53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam (Episode 11)

Tere Sitam By Fatima

شاید بارہ سال بعد اس نے پاکستان کی سر زمین پر قدم رکھا تھا ارادہ تو کبھی آنے کا نہ تھا مگر کیا کریں انسان کو کچھ رشتے اتنے پیارے ہوتے ہیں کہ ان رشتوں کی خاطر وہ بڑے کڑوے گھونٹ بھر لیتا ہے اور روحان کو بھی مریم کی خاطر اسے یہاں آنا پڑا تھا

یہاں اس کی بہت بری یادیں تھی پاکستان کی فضا میں اسے سب سے پہلے اپنی ماں کی آہیں سسکیاں سنائی دی تھیں اپنی ماں کا چہرہ دیکھائی دیا جس پر اذیتوں کی داستان رقم تھی بے اختیار اسے اپنا گلہ گھٹتا ہوا محسوس ہوا گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے گلے پر لپٹا مفلر نکال دیا

زامن ماموں نے اشعر کو اسے ائیرپورٹ سے پک کرنے بھیجا تھا وہ اسی کا انتظار کر رہا تھا جب ایک لڑکا ہاتھ لہراتا ہوا اس کے قریب آ رہا تھا وہ اسے پہچان چکا تھا وہ اشعر تھا جو زامن ماموں کی مشابہت رکھتا تھا

” السلام علیکم بھائی ۔۔”

اشعر نے قریب آتے ہی روحان کو مؤدب انداز میں سلام کیا روحان آگے بڑھ کر اس سے بغل گیر ہوا

” میں اشعر شاہ ۔۔ !”

اشعر نے اپنا تعارف کروایا جواباً روحان سر ہلاتا مدھم سا مسکرایا

” کیسے ہو ۔۔ ؟”

سنجیدہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سجائے اس نے پوچھا تھا

” ٹھیک ہوں بھائی ۔۔ آپ کیسے ہیں ۔۔ ؟؟ بائی دا وے ۔۔ ویلکم ٹو پاکستان ۔۔ !”

اشعر خوش اخلاقی سے گویا ہوا تھا روحان نے دھیمے سے مسکراتے ہوئے محض سر ہلایا

اور پھر وہ دونوں شاہ حویلی کی جانب چل دیے اشعر کو روحان خاصا سنجیدہ مگر اچھا لگا اور اسی طرح روحان کو اشعر چھوٹے بھائیوں کی طرح لگا وہ اکثر مریم سے اس کا ذکر سنتا رہتا تھا

راستے میں ان دونوں میں ہلکی پھلکی بات ہوئی تھی باقی وہ دونوں ہی خاموشی سے سفر طے کررہے تھے

///////////////////////////

شاہ حویلی میں اس کا بڑی تپاک سے استقبال کیا گیا تھا زامن ماموں کے گلے ملتے ہوئے اسے سکون سا محسوس ہوا تھا جبکہ خود ان کی بھی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی حورین مامی نے بھی بہت بڑی محبت دی تھی وہ کچھ سنجیدہ تھیں مگر روحان جانتا تھا وہ کتنی عظیم خاتون ہیں ، اس کے دل میں زامن ماموں اور حورین مامی کے لیے عزت و احترام تھا

عرش شاہ کا انداز خاصا سرسری تھا مگر گلے لگنے میں عرش شاہ نے ہی پہل کی تھی یہ الگ بات تھی کہ وہ پھر کہیں جا چکا تھا اس نے سوچا تھا کہ وہ عرش سے نکاح کے بعد ہی ہم کلام ہو گا اسی لیے اس کا سرد انداز نظر انداز کرتے ہوئے وہ خاموش تھا سب سے زیادہ خوش اور جذباتی مریم اس کے گلے لگ کر ہوئی تھی وہ اس کے سینے میں منہ چھپائے بہت دیر تک روتی رہی تھی

پھر حورین مامی نے اسے پیار سے پچکارتے ہوئے روحان سے جدا کیا اور روحان کو ریسٹ کرنے کی ہدایت دی سو وہ اشعر کے ہمراہ اپنے کمرے کی سمت بڑھ گیا رات کا کھانا اسے کمرے میں ہی دیا گیا وہ واقعی تھکا ہوا تھا آرام کرنا چاہتا تھا ویسے بھی کل اس کا نکاح تھا

//////////////////////

عرش سامنے صوفے پر بیٹھا کسی سے موبائل فون پر بات کر رہا تھا جب وہ کمرے میں داخل ہوئی عرش نے ایک مسکراتی نظر مریم پر ڈالی اور اسے اپنی جانب آنے کا اشارہ کیا مریم پنے لبوں پر شرمیلی سی مسکراہٹ سجائے دھیرے سے قدم اٹھاتی عرش کے قریب آئی تو عرش نے اس کی کلائی اپنی گرفت میں لے کر اسے اپنی جانب کھینچ کر اپنے ساتھ بیٹھا دیا

” اوکے میں بعد میں بات کرتا ہوں ۔۔ “

گفتگو سمیٹتے ہوئے اس نے فون بند کر کے سامنے پڑے میز پر رکھا اور مریم کو دیکھنے لگا

” شوہر کو کوئی لفٹ نہیں ۔۔ اور بھائی کے سینے سے نہیں ہٹ رہی تھیں بیگم ۔۔ !”

اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے وہ مصنوعی غصے سے بولا

” کوئی آ جائے گا شاہ جی ۔۔ !”

وہ حیا سے نگاہیں جھکائے منمنائی تو اس پل عرش بے اختیار اس کے لبوں پر جھکا

” کوئی نہیں آتا ۔۔ سب کو پتہ ہے میاں بیوی بہت دن بعد ملے ہیں ۔۔ “

کچھ پل بعد وہ ذرا سا دور ہوا جبکہ مریم گہرے گہرے سانس لے رہی تھی اور خفیف سی اس کے سینے میں منہ چھپا گئی

” یہ ہوئی نا بات ۔۔ ایسی ہوتی ہیں عقل مند بیویاں ۔۔ جو بغیر کہے شوہر کو سمجھ جائیں ۔۔ “

مریم کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے وہ شرارت بھرے انداز میں بولا

” سنیں ۔۔ !”

چہرہ چھپائے اس نے عرش کو پکارا

” جی حکم ۔۔ !”

وہ سرشاری سے بولا

” آپ کتنے دن کے لیے آئے ہیں ۔۔ ؟”

پوچھتے ہوئے وہ اداس سی ہو گئی

” جان میں ایک مہینے کا بھی کہہ دوں ۔۔ پھر بھی آپ نے اداس ہونا ہے ۔۔ کہ دو مہینے کے لیے کیوں نہیں آئے ۔۔ “

عرش اسکا چہرہ دیکھتے ہوئے بولا تو وہ کچھ نہ بولی

” خاموش کیوں ہو میری جان ۔۔ ؟”

” نہیں تو ۔۔ !”

اس کے پوچھنے پر مریم نے نفی میں سر ہلایا

” اچھا سنو ۔۔ میں مام کے پاس سے ہو کر آتا ہوں ۔۔ کمرے میں ہی رہنا پھر وہیں سے شروع کریں گے ۔۔ !”

قریب تر ہو کر اس کے کان میں سرگوشی کرتا وہ مسکراتا اٹھ کھڑا ہوا جبکہ مریم کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھرنے لگے

////////////////////////////

وہ تقریب کی تیاریاں کرواتے ہوئے ابھی کمرے میں لوٹی تھیں زامن شاہ ابھی گھر نہیں آئے تھے بظاہر تو انہیں تینتیس سالہ روحان ٹھیک لگا تھا جینز پر نیلی شرٹ اور جیکٹ پہنے ، ہلکی داڑھی مونچھ کے ساتھ چہرہ بلکل سنجیدہ تھا وہ انہیں کم گو لگا تھا

بقول زامن شاہ کہ وہ ایک اچھا لڑکا تھا مگر وہ ماں تھیں نا ابھی مطمئن نہیں تھیں کیونکہ ابھی عروہ کی پڑھائی بھی نامکمل تھی وہ میڈیکل کے پہلے سمسٹر کی طالبہ تھی پھر زامن شاہ کو بھلا اتنی جلدی کس بات کی تھی ویسے بھی حورین نہیں چاہتی تھیں کہ ابھی عروہ پر کوئی ذمہ داری ڈالی جائے مگر زامن شاہ کا فیصلہ اٹل تھا اسی لیے وہ خاموشی سے سب ہونے دے رہی تھیں

وہ وارڈروب میں کپڑے رکھ رہی تھیں جب دروازے پر آہٹ ہوئی اور عرش شاہ کمرے میں داخل ہوا حورین نے بے دلی سے وارڈروب میں کپڑے رکھے اور مڑیں

عرش شاہ نے شرمندہ ہوتے ہوئے ماں کی جانب قدم بڑھائے

” عرش ۔۔ چلے جاؤ ۔۔ مجھے تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنی ۔۔ !”

وہ درشتگی سے بولی تھیں

” پلیز مام مجھے معاف کر دیں ۔۔ ! میں نے آپ کا مان توڑا ۔۔ “

عرش ندامت سے کہتا ہوا ان کے گلے لگ گیا جبکہ عرش کی سرخ آنکھیں دیکھ کر حورین پل بھر میں پگھلی تھیں آخر کو وہ ان کا بیٹا تھا کب تک خفا رہتیں

” تم نے مجھے بہت دکھ دیا ہے عرش ۔۔ مریم کے سامنے شرمندہ کر دیا مجھے ۔۔ میں ہر ایک کو بڑے اترا کر کہتی تھی ۔۔ میرا بیٹا بہترین مرد ہے ۔۔ وہ عورت کو دھوکا نہیں دے سکتا ۔۔ وہ عورت کی کمزوری کا کبھی فائدہ نہیں اٹھا سکتا ۔۔ !

” میں نے تو تمہیں یہ سب نہیں سکھایا ۔۔ تمہیں تو کبھی اتنا غصہ نہیں آیا تھا کہ اپنا صحیح غلط ہی بھول جاؤ تم ۔۔ چلو مانا کہ امل نے غلط کیا تھا تو کیا تم نے صحیح کیا عرش ۔۔ !”

وہ اس کا اترا چہرہ دیکھ کر کچھ دھیرے سے مگر سختی سے بول رہی تھیں

” میں نے غصے میں امل کو سزا دینے کے لیے نکاح کیا تھا ۔۔ مگر مجھے فوراً ہی احساس ہو گیا تھا کہ میں نے غلط کیا ۔۔ “

وہ اپنی صفائی دیتا بولا

” جانتے ہو مریم پر کیا گزری ہوگی ۔۔ کتنا برا لگا ہوگا اسے ۔۔ ایک تو پہلے ہی وہ بچی اتنی بڑی آزمائش سے گزر رہی ہے ۔۔ اور پھر تم نے سوتن کا صدمہ دے دیا اسے ۔۔ “

وہ تلخی سے گویا ہوئیں

” میں نے مریم سے معافی مانگی ہے مام ۔۔ اور اس نے مجھے معاف بھی کر دیا ۔۔ وہ بہت اچھی ہے مام ۔۔ “

وہ دھیمے لہجے میں بولا

” کیا فائدہ اب معافی مانگنے کا عرش شاہ ۔۔ میں یہ کہنا نہیں چاہتی تھی مگر مجھے افسوس ہے کہ مجھے کہنا پڑ رہا ہے ۔۔ “

وہ ایک پل کو رکیں مگر پھر دوبادہ بات شروع کر دی

” تم نے ثابت کر دیا عرش ۔۔ کہ باپ کا اثر اولاد میں ضرور آتا ہے چاہے اس کی تربیت کتنی ہی بہترین کیوں نہ کی جائے ۔۔ تم نے میرا مان توڑ دیا عرش ۔۔ “

وہ اگر تڑپ کر بولی تھیں تو عرش بھی ان کی بات سمجھتا تڑپ گیا

” مام ۔۔ !”

” تمہارے اٹھائے گئے قدم کی وجہ سے دونوں گھروں کا سکون برباد ہو گیا ہے ۔۔ “

وہ اسے کچھ بھی بولنے سے روکتی سر ہلاتی بولی تھیں

” میں شرمندہ ہوں مام ۔۔ !”

عرش سر جھکائے بولا

” مجھے لگا تھا میرا بیٹا بہت سمجھدار ہے ۔۔ جب میں نے مریم کے بارے میں تمہیں بتایا ۔۔ تو جیسے تم نے اس کے بکھرے ٹوٹے دل و وجود کو محبت سے سمیٹا ۔۔ مجھے اس پل اپنے بیٹے پر فخر محسوس ہوا تھا ۔۔ کہ میرا بیٹا خوبصورت دل کا مالک ہے ۔۔ جس کی گھٹیا مردوں جیسی سوچ نہیں ہے کہ جو اولاد نہ ہونے پر عورت کو قصوروار ٹھہراتے ہیں ۔۔ مگر تم نے پھر مریم کے ساتھ یہ سب بہت غلط کیا عرش ۔۔ !”

بھیگی آواز میں بول رہی تھیں جبکہ عرش خاموش سر جھکایا بیٹھا تھا

” کیا تم نہیں جانتے اولاد مرد کا نصیب ہوتی ہے ۔۔ تو مریم قصوروار کیسے ہو سکتی ہے ۔۔ پھر اس کو کیوں توڑ دیا تم نے عرش ۔۔ ؟”

وہ مسلسل اسے سناتی جا رہی تھیں اور وہ بھی سر جھکائے چہرے پر ندامت سجائے سن رہا تھا

” سمجھ رہے ہو میری بات ۔۔ اولاد مرد کا نصیب ہوتی ہے ۔۔ اگر تمہارے نصیب میں اولاد ہے تو خدا تمہیں ضرور دیتا ۔۔ !”

” جی مام میں سمجھ رہا ہوں ۔۔ پلیز آپ مجھے معاف کر دیں ۔۔ “

وہ ہاتھ جوڑتا اس مرتبہ بولا تو حورین نے اس کے ہاتھ تھام لیے

” اور ہاں مریم کو اعتماد میں لو ۔۔ اسے سمجھاؤ کہ اولاد نہ ہونے میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے ۔۔ بلکہ یہ خدا کے فیصلے ہیں ۔۔ “

وہ پھر گویا ہوئیں

” جی ٹھیک ہے مام۔۔ آپ بے فکر رہیں ۔۔ اب میں اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دوں گا ۔۔ “

وہ پر یقین انداز میں بولا تھا

” ہممم ۔۔ امل کو کہاں چھوڑ کر آئے ہو ۔۔ ؟”

انہوں نے اس کے چہرے کو کھوجتی نگاہوں سے تکتے ہوئے اچانک پوچھا

” وہیں گھر پر ہے ۔۔ !”

اس نے سرسری سا جواب دیا

” اسے اکیلا چھوڑ کر آ گئے ہو تم ۔۔ !”

ان کے ماتھے پر شکن ابھرے

” پھر کیا کرتا مام ۔۔ !”

وہ امل کے ذکر پر بےزار سا ہوا

” دیکھو عرش کسی بھی حال میں۔۔ جتنا بھی غصہ ہو تمہیں اس پر ۔۔ مگر کبھی اذیت مت دینا اسے ۔۔ ہو سکے تو معاف کر دو اسے ۔۔ مزید کوئی غلطی مت کر دینا اب ۔۔ !”

انہوں نے اسے سختی سے تنبیہ کی تو عرش نے اثبات میں سر ہلایا

” اچھا سنو ۔۔ میں نے ایک دو ڈاکٹرز سے بات کی ہے ۔۔ عروہ کے نکاح کے بعد ۔۔ کچھ چھٹیاں لو ۔۔ اور مریم کو لے کر چلے جانا ۔۔ خدا سے ناامید نہیں ہونا چاہیے ۔۔ کیا معلوم کوئی معجزہ ہو جائے ۔۔ !”

وہ کچھ یاد آنے پر بولیں تو عرش سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا

” جی مام ۔۔ !”

/////////////////////////////

عرش اسے اس فلیٹ میں تن تنہا چھوڑ کر کل سے گیا ہوا تھا پہلے تنہا یہاں دو کمرے کے فلیٹ میں دن گزارنا مشکل تھا مگر جو گزشتہ رات اس نے گزاری تھی وہ تو مانو قیامت تھی ہر طرح کا خوف اس کے دل میں بیٹھ چکا تھا وہ عرش کے آنے کی دعا کرتی رہی تھی مگر ضروری تو نہیں ہر دعا پوری ہو اسے نہیں آنا تھا سو وہ نہیں آیا مگر اس رات نے امل کو آسمان سے زمین پر پٹخ دیا تھا

وہ بہت اذیت میں تھی وہ کبھی خوفزدہ ہو کر چیخنے لگی تو کبھی کمرے میں جا کر دروازہ لاکڈ کر کے چھپ جاتی رات کو بھی اس نے سارے گھر کی بتیاں روشن کی ہوئی تھیں

وہ بس عرش کے آنے کی دعائیں مانگ رہی تھی وہ ایک پل کو سو نہیں پا رہی تھی ، ڈر تھا کہ اگر آنکھ لگ گئی تو کوئی آ جائے گا

وہ سب کو یاد کر کے روتی رہتی کبھی ماں باپ یاد آتے کبھی مریم اور اشعل یاد آتے کبھی حورین خالہ یاد آتیں ابھی چھوٹی نانو یاد آتیں وہ ان سب کو پکارتی دھاڑیں مار مار کر روتی رہتی تھی

اس فلیٹ میں تنہائی اور خوف کے ساتھ دن گزارنے امل کی زندگی کے بدترین دن ثابت ہوئے وہ تو زامن شاہ اور عرش شاہ سے بدلہ لینے چلی تھی عرش شاہ نے ہی اس سے کیا خوب انتقام لیا تھا

////////////////////////////

ایک ہفتے سے نہ وہ صحیح سے سو پائی تھی نہ کچھ کھا پائی تھی بس روتی رہی تھی جیسے رونے سے اس کے ڈیڈ اپنا فیصلہ بدل دیں گے اور اس کا نکاح روحان سے نہیں کروائیں گے مگر اس کے شفیق اور مہربان ڈیڈ جو اس پر اپنی جان دیتے تھے اس کی ذرا سی تکلیف پر پریشان ہو جاتے تھے اب وہ اتنے دن سے بخار میں تپ رہی تھی اب بس سرسری سا پوچھ لیتے تھے

جبکہ اشعل کے بارے میں سوچ کر بھی عروہ کو بہت برا لگتا تھا وہ اس سے محبت کرتا تھا وہ بھی تو کرتی تھی مگر اپنے ڈیڈ کا مان بھی تو نہیں توڑ سکتی تھی

ایک ہفتے سے وہ کمرے میں بند تھی کل اس کا نکاح تھا بہت رات ہو گئی تھی مگر نیند اس سے کوسوں دور تھی اب اسے گھٹن ہونے لگی تھی وہ کمرے سے نکلنا چاہتی تھی کھلی فضا میں سانس لینا چاہتی تھی

اس وقت رات کے دو بج رہے تھے ویسے بھی سب سو چکے ہوں گے یہ سوچتے ہوئے اس نے دوپٹہ کی تلاش میں نگاہیں گھمائی کرسی پر پڑا دوپٹہ اوڑھ کر وہ کمرے سے نکل پڑی سب سو چکے تھے باہر کوئی بھی نہ تھا وہ لان کی سمت بڑھی عام حالات میں وہ اتنی رات لان میں جانے سے یقیناً گھبرا جاتی مگر فی الوقت وہ شدید ذہنی دباؤ میں تھی

لان میں مدھم سی روشنی تھی وہ دھیرے دھیرے چکر لگانے لگی

اس دوران اشعل جو کہ اضطرابی کیفیت میں اپنی چھت پر کھڑا تھا یہ بات ہی اس کا سکون چین چھیننے کے لیے کافی تھی کہ عروہ کل کسی اور کی دسترس میں ہوگی تب اس کی نظر شاہ حویلی کے لان پر پڑی وہاں کوئی وجود تھا اسے عروہ کا گمان ہوا کچھ غور کرنے پر اسے یقین ہو گیا ہے لان میں عروہ ہے عروہ کی جھلک دیکھ کر اشعل کا بے چین دل مزید بے چین ہوا وہ کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر اپنے گھر سے نکل کر شاہ حویلی آیا اور فوراً لان کی سمت بڑھا اب ان دونوں میں چند انچ کا فاصلہ تھا جبکہ عروہ اتنی رات کو اشعل کو اپنے سامنے دیکھ کر سٹپٹا گئی اور پھر یکدم اسے شدید گھبراہٹ اور پریشانی ہوئی

” تم اتنی رات کو یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔ ؟؟”

وہ حیرت زدہ سی گویا ہوئی لہجہ خوفزدہ تھا

” کیوں ظلم کر رہی ہو خود پر بھی اور مجھ پر بھی ۔۔ پلیز میرا ساتھ دو عروہ ۔۔ ہم دونوں سب کو بتا دیتے ہیں ۔۔ کہ ہم دونوں محبت کرتے ہیں ایک دوسرے سے ۔۔ !”

وہ اس کی بات نظر انداز کرتا گویا ہوا

” میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ میں تم سے محبت نہیں کرتی ۔۔ خدا کے لیے میرے لیے مشکلات پیدا مت کرو ۔۔ اور جاؤ یہاں سے ۔۔ “

وہ مدھم اور التجائیہ انداز میں بولی تھی آنسو خودبخود آنکھوں سے بہنے لگے تھے

” جھوٹ بول رہی ہو تم ۔۔ تم خوش نہیں ہو اس نکاح سے ۔۔ پلیز تھوڑی ہمت کرو اور میرا ساتھ دو ۔۔ “

وہ اس کی بات رد کر گیا

” اشعل میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ۔۔ تمہیں تمہاری محبت کا واسطہ دیتی ہوں ۔۔ مجھ سے دور رہو ۔۔ اور آئیندہ کبھی محبت کا ذکر مت کرنا ۔۔ پلیز میری زندگی سے چلے جاؤ ۔۔ !”

وہ بھیگی آنکھوں روندی آواز کے ساتھ بولی تو اشعل کا دل کسی نے جیسے مٹھی میں جکڑ لیا وہ لڑکی جو ہمیشہ کونفیڈنس رہتی تھی آج اس کے سامنے ہاتھ جوڑ رہی تھی

” پلیز عروہ تم ہاتھ مت جوڑو ۔۔ پلیز مت رو ۔۔ اچھا میں کچھ نہیں کہتا ۔۔ !”

اشعل نے تڑپ کر کہا

” پلیز میری زندگی کو عزاب مت بناؤ ۔۔ چلے جاؤ میری زندگی سے ۔۔ !”

وہ ہاتھ جوڑتی روتے ہوئے واپس مڑ گئی

////////////////////////////

وہ تھکا ہوا تو بہت تھا مگر نیند اسے پھر بھی نہیں آ رہی تھی جیسے جیسے رات گہری ہو رہی تھی کمرے سے باہر چہل قدمی اور آوازیں بھی کم ہو گئی تھیں وہ بیڈ سے اٹھا اور موبائل ہاتھ میں تھام کر کمرے سے باہر نکلا جہاں بلکل خاموشی تھی سب اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے چونکہ تقریب کا انتظام شاہ حویلی ہی میں تھا سو شاہ حویلی خوبصورتی سے سجی ہوئی تھی وہ باہر لان کی جانب بڑھا جب اسے وہاں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا

‘ عروہ ‘ نام کی پکار پر وہ چونکا ابھی وہ کچھ سمجھنے کی کوشش کرتا کہ ایک لڑکی بھاگتی ہوئی اندر کی سمت آئی اور اس سے بری طرح ٹکرا گئی روحان نے اسے بازو سے تھام کر سہارا دیا مگر روحان کو سامنے دیکھ کر تو جیسے عروہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی

مدھم روشنی میں وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو پہچان چکے تھے چونکہ مریم کے ذریعے وہ بہت بار ایک دوسرے کو تصویر میں دیکھ چکے تھے عروہ اپنے بازو پر روحان کی گرفت کمزور ہونے پر ہوش میں آئی اور کانپتی ٹانگوں کا بوجھ سنبھالے اپنے کمرے کی جانب بھاگ گئی جبکہ روحان نے مڑ کر اسے جاتا دیکھا اور پھر لان کی جانب بڑھا

جہاں سے ایک لڑکا دیوار پھلانگ کر باہر جا رہا تھا روحان کے سنجیدہ چہرہ غصے سے سرخ ہوا جبکہ آنکھوں سے شرارے نکلنے لگے اپنی ہونے والی بیوی کی حقیقت اس طرح اس کے سامنے آئی تھی کہ اس کا بس نہیں چل رہا تھا دنیا تہس نہس کر دے اسی اک پل میں عروہ کا کردار اس کا سامنے بلکل کھوکھلا ہو چکا تھا

اس کی نظر میں جو لڑکیں رات کی تاریکی میں غیر مردوں سے ملاقاتیں کرتی ہیں ان کو زندہ زمین میں درگور کر دینا چاہیے عروہ جیسی لڑکیوں سے اسے نفرت تھی جو رات کے اس پہر اپنے ماں باپ کی عزت خاک میں ملا دیتی ہیں

ایک تو اس کا دل کیا ابھی سارے گھر کو اکٹھا کر لے وہ عروہ کو بے نقاب کر دے مگر اس طرح اتنے مہمانوں میں زامن ماموں کی بدنامی ہو گی وہ ایسی بدکردار لڑکی کو اپنی زندگی میں اب شامل نہیں کرنا چاہتا تھا مگر عرش شاہ کو قابو کرنے کے لیے اس کی بہن کا شکار اب ضروری تھا

وہ بے شک اپنی زندگی کے بیس سال امریکہ میں گزار کر آیا تھا مگر غیرت مند ضرور تھا اور پاکستانی لڑکیوں سے تو وہ اس طرح کی تواقع نہیں کر رہا تھا

اس سب کے بعد عروہ اس کے دل میں سمانے سے پہلے ہی اتر چکی تھی سر جھٹکتا وہ کمرے کی سمت بڑھ گیا کیونکہ ایک اور کڑوا گھونٹ اسے مریم کی خاطر پینا تھا

///////////////////////////