Tere Sitam By Fatima Readelle50292 Tere Sitam (Episode 22)
Rate this Novel
Tere Sitam (Episode 22)
Tere Sitam By Fatima
وہ مریم کی طبیعت کا سن کر بے حد بے چین ہوا تھا اشعر کو سب کا خیال رکھنے کا کہہ کر وہ شاہ حویلی کے لیے نکلا تھا جب اس نے حویلی میں قدم رکھے تو رات کافی ہو چکی تھی اور شاہ حویلی میں بلکل سناٹا تھا کبھی وہ وہاں آتا تھا تو خوشیاں اور کھلکھلاہٹیں اس کا استقبال کیا کرتی تھی مگر آج فضاؤں میں عجیب سی وحشت چھائی ہوئی تھی
عرش شاہ بھاری قدموں سے اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا جب وہ دروازہ دھکیل کر کمرے میں داخل ہوا تو وہاں نیم اندھیرا تھا عرش سوئچ بورڈ کی جانب بڑھا اور دو تین بٹن دبانے سے پورا کمرا روشن ہو گیا
ابھی وہ مڑا ہی تھا کہ فرش پر بیٹھی مریم نے روشنی کے باعث چندھیائی آنکھیں اس کی جانب کیں دونوں کی آنکھیں ملی تو ان چاروں آنکھوں میں کرب تھا بہت سے مان ٹوٹ جانے کی کرچیاں تھیں
عرش شاہ نے نگاہیں پھیریں تھیں اور دروازہ لاکڈ کیا اور ہاتھ میں باندھی گھڑی اتاری ، جیبیں کنگھالنے کے بعد والٹ اور موبائل بھی نکال کر سائڈ ٹیبل پر رکھا اب وہ جیکٹ اتارتا ہوا ہیٹر آن کر رہا تھا تاکہ کمرے کی خنکی میں کمی ہو
” السلام علیکم ۔۔ “
وہ اب مریم کے ساتھ فرش پر بیٹھتے ہوئے اسے دیکھتے سلام کر رہا تھا جبکہ مریم اسے یک ٹک دیکھ رہی تھی
” ڈیڈ بتا رہے تھے ۔۔ آپ کو بخار ہے ۔۔ “
مریم نے سلام کا جواب نہیں دیا تھا وہ ہنوز خاموش تھی عرش شاہ اب اس کا ماتھا چھوتا استفسار کر رہا تھا
” شکر ہے بخار اب نہیں ہے ۔۔ “
وہ پھر بڑبڑایا تھا جب کہ مریم اب عرش کے سینے سے لگ کر سسکنے لگی تھی عرش نے کرب سے آنکھیں بند کی تھیں
” مم مجھے معاف کر دیں ۔۔ بب بھائی نے بلکل ٹھیک نہیں کیا ۔۔ پپ پلیز مجھے معاف کر دیں ۔۔ “
وہ مسلسل یہی بولی جا رہی تھی اور روتی جا رہی تھی عرش شاہ میں ہمت نہیں تھی کہ وہ اسے خاموش کرواتا وہ خود بھی بے آواز رونے لگا تھا
” مم میں بھائی کو کبھی معاف نہیں کروں گی ۔۔ میں کبھی ان سے نہیں ملوں گی ۔۔ “
عرش کو خاموش دیکھ کر وہ مسلسل بول رہی تھی وہ شاید شدید صدمے میں تھی عرش شاہ اس کی کیفیت سمجھتا اس کے بال سہلانے لگا
” آپ پلیز مجھے معاف کر دیں ۔۔ “
وہ اب سر اٹھاتی عرش کے سامنے ہاتھ جوڑ گئی
” پلیز مریم ۔۔ مجھے اس وقت آپ کی ضرورت ہے ۔۔ اس طرح کی کوئی بھی بات بول کر مجھے اور خود کو اذیت مت دیں ۔۔ “
وہ رو رہا تھا اور مریم کو تو اسے دیکھ کر ہی جھٹکا لگا تھا آج تک اس نے عرش شاہ کو اس طرح نہیں دیکھا تھا وہ اسے اس طرح روتے دیکھ کر تڑپ گئی تھی
” شاہ جی ۔۔ “
وہ دونوں ہاتھوں سے اس کے آنسو پونچھتی اس کا ماتھا چوم گئی جبکہ عرش اب اس کی گود میں منہ چھپا رہا تھا عرش شاہ نے مریم کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے رکھے تھے جن پر آنسو ٹپ ٹپ بہہ رہے تھے
//////////////////////
عروہ کو آج رات ہی ہوش آیا تھا مگر وہ بلکل خاموش تھی بس خاموشی سے چھت کو گھورتی رہتی تھی
حورین نے تڑپ کر اسے سینے سے لگایا تھا اور بے تحاشہ رونے لگی تھیں مگر عروہ اس کیفیت سے نہیں نکلی تھی ایک آنسو بھی اس کی آنکھ سے نہیں بہا تھا
ضامن شاہ اور عرش شاہ نے بھی اسے سینے سے لگایا تھا مگر وہ بے تاثر چہرہ لیے انہیں دیکھتی رہی تھی کسی کا رونا اس پر اثر انداز ہی نہیں ہو رہا تھا ڈاکٹرز اس کی اس کیفیت پر پریشان تھے اور مزید کسی کو بھی اس کے سامنے رونے سے روک رہے تھے
” میری بیٹی کچھ بولتی کیوں نہیں ہے ڈاکٹر ۔۔ “
حورین بے حد پریشان سی پوچھ رہی تھی
” ڈاکٹر حورین آپ خود بھی ایک ڈاکٹر ہیں ۔۔ آپ اپنی بیٹی کی حالت کو سمجھیں ۔۔ وہ شدید صدمے سے گزر رہی ہے ۔۔ عروہ کی یہ کیفیت بہت خطرناک ہے ۔۔ اس طرح نروس بریک ڈاؤن ہونے کے چانسز بڑھ گئے ہیں ۔۔ آپ سب پلیز انہیں وقت دیں ۔۔ انشاء اللہ وہ ٹھیک ہو جائیں گی ۔۔”
ڈاکٹر سامنے بیٹھے ضامن شاہ ، عرش شاہ اور حورین کو دیکھتی گویا ہوئی تھیں
” وہ کب ٹھیک ہو گی ڈاکٹر ۔۔ “
عرش شاہ نے ضبط سے سرخ ہوئی آنکھوں سے ڈاکٹر کو دیکھتے ہوئے پوچھا اپنی بہن کی اس حالت پر اس کا دل پھٹ رہا تھا
” کچھ کہا نہیں جا سکتا ۔۔ سالوں سال لگ سکتے ہیں ۔۔ اگر کیفیت ایسے ہی رہی تو ان کی جان کو خطرہ ہے ۔۔ آپ سب کوشش کریں ان کا بہت خیال رکھیں ۔۔ کوئی بھی پرانی بات ان کے سامنے نہ دہرائی جائے جس سے انہیں تکلیف ہو ۔۔ “
وہ ان سب کے مایوس چہروں کو دیکھتے ہوئے سمجھا رہی تھیں
” وہ آپ سب کی باتیں سن رہی ہے ۔۔ لیکن اس کی ذہنی حالت بہت بری ہو گئی ہے جس کی وجہ سے وہ بہت خاموش ہے ۔۔ “
” عام حالات میں بھی اگر عورت کو یہ بات معلوم ہو کہ وہ اب کبھی ماں نہیں بن سکتی تو وہ بکھر جاتی ہے ۔۔ پھر عروہ تو اس وقت ویسے بھی بہت برے حالات سے گزری ہے ۔۔ بس آپ سب کو ہمت رکھنی ہے ۔۔ انہیں زندگی کی طرف واپس لانا ہے ۔۔ “
عرش شاہ کو سر پکڑے دیکھ کر ڈاکٹر خود بھی افسردہ سی بولی تھیں
/////////////////////////
تمام معاملاتِ زندگی اپنے معمول پر آ گئے تھے ہر کوئی اپنی زندگی میں مصروف ہو گیا تھا ضامن شاہ نے ریٹائرمنٹ لے لی تھی وہ اب اپنا وقت گھر پر گزارتے تھے حورین ہسپتال دوبارہ جانے لگی تھیں عرش شاہ واپس جا چکا تھا مریم خاموش سی رہتی تھی اشعر اپنی پڑھائی میں مصروف تھا علی اور رامین دو تین دن بعد شاہ حویلی چکر لگا لیتے تھے چھوٹی دادو اور منتہاء مستقل شاہ حویلی میں مقیم تھیں مگر منتہاء کا زیادہ وقت یونیورسٹی میں گزرتا تھا اشعل نے ایک دو بار عروہ سے ملنے کی کوشش کی تھی مگر رامین نے اسے روکا ہوا تھا رامین کے ہی اصرار پر اشعل ہاسٹل شفٹ ہو گیا تھا
عرش کے گھر آنے پر امل نے عرش کی پریشانی کا ہزار مرتبہ پوچھا تھا مگر اس نے اسے ایک سخت نظر سے نوازا تھا جس کے بعد امل نے خاموشی اختیار کر لی تھی
ان سب میں عروہ تھی جس کی زندگی ایک جگہ رک چکی تھی وہ سارا دن کمرے میں خاموش گزارتی کبھی خود کو گھنٹوں شیشے میں تکتی رہتی تھی کبھی گھنٹوں ایک ہی جگہ بیٹھی اپنے ہاتھوں کو دیکھتی رہتی تھی
سب گھر والوں کے بے حد پیار کے باوجود وہ ابھی بھی اپنا دکھ ، اپنی کوئی تکلیف کسی کے ساتھ نہیں بانٹ رہی تھی ڈاکٹرز کہتے تھے کہ عروہ جب تک اپنے اندر کا درد بیان نہیں کرے گی یا روئے گی نہیں
تب تک اس کی حالت بہتر نہیں ہو گی
حورین اور رامین تو اس کے سامنے رو پڑتی تھیں مگر وہ خاموشی سے بس انہیں تکتی رہتی تھی مریم اور منتہاء گھنٹوں اس سے باتیں کرتیں مگر وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ انہیں دیکھتی رہتی سب کو عروہ کی بے حد فکر تھی نہ وہ کچھ بولتی تھی نا روتی تھی
ڈاکٹرز یہی کہتے تھے کہ اگر عروہ اپنی اس کیفیت سے باہر نا آئی تو اس کی جان کو خطرہ ہے یا پھر وہ اپنا زہنی توازن بھی کھو سکتی ہے
کوئی اسے جہاں کہتا وہ وہی بیٹھ جاتی اشعر اس سے ہنسی مزاق کرتا مگر عروہ اسے ایسے دیکھتی جیسے اس کی کوئی بات اسے سمجھ نہیں آ رہی عرش ، عروہ کی حالت کے پیش نظر سائیکیٹرسٹ کو دیکھانے کا سوچنے لگا تھا
آج عروہ کی وجہ سے حورین نے سب کو ڈنر کے لیے بلایا تھا تاکہ عروہ سب کو دیکھ کر کچھ بولے کچھ تاثر ظاہر کرے عرش بھی شاہ حویلی آیا ہوا تھا
ڈائننگ ہال میں سب موجود تھے عروہ ، عرش اور اشعر کے درمیان والی کرسی پر بیٹھی اپنے ہاتھوں کو مسلسل گھور رہی تھی
” عروہ بیٹا دیکھو ۔۔ آج سب کچھ تمہاری پسند کا بنایا ہے میں نے ۔۔ “
حورین اس کا ماتھا چومتی جذب سے گویا ہوئیں
” مام میں تو جیسے آپ کی سگی اولاد ہوں ہی نہیں ۔۔ میری پسند کا تو کھانا آپ اپنے ہاتھوں سے کبھی نہیں بناتی ۔۔ بھابھی بھی بس اپنے شوہر کی پسند کا کھانا بناتی ہیں ۔۔”
اشعر نے مصنوعی ناراضگی سے کہا تو عرش شاہ نے اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے مکا اس کی کمر پر رسید کیا کہ اشعر کراہ اٹھا باقی سب کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری تھی صرف عروہ تھی جو ان دونوں کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے وہ انہیں جانتی ہی نہ ہو
” بس اب اس کا یہی حل ہے کہ ہم تیری شادی کر دیں ۔۔ پھر اپنی بیوی کے ہاتھ کا کھانا کھاتا رہیں ۔۔ “
چھوٹی دادو نے مسکراتے ہوئے کہا تو اشعر نے منتہاء کو ایک آنکھ مارتے ہوئے مشکور نگاہوں سے دادو کو دیکھا جبکہ منتہاء نے اسے آنکھیں دیکھائیں
” ہائے میری پیاری دادی ۔۔ میری کیوٹ دادی ۔۔ یہ کی نا آپ نے میرے دل کی بات ۔۔ “
اشعر نے فلائنگ کس دادی کو کرتے ہوئے جوش سے کہا
” بیٹا صبر رکھو ۔۔ ویسے بھی اب شادی کی تمہاری ہی باری ہے ۔۔”
رامین نے اشعر کو کہا تو عرش نے مریم کو اشارہ کیا مریم اب عروہ کی پلیٹ میں کھانا نکال رہی تھی
” عروہ دیکھو حورین ماما نے تمہارے لیے بنایا ہے ۔۔۔ بہت مزے کا ہے ۔۔ “
مریم نے محبت بھرے انداز میں کہا تھا
” مریم بھابھی آج میں اپنے ہاتھوں سے اپنی چھوٹی سی گڑیا کو کھانا کھلاؤں گا ۔۔ “
اشعر نے عروہ کو ہنوز ایک ہی سمت میں بیٹھے دیکھا تو مریم سے کہتا خود عروہ کو کھانا کھلانے لگا جبکہ عرش نے سنجیدہ بیٹھے ضامن کو دیکھا
کھانے کے بعد سب لیونگ روم میں بیٹھے تھے
سب کسی نا کسی بات میں عروہ کو مخاطب کرتے مگر وہ خاموش تھی حورین کا ضبط ٹوٹا تھا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھیں
” عروہ پلیز کچھ بولو بیٹے ۔۔ اپنی خاموشی سے مت مارو ہمیں ۔۔ “
وہ عروہ کے آگے ہاتھ جوڑتی روتے ہوئے بولی تھیں جبکہ سب ہی آبدیدہ ہو گئے تھے
” مام پلیز سنبھالیں خود کو ۔۔ “
عرش نے ان کے ہاتھ تھامے تھے
” خدا پوچھے اس روحان کو ۔۔ ہماری پھولوں جیسی بچی کا کیا حال کر دیا ہے ۔۔ “
چھوٹی دادو بھی روتے ہوئے بولی تھیں عرش سمیت ضامن نے بھی انہیں مزید بولنے سے روکا تھا کیونکہ عروہ کے سامنے روحان کا ذکر کرنے سے ڈاکٹر نے انہیں سختی سے منع کیا تھا
” چھوٹی دادو پلیز ۔۔ “
” پیچھے ہٹو تم لوگ ۔۔ میں بات کرتی ہوں اپنی پوتی سے ۔۔ “
عرش کی التجا کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ اشعر کو عروہ کے پاس سے اٹھنے کا اشارہ کرتیں عروہ کے برابر براجمان ہو چکی تھیں
” مجھے بتاؤ میری بچی ۔۔ اس نے کیا کیا تمہارے ساتھ ۔۔ ہاں بتاؤ اپنی دادی کو ۔۔ وہ مارتا تھا نا تمہیں ۔۔ میری پھولوں جیسی بیٹی کو ۔۔ “
وہ عروہ کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھامتی بے حد پیار اور محبت سے استفسار کر رہی تھی جبکہ عروہ ان کا چہرہ دیکھ رہی تھی
” کیوں سہا تم نے اس کا ظلم ۔۔ تم تو ہماری شیر بیٹی ہو نا ۔۔ فون کرتی اپنے اس ایس پی بھائی اور آئی جی باپ کو ۔۔ وہ اس روحان کو الٹا نہ لٹکاتے ۔۔ “
” زندگی خراب کر دی اس نے ہماری بچی کی ۔۔ کتنے کتنے بہتان لگائے اس نے ہماری بچی پر ۔۔ دل چاہ رہا تھا میرا میں اس کی زبان کھینچ لوں ۔۔ “
چھوٹی دادو کی باتوں سے سب ہی بے آواز رو رہے تھے جبکہ عروہ کے ماتھے پر ایک بل پڑا تھا
” عروہ مجھے ایک بار بتاؤ تو بیٹا میں اپنی بیٹی کی آواز سننے کے لیے ترس رہی ہوں بتاؤ تو اپنی ماں کو اپنے دکھ ۔۔ اتنا غیر نہ سمجھو ہمیں ۔۔ “
اس مرتبہ حورین بھی روتے ہوئے عروہ سے کہنے لگیں جبکہ مریم نے کرب سے عروہ کو دیکھا تھا
” تم تو اولاد کا دکھ سمجھتی ہو نا بیٹا تم نے اپنی اولاد کھوئی ہے نا ۔۔ تم بھی تو میری اولاد ہو نا ۔۔ پھر کیوں مجھے اپنی اولاد کا دکھ دینا چاہتی ہو ۔۔ مجھ سے بات کرو بیٹا ۔۔ “
حورین کی اس بات پر عروہ کی آنکھوں سے ایک آنسو نکلا تھا عرش نے حیرت سے اسے دیکھا تھا
” بتاؤں اس ذلیل آدمی کے ستم بیٹا ۔۔ اس نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمہاری گود کو اجاڑ دیا ہے ۔۔ “
چھوٹی دادو روندی ہوئی آواز میں بولی تھیں اس سے پہلے وہ مزید کچھ بولتیں عروہ ایک طرف گری تھی عرش نے اسے گرنے سے بچایا تھا
” عروہ کیا ہوا گڑیا ۔۔ “
عرش شاہ کی چنگھاڑتی آواز نے سب کو متوجہ کیا تھا عروہ کو بے ہوش دیکھ کر سب کے پیروں سے زمین سرکی تھی
” عرش ہاسپٹل لے کر چلوں عروہ کو ۔۔ “
ضامن شاہ بے ساختہ چیخے تھے
///////////////////////
” مسٹر عرش آپ سوچ نہیں سکتے آپ کی بہن کی ذہنی حالت کتنی خراب ہو چکی ہے ۔۔ جیسے آپ نے بتایا جو ہوا ان کے ساتھ ۔۔ مجھے افسوس ہو رہا ہے ۔۔ وہ ابھی اس ایج میں اتنے بڑے صدمے سے گزر رہیں ہیں ۔۔ “
عروہ کا نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا ڈاکٹر نے عروہ کے بارے میں ڈسکس کرنے کے لیے عرش شاہ کو بلایا تھا
” میری بہن کیسے ٹھیک ہو گی ڈاکٹر ۔۔؟”
عرش شاہ نے بے بسی سے پوچھا
” دیکھیں آپ سب کو صبر کرنا ہوگا ۔۔ اگر ہم جلد بازی کریں گے تو وہ اپنا ذہنی توازن کھو سکتی ہے ۔۔ “
ڈاکٹر کی بات پر عرش شاہ نے کرب سے آنکھیں میچیں
” ڈاکٹر وہ بہت معصوم ہے ۔۔ ہم سے غلطی ہوئی ہے ۔۔ ہمیں اتنی جلدی شادی جیسی زمہ داری اس پر نہیں ڈالنی چاہیے تھی ۔۔ اس کے بعد روحان کا جو رویہ تھا ۔۔ اس نے میری بہن کو اس نوبت تک پہنچا دیا ۔۔ “
وہ انہیں عروہ اور روحان کی شادی شدہ زندگی کی ساری حقیقت بتا چکا تھا
” جی ہاں میں سمجھ رہی ہوں ۔۔ میں نے عروہ کی ساری رپورٹس سٹڈی کی ہیں ۔۔ مسٹر عرش انہیں فیزیکل ٹارچر کے ساتھ ساتھ مینٹلی ٹارچر بھی کیا گیا ہے ۔۔ آپ سب لوگوں کو لگ رہا ہوگا کہ عروہ کی یہ کنڈیشن بہت اچانک ایسی ہوئی ہے ۔۔ لیکن ایسا نہیں ہے ۔۔
” کیا مطلب ڈاکٹر ۔۔ “
” مطلب یہ مسٹر عرش کہ ۔۔ عروہ کا نکاح بہت جلد بازی میں اور ایک ایسے شخص کے ساتھ ہوا جسے اس نے کبھی اپنے لیے سوچا ہی نہیں تھا اور اس کے بعد ان کے ہسبنڈ انہیں لے کر سب سے دور چلے گئے ۔۔ ہاں اگر وہ اس وقت اپنی فیملی سے کنٹیکٹ میں رہتی ۔۔ اپنی ماں کو اپنے دل کی باتیں شئیر کرتیں کہ ان کے ہسبنڈ کا رویہ ایسا ہے ان کے ساتھ ۔۔ تو شاید وہ اتنا ڈپریشن میں نہ ہوتیں۔۔ اور پھر دن رات وہ ٹارچر میں رہیں ۔۔ اپنا فرسٹ بےبی کھو دیا انہوں نے ۔۔ یہ سب بہت اذیت ناک ہے ۔۔ “
ڈاکٹر افسردہ سی بول رہی تھی
” اب کیسی طبعیت ہے عروہ کی ۔۔ ؟”
عرش شاہ نے سرد آہ بھرتے ہوئے پوچھا
” ہوش آ چکا ہے انہیں ۔۔ آپ مل لیجئے گا انہیں ۔۔ “
ڈاکٹر کی بات سن کر عرش اٹھنے لگا تھا جب دوبارہ ڈاکٹر نے اسے بیٹھنے کا کہا
” مسٹر عرش ۔۔ آپ کو ہمت سے کام لینا ہے ۔۔ عروہ کو کئی سال لگ سکتے ہیں زندگی کی طرف واپس آنے کے لیے ۔۔ لیکن اگر آپ سب ہمت نہ ہاریں تب ۔۔ ورنہ اگر وہ اس صدمے سے نہ نکل سکیں تو یہ ٹھیک نہیں ہوگا ۔۔ وہ ذہنی توازن کھو سکتی ہیں اپنا ۔۔ “
ڈاکٹر نے عرش کو بہت گہری باتیں کہیں تھیں عرش شاہ اثبات میں سر ہلاتا اٹھ گیا اور اس روم کی سمت بڑھا جہاں عروہ تھی رات کافی ہو چکی تھی اس لیے اس نے حورین اور ضامن سمیت سب کو گھر بھیج دیا تھا اور خود عروہ کے پاس رکا تھا مریم نے رکنا چاہا تھا مگر اس نے اسے بھی سمجھا بجھا کر بھیج دیا تھا
وہ کمرے میں داخل ہوا تو عروہ بے آواز رو رہی تھی عرش کو دیکھتی اٹھ بیٹھی
” عروہ ۔۔ “
عرش اسے پکارتا تڑپ کر اس کی سمت بڑھا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا
” بھائی ۔۔ “
عروہ نے بہت دنوں کے بعد اپنی زبان سے کوئی لفظ ادا کیا تھا عرش نے دل میں ہزار بار خدا کا شکر ادا کیا تھا
” میری گڑیا ۔۔ بھائی کی جان ۔۔ بھائی کی شہزادی ۔۔ “
عرش اس کے بالوں پر بوسہ دیتا محبت بھرے انداز میں بول رہا تھا جبکہ عروہ مزید بکھرنے لگی تھی وہ شدت سے رو رہی تھی اس کے رونے میں اتنا درد تھا کہ عرش جیسا مضبوط مرد اپنا سانس رکتا ہوا محسوس کر رہا تھا
” بب بھائی سب ختم ہو گیا ۔۔ “
وہ تڑپ رہی تھی عرش شاہ سے اپنی بہن کا اس طرح تڑپ تڑپ کر پھوٹ پھوٹ کر رونا برداشت نہیں ہو رہا تھا
” سب ٹھیک ہے بھائی کی جان ۔۔ کچھ نہیں ہوا ۔۔ صبح مام ڈیڈ بھی آئیں گے اپنی گڑیا سے ملنے ۔۔ “
عرش نے اس کا ماتھا چومتے ہوئے کہا تو وہ نفی میں سر ہلانے لگی
” بب بھائی مجھے چھپا لیں ۔۔ بھائی مجھے مام ڈیڈ کے سامنے نہیں جانا ۔۔ بب بھائی میں اس قابل نہیں رہی ۔۔ سب ختم ہو گیا ۔۔ “
عروہ سسک سسک کر رو رہی تھی
” عروہ ایسے کیوں بول رہی ہو بچے ۔۔ “
عرش نے اسے سنبھالتے کہا
” بب بھائی وہ ۔۔ بھائی وہ مام ڈیڈ کو بتا دے گا ۔۔ بھائی میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔ بب بھائی ممم میں بد کردار نہیں ہوں ۔۔ آ آ پ کو تو یقین ہے نا ۔۔ بب بھائی میں بدکردار نہیں ہوں ۔۔ “
وہ ڈرتے ہوئے نفی میں سر ہلا رہی تھی عرش شاہ نے اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا
” میں جانتا ہوں بیٹا ۔۔ تم تو میری معصوم سی بہن ہو ۔۔ خبیث تو وہ تھا جو تمہاری قدر نہیں کر سکا ۔۔ بدکردار تو وہ خود ہے ۔۔ جو ناجائز تعلقات رکھتا ہے ۔۔ تم تو میری گڑیا ہو ۔۔ “
عرش شاہ اس کے بکھرے بالوں کو سمیٹتے ہوئے بول رہا تھا اس کی بات پر عروہ نے اسے دیکھا
” بھائی وہ بابا کو بتا دے گا ۔۔ ڈیڈ بھی مجھے غلط سمجھیں گے ۔۔ بھائی اس نے سب ختم کر دیا ۔۔ “
وہ مسلسل روتے ہوئے کانپ رہی تھی عرش کو اس کی فکر ہو رہی تھی کہیں پھر سے اس کی طبیعت نہ بگڑ جائے
” ڈیڈ کو اپنی بیٹی پر یقین ہے بیٹا ۔۔ ہم سب کو اپنی شہزادی پر یقین ہے ۔۔”
عرش نے اسے یقین دلایا تھا
“بھائی اس نے مار دیا ۔۔ بھائی اسنے بے بی کو مار دیا ۔۔ “
اپنا یہ دکھ بتاتے ہوئے وہ اس شدت سے روئی تھی کہ کئی پل تو عرش شاہ بھی اسے تسلی نہ دے سکا تھا
” کیوں مارا بےبی کو ۔۔ انہیں مجھ پر ذرا ترس نہیں آیا ۔۔ “
” بھائی کی جان ۔۔ خدا کی ذات پر بھروسہ رکھو ۔۔ یہ آزمائش بھی جلد ہی ختم ہو جائے گی ۔۔ “
عرش شاہ نے اس کا آنسوؤں سے بھیگا چہرہ پونچھتے ہوئے تسلی دی وہ مزید بولتی کہ عرش نے نفی میں سر ہلایا
//////////////////////////
