53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam (Episode 14)

Tere Sitam By Fatima

اسے اسلام آباد واپس آئے ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا اس ایک ہفتے میں وہ ایک سنگین کیس میں الجھا ہوا تھا ، عروہ کی جانب سے بھی پریشانی ہنوز اپنی جگہ تھی روحان اسے لے کر ابھی تک حویلی نہیں آیا تھا

مریم اور مام سے اس کی تقریباً روز بات ہوتی تھی مام تو عروہ کے لیے بہت پریشان تھیں کہ بات کرتے ہوئے رو پڑتیں ڈیڈ سے بھی اس کی بات ہو جاتی تھی وہ دبے دبے الفاظ میں عروہ کی جانب سے اپنی غلطی تسلیم کر چکے تھے جواباً عرش نے محض گہرا سانس لیا تھا مریم کے ذریعے وہ روحان کو منٹوں میں منظر عام پر لا سکتا تھا مگر وہ واقعی کسی بھی کشیدہ معاملے میں مریم کو نہیں لا سکتا تھا وہ ہنوز اپنی باتوں پر قائم تھا کہ بہن کی وجہ سے بیوی کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گا

اس دوران امل کی طبیعت بھی ٹھیک ہو چکی تھی مگر ان دونوں میں اس دن کے بعد کوئی بات نہ ہوئی تھی یہاں تک کہ عرش شاہ باہر ہی کھانا کھاتا رات دیر سے گھر آتا اور اکثر تو کیس کی وجہ سے گھر ہی نہ آتا آج وہ کچھ فیصلہ کر کے وکیل کے دفتر آیا تھا

” جی ایس پی صاحب ۔۔ میں آپ کی ساری باتیں سمجھ رہا ہوں ۔۔ “

عرش نے جب اپنے اور امل کے نکاح کا سارا معاملہ بتایا تو جواباً وکیل نے سر ہلاتے ہوئے کہا

” میں اب اسے طلاق دینا چاہتا ہوں ۔۔ کیونکہ مجھے فوراً ہی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا ۔۔ مزید تاخیر کر کے ایک اور غلطی نہیں کرنا چاہتا ۔۔ “

وہ اس وقت سول ڈریس میں تھا قمیض کی آستینوں کو کہنیوں تک موڑتے ہوئے سنجیدگی سے گویا ہوا

” کیا آپ کی وائف ڈیوارس لینا چاہتی ہیں ۔۔ ؟؟”

وکیل کے اچانک سوال پر عرش نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا

” ظاہر ہے وہ بھی یہی چاہے گی ۔۔ کیونکہ ہمارا رشتہ آگے نہیں چل سکتا ۔۔ میں آپ کو بتا چکا ہوں ۔۔ کہ نکاح کس طرح ہوا ہے ۔۔ “

عرش ماتھے پر بل ڈالے بولا

” آپ کی بات ٹھیک ہے شاہ صاحب ۔۔ مگر میری ایک ایڈوائذ ہے ۔۔ “

وکیل نے آگے ہو کر بیٹھتے ہوئے کہا

” جی بولیں ۔۔ ؟”

” ابھی آپ کے نکاح کو ایک مہینہ بھی صحیح طرح نہیں ہوا ۔۔ میری صلح ہے کہ آپ کچھ وقت لیں سوچنے کے لیے ۔۔ آپ صاحب حیثیت ہیں ۔۔ دوسری بیوی کو آرام سے رکھ سکتے ہیں ۔۔ میری مانیں تو ابھی طلاق کے بارے میں فیصلہ مت کریں ۔۔ یہ واحد جائز کام ہے جو خدا کو پسند نہیں ہے ۔۔ حکم ہے کہ اگر ذرا سی بھی گنجائش نکلے تو بیوی کے ساتھ صلح کر لو ۔۔ “

وہ اپنے تجربے کے مطابق عرش کو مشورہ دے رہے تھے

” سوچ لیں ۔۔ سمجھ لیں ۔۔ پھر فیصلہ کر لیجیے گا ۔۔ “

عرش کو پرسوچ انداز میں بیٹھے دیکھ کر وکیل دوبارہ بولا جبکہ عرش مضطرب ہو کر اٹھ کھڑا ہوا اور مصافحہ کر کے باہر نکل گیا

/////////////////////////

وہ وکیل کے دفتر سے سیدھا گھر آیا تھا دو دن پہلے اس کو سرکاری گھر الاٹ ہوا تھا سرکاری گاڑی سے جب وہ اترا تو امل اسے لان میں پڑیں کرسی پر بیٹھی نظر آئی خودبخود اس کے قدم اس کی جانب بڑھے جبکہ امل عرش کی گاڑی کی آواز سن چکی تھی اور اب عرش کو اپنی سمت آتا دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی

” تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔ ؟ “

لہجہ کسی بھی جذبے سے عاری تھا امل نا محسوس انداز میں دو قدم پیچھے ہوئی

” وہ میرا دل بہت گھبرا رہا تھا ۔۔ اس لیے بس ۔۔ “

وہ عام سے انداز میں گویا ہوئی تو عرش نے اسے جائزہ لیتی نگاہوں سے دیکھا وہ پچھلے تین دن سے ان دو سوٹس میں سے ایک میں تھی جو عرش نے اسے لا کر دیے تھے کیونکہ اس کے پاس پہننے کے لیے کپڑے نہ تھے

” میں تمہیں اپنے گھر میں برداشت کر رہا ہوں ۔۔ یہ کافی نہیں ہے کیا تمہارے لیے ۔۔ ؟ پورے گھر میں مہرانیوں کی طرح گھومنے کا کیا مقصد ہے تمہارا ۔۔ ؟”

امل سے بات کرتے ہوئے خودبخود اس کا لہجہ اور انداز تلخ ہو جاتا تھا

” سوری ۔۔ “

وہ یک لفظی جملہ کہہ کر جانے کو مڑی

“کچھ دنوں میں ڈیوارس پیپرز تمہیں دے دوں گا ۔۔ تب تک کمرے کی حد تک رہو ۔۔ “

وہ اس کی بات نظر انداز کرتا اب حکمیہ انداز میں گویا ہوا اور امل کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھنے لگا جو اس کی بات پر پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی

” ڈڈ ڈیوارس ۔۔ ؟؟”

وہ ہکلائی تھی

” ہاں ۔۔ ڈیوارس ۔۔ ! ایکچولی تمہیں تو احساس نہیں ہوا ہوگا اپنی غلطیوں کا ۔۔ کیونکہ تم ایک خود غرض لڑکی ہو ۔۔ اپنی بہن کا احساس تک نہیں کیا تم نے ۔۔ مگر مجھے احساس ہو چکا ہے کہ میں نے غصے میں تمہارے ساتھ نکاح کر کے اپنا ہی نقصان کیا ہے ۔۔ اب صرف اپنی غلطی سدھارنی ہے ۔۔ “

وہ خاصے تلخ انداز میں بولی رہا تھا

” پلیز ایسا مت کریں ۔۔ آپ جو کہیں گے میں وہ کروں گی ۔۔ لیکن ڈیوارس مت دیں ۔۔ ماما ۔۔ بابا مجھ سے بہت ناراض ہیں ۔۔ میں کہاں جاؤں گی ۔۔ پلیز مجھے مت چھوڑیں ۔۔ “

وہ باقاعدہ عرش کے سامنے گڑگڑانے لگی

” تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا امل ۔۔ ؟ہوش میں تو ہو ۔۔ ؟”

عرش نے اسے ڈپٹا تھا

” میں پورے ہوش میں ہوں ۔۔ میں ڈیوارس نہیں چاہتی ۔۔ پلیز ایسا مت کریں میرے ساتھ ۔۔ مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہے ۔۔ اتنی بڑی سزا نہ دیں مجھے ۔۔ “

وہ عرش کے قریب آ کر منت سماجت کرتی بولی جبکہ امل کے ردعمل پرورش کچھ حیرت زدہ تھا

مشرقی لڑکیوں جیسی سوچ کی تو وہ امل سے قطعی توقع نہیں کر رہا تھا

” اب یہ کون سا نیا ڈرامہ ہے تمہارا ۔۔ ؟؟ تم تو نفرت کرتی تھی نا مجھ سے ۔۔ پھر اب ایسا کیا ہو گیا ۔۔ کہ الگ نہیں ہونا چاہتی ۔۔ ؟ یہ کوئی سازش ہے نہ تمہاری ۔۔ ؟”

اس کے لہجے میں چٹانوں جیسی سختی تھی

” میں سچ کہہ رہی ہوں ۔۔ پلیز میرا یقین کریں ۔۔ میں کوئی سازش نہیں کر رہی ہوں ۔۔ پلیز مجھے ڈیوارس نہ دیں ۔۔ پلیز ۔۔ “

وہ اب عرش کے آگے ہاتھ جوڑ کر نم آنکھیں لیے کہہ رہی تھی

” بکواس بند کرو اپنی ۔۔ جو لڑکی اپنے ماں باپ کی عزت کو پیروں تلے روند دے ۔۔ اپنی بہن کے گھر کو اجاڑنے کی سازش کرے ۔۔ وہ میری کیسے ہو سکتی ہے ۔۔ کیسے مان جاؤں کہ تمہیں احساس ہو گیا ہے اپنی غلطیوں کا ۔۔ ؟”

وہ ہنوز سختی سے بول رہا تھا

” میری جان لے لیں ۔۔ میرا گلہ گھونٹ دیں ۔۔ مگر ڈیوارس نہ دیں ۔۔ پلیز ۔۔ آپ کو خدا کا واسطہ ۔۔ آپ کو خالہ کا واسطہ ۔۔ مریم کا واسطہ ۔۔ عروہ کا واسطہ ۔۔ پلیز ڈیوارس نہ دیں مجھے ۔۔ آپ کہتے ہیں تو میں مریم سے معافی مانگ لوں گی ۔۔ “

وہ عرش کے سامنے روتی گڑگڑاتی بولی عرش نے اسے بغور دیکھا کیا یہ آنسو جھوٹے ہیں ؟؟ کیا یہ لڑکی اسے بے وقوف بنا رہی تھی ؟؟

” تم جانتی ہو میری زندگی میں مریم کے بعد کسی دوسری عورت کی گنجائش نہیں ہے ۔۔ میری بیوی ۔ میری محبت ۔۔ سب کچھ مریم ہے ۔۔ تمہیں تو کبھی بھی میں اپنی زندگی میں کوئی جگہ نہیں دے سکتا ۔۔ “

وہ اسے اپنے الفاظ سے بہت کچھ باور کروا رہا تھا

” میں آپ سے مریم کی جگہ کا مطالبہ نہیں کر رہی ۔۔ “

وہ نبی میں سر ہلاتی ہوئی گویا ہوئی

” پھر کیا چاہتی ہو ۔۔ ؟”

عرش نے اسے کھوجتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا

” صرف یہ چاہتی ہوں کہ آپ مجھے نہ چھوڑیں ۔۔ باقی میں آپ سے کوئی حقوق نہیں چاہتی ۔۔ بس آپ ڈیوارس نہ دیں مجھے ۔۔ “

وہ دھیمی آواز میں سر جھکائے بولی تو عرش چند لمحے اسے گھورتا رہا پھر بغیر کچھ کہے جیسے آیا تھا ویسے ہی واپس مڑ گیا

/////////////////////////

” یا اللہ میرے امتحان کب ختم ہوں گے ۔۔ ؟ سب کچھ کب ٹھیک ہو گا ۔۔ ؟؟”

مریم مصلے پر ہاتھ پھیلائے بیٹھی رو رہی تھی آنسو قطرہ قطرہ بہی کر اس کے گال بھیگو رہے تھے

” میں تجھ سے شکوہ نہیں کر رہی ۔۔ تو نے تو بن مانگے بہت کچھ دیا ہے مجھے ۔۔ اگر ماں باپ کی شکل نہیں دیکھی میں نے تو ۔۔ تو نے رامین ماما ۔۔ علی پاپا جیسے ماں باپ کا پیار دیا مجھے ۔۔ جنہوں نے کبھی مجھے اپنی اولاد سے کم نہیں سمجھا ۔۔ حورین مما نے بھی بہت پیار دیا مجھے ۔۔ ڈیڈ نے بھی ۔۔ اشعل اور امل نے بہن بھائی کی کمی پوری کردی ۔۔ مجھے کبھی زندگی میں ماں باپ کی کمی یا اکیلے پن کا احساس نہیں ہوا ۔۔

تیرا کرم یہاں بھی ختم نہیں ہوا ۔۔ تو نے عرش جیسے محبت اور عزت کرنے والے شخص کو میرا شوہر بنا دیا ۔۔ میں تیرا تیری رحمتوں نعمتوں پر جتنا شکر ادا کروں اتنا کم ہے ۔۔ مگر اب یہ کیسی آزمائشوں کے در کھول دیے ہیں تو نے میرے اللہ ۔۔ مجھ سے اگر کوئی خطا ہو گئی ہے تو معاف کر دے مجھے ۔۔

ایک کے بعد ایک آزمائش ۔۔ بے اولادی جیسی آزمائش

سے نکال دے مجھے ۔۔ مالک کوئی معجزہ دیکھا دے ۔۔ میرے میں اور ہمت نہیں ہے سینے کی ۔۔ “

وہ ہاتھ پھیلائے تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی

” پتہ نہیں بھائی کیوں یہ سب کر رہے ہیں ۔۔ وہ عروہ کو کسی سے کیوں نہیں ملنے دے رہے ۔۔ یا اللہ عروہ کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا ۔۔ حورین مام کبھی بھی عروہ کا دکھ نہ دیکھیں ۔۔ “

اس کی آنکھوں کے سامنے حورین کا عکس آیا جو پچھلے کئی دنوں سے عروہ کو یاد کر کے روتی ہیں

” یہاں سب لوگ بہت اچھے ہیں میرے مالک ۔۔ میں اولاد نہیں دے سکتی ان کو ۔۔ مگر آج تک کسی نے مجھے اس بات کا طعنہ نہیں دیا ۔۔ الٹا مجھے اس بات کے لیے پریشان نہیں ہونے دیتے ۔۔ سمجھاتے ہیں کہ اس میں خالق کی کوئی مصلحت ہے ۔۔ “

” بس تو اس گھر سے ۔۔ ہماری زندگیوں سے دکھوں کے سائے ہٹا دے ۔۔ سب کی آزمائشیں ، امتحان ختم کر ۔۔ میرے شوہر کو اپنے حفظ وامان میں رکھ ۔۔ زامن ماموں کو کبھی بیٹی کا دکھ نہ دیکھئے گا ۔۔ انہوں نے ہمیں بہت مشکل وقت میں سہارا دیا تھا ۔۔ “

وہ ہچکیوں کے ساتھ روتی ہوئی بول رہی تھی

” پلیز بھائی ۔۔ کچھ غلط مت کیجئے گا عروہ کے ساتھ ۔۔ ورنہ میں کسی کے سامنے سر اٹھا کر نہیں چل سکوں گی ۔۔ “

روحان ابھی تک عروہ کو لے کر نہیں آیا تھا اور کسی نے بھی روحان کی بے حسی کی وجہ سے مریم کو کسی قسم کا کوئی طعنہ نہیں دیا تھا وٹہ سٹہ کے رشتے کا احساس نہیں دلوایا تھا ہاں مگر اسے روحان اور عروہ کی طرف سے بہت پریشانی تھی جانے کتنی دیر وہ سجدے میں آنسو بہاتی دعائیں مانگتی رہی

/////////////////////////

” ہیلو ۔۔ !”

کسی انجان نمبر سے مسلسل آتی کال پر اس نے گاڑی سڑک کے ایک طرف روکی اور جس کر کے موبائل فون کان سے لگا کر کہا

” کیسے ہیں سالے صاحب ۔۔ ؟”

روحان کی آواز اور بات سن کر عرش نے موبائل کان سے ہٹا کر سکرین پر موجود نمبر پر ایک نظر ڈالی اور دوبارہ موبائل فون کان سے لگا لیا

” کیا ہوا خاموش کیوں ہو ۔۔ سالے صاحب ہی کہتے ہیں نا بیوی کے بھائی کو ۔۔ آئی ایم رائٹ ۔۔ ؟”

وہ طنزیہ انداز میں پوچھ رہا تھا

” عروہ کہاں ہے ۔۔ ؟؟ کیسی ہے وہ ۔۔بات کرواؤ میری اس سے ۔۔ “

روحان کی بات یک سو نظر انداز کرتا وہ فکر مندی سے عروہ کے متعلق پوچھ رہا تھا

” پہلے برادر ان لا سے تو حال چال پوچھ لو پھر بہن کا حال پوچھنا ۔۔ ویری سیڈ ۔۔ اکلوتے بہنوئی کے لیے کوئی پروٹوکول نہیں ۔۔ “

وہ اس کی حالت کا مذاق اڑاتا اپنی کہے گیا جبکہ عرش کا دل چاہا وہ روحان کا منہ توڑ دے

” ہمم کیسے ہو ۔۔ ؟”

بہت ضبط کرتے ہوئے اس نے پوچھا جبکہ جواباً روحان کا قہقہہ اسے سنائی دیا

” ٹھیک ہوں ۔۔ بلکہ بہت خوش ہوں ۔۔ تمہاری بہن کی قربت نے بڑا سکون دیا ہے مجھے ۔۔ یو نو ۔۔ پاکستانی لڑکیوں کی شرم و حیا سے ہی دل خوش ہو جاتا ہے ۔۔ ایسی ان چھوئی لڑکی یورپ میں کہاں ملتی مجھے ۔۔ “

روحان کی اس قدر بے باک گفتگو عرش شاہ کیسے برداشت کر رہا تھا یہ وہی جانتا تھا

” عروہ سے بات کرواؤ میری ۔۔ “

مٹھیاں بھنچے اس نے کہا

” کروا دوں گا بات ۔۔ بلکہ ملوا بھی دوں گا ۔۔ پہلے تمہیں میری ایک بات ماننی ہو گی ۔۔ “

روحان ، عرش کا دوٹوک انداز محسوس کرتا شاطرانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے کہہ رہا تھا

” ہاں بولو ۔۔!”

اس نے بے چینی سے پوچھا

” پہلے تمہیں اپنی دوسری بیوی کو طلاق دینی ہو گی ۔۔ اور اگر تم اسے طلاق نہیں دو گے تو مریم کو چھوڑ دو ۔۔ “

اس بار روحان کا انداز بھی سنجیدہ تھا

” تم نے سازش کی ہے ۔۔ ؟ تم نے مجھے بے بس کرنے کے لیے عروہ سے نکاح کیا ہے ۔۔ ؟؟”

وہ بے یقینی سے پوچھ رہا تھا

” ہاں ۔۔ تاکہ تمہیں احساس ہو سکے کہ ۔۔ بہن جب دکھی ہوتی ہے تو بھائی کے دل پر کیا گزرتی ہے ۔۔ بہن اکیلی ہو اور دور ہو اس شخص کے ساتھ جو اسے کھلونا سمجھے ۔۔ “

روحان سرسراتے انداز میں بولا تھا

” میں مریم سے محبت کرتا ہوں ۔۔ اس کی عزت کرتا ہوں روحان ۔۔ میں کبھی اس کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکتا ۔۔ کبھی بھی ۔۔ مگر تم اس سارے معاملے میں عروہ کو بیچ میں کیوں لے کر آئے ۔۔ ڈیم اٹ ۔۔ معصوم تھی وہ بلکل ۔۔ زندگی برباد کر دی تم نے اس کی ۔۔ صرف مجھے بے بس کرنے کے لیے ۔۔ اور اپنی بہن کی خوشیوں کے لیے ۔۔ ؟”

عرش اس بار باقاعدہ چیخا تھا کیونکہ اب اسے معاملے کی گہرائی کا ادراک ہوا تھا

” ہاں ۔۔ میں نے اپنی بہن کی خوشیوں کے لیے کیا سب ۔۔ ورنہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے ۔۔ اولاد تو وہ تمہیں دے نہیں سکتی ۔۔ کیوں نہ دوسری شادی کر لی جائے ۔۔ مریم کے ساتھ زیادتی کرو گے تو کون سوال کرے گا ۔۔ “

وہ بھی چلا کر بولا تھا

” یہ تم نے کیا کیا ہے روحان ۔۔ میرے ڈیڈ تمہیں کیا سمجھتے تھے ۔۔ تم نے ان کا مان توڑ دیا ۔۔ میری بہن کے ساتھ بہت بڑا ظلم کیا ہے یہ تم نے ۔۔ بہت بڑا ۔۔ بتاؤ کہاں ہے عروہ ۔۔ کیا کیا ہے تم نے اس کے ساتھ ۔۔ ؟”

عرش اپنے بالوں کو نوچتا حقیقتاً بے بسی کی انتہا پر تھا

” دوسری بیوی کو طلاق دے دو ۔۔ اور پھر لے جانا اپنی بہن کو آ کر ۔۔ “

وہ بے حسی کی انتہا پہ تھا

” پہلے عروہ سے بات کرواؤ میری ۔۔ بتاؤ کہاں رکھا ہوا ہے تم نے اسے ۔۔ “

عرش شاہ کی آواز جیسے کسی کھائی سے آئی تھی

” نا نا ایس پی صاحب ۔۔ پہلے میرا مطالبہ مانو ۔۔ پھر میں بھی تمہاری بہن کو چھوڑ دوں گا ۔۔ “

اس کی بات پر عرش نے اپنی آنکھیں میچ لیں ایک آنسو عرش شاہ کی آنکھ سے نکل کر اس کی قمیض میں جذب ہو گیا یہ سوچ ہی تکلیف دہ تھی کہ عروہ ، روحان جیسے گھٹا آدمی کی دسترس میں تھی

” ٹھیک ہے میں امل کو چھوڑ دوں گا ۔۔ “

وہ سپاٹ انداز میں بولا

” اوکے پھر میں بھی تمہاری بہن کو تمہارے پاس پہنچا دوں گا ۔۔ “

یہ کہہ کر روحان کال کاٹ چکا تھا جبکہ عرش شاہ بھی موبائل ڈیش بورڈ پہ پٹختا اپنا ضبط کھو بیٹھا اور اپنی بہن کی تکلیف یاد کرتا رو دیا

بہت دیر تک وہ تنہائی پا کر روتا رہا رات کافی گہری ہو چکی تھی اسے اپنے مشن پر بھی جانا تھا گاڑی کوٹھے کے راستے ڈال کر وہ اب بلکل خاموش تھا جبکہ تاثرات پتھریلے تھے وہ اب اپنی ڈیوٹی سر انجام دینے کے لیے روانہ ہو چکا تھا

////////////////////////

اس کوٹھے سے غیر قانونی طریقے سے لڑکیاں سمگل کی جاتی تھی اس بڑے گینگ کو منظر عام پر لانے کی خاطر عرش اکثر ایک عام شہری کے حلیے میں کوٹھے پر آتا تھا اس دوران ماہ رخ جو کہ ایک بہت کم عمر لڑکی تھی جسے کوئی کوٹھے پر چھوڑ گیا تھا ماہ رخ کو دیکھ کر اسے بہت برا لگا وہ اس کی معصومیت اور عزت بچانے کی خاطر روز اس کے ساتھ رات گزارنے کی قیمت ادا کرتا مگر آج وہ روحان کی باتوں سے بہت زیادہ پریشان تھا جانے اس نے عروہ کے ساتھ کیا سلوک رواں رکھا ہو گا

” صاحب اجازت ہو تو ایک بات پوچھوں ۔۔ ؟ “

بیڈ پر دراز موبائل میں مصروف عرش شاہ کو دیکھتے ہوئے اس سترہ سالہ لڑکی نے ڈرتے ڈرتے پوچھا اس کی آواز پر عرش شاہ نے بوجھل نگاہیں موبائل سکرین سے ہٹائیں اور لمبا سانس کھینچا ، مگر ہنوز خاموش رہا اور چھت کو گھورتا رہا

” صص صاحب ۔۔ !”

اس لڑکی نے جانے کیا سوچ کر اسے پھر سے پکارا تو عرش نے سر ہلایا جیسے اسے اجازت دی ہو

” آ آپ ۔۔ مم میرے ۔۔ ساتھ کک کچھ ۔۔ کرتے بھی نہیں ہیں ۔۔ اور ۔۔ مم مجھے ۔۔ جج جانے بھی نہیں دیتے ۔۔ ایسا کیوں ۔۔ ؟”

وہ بیڈ سے نیچے فرش پر بیٹھی پوچھ رہی تھی کتنے دن گزر گئے تھے اسے کوٹھے پر آئے شروع میں وہ کتنا روتی تھی مگر پھر ایک دن اسے پہلی بار عرش شاہ کے سامنے پیش کیا گیا مگر یہ عجیب شخص تھا کہ آتا روز تھا اور فرمائش بھی اسی کے ساتھ رات گزارنے کی کرتا تھا مگر مجال ہے جو چھونا تو دور غلط نگاہ سے ہی دیکھ لے تبھی اب ماہ رخ کو عرش سے اپنے بے آبرو ہونے کا خدشہ نہ تھا اس کی بات پر عرش کے ماتھے پر شکن ابھرے اسے اس لڑکی سے ہرگز بھی اس سوال کی امید نہ تھی

” مجھے تمہارے ساتھ کیا کرنا چاہیے ۔۔ ؟”

سرسری نگاہ اس لڑکی کے سجے سنورے سراپے پر ڈال کر وہ نگاہ دوبارہ چھت کی جانب کرتا گھمبیر انداز میں استفسار کر رہا تھا

” جو کوٹھے میں موجود لڑکی کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔۔ !”

اس لڑکی نے عرش کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو عرش اس کی بات اور انداز پر ٹھٹھک گیا اسے اس لڑکی کے انداز نے خاصا حیرت زدہ کیا فوراً اپنا ہاتھ اس نے کھینچا

” خاموش رہو لڑکی ۔۔ مجھے بار بار مخاطب مت کرو ۔۔ !”

وہ اس بار درشتگی سے بولا تھا مگر وہ لڑکی ٹکٹکی باندھے اسے ہی دیکھ رہی تھی جو کوئی رئیس زادہ تھا مگر نگاہوں میں شرافت رکھتا تھا جب عرش نے مزید بولنا شروع کیا

” شکر نہیں کرتی تم خدا کا کہ ۔۔ اس جگہ میں رہ کر بھی تمہاری عزت محفوظ ہے ۔۔ لیکن افسوس تم محض عمر میں کم ہو ۔۔ آگاہی تمہیں ہر بات کی ہے ۔۔”

وہ بات مکمل کر کے اپنے کاندھے پر پڑی چادر کو درست کرتا بیڈ سے اترنے لگا اور موبائل میں وقت دیکھا جو کہ رات کے دو کا ہندسہ عبور کرنے کو تھا اس سے پہلے وہ بیڈ سے اٹھتا ایک بار پھر ماہ رخ نے اس کا ہاتھ تھاما اس بار عرش شاہ نے سختی سے اس کا ہاتھ جھٹکا جس باعث عرش کی انگلی میں موجود انگوٹھی کا کنارا ماہ رخ کو لگا اور کھرونچ پڑ گئی

” معذرت شاہ سائیں ۔۔”

عرش کے سرد انداز پر ماہ رخ سر جھکا گئی

” میں چلتا ہوں ۔۔ !”

وہ دروازے کی جانب بڑھا

” کچھ دیر بیٹھ جائیں ۔۔ “

ماہ رخ بے بسی سے اسے پکار بیٹھی جبکہ عرش شاہ سرد آہ بھرتا کرسی پر بیٹھ گیا

” پریشان ہیں شاہ صاحب ؟”

کچھ پل گزرے تھے جب ماہ رخ عرش کو سر تھامے دیکھ کر دھیمی آواز میں بولی مگر وہ ہنوز خاموش رہا

” میری داستان تو آپ جانتے ہیں ۔۔ میرا ہر دکھ جانتے ہیں ۔۔ آج مجھ نا چیز سے اپنا دکھ بانٹ لیں گے تو باخدا خوش نصیب ہو جاؤں گی میں ۔۔ کہ اپنے محسن کا دکھ بانٹا ہے میں نے ۔۔ “

وہ ہمیشہ عرش کو ایسے ہی اضطراب میں دیکھتی تھی جب بھی یہاں آتا وہ یوں ہی ساری ساری رات سر تھامے گزارتا یا پھر پریشانی سے چکر کاٹتا رہتا

” کیا کرو گی جان کے ۔۔ ؟”

موچھوں کو تاؤ دے کر وہ تلخ ہنسی ہنسا

” اور کچھ نہ بھی کر سکی تو ۔۔ دعا تو کر ہی سکتی ہوں ۔۔ صرف یہی اختیار میں ہے میرے ۔۔ “

وہ دھیرے سے بولی مگر عرش شاہ خاموش رہا کچھ پل گزرے تھے جب دوبارہ ماہ رخ کی آواز نے کمرے کی خاموشی میں اشتعال پیدا کیا

” پہلا مرد دیکھ رہی ہوں صاحب ۔۔ جو قیمت ادا کر کے بھی فائدہ نہیں اٹھاتا ۔۔ ورنہ میرا وجود تو ہر رات آپ خرید لیتے ہیں ۔۔ تو کیا چیز آپ کو میرے قریب آنے سے روکتی ہے ۔۔؟کیوں میری آبرو کے ضامن بنے ہوئے ہیں ۔۔ ؟”

پوچھتے ہوئے ماہ رخ کی آواز روند گئی

” میرا دین ۔۔ میری ماں کی تربیت ۔۔ “

وہ دھیرے سے بولا

بے ساختہ ماہ رخ کی آنکھیں بھیگیں وہ جانتی تھی اگر عرش شاہ اسے نہ خریدتا تو یقیناً ابھی تک کئی مرد اس کے وجود کی دھجیاں بکھیر چکے ہوتے

” کاش ہر ماں نے اپنے بیٹے کی تربیت آپ کی ماں جیسی کی ہوتی ۔۔ آپ کو دیکھ کر آپ کی ماں کے لیے دل سے دعائیں نکل رہی ہیں ۔۔ !”

وہ عرش کے قدموں میں بیٹھی تشکرانہ انداز میں اسے تکتی گویا ہوئی

” سنو ۔۔ لڑکی !”

اس بار عرش نے اسے پکارا

” حکم شاہ صاحب ۔۔ !”

” اب میں چلتا ہوں ۔۔ میری بیوی انتظار کر رہی ہو گی ۔۔ “

وہ کہتے ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا ساتھ ماہ رخ بھی اٹھ گئی

” آپ کی بیوی بہت خوش قسمت ہے ۔۔ جسے آپ ملے ۔۔ “

وہ دروازے کی جانب بڑھا تھا جب ماہ رخ کے الفاظ نے اس کے قدم جکڑے

” سنو لڑکی میرے لیے دعا کرو گی ۔۔ “

” کیا دعا کرنی ہے ۔۔؟ میرا انگ انگ آپ کے لیے دعا گو ہے شاہ سائیں ۔۔ !”

وہ آنکھوں میں خوشی لیے پوچھ رہی تھی

” دعا کرنا میں بے قصور کے لیے ظالم نہ بنوں ۔۔ !”

بات کرتے ہوئے امل کا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا پھر سر جھٹکتا بغیر کچھ کہے سنے کمرے سے نکل گیا جبکہ ماہ رخ اس کی پشت کو تکتی رہ گئی

اس کا رخ اب گھر کی جانب تھا وہ جلد از جلد روحان کا مطالبہ مان لینا چاہتا تھا تاکہ وہ عروہ کو مزید کوئی نقصان نہ پہنچائے اس وقت اسے امل سے شدید نفرت محسوس ہو رہی تھی کیونکہ وہی ہر فساد کی جڑ تھی اس کی وجہ سے ہی روحان نے عروہ کی زندگی خراب کر دی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ امل اور روحان کو جان سے مار دے اور جتنے خطرناک ارادے سے وہ آج گھر جا رہا تھا یقیناً امل کے حق میں یہ اچھا نہیں تھا

////////////////////////