Tere Sitam By Fatima Readelle50292 Tere Sitam (Episode 19)
Rate this Novel
Tere Sitam (Episode 19)
Tere Sitam By Fatima
اس کا ہاتھ تب تک نہیں رکا تھا جب تک کہ عروہ کا وجود خون میں لت پت نہ ہو گیا تھا جب وہ بیلٹ دور پھینکتا ہانپ رہا تھا تب اسے احساس ہوا کہ وہ غصے میں کتنا غلط کر چکا ہے عروہ کے وجود میں کوئی جنبش نہ تھی وہ بے سدھ پڑی تھی اس کی یہ حالت روحان کو کانپنے پر مجبور کر گئی تھی
” ع ع عروہ ۔۔ !”
بے ساختہ اس کے لبوں سے نکلا تھا
” اگر اسے کچھ ہو گیا تو ۔۔ “
وہ جی جان سے کانپ گیا تھا اس نے بچہ ختم کرنا چاہا تھا مگر شاید وہ غصے میں اسے کچھ زیادہ ہی مار چکا تھا خدا جانے اس معصوم میں کتنی سانسیں بچی تھیں یا کوئی سانس بھی نہ بچی تھی
” اب میں کیا کروں ۔۔ ہاسپٹل تو نہیں لے کر جا سکتا اسے ۔۔ ورنہ پولیس “
وہ ماتھے پہ آیا پسینہ صاف کرتا بڑبڑایا تھا ابھی بھی اسے اپنی فکر تھی اس معصوم کی کوئی پرواہ نہ تھی پتہ نہیں وہ زندہ بھی تھی یا نہیں
” لیزا کو بلاتا ہوں ۔۔ “
کانپتے ہاتھوں سے اس نے موبائل پکڑا اور نمبر ڈائل کر کے موبائل کان سے لگایا
” ہے روحین ۔۔ وئیر آر یو ۔۔ ؟”
کال پک ہوتے ہی چہکتی ہوئی نسوانی آواز ابھری تھی
” لیزا ۔۔ پلیز کم ۔۔ !”
چند الفاظ بول کر وہ کال کاٹ چکا تھا
وہ کتنا روئی تھی کتنا چیخی تھی کتنی دہائیاں دے رہی تھی کتنے واسطے دے رہی تھی کتنی معافیاں مانگ رہی تھی اور زبان پر صرف یہ تھا کہ بچے کو بچا لیں
یہ تو اس کی اپنی اولاد تھی نا تو اسے دکھ کیوں نہیں ہو رہا تھا اپنی اولاد کے ختم ہو جانے کا ، وہ کیوں محض اس بات سے خوفزدہ تھا کہ عروہ کو اس حالت میں کہاں لے کر جائے اور اگر پولیس کو پتہ چل گیا کہ اس نے عروہ کی یہ حالت کی ہے تو اس کی تو ساری زندگی جیل میں گزرے گی
روحان شاہ کو اس وقت خون میں لت پت اس معصوم اور کم عمر لڑکی کی پرواہ نہیں تھی جو کہ بد قسمتی سے اس کی بیوی کہلاتی تھی اسے بس اپنے جیل جانے کا خوف تھا
اسے کوئی پرواہ نہیں تھی کہ اس کمرے کے فرش پر پڑی لڑکی کسی کی بیٹی ہے جس کے ماں باپ اپنی بیٹی کے لیے تڑپ رہے تھے
اسے خوف تھا تو بس اس بات کا کہ یہ لڑکی جس کا اس نے اپنے ہاتھوں سے یہ حال کیا ہے وہ عرش شاہ کی بہن ہے جو اپنی بہن کو خواب میں بھی اس حالت میں دیکھ کر اس کا حشر کر دے گا
لیزا کو اس کے فلیٹ میں پہنچنے میں تقریباً ایک گھنٹے سے زیادہ لگ گیا تھا مگر روحان شاہ جس طرح کھڑا تھا اسی طرح کھڑا رہا اس نے ایک بار بھی آگے بڑھ کر اس معصوم کی جان بچانے کا نہیں سوچا تھا اسے ہسپتال لے کر جانے کی کوشش نہیں کی تھی
” روحان واٹ ہیپن ۔۔ ؟”
لیزا جب اسے پکارتی اس کے کمرے میں آئی تو روحان کو بد حواسی کے عالم میں کمرے میں کھڑا پایا اس کا رنگ بلکل اڑا ہوا تھا لیزا ابھی روحان کو دیکھ کر ہی پریشان تھی جب روحان کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو فرش پر پڑی خون و خون لڑکی کو دیکھ کر اس کے منہ سے بے ساختہ کئی چیخیں نکلیں خون خشک ہو رہا تھا مطلب وہ بہت دیر سے اسی طرح پڑی تھی
” ر و روحان ۔۔ یہ یہ ۔۔ “
لبوں پر ہاتھ رکھے وہ الفاظ ادا بھی نہ کر سکی تھی
” لیزا ۔۔ میں اس کو سمجھا رہا تھا کہ ۔۔ میری بات مان لے ۔۔ لیکن ۔۔ یہ بہت ضدی ہے ۔۔ مم مجھے بچہ نہیں چاہیے تھا ۔۔ “
وہ لیزا کو دیکھ کر عروہ کی جانب اشارہ کرتا بولا
” روحان یہ تم نے ۔۔ تم نے اسے مارا ہے ۔۔ ؟”
لیزا بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی
” نن نہیں ۔۔ میں نے تو بس بچہ مارا تھا ۔۔ یہ یہ تو خود ہی مر گئی ۔۔ “
وہ نفی میں سر ہلاتا گویا ہوا تھا
روحان کی بات پر لیزا نے اسے حقارت کی نظر سے دیکھا تھا اور پھر وہ ڈرتے ہوئے عروہ کے وجود کے قریب بیٹھی اور اس کی نبض ٹٹولنے لگی
” روحان اسے ہاسپٹل لے کر چلو ۔۔ اس کی سانسیں چل رہی ہیں ۔۔ “
لیزا چیخ کر بولی تھی لیزا کو اس لڑکی پر ترس آیا تھا
” نن نہیں لیزا ۔۔ پولیس مجھے نہیں چھوڑے گی ۔۔ میرا فیوچر برباد ہو جائے گا ۔۔ تم بس مار کر پھینک دو اسے ۔۔ میں عرش شاہ کو کہہ دوں گا ۔۔ سب کو کہہ دوں گا کہ عروہ بدکردار تھی اپنے عاشق کے ساتھ بھاگ گئی ۔۔ “
وہ غلیظ الفاظ ادا کرتا اپنے بچاؤ کے منصوبے بنانے لگا
” آر یو میڈ ۔۔ جسٹ شٹ اپ ۔۔ میں اسے لے کر ہاسپٹل جا رہی ہوں ۔۔ ہیلپ کرو میری ۔۔ “
وہ چیختی ہوئی آگے بڑھی تھی مگر روحان نے نفی میں سر ہلایا تھا اور اپنی جگہ سے نہ ہلا
” تم اسے ہاسپٹل نہیں لے کر جاؤ گی ۔۔ تم کون ہوتی ہو اس کی فکر کرنے والی ۔۔ یہ اس قابل نہیں ہے لیزا۔۔ یہ کریکٹر لیس لڑکی ہے ۔۔ مجھے اسے نہیں بچانا ۔۔ “
وہ سفاکیت کی انتہا کرتا بولا تو لیزا نے اس کے قریب آ کر اسے جھنجھوڑا
” تم پاگل ہو گئے ہو ۔۔ وہ لڑکی مر رہی ہے ۔۔ اور تم یہ سب بول رہے ہو ۔۔ “
وہ غصے سے دھاڑی تھی
” تمہیں میں نے اپنی ہیلپ کے لیے بلایا ہے کہ تم آ کر اس مصیبت سے میری جان چھڑاؤ گی ۔۔ الٹا تم مجھے جیل بھجوانے کے چکروں میں ہو ۔۔ “
روحان نے اس سے اپنے بازو چھڑاتے ہوئے غرایا
” میں لے کر جاؤں گی اسے ہاسپٹل ۔۔ تم نے اگر مجھے روکا ۔۔ تو یاد رکھنا روحان میں ہماری دوستی کا کوئی لحاظ نہیں کروں گی ۔۔ خود پولیس کو تمہارے خلاف گواہی دوں گی ۔۔”
لیزا نے وارننگ دینے والے انداز میں کہا کہ روحان خاموش ہو گیا اب وہ عروہ کے وجود کو بمشکل اٹھا رہی تھی روحان کی بے حسی انتہا پر تھی لیزا جیسے کیسے لے کر عروہ کو اپنی کار تک لے کر گئی مگر روحان اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا
وہ اسے لے کر ہاسپٹل پہنچی تھی عروہ کی حالت کے پیش نظر فوراً ہی اسے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کر دیا گیا تھا وہ اسے اپنے دوست کے ہاسپٹل میں لائی تھی جس سے اسے یہ فائدہ ہوا تھا کہ اسے فی الحال کسی تفتیش کے لیے نہیں روکا گیا تھا بلکہ عروہ کا فوری طور پر علاج شروع کیا گیا تھا
///////////////////////
عروہ آئی سی یو میں تھی اس کی حالت نہایت نازک تھی ڈاکٹرز ابھی کچھ نہیں کہہ رہے تھے اس کا بچہ اپنے باپ کے ظلم پر دم توڑ چکا تھا
لیزا ایک کلب کی اونر تھی روحان سے اس کی دوستی کلب میں ہی ہوئی تھی وہ روحان کا یہ روپ دیکھ کر بہت شاکڈ تھی وہ کسی لڑکی کو کیسے مار سکتا ہے یہ لڑکی آخر اس کی لگتی کیا تھی کیا وہ کوئی کال گرل تھی جو اس کے بچے کی ماں بننے والی تھی ہاں شاید اسی لیے روحان بچہ ختم کرنا چاہتا تھا لیزا نے سوچ لیا تھا کہ وہ روحان کو سزا ضرور دلوائے گی مگر اس سب کے لیے عروہ کے ہوش میں آنے کا انتظار کرنا تھا
وہ نرسز کو عروہ کا خیال رکھنے کا کہہ کر روحان کے گھر کے لیے نکلی اسے یہ بھی خیال رکھنا تھا کہ روحان کہیں بھاگ ہی نہ جائے
وہ جب روحان کے گھر پہنچی تو اس کے اندازے کے مطابق روحان اپنا سامان پیک کر رہا تھا یقیناً وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا
” روحان ۔۔ !”
لیزا نے اسے پکارا تو روحان نے چونک کر اسے دیکھا
” کہاں جا رہے ہو تم ۔۔ ؟”
اس کے سوال پوچھنے پر روحان نے اسے غصے سے دیکھا
” تمہیں میں نے کہا تھا اس لڑکی کو ہاسپٹل نہ لے کر جاؤ ۔۔ مگر تم نے میری بات نہیں مانی ۔۔ اب پولیس آ جائے گی یہاں ۔۔ اسی لیے میں جا رہا ہوں یہاں سے ۔۔”
وہ سوٹ کیس میں اپنے کپڑے رکھتا بولا
” روحان میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی ۔۔ میں نے ہاسپٹل میں بھی یہی بتایا ہے کہ وہ لڑکی مجھے کہیں ملی ہے اس حالت میں ۔۔ “
وہ اس کے ہاتھ کو تھامتی گویا ہوئی
” یہ پاکستانی پولیس نہیں ہے لیزا جسے اس طرح کی جھوٹی کہانی سنا کر یا پھر رشوت دے کر خریدا جا سکے ۔۔ تم نے بہت غلط کیا ہے لیزا ۔۔ “
روحان نے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا
” روحان میں ڈاکٹر سمتھ کے ہاسپٹل لے کر گئی تھی اس لڑکی کو ۔۔ وہ مجھ سے پوچھے بغیر پولیس کو انفام نہیں کریں گے ۔۔ تم میرے دوست ہو ۔۔ تمہیں جیل بھجوا سکتی ہوں کیا میں ۔۔ ؟”
وہ اسے کہتے ہوئے روحان کے چہرے کے تاثرات جانچنے لگی تھی
” تم سچ کہہ رہی ہو ۔۔ ؟”
” ہاں ۔۔ “
” تھینکس یار ۔۔ “
روحان نے آگے بڑھ کر لیزا کے لبوں پر لب رکھے تھے
” روحان یہ لڑکی کون ہے ۔۔ ؟”
چند لمحے خاموشی کے بعد لیزا نے پھر سے سوال کیا
” یہ بد قسمتی سے بیوی ہے میری ۔۔ “
یہ سن کر لیزا کو دھچکا لگا تھا
” تم نے اپنا بچہ مار دیا ۔۔ ؟”
وہ حیرت زدہ تھی
” ہاں کیونکہ مجھے ابھی بچہ نہیں چاہیے تھا ۔۔ اور اس گھٹیا اور بد کردار سے تو بلکل بھی نہیں چاہیے ۔۔ “
اس کے لہجے میں عروہ کے لیے بے حد نفرت تھی
اور پھر روحان نے عروہ سے نکاح سے ایک دن پہلے والی وہ کاروائی لیزا کو بتائی تھی جب اس نے عروہ کو رات کے پہر کسی عاشق سے ملتے دیکھا تھا
” روحان تم چاہے جتنا عرصہ یہاں رہے ہو مگر فطرت تمہاری وہی ٹیپیکل پاکستانیوں کی طرح ہے ۔۔ “
لیزا اس کی ساری باتیں سن کر یہ کہے بنا نہ رہ سکی
” لیزا میں واقعی اس کریکٹر لیس لڑکی کے ساتھ گزارا نہیں کر سکتا مگر ۔۔ صرف اپنی بہن کی وجہ سے اس سے نکاح کر کے یہاں لایا ہوں تاکہ عرش شاہ کی کمزوری میرے ہاتھوں میں رہے ۔۔ “
وہ نفرت بھرے لہجے میں بولا تھا لیزا نے نفی میں سر ہلایا تھا روحان کو کچھ کہنا بے کار تھا
//////////////////////
آج شاہ حویلی میں رات کا کھانا سب اکٹھا کھا رہے تھے علی اور رامین بھی آئے ہوئے تھے چھوٹی دادو بھی وہیں موجود تھیں
” عرش بیٹا ۔۔ عروہ کا کچھ پتہ چلا ۔۔ ؟”
ڈائننگ ہال میں سب سر جھکائے بیٹھے تھے محض پلیٹ میں چمچہ ہلانے کی آواز آ رہی تھی بظاھر وہاں کھانا کھایا جا رہا تھا مگر سب ایسے ہی بیٹھے تھے جب چھوٹی دادو نے عرش کو مخاطب کیا ان کے سوال پر حورین اور ضامن نے ایک ساتھ عرش کی جانب دیکھا
” میں آج رات کی فلائٹ سے امریکہ جا رہا ہوں ۔۔ عروہ کو اپنے ساتھ لے کر ہی آؤں گا ۔۔ “
عرش نے تمہید باندھے بغیر سب کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا تھا
” عرش بیٹا مریم کو اپنے ساتھ لے جاؤ ۔۔ ہو سکتا ہے مریم کی وجہ سے روحان ، عروہ کو چھوڑ دے ۔۔ “
چھوٹی دادو کے کہنے پر مریم کی نگاہیں بے ساختہ عرش شاہ کی جانب اٹھی تھیں
” نہیں چھوٹی دادو ۔۔ میں نہیں چاہتا مریم اس معاملے میں پڑے ۔۔ میں اکیلا جاؤں گا ۔۔ “
” عرش میں تمہارے ساتھ چلوں گا ۔۔ “
ضامن شاہ نے عرش کو دیکھتے ہوئے کہا
” نہیں بابا پلیز ۔۔ آپ سب مجھ پر یقین رکھیں ۔۔ میں عروہ کو لے کر آؤں گا ۔۔ اور آخری فیصلہ روحان اور عروہ کا ہو گا ۔۔ اگر وہ دونوں ساتھ رہنا چاہتے ہوں گے تو میں کچھ نہیں بولوں گا ۔۔ “
کوئی بھی بھائی اپنی بہن کا گھر خراب نہیں کرنا چاہتا ہے اسی لیے عرش ضامن اور حورین سمیت سب کو دیکھتا گویا ہوا
” بھیا میں چلوں آپ کے ساتھ ۔۔ ؟”
اشعر نے عرش کو التجائی انداز میں کہتے ہوئے دیکھا
” نہیں اشعر ۔۔ تم یہاں رہو گے ۔۔ میرے جانے کے بعد تمہیں ہی سب کا خیال رکھنا ہے ۔۔ مجھے شاید کچھ دن لگ جائیں ۔۔ “
عرش شاہ نے انکار کرتے ہوئے کہا تو سب ہی خاموش ہو گئے تھے حورین نے دل میں دعا کی تھی کہ ان کی بیٹی حفاظت سے ہو جانے کیوں عروہ کی طرف سے دل کو ہر وقت ڈر سا لگا رہتا تھا
/////////////////////
عرش شاہ کو کچھ دیر میں نکلنا تھا مریم خاموش خاموش سی اس کی پیکنگ کر رہی تھی لبوں پر بس یہی دعا تھی کہ معاملہ سلجھ جائے ، عروہ بخیریت سے ہو اور عرش اور روحان اپنا اپنا غصہ ایک طرف رکھ کر فیصلہ کریں
” مریم میں جلدی آ جاؤں گا۔۔ آپ نے مام کا اور اپنا خیال رکھنا ہے ۔۔ “
وہ واش روم سے نکلتا بال تولیے سے پونچھتا مریم کو دیکھتا سمجھانے لگا جبکہ مریم اب اس کا پاسپورٹ ، والٹ اور دوسرے کاغذات ایک جگہ رکھ رہی تھی
” شاہ جی ایک بات کرنی تھی ۔۔ “
وہ اس کی بات پر سر ہلاتی جھجھک کر آگے بڑھی
” جی جی میری جان بولیں ۔۔ “
وہ اب مکمل اس کی طرف متوجہ تھا
” آپ پلیز سب کچھ ٹھنڈے دماغ سے حل کیجیے گا ۔۔ بھائی سے جو غلطیاں ہوئیں ان کو معاف ۔۔ میرا مطلب ہے ۔۔”
وہ نگاہیں جھکائے کہتے ہوئے خاموش ہو گئی
” ہممم ۔۔ آپ فکر نہیں کریں انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ بس آپ نے دعا کرنی ہے ۔۔”
وہ اسے پیار سے دیکھتا نرمی سے کہہ رہا تھا
” آپ بھی اپنا خیال رکھئیے گا ۔۔ “
وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی تھی
عرش نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا
اور پھر دونوں طرف خاموشی چھا گئی تھی وہ اپنا بیگ اٹھائے مریم کے ماتھے پر بوسا دیتا کمرے سے جا چکا تھا
/////////////////////
” دیکھو عرش ۔۔ ہمیں عروہ کا گھر خراب نہیں کرنا ۔۔ تم نے سب معاملہ سمجھداری سے سلجھانا ہے ۔۔ “
وہ حورین اور ضامن شاہ کو خدا حافظ کہنے ان کے کمرے میں آیا تھا جب حورین نے اسے دیکھتے ہوئے سمجھایا
” جی مام میں جانتا ہوں ۔۔ آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں مگر جیسا عروہ چاہے گی ویسے ہی ہوگا ۔۔ “
عرش نے سر جھکائے کہا
” عرش جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا ہے بیٹا ۔۔ “
حورین نے اسے پھر مخاطب کیا
” حورین ، عرش بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے ۔۔ اگر عروہ اور روحان ایک دوسرے کے ساتھ خوش ہوں گے تو ان کا ساتھ رہنا بہتر ہے لیکن اگر عروہ خوش نہ ہوئی تو ہم اسے کچھ وقت دیں گے تاکہ وہ بہتر فیصلہ کرے ۔۔ “
ضامن شاہ کی باتوں کا مفہوم عرش سمجھ کر اثبات میں سر ہلا کر اٹھ کھڑا ہوا
” ڈیڈ آپ بے فکر رہیں ۔۔ میں اپنے طور پر روحان کو سمجھاؤں گا ۔۔ اگر ضرورت پڑی تو آپ سے بھی اس کی بات کرواؤں گا ۔۔ “
عرش کی بات پر حورین اور ضامن نے ایک دوسرے کو دیکھا
” تم نے ٹھیک کیا کہ مریم کو اپنے ساتھ نہیں لے کر جا رہے ۔۔ تم نے اپنی ماں کی تربیت کی لاج رکھی کہ عروہ اور روحان والے معاملے کے باعث مریم کے ساتھ اپنا تعلق خراب نہیں ہونے دیا ۔۔ بہت اچھی بات ہے بیٹا ۔۔ “
ضامن شاہ نے اس کے شانے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا جبکہ حورین نے بھی عرش کو مشکور نگاہوں سے دیکھا
” میری عروہ سے بات کروانا عرش ۔۔ “
حورین کی آواز میں نمی گھل گئی تھی
” ضرور مام ۔۔ آپ بس اپنا خیال رکھئے گا ۔۔ “
وہ حورین کے ہاتھ پر بوسہ دیتا خدا حافظ کرتا کمرے سے نکل گیا
” عرش ۔۔ “
وہ گاڑی میں بیٹھنے لگا تھا جب رامین کی آواز اسے اپنی پشت سے سنائی دی
” جی آنی ۔۔ ؟”
وہ پلٹ کر ادب سے بولا
” عرش ۔۔ امل کو یہاں لے آتے بیٹا ۔۔ “
رامین نے کچھ جھجک کر کہا تھا
” آنی آپ فکر مت کریں ۔۔ امل وہاں بلکل محفوظ ہے ۔۔ یہاں میں اسے اس لیے نہیں چھوڑ سکتا ۔۔ بلاوجہ مریم اور امل کو ایک دوسرے کو دیکھ کر اذیت ہو گی ۔۔ اس لیے میں نے یہی مناسب سمجھا ۔۔ “
وہ ان کا ہاتھ تھام کر گویا ہوا
” خوش رہو بیٹا ۔۔ خدا تمہاری ہر پریشانی دور کریں ۔۔ “
وہ اسے دعا دیتی اندر چکی گئیں جبکہ عرش بھی گہرا سانس فضا میں خارج کرتا گاڑی میں بیٹھ گیا
وہ تو اپنے طور پر روحان کا پتہ لگا کر عروہ کے پاس جا رہا تھا اسے کیا معلوم تھا کہ ایک بھیانک حقیقت وہاں اس کا انتظار کر رہی ہے
//////////////////////
