53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam (Episode 27)

Tere Sitam By Fatima

دروازے پر ہوتی دستک پر حورین نے آنے والے کو اجازت دی وہ خود ہسپتال جانے کو تیار تھی بس شال اپنے گرد لپیٹ رہی تھی

جب امل اجازت ملتے کمرے میں داخل ہوئی اور دروازہ بند کیا

” السلام علیکم خالہ ۔۔ !”

حورین جو کہ اب کچھ ضروری کاغذات اپنے بیگ میں رکھ رہی تھی امل کی آواز پر چونک کر چہرہ اٹھایا اور اسے دیکھا

” وعلیکم السلام بیٹا آؤ ۔۔ “

وہ مسکرا کر کہتیں اپنا بیگ ایک طرف رکھ کر امل کی جانب متوجہ ہو چکی تھیں جبکہ امل ان کا اشارہ سمجھتی صوفے پر ان کی پاس بیٹھ گئی

” خالہ وہ انکل کہاں ہیں ۔۔ ؟”

ضامن شاہ کو کمرے میں نہ پا کر امل نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا

” وہ تو آج صبح ہی کسی ضروری کام کی وجہ سے جلدی ہی چلے گئے تھے ۔۔ “

حورین نے بغور امل کو دیکھتے ہوئے جواب دیا

” کیا بات ہے بیٹا ۔۔ کچھ کہنا چاہ رہی ہو ۔۔ ؟”

وہ امل کے چہرے پر پریشانی دیکھ کر پوچھنے لگیں

” جی وہ ۔۔ “

” عرش نے کچھ کہا ہے ۔۔ ؟”

وہ اس کی جھجک محسوس کرتی پوچھ رہی تھیں

” نہیں خالہ ۔۔ انہوں نے کچھ نہیں کہا ۔۔ کل بھی آپ کو غلط فہمی ہوئی تھی ۔۔ بلکہ وہ بہت اچھے ہیں ۔۔ “

ان کے سوال پر امل نے فوراً سے عرش کی صفائی پیش کی تو حورین نے حیرت سے اسے دیکھا یہ وہ امل تو نہیں تھی جو کسی کو خاطر میں نہیں لاتی تھی بلکہ بہت بدلی ہوئی لگ رہی تھی

” ہممم اچھا پھر کیا بات ہے ۔۔ ؟ پریشان کیوں ہو ۔۔ ؟”

انہوں نے بات تبدیل کی

” وہ مجھے ۔۔ خالہ وہ مجھے ماما بابا کے پاس جانا ہے ۔۔ “

وہ سر اور نگاہیں جھکائے بولی تھی بولتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے

” بیٹا روتے نہیں ہیں ۔۔ میں عرش سے کہتی ہوں تمہیں تمہارے ماما بابا سے ملوا لائے ۔۔ “

حورین اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولیں

” نن نہیں نہیں خالہ ۔۔ انہیں مت کہیں ۔۔ آپ لے چلیں مجھے ۔۔ “

امل نے فوراً نفی میں سر ہلایا تھا

” کیوں بیٹا ۔۔ عرش کے ساتھ کیوں نہیں جانا ۔۔ شوہر ہے وہ تمہارا ۔۔ اور مناسب بھی یہی ہے کہ تم دونوں جائیں ۔۔ “

حورین اس کی بات پر اسے سمجھاتے ہوئے بولیں

” لیکن خالہ ۔۔ “

امل کچھ کہتے کہتے رکی

” اچھا مجھے ایک بات بتاؤ ۔۔ “

امل کے چہرے کو جانچتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے وہ بولیں

” جی پوچھیں ۔۔ “

” تمہیں عرش کے ساتھ رہنا ہے نا ۔۔ یا پھر ۔۔ ! “

انہوں نے جان بوجھ کر بات اُدھوری چھوڑی تھی اور بغور امل کے تاثرات دیکھ رہی تھیں

” جی خالہ مجھے عرش کے ساتھ رہنا ہے ۔۔ “

امل کے جواب پر حورین نے اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھا تھا

” اچھی بات ہے ۔۔ نکاح شادی یہ کوئی مذاق نہیں ہے ۔۔ میں نے عرش کو بھی یہی سمجھایا ہے ۔۔ تمہیں بھی یہی کہہ ہوں ۔۔ کہ نکاح چاہے جس حال میں بھی ہوا ہو اب تم دونوں ایک بہت پاک رشتے میں بندھ چکے ہو ۔۔ امل یہ رشتہ جتنا مضبوط ہے نا بیٹا اتنا ہی نازک بھی ہے ۔۔ تمہیں ابھی بہت زیادہ سمجھداری سے کام لینا ہے ۔۔ “

وہ اسے سمجھانے والے انداز میں کہہ رہی تھیں وہ ان کی بات خاموشی سے سن رہی تھی

” میں کوشش کر رہی ہوں خالہ کہ عرش کے مطابق خود کو ڈھال لوں ۔۔ مگر وہ تو مریم کے علاؤہ کچھ سوچتے ہی نہیں ہیں ۔۔ “

وہ نہ چاہتے ہوئے بھی شکوہ کر گئی

” بیٹا ایک بات یاد رکھنا ۔۔ کبھی بھی مریم کے ساتھ خود کو کمپیئر مت کرنا ۔۔ میں تمہیں بتاتی ہوں جب مریم اور عرش کی شادی ہوئی تھی تو مریم عرش کے لیے صرف بیوی تھی ۔۔ مگر آہستہ آہستہ مریم نے اپنی فرمانبرداری اور اچھی سیرت سے عرش کا دل جیت لیا ۔۔ اور اب تمہیں بھی خود اپنی جگہ بنانی ہے بیٹا ۔۔ “

وہ نرمی سے اسے سمجھا رہی تھیں

” میں کوشش کروں گی خالہ ۔۔ مگر وہ تو ہمیشہ ہی غصے سے بات کرتے ہیں ۔۔ “

وہ عرش کی بے رخی برداشت کر کر کے مایوس ہو چکی تھی حورین نے اسے بغور دیکھتے ہوئے سوچا

” ٹھیک ہو جائے گا وہ ۔۔ تم فکر نہیں کرو ۔۔ اور جاؤ تیار ہو جاؤ میں عرش کو کہتی ہوں تمہیں لے جائے ۔۔ “

وہ اس کا مایوس چہرہ دیکھتی بولیں تبھی دروازے پر دستک ہوئی

آ جائیں ۔۔ “

حورین نے دروازے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو اندر آتا عرش ، حورین کے پاس امل کو بیٹھا دیکھ کر ٹھٹھک کر وہیں رک گیا امل کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر عرش شاہ نے اس پر ایک سخت نگاہ ڈالی جبکہ امل نے اس کی نگاہوں کا سرد پن محسوس کرتے جلدی سے آنسو پونچھے

” مام اگر آپ فری نہیں ہیں تو میں بعد میں آ جاؤں ۔۔ “

حورین کو دیکھتے ہوئے عرش شاہ نے دھیمی آواز میں کہا

” اندر آ جاؤ عرش مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔ “

انہوں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے عام سے انداز میں کہا تو عرش دروازہ بند کرتا آگے بڑھا

” تم بھی بیٹھو امل ۔۔ “

انہوں نے پہلے عرش سے کہا اور پھر اپنے پاس سے اٹھتی امل کا ہاتھ تھام کر دوبارہ اسے وہیں بیٹھا دیا جبکہ عرش لب بھینچ کر آگے بڑھا اور بیڈ پر بیٹھ گیا

” عرش امل کو اس کی ماما بابا سے ملوانے لے جاؤ ۔۔ “

حورین نے عرش کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے حکمیہ انداز میں کہا

جبکہ عرش کل رات کی غلط فہمی دور کرنے ان کے پاس آیا تھا ان کے حکمیہ انداز پر اس نے محض سر ہلایا جبکہ امل عرش کی آمادگی پر حیرت سے اسے دیکھنے لگی

” جاؤ امل تم چادر لے کر آؤ ۔۔ “

عرش نے امل پر سنجیدہ نگاہ ڈالتے ہوئے کہا تو امل نے پہلے عرش شاہ کو دیکھا اور پھر حورین کو دیکھا دونوں ماں بیٹے کے چہرے پر سنجیدگی دیکھتی وہ اٹھ گئی اور سر ہلاتی کمرے سے نکل گئی

” مام سوری ۔۔ “

عرش شاہ نے بغیر تمہید باندھے دو لفظی بات کی تو حورین نے خاموشی سے اسے دیکھا

” مام سچ میں آپ جیسا سمجھ رہی تھیں ویسا نہیں تھا ۔۔ مگر پھر بھی میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کبھی آپ کا سر نہیں جھکاؤ گا ۔۔ “

وہ شرمندہ سا گویا ہوا تھا

” ہممم “

” اب ناراض تو نہیں ہیں نا ۔۔ ؟”

عرش کی بات پر حورین نے نفی میں سر ہلایا

” عرش میں تمہارا بھلا ہی چاہتی ہوں ۔۔ دیکھو بیٹا انصاف کرو دونوں کے ساتھ ۔۔ مریم تو واقعی ہیرا ہے ۔۔ وہ تو اپنی خوش اخلاقی اور اچھی عادتوں سے خود ہی دل جیت لیتی ہے ۔۔ مگر امل کو بھی ایک موقع دو ۔۔ وہ بہت نادان ہے ۔۔ مگر اب جیسی بھی ہے تمہاری بیوی ہے ۔۔ اس کا بھی تم پر برابر کا حق ہے ۔۔ اگر وہ کچھ کہہ جاتی ہے یا غلط کر دیتی ہے تو بیٹا پیار سے سمجھا دیا کرو ۔۔ سختی مت کرو اس پہ ۔۔ “

وہ عرش شاہ کے احترام میں جھکے سر کو دیکھتی ہوئی نرم انداز میں اسے سمجھا رہی تھیں

” دیکھو عرش میرے اور تمہارے ڈیڈ کے لیے بھی مریم اور امل برابر ہیں ۔۔ جیسے امل کے ساتھ نکاح پر میں نے اور تمہارے ڈیڈ نے سخت ناراضگی اختیار کی تھی تم سے ۔۔ اور آج تک میں اور تمہارے ڈیڈ تمہاری اس حرکت پر مریم کے آگے شرمندہ ہیں ۔۔ اسی طرح امل بھی ہمیں عزیز ہے ۔۔ تم اس کے ساتھ اگر کوئی زیادتی کرو گے تو مزید ہمیں ناراض کرو گے ۔۔ اور پھر اگر دونوں میں سے کسی کو کم تر سمجھو گے یا برابر حقوق نہیں پورے کرو گے تو بیٹا اللہ کے آگے جواب دہ ہو گے ۔۔ “

وہ نہایت سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھیں

” جی مام اب ایسا نہیں ہو گا ۔۔ میں کوشش کروں گا ۔۔ “

وہ دھیمی آواز میں بولا

” اچھی بات ہے ۔۔”

” بس بہت ہو گیا بیٹا ۔۔ اب اپنے معاملات ٹھیک کرو ۔۔ “

” جی مام ۔۔”

عرش شاہ نے سر جھکائے محض دو لفظی جواب دیا اور اٹھ کھڑا ہوا

” اب اجازت دیں ۔۔ “

وہ ان کے سامنے جھکا تھا حورین نے اس کے سر پر بوسہ دیا

” سلامت رہو ۔۔ “

دعا دے کر وہ اسے جاتا دیکھ رہی تھیں اور خود بھی اٹھ کھڑی ہوئیں

” رضیہ جاؤ مریم کو بلا کر لے کر آؤ ۔۔ “

کمرے سے نکل کر انہوں نے ملازمہ کو حکم دیا تو وہ فوراً سیڑھیاں چڑھ کر مریم کے کمرے کی جانب بڑھی تھوڑی دیر بعد مریم ان کے سامنے تھی

” السلام علیکم ۔۔ مام آپ نے بلایا ۔۔ “

مریم جب ان کے سامنے آئی تو انہوں نے مریم کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ دیکھی

” وعلیکم السلام ۔۔ ماشاءاللہ ہمیشہ خوش رہو ۔۔ بہت پیاری لگ رہی ہے میری بیٹی ۔۔ “

بے ساختہ آگے بڑھ کر انہوں نے اس کا ماتھا چوما تھا جبکہ مریم کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی

” مریم بیٹا شام کو تمہیں عرش کے ساتھ ہاسپٹل آنا ہے ۔۔ کچھ ٹیسٹ وغیرہ ہیں تمہارے اور عرش کے ۔۔ “

ہلکا سا مسکرا کر وہ بولیں تو مریم کی مسکراہٹ سمٹی

” ماما۔۔ کیا کچھ فائدہ ہوگا اس علاج سے ۔۔ ؟”

اس کے انداز میں کیا کچھ نہیں تھا ڈر ، بے بسی

حورین نے محبت پاش نگاہوں سے اسے دیکھا

” بلکل ہو گا بیٹا ۔۔ اب تو لندن والے ڈاکٹر کا جواب بھی آ گیا ہے ۔۔ مجھے پوری امید ہے ۔۔ ہمیں کامیابی ضرور ہو گی ۔۔ ” ان کے پر یقین انداز میں کہنے پر مریم نے اثبات میں سر ہلایا

” ماما وہ میں کہہ رہی تھی کہ ۔۔ اب کیا ضرورت ہے بچے کی ۔۔ آپ شاہ جی کو بھی سمجھا دیں وہ میری تو اس معاملے میں سنتے ہی نہیں ہیں “

وہ سر جھکا کر جھجک کر بول رہی تھی

” کیا مطلب ۔۔ کس بارے میں بات کر رہی ہو بیٹا ۔۔ ؟”

حورین نے ناسمجھی سے سے دیکھا

” میرا مطلب ہے کہ امل اور شاہ جی کے بچے ہو تو جانے ہیں پھر میرے علاج کی کیا ضرورت ۔۔ میرے بھی تو وہی بچے ہوں گے ۔۔ “

جھجھک کر بولتے ہوئے اس نے بات پوری کی

” مریم یہ کیسی بات کی ہے بیٹا تم نے ۔۔ اپنی اولاد اپنی ہوتی ہے ۔۔ خدا نا کرے تم کسی کی اولاد پالو ۔۔ ہرگز نہیں ۔۔ چلو اگر عرش اور امل کے بچے ہوتے بھی ہیں تو بیٹا پھر بھی وہ تمہارے تو نہیں ہوں گے نا ۔۔ میں نہیں چاہتی کہ تم امل کے بچے پالو ۔۔ “

حورین اسے دیکھتی دکھ سے بولی تھیں انہیں مریم سے اس طرح کی بات کی توقع نہیں تھی

” وہ شاہ جی کے بھی تو ہوں گے نا ۔۔ “

بولتے ہوئے مریم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے

” خبر دار مریم اگر تم نے ایسا کچھ سوچا ۔۔ میں کبھی تمہیں دوسروں کی غلامی کرنے نہیں دوں گی ۔۔ کم از کم اپنی زندگی میں تو تمہیں ایسا نہیں کرنے دوں گی ۔۔ “

حورین کے لہجے میں شدید دکھ تھا

” ماما میں تو بس ۔۔ “

” مریم بیٹا خدا کے واسطے ہوش کے ناخن لو ۔۔ تھوڑی سی دنیا والوں کی طرح بنو ۔۔ اتنا خود کو دوسروں کے لیے وقف مت کرو ۔۔ خود اپنا بھی کچھ سوچو ۔۔ اولاد عورت کی ڈھال ہوتی ہے ۔۔ اول تو خدا تمہیں اپنی اولاد دے گا انشاء اللہ ۔۔ لیکن اگر نہ بھی دی تو تم کبھی یہ بے وقوفی نہیں کرو گی ۔۔ “

مریم کے آنسوؤں نے حورین کو مزید دکھ میں مبتلا کیا تھا وہ نرمی سے اسے سمجھا رہی تھیں

” ماما خدا نے اتنی بڑی آزمائش ۔۔ “

وہ مزید بول ہی نہ سکی تھی اور رونے لگی تھی

” خدا اپنے نیک اور اچھے بندوں کو ہی آزمائش میں ڈالتا ہے بیٹا ۔۔ ہمت نہیں ہارنی تم نے ۔۔ مجھے تم بہت عزیز ہو ۔۔ میں نہیں چاہتی کہ میری بیٹی کسی دوسری کی اولاد پالے ۔۔ میں تو دن رات یہی دعائیں کرتی ہوں کہ خدا تمہیں اولاد دے ۔۔ کوئی معجزہ ہو جائے ۔۔ اور انشاء اللہ وہ سنے گا ہماری ۔۔ “

حورین نے آگے بڑھ کر مریم کو اپنے سینے سے لگایا تھا اور اس کے سر پر بوسہ دے کر نرمی سے کہا

” میرے ساتھ دو ماؤں کی دعائیں ہیں ۔۔ تو پھر یہ دعائیں رد کیسے ہو سکتی ہیں ۔۔ “

وہ ان کی اس قدر محبت پر سرشاری سے گویا ہوئی

” آئیندہ کبھی بھی اس طرح کی کوئی بات نہیں کرنی تم نے ۔۔ بلکہ اپنے لیے دعا کرو ۔۔ تمہیں پتہ ہے میں نے تو خدا سے دعا کی ہے کہ جب ہماری یہ مراد پوری ہوتی ہے نا تو اپنے پوتے یا پوتی کا پہلا سفر تمہارے اور عرش کے ساتھ کعبہ بھیجوں گی ۔۔ انشاء اللہ ۔۔ “

وہ مریم کو پر یقین انداز میں مسکرا کر کہہ رہی تھیں جبکہ مریم نے نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اور بے ساختہ ہی مریم کے لبوں سے نکلا

” انشاء اللہ ۔۔ “

///////////////////////

” حورین ۔۔ “

وہ مریم کو سمجھا کر ابھی لاؤنج سے نکلی ہی تھی کہ چھوٹی دادو کی پکار پر رک کر مڑی

” جی پھوپھو ۔۔ “

ثناء شاہ کے سنجیدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے حورین نے پوچھا

” تم ڈاکٹر ہو ۔۔ اور پھر بھی اپنی بہو کو جھوٹی تسلیاں کیوں دے رہی تھی ۔۔ وہ بانجھ ہے ۔۔ اسے یہ حقیقت قبول کر لینے دو ۔۔ تم نے اور تمہارے بیٹے نے کچھ زیادہ ہی اسے سر پر چڑھا رکھا ہے ۔۔ “

چھوٹی دادو نے نخوت سے کہا

” خدا کا خوف کریں پھوپھو ۔۔ یہ کس قسم کی بات کی ہے آپ نے اس معصوم بچی کے لیے ۔۔ “

حورین کو ان کی بات بہت بری لگی تھی

” کیوں کیا غلط کہہ دیا میں نے ۔۔ اب بانجھ کو بانجھ نہ کہے بندہ تو پھر کیا کہے ۔۔ ؟”

وہ سر جھٹک کر بولی تھیں

” آہستہ بولیں پھوپھو ۔۔ خدا کے لیے ایسا مت کہیں ۔۔ مریم سنے گی تو ٹوٹ جائے گی بلکل ۔۔ کچھ تو خیال کریں اس بچی کا ۔۔ “

حورین اس پاس دیکھتی دھیرے سے بولی تھیں

” ایک تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ حورین تم اور ضامن کس مٹی کے بنے ہو ۔۔ تم چاہے مریم اور اس کے بھائی کو اپنے سر بھی قلم کر کے پیش کر دو گے تب بھی دنیا نے یہی کہنا ہے کہ ۔۔ بے چاری پر ظلم کر دیے ! سوتن مسلط کر دی بیچاری پہ ۔۔ حالانکہ ایسا کوئی دنیا سے انوکھا کام نہیں کیا ۔۔ عرش کو بھی دن رات تم نے اور مریم نے پریشان کیا ہوتا ہے ۔۔ ارے بچے نے نکاح ہی کیا ہے ۔۔ کوئی گناہ تو نہیں کیا ۔۔”

وہ حورین کو دیکھتی افسوس سے بولی تھیں

” پھوپھو ظلم تو مریم پہ ہوا ہے ۔۔ کوئی عورت بھی اپنے شوہر کی زندگی میں اپنے برابر کسی دوسری عورت کو برداشت نہیں کرتی ۔۔ یہ تو مریم اتنی اچھی بچی ہے ۔۔ صابر بچی ہے ۔۔ ورنہ کوئی اور ہوتی تو واویلا مچا دینا تھا اس نے ۔۔ گھر میں زور فساد ہونا تھا ۔۔ “

حورین اس پاس دیکھتی ہوئی دھیمی آواز میں بولی تھیں

” اب کون سا سکون ہے تمہارے گھر میں ۔۔ بچارے عرش کو کسی نا کسی بات پر تم شرمندہ کر دیتی ہو صرف مریم کی خاطر ۔۔ کیسی ماں ہو تم حورین ۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتا ۔۔ بہو کی پڑی رہتی ہے بیٹے کی کوئی فکر نہیں ہوتی تمہیں ۔۔ بہو بھی وہ جس کے بھائی نے تمہاری بیٹی کو برباد کر دیا ۔۔”

ان کا چہرہ غصے سے سرخ تھا حورین نے بے بسی سے انہیں دیکھا

” پھوپھو پلیز آپ مریم کے لیے ایسے الفاظ استعمال مت کیا کریں ۔۔ مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا ۔۔ اولاد نہ ہونا اس بچی کے اختیار میں تھوڑی ہے ۔۔ پھر ہم اسے کیوں طعنے دیں ۔۔ “

حورین کے انداز میں بے بسی تھی

” ارے طعنے کب دیے ہم نے ۔۔ تم لوگوں کی وجہ سے میں تو اسے اب منہ ہی نہیں لگاتی ۔۔ حالانکہ اصولاً عرش اور تمہیں مریم کو گھر سے نکال دینا چاہیے تھا ۔۔ اس کے بھائی کو بھی تو پتا چلے ۔۔ جب بہن بیٹی اجڑ کر آتی ہے تو دنیا کیسے ویران ہو جاتی ہے ۔۔ “

وہ ماتھے پر بل ڈالے حورین کو دیکھتے ہوئے افسوس سے بولیں

” پلیز پھوپھو ۔۔ مریم اور عروہ کے معاملے کو الگ رکھیں ۔۔ کیوں دونوں کو ساتھ جوڑ رہی ہیں ۔۔ “

حورین نے آہستگی سے بولتے ہوئے انہیں دیکھا

” ہاں ہاں ۔۔ میں تو غلط ہی ہوں تمہاری اور ضامن کی نظر میں ۔۔ چلی جاتی ہوں میں پھر یہاں سے ۔۔ “

وہ آنکھوں میں آنسو لیے بولیں تھیں

” پھوپھو ایسا کیوں کہہ رہی ہیں ۔۔ آپ تو ہماری بڑی ہیں ۔۔ “

حورین نے بے بسی سے انہیں دیکھا

” حورین تمہیں اپنی بیٹی نظر نہیں آتی ۔۔ پتہ نہیں حورین تم اور تمہاری اولاد کس مٹی کے ہو ۔۔ روحان نے ہماری عروہ کی گود اجاڑ دی ہے ۔۔ زندگی برباد کر دی اس کی ۔۔ اور تم لوگوں کو ذرا بھی نفرت نہیں ہوتی ان دونوں بہن بھائی سے ۔۔ ؟”

وہ حورین کو افسوس سے دیکھتی ہوئی گویا ہوئیں

” پھوپھو اس سب میں مریم کا کیا قصور ہے ۔۔ روحان نے جو کیا وہ بذات خود اپنے عمل کا جواب دہ ہے ۔۔ مریم بے قصور ہے ۔۔ پھر ہم یا عرش کیوں روحان کے کیے کی سزا مریم کو دیں ۔۔ “

حورین نے دھیمی آواز میں انہیں دیکھتے ہوئے کہا

” بھئی پہلی ساس دیکھی ہے جو اپنی بیٹی سے زیادہ بہو کو چاہتی ہے ۔۔ تمہیں اپنی بیٹی کی فکر نہیں ہے ۔۔ ؟”

انہوں نے چہرے پر افسردگی سجائے حورین سے پوچھا تو اس نے گہرا سانس لیا

” میری بچی کے ساتھ تو بہت بڑا ظلم ہوا ہے پھوپھو ۔۔ مگر میں نے یہ معاملہ خدا کے سپرد کیا ۔۔ وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔۔ “

بولتے ہوئے ان کے لہجے میں درد تھا

” جواب طلب کرو اس روحان سے ۔۔ کیوں کیا اس نے ہماری بچی کے ساتھ یہ ظلم ۔۔ یاد نہیں عرش نے نکاح کیا کر لیا امل سے ۔۔ روحان اپنی بہن کا بدلہ لینے پہنچ گیا ۔۔ تو ہم کیوں نہیں پوچھ سکتے ۔۔ ہماری بچی کیا مفت کی تھی ۔۔

ہائے حورین ، ضامن نے روحان کو عروہ دے کر بڑی بے وقوفی کی ورنہ رامین کا بیٹا بھی تو بڑا اچھا بچہ ہے ۔۔ روحان تو ساری عمر باہر رہا تھا ۔۔ اس کی نیت کا کیا معلوم تھا کسی کو ۔۔ جبکہ رامین کا بیٹا تو تمہاری نظروں کے سامنے پلا بڑھا تھا ۔۔ بیٹی کے معاملے میں بڑا غلط فیصلہ کیا تم دونوں نے ۔۔ “

چھوٹی دادو کے انداز میں دکھ تھا وہ افسردگی سے بولی تھیں

” پلیز پھوپھو ایسی بات مت کریں ۔۔ جس کا جہاں نصیب ہوتا ہے وہیں شادی ہوتی ہے اس کی ۔۔ عروہ کا نصیب روحان کے ساتھ تھا ۔۔ “

حورین نے تھکے ہوئے انداز میں کہا

” تم لے کر بیٹھی رہو نصیب کی باتیں ۔۔ میں تو آج کل میں ہی رامین اور علی سے بات کرتی ہوں ۔۔ کہ اپنے ہی اپنوں کے کام آتے ہیں ۔۔ جو پہلے نہ ہو سکا وہ اب کر لیتے ہیں ۔۔ “

انہوں نے سر پر موجود دوپٹے کو مزید درست کرتے ہوئے کہا تو حورین نے انہیں ناسمجھی سے دیکھا

” کیا مطلب ۔۔ “

” مطلب ۔۔ عروہ اور اشعل ۔۔ “

” پلیز پھوپھو ۔۔ ایسی باتیں مت سوچیں ۔۔ آپ رامین یا علی سے ایسی کوئی بات نہیں کریں گی ۔۔ ابھی عروہ ، روحان کے نکاح میں ہے ۔۔ “

حورین نے ان کی بات کی نفی کرتے ہوئے کہا

” ہاں تو ساری زندگی تھوڑی رہنا ہے ۔۔ میں ضامن اور عرش سے کرتی ہوں بات ۔۔ “

وہ اب بڑے اطمینان سے گویا ہوئیں

” پھوپھو ہم نے یہ فیصلہ عروہ اور روحان پہ چھوڑ دیا ہے ۔۔ وہ دونوں آگے کیا چاہتے ہیں اس کا فیصلہ وہی دونوں کریں گے ۔۔ “

حورین نے نہایت سنجیدگی سے کہا

” میں کہہ رہی ہوں حورین مت کرو اتنا ان دونوں بہن بھائی کے لیے ۔۔ رہنا ان دونوں نے پھر بھی مظلوم ہی ہے ۔۔ چاہیے تم جتنا مرضی کر لو ان کا ۔۔ خود کو اور اپنی اولاد کو زبح کر کے بھی پیش کر دو گی پھر بھی خوش نہیں ہوں گے وہ ۔۔ “

چھوٹی دادو کو ان کی بات بلکل پسند نہیں آئی تھی

” پلیز پھوپھو اب ایسا تو مت کہیں ۔۔ مریم اور روحان سے ہمارا ایک اور بھی رشتہ ہے ۔۔ “

حورین نے ان کا ہاتھ تھام کر کہا

” صرف اپنی بیہ کی وجہ سے لحاظ کر جاتی ہوں ورنہ ۔۔ جتنا غصہ مجھے ان دونوں بہن بھائی پہ آتا ہے نا !!! ۔۔ حالانکہ اتنا پیار دیا ان دونوں کو ۔۔ پڑھایا لکھایا ۔۔ اپنے بیٹے اور بیٹی کا رشتہ بھی دے دیا ۔۔ مگر پھر بھی یہ دونوں مظلوم کے مظلوم ہی ہیں ۔۔”

ان کے لہجے میں غم اور غصہ تھا

” پھوپھو ۔۔ “

” عروہ کی جان چھڑاؤ روحان سے حورین ۔۔ کیا حال ہو گیا ہماری معصوم بچی کا ۔۔ ارے سب سے زیادہ ظلم اس معصوم پہ ہوا ہے “

بات کرتے ہوئے وہ بھی رو پڑیں

” میرا دل پھٹتا ہے عروہ کو اس طرح دیکھ کر پھوپھو ۔۔ پلیز دعا کریں ۔۔ میری بیٹی کی آزمائش بھی ختم ہو ۔۔ “

حورین نے روندی ہوئی آواز میں کہا تو پھوپھو نے اسے اپنے گلے سے لگا لیا

///////////////////////

راستہ بلکل خاموشی سے کٹا تھا عرش نے جب رامین اور علی کے گھر کے سامنے گاڑی روکی تو امل کا دل بے چین ہونے لگا آج کتنے مہینوں کے بعد وہ اپنے ماں باپ سے ملنے آئی تھی پتہ نہیں ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا ہوگا یا نہیں مگر اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ ہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگ لے گی

” چلو اترو ۔۔ “

عرش شاہ کی بھاری آواز پر امل نے سٹپٹا کر اسے دیکھا

” جی ۔۔ “

وہ چادر درست کرتی گاڑی سے نکلی اور بھاری قدموں سے چلنے لگی عرش بھی اس کے پیچھے آ رہا تھا

جیسے ہی وہ لاؤنج میں داخل ہوئی رامین اور علی کو صوفے پر بیٹھے دیکھ کر وہیں رک گئی جبکہ عرش شاہ اسے نظر انداز کرتا آگے بڑھا

” السلام علیکم “

عرش کے بلند آواز میں سلام کرنے پر علی اور رامین ان دونوں کی جانب متوجہ ہوئے

” وعلیکم السلام ۔۔”

علی سنجیدگی سے جواب دیتے کھڑے ہوئے اور عرش کے ساتھ بغل گیر ہوئے ان کے بعد عرش رامین کے سامنے جھکا تو رامین نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا

” جیتے رہو ۔۔ “

” السلام علیکم “

امل جھجک کر آگے بڑھی تھی علی اور رامین نے محض سر ہلایا

” بابا پلیز مجھے معاف کر دیں ۔۔ “

” امل تم میرے ساتھ آؤ ۔۔ “

امل نے نم آنکھوں سے علی کو دیکھتے ہوئے کہا تو رامین نے جلدی سے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے لیے کمرے کی جانب بڑھ گئیں جبکہ علی نے عرش کو بیٹھنے کا اشارہ کیا

” اور آپ کی طبیعت کیسی ہے ۔۔ ؟”

عرش نے علی کے سپاٹ چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا

” الحمدللہ ۔۔”

” تم بتاؤ ۔۔ تمہارا ٹرانسفر یہاں ہو گیا ۔۔ “

علی نے سر ہلا کر کہتے ہوئے اس سے سوال کیا

” جی چاچو ۔۔ “

” اور روحان والے کیس کا کیا بنا ۔۔ ؟”

عرش کے جواب پر علی نے پھر اسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے پوچھا

” روحان ، عروہ سے ملنا چاہتا ہے ۔۔ مگر میں نے ابھی مام اور ڈیڈ کو یہ نہیں بتایا ۔۔ “

اس کا لہجہ کسی بھی جذبے سے خالی تھا

” کیا کہتا ہے وہ ۔۔ ؟”

علی نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا

” میں نے اسے کہا ہے کہ عروہ کو ڈیوارس دو ۔۔ تو کہتا ہے کہ عروہ خود کہے گی اسے ۔۔ تب ہی وہ اسے چھوڑے گا ۔۔ “

روحان کے ذکر پر عرش کو خودبخود غصہ آ رہا تھا

” میرے خیال سے ایک مرتبہ ۔۔ عروہ کو ملوا دو ۔۔ تاکہ دونوں اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ کر سکیں ۔۔ کیونکہ زندگی ان دونوں کی ہے ۔۔ “

علی نے اس کے غصے کے باعث سرخ چہرے کو دیکھتے ہوئے سمجھایا

” جی صحیح کہہ رہے ہیں آپ ۔۔ عروہ پہ ہی سب چھوڑ دیا ہے ہم نے ۔۔ “

عرش نے سر ہلاتے ہوئے کہا

//////////////////////

” کیوں آئی ہو تم یہاں پر ۔۔ ؟”

امل کو کمرے میں لا کر رامین نے اس کا بازو چھوڑا اور رخ موڑتے ہوئے پوچھا

” ماما پلیز مجھے معاف کر دیں ۔۔ “

امل نے کہتے ہوئے ان کے ہاتھ پکڑے تھے

” ایسی بیٹی کو معاف کر دیں جس نے ہماری عزت کی پرواہ ہی نہیں کی ۔۔ ؟”

رامین نے اس کے ہاتھ جھٹک دیے

” سوری ماما ۔۔ میں بہت شرمندہ ہوں ۔۔ ؟”

اس کی آنکھوں سے آنسو بے ساختہ بہنے لگے

” امل تم نے یہ کیا کر دیا ۔۔ تم جانتی بھی ہو ۔۔ ؟”

رامین خود بھی رونے لگی تھیں

” مجھے معاف کر دیں ماما ۔۔ مجھ سے غلطی ہو گئی ۔۔”

امل نے ان کے آنکھوں میں آنسو دیکھتے ہوئے ندامت سے کہا

” اپنی بہن کے شوہر سے نکاح کر لیا تم نے ۔۔ میری بیٹی ہو کر تم نے یہ سب کیا ۔۔ امل کیا کر دیا یہ سب تم نے ۔۔”

رامین شدید غم اور غصے سے بولی تھیں

” ماما سب بہت اچانک ہوا تھا ۔۔ ورنہ میری ایسی کوئی نیت نہیں تھی۔ “

امل نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا

” تمہیں ذرا شرم نہیں آئی امل ۔۔ تم نے دنیا کے سامنے ہمیں زلیل کر دیا ۔۔ اور مریم کے سامنے شرمندہ کر دیا ۔۔ “

وہ سر ہلاتے ہوئے اس کی سرزش کرتے ہوئے بولیں

” ماما مجھ سے غلطی ہو گئی ۔۔ پلیز مجھے معاف کر دیں ۔۔ “

امل اب ان کے آگے ہاتھ جوڑ کر بولی تھی

” کیسے معاف کر دوں تمہیں ۔۔ سر جھکا دیا ہے تم نے ہمارا ۔۔ کاش تم پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی ۔۔ یا پھر مر گئی ہوتی ۔۔ “

” تمہارا باپ تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا ۔۔ “

رامین اسے غصے اور دکھ سے دیکھتی ہوئی دبے دبے غصے میں بولیں

” ماما ۔ “

” مریم کا بھی نہیں سوچا تم نے ۔۔ کس طرح بیٹیوں کی طرح پالا میں نے اسے ۔۔ تم سے اور اشعل سے زیادہ پیار دیا میں نے اور علی نے اسے ۔۔ کہ کہیں اس بچی کو کچھ برا نہ لگ جائے ۔۔ کہیں ماں باپ کی کمی نہ محسوس کرے ۔۔ میری اور علی کی بیس سال کی محنت کو تم نے ایک پل میں مٹی میں ملا دیا امل ۔۔ ضامن بھائی نے جو زمہ داری ہمیں دی تھی ۔۔ وہ پوری نہ کر سکے ہم ۔۔ صرف تمہاری وجہ سے ۔۔ “

رامین نے اسے دونوں شانوں سے تھام کر جھنجھوڑتے ہوئے کہا

” ماما میں مریم سے بھی بہت شرمندہ ہوں ۔۔ “

امل نے آنسوؤں سے نم چہرہ جھکا کر کہا

” دنیا کیا کہے گی کہ اپنی بہن پر سوتن بن گئی تم ۔۔ “

وہ خود بھی روتے ہوئے کہہ رہی تھیں

” ماما میں کیا کروں ۔۔ ایسا کریں آپ مجھے اپنے ہاتھوں سے مار دیں ۔۔ “

امل نے مسلسل روتے ہوئے ان کے دونوں ہاتھوں کو اپنے گلے پر رکھ دیا

” بس کرو یہ سب ۔۔ “

رامین نے ایک جھٹکے سے اس کی گردن سے اپنے ہاتھ ہٹائے تھے

” ماما پلیز ناراض نہ ہوں مجھ سے آپ اور بابا ۔۔ میں مر جاؤں گی ۔۔ “

وہ سسک کر بولی تھی

” تو مر جاؤ ۔۔ کم از کم تمہیں دفن کر کے دنیا کے سامنے سر تو اٹھا کر چلے گا تمہارا باپ ۔۔ “

رامین نے اس کا بازو تھام کر غصے سے کہا تھا

” ماما “

” آئندہ مت آنا یہاں پہ ۔۔ چلی جاؤ ۔۔ اور اب اپنی حرکتوں سے اس گھر سے مزید شرمندہ مت کروانا ہمیں ۔۔ “

رامین نے اس سے رخ موڑ کر کہا تھا امل نے دکھ سے انہیں دیکھا تھا

//////////////////////