53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam (Episode 1)

Tere Sitam By Fatima

” آ بھی جاؤ میری جان میں باہر کھڑا ہوں کب سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں “

اس نے میسج ٹائپ کرکے مریم کو جیسے ہی سینڈ کیا اس عمل کے بعد اس کے لبوں کو اک دلکش مسکراہٹ نے چھوا حقیقتاً خدا نے حلال رشتوں میں سکون رکھا ہے اتنے سارے دنوں کی تھکاوٹ کے بعد یہ وہ پل تھا جس نے اس کے تھکان زدہ چہرے پر مسکراہٹ بکھیری تھی

” جی اچھا ۔۔ بس دو منٹس میں آئی ۔۔ “

مریم کے جوابی میسج پر عرش شاہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی

ٹھیک دو منٹ بعد وہ نازک سی کلی اسے گیٹ سے نکلتی ہوئی اپنی گاڑی کی جانب بڑھتی ہوئی نظر آئی سیاہ رنگ کے عبائے میں وہ پاکیزہ سی صورت والی لڑکی تین سال سے عرش شاہ کی زندگی بن چکی تھی

شاید یہ اس لڑکی کی سادہ طبیعت اور نیک سیرت کا کمال تھا کہ عرش شاہ کو اپنا دیوانا بنا لیا تھا

” السلام علیکم ..!”

فرنٹ ڈور کھول کر وہ بیٹھتی ہوئی دھیرے سے اپنی شیریں آواز میں بولی تو عرش شاہ کا دل چاہا اس کے اناری لبوں کو چھو لے مگر مریم کی شرمیلی طبیعت کا اسے معلوم تھا کہ اگر ابھی ایسا کچھ کیا تو مریم صاحبہ رونے بیٹھ جائیں گی اپنے جذبات پر برف ڈال کر ہوش کی دنیا میں واپس آ کر عرش نے محض سر ہلا کر سلام کا جواب دیا

” کیسی ہیں میری جان ..؟”

کچھ دیر بعد عرش نے اس کی جانب مڑ کر اس کی جھکی نگاہوں کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے پوچھا تو مریم کے لب مسکرائے وہ آج ایک مہینے بعد مل رہے تھے عرش ڈیوٹی کی وجہ سے ایک مہینے سے شہر سے باہر تھا اور اسی دوران مریم کی سالگرہ تھی مگر غیر موجودگی کے باعث آج عرش نے فارغ ہوتے ہی مریم کو اپنا پلین بتایا کہ وہ کچھ دیر اس کے ساتھ باہر گزارنا چاہتا ہے

” جی ٹھیک ہوں ۔۔ آپ کیسے ہیں شاہ جی ۔۔ ؟”

مدھم آواز میں پوچھا گیا جبکہ پولیس یونیفارم میں وہ اپنی وجہہ شخصیت کے ساتھ تھکا ہوا بھی لگ رہا تھا

” الحمداللہ ۔۔ بس آج کل ٹف ڈیوٹی چل رہی ہے اس لیے تھکا ہوا ہوں لیکن آپ کو دیکھ لیا تو ساری تھکاوٹ ختم ہو گئی ۔۔ “

مسکرا کر کہتے ہوئے عرش نے گہری نگاہیں اس کے وجود پر ڈالیں مریم اس کی پرتپش نگاہیں خود پر محسوس کرتی سمٹ گئی

” اور سوری جان ۔۔ اس بار کافی دن بعد آیا ہوں ۔۔ “

” کوئی بات نہیں ۔۔ آپ سوری مت کریں ۔۔ مجھے زامن پاپا نے بتا دیا تھا آپ کسی کیس کی وجہ سے مصروف ہیں ۔۔ “

وہ زامن کو معذرت کرتا دیکھ کر نفی میں سر ہلاتی گویا ہوئی تو عرش شاہ کو اپنی بیوی کی نرم دلی پر بے شمار پیار آیا چند منٹس کا سفر باتوں میں طے ہوا اور وہ ریسورنٹ پہنچ چکے تھے

” اب تو مجھے پچھتاوا ہو رہا ہے ۔۔ !”

اپنے سامنے بیٹھی پلیٹ میں چمچ ہلاتی شرمیلی سی کبھی نگاہیں جھکاتی کبھی اٹھاتی مریم کو دیکھتا وہ بڑبڑایا مگر مریم اس کی بات سن کر منتظر تاثرات لیے اس کے بولنے کا انتظار کرنے لگی

” خیریت ؟ کس بات کا ۔۔ ؟”

جب وہ ہنوز خاموشی سے اسے تکتا رہا تو مریم نے مدھم آواز میں پوچھا

” یہی کہ مام ڈیڈ کی بات مان لی لینی چاہیے تھی ۔۔ !”

” جی بلکل ماں باپ اگر کچھ کہتے ہیں تو اولاد کے لیے بہتر ہی ہوتا ہے ۔۔ خیر آپ کون سی بات کا کہہ رہے ہیں ۔۔ “

وہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سجائے بول رہی تھی عرش جیسا خوبصورت اور وجہہ مرد شوہر کے روپ میں اس کے سامنے تھا دل میں وہ اپنے خالق کا شکر ادا کر رہی تھی ان تین سالوں میں عرش کی محبت اور عزت مریم نے اپنے لیے لمحہ بہ لمحہ بڑھتے ہوئے محسوس کی تھی

” یہی کہ مجھے آپ کو ساتھ لے کر جانا چاہیے تھا ۔۔ “

عرش جب بولا تو اس کے انداز میں افسوس تھا جبکہ مریم کی مسکراہٹ گہری ہوئی

” کوئی بات نہیں ۔۔ اب خیر سے آ گئے آپ ۔۔ “

” ہاں لیکن ۔۔ دو دن کے لیے آیا ہوں صرف ۔۔ !”

عرش نے اسے اطلاع دی آل پل کو عرش کے جانے کا سن کر مریم اداس ہوئی

” خیر سے پھر آئیے گا ۔۔ “

وہ ہلکا سا مسکرائی تھی کہ وہ عرش کو کمزور نہیں کرنا چاہتی تھی

” اس بار چلو ناں میرے ساتھ ۔۔ !”

اس نے حکم نہیں دیا تھا اس کا انداز التجائیں تھا مگر پھر بھی مریم انکار نہ کر سکی اور خاموش رہی

” نہیں ۔۔ ! تمہارے ایگزامز ہونے والے ہیں ۔۔ !”

مریم کے چہرے پر اداسی اور خاموشی میں چھپی تابعداری محسوس کرتا وہ خود ہی انکار کرتا اسے مشکل سے نکال گیا کیونکہ ایک بار وہ اسے اپنے ساتھ کراچی لے گیا تھا مگر چونکہ وہ خود تو سارا دن ڈیوٹی پر ہوتا تھا پیچھے مریم اکیلی بور ہوتی تھی عرش نے اسے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لے دیا مگر گھر آنے پر وہ خود کو اکیلا پا کر رونے لگی عرش نے اسے مزید ٹائم دینا شروع کر دیا جس سے اس کے رونے اور اکیلے پن میں افاقہ ہوا مگر چونکہ اس اپنی ڈیوٹی ایسی تھی کہ اکثر وہ رات کو گھر نہ آتا یا دیر سے آتا تھا کچھ مہینوں بعد کسی کیس کی وجہ سے اسے مریم کو لاہور چھوڑ کر آنا پڑا کہ وہ خاصا خطرناک کیس تھا اور خود پر حملے کی وجہ سے اس نے مریم کو لاہور بھیج دیا

” آپ ہر ویک اینڈ پہ آیا کریں نا ۔۔ !”

” جان کوشش تو کرتا ہوں ۔۔ لیکن آنا مشکل ہو جاتا ہے ۔۔ “

” چلیں ۔۔ مہینے بعد خیر سے آ تو جاتے ہیں ۔۔ ویسے بھی صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔۔ “

وہ مسکراہٹ دبائے بولی

” کبھی کبھی صبر کا دورانیہ طویل ہو جائے تو جذبات شدت اختیار کر جاتے ہیں ۔۔ اور شدت کسی بھی معاملے میں خیر مقدم نہیں ۔۔ “

وہ سنجیدہ ہوتا ہوا گویا ہوا تو اک پل کو مریم کا دل اداس ہوا

” مریم مجھے ہر گزرتے لمحے نے یہ احساس دلایا کہ میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔ آپ میری زندگی ہیں ۔۔ “

وہ مزید گویا ہوا جبکہ مریم نے سر جھکا لیا اس کے چہرے سے سرشاری جھلک رہی تھی لبوں پر مسکراہٹ بکھری تھی کتنا حسین لمحہ ہوتا ہے نا جب کوئی آپ کو ایسے مان بخشتا ہے اور وہ اور کوئی نہیں آپ کی زندگی ہوتا ہے ، خوشی چوگنی ہو جاتی ہے

” عرش میرا بھی سب کچھ آپ ہیں ۔۔ “

وہ لہجے میں شکر گزاری اور محبت لیے گویا ہوئی

موبائل پر آئے ٹیکسٹ نے مریم کو اپنی جانب متوجہ کیا یہ اس کی ڈاکٹر دوست کا میسج تھا کچھ دنوں سے اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی کچھ سوچ کر وہ کل اپنی گائناکالوجسٹ دوست کے کلینک گئی تھی اور آج اس کی رپورٹس آنی تھی میسج میں اسے کلینک آنے کا بولا گیا تھا اک پل کو مریم سوچ میں پڑی مگر پھر اوکے کا میسج سینڈ کر کے دوبارہ عرش کی جانب متوجہ ہو گئی

////////////////////////////

” ماما مجھے یہ سوپ بلکل بھی نہیں پینا ۔۔ “

وہ ویجیٹبل سوپ کو دیکھتی ناک منہ بناتی بولی

” اف خدا میرے ۔۔ کیسی ڈاکٹر ہو تم ۔۔ ؟ اپنا خیال رکھ نہیں سکتی مریضوں کا کیا رکھو گی ۔۔ میں تو اس بات پر حیران ہوں ۔۔ تمہیں ڈاکٹر بنا کس نے دیا ۔۔ ؟ “

رامین نے امل کے سر پر ہلکی سے چپٹ رسید کی

” اور آپ ماما ۔۔ ابھی تک چھوٹے بچوں کی طرح مارتی ہیں مجھے ۔۔ “

سر سہلاتی وہ منہ بسورتی بولی

” دوسری بات ۔۔ آپ میری قابلیت پر شک مت کیا کریں ۔۔ آپ کی سب سے قابل اولاد ہوں ۔۔ سر فخر سے بلند کر کے کہا کریں امل علی میری قابل بیٹی ہے ۔۔ آپ کو سب سے زیادہ مجھ سے پیار ہونا چاہیے ۔۔ “

رامین کو امل کے انداز میں غرور جھلکا تھا یہ سچ تھا کہ وہ ان کی ایکسٹرا اورڑنری بیٹی تھی تعلیم کے علاؤہ بھی وہ بہت سی سرگرمیوں اور مقابلوں میں حصہ لیتی تھی اور اول درجہ حاصل کرتی تھی

” بیٹا اگلے گھر یہ ڈگریاں کام نہیں آتیں ۔۔ کچھ اخلاق سے بات کیا کرو ۔۔ اور مجھے اپنے سب بچوں پر فخر ہے ۔۔ تم میں کوئی سرخاب کے پر نہیں لگے ہوئے ۔۔ جو میں صرف تم سے پیار کروں ۔۔ “

وہ اسے اچھا خاصا سنا گئیں

” امل میری جان تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے نا ۔۔ چلو شاباش یہ دوائی لو ۔۔ ورنہ آپ کی ماما نے کالج نہیں جانے دینا آپ کو ۔۔ “

دونوں ماں بیٹی کی لڑائی کو مزید بڑھنے سے بچانے کے لیے علی نے رامین کو آنکھوں سے خاموش رہنے کا کہا

” پاپا پلیز ۔۔ میرا دل نہیں چاہ رہا ۔۔ !”

امل اس بار ماتھے پر بل ڈالے باپ کو دیکھتی دھیمے سے بولی

” افف خدایا ۔۔ “

رامین نے ٹرے میز پر رکھی اور کمرے سے نکل گئی

” کہاں جا رہی ہو بیٹا ۔۔ ؟”

ماں کو جاتا دیکھ امل بھی بیڈ سے اتری

” پاپا تیار ہونے جا رہی ہوں کالج جانا ہے ۔۔ بہت ضروری ٹیسٹ ہے “

” لیکن بیٹا آج آپ کو بخار ہے چھٹی کر لو ۔۔ “

وہ اسے واشروم کی جانب بڑھتا دیکھ کر بولے

” نو پاپا ۔۔ “

وہ دروازہ زور سے پٹختی بولی پیچھے علی سرد آہ بھرتے رہ گئے

/////////////////////////

وہ دونوں گھر میں داخل ہوئے تو سب لاؤنج میں جمع تھے

آج گھر پر خاصی رونق تھی دراصل ویک اینڈ پر سب اکٹھے ہوتے تھے مریم کی فیملی بھی وہی موجود تھی مریم جب رامین سے ملی تو اس کے چہرے کی چمک دیکھ کر بے ساختہ رامین نے عرش کو دیکھا جس نے ان کی بیٹی کو شہزادیوں کی طرح رکھا ہوا تھا اور بے ساختہ ان کے دل سے دعا نکلی کہ خدا ان کی دوسری بیٹی کو بھی عرش جیسا محبت اور قدر کرنے والا شوہر دے

” مریم بیٹا عرش اتنے دنوں بعد آیا تھا ۔۔ تھکا ہوا ہوگا ۔۔ تھوڑا ریسٹ کرنے دیتی ۔۔ آتے ساتھ ہی گھومنے چلے گئے آپ لوگ ۔۔ “

رامین نے دونوں کو مسکرا کر دیکھتے کہا مریم نے ماں کی بات سن کر عرش کو دیکھا ، اس نے تو عرش کو منع کیا تھا

” ارے نہیں آنی ۔۔ تھکاوٹ اپنی فیملی کو دیکھ کر ویسے ہی ختم ہو جاتی ہے ۔۔ “

عرش نے محبت پاش نگاہوں سے مریم کو دیکھتے ہوئے رامین کو کہا اس کی بات سن کر حورین نے زامن شاہ کو دیکھا بےشک عرش اور مریم کی شادی کا ان دونوں کا فیصلہ درست تھا

” بابا امل نہیں آئی ۔۔ ؟”

علی کے گلے لگتے مریم نے پوچھا

” بیٹا وہ کالج گئی تھی نا پہلے ہی بخار تھا تو تھک گئی تھی ۔۔ گھر پہ ریسٹ کر رہی ہے ۔۔”

علی نے مریم کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے بتایا

” افلاطون ہے یہ لڑکی ۔۔ زرا سی بات پر سارا گھر سر پہ اٹھا لیتی ہے ۔۔ پتہ نہیں آپی امل کس پہ چلی گئی ہے ۔۔ مریم اور اشعل بھی تو ہیں ۔۔ ایک عادت جو اس کی اپنے بھائی بہن سے ملتی ہو ۔۔ پریشان کر کے رکھ دیا ہے اس لڑکی نے مجھے ۔۔ “

رامین جھنجھلا کر بولی تھی جبکہ علی اور مریم نے بے بسی سے رامین کو دیکھا ان کے اتنا سمجھانے کے باوجود وہ ہمیشہ ایسے ہی امل کو لے کر پریشان رہتیں تھیں

” ارے رامین ۔۔ اتنا کیوں اس بچی کو روکتی ٹوکتی ہو ۔۔ ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا ۔۔ تمہاری اسی روک ٹوک نے اسے تم سے دور کر دیا ہے ۔۔ ورنہ ہم سے تو کبھی نہیں الجھی وہ ۔۔ “

حورین نے بہن کو گھورتے ہوئے ڈانٹا بےشک وہ اب سمدھن تھیں مگر بہن کا رشتہ پہلے تھا اس دوران عرش اپنے کمرے میں جا چکا تھا

” یہی بات بھابھی ۔۔ یہی بات میں سمجھاتا ہوں آپ کی بہن کو ۔۔ کہ ہر وقت اس کے پیچھے مت پڑی رہا کرے ۔۔ مگر نہیں سمجھتی ہی نہیں آپ کی بہن ۔۔ “

علی نے رامین سے نظریں چراتے ہوئے حورین سے کہا

” رامین بچی ہے ابھی وہ ۔۔ وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گی ۔۔ “

حورین نے سمجھاتے ہوئے کہا تو رامین نے سر جھٹکا

” بچی ہے آپی وہ ۔۔ ؟ مریم سے ایک سال چھوٹی ہے وہ ۔۔ “

” رامین ۔۔ بیس اکیس سال کی لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں ۔۔ وقت کے ساتھ سمجھدار ہو جائے گی تم فکر نہیں کرو ۔۔ عروہ بھی تو ایسی ہی ہے ۔۔ ان کے باپوں اور بھائیوں نے انہیں بگاڑ کر جو رکھا ہوا ہے ۔۔ “

حورین مزید بولی تھی اور شرارت سے خاموش بیٹھی عروہ کو دیکھا

” میں نے کیا کیا ہے مام ۔۔ آپ مجھے کیوں ڈانٹ رہی ہیں ۔۔ ڈیڈ دیکھیں ۔۔ عرش بھائی ۔۔ عرش بھائی ۔۔ “

عروہ حیرت زدہ ہوتی بولی اور پہلے زامن شاہ کو پھر عرش کو پکارتی چلی گئی تو سب اس کے انداز پر ہنسنے لگے

جبکہ ڈاکٹر سارہ کی کال پر مسکراتی ہوئی مریم اٹھ کر زرا سائیڈ پر گئی

” سوری سارہ میں آج نہیں آسکی ۔۔ ایکچولی عرش کے ساتھ بہت دن بعد ٹائم سپینڈ کیا ۔۔ اس لیے دیر ہو گئی ۔۔ اب تو میں گھر آ گئی ہوں ۔۔ “

” نہیں کوئی بات نہیں ۔۔ بٹ صبح ضرور آنا ہے تم نے ہاسپٹل ۔۔ “

دوسری جانب سنجیدہ سی آواز ابھری

” اچھا ٹھیک ہے ۔۔ اوکے خدا حافظ ۔۔ “

کہتے ہی مریم نے کال کاٹ دی جبکہ دوسری کال اس نے امل کو ملائی

” السلام علیکم کیسی ہو مریم ۔۔ ؟”

تیسری بیل پہ امل نے کال پک کی تو اس کی نیند میں ڈوبی آواز سن کر مریم کو اندازہ ہوا کہ وہ گہری نیند سے جاگی ہے

” وعلیکم السلام ۔۔ سوری میری جان ۔۔ میں نے تمہیں جگا دیا ۔۔ “

معذرت کرتی وہ نادم تھی کیونکہ امل کو کوئی نیند سے اٹھاتا تھا تو اس کا سخت موڑ خراب ہو جاتا تھا اور وہ پورا گھر سر پہ اٹھا لیتی تھی

” نو ایٹس اوکے ۔۔ تم بتاؤ کیسے فون کیا ۔۔ ؟”

امل کے لیے دیے انداز سے مریم کو اندازہ ہوا کہ اب واقعی امل کا موڑ خراب ہو چکا ہے

” تمہاری طبیعت پوچھنے کے لیے کال کی تھی ۔۔ ماما بابا نے بتایا تمہیں فیور ہے ۔۔ “

مریم نے تھوڑا ڈرتے ہوئے پوچھا

” ہممم ۔۔ ایم ویل ۔۔ یو ڈونٹ وری ۔۔ “

” اوکے گیٹ ویل سون مائی لیٹل سسٹر ۔۔ “

” بائے ۔۔۔ “

مریم کے پیار بھرے انداز پر جوابا اس نے کال کاٹ دی تو مریم اداس سا مسکرائی

اس کی بہن ایسی ہی تھی جیسا دل میں آیا ، جو دل کیا ، وہ کرنا اور وہی بولنا ، دکھاوا ، لحاظ جیسے لفظ امل علی کی ڈکشنری میں شامل ہی نہیں تھے

/////////////////////////

” ماشاءاللہ ۔۔ اللہ پاک دونوں کی جوڑی سلامت رکھے ۔۔ ایسے ہی دونوں خوش رہیں ۔۔”

مریم کے اٹھنے کے بعد حورین اسے دیکھتی محبت سے گویا ہوئی

” آمین آپی ۔۔ ورنہ مجھے مریم کی طرف سے اتنی فکر تھی ۔۔ بلکل آج کل کی لڑکیوں کی طرح چلاکیاں نہیں ہیں اس میں ۔۔ یہ تو اللہ کا کرم کہ اس نے میری بیٹی کے نصیب آپ کے گھر پر لکھے ۔۔ عرش جیسا سلجھا ہوا بچہ اس کے نصیب میں لکھا ۔۔ “

رامین خدا کا شکر ادا کرتی بولی تھی

” یہ بات تو ہے واقعی ۔۔ مریم بہت اچھی لڑکی ہے ۔۔ جانے میرے عرش کے کون سے اعمال کام آگئے ۔۔ جو اتنی نیک لڑکی ملی ۔۔ “

حورین نے دل سے مریم کی تعریف کی تھی کہ وہ اس قابل تھی اسے سراہا جائے

” آپی آج کل کے بچے اپنی مرضی سے شادی کرتے ہیں ۔۔ عرش بھی تو فرمانبردار ہے کہ آپ کے ایک بار کہنے سے رشتے کے لیے ہاں کر دی ۔۔ “

رامین ، بڑی بہن کو دیکھتی بولی جس نے اپنے بیٹے کی بہترین تربیت کی تھی جبکہ علی اور زامن شاہ اپنی باتوں میں مصروف تھے

” بس اللہ ان دونوں کو ساتھ مزید خوشیاں دیکھائے ۔۔ “

حورین دعائیں دیتی بولی

” اور مریم کی گود ہری بھری کرے ۔۔ “

رامین بھی مسکرا کر بولی تو حورین کے چہرہ پر چمک آئی اور محبت سے بولی

” آمین آمین ۔۔ “

////////////////////

اپنے بالوں میں انگلیوں کا نرم لمس محسوس کرتی وہ نیند سے بیدار ہوئی تھی کروٹ بدلنے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ نے اس کے لبوں کو چھوا عرش شاہ کی خمار آلود آنکھوں میں اپنے لیے بے شمار محبت ، عزت اور مان کے جذبات سے اس کے پورے وجود میں سرشاری سرائیت کر گئی

” اتنی جلدی اٹھ گئے آپ ۔۔ ؟”

دھیرے سے پوچھا گیا

” میں سویا ہی کب ہوں ۔۔! جس کے پہلو میں اتنی خوبصورت بیوی ہو وہ پاگل ہی ہوگا کہ اپنی آنکھوں کو دیدار ہی نہ بخشے ۔۔ “

بیڈ پر اس کے ساتھ الٹا لیٹا وہ جس انداز میں بولا مریم نے اسے دیکھا وہ سفید بنیان اور کالے ٹراؤزر میں صحت مند جسامت لیے اپنی پوری وجاہت لیے آڑا ترچھا لیٹا ہوا تھا بے ساختہ مریم نے نگاہیں حیاء کے باعث جھکا لیں اس کے چہرے کے خوبصورت رنگ دیکھ کر عرش نے اسے اپنی باہوں میں سمیٹا وہ روز اول کی طرح آج بھی ویسے ہی شرماتی تھی جیسے شادی کی پہلی رات شرمائی تھی

” سنیں ۔۔ !”

عرش کی باہوں کے چاہت بھرے حصار میں وہ بولی

” جی حکم کریں ۔۔ !”

وہ اسے سینے سے لگائے اس کی کمر سہلاتا بولا یہی سننے کے لیے ہی تو اس نے عرش کو مخاطب کیا تھا

” آپ کو پتہ ہے جب آپ ایسے بولتے ہیں تو کتنے پیارے لگتے ہیں ۔۔ ؟”

وہ زرا سا سر اٹھا کر عرش کو شرارت سے دیکھتی بولی

” نہیں ۔۔ آپ بتائیں ۔۔ کتنا پیارا لگتا ہوں ۔۔ “

جواباً عرش شاہ نے اس کا ماتھا چوما وہ بولا

” بہت پیارے لگتے ہیں ۔۔ “

وہ مسکرا کر کہتی ہنستی چلی گئی جبکہ عرش شاہ اس کی ہنسی میں کھو گیا

////////////////////////