53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam (Episode 4)

Tere Sitam By Fatima

” باپ کا کیا آیا ہے ۔۔ اس کی بیٹی کے آگے ۔۔ “

پھوپھو کی بات پر سب نے سر جھکا لیا تھا

” کیا ہو گیا ہے پھوپھو ۔۔ مریم کا کیا قصور ہے ۔۔”

حورین نے تڑپ کر کہا تھا جانے پھوپھو کو اس بات کی کیسے خبر لگی تھی حالانکہ رامین اور مریم کو فی الحال اس نے کسی کو بھی کچھ بتانے سے منع کیا تھا

” یہ قدرت کا اصول ہے حورین ۔۔ باپ کا کیا اولاد بھرتی ہے ۔۔ !”

آنکھوں میں اترتی نمی کو پونچھتی وہ خود بھی افسردہ تھیں

پلیز ایسا نہیں کہیں ۔۔ وہ معصوم ہے اس سارے معاملے میں ۔۔ !”

حورین مزید گویا ہوئی تھی

” میں نے تمہیں کہا تھا زامن ۔۔ اس کو مت لاؤ حویلی ۔۔ دور رکھو اس کو حویلی سے ۔۔ مگر آخر میں تم نے اسے اپنے گھر کی بہو بنا لیا ۔۔ اور میری کوئی بات نہیں مانی ۔۔ حالانکہ جتنا علی ، رامین اور تم لوگوں نے کیا ہے اتنا بہت تھا ۔۔ پالا پوسا ، پڑھایا لکھایا ، رامین نے ماں کی طرح پیار دیا اسے ۔۔ اتنا سب کیا کم تھا ۔۔ اس غلیظ آدمی کی بیٹی کو شاہ خاندان کی بہو بنانے کی کیا ضرورت تھی۔۔ ؟ “

پھوپھو اس بار زامن شاہ کو دیکھتی ہوئی بولی تھیں اس وقت سب لاؤنج میں موجود تھے علی اور رامین ایک صوفے پر ساتھ بیٹھے تھے جبکہ پھوپھو اور حورین ایک ساتھ بیٹھی تھیں اور زامن شاہ سر جھکائے الگ صوفے پر بیٹھا تھا ان کے الفاظ تیر کی مانند تھے جو لاؤنج میں موجود تمام نفوس کے دلوں میں گھپ رہے تھے

” جس کے باپ ، دادا نے ہمارے گھر کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، ان کی بیٹی ہے مریم بھی ۔۔ کیسے ہماری نسل آگے بڑھ سکتی ہے اس لڑکی سے ۔۔ “

وہ مزید گویا ہوئی تھیں در حقیقت وہ بےانتہا افسردہ ہو رہی تھیں پرانے بہت سے زخم آج ان کے تازہ ہوئے تھے

” پھوپھو پلیز ۔۔ “

اس بار رامین نے تڑپ کر انہیں دیکھا تھا

” غلطی تم دونوں کی بھی تھی ۔۔ رامین اور علی ۔۔ تم دونوں کو زیادہ ہمدردی دیکھانے کی ضرورت نہیں تھی ۔۔ اس وقت اگر تم دونوں بھی مجھ سے جھوٹ نہ بولتے تو ایسے بچے جن کے ماں باپ نہیں ہوتے وہ یتیم خانے میں ہی پلتے ہیں ۔۔ مگر نہیں تم دونوں نے بھی ان دونوں کا ساتھ دیا ۔۔ “

سر جھکائے بیٹھے علی اور رامین سے کہتے ہوئے وہ پھر زامن شاہ اور حورین سے مخاطب ہوئیں

” پھوپھو وہ ہماری بیہ آپی کی بیٹی ہے ۔۔ ! آپ اس کے لیے اپنے دل کو سخت کیوں کر رہی ہیں ۔۔ “

اس بار زامن نے انہیں مخاطب کیا تھا

” مگر وہ اس شخص کی بھی بیٹی ہے جس نے ہماری بیہ کو بے انتہا اذیت دی ۔۔ اتنے گہرے زخم دیے ہماری بیہ کو کہ ۔۔ ہمارا پورا خاندان آج تک وہ اذیت نہ بھلا سکا ۔۔ “

بولتے ہوئے ان کی آنکھیں برس رہی تھیں جبکہ ان کی باتوں سے باقی سب بھی ماضی میں کھو گئے تھے

” زامن تمہیں ہنی کے ساتھ مریم کو بھی باہر ہی بھیج دینا چاہیے تھا ۔۔ “

وہ پھر زامن سے مخاطب ہوئی تھیں زامن کو وہ وقت یاد آیا جب بیہ آپی کا انتقال ہوا تھا اور ہنی اور مریم بلکل بے سہارا ہو گئے تھے مریم تو اس وقت شاید ایک سال کی تھی تب ان دونوں کو وہ اپنے ساتھ لے آیا تھا مگر پھوپھو نے اس وقت ہی شرط رکھ دی تھی کہ یا ان بچوں کے ساتھ تعلق رکھا جائے یا پھر ان سے ، اس وقت زامن اور حورین نے انہیں بہت سمجھایا کہ یہ بیہ کی بھی تو اولاد ہیں مگر پھوپھو کسی طور نہ مانی اس مشکل وقت میں علی اور رامین نے مریم کو اپنے ساتھ رکھ لیا جبکہ ہنی کو امریکہ بھیج دیا تاکہ وہ اپنے باپ کے ماضی سے دور رہے اور کسی قابل ہو جائے

” ان ساری باتوں کو مریم سے مت جوڑیں پھوپھو ۔۔ مریم اس گھر کی بہو ہی نہیں ۔۔ بیٹی بھی ہے ۔۔ “

زامن نے مضبوط لہجے میں انہیں کہا

” جس نے ہماری بیہ کو اتنا ستایا کہ اسے قبر میں اتار دیا ۔۔ اس شخص کی اولاد ہمیں کیسے اچھی لگ سکتی ہے زامن ۔۔ ہمارے گھر کی جان تھی بیہ ۔۔ عاشر اور امی ، بیہ کے دکھ میں ہی دنیا سے چلے گئے ۔۔ وقتی طور پر میں نے عرش کی وجہ سے اسے قبول کیا تھا مگر حقیقتاً وہ اس شخص کی بیٹی ہے جس سے شاہ حویلی کو ہمیشہ دکھ ہی ملے ہیں ۔۔ “

کہتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو آ گئے باقی سب بھی افسردہ ہو گئے جبکہ زینے اترتی مریم میں مزید کچھ شخت سننے کی سکت نہ رہی اور وہ روتے ہوئے واپس اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی

” پھوپھو ۔۔ ! مریم اور ہنی ہماری بیہ آپی کے بچے ہیں ۔۔ آخری وقت میں انہوں نے اپنے دونوں بچوں کی ذمہ داری مجھے دی تھی ۔۔ خدا کی قسم اگر مریم کی آنکھ میں حویلی کے کسی بھی فرد کی وجہ سے آنسو آیا تو میں اس کے ساتھ سختی سے پیش آؤں گا ۔۔ کوئی بھی مریم کو اس بات کا طعنہ نہیں دے گا ۔۔ عرش سے میری بات ہو گئی ہے اس بارے میں ۔۔ وہ شام تک آ جائے گا ۔۔ باقی وہ خود ہی مریم کو سنبھال لے گا ۔۔ “

زامن شاہ نے اپنے مخصوص رعب دار انداز میں کہا اور وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی سمت بڑھ دیا باقی سب خاموش بیٹھے رہ گئے

” حورین مجھے ایک بات تو بتاؤ ۔۔ ؟”

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد پھوپھو پھر سے مخاطب ہوئیں

” جی پھوپھو ۔۔ پوچھیں ۔۔ !”

حورین نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا

” کیا ساری عمر ہمارا عرش اولاد کے لیے ترسے گا ۔۔ ؟”

ان کا سوال ایسا تھا کہ سب اپنی جگہ منجمد ہو گئے حورین کی آنکھوں میں عرش کی تصویر لہرائی

” اللہ نہ کرے ۔۔ خدا کی ذات سب سے بڑی ہے ۔۔ دعاؤں میں بہت طاقت ہوتی ہے ۔۔ خدا مریم کی گود بھرے گا ۔۔ “

حورین نے رامین کی جانب دیکھتے ہوئے پھوپھو کو یقین سے کہا

” چند سال بعد تم لوگوں کو احساس ہو گا تم لوگ عرش کے ساتھ کتنا غلط کر رہے ہو ۔۔ ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے ۔۔ چھبیس سال ! ۔۔ اس عمر میں تو لڑکوں کی شادی بھی نہیں ہوتی ۔۔ میری بات مانو حورین تو اس کی دوسری شادی کر دو ۔۔ “

انہوں نے بظاہر سخت بنتے ہوئے کہا مگر دل ان کا بھی پریشان تھا

” پھوپھو کیا ہو گیا ہے آپ کو ۔۔ ؟”

پھوپھو کی بات پر رامین اٹھ کھڑی ہوئی

” تم لوگوں نے ویسے ہی ہمدردی کی ورنہ خاندان میں اور بھی اچھی لڑکیاں تھیں ۔۔ منتہاء تھی ۔۔ امل تھی ۔۔ تمہیں یہ دونوں نظر نہیں آئیں حورین ۔۔ بتاؤ مجھے “

وہ سوالیہ نظروں سے حورین سے پوچھ رہی تھیں جبکہ حورین نے سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا اور علی سے مزید کوئی بات برداشت نہ ہوئی وہ بھی سپاٹ چہرہ لیے شاہ حویلی سے چلا گیا

” پھوپھو آپ ہی ہماری بڑی ہیں ۔۔ بلاشبہ آپ ہم سے بہتر فیصلہ کر سکتی ہیں ۔۔ مگر پلیز ایسی کوئی بات مت کیجئے گا جس سے مریم کا دل ٹوٹے ۔۔ “

ان کی بات کو نظر انداز کر کے حورین نے اپنی بات کہی تو انہوں نے اثبات میں سر ہلایا

” دیکھو بیٹا ۔۔ میں کوئی دشمن نہیں ہوں تم لوگوں کی ۔۔ عرش ، شاہ خاندان کا بڑا وارث ہے ۔۔ اس کی بیوی کا انتخاب کرتے ہوئے خصوصاً تمہیں پہلے خاندان کی لڑکیوں کو نظر میں رکھنا چاہیے تھا ۔۔ بات ابھی بھی نہیں بگڑی ۔۔ منتہاء یا امل ۔۔ دونوں میں سے کسی سے بھی عرش کی شادی کروا دو ۔۔ باقی مریم کو عرش چھوڑے یا نہ چھوڑے ۔۔ یہ اس کی مرضی ۔۔ کم از کم اولاد تو ہوگی نا ۔۔ دوسری شادی سے ۔۔ “

ان کے تفصیلی مشورے کو سن کر حورین اور رامین ایک دوسرے کو دیکھنے لگی

” امل کی طرف سے تو انکار سمجھیں آپ پھوپھو ۔۔ میں اپنی دونوں بیٹیوں کو جانتے بوجھتے ہوئے اذیت میں مبتلا نہیں کر سکتی ۔۔ “

رامین کہتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی

” پلیز پھوپھو ۔۔ زامن کے سامنے ایسی کوئی بات مت کیجئے گا ۔۔ ان کے لیے مریم صرف ان کی بہو یا ان کی بہن کی بیٹی نہیں ہے ۔۔ بلکہ وہ مریم اور عروہ میں کوئی فرق نہیں کرتے ۔۔ “

باہر نکلتے ہوئے حورین کے الفاظ رامین کی سماعتوں تک پہنچے تو اس کے دل کو یک گونہ سکون پہنچا

/////////////////////////

وہ اپنے کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھول کر اندر داخل ہوا تو وہ سامنے ہی بیڈ پر سیدھی لیٹی چھت کو گھور رہی تھی کمرے میں مدھم سی روشنی تھی جو اطراف کو واضح کر رہی تھی رات کے اس پہر وہ جاگ رہی تھی مطلب جیسا اس نے سوچا تھا اس نے اپنی ویسی ہی حالت بنا لی تھی وہ دروازہ لاکڈ کرتا بیگ اتارتا اس کے قریب پہنچا تھا وہ پولیس وردی میں ہی ملبوس تھا شرٹ کے بازو کہنیوں تک موڑے ہوئے وہ خاصا تھکا ہوا لگ رہا تھا جبکہ مریم مسلسل ساکت نگاہوں سے چھت کو گھور رہی تھی عرش شاہ نے اپنی زیرک نگاہوں سے ایک نظر میں ہی اس کے نازک وجود کا جائزہ لیا تھا

وہ کالے رنگ کی ریشمی فراک ، چوڑی دار پاجامہ زیب تن کیے ہوئے تھی جبکہ دوپٹہ کچھ فاصلے پر پڑا تھا سیاہ رنگ میں اس کی سفید رنگت مزید دمک رہی تھی مگر ہر پل جس چہرے پر رونق رہتی تھی آج وہ پاکیزہ چہرہ زرد اور تھکان زدہ لگ رہا تھا مریم کی یہ حالت دیکھ کر عرش شاہ کے دل کو دھچکا لگا وہ اپنی جان سے عزیز بیوی کو کبھی بھی اس حالت میں نہیں دیکھ سکتا تھا

” مریم ۔۔ !”

عرش کی آواز بمشکل اسے خود کو سنائی دی تھی جانے مریم نے سنی تھی یا نہیں مگر وہ مسلسل چھت کو گھور رہا تھا

“مریم میری جان ۔۔ میری زندگی ۔۔ !”

عرش محبت سے کہتے ہوئے اس کے پاس بیڈ پہ بیٹھ گیا

عرش کی محبت بھری آواز سنتے ہی مریم نے چہرے کا رخ عرش شاہ کی سمت کیا

” کیوں اپنے آپ کو اذیت دے رہی ہیں آپ مریم ۔۔ ؟”

عرش نے جھک کر اس کے ماتھے پر حدت بھرا لمس چھوڑا تو عرش کے اس قدر محبت بھرے انداز سے مریم کی آنکھیں بھیگنے لگیں اور یہی سوچ اس کے ذہن میں آئی کہ اس کی اتنی بڑی محرومی جاننے کے بعد کیا عرش اسے ایسے ہی پیار اور مان دے گا

” شش شاہ جی ۔۔ !”

مریم اسے مخاطب کرتی اس کے سینے سے لگ گئی اور سسکنے لگی

” شاہ جی ۔۔ مم میں ۔۔ !”

عرش کے گرد سختی سے اپنے بازوؤں کا حصار بنائے وہ بولی تھی

” جی میری جان ۔۔ حکم کریں ۔۔ !”

عرش نے بھی اس کے گرد حصار کرتے ہوئے دھیرے سے کہا تو مریم کے رونے میں مزید روانی آئی

” ایسے مت روئیں میری جان ۔۔ میں آپ کی آنکھوں میں آنسو نہیں برداشت کر سکتا ۔۔ “

عرش نے اسے خود سے جدا کیا اور آنسو پونچھتا بول رہا تھا

” شاہ جی ۔۔ ممم میں ۔۔ کبھی ماں !!”

عرش نے مریم کے لبوں پر ہاتھ رکھ کر اسے مزید بولنے سے روک دیا جبکہ مریم اب پتھرائی نگاہوں سے عرش کو دیکھ رہی تھی

” کچھ بھی نہیں ہوا مریم ۔۔ کچھ بھی نہیں ۔۔ خود کو ریلیکس رکھیں ۔۔ “

عرش نے اس کی کمر سہلاتے ہوئے کہا

” آپ کو نہیں پتہ ۔۔ !”

مریم نفی میں سر ہلاتے ہوئے گویا ہوئی

” کیا نہیں پتہ ۔۔ ؟ سب پتہ ہے مجھے ۔۔ !”

عرش نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا

” نہیں پتہ آپ کو کچھ بھی ۔۔ کہ میں ۔۔ !”

مریم نے بولتے ہوئے سر جھکا لیا جبکہ اس کی بات ادھورا چھوڑنے پر عرش نے اس سے پوچھا

” کیا آپ ۔۔ ؟”

” شاہ جی ۔۔ میں کبھی مم ماں ۔۔ !”

عرش نے پھر اس کے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے مزید بولنے سے روکا

” سب جانتا ہوں میں مریم ۔۔ ایسا کچھ بھی سوچ کر آپ خود کو اذیت نہ دیں ۔۔ فی الحال کچھ بھی مت سوچیں ۔۔ میں ہوں نا آپ کے پاس ۔۔ اور میرے پاس آپ ہیں ۔۔ کیا ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے کافی نہیں ۔۔ ؟”

عرش نے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھام کر آخر میں اس سے سوال کیا تو مریم مزید شدت سے رونے لگی

” پلیز مریم ۔۔ ایسے مت روئیں ۔۔ “

عرش نے اسے دوبادہ خود میں بھینچ لیا

” مم میں آپ کو کوئی خوشی نہیں دے سکتی ۔۔ “

رونے کے باعث وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کر پائی تھی

” آپ بذات خود میری خوشی ہیں مریم ۔۔ “

عرش نے اس کے دائیں نم رخسار کو لبوں سے چھوتے ہوئے کہا تو مریم دوبارہ روتے ہوئے بولی

” مم میں آپ کو اولاد نہیں دے سکتی ۔۔ “

” انشاء اللہ خدا ہمیں اس نعمت سے محروم نہیں کرے گا ۔۔ آپ کو خدا پر کامل یقین ہونا چاہیے ۔۔ “

مریم کی بات تحمل سے سننے کے بعد عرش نے اسے یقین دلاتے ہوئے کہا

” چھوٹی نانو صحیح کہتی ہیں ۔۔ ممم مجھے میرے باپ کے کیے کی سزا ملی ہے ۔۔ “

وہ عرش کی بات یک سو نظر انداز کر گئی تھی جبکہ آج دوپہر پھوپھو کی باتیں سن کر وہ جو بے حد دل برداشتہ ہوئی تھی یہی باتیں اسے مزید محرومی کا احساس دلا رہی تھیں

” مریم ۔۔ یہ کس طرح کی بات کہی ہے آپ نے میری جان ۔۔ ؟”

عرش کے ماتھے پر بل پڑے تھے

” میں آپ کے قابل نہیں ہوں شاہ جی ۔۔ ! مم میں غلیظ باپ کی غلیظ اولاد ۔۔ “

مریم تو روتے ہوئے بول گئی مگر اس کی بات عرش شاہ نے کمال ضبط سے سنی

” مریم آپ بلکل اپنے نام کی طرح پاکیزہ ہیں ۔۔ میں عرش شاہ اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ پاکیزہ ہیں ۔۔ آئیندہ آپ ایسی کوئی بات نہیں کریں گی ۔۔ بس یہ یاد رکھیں ۔۔ آپ مریم عرش شاہ ہیں ۔۔ یہی آپ کی اب پہچان ہے ۔۔ باقی جہاں تک بات اولاد کی ہے تو ۔۔ خدا جب چاہے کا ہمیں اپنی نعمت سے ضرور نوازے گا ۔۔ ہم دونوں اس وقت کا صبر سے انتظار کریں گے ۔۔ “

عرش کی گردن اور کسرتی بازوؤں کی رگیں تن گئی تھیں مگر وہ بہت تحمل سے بول رہا تھا جبکہ اس کی بات پر مریم بلکل خاموش ہو گئی تھی

کافی دیر عرش اسے نرمی سے سمجھاتا رہا یہاں تک کہ اسے محسوس ہوا کہ مریم کسی حد تک سنبھل گئی ہے

//////////////////////////

” حورین ، پھوپھو کی بات سنی تم نے ۔۔ “

حورین جب کمرے میں داخل ہوئی تو زامن شاہ نے اسے کلائی سے تھام کر اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھایا اور گویا ہوا

” کون سی بات ۔۔ ؟”

حورین نے نگاہیں چراتے ہوئے پوچھا

” یہی کہ باپ کا کیا اولاد کے آگے آتا ہے ۔۔ !”

وہ زمین کو گھورتے ہوئے گویا ہوا

” زامن آپ یہ سب مت سوچیں ۔۔ “

حورین نے زامن شاہ کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

” نہیں حورین ۔۔ پھوپھو کی باتوں نے مجھے یہ سب سوچنے پر مجبور کیا ہے ۔۔ کہ واقعی باپ کا کیا اولاد کے آگے آتا ہے ۔۔ ورنہ مریم تو بلکل بے قصور ہے ۔۔ اس جیسی نیک بچیاں آج کے زمانے میں بہت کم ہوتی ہیں ۔۔ عاصم کا تو عکس بھی نہیں ہے اس میں ۔۔ ہاں بیہ آپی جیسی لگتی ہے مجھے ۔۔ مگر دیکھا تم نے ۔۔ قدرت نے اسے سزا کے لیے چنا ۔۔ “

زامن سپاٹ انداز میں بولا تھا

” زامن آپ ایسے مت سوچیں ۔۔ خدا نا انصافی نہیں کرتا کسی کے بھی ساتھ ۔۔ بلکہ اپنے سے قریب لوگوں کا امتحان لیتا ہے ۔۔ تاکہ انہیں اپنے مزید قریب کر سکے ۔۔ “

حورین ، زامن کی آنکھوں میں تیرتی نمی دیکھ کر تڑپ کر گویا ہوئی

” تم بھی تو بے قصور تھی ۔۔ حورین تم نے تو مجھے دل سے معاف کیا ہے نا ۔۔ حورین ۔۔ میری عروہ بھی بے قصور ہے ۔۔ جو کچھ کیا ماضی میں وہ میں نے کیا ۔۔ کہیں مریم کی طرح میری بیٹی بھی میرے کفارے ادا ۔۔ “

زامن بچوں کی طرح روتے ہوئے بول رہا تھا

” زامن پلیز ایسا مت کہیں آپ ۔۔ عاصم کو مرتے دم تک اپنے کسی گناہ کا احساس نہیں تھا ۔۔ مگر آپ کو احساس تھا آپ نے معافی مانگی ۔۔ آپ پلیز ایسا کچھ مت سوچیں ۔۔ “

زامن شاہ کے لبوں پر ہاتھ رکھ کر وہ اس سے بولی تھی

” حورین تم دعا کرو ۔۔ تم تو ماں ہو نا ۔۔ عروہ کے لیے دعا کرو ۔۔ کہ خدا کو اگر سزا دینی ہے تو وہ مجھے دیدے ۔۔ مگر میری بیٹی کے آگے نا آئے میرا کیا ۔۔ “

زامن شاہ آج بہت ٹوٹا ہوا تھا حورین کا دل بھی زامن شاہ کی حالت دیکھ کر رو رہا تھا

” زامن ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔۔ پلیز خود کو سنبھالیں ۔۔ “

وہ روتے ہوئے بولی تو زامن یکدم خاموش ہو گیا جبکہ حورین کو زامن شاہ کی خاموشی بھی اذیت دے رہی تھی

/////////////////////////

وہ اگلے دن شاہ حویلی آئی تھی یہ دیکھنے کہ چھوٹی نانو کو سب بتانے کے بعد وہاں کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں زامن شاہ اور عرش شاہ کی کیا حالت ہے ماما نے اسے عرش شاہ کی آمد کی خبر رات کو ہی دے دی تھی وہ عرش شاہ اور زامن شاہ کو اذیت میں دیکھنے کی خواہش مند تھی پہلے وہ چھوٹی نانو کے پاس پہنچی کچھ دیر ان کے پاس بیٹھنے کے بعد وہ مریم کے کمرے کی جانب بڑھتی جب اسے سیڑھیوں کے پاس سے کچھ آوازیں سنائی دی تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ سیڑھی کی اوٹ میں چھپ کر سننے لگی

” تم کیوں رو رہی ہو ۔۔ ؟”

یہ تو اشعل کی آواز تھی مگر وہ کس سے مخاطب تھا

” کیوں کہ ہمارا پورا گھر رو رہا ہے ۔۔ “

یہ عروہ کی آواز تھی مگر اشعل اور عروہ کیا کر رہے ہیں اسے حیرت ہوئی

” عروہ ہم رونے کے بجائے دعا بھی تو کر سکتے ہیں ۔۔ کہ اللہ ہماری مریم کو بےبی دے ۔۔ “

” مریم بھابھی بہت اچھی ہیں ۔۔ اور عرش بھیا تو میرے ہیرو ہیں ۔۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے ساتھ ایسا کیوں کیا ۔۔ “

” کیوں کہ وہ دونوں اللہ کو بھی پیارے ہیں اسی لیے خدا ان کی آزمائش لے رہا ہے ۔۔ “

مزید سننے کے بجائے امل وہاں سے ہٹ گئی اور مریم کے کمرے کی جانب بڑھ گئی

دور سے ہی عرش شاہ اسے کمرے سے نکلتا نظر آیا سفید شلوار قمیض پہنے کف کہنیوں تک موڑے وہ بلکل سنجیدہ تھا بالوں میں ہاتھ پھرتا وہ قدم قدم چلتا اس کے پاس سے گزر گیا امل نے مڑ کر اسے دیکھا یہاں تک کہ عرش شاہ اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا

” ابھی تو شروعات ہے عرش شاہ ۔۔ آگے دیکھنا تم اور تمہارا گھر مزید تڑپیں گے ۔۔ “

شاطرانہ انداز میں کہتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئی کمرے کا دروازہ ناک کر کے وہ اندر داخل ہوئی تو مریم سامنے ہی کرسی پر بیٹھی تھی سرخ رنگ کے جوڑے میں دوپٹہ اوڑھے بیٹھی تھی وضو کا پانی چہرے پر چمکتا اسے مزید دلکش بنا رہا تھا وہ شاید نماز پڑھنے لگی تھی چہرے پر زمانوں کی تھکان تھی جیسے لمبی مسافت طے کر رہی ہو

امل کو اس سب میں پہلی بار مریم کو دیکھ کر بے تحاشہ دکھ ہوا چاہے شاہ حویلی کے مکینوں سے وہ کتنی بھی نفرت کیوں نہ کرتی ہو مگر مریم اس کی بہن تھی وہ بہن جو اس پر جان دیتی تھی اسے اس حالت میں دیکھ کر اس کا دل دہل گیا

دروازہ بند ہونے کی آواز سے مریم ، امل کی جانب متوجہ ہو چکی تھی جبکہ امل نے اپنے قدم مریم کی جانب بڑھائے مریم بھی لپک کر امل کے گلے لگ گئی مریم کے رونے میں اتنا درد اور شدت تھی کہ امل بھی خاموش آنسو بہانے لگی اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ کن الفاظ میں مریم کو تسلی دے اس کا دل مریم کی حالت دیکھ کر تڑپنے لگا وہ یہاں شاہ حویلی کے مکینوں کو تڑپتا ہوا دیکھنے آئی تھی مگر خود اپنی بہن کے درد کو محسوس کر کے تڑپ رہی تھی

/////////////////////////