53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam (Episode 21)

Tere Sitam By Fatima

عرش شاہ عروہ کو لے کر ہوائی جہاز کے ذریعے ڈاکٹر اور نرس کی نگہداشت میں پاکستان پہنچا تھا اسے فوراً ہی ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا لیکن عروہ کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی تھی وہ ابھی بھی اپنی زندگی سے جنگ لڑ رہی تھی

بہت ہمت کر کے عرش شاہ نے ضامن اور حورین کو سارے حالات کی اطلاع دی تھی اس کی توقع کے عین مطابق عروہ کی حالت دیکھتے ہی ضامن شاہ کی حالت ابتر ہو گئی تھی جبکہ حورین اس شدت سے روئی تھی کہ سارے گھر والے منہ چھپا کر رونے لگے تھے

ہر کوئی بس عروہ کی زندگی کی دعا مانگ رہا تھا دوسری جانب لیزا کی مدد سے علی شاہ نے روحان کو بھاگنے سے پہلے پکڑ لیا تھا اور وہ عرش کے بتائے گئے پلین پر عمل کرتے ہوئے روحان کو پاکستان لانے میں کامیاب ہو چکے تھے اور اب روحان تھانے میں بند تھا

ضامن شاہ اور چھوٹی دادو کے اصرار پر عرش انہیں بھی اپنے ساتھ لے کر روحان کے پاس آیا تھا

میز کے ایک طرف روحان سپاٹ چہرے کے ساتھ موجود تھا جبکہ دوسری طرف چھوٹی دادو ان کے ساتھ ضامن شاہ بیٹھے تھے اور میز کے دوسری جانب عرش شاہ پولیس یونیفارم میں ملبوس براجمان تھا

” کیوں کیا تم نے روحان یہ سب ۔۔ عروہ کو بیچ میں کیوں لائے تم ۔۔ ؟ وہ معصوم تھی روحان ۔۔ مجھ سے مسلہ تھا نا تمہیں ؟؟ میں نے تمہاری بہن کو دھوکا دیا تھا نا ۔۔ میرے بدلے لیے ہے نا تم نے ۔۔ ؟؟ “

عرش کی آواز میں کیا کچھ نہیں تھا شرمندگی ، غصہ ، دکھ

” تم نے جو کیا وہ ایک طرف عرش شاہ ۔۔ تم دو شادیاں کرو یا چار ۔۔ تمہارے ساتھ رہنے کا فیصلہ مریم کا ہے ۔۔ اور وہ تو تمہاری پوجا کرتی ہے ۔۔ پتہ نہیں کیا ہے تم میں کہ ۔۔ میری بہن نے مجھ سے بات کرنا ہی چھوڑ دی ہے ۔۔

وہ کہتی ہے کہ ۔۔ میں تمہارے اور اس کے معاملات سے دور رہوں ۔۔ اگر میں نے تمہیں کوئی سخت لفظ بولا یا تمہاری توہین کی تو وہ زندگی بھر مجھ سے بات نہیں کرے گی ۔۔ پھر میں بھی تمہیں یہی کہتا ہوں عرش شاہ کہ یہ جو کچھ بھی ہوا وہ میرا اور میری بیوی کا معاملہ ہے ۔۔ غصے میں ہاتھ اٹھ ہی جاتا ہے ۔۔ “

وہ پر سکون تھا اس کا یہ انداز ضامن شاہ کو تکلیف دے رہا تھا

” روحان میری بیٹی زندگی اور موت کے درمیان کھڑی ہے ۔۔ اور تم کہہ رہے ہو ۔۔ غصے میں ہاتھ اٹھ جاتا ہے ۔۔ ؟؟”

ضامن شاہ شکست زدہ لہجے میں بولے تھے

” ماموں میں نہیں چاہتا تھا آپ کے سامنے یہ سب بولوں مگر ۔۔ میں سب معاملے میں اپنا دل بڑا نہیں کر سکتا تھا ۔۔ میں چاہ کر بھی عروہ کو معاف نہیں کر سکا ۔۔ “

روحان نے اپنی آواز ذرا سی دھیمی رکھی تھی شاید ضامن کا احترام تھا

” ایسا کیا کیا ہے ہماری بچی نے ۔۔ ہمیں بھی تو بتاؤ ۔۔ آخر اس کا یہ حال کیوں کیا تم نے ۔۔ “

چھوٹی دادو تو روحان کے چہرے پر شرمندگی ڈھونڈ رہی تھیں مگر وہ تو جیسے اپنے کسی عمل پر شرمندہ تھا ہی نہیں

” جس عورت کے دل میں کوئی غیر مرد ہو ۔۔ وہ اپنے شوہر کو کہاں کچھ سمجھتی ہے ۔۔ اب میں بھی عروہ کے لیے اپنے دل میں گنجائش نہیں رکھتا ۔۔ “

وہ اس مرتبہ چھوٹی دادو کو دیکھ کر بولا تھا

” روحان ۔۔ تم میری بہن پر الزام لگا رہے ہو ۔۔ میں اپنی بہن کو جانتا ہوں ۔۔ اس نے یہ رشتہ دل سے قبول کیا تھا ۔۔ “

عرش شاہ نے ضامن کی موجودگی کی وجہ سے خود پر ضبط کیا ہوا تھا ورنہ روحان جو باتیں کر رہا تھا عرش شاہ کا دل چاہ رہا تھا اس کی زبان کھینچ لے

” نہیں کیا تمہاری بہن نے مجھے قبول ۔۔ کبھی دل سے خوش نہیں ہوئی وہ میرے ساتھ ۔۔ “

روحان اس مرتبہ دھاڑا تھا

” تم نے کبھی اسے خوشی دی ہے روحان ۔۔ بتاؤ ۔۔ ؟؟ اس کے وجود پر تمہارے دیے گئے زخم اس بات کے گواہ ہیں کہ تم نے اسے کتنا خوش رکھا ہے ۔۔ “

عرش شاہ کا لہجہ بے حد دکھی تھا ضامن شاہ بس خاموش ہو گئے تھے

” تمہاری بہن ایک بد کردار لڑکی ہے عرش شاہ ۔۔ تمہاری بہن اس قابل ہی نہیں تھی کہ وہ گھر بسا سکے ۔۔ جو لڑکی اپنے دل میں عاشق رکھتی ہو وہ میرے لیے سب سے بڑی اذیت تھی ۔۔ “

عرش کی بات روحان کو آگ لگا گئی تھی وہ ضامن شاہ کا لحاظ کیے بغیر زہر اگل رہا تھا

” روحان ۔۔ خبردار اگر میری معصوم بہن کے لیے ایسا کوئی لفظ استعمال کیا تم نے ۔۔ میں تمہاری جان لے لوں گا ۔۔ “

عرش شاہ اٹھ کھڑا ہوا تھا اور غصے سے دھاڑا تھا

” تمہاری بہن ایک بد کردار لڑکی ہے ۔۔ میں نے جو بھی اس کے ساتھ کیا مجھے اس کا کوئی افسوس نہیں ۔۔ “

روحان پھر بے خوف ہو کر بولا تھا

” خاموش ہو جا بے غیرت ۔۔ میں تیری زبان نکال لوں گا “

عرش شاہ کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا تھا اور اس نے روحان کے منہ پر زوردار تماچہ رسید کیا تھا

” عرش ۔۔ پیچھے ہو جاؤ ۔۔ “

ضامن شاہ نے عرش شاہ کو مضبوطی سے پکڑ کر پیچھے کیا تھا

” میری بیٹی ایسی نہیں ہے روحان ۔۔ “

ضامن شاہ نے ٹوٹے ہوئے انداز میں کہا تھا

” سوری ٹو سے ماموں ۔۔ کسی باپ کو اپنی بیٹی بدکردار نہیں لگتی ۔۔ “

روحان ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے گویا ہوا

” جسٹ شٹ اپ ۔۔ خبردار اگر اب میری بیٹی کے بارے میں کچھ کہا تم نے ۔۔ زبان کھینچ لوں گا میں تمہاری ۔۔ “

انہوں نے روحان کا گریبان پکڑ لیا تھا اور غصے میں کانپتے غرائے تھے

” آپ نے ہم دونوں بہن بھائی کو سہارا دینے کا قرض بہت بڑا لیا ہے ماموں ۔۔ اپنی بدکردار بیٹی میرے پلے باندھ کر ۔۔ اور میری بہن کی کمی کا فائدہ اٹھا کر اپنے بیٹے کی دوسری شادی کو کروا کر تاکہ آپ کی نسل آگے بڑھ سکے ۔۔ ظلم تو آپ نے مجھ پر اور میری بہن پر کیا ہے ۔۔ “

روحان پھر سے بولا تھا جب ضامن شاہ بھی پھر سے دھاڑے تھے

” بکواس بند کرو روحان ۔۔ “

” تمہیں اندازہ بھی ہے ۔۔ تم یہ سب کیا کہہ رہے ہو ۔۔ جانتے بھی ہو تم ۔۔ ضامن نے کس وقت تمہیں اور تمہاری بہن کو سہارا دیا تھا ۔۔ “

پھوپھو ہر لحاظ بالائے طاق رکھ کر بولیں تھیں مزید روحان کی باتیں ان سے برداشت نہیں ہو رہی تھیں

” پھوپھو پلیز ۔۔ “

ضامن شاہ نے انہیں بولنے سے روکا تھا مگر وہ انہیں خاموش کرواتی دوبارہ بولیں

” مجھے آج بولنے دو ضامن ۔۔ تم واقعی ہماری پھولوں جیسی بیٹی کے قابل نہیں تھے روحان ۔۔ تم ایک احسان فراموش آدمی ہو ۔۔ جس نے تمہیں اور تمہاری بہن کو دلدل سے نکالا ۔۔

دنیا سے تمہاری عاصم کے بیٹے ہونے کی پہچان چھپا کر تمہیں شرمندگی اور احساس کمتری کی زندگی دینے سے بچانے کے لیے ضامن نے تمہیں اس ملک سے باہر بھیج دیا ۔۔ تاکہ تم لوگوں کی کڑوی باتوں سے بچ سکو ۔۔ ایک قابل انسان بن سکو ۔۔

اور مریم کو اس کا سگا باپ بھی اتنی محبت اور شفقت نہ دے پاتا جتنی علی نے اور ضامن نے دی ۔۔ اور اس سب کے باوجود آج بھی تم اور تمہاری بہن لوگوں کی نظروں میں مظلوم ہیں ۔۔

میں تمہیں بتاؤں اصل میں مظلوم کون ہے ۔۔ ؟”

چھوٹی دادو لمحے بھر کے لیے خاموش ہوئی تھیں

” پلیز پھوپھو ۔۔ وہ سب مت دہرائیں ۔۔ میں نے جو کچھ روحان اور مریم کے لیے کیا وہ کوئی احسان نہیں تھا ان دونوں پر ۔۔ بلکہ میرا فرض تھا ۔۔ “

عرش بلکل خاموش ہو گیا تھا جبکہ ضامن شاہ پھوپھو کو خاموش کرواتے ہوئے دھیرے سے بولے

” تم چپ رہو ضامن ۔۔ آج میں بتاتی ہوں اصل میں ظلم ہوا کس پر ہے ۔۔ اور مظلوم ہے کون ۔۔ اصل میں ظلم بیہ پر ہوا تھا ۔۔ تمہاری ماں پر ۔۔ جس کی زندگی تمہارے باپ نے برباد کر دی تھی ۔۔

اصل میں مظلوم میرا بھائی تھا ۔۔ جس نے بیٹی کو لٹی پٹی حالت میں دیکھا تھا اور زندگی کی بازی ہار گیا تھا ۔۔

اصل میں مظلوم ضامن اور اس کی ماں تھے جو بے سہارا ہو گئے تھے ۔۔ اصل میں مظلوم حورین تھی ۔۔ جس نے ظلم سہا تھا بے قصور ہوتے ہوئے ۔۔ اور جانتے ہو اس سب سے بھی زیادہ مظلوم اس وقت وہ ہسپتال میں پڑی بچی ہے جس نے باپ کے فیصلے پر سر جھکا کر تمہارے ساتھ نکاح کیا ۔۔

تم اور تمہاری بہن پر ایک بھی زیادتی ہم نے نہیں کی ۔۔ اگر گلہ کرنا ہے تو خدا سے کرو جس نے تمہیں عاصم جیسے باپ کی اولاد پیدا کیا ۔۔ جس نے تمہاری ماں چھین لی ۔۔ نعوذباللہ ۔۔ “

وہ غصے اور غم کی کیفیت میں بولی تھیں کہ بولتے بولتے عمر کے تقاضے کے باعث ہانپ گئیں

” چھوٹی دادو پلیز سنبھالیں خود کو ۔۔ !”

عرش نے انہیں اپنے ساتھ لگایا تھا

” آج کہہ لینے دو مجھے عرش ۔۔ پتہ نہیں آئیندہ زندگی اتنی مہلت دیتی ہے یا نہیں ۔۔ کیونکہ تم ، تمہاری ماں یا تمہارا بات تو کبھی بھی یہ سب نہیں بولیں گے ۔۔ “

انہوں نے عرش کی جانب دیکھتے ہوئے کہا اور پھر نگاہوں کا رخ روحان کی جانب کیا

” کیا کہہ رہے تھے تم ۔۔ کہ ضامن نے تم اور تمہاری بہن پر ظلم کیا ہے ۔۔ ؟ کیا ظلم کیا ہے ذرا ہمیں بھی تو بتاؤ ۔۔ تمہیں پڑھا لکھا کر ایک قابل آدمی بنا کر ؟؟ یا تمہیں اپنی شہزادیوں جیسی بیٹی دے کر ظلم کیا ہے ۔۔ یا پھر تمہاری بہن کی بہترین کفالت کر کے ظلم کیا ہے یا اپنے قابل ہونہار بیٹے سے اس کی شادی کر کے جو دن رات مریم کو پلکوں پہ سجا کر رکھتا ہے ۔۔

ہم سب مانتے ہیں عرش نے امل سے نکاح کر کے غلطی کی ہے ۔۔ مگر تم مجھے یہ بتاؤ اس کے بعد کیا تمہاری بہن کو گھر سے نکال دیا ہم سب نے یا عرش نے ۔۔ بلکہ عرش کی اس زیادتی کے بعد ضامن اور حورین نے مریم کو مزید ہاتھ کا چھالا بنا لیا ہے

وہ کبھی ماں نہیں بن سکتی مگر آج تک ان چار سالوں میں عرش نے یا حورین نے اسے اس کی اس کمی کا احساس بھی نہ ہونے دیا ۔۔

تم جیسا بے حس آدمی اولاد کی کمی کیا محسوس کرے گا جس نے اپنی اولاد اپنے ہاتھوں سے مار دی ۔۔ جو ہمیشہ کے لیے اپنی بیوی کی گود اجاڑ چکا ہے ۔۔

مگر عرش میں احساس ہے ۔۔ اس کی شاید مریم سے بھی زیادہ خوائش تھی اولاد کی ۔۔ مجھے آج بھی یاد ہے وہ ہمیشہ سے آ کر اکیلے میں مجھ سے اور اپنی ماں سے کہتا تھا

دادو پلیز دعا کیا کریں نا خدا مجھے اور مریم کو اولاد دی دے ۔۔ چاہے ایک ہی دیدے ۔۔ مگر دیدے ۔۔ لیکن جب سے اس نے یہ سنا ہے کہ مریم ماں نہیں بن سکتی تب سے عرش کی زبان سے پھر کبھی میں نے اس بارے میں کوئی بات نہیں سنی ۔۔

ذرا اپنی بہن سے پوچھو آج تک پہلے علی اور رامین کے گھر پر اور پھر شادی کے بعد ضامن اور حورین نے اسے اپنی اولاد سے بھی بڑھ کر پیار دیا ہے ۔۔ میں نے رامین اور حورین میں مریم کے لیے ماں کی تڑپ محسوس کی ہے ۔۔ اور تم کہتے ہو کہ تم اور تمہاری بہن مظلوم ہیں ۔۔ “

وہ پھر بولتے ہوئے رکی تھیں اور ایک نظر خاموش بیٹھے سر جھکائے آنسو چھپاتے باپ بیٹے کو دیکھا اور دوسری نگاہ روحان کے بے تاثر چہرے کو دیکھا

” علی اور رامین نے امل کو دوسرے نمبر پر رکھ دیا سگی اولاد ہونے کے باوجود تاکہ مریم کے دل میں احساس نہ جائے کہ اس کے ماں باپ نہیں ہیں یا اس کا کوئی نہیں ہے ۔۔ اور پھر بھی اگر شکوہ شکایت کرنی ہے تو کرو خدا سے ۔۔ کیونکہ ہم سب نے تو ہمیشہ تمہیں اور مریم کو بیہ کی اولاد کی وجہ سے محبت دی عزت دی ۔۔ مگر تم لوگ تو پھر بھی مظلوم بن رہے ہو ۔۔

ارے ظلم تو عروہ پر ہوا ہے جس کی گود تم نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اجاڑ دی ۔۔ خدا تمہیں پوچھے ۔۔ “

عروہ کا ذکر کرتے وہ پھر سے رو پڑی تھیں

” پلیز چھوٹی دادو چلیں یہاں سے ۔۔ “

ان کو شدت سے روتا دیکھ کر عرش انہیں سنبھالتا کمرے سے نکل گیا جبکہ ضامن شاہ کے کاندھے پر بوجھ مزید بڑھا تھا جس بھانجے کے لیے انہوں نے ہمیشہ اچھا سوچا اور کیا تھا آج وہ انہیں ظالم کہہ رہا تھا وہ شکست زدہ سے وہاں سے اٹھ گئے

/////////////////////

” عرش میری بیٹی کے ساتھ یہ سب کیوں ہوا ۔۔ ؟ عرش میں نے تو کبھی کسی کی بیٹی کا برا نہیں سوچا ۔۔ پھر میری بیٹی کے ساتھ اتنا برا کیسے ہو گیا ۔۔ “

حورین تو سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھیں عرش کے سینے سے لگیں وہ تڑپ کر پوچھ رہی تھیں وہ سب اس وقت ہسپتال میں موجود تھے عروہ ہنوز ایک ہفتے سے کومے میں تھی

” خدا بیڑا غرق کرے اس کا ۔۔ جس نے ہماری بچی کو ان نوبتوں تک پہنچا دیا ہے ۔۔ ہماری پھول سی بچی تھی ۔۔ کیا حال کر دیا ہے ۔۔ “

چھوٹی دادو بولتے ہوئے سسک اٹھیں

” پھوپھو ۔۔ اس نے کس چیز کا بدلہ لیا ہے میری بچی سے ۔۔ میری بیٹی نے کسی کا کیا بگاڑا تھا ۔۔ اتنا ظلم کوئی کیسے کر سکتا ہے پھوپھو ۔۔ “

حورین تو اپنی بیٹی کے زخمی وجود پر ہی تڑپ رہیں تھی اور جب سے معلوم ہوا تھا کہ عروہ نے اپنا بچہ کھویا ہے اور اب وہ کبھی بھی ماں نہیں بن سکتی تب سے تو جیسے انہیں صبر ہی نہیں آ رہا

” خدا پوچھے اس ظالم اور گھٹیا شخص سے ۔۔ ہماری بچی سے پتہ نہیں کون سی دشمنی نکالی ہے اس نے ۔۔ “

پھوپھو کا دل تو پھٹا جا رہا تھا وہ جب سے روحان کی باتیں سن کر آئی تھیں جو بیہ کی وجہ سے ان کے دل میں روحان کے لیے گنجائش تھی وہ روحان کی باتیں سن کر ختم ہو چکی تھی

پاس بیٹھی رامین میں تو کچھ بولنے کی ہمت ہی نہیں تھی وہ تو بے آواز رو رہی تھیں

” ضامن آپ نے دیکھا نا ۔۔ میں آپ کے فیصلے پر کچھ نہیں بولی تھی ۔۔ میں جانتی تھی آپ بیہ آپی کی محبت میں کچھ بھی کریں گے اپنی بیٹی بھی ان کے بیٹے کو دیں گے ۔۔ مگر میں ماں تھی نا ۔۔ دل نہیں مان رہا تھا میرا ۔۔ کس بات کا بدلہ لیا کے اس نے ہماری بچی سے ۔۔ “

حورین سامنے خاموشی سے آنسو بہاتے ضامن شاہ کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھیں

” حورین میں اپنی بیٹی سے نظریں کیسے ملاؤں گا ۔۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی بیٹی کو اس کے حوالے کر دیا تھا ۔۔ “

ضامن شاہ کا لہجہ کانپ رہا تھا

” ڈیڈ پلیز ۔۔ “

عرش نے ضبط سے سرخ ہوئے چہرے اور آنکھوں سے اپنے ماں باپ کو دیکھا تھا

” عرش مجھے روحان کے پاس لے چلو ۔۔ مجھے اس سے پوچھنا ہے ۔۔ اس نے میری معصوم بیٹی کے ساتھ یہ سب کیوں کیا ۔۔ کیا اسے ذرا رحم نہیں آیا میری معصوم بچی پر

۔۔ “

حورین ، عرش کو بھیگی آنکھوں سے دیکھتی کہنے لگیں تو عرش نے تڑپ کر ماں کو دیکھا

” میں روحان کو نہیں چھوڑوں گا مام ۔۔ میں اس سے اپنی بہن کے ہر آنسو کا بدلہ لوں گا ۔۔ “

عرش شاہ کے لہجے میں چٹانوں جیسی سختی تھی وہ دنیا کو آگ لگا دینے کے در پہ تھا

” نہیں عرش یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے ۔۔ یہ سب مکافات ہے ۔۔ میں ہی اپنی بیٹی کا مجرم ہوں ۔۔ وہ اپنے باپ کے کیے کی سزا بھگت رہی ہے ۔۔ روحان تو محض بہانہ بنا ہے ۔۔ یہ سب تو میری سزا ہے ۔۔ “

ضامن شاہ کا بس نہیں چل رہا تھا وہ خود کو ختم ہی کر لیں

” بس کر جاؤ ضامن ۔۔ تم میں اور روحان میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔۔ تم ہمیشہ سے اپنے کیے پر نادم تھے ۔۔ خدا اتنا بے رحم نہیں ہے کہ کسی معصوم کو اس طرح باپ کے کیے کی سزا دے ۔۔ یہ ہم جیسے انسان ہیں جو اپنا کیا خدا پہ ڈال دیتے ہیں ۔۔ ہر کوئی اپنے عمل کا خود زمہ دار ہے ۔۔ تم نے جو کیا اس کے تم زمہ دار ہو ۔۔ جبکہ روحان نے جو کیا ۔۔ وہ خود اس کا زمہ دار ہے ۔۔ اب تم روحان کا کیا اپنے سر پر مت لو ۔۔ “

چھوٹی دادو ضامن کو نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے گویا ہوئی تھی

” نہیں پھوپھو ۔۔یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے ۔۔ میں نے چاہے حورین سے یا خدا سے جتنی چاہے معافی مانگی ہو مگر ظلم تو میں نے بھی کیا تھا ۔۔ بچہ تو حورین نے بھی اپنا کھویا تھا ۔۔ آج وہی سب میری بیٹی کے ساتھ ہوا ہے ۔۔ “

وہ روتے ہوئے بولے تھے

” ضامن مجھے تم سے اتنی ناامیدی کی امید نہیں تھی ۔۔ نعوذباللہ تم کیا خدا کی صفات پر شک کر رہے ہو ۔۔ جو ایسی باتیں کر رہے ہو ۔۔ “

” ہرگز نہیں پھوپھو “

” تو پھر تم یہ سب کیسے کہہ سکتے ہو ۔۔ کہ تمہارے کیے کی سزا تمہاری بیٹی کو ملی ہے ۔۔ ؟”

” دیکھو ضامن ۔۔ خدا بڑا رحیم کریم ہے ۔۔ وہ بخشنے والا ہے ۔۔ اس کو جو سچے دل سے معافی مانگے ۔۔ مگر تم نے اس روحان کی آنکھوں میں نہیں دیکھا ۔۔ کیا اس کے الفاظ اپنی بیٹی کے بارے میں نہیں سنے تھے ۔۔ کس طرح وہ ہماری معصوم بچی پر بہتان باندھ رہا تھا ۔۔ وہ اپنے کسی گناہ پر نادم نہیں تھا ۔۔ اسے اپنی کوئی غلطی نظر آ ہی نہیں رہی تھی ۔۔ وہ خود کو حق بجانب سمجھ رہا ہے ۔۔ اس کے نزدیک ہماری عروہ کی کوئی اوقات ہی نہیں ہے ۔۔ اسے تو عروہ کے جینے مرنے سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا ۔۔ “

وہ ضامن کو یاد کرواتی سمجھا رہی تھیں

” مجھے میری بچی بس صحیح چاہیے پھوپھو ۔۔ پلیز یہ باتیں نہ دہرائیں ۔۔ پلیز دعا کریں میری بچی کے لیے ۔۔ “

حورین تلخ باتوں سے بچتی انہیں خاموش کروا گئیں

” میری تو ہمت نہیں ہو رہی میں عروہ سے آنکھیں کیسے ملاؤں گا مام ۔۔ میں اپنی بہن کی حفاظت نہ کر سکا ۔۔ “

عرش کی آواز میں نمی تھی

” بھائی آپ سب پلیز ہمت کریں ۔۔ ہمیں مل کر عروہ کو سنبھالنا ہے ۔۔ اسے ہوش آئے گا تو سب خود کو مضبوط رکھیں گے ۔۔ “

اشعر نے عرش کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے سرخ ہوئی آنکھوں سے سب کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جبکہ اس کی بات پر خاموشی چھا گئی تھی

///////////////////////

” عرش تم جاؤ بیٹا گھر ۔۔ مریم کے پاس ۔۔ اس کو دیکھو جا کر ۔۔ اسے بخار تھا رات سے ۔۔ “

ضامن شاہ نے رونے کے باعث بھاری ہوئی آواز سے کہا تھا

” ہمم جاؤ ۔۔ “

حورین نے بھی عرش کے کاندھے سے سر اٹھا کر کہا وہ دیکھ رہی تھیں عرش کتنے دنوں سے عروہ کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا تھا اور دو دن سے تو وہ گھر بھی نہیں گیا تھا اس کی تو نیند بھی پوری نہیں ہوئی تھی

” عرش ، مریم اور تمہارے رشتے پر اس سارے معاملے کی ذرا سی بھی تپش نہیں آنی چاہیے ۔۔ اگر عروہ کی وجہ سے تم نے مریم سے ذرا سی اونچی آواز میں بھی بات کی نا تو پھر مجھے باپ نہ کہنا ۔۔ “

ضامن شاہ نے عرش کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے زومعنی انداز میں کہا ان کے انداز میں سختی تھی جبکہ عرش نے اثبات میں سر ہلایا

” ضامن ، حورین ہمدردی کا بھوت ابھی تم دونوں کے سر سے اترا نہیں ؟؟ دیکھا نہیں اس کے بھائی نے کیا حال کیا ہماری معصوم بچی کا ۔۔ پہلے اس کے باپ نے ہماری بیہ کو برباد کیا تھا اب اس کے بیٹے نے ہماری عروہ کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے ۔۔ “

پھوپھو غصے اور غم میں بول رہی تھیں

” خدا کا واسطہ ہے پھوپھو ایسی باتیں نہیں کریں ۔۔ خاص طور پر عرش کے دماغ میں یہ باتیں نہ ڈالیں ۔۔ پہلے ہی میں اپنی زندگی میں ایک کی خاطر دوسرے بے قصور کو سزا دے چکا ہوں ۔۔ میں نہیں چاہتا ۔۔ میرا بیٹا بھی وہی سب کرے ۔۔ مریم صرف ہماری بہو ہی نہیں بیٹی بھی ہے ۔۔ عرش یہ بات یاد رکھنا بیٹا ہر رشتے کو اس کی جگہ رکھنا ہے تم نے ۔۔ اور ویسے بھی عروہ کے ساتھ جو ہوا اس میں میری غلطیاں تھیں اور کچھ خدا نے سزا دی مجھے “

ضامن شاہ چھوٹی دادو کے سامنے ہاتھ جوڑتے بولے تھے آخر میں ان کے لہجے میں ندامت گھل گئی تھی

” ضامن پلیز ۔۔ ایسے نہیں بولیں ۔۔ خدا بہت بے نیاز ہے ۔۔ وہ بڑا رحم کرنے والا ہے کرم کرنے والا ہے ۔۔ جو کچھ آپ نے کیا میں نے آپ کو معاف کر دیا تھا کیوں کہ آپ میں انسانیت تھی وقتی طور پر آپ غصے میں تھے مگر آپ میں احساس تھا ۔۔ آپ میرے لیے مرہم بھی تھے ۔۔ مگر روحان نے جو کیا وہ نا قابل برداشت ہے ۔۔ اس نے پلٹ کر میری بچی کو نہیں پوچھا ۔۔ اس نے تو اسے بچانے کی کوشش ہی نہیں کی تھی بلکہ وہ تو اسے مار دینا چاہتا تھا ۔۔ “

وہ کہتے کہتے آخر میں رو پڑی تھیں

” حورین بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے ضامن ۔۔ تم میں اور روحان میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔۔ اور میں کون سا مریم کے لیے کچھ غلط کہہ رہی ہوں ۔۔ تم لوگ سمجھتے ہو کیا مجھے وہ پیاری نہیں ہے ۔۔ ؟؟ ارے مجھے اس کے باپ اور بھائی سے چاہے جتنے شکوے ہوں ۔۔ مگر وہ بچی بھی تو عروہ کی طرح بے قصور ہے ۔۔ بس خدا ہماری دونوں بچیوں کو اب آزمائش سے نکال دے ۔۔ “

وہ آبدیدہ ہو رہی تھیں جبکہ

اس سب میں عرش نے اذیت سے آنکھیں بند کی تھیں

////////////////////////