53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam (Episode 15)

Tere Sitam By Fatima

وہ بڑے خطرناک تیور لیے گاڑی سے اترتا گھر کی اندر داخل ہوا تھا گھر میں مدھم سی روشنیاں تھیں جو اس بات کا پتہ تھیں کہ امل سو چکی ہے اس کے قدم امل کے کمرے کی سمت تھے بار بار روحان کے الفاظ اس کی سماعتوں میں گونج رہے تھے عروہ کی بےبسی یاد آ رہی تھی کبھی مریم کی آنسو بھری آنکھیں یاد آ رہی تھیں اور سب کی وجہ صرف امل تھی اسے اس وقت امل سے شدید نفرت محسوس ہو رہی تھی وہ آج ہی امل کو اپنی زندگی سے باہر کر دینا چاہتا تھا

ابھی وہ دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر دروازہ کھولنے ہی لگا تھا کہ اس کی جیب میں پڑا موبائل فون بجنے لگا عرش شاہ نے سر جھٹک کر ہاتھ واپس کھینچ کر موبائل نکالا مگر رات کے اس پہر ڈیڈ کی کال دیکھ کر اسے نئے سرے سے پریشانی نے آن گھیرا

” السلام علیکم ڈیڈ ۔۔ سب ٹھیک ہے ۔۔ مام اور آپ ٹھیک ہیں ۔۔ مریم ٹھیک ہے ۔۔؟؟”

رخ لاؤنج کی سمت کر کے اس نے موبائل کان سے لگاتے ہی فکر مندی سے پوچھا اور پھر زامن شاہ کے بولنے کا منتظر رہا

” عرش ۔۔ یہاں سب ٹھیک ہے ۔۔ “

زامن شاہ کی بھاری آواز میں کہی گئی بات سے عرش کی جان میں جان آئی اب وہ مدھم روشنی میں صوفے پر بیٹھ چکا تھا

” ڈیڈ ۔۔ سب خیریت ہے ۔۔ ؟”

اسے ابھی بھی تسلی نہیں ہوئی تھی

” عرش ۔۔ عروہ کا کچھ پتہ چلا ۔۔ ؟”

زامن شاہ کے سوال سے عرش نے اذیت سے آنکھیں میچ لیں

” نن نہیں ۔۔ “

بند آنکھوں سے ایک آنسو بہہ نکلا یک لفظی جواب دے کر وہ خاموش ہو چکا تھا وہ زامن شاہ کو کیسے بتائے کہ اپنے ہی ہاتھوں سے انہوں نے اپنی بیٹی کو جہنم میں جھونک دیا ہے

” عرش مجھے سکون نہیں مل رہا کہیں بھی ۔۔ مجھے ایسے لگ رہا ہے جیسے میں نے عروہ کے ساتھ ظلم کیا ہے ۔۔ روحان کہاں اور کیوں لے کر گیا ہے میری بچی کو ۔۔ ؟ تمہاری ماں سے نظریں نہیں ملا پا رہا میں ۔۔ اس کی آنکھوں میں شکوہ پڑھ چکا ہوں ۔۔ وہ بات تک نہیں کر رہی مجھ سے ۔۔ پلیز میری بچی کو لے آؤ ۔۔ پلیز عرش ۔۔ “

اس قدر شکست زدہ لہجہ ، روندی آواز ، زامن شاہ کی تھی کہ عرش کو زندگی میں سب سے مشکل کام اس وقت اپنے باپ کو تسلی دینا لگا الفاظ جیسے اس کی زبان سے ادا ہونے سے انکاری تھے

” ڈیڈ ۔۔ !”

عرش نے انہیں پکارا تو جواباً وہ خاموش آنسو بہا رہے تھے

” عرش مجھے لگ رہا ہے کہ میری بیٹی ٹھیک نہیں ہے ۔۔ راتوں کو سویا نہیں جاتا مجھ سے ۔۔ اگر بھولے سے آنکھ لگ بھی جائے تو عروہ کے رونے کی ، سسکنے کی آوازیں آتیں ہیں مجھے ۔۔ جیسے وہ مجھے پکار رہی ہے ۔۔ عرش میری بیٹی اذیت میں ہے ۔۔ عرش میری بیٹی کو واپس لے آؤ ۔۔ “

وہ رو رہے تھے روتے ہوئے کسی بچے کی طرح عرش سے فریاد کر رہے تھے

” جی ڈیڈ ۔۔ “

عرش شاہ نے کرب سے آنکھیں میچ لیں

” عرش ، روحان میری بات کیوں نہیں مان رہا ۔۔ ؟ وہ عروہ کو کیوں نہیں لا رہا ۔۔ ؟ کیوں ہم سے دور کر دیا ہماری بچی کو ۔۔ ؟میں نے تو اس کے ایک بار کہنے پر اسے اس لیے اپنی بچی سونپی تھی کہ میری بہن کا بیٹا ہے ۔۔ اگر انکار کر دیا تو کہیں یہ نہ سمجھے کہ ماموں نے اسے پرایا سمجھا ۔۔ کیوں کیا اس نے میرے ساتھ ایسے ۔۔”

وہ روتے ہوئے چھوٹے بچے کے سے انداز میں پوچھ رہے تھے

” ڈیڈ ۔۔ روحان عروہ کے قابل نہیں ہے ۔۔ ہم نے عروہ کے معاملے میں بہت بڑی غلطی کر دی ہے ۔۔ “

عرش نے انہیں حقیقت سے آگاہ کرنا ضروری سمجھا

” کسی اور نے نہیں ۔۔ صرف میں نے کی ہے عرش غلطی ۔۔ میں نے حورین کی بات بھی نہیں مانی ۔۔ وہ مجھے کہتی تھی کی اس کا دل نہیں مانتا اس رشتے پہ ۔۔ میں نے اسے یہ کہہ کر خاموش کروا دیا کہ روحان میری بہن کا بیٹا ہے ۔۔ عروہ کے لیے سب سے بہترین وہی ہے ۔۔ مگر روحان نے یہ جو کیا ہے نا ۔۔ بہت غلط ہے ۔۔ میں اسے معاف نہیں کروں گا ۔۔ کبھی بھی ۔۔ “

وہ اپنی دھن میں بولتے ہی جا رہے تھے

” ڈیڈ ۔۔ آپ پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہے ۔۔ عروہ بھی جلدی ہمارے ساتھ ہو گی ۔۔ “

عرش خود بھی اپنے آنسو ضبط کرتا بھاری آواز میں بولا

” پلیز کچھ کرو عرش ۔۔ میری بچی کو واپس لے آؤ ۔۔ “

وہ مسلسل کانپتی آواز میں کہہ رہے تھے

” اوکے ڈیڈ ۔۔ پریشان نہ ہوں ۔۔ خود کو سنبھالیں ۔۔ جلد ہی عروہ ہمارے ساتھ ہو گی “

کہتے ہوئے عرش نے فون بند کر دیا اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی

چند لمحوں بعد اس نے موبائل پر شازل کا نمبر ڈائل کیا اور موبائل فون کان سے لگایا

” ہیلو ۔۔ “

شازل کی نیند میں ڈوبی آواز فون کے سپیکر میں ابھری

” شازل ایک کام تھا تم سے ۔۔ “

اس نے دھیمی آواز میں کہا

” عرش تم ۔۔ ؟؟۔ “

شازل نے موبائل کان سے ہٹا کر ٹائم دیکھا

” ہاں میں ہی ہوں ۔۔ نیند سے جاگ جاؤ اب ۔۔ ؟”

وہ طنزیہ انداز میں گویا ہوا

” تم اس وقت ۔۔ ؟؟ تمہیں تو اس وقت کوٹھے پہ ہونا چاہیے تھا نا ۔۔ ؟”

شازل نے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے کہا

” ہاں ۔۔ مگر اس گناہ میں ڈوبی دنیا میں دم گھٹ رہا تھا میرا ۔۔ اس لیے آ گیا “

عرش شاہ نے بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے ہلکا ہلکا سر دباتے ہوئے کہا

” عرش دس از دی پارٹ آف آور ڈیوٹی ۔۔ تم ایسے کیسے واپس آ سکتے ہو ۔۔ ہمیں جلد ہی اس گینگ کو بے نقاب کرنا ہے ۔۔ “

شازل اب سنجیدگی سے کہہ رہا تھا

” مجھے اپنی ڈیوٹی اچھی طرح معلوم ہے ۔۔ یا پھر تم مجھے بتاؤ گے میرا کام ۔۔ ؟”

شازل کی باتوں نے عرش کو غصہ دلا دیا وہ دانت پیس کر گویا ہوا

” سوری یار ۔۔”

وہ معذرت خواہ ہوا

” ایک نمبر بھیج رہا ہوں تجھے ۔۔ اس کی لوکیشن معلوم کر کے بتا ۔۔ !”

اس مرتبہ عرش شاہ کا انداز حکمیہ تھا

” اوکے “

شازل کا جواب سن کر وہ کال کاٹ کر موبائل سائیڈ پر پڑے میز پر پٹخ چکا تھا اور ایک نظر مڑ کر امل کے کمرے کی جانب ڈال کر واپس صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موندے لیٹ چکا تھا

چند ہی لمحے گزرے تھے جب اس نے دوبارہ آنکھیں وا کیں اور میز پر پڑا موبائل ہاتھ میں لیا اور مریم کا نمبر ڈائل کیا دوسری بل پر ہی کال اٹھا لی گئی

وہ جو بیڈ پر بیٹھے ہوئے ہی سو گئی تھی موبائل کی بیل کی آواز پر بوکھلا کر نیند سے بیدار ہوئی بوجھل آنکھوں سے سکرین پر عرش شاہ کا نام اور چمکتی تصویر دیکھ کر پریشانی کے عالم میں کال یس کر کے موبائل کان سے لگایا

” السلام علیکم ۔۔ ! “

دھیمی آواز میں سلام کرتی وہ دل کے مقام پر ہاتھ رکھے عرش کے بولنے کی منتظر تھی مگر موبائل کے اسپیکر پر محض عرش شاہ کے گہرے سانس لینے کی آواز آ رہی تھی

” شاہ جی ۔۔ آپ ٹھیک تو ہیں نا ۔۔ ؟؟”

کپکپاتے ہاتھوں سے موبائل تھامے لرزتے لبوں سے الفاظ ادا ہوئے

” نہیں ٹھیک ۔۔ !”

عرش کی خمار آلود آواز میں کہی گئی بات نے مریم کا دل دہلا دیا جانے کتنے خیالات اسے آنے لگے مگر دوسری جانب خاموشی کا راج تھا

” آپ مجھے ڈرا رہے ہیں شاہ جی ۔۔ میرا کل اثاثہ صرف آپ ہیں ۔۔ پلیز میرا دل گھبرا رہا ہے ۔۔ مجھے بتائیں آپ ٹھیک تو ہیں ۔۔ ؟”

وہ نم آنکھوں بھیگی آواز میں بول رہی تھی عرش کے چہرے پر اتنی اذیت میں بھی مسکراہٹ بکھر گئی

” پہلے ٹھیک نہیں تھا ۔۔ مگر جب اپنی جان کی آواز سنی تو کرب میں کچھ کمی ہوئی ہے ۔۔ “

آواز مدھم تھی مگر عرش کے لہجے کی سچائی نے مریم کو سرشار کر دیا وہ بھی پرنم آنکھوں سے مسکرا دی یہ حقیقت تھی کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے مرہم تھے

” آپ نے تو مجھے ڈرا دیا تھا ۔۔ ! بہت برے خیال آ رہے تھے دل میں ۔۔ “

وہ ایک ہاتھ سے اپنے آنسو پونچھتی گویا ہوئی

” تمہیں لگا تھا کہ میں کہیں امل سے تعلق بنا چکا ہوں اور اب اپنے عمل پر پشیمان ہو کر تم سے رابطہ کیا ہے ۔۔ یا پھر عروہ کو ڈھونڈنے کے لیے تمہارا استعمال کرنا چاہتا ہوں ۔۔ یہی خیالات آ رہے تھے نا تمہارے دل میں ۔۔ ؟؟”

وہ سنجیدگی سے بول رہا تھا جبکہ مریم نے اپنے لبوں پر ہاتھ رکھ لیا یہ شخص اس کے دل کی باتیں بھی جاننے کی صلاحیت رکھتا تھا

” کیوں ایسا ہی ہے نا ۔۔ ؟”

مریم کی خاموشی پر وہ پھر سے پوچھ رہا تھا مگر مریم کچھ بولنے کی جیسے سکت ہی نہیں رکھتی تھی

” آپ اپنی جگہ ٹھیک ہیں مریم ۔۔ ایسے خدشات اگر آپ کے دل میں آتے ہیں تو اس میں آپ کی غلطی نہیں ہے ۔۔ حالات نے مجھے اس موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا کہ میں نے آپ کا بھروسہ توڑ دیا ۔۔ “

وہ ٹوٹے ہوئے انداز میں بولتا اک پل کو خاموش ہوا مگر پھر بولنا شروع ہوا

” پہلی بات روحان جو کر رہا ہے وہ اس سب کا خود زمہ دار ہے

۔۔ آپ میرا یقین کریں میں کبھی اس کی وجہ سے آپ کے ساتھ زیادتی تو کیا ۔۔ تلخ لہجے میں بھی بات نہیں کروں گا ۔۔ دوسری بات آپ یقین رکھیں ۔۔ میری قربت کی ساتھی صرف آپ ہیں ۔۔ امل سے میں تعلق نہیں بناؤں گا ۔۔ یہ بھی میرا آپ سے وعدہ ہے ۔۔ ہاں میں اسے چھوڑنا چاہتا ہوں ۔۔ چھوڑ بھی دیتا مگر ۔۔ مگر اب ۔۔!!”

وہ لمحہ بھر کے لیے پھر خاموش ہوا

” صرف میں آپ کو اتنا کہوں گا کہ سب ٹھیک ہونے میں کچھ وقت لگے گا ۔۔ بس آپ اتنا جان لیں کہ میری زندگی میں کسی دوسری عورت کی گنجائش نہیں ۔۔ جہاں تک اولاد کی بات ہے تو ۔۔ خدا نے اگر نصیب میں لکھی ہے تو خدا آپ سے ہی دیدے گا مجھے ۔۔ دعا تو کر سکتے ہیں نا ہم ۔۔ “

وہ بڑے اطمینان سے اسے سمجھا رہا تھا لہجہ بہت سنجیدہ تھا پختہ ، پر امید

” آپ بھی پریشان نہ ہوں ۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ میں زندگی کے ہر اچھے برے حالات میں آپ کے ساتھ ہوں ۔۔ “

مریم کا تسلی بخش جواب سن کر عرش مطمئن ہو کر مسکرایا

” تھینک یو میری جان ۔۔ بس آپ نے ہمت نہیں ہارنی مریم ۔۔ جب تک یہ مشکل وقت گزر نہیں جاتا ۔۔ “

عرش نے محبت بھرے انداز میں کہا

” سوری آپ کو اتنی رات کو جگا کر پریشان کیا میں نے ۔۔ اب آپ سو جائیں ۔۔ اور اپنا خیال رکھئے گا ۔۔ “

” آپ بھی اپنا خیال رکھئیے گا ۔۔ “

عرش کی بات پر مریم نے بھی کہتے ہوئے کال بند کر دی

جبکہ عرش کو مریم سے بات کر کے قدرے سکون پہنچا تھا اب وہ دوبارہ روحان کے کہے الفاظ یاد کر رہا تھا

” روحان تم نے یہ ٹھیک نہیں کیا ۔۔ اب دیکھنا میں کیا کرتا ہوں تمہارے ساتھ ۔۔ “

عرش شاہ کی آنکھیں بے تحاشہ سرخ ہو رہی تھیں وہ تصور میں روحان سے مخاطب تھا اس کے لہجے میں کسی قسم کی نرمی نہیں تھی

////////////////////////////////

عروہ کی زندگی کا یہ گزشتہ ایک ہفتہ اس کی زندگی کا سب سے بد ترین ثابت ہوا تھا اذیت ، ذلت ، ہتک اور وحشیانہ سلوک ۔۔۔۔!!!

وہ کبھی کبھی بے تحاشہ روتی اور کبھی بڑی سے بڑی تکلیف پہ پتھر کی بن جاتی روحان نے اس ایک ہفتے میں اس معصوم لڑکی کو زندگی کی بد ترین تلخیوں سے روشناس کروایا تھا عروہ کا جی چاہتا تھا کہ روحان اسے ایک مرتبہ ہی جان سے مار دے وہ زندہ نہیں رہنا چاہتی تھی وہ زندگی میں کبھی بھی اپنے ماں باپ بھائیوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی

” ہر وقت سوگ کیوں مناتی رہتی ہو ڈارلنگ ۔۔ ؟؟”

وہ گنگناتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور عروہ کو کھڑکی کے پاس کھڑے آنسو بہاتے دیکھ کر بد مزا ہوتا بولا مگر عروہ کے وجود میں کوئی جنبش نہیں ہوئی

” تم میری کسی بات کا پہلی بار میں جواب نہیں دیتی ۔۔ جانتی ہو نا تمہاری یہ بات مجھے غصہ دلاتی ہے ۔۔ “

وہ اس کے قریب آتا اب واقعی غصے میں تھا

” آپ کو کب غصہ نہیں آتا ۔۔ میرا بولنا ۔۔ میرا نہ بولنا ۔۔ ہر بات ہی آپ کو غصہ دلاتی ہے ۔۔ “

وہ ڈھیلے ڈھالے سے کرتے اور ٹراؤزر میں ملبوس سینے پر ہاتھ باندھے کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی اور بولتے ہوئے بھی اس نے روحان کو نہیں دیکھا تھا

” بہت زبان چلتی ہے تمہاری ۔۔ اسی زبان کی وجہ سے مار کھاتی ہو تم ۔۔ ورنہ میرا دل نہیں کرتا ہر وقت تمہیں مارنے کا ۔۔ “

اس کی کلائی سختی سے شکنجے میں لیتا اس کا رخ اپنی جانب کرکے غرایا

” بزدل مرد عورت پر ہاتھ اٹھانے کے علاوہ کچھ کر بھی نہیں سکتا ۔۔ روحان شاہ صاحب ۔۔ “

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی ٹھہرے ہوئے انداز میں بولی تھی

” لگتا ہے حورین مامی نے تمہیں نہیں سکھایا کہ شوہر سے کیسے بات کرتے ہیں ۔۔ ؟”

وہ اس کا بازو دباتا دبی دبی آواز میں غرایا

” میری مام نے میری بہت اچھی تربیت کی تھی ۔۔ مگر انہوں نے ظلم کے خلاف بولنا بھی سکھایا ہے مجھے ۔۔ “

بازو کے درد سے آنکھوں میں آنسو آنے سے اس بار وہ آنکھیں جھپکاتی بولی

” کون سا ظلم کیا ہے میں نے تم پہ ۔۔ ہاں جب تم زبان چلاتی ہو میرے سامنے تو برداشت نہیں ہوتا مجھ سے ۔۔ “

وہ اب دوسرے ہاتھ سے اس کا چہرہ دبوچ چکا تھا

” کیونکہ آپ سچ نہیں سن سکتے ۔۔ اور سچ یہی ہے کہ آپ کمزور مرد ہیں ہاں آپ کمزور مرد ہیں ۔۔ جو ایک لڑکی کی بےبسی اور مجبوری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔۔ میرا استعمال کر رہے ہیں ۔۔ “

ابھی الفاظ عروہ کی زبان پہ تھے کہ ایک زوردار تماچہ اس کا رخسار لال کر گیا

” انتہائی بد تمیز لڑکی ہو تم ۔۔ “

وہ اب اسے مسلسل گالیاں بک رہا تھا جبکہ عروہ اپنی آنکھیں بند کیے اپنے لیے انتہائی غلیظ الفاظ روتے ہوئے سن رہی تھی

” چھوڑیں مجھے ۔۔ “

” بہت زبان چلتی ہے تمہاری ۔۔ دل کر رہا ہے ہاتھ پاؤں کے ساتھ زبان بھی کاٹ دوں ۔۔ “

وہ اس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لا کر نفرت سے بولا

” کاٹ دیں ۔۔ ایسا کریں مار دیں مجھے ۔۔ پھر آپ کی زندگی میں سکون آ جائے گا ۔۔ “

وہ اب اس کی گرفت میں مچلتی چیخی تھی

” تمہیں مار دیا تو میرا دل کون بہلائے گا ۔۔ بتایا ہے میں نے تمہارے بھائی کو کہ تمہاری قربت کتنی پسند ہے مجھے ۔۔ “

وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولا جبکہ عروہ نے اس کی بے باکی پر افسوس سے اسے دیکھا

” خدا میرے ایک ایک آنسو کا حساب لے گا ۔۔ “

وہ اب درد سے کراہتی رونے لگی تھی

” اتنے دن سے تمہاری بد دعائیں ہی سن رہا ہوں میں ۔۔ بہت ہی کوئی ڈھیٹ لڑکی ہو ۔۔ اتنی مار کھاتی ہو مجھ سے پھر بھی زبان چلاتی ہو میرے سامنے ۔۔ “

وہ اب اسے فرش پر دھکا دے کر ٹھوکروں پر رکھ چکا تھا

///////////////////////////////