53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam (Episode 13)

Tere Sitam By Fatima

اس کی آنکھ مسلسل بجتے فون کی وجہ سے کھلی تھی کروٹ لے کر اس نے بمشکل آنکھیں وا کیں اور سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر کان سے لگایا

” ہیلو ۔۔ !”

نیند میں ڈوبی آواز کمرے میں گونجی مگر بائیں طرف فرش پر موجود وجود نے کوئی حرکت نہ کی

” بھائی کہاں ہیں آپ ۔۔ ؟؟ کب سے فون کر رہی ہوں ۔۔ !”

اب وہ چادر میں لپٹی عروہ کے وجود پر نگاہیں گاڑے مریم کی بات سن رہا تھا

” کیا ہوا سب ٹھیک ہے بیٹا ۔۔ عرش نے تو نہیں کہا تمہیں کچھ ۔۔ ؟”

اس کی آواز میں پریشانی تھی

” اوہو بھائی ۔۔ انہوں نے کچھ نہیں کہا ۔۔ آپ مجھے بتائیں عروہ کہاں ہے ۔۔ اس سے بات ہی کروا دیں ۔۔ !”

مریم کچھ تفتیش سے بولی

” عروہ !! وہ سو رہی ہے ۔۔ !”

روحان کے سفید جھوٹ پر عروہ نے پتھرائی آنکھوں سے اسے دیکھا اور پھر سر جھٹک کر نگاہوں کا رخ پھیر لیا

” اچھا ۔۔ آپ مجھے ابھی اپنے گھر کا ایڈریس سینڈ کریں ۔۔ ہمیں ناشتہ لے کر آنا ہے ۔۔ !”

وہ بولی تو روحان بوکھلا گیا

” مریم اتنی صبح صبح ۔۔ ؟”

” بھائی گیارہ بج رہے ہیں ۔۔”

مریم نے جیسے اسے اطلاع دی

” ناشتہ وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ ہم خود کر لیں گے ۔۔ اچھا سنو ۔۔ میں خود ہی لے آؤں گا عروہ کو حویلی ۔۔ تم فکر مت کرنا ۔۔ اور عرش اگر کچھ کہے تو مجھے بتانا ۔۔ میں اسے سیدھا کر لوں گا ۔۔ آخر کو اب اس کی ڈور میرے ہاتھ میں جو ہے ۔۔ “

وہ عروہ کے سکڑے سمٹے وجود کو دیکھتا جتاتا ہوا گویا ہوا

تو مریم کو بے چینی ہوئی

” بھائی آپ مجھے ڈرا رہے ہیں ۔۔ ! “

جانے کیوں اس کا دل بے قرار ہوا تھا روحان کا سرسراتا لہجہ اسے ہزار خدشات میں ڈال رہا تھا

” مریم بلکل پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے بیٹا ۔۔ میں زامن ماموں کو کال کر لوں گا ۔۔ بس تم اپنا خیال رکھنا ۔۔ !”

وہ اس کی پریشانی محسوس کرتا تسلی دے کر فون بند کر چکا تھا اور فرش پر دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے سپاٹ چہرہ لیے سکڑی سمٹی بیٹھی عروہ کی جانب بڑھا جس نے اپنے برہنہ وجود کو بڑی چادر سے ڈھانپا ہوا تھا

” اس طرح اجڑی ہوئی حالت میں کیوں بیٹھی ہو ۔۔ شوہر

ہوں تمہارا ۔۔ رات جو کچھ ہوا وہ حق تھا میرا ۔۔ !”

وہ خود ابھی بھی محض سیاہ ٹراؤزر پہنے شرٹ کے بغیر تھا عروہ کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھ کر جب مغرور اور متکبر انداز میں دبی دبی آواز میں غرایا تو عروہ نے جھکا سر اٹھایا اور اپنی سوجی ہوئی سرخ آنکھوں سے روحان کو دیکھا

” جو انداز رات کو آپ کا تھا ۔۔ وہ شوہر کا تو کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا ۔۔ بلکہ درندے اور وحشیوں کی طرح میرا وجود نوچا ہے آپ نے ۔۔ !”

وہ جب اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولی تو انداز میں نفرت ہی نفرت تھی اس کی بات پر روحان نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھا لمبے بالوں نے اس کے وجود کو چھپا رکھا تھا مگر گالوں پر انگلیوں کے نشان نقش تھے ہونٹ سوجے ہوئے اور زخمی تھے گردن پر جگہ جگہ کٹ کے نشان واضح تھے بازوؤں پر تو انگنت جلنے کے ، کاٹنے کے اور انگلیوں کے نشانات تھے ایک پل کو تو روحان کو عروہ کی یہ حالت دیکھ کر نگاہیں جھک گئیں

” ڈرامہ ختم کرو اپنا ۔۔ اور فریش ہو جا کر ۔۔ !”

وہ نگاہیں چرا کر بولا تھا اس مرتبہ لہجہ نرم تھا مگر عروہ ہنوز اسی طرح بیٹھی رہی تو روحان کے ماتھے پر بل پڑے

” سنائی نہیں دے رہا تمہیں ۔۔ ؟ فوراً اٹھو ۔۔ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔ !”

وہ اسے آنکھیں دیکھاتا اس مرتبہ دھاڑا

” آپ سے برا میں نے واقعی کوئی نہیں دیکھا ۔۔ “

وہ بڑبڑائی تھی مگر آواز اتنی بلند تھی کہ روحان نے سن لی

” رات تک تو تمہاری زبان نہیں تھی ۔۔ مگر آج تو بہت چل رہی ہے ۔۔ !”

وہ کچھ تمسخرانہ انداز میں گویا ہوا تھا

” رات تک میرے دل میں کم از کم آپ کے لیے عزت تھی ۔۔ شوہر کی حیثیت سے احترام تھا مگر ۔۔ آپ نے ہمارے رشتے کا تقدس پامال کر دیا ۔۔ اب میرے دل میں کبھی آپ کے لیے عزت نہیں آ سکتی ۔۔ میں ڈیڈ کو سب بتا دوں گی ۔۔ جو سلوک آپ نے میرے ساتھ کیا ہے ۔۔ !”

روحان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولتے ہوئے اس کی آواز روند گئی

وہ جو چہرہ کل تک دنیا جہان کی معصومیت اور حسن سمیٹے ہوئے تھا وہ آج زخمی تھا ایک رات میں ہی اس کے چہرے کی شادابی کہیں دب گئی تھی

” کیا بتاؤ گی ۔۔ ہاں ۔۔ کیا بتاؤ گی ۔۔ میں تمہاری زبان نہ کاٹ دوں ۔۔ !”

عروہ کی بات نے تو اسے طیش ہی دلا دیا تھا وہ اس کا چہرہ دبوچے چیخا

” یہی کہ آپ نے مریم بھابھی کی وجہ سے میرے ساتھ نکاح کیا ۔۔ تاکہ عرش بھائی مریم بھابھی کو کبھی نہ چھوڑیں ۔۔ میرے ذریعے آپ عرش بھیا کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ اگر انہوں نے مریم بھابھی کو چھوڑا تو آپ میرے ساتھ برا سلوک کریں گے ۔۔ !”

وہ جو رات سے انگریزی میں گالیاں بکتے ہوئے روحان نے اپنے نکاح کرنے کی وجہ اسے بتائی تھی تبھی اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ روحان نے محض مریم کی وجہ سے اس کے ساتھ نکاح کیا ہے

” ہاں ۔۔ مریم کے لیے میں نے تم جیسی بدکردار لڑکی کو قبول کیا ہے ورنہ میں تمہیں کبھی بیوی نہ بناتا ۔۔ !”

وہ لہجے میں حقارت لیے گویا ہوا

” مجھ پر ظلم کر کے اپنی بہن کی خوشیوں کی ضمانت چاہتے ہیں آپ ۔۔ ؟؟ آپ جیسے بزدل مرد پر آفرین ہے ۔۔ !”

وہ چہرہ بلند کیے تڑخ کر بولی

” ہاں ۔۔ اب تم دیکھنا ۔۔ عرش شاہ اپنی دوسری بیوی کو کیسے طلاق دیتا ہے ۔۔ ! “

وہ ہنسا تھا جبکہ عروہ کو اس وقت اس سے زیادہ نفرت اپنے سامنے بیٹھے شخص سے محسوس ہوئی

” آپ کو کیا لگتا ہے ایسے مریم بھابھی خوش رہیں گی ؟؟ ان کی خاطر آپ نے میری زندگی خراب کر دی ۔۔ خدا میرا حساب لے گا آپ سے ۔۔ “

وہ روتے ہوئے لہجے میں بے شمار دکھ لیے بولی تھی

” تم مجھے اور میری بہن کو بد دعا دے رہی ہو ۔۔ ؟”

روحان نے آبرو آچکا کر پوچھا ساتھ کی عروہ کا بازو اس شدت سے دبایا کہ وہ کراہ اٹھی

” میں اپنا معاملہ خدا پہ چھوڑ رہی ہوں ۔۔ !”

وہ سختی سے اپنے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتی گویا ہوئی

” تمہاری اور تمہارے بھائی کی زندگی کی ڈور تو اب میرے ہاتھ میں ہے ۔۔ !”

” کیوں میری زندگی خراب کر دی آپ نے ۔۔ میرے ڈیڈ آپ کو اپنے بیٹوں کی طرح سمجھتے تھے ۔۔ !”

وہ ٹوٹ گئی تھی بکھرے بکھرے وجود سمیت سسک کر بولی

” مجھے میری بہن سے زیادہ کوئی عزیز نہیں ۔۔ ! بچپن سے لے کر آج تک جانے کیسے اس نے وقت گزارا ہے ۔۔ ؟ کون کرتا ہے پرائی اولاد کا ۔۔ عرش شاہ کی دوسری شادی سے ثابت ہو چکا ہے کہ کتنی پروا ہے سب کو مریم کی ۔۔ !”

” رامین آنی اور علی چاچو نے اپنی اولاد کی طرح پالا انہیں ۔۔ مام ڈیڈ نے عرش بھائی کے ساتھ ان کی شادی کروا دی کہ وہ مریم بھابھی کی اپنی اولاد کی طرح فکر کرتے ہیں ۔۔ واقعی کوئی کسی دوسرے کی اولاد کی پروا نہیں کرتا ۔۔ مگر پھر بھی آج تک کبھی بھی مریم بھابھی کو مام ڈیڈ سمیت کسی نے کچھ محسوس نہیں ہونے دیا ۔۔ چاہیں تو پوچھ لیجیے گا ۔۔ اس کے باوجود آج آپ آ کر یہ کہہ رہے ہیں کہ کسی کو مریم بھابھی کی پروا نہیں تو یہ غلط بات ہے ۔۔ جتنا میرے ڈیڈ اور مام نے کیا ہے اتنا کوئی بھی نہیں کرتا ۔۔ عرش بھیا نے مریم بھابھی کو دنیا کی ہر خوشی دی ہے ۔۔ عرش بھائی کی لائف میں امل کی موجودگی بھی مریم بھابھی کی عزت مقام کم نہیں کر سکتی ۔۔ عرش بھیا کے اٹھائے گئے قدم سے مام ڈیڈ ابھی تک ان سے خفا ہیں ۔۔ کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ مریم بھابھی کے ساتھ غلط ہوا ہے۔۔ وہ اپنی اولاد کی طرح فکر کرتے ہیں مریم بھابھی کی ۔۔ کم از کم اتنی سمجھ ہونی چاہیے تھی آپ کو ۔۔ میری زندگی کیوں داؤ پہ لگا دی آپ نے ۔۔ “

وہ بولتی ہوئی آخر میں سسک سسک کر رونے لگی

” بس کرو اپنے ڈرامے ۔۔ تمہاری باتوں میں نہیں آنے والا میں ۔۔ “

وہ سر جھٹک کر عروہ کو جھنجھوڑ کر بولا تو وہ اسے افسوس سے دیکھنے لگی

” خدا کے عذاب سے ڈریں ۔۔ میں بے قصور ہوں ۔۔ ظلم کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ ۔۔ !”

وہ درد کی شدت کے باوجود چیخ کر بولی

” تم بے قصور ہو ۔۔ ؟؟ تم ۔۔ ؟؟ مجھے بتاؤ کون تھا اس رات تمہارے ساتھ ۔۔ ؟ اس رات کس کے ساتھ تھی تم ۔۔ ؟”

وہ اب اس کے بالوں کو اپنے سخت شکنجے میں لیتے ہوئے پوچھ رہا تھا اس کی بات پر عروہ کے لب تو بلکل خاموش تھے مگر آنکھیں ضرور برس پڑیں

” رات سے اسی عاشق کے لیے آنسو بہا رہی ہو نا تم ۔۔ تم جیسی گھٹیا اور بدکردار لڑکی پر میں لعنت بھیجتا ہوں ۔۔ !”

وہ اس کے بالوں پر گرفت سخت کرتا دھاڑا تو عروہ نے اسے افسوس سے دیکھا

” لعنت تو آپ کی مردانگی پر ہے ۔۔ !! اور کیوں ہے یہ بھی آپ جانتے ہیں ۔۔ اور مجھے کمزور مت سمجھیں ۔۔ میں اس وقت صرف مجبور ہوں ۔۔ !”

درد کی شدت محسوس کرتی وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولتی روحان کو حیران کر گئی

” بدزبان ۔۔ بدکردار لڑکی ۔۔ میں تمہیں جان سے مار دوں گا ۔۔ !”

وہ اب اسے تھپڑوں اور ٹھوکروں پر رکھ چکا تھا

وہ روتی سسکتی مام ڈیڈ کو پکارتی رہی مگر جس طرح گزشتہ رات کو روحان کو اس پر ترس نہ آیا تھا ابھی بھی وہ بے حس بنا رہا اور پورا کمرا عروہ کی درد خراش چیخوں سے گونجتا رہا

//////////////////////////

جب سے روحان عروہ کو رخصت کر کے لے کر گیا تھا شاہ حویلی کی رونق بھی جیسے ساتھ لے گیا تھا جو گھر کل تک شادی کی رونق میں مصروف تھا آج بلکل سناٹا تھا حورین تو رات سے اک پل بھی سو نہ پائی تھی اور بے چینی سے ٹہل رہی تھی سب نے انہیں بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ عروہ اپنے شوہر کے ساتھ ہے اپنے محافظ کے ساتھ ہے اس میں پریشانی کی کیا بات ہے مگر وہ بے قرار تھیں صبح ہوتے ہی مریم کو روحان کو فون ملانے کو کہا جب ملایا تو آگے سے روحان کا جواب سن کے مایوسی ہوئی

زامن شاہ بھی رات سے کمرے میں بند تھے جانے کیوں انہیں بھی بے قراری ہو رہی تھی

عرش شاہ کی چھٹی ختم تھی جس بنا پر اسے آج لازمی نکلنا تھا مگر روحان، عروہ کو لے کر جو غائب ہوا تھا اس بات نے اسے بھی اک پل کو سکون نہ لینے دیا تھا

” مم میری بھائی سے بات ہوئی ہے ۔۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ۔۔ وہ خود عروہ کو لے کر یہاں آئیں گے ۔۔ “

مریم ، عرش کو رات سے بلکل خاموش پا کر مخاطب کرتی جھجھک رہی تھی

” ہممم ۔۔ مگر یہ کوئی سمجھداری نہیں ہے کہ روحان ہم میں سے کسی کی کال بھی اٹینڈ نہیں کر رہا ۔۔ مام بہت زیادہ پریشان ہیں ۔۔ !”

وہ کنپٹی کو دباتے ہوئے بولا

” آپ فکر نہیں کریں ۔۔ عروہ بلکل ٹھیک ہے ۔۔ !”

مریم نے عرش کے چہرے پر سخت تاثرات دیکھتے ہوئے کہا

” بہت ہی کوئی گھٹیا حرکت کی ہے روحان نے ۔۔ آخر اسے مسئلہ کیا ہوا ہے بیٹھے بیٹھائے ۔۔ ؟؟ وہ نکاح سے پہلے بھی تو اپنے ارادے بتا سکتا تھا۔۔ “

عرش دبے دبے غصے میں بولا تو مریم کچھ خوفزدہ ہو کر اسے دیکھنے لگی

” ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔ عروہ اپنے شوہر کے ساتھ ہے ۔۔ آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں ۔۔ ؟”

مریم نے عرش شاہ کی سرخی مائل آنکھوں کو دیکھتے ہوئے کہا

” مریم مام کا حال دیکھو ۔۔ ٹھیک ہے ہم نے نکاح کر کے بھیجا ہے مگر ۔۔ روحان چاہتا کیا ہے ۔۔ ؟ کیوں ہماری بات نہیں کروا رہا عروہ سے ۔۔ ؟”

اس مرتبہ عرش شاہ کی آواز میں سختی تھی

” شاہ جی اس میں میری کیا غلطی ہے ؟ آپ مجھ پہ کیوں غصہ کر رہے ہیں ۔۔ “

وہ کچھ بلند آواز میں بولی تو عرش نے اسے دیکھا

” مریم میں آپ کو کچھ نہیں کہہ رہا ۔۔ سوری میں بس عروہ کی وجہ سے پریشان ہوں۔۔ !”

” آپ عروہ کی وجہ سے میرے ساتھ ایسے بات کیا کریں گے اب ۔۔ ؟”

وہ کسی صورت بھی اپنے اور عرش کے رشتے میں تلخی برداشت نہیں کر سکتی تھی

” یہ تمہارے بھائی کی سوچ ہے ۔۔ میری نہیں ۔۔ وہ تمہارے اور میرے رشتے کو ، عروہ اور اپنے رشتے کے ساتھ تول رہا ہے ۔۔ میں ایسا کبھی نہیں کر سکتا ۔۔ میرے لیے بیوی ، بیوی کی جگہ ہے اور بہن ، بہن کی جگہ ۔۔ یہ میری تربیت میں نہیں شامل ۔۔ کہ بہن کی خاطر بیوی کے ساتھ زیادتی کر جاؤں ۔۔ !”

نا چاہتے ہوئے بھی مریم کی بات نے عرش کو دکھ دیا اور وہ تلخی سے گویا ہوا

” بھائی ایسا کچھ نہیں کر رہے ۔۔ آپ انہیں غلط سمجھ رہے ہیں ۔۔ !”

وہ کچھ شرمندہ سی بولی تھی

” دعا کرو مریم ۔۔ میری بہن بلکل ٹھیک ہو ورنہ ۔۔ !”

اس نے بات اُدھوری چھوڑی تو مریم کی سانسیں بے ترتیب ہوئیں

” ورنہ کیا شاہ جی ۔۔ ؟؟ ورنہ آپ مجھے روحان شاہ کی بہن ہونے کی سزا دیں گے ۔۔ ؟؟”

وہ آنکھوں میں آنسو لیے پوچھ رہی تھی

” بے غیرت یا کمزور مرد نہیں ہوں جو ایسا کروں میں ۔۔ کہا ہے نا میں نے کہ کسی ایک رشتے کی خاطر دوسرے کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکتا میں ۔۔ کیا ان تین چار سالوں میں اتنا جانا ہے آپ نے مجھے ۔۔ ؟”

وہ اب نرمی سے استفسار کر رہا تھا

” جب سے آپ نے میرے برابر کسی لڑکی کو اپنی زندگی میں مقام دیا ہے تب سے ہر قسم کی سوچ آنے لگی ہے میرے دل میں ۔۔”

ضبط کے باوجود مریم کی آنکھیں چھلک پڑیں

” خدا کی قسم مریم ۔۔ میری زندگی میں آپ کی برابری کوئی نہیں کر سکتا ۔۔ پلیز اپنے دل سے یہ سارے خدشات نکال دیں ۔۔ “

وہ مریم کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتا بولا

” آج نہیں تو کل یا جب امل آپ کو اولاد کی خوشی دے گی تو ۔۔ آپ اپنے یہ الفاظ بھول جائیں گے ۔۔ !”

وہ عرش کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالتے ہوئے گویا ہوئی

” اولاد سب کچھ نہیں ہے میرے لیے ۔۔ پلیز مریم میرا یقین کریں میں صرف آپ کا ہوں صرف آپ کا ۔۔ باقی امل والا معاملہ میں بہت جلدی ختم کر دوں گا ۔۔ “

وہ اسے یقین دلاتا ہوا بولا

” میں آپ کو اولاد نہیں دے سکتی ۔۔ اور جس عورت میں یہ کمی ہو ۔۔ وہ زیادہ دیر تک مرد کے دل میں نہیں رہ سکتی ۔۔ آج نہیں تو کل آپ کو اولاد چاہیے ہو گی پھر آپ مجھے بھول جائیں گے “

وہ نگاہیں چرا کر آنسو چھپاتی بولی

” میں خود کو بھول سکتا ہوں مگر آپ کو نہیں مریم ۔۔ اچھا بتائیں اگر یہ کمی مجھ میں ہوتی تو کیا آپ مجھے اکیلا چھوڑ دیتی ۔۔ ؟؟”

عرش کے اچانک سوال پر مریم نے اسے دیکھا

” جواب دیں ۔۔!”

مریم نے نفی میں سر ہلایا

” تو پھر میں بھی آپ سے اتنی ہی محبت کرتا ہوں ۔۔ پلیز میرا یقین کر لیں ۔۔ میں جانتا ہوں آپ کس سچویشن سے گزر رہی ہیں ۔۔ لیکن میری یا گھر والوں کی طرف سے کبھی کوئی مسلئہ نہِیں ہوگا ۔۔ کوئی آپ کو کبھی کچھ نہیں کہے گا ۔۔ !”

وہ اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھامے سچائی سے گویا ہوا تو مریم کو عرش کے انداز اور لہجے نے پر سکون کر دیا

” آپ کی پیکنگ کر دی ہے میں نے ۔۔ !”

مریم نی بات پر عرش نے محض سر ہلایا اور جھک کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا بیگ اٹھائے کمرے سے نکل پڑا

مام ڈیڈ سے ملتے ہوئے اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی بیٹی کی ایک دن کی جدائی نے ان دونوں کو کس قدر ہلکان کر دیا تھا

” تم پریشان مت ہونا ۔۔ میری روحان سے بات ہوئی ہے ابھی ۔۔ وہ کچھ دل میں عروہ کو لے کر آ جائے گا ۔۔ !”

جاتے ہوئے زامن شاہ نے اسے اطلاع دی

” مگر ڈیڈ ۔۔ !”

کہنا تو وہ بہت کچھ چاہتا تھا مگر زامن شاہ کا شکست زدہ سا انداز اسے خاموش رہنے پر مجبور کر رہا تھا

///////////////////////////

اسے اسلام آباد پہنچتے ہوئے رات ہو چکی تھی سفر اس کا سارا مضطرب گزرا تھا بہت سی پریشانیاں وہ اپنے ساتھ لیے ہوئے تھا

فلیٹ کا دروازہ کھول کر جب وہ اندر داخل ہوا تو اندھیرے نے اس کا استقبال کیا بے ساختہ اس کے ماتھے پر بل پڑے موبائل کی ٹارچ سے سوئچ بورڈ ڈھونڈا اور لائٹ آن کی اب نظریں امل کو ڈھونڈ رہی تھیں

وہ دروازہ لاکڈ کرتا قدم قدم چلتا کچن میں آیا اس دوران وہ اپنا بیگ رکھ چکا تھا کچن بلکل خالی تھا بلکل صاف ستھرا ، پھر کچھ حیرت سے اس نے لاؤنج کو دیکھا ہر چیز بڑی صفائی سے رکھی گئی تھی اب وہ اپنے کمرے کے ساتھ والے کمرے کی جانب بڑھا کیونکہ اس کا کمرا تو لاکڈ تھا وہ جاتے ہوئے اپنا کمرا لاک کر کے گیا تھا

اس دوسرے کمرے میں محض ایک سنگل بیڈ تھا اور امل بیڈ پر سکڑی ہوئی لیٹی تھی عرش اس کی سمت بڑھا چہرہ سرخ ، اور نقاہت بھرا تھا جیسے بیمار ہو جھک کر اس نے امل کا ماتھا چھوا جو حرارت کا پتہ دے رہا تھا کمرے میں خنکی تھی مگر امل کے اوپر کوئی بلینکٹ نہ تھا اس نے نگاہیں دوڑائیں تو اسے کوئی بلینکٹ نظر نہ آیا وہ واپس مرا اور دوسرے کمرے کا لاک کھولا اپنے بیڈ سے بلنکٹ لا کر اس نے امل پر اوڑھایا اور پھر اس کا شانہ ہلایا مگر وہ بخار کی شدت سے شاید اپنے ہوش میں نہیں تھی

” امل ۔۔ اٹھو ۔۔ آنکھیں کھولو ۔۔ !”

ذرا جھک کر اس نے اس کا تپتا بال تھپتھپایا تو امل آنکھیں بند لیے کچھ بڑبڑانے لگی مگر بہت کوشش کے بعد بھی عرش کو سمجھ نہ آئی وہ کیا کہہ رہی ہے

ایک تو وہ پہلے ہی پریشان تھا اور اب امل کی یہ حالت دیکھ کر اسے مزید کوفت ہونے لگی کچھ سوچ کر اس نے موبائل پر شازل کا نمبر ڈائل کیا اور اسے فوری اپنے ساتھ ڈاکٹر کو لانے کا کہا اگلے چند لمحوں میں شازل ڈاکٹر کے ساتھ موجود تھا اور اب ڈاکٹر امل کا معائنہ کر رہا تھا

” بخار بہت تیز ہے اس لیے یہ ہوش میں نہیں ہیں ۔۔ آپ کو بہت خیال رکھنا ہے ان کا ۔۔ ورنہ دماغ پر اثر بھی ہو سکتا ہے ۔۔ انجیکشن لگا دیا ہے انشاء اللہ جلدی اتر جائے گا بخار ۔۔ اور ان کے کھانے پینے کا خیال رکھیں ۔۔ کمزوری کی وجہ سے یہ حالت ہے ان کی ۔۔”

ڈاکٹر نے جاتے ہوئے اسے دوائیوں کی پرچی تھما دی جو عرش شاہ نے بے زاری سے تھام لی شازل عرش کی بے زاری محسوس کرتا افسوس سے اسے دیکھنے لگا

” شرم تو نہیں آ رہی ہوگی ۔۔ ایس پی صاحب آپ کو ۔۔ ؟؟”

شازل نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے طنز کیا تو عرش نے ماتھے پر بل ڈالے اسے سوالیہ نظروں سے گھورا

” کیا حال کیا ہے تم نے اس کا ۔۔ مانتا ہوں اس نے غلط کیا ہے تمہارے ساتھ ۔۔ مگر کب بدلا پورا ہوگا تمہارا ۔۔ ؟”

شازل نے کمبل میں لپٹی امل کی سمت اشارہ کرتے ہوئے عرش سے پوچھا

” بدلا ابھی میں نے لیا کہاں ہے ۔۔ الٹا میرے گلے پڑ گئی ہے یہ ۔۔ میرے ماں باپ سیدھے منہ بات نہیں کر رہے مجھ سے ۔۔ میری بیوی اذیت میں ہے میری وجہ سے ۔۔ دل چاہ رہا ہے ختم کر دوں اس فساد کی جڑ کو ۔۔ “

وہ اپنے لہجے میں دنیا جہان کی بے زاری لیے گویا ہوا

” عرش زیادتی کر رہا ہے یہ تو ۔۔ ایک بیوی سے اتنا پیار اور دوسری کے ساتھ ایسا سلوک ۔۔ تو اکیلا چھوڑ کر کیوں گیا ۔۔ تمہیں شرم نہیں آتی ایسی حرکت کرتے ہوئے ۔۔ جو بھی ہے مگر اب یہ تمہاری بیوی ہے ۔۔ اسے محبت نہ سہی ۔۔ کم از کم انسان تو سمجھ ۔۔ “

شازل سر ہلاتا بول رہا تھا

” صحیح کہا تم نے امل بیوی ہے میری ۔۔ اور جو اس نے کیا ہے اس کی سزا دینے کا بھی پھر مجھے حق ہے ۔۔ کچھ ظلم نہیں کر رہا میں اس کے ساتھ ۔۔ یہ صرف اپنا کیا بھگت رہی ہے ۔۔ “

عرش نے اپنا دامن بچایا

” میرے خیال سے اتنی سزا کافی تھی ۔۔ پلیز اسے بیوی صرف کہو مت سمجھو بھی ۔۔ کیا معلوم تمہارے دوسرے نکاح میں خدا کی کوئی مصلحت ہو ۔۔ “

شازل نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

” شازل تم جا سکتے ہو اب ۔۔ “

وہ دروازے کی جانب اشارہ کرتا بولا تو شازل نے عرش کا جذبات سے عاری چہرہ دیکھا اور غصے میں کہتا گھر سے چلا گیا

” جا ہی رہا ہوں میں ۔۔ “

شازل کے جا ے کے بعد عرش نے باہر کا دروازہ لاک کیا اور دوبارہ امل کی سمت بڑھا

اور پھر اگلے دن وہ سو کر اٹھا تو امل کو دیکھنے دوسرے کمرے میں آیا وہ ابھی بھی سو رہی تھی ماتھا چھو کر دیکھا تو بخار اتر چکا تھا

اپنے لیے چائے بنانے کے بعد اس نے ٹوز سینکے اور پلیٹ میں نکال کر ناشتہ کرنے لگا تو بے اختیار امل کا خیال آیا ٹرے اٹھا کر امل کے پاس آیا اور ٹیبل پر رکھ کر اسے جگانے لگا

” امل ۔۔ آنکھیں کھولو ۔۔ !”

امل کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر وہ اسے پکار رہا تھا امل نے تھوڑی سی آنکھیں وا کیں اور اپنے سامنے عرش کو دیکھ کر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے عرش کے بغیر یہ دن اس نے اس تنہائی میں کیسے گزارے تھے یہ وہی جانتی تھی

عرش نے اسے سہارا دے کر بیٹھایا اور بریڈ کے چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر اسے کھلانے لگا جبکہ امل بھی دو دن سے بھوکی تھی عرش کی اس عنایت پر خاموش رہی اور آہستہ آہستہ کھاتہ رہی پھر عرش نے اسے چائے کا کپ پکڑایا جو امل نے کچھ بھی کہے بغیر لبوں سے لگا لی اور گھونٹ بھرنے لگی

” تھینک یو ۔۔ !”

وہ واپس جانے کو مڑا تھا جب امل کی مدھم آواز میں بولے گئے الفاظ نے اسے مڑنے پر مجبور کیا

” زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ مجھے تم سے کوئی ہمدردی نہیں ہے ۔۔ بلکہ مجھے تم سے بے انتہا نفرت ہے ۔۔ بلکہ ہر اس چیز سے نفرت ہے جو مریم کی اذیت کی وجہ بنے ۔۔ مجھے تو اب خود سے بھی نفرت ہونے لگی ہے ۔۔ صرف تمہاری وجہ سے ۔۔ “

عرش کے لہجے میں کیا کچھ نہ تھا ہتک ، نفرت ، بیزاری ، امل نے دکھ سے آنکھیں میچ لیں

” میرا بس چلے تو میں اپنے ہاتھوں سے تمہارا گلہ گھونٹ دوں ۔۔ “

جاتے جاتے وہ اپنے الفاظ کے تیر امل کے سینے میں گھونپ کر گیا تھا پیچھے وہ بے آواز رونے لگی اسے ہر گزرتے لمحہ اپنی غلطیوں کا احساس دلا رہا تھا

///////////////////////////