53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam (Episode 18)

Tere Sitam By Fatima

وہ ساری رات گھر نہیں آیا تھا صبح آیا تو سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا وہ عرش کا ناشتہ بنانے کی غرض سے کچن میں آئی تھی حالانکہ جانتی تھی کہ عرش شاہ اس کی شکل دیکھنے کا روادار نہیں ہے کجا کہ اس کے ہاتھ کا ناشتہ کھا لے مگر وہ منفی سوچوں کو پس پشت ڈال کر ناشتہ تیار کرنے لگی

ناشتہ بنا کر وہ ڈائننگ ٹیبل پر لگا رہی تھی جب وہ کمرے سے فریش سا نکلا تھا وہ ڈیوٹی پر جانے کو مکمل تیار تھا امل کی نگاہیں اس پر اٹھیں تو پلٹنا بھول گئیں پولیس یونیفارم اس کی شخصیت پر کتنا جچتا تھا وہ اسے نظر انداز کرتا باہر کی سمت بڑھنے لگا جب امل نے اسے پیچھے سے پکارا تھا اس کی پکارنے پر عرش شاہ کے ماتھے پر بل پڑے

” ناشتہ کر کے جائیں پلیز ۔۔ “

عرش کی نگاہوں میں کسی قسم کی نرمی نہ تھی چہرہ بلکل سپاٹ تھا مگر وہ ٹیبل کی جانب اشارہ کرتی بولی تو عرش شاہ نے ایک نگاہ اس پر ڈال کے ٹیبل کو دیکھا

” آج تم مجھے بتا دو ۔۔ آخر تم چاہتی کیا ہو ۔۔ ؟ کیوں بار بار مجھے مخاطب کرتی ہو ۔۔ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تم سے نکاح کرنا تھا ۔۔ اپنے اس عمل پر میں ساری زندگی پچھتاؤں گا ۔۔ میری زندگی میں کچھ دن ہیں بس تمہارے ۔۔ وہ بھی کسی مقصد کے تحت ۔۔ ورنہ ایک لمحہ نہ لگاتا تمہیں اپنی زندگی سے نکالنے پر ۔۔ “

وہ لہجے میں حقارت ، ناپسندیدگی اور بے زاری لیے بول رہا تھا جبکہ امل کو اس کے الفاظ نے بہت تکلیف دی

” پلیز مجھے مت چھوڑیں شاہ جی ۔۔ “

” شٹ اپ ۔۔ مجھے شاہ جی صرف میری مریم کہتی ہیں ۔۔ تم یہ کہنے کا حق نہیں رکھتی ۔۔ “

وہ اسے بولنے سے روکتے ہوئے دھاڑا تھا

” بیوی ہوں میں آپ کی ۔۔ میرا بھی آپ پر اتنا ہی حق ہے جتنا مریم کا ہے ۔۔ “

وہ بھی غرائی تھی

” بیوی نہیں سزا ہو تم میری ۔۔ جو میں نے خود اپنے لیے منتخب کی ہے ۔۔ “

وہ تمسخر اڑاتا گویا ہوا تو امل کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے

” پلیز ایسا نہ کریں میرے ساتھ ۔۔ میں اپنی ہر غلطی کی معافی ۔۔ “

” بکواس بند کرو اپنی ۔۔ ختم کرو یہ سب ڈرامے ۔۔ تم جیسی خود غرض لڑکی میں نے کبھی نہیں دیکھی ۔۔ جو اپنی بہن کو برباد کرنا چاہتی تھی ۔۔ “

وہ روتے ہوئے معافی مانگنے لگی تو عرش شاہ نے ایک قدم اس کی جانب بڑھ کر بات کاٹی اور دبے دبے غصے میں بولا تھا

” میں مریم کو برباد نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔ میں بس اسے آپ سے دور ۔۔ “

وہ اسے سچ بتاتے ہوئے شرمندہ ہو رہی تھی

” ہاں سب سمجھ گیا ہوں میں تمہاری سازشیں ۔۔ “

عرش نے سر ہلاتے ہوئے بے زاری سے اسے دیکھا مزید وہ کچھ کہتی اس سے پہلے عرش تیز تیز قدم بڑھاتا باہر نکل گیا

اور وہ سسکتے ہوئے وہیں بیٹھ گئی وہ مانتی تھی اس سے غلطی ہوئی ہے بلکہ گناہ ہوا ہے کسی کا گھر خراب کرنا گناہ کرنے کے ہی مترادف ہوتا ہے مگر اب اسے احساس ہوا تھا کہ وہ غلط تھی عرش شاہ کی محبت مریم کے لیے اتنی کمزور نہیں ہے جو وہ اتنی آسانی سے مریم کو اپنی زندگی سے نکال دے گا

/////////////////////////

” امل تم میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہو ۔۔ میں نے تم سے نکاح صرف تمہاری عقل ٹھکانے لگانے کے لیے کیا تھا مگر میں کیا کرو چاہنے کے باوجود میں تم پر ہاتھ تک نہیں اٹھا سکتا ۔۔

میری ماں کی تربیت ایسا کچھ بھی کرنے نہیں دیتی مجھے ۔۔ ورنہ میں تمہیں وہ اذیت دیتا کہ تم میرے نام سے بھی کانپتی ۔۔ تم برباد کرنا چاہتی تھی نہ ہمیں ۔۔ مریم کو ۔۔ بابا کو ۔۔ مجھے ۔۔ تمہاری سازش تم پر الٹی پڑ چکی ہے ۔۔

لیکن میں مزید کوئی غلطی نہیں کروں گا ۔۔ میں تمہیں چھوڑ دوں گا بلکہ حالات ایسے پیدا کروں گا کہ تم خود مجھے چھوڑو گی ۔۔ کیوں کہ تم مجھے مکمل حاصل کرنا چاہتی ہو ۔۔ تم مریم نہیں ہو جو شوہر کو دوسری عورت کے ساتھ بانٹ سکے ۔۔

اگر آج میں دل پر پتھر رکھ کر تمہیں بیوی تسلیم کر بھی لوں تو تم کبھی بھی مریم کو میری زندگی میں برداشت نہیں کرو گی ۔۔ اس لیے امل علی ہم دونوں کا ساتھ ممکن نہیں آج نہیں تو کل تمہیں احساس ہو جائے گا کہ عرش شاہ تمہیں کچھ نہیں دے سکتا اور اتنی بے وقوف تو تم نہیں ہو کہ زیادہ وقت مجھ پر ضائع کرو ۔۔ “

وہ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے ہر بات پر غور کر رہا تھا اس نے طے کر لیا تھا کہ وہ کچھ وقت دے گا امل کو تاکہ وہ سمجھ جائے کہ عرش شاہ اس کا کبھی نہیں ہو سکتا

جس طرح بغیر سوچے سمجھے اس نے نکاح کیا تھا اب طلاق جلد بازی میں نہیں دے سکتا تھا اگر وہ ایسا کوئی قدم اٹھاتا ہے تو سب گھر والے ، ضامن اور حورین اس سے مزید نالاں ہو جائیں گے اور پھر جو بھی ہو امل ، رامین آنی کی بیٹی تھی وہ رامین آنی کو مزید تکلیف نہیں دے سکتا تھا اب جو کرے گی وہ امل کرے گی تاکہ کل کو کوئی عرش شاہ کو غلط نہ کہے کہ امل کو چھوڑ کر پھر سے غلطی کر دی

آج اس کا ارادہ حویلی جانے کا تھا سو ڈیوٹی کے بعد روانہ ہو گیا حویلی پہنچ کر وہ سب سے ملا ، حورین اور ضامن کی سوال کرتی آنکھوں سے اس نے اپنی نگاہیں چرائی تھیں

مریم الگ اس سے نظر بچاتی پھر رہی تھی رات وہ کافی دیر تک کمرے میں اس کا انتظار کرتا رہا مگر وہ شاید جان بوجھ کر کمرے میں نہیں آ رہی تھی بے تحاشہ تھکن کے باوجود وہ رات بارہ بجے تک اس کا انتظار کرتا رہا

وہ بھی عرش شاہ کے سونے کے بعد کمرے میں آنا چاہتی تھی جب کمرے کی لائٹ بند ہوئی تو اس نے کمرے میں قدم رکھا وہ لمپ کی روشنی میں بیڈ پر سوئے عرش شاہ کو دیکھتی آہستہ سے دروازہ بند کرتی بیڈ کی خالی جگہ کی سمت بڑھی وہ جانتی تھی عرش کی نیند بہت کچی ہے ذرا سی آہٹ پر جاگ جائے گا اسی لیے بغیر آواز پیدا کیے بلینکٹ میں گھس گئی اور عرش کی جانب پشت کیے لیٹ گئی جبکہ عرش اس کی ساری کاروائی دیکھ رہا تھا جیسے ہی مریم نے آنکھیں بند کیں اسے اپنی پشت پر نرم سا لمس محسوس ہوا

عرش شاہ کا اس کی کمر پر رینگتا ہاتھ اب اس کے بال سمیٹ رہا تھا وہ اتنے دن بعد اس لمس کو محسوس کرتی سسک گئی اور لبوں کو آپس میں پیوست کر لیا آنکھیں زور سے بند کر لی وہ اب ایک ہاتھ اس کی کمر کے نیچے سے نکال کر اسے قریب تر کر چکا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ اوپر کی جانب سے پیٹ کے گرد لپیٹ لیا اب وہ مکمل عرش شاہ کے نرم اور محبت بھرے حصار میں تھی

” میری محبت کو کمزور کیوں سمجھتی ہیں آپ ۔۔ ؟؟”

وہ اتنے دھیرے سے اس کے کان کے قریب بول رہا تھا کہ اس کے لب مریم کے کانوں کو چھو رہے تھے وہ اس کی سرگوشی کا مطلب سمجھتی لب پھر سے بھینچ گئی

” دور دور کیوں رہنے لگی ہیں مجھ سے آپ ۔۔ ؟؟”

وہ سوال کر رہا تھا

” مریم میں جانتا ہوں ۔۔ میں نے آپ کا بہت دل دکھایا ہے ۔۔ پلیز دور رہ کر سزا نہ دیں مجھے ۔۔ معاف کر دیں مجھے پلیز ۔۔ “

وہ بولا تو اس کے انداز میں ندامت تھی مگر مریم ہنوز خاموش رہی آنسو ٹپ ٹپ اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے

” ان چار سالوں میں کوئی ایسا دن یا لمحہ بتائیں مریم جب میں نے کسی چیز کو آپ پر ترجیح دی ہو ۔۔ آپ کا مقام میری زندگی میں بہت بڑا ہے ۔۔ جس کی برابری کوئی نہیں کر سکتا ہے ۔۔ پھر بھی آپ اس طرح دور کیوں رہنے لگی ہیں مجھ سے ۔۔ میری کال نہیں اٹینڈ کرتی آپ ۔۔ جانتی ہیں کتنی پریشانی ہوتی ہے اس وقت مجھے پھر گھر کے نمبر پر کال کر کے یا مام سے آپ کی خیریت معلوم کرتا ہوں ۔۔ تب کہیں جا کر تسلی ہوتی ہے مجھے۔۔ “

عرش شاہ کے لہجے میں دکھ تھا مریم بے آواز رونے لگی

” کیوں مجھے اذیت دینے کے حربے استعمال کرتی ہیں ۔۔ جانتی بھی ہیں کہ آپ کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا میں ۔۔ !”

وہ اس کا بے آواز رونا محسوس کر چکا تھا اور اب اس کا رخ اپنی جانب کرتا اس کے ماتھے پر لب رکھتا نم آواز میں بولا تو مریم اس کے سینے میں منہ دیے شدت سے رو پڑی اسے اس طرح روتے دیکھ کر عرش شاہ نے اس کے گرد بازو پھیلاتے ہوئے آنکھیں میچ لیں جیسے اپنا ضبط آزما رہا ہو

” مریم ۔۔ میری جان ۔۔ میری زندگی ۔۔ میرا سکون ۔۔ میرا چین ۔۔ میری خوشی ۔۔ “

وہ اس کی کمر سہلاتے ہوئے شیریں لہجے میں بولا تو مریم اس کے اس انداز پر ایک مرتبہ پھر سسک گئی

” آپ جانتی ہیں مریم ۔۔ آپ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ میرے دل کی ملکہ بنتی جا رہی ہیں ۔۔ ! “

” اتنا کچھ ہو گیا مگر آپ کی طرف سے نہ کبھی کوئی شکایت ۔۔ نہ کبھی کوئی شکوہ ۔۔ نہ کبھی آپ نے مجھ سے کچھ مانگا ۔۔ مجھ سے جڑے ہر رشتے کا مجھ سے زیادہ خیال رکھا

۔۔ اتنی فرمانبردار اور خدمت گزار بیوی مجھ گناہ گار کے نصیب میں کیسے لکھ دی خدا نے ۔۔ “

وہ اب اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتا اسے ریلیکس کرنے کے ساتھ ساتھ محبت اور عقیدت سے گویا ہوا تھا

” لیکن ۔۔ مم میں ۔۔ آپ کک کو ۔۔ اولاد ۔۔ تو ۔۔ نہیں دے سکتی نا ۔۔ “

چند لمحوں بعد مریم کی رونے کے باعث بیٹھی ہوئی مدھم آواز ابھری تو اس آواز میں کیا کچھ نہ تھا غم ، احساس ندامت ، شرمندگی احساس کمتری , عرش شاہ نے ایک سرد آہ بھری

” مریم آج ایک بات میری دھیان سے سنیں ۔۔”

وہ مریم کا آنسوؤں سے بھرا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر بلند کرتا نہایت سنجیدگی سے گویا ہوا جبکہ مریم اس کی آنکھوں میں بے اختیار دیکھنے لگی

” خدا نے نکاح کے ذریعے عورت کو مرد کا سکون پہنچانے کا ذریعہ بنایا ۔۔ نا کہ نسل آگے بڑھانے کا ذریعہ ۔۔ پلیز اس بات کو سمجھیں مریم ۔۔ آپ میرا سکون ہیں ۔۔ جہاں تک بات رہی اولاد کی ۔۔ تو خدا نے اولاد کو مرد کا نصیب قرار دیا ہے ۔۔ میں یہ نہیں کہتا کہ میں بہت نیک اور اعلیٰ ظرف مرد ہوں جسے اولاد نہیں چاہیے ۔۔ محض اس لیے کہ اس کی بیوی اولاد پیدا نہیں کر سکتی ۔۔ میری بھی خواہش ہے کہ خدا ہمیں اولاد دے ۔۔ خدا مجھے آپ سے اولاد دے تاکہ میری اولاد کی تربیت اچھی ہو ۔۔ مگر برعکس ہم خدا کی آزمائش میں ہیں ۔۔ “

وہ اسے نہایت سنجیدگی سے سمجھا رہا تھا وہ خود بھی غم میں تھا

” آ آپ امل سے اولاد ۔۔ “

وہ بے ساختہ بولی تھی

” امل اس قابل نہیں ہے مریم ۔۔ میں نہیں چاہتا کہ میری اولاد کی تربیت ایک خود غرض لڑکی کے ہاتھوں ہو جسے ماں باپ کی بھی پرواہ نہیں تھی ۔۔ اور میں اتنا خود غرض نہیں ہوں کہ اولاد امل سے حاصل کر کے آپ کی جھولی میں ڈال دوں ۔۔ بلکل نہیں مریم ۔۔ آپ جیسا سوچ رہی ہیں ایسا میں کبھی نہیں کروں گا ۔۔ امل کا چیپٹر جلد کلوز ہو جائے گا ۔۔ “

وہ اس کی بات کے جواب میں حتمی انداز میں بولا تھا

” شاہ جی پلیز ۔۔ میں جانتی ہوں میں آپ کو یہ خوشی نہیں دے سکتی مگر آپ امل کو معاف کر دیں جو بھی اس نے کیا ۔۔ میں نے آپ کے اور امل کے نکاح کو خدا کی مصلحت سمجھ کر قبول کر لیا ہے پلیز آپ امل کے بارے میں اپنا دل صاف کر لیں ۔۔ “

وہ بول رہی تھی اور عرش اسے بغور دیکھ رہا تھا

” نہیں مریم بلکل نہیں ۔۔ پلیز آئیندہ امل کے بارے میں آپ مجھ سے کوئی بات نہیں کریں گی ۔۔ میں آپ کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ چکا ہوں ۔۔ پلیز سمجھیں ۔۔ “

عرش کے لہجے میں کسی حد تک سختی تھی مریم مزید کچھ نہ بولی وہ ابھی بھی عرش کی گرفت میں تھی چند لمحے کمرے میں خاموشی چھائی رہی عرش نے آنکھیں بند کر لیں تھیں شاید وہ سونا چاہتا تھا تھکان اس کے چہرے پر واضح تھی

” عروہ کا کچھ پتہ چلا ۔۔ ؟”

مریم نے عرش کو آنکھیں موندے دیکھا تو مدھم سی آواز میں بولی

” نہیں ۔۔ “

بند آنکھوں سے ہی عرش نے یک لفظی جواب دیا

” آپ تو بھائی کا پتہ لگا سکتے ہیں نا ۔۔ کہ وہ عروہ کو لے کر کہاں گئے ہیں ۔۔ “

وہ اب عرش کے سینے پر اپنی انگلی سے لائینیں کھینچنے لگی

” ہوں ۔۔ معلوم ہو جائے کا لیکن کچھ وقت لگے گا ۔۔ “

ہنوز آنکھیں بند لیے وہ بھاری آواز میں بولا تھا

” آپ میری بات کروا دیں بھائی سے ۔۔ وہ یہ سب میری وجہ سے کر رہے ہیں نا عروہ کے ساتھ ۔۔ میں انہیں سمجھاؤں گی کہ عروہ کے ساتھ کچھ غلط مت کریں ۔۔ “

مریم نگاہیں اور سر جھکائے بول رہی تھی جبکہ اس کی بات پر عرش نے آنکھیں وا کیں لمپ کی مدھم روشنی میں عرش شاہ کی آنکھوں کی نمی مریم نے واضح دیکھی تھی

” مریم ۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ لیکن حالات اس وقت ایسے ہیں کہ آپ اس معاملے میں خاموش رہیں ۔۔ کیونکہ روحان پر کسی چیز کا اثر نہیں ہو رہا ۔۔ کیا میں نہیں جانتا جب بھی روحان نے آپ کو کال کی ہو گی آپ نے عروہ کا ہی پوچھا ہوگا ۔۔ اور واپس لانے کی التجاء کی ہوگی ۔۔ مگر میں جانتا ہوں وہ اس وقت کسی کی نہیں سن رہا ۔۔ خیر چند دن میں عروہ ہمارے پاس ہوگی آپ فکر مت کریں ۔۔ “

وہ دھیرے سے اسے سمجھا رہا تھا جبکہ مریم نے خاموش رہنا بہتر سمجھا کیونکہ روحان تو اس کی بھی کچھ سنتا نہیں تھا

کئی پل گزرے تھے جب وہ کچھ نہ بولی تو عرش نے دوبارہ آنکھیں موند لیں

” شاہ جی مجھے بچہ چاہیے ! “

وہ پھر سے بھیگی آواز میں کسی ضدی بچے کی طرح بولی تھی عرش نے اس کی آواز میں نمی محسوس کرتے ہوئے آنکھیں وا کیں

” خدا ہر چیز پر قادر ہے مریم ۔۔ مام نے مجھے کسی ڈاکٹر کا بتایا ہے ہم جلد ہی ان کے پاس جائیں گے ۔۔ نا امید نہ ہوں میری جان ۔۔ خدا ہماری ضرور سنے گا ۔۔”

مریم کو پریقین انداز میں کہتے ہوئے اس نے اس کے ہونٹوں پر اپنے لب رکھ دیے تھے آہستہ آہستہ عرش شاہ کی قربت نے مریم کو پگھلا دیا اور وہ اس کا بکھرا بکھرا وجود و دل اپنے خوبصورت محبت کے اظہار سے سمیٹ رہا تھا

/////////////////////

وہ لاؤنج میں بیٹھا عروہ کے باہر آنے کا شدت سے انتظار کر رہا تھا کچھ دنوں سے وہ عروہ کی ناساز طبیعت کو نظر انداز کر رہا تھا مگر کل رات جب وہ نشے کی حالت میں عروہ کے قریب گیا تو وہ بے حال ہو چکی تھی صبح تک وہ بخار میں تپ رہی تھی بیڈ سے اٹھتی تھی تو چکر آنے لگتے تھے بخار کی دوا تو اس نے اسے فوراً دی تھی بخار اتر بھی چکا تھا وہ بغیر ناشتہ کیے ہی آفس گیا تھا

جب وہ شام کو گھر آیا تو وہ ہنوز بستر پر تھی اس نے اسے نیند اور غنودگی سے جگایا تو وہ بھی اٹھ بیٹھی مگر زیادہ دیر نہ بیٹھ سکی اور منہ پر ہاتھ رکھتی واش روم کی جانب بڑھی

وہ ماتھے پر بل ڈالے اس کو دیکھ رہا تھا جو نڈھال سی چلی آ رہی تھی

” وامیٹنگ کب سے ہو رہی ہے تمہیں ۔۔ “

روحان کے سوال پر اس نے اس کی جانب دیکھا

” کک کل سے ۔۔ “

جواب دے کر وہ دوبارہ لیٹ گئی روحان کی گہری نگاہیں اس کا جائزہ لے رہیں تھی وہ چار مہینے سے اس کے ساتھ تھی ان چار مہینوں میں عروہ کی صحت دن بدن گرتی گئی تھی

وہ اسے آنکھیں موندے لیٹے دیکھ کر باہر کی جانب گیا تھا اور پھر کچھ دیر بعد واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں کچھ تھا اس نے عروہ کو سہارا دے کر بیڈ سے اٹھایا اور وہ کٹ اس کے ہاتھ میں دی

” ٹیسٹ کر کے جلدی باہر نکلنا ۔۔ !”

وہ اسے حکم دیتا کمرے سے ہی نکل گیا

عروہ کے سر پہ تو جیسے آسمان ٹوٹا تھا کئی پل وہ ہل بھی نہ سکی تھی یہ سب کیا ہو رہا تھا اس کی سوچیں مفلوج ہو چکی تھیں یعنی اس قید سے نکلنے کے سارے راستے بند ہو رہے ہیں

وہ شدت سے اس کے باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا کافی دیر بعد جب وہ باہر نہ نکلی تو روحان کمرے کی جانب بڑھا عروہ کو فرش پر گرا دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہو گئے تھے جلدی سے باہوں میں بھر کر بیڈ پر لٹایا

/////////////////////

آدھی رات کے وقت اسے ہوش آیا تھا کمرے میں مدھم روشنی تھی اس نے نقاہت اور کمزوری کے باعث پھر سے آنکھیں بند کی تھیں اور چند لمحوں بعد جب اس کا دماغ مکمل حواس میں آیا تو وہ اپنی ویران آنکھوں سے چھت کو گھورنے لگی

قسمت اسے کہاں سے کہاں لے آئی تھی وہ حویلی کی اکلوتی بیٹی تھی لاڈوں میں پلی بڑھی تھی باپ اور بھائیوں سے ناز اٹھوانے والی نے کبھی سوچا نہ تھا کہ زندگی اسے اس قدر سخت تھپڑ مارے گی

وہ کتنی معصوم ، کھلکھلا کر ہنسنے والی تھی روحان نے اسے کیا سے کیا بنا دیا تھا

اتنے مہینوں سے وہ ہنسنا تو دور مسکرانا بھی بھول گئی تھی

روحان نے تو کبھی بھی اس سے نرمی نہیں برتی تھی وہ تو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید سخت ہوتا جا رہا تھا کیا اپنی اولاد کا سن کر وہ اس کے لیے نرم ہو گا ہاں اس نے اپنی دادی سے سنا تھا کہ انسان جتنا بھی سخت ہو مگر اولاد کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے

” مام ، ڈیڈ بھیا ۔۔ !”

اپنے گھر والوں کو یاد کرتی وہ سسک اٹھی تھی

” یا اللہ ۔۔ روحان کے دل میں میرے لیے رحم ڈال دے ۔۔ “

ایک آنسو اس کی آنکھ سے بہہ کر بے مول ہوا تھا

/////////////////////

” اٹھ گئی تم ۔۔ ؟ “

وہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے مامتا کے اس خوبصورت احساس کو محسوس کر رہی تھی جب روحان کمرے میں داخل ہوا تھا وہ دو دن سے بستر پر تھی آج صبح ہی روحان اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا تھا وہ چاہتی تھی کہ روحان اس سے اس خبر کے بارے میں کچھ کہے مگر روحان تو دو دن سے خاموش تھا

” یہ جوس پی لو ۔۔ !”

وہ اس کے پاس بیٹھ کر اسے سہارا دے کر بیٹھا رہا تھا اور جوس کو اس کے ہاتھوں میں تھما کر اسے دیکھنے لگا

” کیا مجھے یہ سب کرنا چاہیے ۔۔ ؟ اگر عروہ کو کچھ ہو گیا تو ۔۔ ؟؟ نہیں نہیں کچھ نہیں ہوگا ۔۔ دوائی ہی تو کھانی ہے پھر تھوڑی سی طبیعت خراب ہوگی اور پھر سب نارمل ہو جائے گا

عروہ کو گھونٹ گھونٹ جوس پیتے دیکھ وہ دل ہی دل میں خود سے مخاطب تھا

” عروہ یہ میڈیسن لے لو ۔۔ “

وہ نگاہیں چرائے کہہ رہا تھا

” یہ کون سی میڈیسن ہے ۔۔ اب بخار نہیں ہے مجھے ۔۔ پھر ایسے یہ میڈیسن نہیں لینی چاہیے مجھے ۔۔ “

وہ بے ساختہ بولی تھی

” میڈیکل پڑھ رہی تھی تم ۔۔ ڈاکٹر نہیں بنی تھی ابھی جو ڈاکٹری جھاڑ رہی ہو اپنی مجھ پر ۔۔ چپ کر کے کھاؤ یہ دوائی ۔۔ “

وہ حقارت سے بولا تھا

” لیکن اس ڈاکٹر نے تو مجھے کوئی بھی دوائی نہیں دی تھی ۔۔ “

وہ الجھی الجھی سی گویا ہوئی

” یہ میں لے کر آیا ہوں ۔۔ اور تمہیں ہر حال میں کھانی ہے کیونکہ مجھے ابھی بچہ نہیں چاہیے ۔۔ “

روحان نے بہت آرام سے یہ بات بولی تھی جیسے یہ اس کے لیے کوئی بڑی بات نہیں تھی مگر عروہ نے صدمے سے اسے دیکھا تھا وہ یہ بات کیسے کر سکتا ہے تو کیا وہ اس بچے کو مارنا چاہتا تھا

” روحان پلیز ایسا مت بولیں ۔۔ دیکھیں میں آپ سے معافی مانگتی ہوں ۔۔ بھائی کی طرف سے بھی اور جو میری غلطیاں ہیں ۔۔ سب کی معافی مانگتی ہوں ۔۔ لیکن یہ بات نہ بولیں ۔۔ پلیز آپ سب بھول جائیں نا ۔۔ آپ جو کہیں گے وہ کروں گی ۔۔ لیکن یہ بات نہ بولیں ..”

وہ روحان کا ہاتھ تھامے امید سے گڑگڑاتے ہوئے التجاء کرنے لگی

” میں فیصلہ کر چکا ہوں عروہ ۔۔ تمہاری کوئی بات مجھ پر اثر نہیں کرے گی اب ۔۔ اس لیے بہتر ہے چپ کر کے یہ دوائی کھاؤ ۔۔ “

وہ اس کے ہاتھ جھکتا بے حد سختی سے بولا

” روحان یہ آپ کی اولاد ہے ۔۔ “

” جانتا ہوں ۔۔ اسی لیے اس کا فیصلہ کر رہا ہوں ۔۔ مجھے ابھی بچے نہیں چاہیے ۔۔ “

وہ سفاکیت کی انتہا پر تھا

” روحان آپ سب بھول نہیں سکتے ۔۔ ؟ پلیز اتنی بڑی سزا نہ دیں مجھے ۔۔ معاف کر دیں مجھے ۔۔ اپنی اولاد سے تو بدلہ نہ لیں ۔۔ “

وہ گڑگڑا رہی تھی ہاتھ جوڑ کر نا کردہ گناہوں کی معافی مانگ رہی تھی

” میں آفس جا رہا ہوں ۔۔ جب میں گھر آؤں تو تم میرے سامنے یہ میڈیسن لو گی ۔۔ سنبھلنے کے لیے اتنا وقت بہت ہے ۔۔”

وہ انتہا کا سفاک ثابت ہوا تھا عروہ کی باتوں ، رونے ، گڑگڑانے کا اس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا

” نہیں میں ایسا کچھ نہیں کروں گی ۔۔ بے شک جتنا مرضی مار لیں آپ مجھے “

وہ نڈر ہو کر بولی تھی

” اچھا تو تم میری بات نہیں مانو گی ۔۔ “

عروہ کے مسلسل انکار نے روحان کو طیش دلایا تھا

” ہاں ۔۔ مم میں یہ میڈیسن نہیں لوں گی ۔۔ !”

وہ ایک مرتبہ پھر اس کی آنکھوں میں دیکھتی نڈر ہو کر بولی تھی

” ٹھیک ہے میں بھی دیکھتا ہوں تم میری بات سے انکار کیسے کرتی ہو ۔۔ “

وہ اپنی پینٹ سے بیلٹ کھینچتا اس کی جانب بڑھا تھا عروہ کے خوف کے مارے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے

“۔ نن نہیں پلیز روحان ۔۔ “

/////////////////////