53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam (Episode 26)

Tere Sitam By Fatima

عرش شاہ تیز تیز قدم اٹھاتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہا تھا جب کمرے کے دروازے کو کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو سر جھٹک کر پیچھے ہوا اور ایک نگاہ بند کمرے کے دروازے پر ڈالی اور گہرا سانس خارج کرتا واپس مڑ گیا

” سنو ۔۔ !”

زینے اترتے ہی اسے ایک ملازمہ سامنے سے آتی دیکھائی دی تو اس نے اسے پکارا

” جی صاحب ۔۔ “

وہ مؤدب سی کھڑی عرش شاہ کے سامنے کھڑی ہو گئی

” امل کہاں ہے ۔۔ ؟”

اس کے انداز میں جھجھک تھی

” وہ جی اوپر مریم بی بی کے ساتھ والا کمرہ ہے جی ۔۔ وہاں ہیں امل بی بی ۔۔ “

ملازمہ نے مؤدب انداز میں بتایا تو عرش شاہ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کا کہا اور خود دوبارہ زینے طے کرنے لگا

کمرے کے باہر پہنچ کر اس نے دروازہ کھولنے کے لیے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا وہ کھلتا چلا گیا سامنے ہی امل بیڈ پر گم صُم سی بیٹھی تھی عرش شاہ ایک نگاہ اس پر ڈالتا اندر آیا اور مڑ کر دروازہ لاکڈ کیا

جبکہ امل دروازہ لاکڈ کرنے کی آواز پر چونک گئی اور اپنے سامنے عرش کو ناسمجھی اور حیرت سے دیکھنے لگی

” کیا ڈرامے کیے ہیں تم نے مام کے سامنے ۔۔ ؟”

وہ نہایت سنجیدہ تاثرات لیے اپنی پشت پر ہاتھ باندھے کھڑا پوچھ رہا تھا امل اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی

” کیا ۔۔ ؟؟ میں نے کیا کیا ہے ۔۔ ؟ کیا کہہ رہے ہیں آپ ۔۔ “

عرش کی سنجیدگی نے اسے یک دم پریشان کیا

” میں تم پر ٹارچر کرتا ہوں ۔۔ ؟؟ تمہیں مارتا پیٹتا ہوں ۔۔ ؟”

بند کمرے میں عرش شاہ کی دھاڑتی آواز گونجی تھی

” نن نہیں ۔۔ “

وہ ڈر کر دو قدم پیچھے ہوتی بیڈ سے ٹھوکر کھا کر بیڈ پر ہی گری تھی عرش نے اس کی کلائی اپنی گرفت میں لے کر دوبارہ اسے اپنے مقابل کھڑا کیا

” پھر مام کو کیوں کہا تم نے یہ سب ۔۔ ؟”

اس مرتبہ آواز دھیمی تھی مگر چہرے پر بلا کی سختی تھی

” میں نے تو کچھ نہیں کہا خالہ کو ۔۔ “

وہ صفائی دیتی ہوئی گویا ہوئی تھی

” تم جانتی ہو یہ تھپڑ بہت اچانک مارا تھا میں نے ۔۔ ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا میں ۔۔ اس وقت یک دم غصہ آ گیا تھا مجھے تم پر ۔۔ اور فوراً سوری بھی کہا تھا میں نے ۔۔ پھر مام کو بتانے کی کیا ضرورت تھی ۔۔ جانتی ہو وہ کتنا غلط سمجھ رہی ہیں مجھے ۔۔ “

عرش شاہ نے اسے جھنجھوڑا تھا بے ساختہ امل کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے

” میں نے ایسا کچھ نہیں کہا خالہ کو ۔۔ “

وہ روتے ہوئے بولی تھی عرش شاہ نے بے زاری سے اس کے آنسو دیکھے

” زندگی کا عذاب بن گئی ہو تم میری ۔۔ “

وہ اسے جھٹکے سے چھوڑتا اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑے بولا

” میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا ۔۔ “

وہ اب بیڈ پر بیٹھی منمنائی تھی

” اچھا رونا بند کرو ۔۔ “

وہ حکمیہ انداز میں کہتا خود بھی اس کے ساتھ کچھ فاصلہ رکھتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گیا

” کیا کروں میں ۔۔ کیسے سب ٹھیک کروں ۔۔ تھک گیا ہوں صفائیاں دیدے کر سب کو ۔۔ کبھی ماما کو کبھی مریم کو ۔۔ “

وہ دونوں ہاتھوں میں سر گرائے بڑبڑا رہا تھا

” میں خالہ سے کہہ دوں گی ۔۔ کہ ۔۔ “

” کیا کہو گی ۔۔ ؟”

وہ اسے پریشان دیکھتے ہوئے بولی ہی تھی کہ عرش شاہ نے سر اٹھا کر اس سے پوچھا

” یہی کہ وہ غلط سمجھ رہی ہیں ۔ ۔”

وہ دھیمی آواز میں بولی

” وہ غلط نہیں سمجھ رہیں ۔۔ تھپڑ تو مارا ہے نا میں نے تمہیں ۔۔ “

وہ امل کے چہرے پر واضح انگلیوں کے نشانات دیکھتا اپنی غلطی تسلیم کر رہا تھا جبکہ امل نے اس کے چہرے پر ندامت صاف دیکھی

” سوری آئندہ ایسا نہیں ہوگا ۔۔ بس تم مریم یا کسی اور سے مت الجھنا ۔۔ “

وہ کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا

” آپ کو یہ ڈر کیوں ہے کہ میں مریم سے لڑوں گی ۔۔ اگر اتنا ہی ڈرتے ہیں اور فکر ہے مریم کی تو مجھے نہ لاتے یہاں پھر ۔۔ “

وہ کھڑی ہوتی تلملا کر پوچھ رہی تھی

” ہاں ہے مجھے فکر مریم کی ۔۔ کیونکہ وہ تمہاری طرح خود غرض نہیں ہے ۔۔ وہ تمہیں برادشت کر رہی ہے مگر تم کسی کو برداشت نہیں کر سکتی ۔۔ اس لیے سمجھا رہا ہوں کہ میرے گھر والوں سے کسی قسم کی بدتمیزی مت کرنا ۔۔ “

وہ اس سے تنبیہی انداز میں مخاطب تھا

” میں بھی آپ کی شاید کچھ لگتی ہوں ۔۔ آپ مانیں یا نہ مانیں ہمارے رشتے کو مگر اب میں بھی آپ کی فیملی کا حصہ ہوں ۔۔ میری تو فکر نہیں کرتے آپ ۔۔”

کوشش کے باوجود اس کی آواز بلند ہو گئی تھی

” شکر کرو کہ میری ماں نے مجھے تم سے کسی بھی قسم کی زیادتی کرنے کو منع کیا ہے ورنہ مجھے تم پر بہت غصہ آتا ہے ۔۔اور پھر تم زبان چلاتی ہو ۔۔ اور بحث کرتی ہو نا ۔۔ دل تو چاہتا ہے تمہاری ساری اکڑ نکال دوں ۔۔ “

امل کی بلند آواز نے عرش شاہ کے غصے کو ہوا دی تھی اور اب اس کے انداز میں غصہ تھا

” میں اتنی کوشش کرتی ہوں خود کو آپ کے مطابق ڈھالنے کی ۔۔ مگر آپ کو ابھی بھی لگتا ہے کہ میں زبان چلاتی ہوں ۔۔ آپ کو میں کبھی صحیح لگی ہی نہیں ہوں ۔۔ “

وہ عرش شاہ کے سامنے اس مرتبہ کمزور سے انداز میں بولی تھی

” بحث کیوں کر رہی ہو امل ۔۔ “

” اوکے اب کچھ نہیں کہتی ۔۔ “

وہ جھنجھلا کر بولا تو امل نے فوراً تابعداری کا مظاہرہ کیا

” دیکھو اگر چاہتی ہو کہ میں تم سے نرمی سے پیش آؤں تو خود کو تھوڑا بدلو ۔۔ ورنہ میرا تمہارے ساتھ گزارا نہیں ۔۔ “

وہ اب اس سے سمجھانے والے انداز میں مخاطب تھا

” بات بات پر چھوڑنے کی دھمکی کیوں دیتے ہیں ۔۔ ؟”

عرش کی بات کا مفہوم اخذ کرتی وہ دوبدو بولی

” میں نے ایسا کچھ نہیں کہا ۔۔ “

وہ ڈھیلا پڑا تھا

” بتائیں میں کیا کروں جس سے آپ راضی ہو جائیں ۔۔ “

بولتے ہوئے امل کی آنکھوں سے آنسو آ گئے

” رونے کیوں لگ جاتی ہو ہر بات پر ۔۔ ایک تو میں تمہاری اس عادت سے تنگ ہوں ۔۔ “

وہ اسے روتا دیکھ بےزار ہوا تھا

” مریم کے آنسو بھی تو پیار سے ہی پونچھتے ہوں گے آپ ۔۔ کیا میں اس قابل بھی نہیں ۔۔ “

امل کا انداز عام سا تھا مگر عرش کو لگا وہ طنز کر رہی ہے

” مریم سے اپنا مقابلہ نہ ہی کرو تو بہتر ہے ۔۔ “

” میں مریم سے مقابلہ نہیں کر رہی ۔۔ میں صرف ایک نارمل بات کر رہی ہوں ۔۔ “

عرش کے ٹکے سے جواب پر وہ اپنے آنسو ہاتھ کی پشت سے پونچھتے ہوئے بولی

” دیکھو امل میں جانتا ہوں کہ میری زندگی کا سب سے غلط فیصلہ تم سے نکاح کرنے کا تھا ۔۔ لیکن پلیز مزید مجھے پریشان مت کرو ۔۔ آئندہ کبھی خود کو اور مریم کو مت ملانا ۔۔”

عرش شاہ نے لہجے میں پھر سے سختی در آئی تھی

” آپ ہمیشہ مجھے غلط کیوں سمجھتے ہیں ۔۔ ؟”

” کیونکہ تم ہو ہی غلط ۔۔ “

” اوکے تم سو جاؤ ۔۔ “

وہ اسے کچھ بھی بولنے کا موقع دیے بغیر دروازے کی جانب بڑھتے ہوئے بولا اور بغیر اس کی کوئی بات سنے کمرے سے نکل گیا جبکہ امل نے غصے سے پاس پڑا گلاس فرش پر دے مارا

” مجھے تو کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں ۔۔ نوکروں کے ساتھ بھی اتنے اچھے سے بات کرتے ہیں اور ایک مجھ سے اتنے غصے میں بات کرتے ہیں ۔۔ “

عرش کا سخت لہجہ اسے بہت چبھتا تھا وہ اب چاہتی تھی کہ عرش شاہ اس سے بھی کبھی پیار سے بات کرے لیکن وہ تھا کہ اسے دیکھتے ہی ماتھے پر بل ڈال لیتا تھا

” آخر ایسا کیا کروں کہ ان کا رویہ ٹھیک ہو جائے میرے ساتھ ۔۔ “

وہ پر سوچ انداز میں بولتے ہوئے بستر پر ڈھے سی گئی تھی

///////////////////////

وہ امل کے کمرے سے نکل کر مریم کے پاس کمرے میں آیا تھا مگر دروازہ کھول کر جب وہ اندر داخل ہوا تو بے ساختہ اس کے ماتھے پر بل پڑے

کمرے میں نیم اندھیرا تھا مریم بیڈ پر لیٹی شاید سو رہی تھی ایسا ان کی چار پانچ سالہ شادی شدہ زندگی میں پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ مریم اس کا انتظار کیے بغیر ہی سو رہی تھی

عرش شاہ واپس دروازہ لاکڈ کرتا بنا آواز کیے ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھا کلائی پر بندھی گھڑی اتار کر ٹیبل پر رکھنے کے بعد اس نے قمیض کی جیب سے موبائل ، والٹ اور گاڑی کی چابیاں نکالیں ، اور اب وہ الماری کی جانب بڑھا اپنا آرام دہ لباس نکال کر اس نے ایک نظر مریم کو دیکھا اور پھر واش روم کی جانب قدم بڑھائے

جبکہ مریم جو کہ پہلے سے ہی جاگ رہی تھی عرش کی کمرے میں آمد پر آنکھیں موند گئی اور تھوڑی دیر بعد واش روم کا دروازہ کھلنے کی آواز پر مریم نے پھر سے آنکھیں بند کر لیں ایک آنسو اس کی آنکھ سے گرا تھا

عرش شاہ دھیرے سے چلتا ہوا بیڈ کی دوسری طرف آیا اور بلنکٹ درست کرتا مریم کے قریب تر ہو کر لیٹ گیا

” جانم ۔۔ !”

عرش شاہ کی بھاری آواز بہت مدھم تھی

” مریم ۔۔ !”

مزید قریب ہوتے ہوئے اس نے اسے خمار آلود آواز میں پکارا مگر مریم ہنوز خاموش رہی

مریم کو اپنی پشت پر نرم لمس محسوس ہوا تو اس نے مزید زور سے آنکھیں بند کی

عرش شاہ جان چکا تھا کہ وہ سوئی نہیں ہے اسی لیے اب اس کی کمر سے بال سمیٹ کر گردن پر جھکا جبکہ مریم نے بلینکٹ کو سختی سے مٹھی میں جکڑ لیا کمرے میں فسوں خیز خاموشی تھی عرش شاہ کی جسارتیں مزید بڑھی تو مریم جانے کس احساس کے تحت لیٹے سے اٹھ بیٹھی عرش شاہ نے بوجھل نگاہیں اس پر ڈالی

” کیا بات ہے ۔۔ ؟؟ ابھی تک ناراض ہیں ۔۔ ؟”

عرش شاہ نے کروٹ لیے لیٹے ہی دھیمی آواز میں پوچھا

” نہیں ۔۔ “

مریم یک لفظی جواب دیتی دل کی دھڑکن پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگی جو عرش شاہ کی قربت پر معمول سے تیز ہو گئی تھی

” آج میرا انتظار ہی نہیں کیا آپ نے ۔۔ “

وہ پھر لہجے اور انداز میں نرمی سمائے بولا

” مجھے لگا تھا کہ آپ آج یہاں نہیں آئیں گے ۔۔ “

مریم نگاہیں چرائے بولی تھی

” کیوں ۔۔ ؟ آپ کو ایسا کیوں لگا ۔۔ کہ اپنی جان کے پاس نہیں آؤں گا ۔۔ اپنی جانم سے دور رہ سکتا ہوں میں ۔۔ ؟”

وہ اب نرمی سے مریم کی کلائی تھام کر اسے اپنے پہلو میں لٹا چکا تھا

” وہ ۔۔ وہ ۔۔ مجھے لگا آپ امل ۔۔ “

عرش شاہ نے اس کے لبوں پر اپنا انگوٹھا رکھا تھا جس سے اس کی بات اُدھوری رہ گئی تھی

” آپ ہر چیز سے پہلے ہیں میرے لیے مریم ۔۔ دنیا میں ایسی کوئی مصروفیت یا چیز نہیں جس کو میں آپ سے زیادہ اہمیت دوں گا ۔۔ “

وہ دھیرے دھیرے اس کے لبوں پر نرمی سے انگوٹھا پھیر رہا تھا عرش شاہ کی بوجھل آنکھوں میں اس کے الفاظ کی سچائی واضح تھی مریم نے اس کی بات پر سر جھکا لیا

” اگر مجھ سے کوئی پوچھے نا کہ عرش شاہ تمہاری زندگی میں سب سے حسین دن ، خوبصورت رات اور سکون دہ لمحہ کون سا ہے تو میں بلا جھجک کہوں گا کہ عرش شاہ کی زندگی میں ہر وہ دن اور رات حسین ہے جس میں مریم عرش شاہ کے ساتھ بتائے ہوئے لمحے شامل ہوں ۔۔ عرش شاہ کی زندگی میں بہار اور خوشیاں مریم عرش شاہ سے ہیں ۔۔ “

وہ دھیرے سے بولتے ہوئے مریم کے ہاتھ کو اپنی داڈھی پر ہلکے سے پھیر رہا تھا

” آپ کی اچھائی ، صاف نیت ، فرمانبرداری اور محبت نے مجھے اپنے حصار میں اس قدر مضبوطی میں جکڑ لیا ہے کہ کسی دوسری طرف دھیان ہی نہیں جاتا ۔۔ “

اس کی باتوں سے مریم کی آنکھوں میں نمی اتری تھی

” کیا ہوا ۔۔ ؟”

” مریم پلیز ۔۔ “

وہ ایک ہاتھ آنکھوں پر رکھے رونے لگی تھی جب عرش شاہ نے اس کا دوسرا ہاتھ بھی چہرے سے ہٹا کر تھام لیا

” شاہ جی ۔۔ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا ۔۔ “

وہ بولتے ہوئے سسک گئی

” کیا میری جان ۔۔ “

” کچھ نہیں ۔۔ “

وہ لب سختی سے ہونٹوں میں دبانے لگی

” بتائیں نا جانم ۔۔ حکم کریں ۔۔ “

عرش شاہ کا انداز، اس کا لہجہ مریم کو کچھ بھی کہنے سے روک رہا تھا وہ اس شخص سے کوئی شکوہ کیسے کر سکتی تھی جس نے کبھی اس سے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی تھی

” جان بولیں بھی ۔۔ !”

” یہی کہ آپ کی زندگی میں میرے برابر ۔۔ “

وہ سسک رہی تھی مزید اس سے بولا نہیں گیا

” میں اپنے اس عمل پر آپ سے اپنی آخری سانس تک شرمندہ رہوں گا ۔۔ مگر یہ بات آپ جان لیں کہ مریم آپ میری محبت ، میرا مان ہے ۔۔ میرا فخر ہیں ۔۔ آپ کے بغیر تو عرش شاہ کچھ بھی نہیں ۔۔ “

وہ لیٹے لیٹے ہی اس کے لمبے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے محبت سے گویا ہوا

” آپ خود کی اہمیت کو سمجھیں مریم ۔۔ آپ سوچ نہیں سکتی کہ آپ میرے لیے کتنی اہم ہیں ۔۔ پھر بھی ایسی بات سوچی آپ نے ۔۔ “

” سوری ۔۔ “

” اوہو ۔۔ سوری کیوں کہہ رہی ہیں ۔۔ “

” آپ مت ذکر کیا کریں کسی اور کا ۔۔ مت خود کو اذیت دیا کریں ۔۔ آپ ہی سب کچھ ہیں میرا ۔۔ “

وہ دھیرے دھیرے اسے سمجھاتا ہوا بول رہا تھا ساتھ ہی اس نے مریم کو نرمی سے اپنے پہلو میں لٹایا تھا

” ایسے ہر مرتبہ رویا کریں گی آپ تو ۔۔ مریم میں وہ فیصلہ کر لوں گا کہ جو ٹھیک نہیں ہو گا ۔۔ امل کو چھوڑ دوں گا ۔۔ اور آپ جانتی ہیں کہ اس ایک رشتہ کے ٹوٹنے سے کتنے رشتے خطرے میں پڑیں گے ۔۔ لیکن پھر مجھے پرواہ نہیں ۔۔ “

وہ اب چہرے پر سختی لائے بولا

” نہیں پلیز ۔۔ ایسا میں نے کب کہا “

مریم اس کی بات سن کر فورا بولی

” آپ اتنی اچھی ہیں مجھے پتہ ہے ایسا کبھی نہیں کہیں گی مگر ۔۔ میں آپ جتنا اچھا نہیں ہوں ۔۔ میں کر جاؤ گا یہ فیصلہ۔۔ اگر آپ اسی طرح روئیں ۔۔ “

” نہیں ۔۔ پلیز ۔۔”

مریم نے عرش شاہ کے لبوں پر ہاتھ رکھ کر اسے بولنے سے روکا تھا

” مریم میں مجبور ہوں ۔۔ کچھ رشتے جب امتحان لیتے ہیں تو مخلص شخص ہار جاتا ہے ۔۔ میں نے وہ کیا ہے جو میں خواب میں بھی کبھی نہ سوچتا ۔۔ “

عرش شاہ کی آنکھ سے ایک آنسو گرا تھا مریم تو اسے دیکھتی تڑپ ہی گئی

” سوری ۔۔ مجھے بس اچھا نہیں لگتا ۔۔ میں کیا کروں ۔۔ میں بھی ایک عام عورت ہوں ۔۔ “

” ارے آپ تو میری جان ہیں ۔۔ ایسے ہی تو عرش شاہ دیوانہ نہیں ہے نا آپ کا ۔۔ آپ میں کوئی بات ہے تبھی عشق ہیں نا آپ میرا ۔۔ “

مریم کی آنکھوں میں پھر سے نمی آتے دیکھ کر عرش نے اس کا ماتھا چومتے ہوئے کہا

” آپ تو اتنی اچھی ہیں کہ مجھ سے میرے عمل کی جواب طلبی بھی نہیں کی ۔۔ میرے اور میرے گھر والوں کے ساتھ ابھی بھی اچھا رویہ ہے آپ کا ۔۔ میرے ماں باپ تک سے میری شکایت نہیں کی ۔۔ “

” ساری زندگی میرا سر اب آپ کے سامنے اٹھے گا نہیں مریم ۔۔ “

وہ سرشاری سے بولا تھا

” پلیز ایسے تو نہ بولیں ۔۔ “

مریم کو اس کی بات اچھی نہ لگی تھی

” سچ میں مریم ۔۔ آپ نے عرش شاہ کو اپنا گرویدہ کر لیا ہے ۔۔ آپ ایک بہت اچھی ہمسفر ہیں ۔۔ میں بہت خوش نصیب ہوں کہ مجھے آپ ملیں ۔۔ ورنہ عرش شاہ آپ کے قابل کہاں ۔۔ “

” آپ ہمیشہ ہی ایسے کہتے ہیں ۔۔ “

وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی تھی

” ارے آپ بھی تو ہمیشہ سے مجھے اپنے ہر عمل سے مزید اپنا دیوانہ بنا دیتی ہیں اب میں معصوم ۔۔ شریف سا آدمی ۔۔ کیا کروں ۔۔”

عرش شاہ کی بات پہ مریم کھلکھلا کر ہنسی تھی اور اس کے سینے پر سر رکھا

” شاہ جی ۔۔ “

” جی میری جان ۔۔ “

” مجھے اب اولاد نہیں چاہیے ۔۔ آپ کی اور امل کی ہو جائے گی بس وہی بہت ۔۔ “

وہ سر اور نگاہیں جھکائے بولی تھی

” یہ کیسی بات کی ہے آپ نے مریم ۔۔ ؟ یقین کریں آپ سے مجھے اس قسم کی بات کی توقع نہیں تھی ۔۔ “

عرش شاہ نے اپنے سینے سے اس کا سر اٹھاتے ہوئے کہا

” مریم اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔۔ اور آپ پلیز مایوس نہ ہوں ۔”

” ماما مجھے کسی ڈاکٹر کا کہہ رہیں تھی کوئی لندن میں ہے ۔۔ آپ کی رپورٹس انہیں ای میل کی ہیں مام نے ۔۔ اور مام کافی پر امید ہیں ۔۔ “

” مام نے بتایا ہے مجھے ۔۔ “

مریم اس بات بات کے جواب میں بولی

” ہم اس ڈاکٹر سے ملیں گے ۔۔ پھر علاج ہوگا آپ کا ۔۔ اور انشاء اللہ اللہ پاک کرم کریں گے ۔۔ “

عرش پر امید ہو کر بولا تھا

” مگر گارنٹی تو نہیں ہے نا کہ علاج سے کچھ ہو گا ۔۔ “

وہ شاید حالات سے مایوس تھی

” یہ غلط بات ہے مریم ۔۔ آپ امید کیوں چھوڑ دیتی ہیں ۔۔ دل خراب مت کریں اپنا ۔۔ جب مام اتنی پر امید ہیں ۔۔ ظاہر ہے انہیں کوئی تو امید ہے ورنہ آپ ماما کو جانتی ہیں کہ وہ جھوٹی امید نہیں دلاتی ۔۔ “

عرش اس کے دائیں رخسار کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے سہلاتے ہوئے نرمی سے گویا ہوا

” ہممم کیا سچ میں علاج سے کچھ ہو گا ۔۔ ؟ مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔”

اس کے چہرے پر ڈر واضح تھا

” جان آپ نے میڈیسنز ہی تو کھانی ہیں ۔۔ اس میں ڈرنے والی کیا بات ہے ۔۔ پریشان نہ ہوں ۔۔ “

وہ اسے مطمئن کرتے ہوئے بولا

” اگر فائدہ نہ ہوا تو ۔۔ ؟”

” مریم آپ کامل یقین رکھیں اس ذات پر جو سوکھے درختوں کو بھی ہرا کر دیتا ہے ۔۔ وہ ہماری مسلسل پکار کا جواب ضرور دے گا ۔۔ مجھے پورا یقین ہے ۔۔ “

عرش شاہ کے مسکرا کر کہنے پر وہ بھی ہلکا سا مسکرائی

” آپ کو یقین ہے تو پھر مجھے بھی یقین ہے ۔۔ “

” دیکھا ۔۔ “

” کیا “

” یہی تو آپ کی بات بہت اچھی لگتی ہے مجھے کہ ۔۔ آپ آگے سے بحث نہیں کرتیں ۔۔ سمجھانے پر مان جاتی ہیں ۔۔ “

وہ اب اس کے دونوں رخساروں پر باری باری لب رکھ رہا تھا

” انشاء اللہ ہم اس ذات سے مانگ رہے ہیں جس کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں ۔۔ وہ ہمیں ضرور نوازے گا ۔۔ “

مریم کو خود میں بھنچتے ہوئے وہ یقین سے گویا ہوا تو مریم بھی دل میں دعائیں کرتی جانے کب سو گئی اور

جبکہ عرش شاہ کو اس کی معصومیت پر بہت پیار آ رہا تھا

/////////////////////