں میں نمی لیے اپنے بیٹے کو دیکھا جس کی آنکھوں میں عروہ کے لیے بے پناہ محبت تھی
” اتنا کچھ ہو گیا اس کے ساتھ ۔۔ کیسی ہو سکتی ہے ۔۔ ؟ مسکرانا تو دور بات بھی نہیں کرتی ۔۔ بس خاموش رہتی ہے ۔۔ بس تم دعا کرو خدا اسے صبر دے ۔۔ اور اس کی زندگی میں بھی خوشیاں آئیں ۔۔ “
رامین عروہ کی ویران آنکھوں کو یاد کرتی بولی تھیں جبکہ اشعل نے ایک لمحے کے لیے کرب سے آنکھیں بند کیں اور پھر انہیں دیکھا
” روحان سے ڈیواس کیوں نہیں دلواتے ضامن انکل اور عرش بھائی اسے ۔۔ ؟ وہ گھٹیا شخص عروہ کے قابل ہی نہیں ہے ۔۔ “
اشعل غم اور غصے کے ملے جلے تاثرات لیے بولا تھا
” تم فکر مت کرو ۔۔ وہ اس کے باپ اور بھائی ہیں انہیں بہتر پتا ہے کہ کیا کرنا ہے ۔۔ بس تم اتنا کرو کہ کوئی تمہاری وجہ سے عروہ سے سوال نہ کرے ۔۔ پلیز آئیندہ یہاں مت آنا ۔۔ “
رامین نے اپنا لہجہ مزید سخت بنایا تھا جبکہ اشعل نے اثبات میں سر ہلایا تھا اور واپس مڑ گیا تھا
” ماما ۔۔ “
اشعل کے جانے کے بعد وہ ابھی ایسے ہی کھڑی اشعل کی تکلیف یاد کر رہی تھیں جب مریم کی پکار نے ان کو متوجہ کیا
” ہممم “
” یہاں اکیلی کیوں کھڑی ہیں ۔۔ اشعل آیا تھا کیا ؟۔۔ مجھے اس کی آواز آئی تھی ۔۔ “
مریم کی بات پر رامین نے چونک کر اسے دیکھا
” نن ہاں ۔۔ وہ آیا تھا ۔۔ مجھے بلا رہا تھا ۔۔ وہ ایکچولی ابھی ہاسٹل سے آیا ہے نا تو مجھے یہاں بلانے آ گیا ۔۔ “
وہ ادھر ادھر دیکھتی بولی تھیں مقصد اپنی آنکھوں کی نمی چھپانا تھا
” مجھ سے کیوں نہیں ملا وہ ۔۔ ایسے تو کبھی بھی نہیں کرتا وہ ۔۔ “
مریم پریشان سی پوچھ رہی تھی
” بیٹا وہ گھر گیا ہے ۔۔ تم آ جاؤ نا ۔۔ مل کر چلتے ہیں ۔۔ پھر خود ہی پوچھ لینا ۔۔ کہ کیوں تم سے نہیں ملا ۔۔ “
رامین نے مسکراتے ہوئے کہا تو مریم نے اثبات میں سر ہلایا
” جی ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ ۔۔ میں حورین ماما کو بتا کر آئی پھر چلتے ہیں گھر ۔۔ “
وہ کہتے ہوئے حورین کے کمرے کی جانب بڑھ گئی جبکہ رامین کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر گرا تھا
” یا اللہ میرے بچوں کی آزمائش ختم کر دے ۔۔ میرا کوئی بچہ سکون میں نہیں ہے ۔۔ کوئی خوش نہیں ہے ۔۔ میری مریم کو اولاد سے محروم نہ رکھیں ۔۔ تیرے خزانے میں کمی تو نہیں ہے ۔۔ معجزہ کر دیں کوئی ۔۔ میری بچی کو اولاد دیدیں ۔۔ اور میرا اشعل جس تکلیف سے گزر رہا ہے اسے دور کر دیں ۔۔ میرے بچے کو صبر آ جائے ۔۔ اور میری امل ۔۔ وہ پتہ نہیں کیسی ہے ۔۔ میری بچی کو سیدھا راستہ دیکھا میرے اللہ ۔۔ میرے بچوں کو ڈھیروں خوشیاں دے ۔۔ “
” اور عروہ کی پریشانیاں دور کر دیں مولا ۔۔ اس بچی نے کسی کا کیا بگاڑا ہے ۔۔ وہ تو بہت معصوم ہے ۔۔ اس کو خوشیاں نصیب ہوں ۔۔ “
مریم کو دور سے آتا دیکھ کر انہوں نے اپنے آنسو پونچھے تھے
////////////////////////
ان کا فون مسلسل بج رہا تھا وہ عروہ کے کمرے میں تھیں مریم ویسے آج رامین کے ساتھ گھر گئی ہوئی تھی جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تو مسلسل بجتے موبائل کی جانب بڑھیں عرش کا نمبر دیکھ کر انہوں نے گہرا سانس لیا وہ جانتی تھیں کہ عرش انہیں مسلسل کال کیوں کر رہا ہے
” السلام علیکم مام ۔۔ کیسی ہیں آپ ۔۔ “
ان کے کال پک کرتے ہی عرش کی آواز موبائل سپیکر سے ابھری
” وعلیکم السلام میں ٹھیک ہوں ۔۔ تم کیسے ہوں ۔ “
حورین نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا تبھی کمرے میں ضامن شاہ داخل ہوئے تھے
” ٹھیک ہوں مام ۔۔ آپ سے بات کرنی تھی ۔۔ “
ضامن شاہ ، حورین کے ساتھ آ کر بیٹھ چکے تھے
” ہاں بولو عرش ۔۔ سن رہی ہوں ۔۔ “
حورین نے ایک نظر ضامن شاہ کو دیکھتے ہوئے کہا
” مام آپ نے ڈیڈ سے کہہ کر میرا ٹرانسفر کراچی کروایا ہے نا ۔۔ “
عرش کی آواز میں بے بسی تھی جبکہ حورین نے محض ہنکار بھرا
” ہممم “
مام آپ نے ایسا کیوں کیا ۔۔ “
عرش شاہ کی آواز میں ناسمجھی تھی
” مجھے اور تمہارے ڈیڈ کو یہی مناسب لگا ۔۔ کیونکہ اب تم اتنے خودمختار ہو گئے ہو کہ ماں باپ کی بات کی تمہارے آگے کوئی اوقات ہی نہیں ہے ۔۔ “
حورین کے لہجے میں طنز کی آمیزش تھی عرش شاہ لب بھینچ کر رہ گیا
” ایسا کیوں کہہ رہی ہیں ماما ۔۔ ؟”
” میں نے تمہیں کہا تھا کہ مریم کو اپنے ساتھ رکھو ۔۔ جیسے امل کو رکھا ہوا ہے ۔۔ لیکن تم اکیلے ہی چلے گئے ۔۔ اب اچھا ہے نا کہ تم دونوں کو ساتھ بھی رکھو گے اور ہمارے سامنے بھی رہو گے ۔۔ “
حورین نے ضامن شاہ کو دیکھتے ہوئے بات مکمل کی تو ضامن شاہ نے ان کی بات پر سر ہلایا
” ماما وہ دونوں ساتھ کیسے رہیں گی ۔۔ ؟”
عرش کی آواز میں فکر تھی
” یہ تمہارا مسلہ ہے کہ تم انہیں کیسے رکھتے ہو عرش شاہ ۔۔ ہمیں تم سے مزید کسی بے وقوفی کی امید نہیں ہے ۔۔ دو تین دن میں پہنچو یہاں پر ۔۔ خدا حافظ “
ضامن شاہ نے حورین سے موبائل لے کر عرش کو کہا اور فون بند کر دیا جبکہ حورین اب خاموشی سے انہیں دیکھنے لگی
” مجھے مریم کے لیے بلکل اچھا نہیں لگتا ۔۔ وہ بہت اچھی بچی ہے کچھ کہتی نہیں ہے ۔۔ مگر مجھے پتہ ہے کہ وہ اندر سے کتنا ٹوٹی ہوئی ہے ۔۔ اپنے شوہر کو کسی دوسری عورت کے ساتھ تصور کرنا ہی تکلیف دہ ہے ۔۔ وہ تو پھر اس اذیت سے گزر رہی ہے ۔۔ “
وہ افسردہ سی بول رہی تھیں
” ٹھیک کہ رہی ہو تم ۔۔ مریم بے ضرر سی بچی ہے ۔۔ نا شکوہ شکایت کرتی نا کچھ کہتی ہے ۔۔ عرش کو بھی معاف کر دیا ۔۔ ہم سے بھی اس کا شکوہ تک نہیں کیا ۔۔ “
ضامن شاہ ، مریم کو یاد کرتے بولے
” اسی لیے تو میں چاہتی ہوں عرش یہی پر رہے ۔۔ جب عرش یہاں ہوتا ہے مریم کم از کم خوش تو رہتی ہے ۔۔ اور پھر عرش بھی سکون میں رہے گا ۔۔ وہاں ہوتا ہے تو یہاں کی ٹینشن رہتی ہے اسے ۔۔ یہاں ہوتا ہے تو جانے کی فکر ۔۔ “
وہ سرد آہ بھرتی بولی تھیں
” ہممم ۔۔ اچھا ہے امل یہاں آ جائے گی تو علی اور رامین کے بھی دل کو قرار آئے گا ۔۔ “
ضامن شاہ کی بات پر حورین نے اتفاق کیا کیونکہ وہ علی اور رامین کا دکھ سمجھتی تھیں
” وہ دونوں امل سے ناراض ضرور ہیں مگر امل اولاد ہے ان کی ۔۔ فکر تو ہوتی ہے نا اس کی ۔۔ اور پھر اتنے مہینے کافی ہوتے ہیں سزا کے لیے ۔۔ “
حورین سنجیدگی سے گویا ہوئیں
” ظاہر ہے ماں باپ کو اپنی اولاد پر مان ہوتا ہے ۔۔ جب یہی اولاد ماں باپ کا مان ٹوڑتی ہے تو دکھ تو ہوتا ہے ۔۔ مگر پھر بھی اولاد تو اولاد ہوتی ہے ۔۔ “
ضامن شاہ بھی ان کی بات پر متفق ہوتے ہوئے بولے تھے
” ضامن شاید آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ مگر میری بیٹی کی زندگی کب ٹھیک ہو گی ۔۔ اس کی آنکھوں کی ویرانی کب ختم ہو گی ۔۔ “
چند لمحوں بعد حورین کی بھرائی آواز نے ضامن شاہ کو متوجہ کیا
” نا وہ ہنستی ہے ۔۔ نا زیادہ بات کرتی ہے ۔۔ سارا دن خاموش رہتی ہے ۔۔ ضامن میری بیٹی ایسی تو بلکل نہیں تھی ۔۔ “
وہ سسک کر ضامن شاہ سے گویا ہوئیں تو ضامن شاہ نے ان کو اپنے ساتھ لگا لیا اور اپنی آنکھوں کی نمی چھپانے لگے تھے
///////////////////////
وہ ابھی ہی اپنے کمرے میں سونے کی غرض سے آئی تھی عرش شاہ آج غیر معمولی طور پر جلدی گھر آ گیا تھا مگر آتے ہی کمرے میں بند ہو گیا تھا اس کے تاثرات سے وہ کافی غصے میں لگا تھا اسی لیے کوشش کے باوجود وہ اسے کھانے کے لیے بلانے کی ہمت نہیں کر سکی تھی مگر ابھی اسے کمرے میں آئے کچھ ہی دیر گزری تھی جب دروازہ زور سے بجنے لگا وہ فوراً بیڈ سے اتری تھی دل میں خوف محسوس ہوا تھا کیونکہ گھر میں اس کے اور عرش کے علاؤہ کوئی نا تھا
” جی ۔۔ ؟؟”
ڈرتے ڈرتے اس نے دروازہ کھولا تھا عرش کو سامنے دیکھ کر اسے یک گونہ سکون بھی ہوا تھا
” اپنا سامان پیک کر لو ۔۔ ہم کل حویلی جا رہے ہیں ۔۔ “
وہ اس پر حکم صادر کرتا واپس مڑ گیا جبکہ امل حیرت سے اس کی پشت کو دیکھتی رہ گئی
” اس کا مطلب میں ماما بابا سے ملوں گی ۔۔ “
بڑبڑاتے ہوئے وہ مسکرائی تھی
” مگر آج انہیں یہ خیال کیسے آ گیا کہ مجھے بھی حویلی لے کر جانا چاہیے ۔۔ “
پر سوچ انداز میں بڑبڑاتے ہوئے اس نے دروازہ بند کیا
جبکہ عرش شاہ اتنے سرد موسم میں رات کے اس پہر لان کی جانب بڑھا تھا اسے یہی فکر لگ گئی تھی کہ مریم کو کس طرح یہ بات بتائے کہ وہ امل کو ساتھ لا رہا ہے
” مریم کو بہت دکھ ہو گا ۔۔ “
وہ سوچتے ہوئے بڑبڑایا تھا
” وہاں امل کو اپنے ساتھ کیسے برداشت کروں گا ۔۔ اففف ۔۔ اللہ پاک میری مدد کریں ۔۔ میں مزید نا اپنے ماں باپ کو دکھ دینا چاہتا ہوں اور نا مریم اور امل کو ۔۔ اللہ مجھے صبر دیں ۔۔ “
وہ آسمان کی جانب دیکھتا بولا تھا جانے آگے اسے اور کون سی مشکلات کا سامنا کرنا تھا
///////////////////////
