Tere Sitam By Fatima Readelle50292 Tere Sitam (Episode 25)
Rate this Novel
Tere Sitam (Episode 25)
Tere Sitam By Fatima
وہ دونوں ائیرپورٹ جانے کے لیے نکلے تھے عرش شاہ کا سپاٹ چہرہ امل کو پریشان کر رہا تھا دو دن سے وہ بہت زیادہ خاموش تھا پہلے تو پھر طنز ہی سہی کم از کم بات تو کرتا تھا مگر دو دن سے تو اس کی جانب دیکھ بھی نہیں رہا تھا
” سنیں ۔۔ “
وہ دھیرے سے اسے پکار گئی عرش شاہ نے سوالیہ انداز میں ابرو اچکائے
” آپ مجھے حویلی کیوں لے کر جا رہے ہیں ۔۔ ؟؟”
ذہن میں آیا سوال وہ اپنی زبان پر لے آئی تھی عرش شاہ نے گہرا سانس لیا
” مام ڈیڈ کا حکم ہے ۔۔ “
وہ مختصر بولا تھا لہجہ ہمیشہ کی طرح سرد تھا
وہ مریم یا کسی اور گھر والوں سے جب بات کرتا تھا تو کیسے نرمی سے اور پیار سے کرتا تھا مگر اس سے بات کرتے ہوئے اس کے لہجے میں بے زاری اور سرد پن شامل ہو جاتا تھا یہ بات اب امل کو شدید اذیت پہنچاتی تھی
” آپ مجھ سے ایسے بات کیوں کرتے ہیں ۔۔ “
وہ رخ عرش شاہ کی جانب کرتی روندی ہوئی آواز میں بولی تھی
” دیکھو میں اس وقت بحث کے موڑ میں نہیں ہوں ۔۔ اس لیے خاموش بیٹھی رہو ۔۔ “
وہ بنا اس کی جانب دیکھے بولا امل نے سیاہ سن گلاسز کے پار اس کی آنکھوں میں اپنے لیے بیزاری واضع دیکھی
” کیا ہم دونوں کے درمیان سب ٹھیک نہیں ہو سکتا ۔۔ ؟”
وہ سراپا سوال تھی جبکہ عرش شاہ تلخی سے مسکرایا
” اس بات کا مطلب ہے تم چاہتی ہو کہ ہمارا رشتہ ٹھیک ہو جائے ۔۔ ؟”
عرش نے تصدیق چاہی امل نے اثبات میں سر ہلایا تو عرش شاہ نے ویران سڑک کے ایک طرف گاڑی روکی اور امل کی سمت رخ کیا جو آنکھوں میں نمی لیے اسے ہی دیکھ رہی تھی
گہرے نیلے رنگ کے جوڑے پر نیلی ہی شال سے وہ خود کو لپیٹے ہوئے تھی چہرے پر تھکان اور ملائمت تھی
” تم جانتی ہو کہ تم کیا کہہ رہی ہو ۔۔ ؟ حالانکہ تم یہ بھی جانتی ہو کہ میرے دل میں مریم کے علاؤہ کسی کی جگہ نہیں ۔۔ اور جو بیوی دل پر قابض نہ ہو سکے ۔۔ وہ فقط ایک سمجھوتہ ہوتی ہے ۔۔ جبکہ میں چاہتا ہوں کہ اب تمہاری سزا ختم ہو جائے ۔۔ “
لہجہ ہنوز سرد تھا
” کیا مطلب ہے اس بات کا ۔۔ ؟؟”
امل نے ناسمجھی سے پوچھا تھا
” مطلب یہ کہ میری زندگی میں تمہاری کوئی گنجائش نہیں ۔۔ تم مجھے چھوڑ سکتی ہو ۔۔ یہ فیصلہ میں نے تم پر چھوڑا ۔۔ “
عرش شاہ کے الفاظ نے امل کو دکھ پہنچایا
” میں جانتی ہوں کہ میں نے آپ پر الزام لگایا ۔۔ مریم کو آپ سے الگ کرنا چاہا ۔۔ کیونکہ میں آپ سے اور آپ کے بابا سے نفرت کرتی تھی ۔۔ “
امل نے سر جھکائے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا شروع کیا تو عرش شاہ کے ماتھے پر مزید بل پڑے
” مجھ سے اور بابا سے کیوں نفرت تھی تمہیں ۔۔ ؟”
عرش کا لہجہ سرسراتا ہوا تھا
” کیونکہ آپ کے بابا نے حورین خالہ اور میری ماما کو دربدر کیا تھا ۔۔ میری نانو ۔۔ اور نانوں ان کی وجہ سے مرے تھے ۔۔ اور حورین خالہ کے ساتھ اتنا برا کیا ۔۔ مجھے ان کی وجہ سے آپ کی ساری فیملی سے نفرت تھی ۔۔ مگر ۔۔
” مگر اب کیا امل بی بی ۔۔ ؟؟ تو اب تم مجھ سے طلاق نہ لے کر کون سے انتقام لینا چاہتی ہو ۔۔ ؟؟”
عرش شاہ کی دھاڑتی آواز نے امل کے وجود میں کپکپی طاری کر دی
” ایسی بات نہیں ہے ۔۔ میری اب ایسی کوئی نیت نہیں ہے ۔۔ “
وہ سر جھکائے بولی تھی
” پھر کیسی بات ہے ۔۔ ؟ آج تم مجھے بتا ہی دو ۔۔ چاہتی کیا تھی تم ۔۔ “
عرش شاہ کی آواز میں ابھی بھی سختی تھی
” آپ مریم سے بہت محبت کرتے ہیں ۔۔ اور مریم سے جدائی آپ سے برداشت نہیں ہونی تھی ۔۔ بس آپ کی بربادی مطلب آپ کے بابا کی بربادی ۔۔ “
امل ہمت کرتے ہوئے آج عرش کو سب بتا تو گئی مگر عرش سے پڑنے والے تھپڑ نے اس کی زبان بند کروا دی تھی تھپڑ اتنا زوردار تھا کہ وہ ایک طرف لڑھک گئی
” تم کتنا گرا ہوا سوچتی ہو امل ۔۔ یہ میں پہلے سے جانتا تھا ۔۔ مگر بے خوف ہو کر اپنے کارنامے بیان کرتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آ رہی ۔۔ ؟”
وہ امل کا جھکا سر دیکھ کر غرایا تھا چند ساعتوں بعد امل نے جب اپنا سر اوپر کیا تو عرش کو اس کا سرخ چہرہ اور ہونٹ کے پاس سے نکلتا خون دیکھ کر شدید ندامت ہوئی
” اففف پاگل کر دیتی ہو تم مجھے ۔۔ پلیز سوری ۔۔ “
وہ اس پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہتا تھا مگر یہ بہت اچانک ہوا تھا اب وہ اپنے بال مٹھیوں میں بھرے امل کو بے آواز روتا دیکھ رہا تھا
” دیکھو امل ۔۔ “
” مجھے پتہ ہے میں نے غلط کیا ۔۔ چھ مہینے دن رات تنہائی میں بیٹھ کر سوچا تو اپنی غلطیوں کا علم ہو گیا مجھے ۔۔ مجھے پتہ ہے میں اچھی لڑکی نہیں ہوں ۔۔ میں اچھی لڑکی کیسے ہو سکتی ہوں جس نے اپنے ماں باپ کا سر جھکا دیا ۔۔ “
عرش شاہ نے ضبط کرتے ہوئے اسے کچھ کہنا چاہا جب امل نے اس کی بات کاٹی اور خود بولنے لگی
” میں بہت بری لڑکی ہوں ۔۔ بہت بری ۔۔ بس آپ سے ایک ریکوئسٹ ہے کہ مجھے ڈیوارس مت دیں ۔۔ “
وہ بے تحاشہ رونے لگی تھی عرش شاہ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا تھا
” ٹھیک ہے میں تمہیں ڈیوارس نہیں دوں گا ۔۔ “
عرش شاہ کی آواز میں نرمی تھی امل نے نم آنکھوں کے ساتھ اسے چونک کر دیکھا
” مگر تم مجھے پسند نہیں کرتی تھی ۔۔ مجھ سے اتنی نفرت کرتی تھی کہ مجھ سے بدلہ لینے کی خاطر تم نے اپنی عزت کی پرواہ بھی نہیں کی ۔۔ تو پھر اب اسی شخص کے ساتھ کیوں رہنا چاہتی ہو ۔۔ “
وہ تلخی سے مسکراتا پوچھ رہا تھا
” میں تھک گئی ہوں عرش شاہ ۔۔ میں مزید نفرتیں نہیں کر سکتی ۔۔ اور نہ جھیل سکتی ہوں ۔۔ مجھے ماما کے پاس جانا ہے ۔۔ بہت یاد آتی ہے ان کی ۔۔ مجھے بابا سے ماما سے معافی چاہیے ۔۔ میں ان دونوں کو اور اپنی وجہ سے دکھ نہیں دینا چاہتی ۔۔ اور اگر آپ نے مجھے ڈیوارس دے دی تو ماما بابا یہی سمجھیں گے کہ سب میری غلطی ہے ۔۔ میں ہی رشتہ نبھانا نہیں چاہتی تھی ۔۔ “
اس کا لہجہ ٹوٹا ہوا اور انداز تھکان زدہ تھا
” تو کیا تم یہ رشتہ نبھانا چاہتی ہو ۔۔ ؟؟”
عرش شاہ نے جانچتی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا کہ کہیں وہ پھر سے تو کوئی پلین نہیں بنا رہی
” ہاں ۔۔ “
” ہم دونوں کا رشتہ آگے بڑھنا ۔۔ کانٹوں پر چلنے کے برابر ہے امل علی ۔۔ تم زخمی ہو جاؤ گی ۔۔ “
وہ سفاکیت سے گویا ہوتا اسے حقیقت سے آگاہ کر رہا تھا
” میں زخمی ہو چکی ہوں ۔۔ پلیز مزید امتحان نہ لیں میرا ۔۔ “
وہ ابھی بھی رو رہی تھی عرش نے تاسف سے اسے دیکھا
” لیکن میں تم پر یقین کیسے کروں ۔۔ ؟؟ تم نے ہر حد پار کی ہے امل ۔۔ ایک اچھی لڑکی کے لیے اپنی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا ۔۔ اور مجھ سے انتقام کی خاطر تم نے اپنی عزت کی بھی پرواہ نہیں کی ۔۔ “
وہ اس مرتبہ قدرے نرمی اور دھیمی آواز میں بولا تھا مگر الفاظ ابھی بھی سخت تھے
” ہاں میں اچھی لڑکی نہیں ہوں ۔۔ نہیں ہوں اچھی میں ۔۔ “
وہ یک دم چیخی تھی
” چلاؤ مت ۔۔ “
” کیا چاہتے ہیں آپ ۔۔ مریم سے معافی مانگوں ۔۔ اوکے مانگ لوں گی ۔۔ “
عرش نے اس کی کلائی اپنی آہنی گرفت میں لیتے ہوئے کہا تو وہ التجائیہ انداز میں بولی
” کوئی ضرورت نہیں یہ سب کرنے کی ۔۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا تمہیں ۔۔ مریم سے مخاطب نہ ہی ہونا یہی بہتر ہے تمہارے لیے ۔۔ “
وہ نفی میں سر ہلاتا بولا
” میری مجبوری تھی ورنہ میں تم سے کبھی نکاح نہ کرتا ۔۔ “
وہ کچھ یاد کرتا مضطرب ہوا
” جو کہیں گے وہی کروں گی ۔۔ آپ کی مرضی کو اپنی مرضی بنانے کی ہر کوشش کروں گی ۔۔ بس چھوڑیں مت مجھے ۔۔ “
وہ اس کی بڑبڑاہٹ سن نہیں سکی تھی اور منت بھرے انداز میں بولی تھی
” مجھے تم پر یقین نہیں ہے ۔۔ “
وہ صاف گوئی سے بولا
” ایسا کریں ۔۔ میرا گلہ دبا دیں ۔۔ پھر یقین آ جائے گا مجھ پر ۔۔ “
وہ دل برداشتہ ہو کر چیخی تھی
” دیکھا تم ابھی سے ہار مان گئی ۔۔ “
وہ پھر طنزیہ مسکرایا تھا
” عرش شاہ مجھے بخش دو ۔۔ مجھ سے غلطی ہو گئی ۔۔ مجھے مزید اذیت مت دو ۔۔ “
وہ غصے اور غم کی کیفیت میں چلائی تھی
” میں تمہیں ۔۔ خود کو اور مریم کو اذیت سے بچانا چاہتا ہوں امل ۔۔ دیکھو تم میرے ساتھ خوش نہیں رہ پاؤ گی ۔۔ میرے لیے میری بیوی ۔۔ میری محبت سب کچھ مریم ہیں ۔۔ تمہیں میں کچھ نہیں دے سکتا ۔۔ “
وہ دھیمے لہجے میں اسے سمجھا رہا تھا آنے والے وقت سے آگاہ کر رہا تھا
” مجھے بس ڈیوارس نہیں چاہیے ۔۔ “
وہ عرش شاہ کی بات کو نظر انداز کرتی
” ٹھیک ہے نہیں دوں گا ۔۔ یہ راستہ تم نے خود ہی چنا ہے ۔۔ ورنہ تمہاری واپسی کے دروازے کھلے ہیں ۔۔ لیکن ٹھیک ہے پھر ۔۔ آگے جو ہوگا پھر ۔۔ مجھے شکایت مت کرنا ۔۔ “
وہ کاندھے اچکا کر عام سے انداز میں بولا تھا امل نے تلملا کر اسے دیکھا
” ایک بات میری تم کان کھول کر سن لو ۔۔ وہاں گھر پر خاص طور پر مریم کے ساتھ اگر تم نے کوئی بھی بدتمیزی کی تو یاد رکھنا میں تمہیں بخشوں گا نہیں ۔۔ “
وہ تنبیہہ انداز میں کہتا گاڑی سٹارٹ کرنے لگا جبکہ امل نے خاموشی رہنا مناسب سمجھا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی
عرش شاہ سے نکاح کرنا اس کی زندگی کا سب سے کٹھن فیصلہ تھا مگر وہ اس وقت اتنی حواس باختگی تھی کہ اسے اس وقت کچھ سمجھ نہ آیا تھا ہاں اگر وہ حادثہ چند لمحوں پہلے نہ ہوا ہوتا تو شاید وہ کبھی نہ مانتی
وہ دونوں بیٹھے ایک دوسرے کے ساتھ تھے مگر دونوں ہی اپنی سوچوں میں گم تھے
//////////////////////
وہ ابھی ہی رامین کے گھر سے آئی تھی اشعل ہاسٹل جاتے ہوئے اسے حویلی چھوڑ کر باہر سے ہی چلا گیا تھا حالانکہ مریم نے اسے اندر آنے کو بہت اصرار کیا تھا مگر وہ دیر ہونے کا بہانہ کرکے جا چکا تھا ابھی وہ اپنے کمرے میں آئی ہی تھی کہ ملازمہ نے اسے حورین کے بلانے کا پیغام دیا وہ فوراً ہی چل پڑی
” جی مام ۔۔ ؟”
وہ حورین کے پاس ڈائننگ ہال میں آئی تھی وہ ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھیں
” آ گئی میری بیٹی ۔۔ “
انہوں نے محبت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
” جی ماما ۔۔ “
” خوش رہو ۔۔ صدا آباد رہو ۔۔ ڈھیروں خوشیاں نصیب ہوں ۔۔ “
حسب معمول انہوں نے اسے دیکھتے ڈھیروں دعائیں دیں مریم نے سرشاری سے انہیں دیکھا
” سنو جاؤ سب گھر والوں کو کھانے کے لیے بلا لو ۔۔ “
حورین نے کیچن سے نکلتی ملازمہ کو کہا تو وہ جی کہتی سب کو باری باری کہنے چلی گئی جبکہ مریم بھی اب حورین کے ساتھ ٹیبل سیٹ کرنے لگی
” عرش کی کال آئی تھی ۔۔ اس کا ٹرانسفر کراچی ہو گیا ہے ۔۔ اس لیے وہ آج آ رہا ہے ۔۔ بس پہنچنے ہی والا ہے ۔۔”
انہوں نے بغیر تمہید باندھے بات کا آغاز کیا مریم نے چونک کر انہیں دیکھا
” انہوں نے مجھے نہیں بتایا ۔۔ “
مریم عام سے انداز میں بولی تھی الجھن اس کے چہرے پر واضح تھی
” اچھا ۔۔ ویسے اچھی بات ہے نا ۔۔ اب یہی رہے گا ۔۔ ورنہ تو آتا تھا اور جانے کی پڑی رہتی تھی ۔۔ “
وہ مریم کا دھیان بٹانے کو مزید بولی تو مریم نے مسکرا کر سر ہلایا
اتنے میں سب گھر والے ڈائننگ ہال میں تشریف لا چکے تھے اور اپنی اپنی نشست پر براجمان ہو چکے تھے
” عرش نہیں پہنچا ابھی ۔۔ “
ضامن شاہ نے کھانا کھاتے ہوئے حورین سے استفسار کیا
” بس پہنچنے ہی والا ہے ۔۔ “
” عروہ کھانا کھاؤ بیٹا ۔۔ “
ضامن شاہ کو جواب دینے کے بعد انہوں نے سر جھکائے بیٹھی عروہ کو نرمی سے ٹوکا تو وہ سر ہلا کر آہستگی سے کھانا کھانے لگی
“السلام علیکم ۔۔ !”
چند لمحوں بعد ڈائننگ ہال میں عرش شاہ کی بلند آواز نے خاموشی میں اشتعال پیدا کیا تو سب کی نگاہیں عرش کی جانب اٹھیں اور ساتھ عرش کے برابر کھڑی امل پر ٹک گئیں امل نے بھی سب کو دھیمی آواز میں سلام کیا سب نے ہی دھیرے سے جواب دیا
” وعلیکم السلام ۔۔ وقت پر پہنچ گئے تم لوگ ۔۔ آؤ کھانا کھاؤ ۔۔ “
حورین نے ان دونوں کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے خالی کرسیوں کی جانب اشارہ کیا عرش سنجیدگی سے آگے بڑھا اور عروہ کے پاس سے گزرتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھا جبکہ امل بھی اس کی تقلید میں چلتی عروہ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی اور عرش ، مریم کو مسکرا کر دیکھتا اس کے ساتھ بیٹھ گیا مریم کا چہرہ بلکل سپاٹ تھا
دادو عرش اور امل کو دیکھتی خوش ہوئی تھیں باقی شاہ حویلی کے مکین کھانا خاموشی سے کھا رہے تھے
کھانے کے بعد سب ہی اپنے کمرے میں جا چکے تھے عرش شاہ اور مریم بھی ایک ساتھ ہی اٹھے تھے جبکہ اب ڈائننگ ہال میں حورین اور امل کے علاؤہ ملازمہ تھی جو ٹیبل سے برتن اٹھا رہی تھی حورین نے خاموش بیٹھی امل کو دیکھا اور اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گئیں
” کیسی ہو بیٹا ۔۔ ؟”
امل کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھتے ہوئے وہ پوچھ رہی تھی جبکہ امل سے مزید ضبط نہیں ہوا اور وہ ان کے سینے سے لگ کر رونے لگی حورین نے بھی اس کے بال سہلاتے ہوئے اسے چپ کروایا
” معاف کر دیں مجھے ۔۔ خالہ آپ ہی کر دیں مجھے معاف ۔۔ میرے دل کا بوجھ کچھ کم ہو ۔۔ “
وہ سسکتے ہوئے بول رہی تھی
” چپ کر جاؤ بیٹا ۔۔ سب ٹھیک ہے ۔۔ پریشان مت ہو ۔۔ “
انہوں نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے تسلی دی
” کچھ بھی نہیں ٹھیک خالہ ۔۔ میں نے ماما بابا کا دل دکھایا تھا نا ۔۔ مجھے اس سزا ملی ہے ۔۔ “
وہ سسکتے ہوئے بول رہی تھی
” کیا بات ہے بیٹا ۔۔ کیا عرش نے کچھ کہا ہے ۔۔ کیوں اتنا رو رہی ہو ۔۔ ؟”
وہ اس کے پہ پھوٹ پھوٹ کر رونے پر پریشان ہوتی پوچھ رہی تھیں
” نن نہیں انہوں نے کچھ نہیں کہا ۔۔ بس آپ سب کو بہت یاد کیا ۔۔ ماما کو ۔۔ بابا کو ۔۔ اشعل کو ۔۔ مریم کو ۔۔ “
وہ ہاتھ کی پشت سے رگڑ کر آنسو پونچھی گویا ہوئی تو حورین نے اس کے چہرے پر انگلیوں کے سرخ نشان غور سے دیکھے
” عرش کا رویہ کیسا ہے تمہارے ساتھ ۔۔ ؟؟”
ان کا لہجہ امل کو چوکنا کر گیا امل نے چونک کر انہیں دیکھا جو اسے غور سے دیکھ رہی تھیں
” جج جی ٹھیک ہے ۔۔ “
وہ سٹپٹا کر بولی تھی اور کرسی گھسیٹی اٹھ کھڑی ہوئی
” وہ ۔۔ وہ خالہ میں بہت تھک گئی ہوں ۔۔ “
امل نے نگاہیں چرائے بولی تو انہوں نے ملازمہ کو آواز دی
” جاؤ بی بی کو ان کے کمرے میں چھوڑ آؤ ۔۔ “
ملازمہ کو بولتی وہ ابھی بھی پرسوچ انداز میں امل کی پشت دیکھتی رہ گئی
” رضیہ جاؤ عرش کو بلا کر لے کر آؤ ۔۔ اسے بولو لان میں آ کر میری بات سنے ۔۔ “
وہ ملازمہ کو حکم دیتی ہوئی اٹھ گئیں
/////////////////////////
” کیسی ہیں ۔۔ “
کمرے میں آتے ہی عرش نے مریم کو ہاتھ پکڑ کر اپنے سامنے کیا اور اس کا اداس چہرہ دیکھتا پوچھنے لگا
” اللہ کا شکر ہے ۔۔ “
مریم چاہ کر بھی مسکرا نہ سکی اور عام سے انداز میں بولی
” امل کا یہاں آنا برا لگا ہے آپ کو ۔۔ “
وہ مریم کے سپاٹ چہرے کو دیکھتا پوچھ رہا تھا
” ظاہر ہے میں بھی عام انسان ہوں ۔۔ برا لگا ہے مجھے ۔۔ بلکہ کسی بھی دوسری عورت کا آپ کی زندگی میں ہونا ہی برا لگتا ہے مجھے ۔۔ “
مریم آج پہلی بار اپنے غصے کو چھپا نہیں سکی تھی
” میں نہیں چاہتا تھا مگر ۔۔ “
” کوئی بات نہیں ۔۔ آپ صفائی پیش مت کریں ۔۔ “
وہ ایک ہاتھ سے اسے مزید بولنے سے روکتی گویا ہوئی تو عرش شاہ نے لب آپس میں سختی سے پیوست کیے
” مریم ۔۔ “
مریم کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھ کر عرش شاہ نے اسے پکارا
” جی ۔۔ ؟”
” ناراض ہیں ۔۔ ؟”
” نہیں ۔۔ بس غصہ آ رہا ہے ۔۔ “
وہ صاف گوئی سے بولی
” مجھ پر ۔۔ ؟”
” جی ۔۔ “!
وہ اب نگاہیں دوسری طرف کرتی بولی عرش جانتا تھا وہ اپنے آنسو چھپانا چاہ رہی ہے
” سس سوری ۔۔ “
ابھی وہ اور کچھ کہتا کہ دروازے پر دستک ہوئی عرش شاہ بند دروازے کو دیکھتا بلند آواز میں بولا
” کون ہے ۔۔ ؟”
” صاحب بڑی بی بی لان میں بلا رہی ہیں آپ کو ۔۔ “
” اچھا تم جاؤ میں آ رہا ہوں ۔۔ “
ملازمہ کو کہتے ہی اس نے مریم کے دونوں ہاتھوں کو باری باری اپنے لبوں سے لگایا
” میں جانتا ہوں میں نے آپ کا بہت دل دکھایا ہے ۔۔ مگر آپ یقین کریں ۔۔ میں بہت شرمندہ ہوں ۔۔ بے بس ہوں ۔۔ “
وہ شکست زدہ لہجے میں بولا تھا مریم نے نگاہوں کا رخ دوسری طرف کر کے اپنے آنسو اس سے چھپانے چاہے
” رویا مت کریں ۔۔ مجھے تکلیف ہوتی ہے ۔۔ “
وہ اس کی آنکھوں پر باری باری لب رکھتا بولا تو مریم نے فقط سر ہلایا عرش شاہ ایک سنجیدہ سی نگاہ اس پر ڈال کر اسے چھوڑتا کمرے سے نکل گیا جبکہ آنسو اب ایک ایک کر کے مریم کی آنکھوں سے گرنے لگے
/////////////////////////
” مام آپ نے بلایا ۔۔ ؟”
لان میں نیم اندھیرے تھا وہ حورین کو دیکھتا ان کی جانب آیا اور پوچھ رہا تھا ان کے چہرے پر نہایت سنجیدگی نے عرش شاہ کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیا
” تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تم امل پر کوئی ظلم نہیں کرو گے ۔۔ ؟”
حورین کا لہجہ نہایت سختی لیے ہوئے تھا
“یہ بات کیوں کر رہی ہیں آپ ۔۔ ؟”
عرش نے ماتھے پر بل ڈالے ناسمجھی سے پوچھا
” تم نے کہا تھا کہ نہیں ۔۔ ؟”
وہ دبے دبے غصے میں دوبارہ بولیں
” جی کہا تھا ۔۔ “
وہ ابھی بھی نہیں سمجھا تھا کہ وہ کہنا کیا چاہتی ہیں
” تم اس پر ہاتھ اٹھاتے ہو ۔۔ دکھ ہو رہا ہے کہ میرا بیٹا ایسا کر سکتا ہے ۔۔ افسوس ہو رہا ہے مجھے اپنی تربیت پر ۔۔ “
وہ افسوس سے عرش کو دیکھتی بولی تو عرش ان کی بات پر تڑپ اٹھا
” ماما پلیز ۔۔ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں ۔۔ “
عرش نے ان کا ہاتھ تھامنا چاہا مگر انہوں نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا
” سب سے زیادہ فخر مجھے تم پر تھا عرش ۔۔ میں کہتی تھی میرا بیٹا بہت رحم دل ، سمجھدار اور فرمانبردار ہے ۔۔ مگر تم نے پہلے امل سے نکاح کر کے مریم کے سامنے میرا سر جھکایا اور اب امل پر تشدد کر کے امل کے سامنے شرمندہ کر دیا ہے مجھے ۔۔ وہ دونوں آج میری تربیت پر سوال کر دیں تو زندہ مر جاؤں میں ۔۔ “
غصے میں بولتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے
” ماما پلیز ۔۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا امل کے ساتھ ۔۔ آپ چاہیں تو اس سے پوچھ لیں ۔۔ “
وہ تڑپ کر حورین سے کہنے لگا
” اندھی اور ناسمجھ نہیں ہوں میں ۔۔ اس کے چہرے پر تمہاری بربریت کے نشان نظر آ رہے تھے مجھے ۔۔ پھر پوچھنے کی کیا ضرورت ۔۔ “
ان کی بات پر عرش کے دماغ میں جھماکا سا ہوا عرش کو اب بات سمجھ آئی
” ماما ۔۔ “
عرش نے اپنی صفائی میں لب کھولے مگر حورین نفی میں سر ہلاتی اس کی کوئی بھی بات سنے بغیر وہاں سے چلی گئیں
عرش شاہ وہی کرسی پر ڈھے سا گیا اور سر کو دونوں ہاتھوں میں گرا گیا
” عرش اتنی ٹھنڈ میں کیوں بیٹھے ہو ۔۔ ؟”
چند لمحوں بعد چھوٹی دادو کی آواز سن کر عرش شاہ نے جھٹکے سے سر اٹھا
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے چھوٹی دادو اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر تڑپ گئیں
” عرش میرے بچے ۔۔ دادی قربان ۔۔ میرے شیر کی آنکھوں میں آنسو کیوں ۔۔ ؟”
وہ تڑپ کر اس کے قریب آئی تھیں
” کاش دادو آپ اس وقت میری جان مانگ لیتیں ۔۔ مگر وہ قربانی نہ مانگتی تو آج میں یہاں بیٹھا رو نہ رہا ہوتا ۔۔ “
عرش شاہ شکست زدہ لہجے میں بولا
” عرش ۔۔ “
” تھک گیا ہوں دادو میں ۔۔ ایک ایک کو صفائیاں دیدے کر ۔۔ ہر ایک کی نظر میں ۔۔ میں ہی مجرم ہوں ۔ ماما ۔۔ مریم ۔۔ ڈیڈ ۔ سب گھر والے سمجھتے ہیں میں نے غصے میں امل سے نکاح کیا ۔۔ ہاں مجھے امل پر غصہ تھا مگر میں کون ہوتا ہوں اسے سزا دینے والا ۔۔ مگر پھر بھی میں ویسا بن گیا جیسا تھا ہی نہیں ۔۔ مگر انہیں کیا پتہ کہ بے بسی کی انتہا پر ہوں میں ۔۔ کون کہتا ہے مرد مجبور نہیں ہوتا ۔۔ “
” عرش بیٹا ۔۔ “
” دادو میں نے سب کو رلا دیا ۔۔ عروہ کو ۔۔ مریم کو ۔۔ امل کو ۔۔ ماما کو ۔۔ سب میری وجہ سے تکلیف میں ہیں ۔۔ کاش کاش آپ مجھ سے سب مانگ لیتیں ۔۔ مگر ۔۔ مگر “
وہ سر ہلاتا بات اُدھوری چھوڑ کر تیز تیز قدم اٹھاتا اندر کی جانب بڑھ گیا جبکہ چھوٹی دادو نے سرد آہ بھرا اور امل اور عرش کے نکاح والا دن یاد کرنے لگی
” عرش امل یا منتہاء میں سے کسی ایک سے نکاح کر لو ۔۔ “
وہ التجائی انداز میں عرش سے بولی تھیں جبکہ عرش شاہ نے اچھنبے سے انہیں دیکھا
” نہیں دادو ۔۔ میں یہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔ “
وہ صاف انکار کرتا بولا
” کیوں نہیں سوچ سکتے بیٹا ۔۔ مرد چار شادیاں کر سکتا ہے ۔۔ “
وہ ماتھے پر بل ڈالتی بولیں
” ہاں کر سکتا ہے مگر میں نہیں کر سکتا ۔۔ میں مریم کو ساری زندگی کا دکھ نہیں دے سکتا ۔۔ “
وہ ان کی بات کی نفی کرتا بولا
” ہاں مت مانو میری بات ۔۔ میں کون سا تمہاری سگی دادی ہوں ۔۔ تمہاری دادا کی بہن ہوں نا ۔۔ تم کون سا مجھے اپنا سمجھتے ہو جو میری بات مانو گے ۔۔ “
وہ آنکھوں میں آنسو لیے بولیں
” پلیز دادو ایسی بات تو نہ کریں ۔۔ آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پر ۔۔ “
وہ تڑپ کر ان کے ہاتھ تھامتا بولا
” ٹھیک ہے پھر منتہاء سے نکاح کر لو ۔۔ “
وہ سپاٹ انداز میں بولیں
” خدا کے لیے دادو ایسے مت کہیں ۔۔ میں منتہاء کو بلکل عروہ کی طرح سمجھتا ہوں ۔۔ بلکہ میں اور ماما وقت آنے پر آپ سے اشعر کے لیے منتہاء کو مانگنا چاہتے تھے ۔۔ “
وہ بے بسی سے بولا تھا
” منتہاء اشعر کی تب ہوگی جب تم امل سے شادی کرو گے ۔۔ “
وہ اٹل انداز میں بولیں
” یہ کیا بات ہوئی دادو ۔۔ “
وہ جانتا تھا اشعر اور منتہاء ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں مریم نے ہی یہ بات اسے بتائی تھی
” تم دوسری شادی ضرور کرو گے ۔۔ چاہے وہ منتہاء سے ہو یا امل سے ۔۔ “
ان کا انداز ابھی بھی حتمی تھا
” پلیز دادو میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں اس طرح کا کوئی حکم نہ دیں ۔۔ جو مجھے گناہگار کر دے “
وہ بے بسی سے باقاعدہ ان کے آگے ہاتھ جوڑ گیا
” اس میں گناہ کیسا بیٹا ۔۔ تم نکاح کر رہے ہو ۔۔ اور نکاح کرنا کوئی گناہ نہیں ۔۔ “
وہ اس کے ہاتھ تھام کر بولیں
” کسی کا مان توڑنا ۔۔ کسی کو دھوکا دینا گناہ ہی ہے دادو ۔۔ میں مریم کے ساتھ یہ ظلم نہیں کر سکتا ۔۔ پلیز دادو ایسی کوئی شرط نہ رکھیں ۔۔ میں دوسری شادی کرکے نہ مریم کی زندگی خراب کرنا چاہتا ہوں نا ۔۔ امل اور منتہاء کی ۔۔ “
وہ بے بسی کی انتہا پر تھا
” میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں عرش ۔۔ آج اگر تمہاری دادی ہوتی اور وہ یہ بات ماننے کو کہتیں تو کیا تم انہیں بھی منع کرتے ۔۔ “
وہ پھر سے روتے ہوئے بولیں تھی
” جو غلط ہے وہ غلط ہے دادو ۔۔ میں یہ کسی کے بھی کہنے پر نہیں کروں گا ۔۔ “
وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا
” میں یہاں پاکستان اپنوں کے پاس آئی تھی مگر تم نہ ثابت کر دیا کہ تم مجھے کچھ نہیں سمجھتے ۔۔ میں منتہاء کو لے کر چلی جاؤں گی “
ان کی بات پر عرش کے قدم خود بخود رکے
” میں ڈیڈ کو کیا جواب دوں گا دادو ۔۔ پلیز یہ مت کیجئے گا ۔۔ “
وہ مڑ کر بے بسی سے کہنے لگا
” کہہ دینا کہ میری اوقات نہیں تمہاری نظر میں ۔۔ “
” ایسے مت کہیں دادو ۔۔ آپ بڑی ہیں ہماری ۔۔ “
وہ ان کے غصے پر دھیمی آواز میں بولا
“صرف اتنا ہی چاہتی ہوں کہ تمہاری دوسری شادی ہو اولاد ہو ۔۔ کیا یہ خواہش کرنا اپنے بچوں کے لیے غلط ہے ۔۔ “
وہ نم آواز میں بولی تھیں
” پلیز دادو ۔۔ اور کچھ بھی مانگ لیں ۔۔ مگر یہ نہیں ۔۔ اگر اولاد میری قسمت میں ہے تو مریم سے ہو جائے گی ۔۔”
” ٹھیک ہے ۔۔ میں یہاں سے منتہاء کو لے کر چلی جاؤں گی ۔۔ “
انہوں نے اپنا فیصلہ سنایا اور رخ موڑ لیا عرش شاہ کتنی دیر تک ان کی منت سماجت کرتا رہا مگر وہ اپنی بات سے ایک انچ بھی نہ ہلی تھیں
اور پھر وہ ان کے پاس سے اٹھ کے جا چکا تھا اور کچھ دیر میں وہ امل کے ساتھ نکاح کر کے اسے اپنے ساتھ لایا تھا
اس دن کو یاد کرتیں وہ گہرا سانس خارج کرتیں اندر چلی گئیں
/////////////////////////
