53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam (Episode 17)

Tere Sitam By Fatima

” روحان ۔۔ ؟؟؟ کون روحان ۔۔؟اوہ ۔۔۔ ! “

وہ کانچ ڈسٹ بن میں پھینک کر کچن کی جانب بڑھی مگر دماغ میں مسلسل عرش شاہ کی باتیں گردش کر رہی تھیں وہ بری طرح الجھی ہوئی تھی روحان کون ہے ایک منٹ میں اسے سمجھ آ گئی تھی کہ عرش کس روحان کی بات کر رہا ہے مگر اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ روحان کا نکاح عروہ کے ساتھ کیسے ہو سکتا ہے

” یہ اتنے سال بعد روحان پاکستان کیوں آیا ہے ۔۔ ؟ اور اگر آ بھی گیا تو عروہ سے نکاح ۔۔ ؟؟ اور اشعل ۔۔ میرا بھائی ۔۔ وہ تو عروہ کو بہت چاہتا تھا اور عروہ ۔۔ ؟؟ کیسے ہو گیا یہ سب ۔۔؟ عرش کے کہنے کا مطلب کیا تھا ۔۔ میرے اور عرش کے نکاح کی وجہ سے روحان نے عروہ سے نکاح کیا ۔۔ ایسا کیوں کیا اس نے ۔۔ ؟؟ اور اشعل کیسا ہو گا ۔۔ ؟”

وہ بڑبڑاتے ہوئے کچن میں ہی ٹہلنے لگی تھی

” کس سے معلوم کروں ساری بات ۔۔ ؟ کوئی میرا فون اٹینڈ ہی نہیں کرتا ۔۔ چھوٹی دادو ۔۔ ہاں انہیں فون کرتی ہوں ۔۔ “

وہ چھوٹی دادو کا خیال آتے ہی اپنے کمرے کی سمت بڑھی

موبائل پر ان کا نمبر ڈائل کر کے وہ کال پک کرنے کا انتظار کرنے لگی

” ہیلو کون ۔۔ ؟ “

سپیکر سے چھوٹی دادو کی آواز ابھری تو امل نے گہرا سانس لیا

” چھوٹی دادو ۔۔ “

اتنے دن کی تنہائی کاٹنے کے بعد کسی اپنے کی آواز سن کر خودبخود اس کی آواز میں نمی آ گئی

” امل ۔۔ میری بچی ۔۔ “

چھوٹی دادو امل کی نمی میں بھیگی آواز سن کر تڑپ گئیں

” دادو ۔۔ “

وہ انہیں پکارتی رو پڑی

” ہائے دادی صدقے ۔۔ میری بچی کیوں رو رہی ہے ۔۔ “

وہ بہت نرمی اور بہت محبت سے بولیں

” دادو ۔۔ آپ سب کی بہت یاد آتی ہے ۔۔ “

وہ روتے ہوئے بولی

” تو میرا بچہ آ جاؤ نا ۔۔ عرش سے بولو تمہیں بھی ساتھ لایا کرے حویلی ۔۔ اکیلی بیوی کو کیوں چھوڑ کر آتا ہے ۔۔ “

وہ اس کی بھیگی آواز سن کر بولیں

” دادو یہ سب چھوڑیں ۔۔ آپ مجھے یہ بتائیں کہ ۔۔ روحان کیوں آ گیا اچانک پاکستان ۔۔ اور عروہ سے شادی ۔۔ ؟ حورین خالہ نے یہ سب کیسے ہونے دیا ۔۔ ؟ عروہ اور روحان کا میچ نہیں بنتا ۔۔ اور عرش شاہ نے کیسے ہونے دیا یہ سب ۔۔ ؟”

وہ آنسو پونچھتی لہجے میں حیرت اور تجسس لیے پوچھ رہی تھی دوسری جانب چھوٹی دادو نے سرد آہ بھری

” خدا پوچھے اس روحان کو ۔۔ امل اس نے ہم سب کو آٹھ آٹھ آنسو رلایا ہے ۔۔ میرا ضامن بڑی اذیت میں ہے ۔۔ اور حورین ۔۔ وہ تو بیٹی کی جدائی میں گھلتی رہتی ہے ۔۔ سارا گھر عروہ کی فکر میں ہے ۔۔ جانے ہماری بچی کو کہاں لے کر گیا ہے وہ ۔۔ “

دادو کی آواز اور لہجے میں دکھ بول رہا تھا جبکہ ان کی بات سن کر امل کو مزید پریشانی ہوئی

” کیا مطلب دادو ۔۔ ؟ کہاں لے کر گیا ۔۔ “

وہ حیرت زدہ سی پوچھ رہی تھی

” کچھ معلوم نہیں بیٹا ۔۔ عرش دن رات ایک کر رہا ہے ۔۔ مگر کچھ پتہ نہیں چل رہا ۔۔ “

مزید ان سے بولا نہ گیا اور وہ رو پڑیں

” دادو ۔۔ آپ سب مریم سے بولیں نا کہ وہ روحان سے پوچھے ۔۔ کہ عروہ کہاں ہے ۔۔ “

وہ بھی پریشانی سے بولی تھی

” ارے کچھ نہیں معلوم مریم کو ۔۔ وہ بچی تو خود نظریں چرائے پھرتی ہے ۔۔ “

چھوٹی دادو کی بات سن کر وہ خاموش ہو گئی تھی پھر چند مزید باتوں کے بعد گفتگو تمام ہوئی

/////////////////////

عروہ کے جانے سے شاہ حویلی میں ایسی اداسی تھی کہ بھری ہوئی حویلی میں ہر کوئی خاموش رہتا تھا ضرورت کے تحت ایک دوسرے کو مخاطب کیا جاتا تھا ضامن شاہ زیادہ وقت گھر پر رہتا مگر گھر والوں سے پردہ پوش سٹڈی روم میں ، حورین کو کسی کی تسلی بھی چین نہیں لینے دے رہی تھی رامین اور مریم کی بارہا کوششوں کے باوجود وہ زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں گزارتی ، اشعر ، غم و غصّے کی کیفیت میں تھا جس کی وہ چھوٹی بہن کے ساتھ ساتھ دوست بھی تھی علی اور چھوٹی دادو بھی روز آتے مگر پھر خاموشی سے واپس مڑ جاتے اشعل ہر روز عروہ کا پتہ لگانے نکلتا مگر جانے وہ کہاں تھی وہ روز ناامید لوٹتا تھا نہ کھانے پینے کا ہوش نہ دنیا کے کسی کال کا اسے ہوش تھا رامین بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر الگ پریشان تھیں

” عروہ ایک بار آ جاؤ پلیز ۔۔ دیکھو تمہاری بات مانی تھی میں نے ۔۔ اپنی محبت کو دل میں دفن کر دیا تھا کہ جیسے تم خوش رہو ۔۔ کیوں کہ میری محبت تمہارے بابا کی محبت کے آڑے آ رہی تھی ۔۔ پھر کھو کیوں گئی ہو تم ۔۔ پلیز آ جاؤ ۔۔ میرے مالک عروہ کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا ۔۔ “

وہ دعا مانگتے ہوئے بچوں کی طرح رو رہا تھا اسے اطراف کی کوئی پروا نہیں تھی آس پاس کے نمازی اسے حیرت سے روتا بلکتا دیکھتے تھے

” حورین خالہ اور ضامن انکل کی خاطر ہی آ جاؤ ۔۔ یا خدا عروہ کی حفاظت کرنا ۔۔ اسے میری عمر بھی لگے ۔۔ بس وہ آ جائے ۔۔ “

وہ روتے ہوئے مسلسل عروہ کی حفاظت کی دعائیں مانگ رہا تھا

//////////////////////

وہ جب کمرے میں آئے تو حورین کی رونے کی آواز سن کر اس کی جانب لپکے

” حورین ۔۔ پلیز ۔۔ “

بیڈ پر حورین کے روبرو بیٹھتے ہوئے انہوں نے انہیں خود میں بھینچ لیا

” ضامن ۔۔ ضامن میری بیٹی ۔۔ “

ان کے سینے سے لگی وہ مزید شدت سے رو پڑیں

” حورین میری جان ۔۔ پلیز ایسے مت کرو ۔۔”

وہ تڑپ کر بولے تھے بیٹی کی یاد اور فکر کے ساتھ انہیں ندامت کا احساس تھا اس وقت سے جب حورین کی نگاہیں انہیں عروہ اور روحان کے نکاح سے روک رہی تھیں مگر وہ اپنے بھانجے کے پیار میں نظر انداز کر گئے

” ضامن مجھے میری بیٹی لا دیں ۔۔ پلیز ۔۔ پتہ نہیں وہ کہاں ہے ۔۔ مجھے اپنی بیٹی سے ملنا ہے ۔۔ پلیز کچھ کریں نا آپ ۔۔ “وہ بچوں کی طرح ضد کرنے کے انداز میں بولیں

” عرش نے کہا ہے نا وہ ڈھونڈ رہا ہے ۔۔ بہت جلد ہم ملیں گے اپنی بیٹی سے ۔۔ “

انہوں نے خود کو رونے سے روکتے ہوئے حورین کو تسلی دی

” پتہ نہیں کیسی ہو گی میری معصوم بچی ۔۔ کس حال میں ہو گی ۔۔ مجھے بہت برے برے خواب آتے ہیں ضامن ۔۔ وہ تکلیف میں ہے یہ میرا دل کہہ رہا ہے ماں کا دل جھوٹ نہیں کہتا ۔۔ وہ ہمیں پکارتی ہے ۔۔ پلیز اسے لے آئیں ۔۔ دیکھیں کتنے دن ہو گئے اسے گئے ہوئے ۔۔ واپس لا دیں میری بچی ۔۔ “

وہ ان کا ہاتھ پکڑتی روتے ہوئے التجا کرنے لگیں

” سب ٹھیک ہے حورین وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہے ۔۔ “

بے ساختہ ان کی زبان سے نکلا تھا مگر اپنی بات پر وہ خود ہی جھکا سر مزید جھکا گئے تھے

” مگر کوئی ایسے کرتا ہے ۔۔ وہ ہم سب سے دور کیوں لے کر گیا ہے عروہ کو ۔۔ میری بچی کبھی ہمارے بغیر نہیں رہی ضامن ۔۔ کچھ کریں مجھے میری بیٹی چاہیے ۔۔ عرش کو بولیں نا ۔۔ آپ دونوں باپ بیٹا کچھ کر کیوں نہیں رہے ہیں ۔۔”

وہ اس مرتبہ تیز آواز میں بکھرے ہوئے انداز میں غرائی تھیں

” یہ سب مکافات عمل ہے حورین ۔۔ میرے گناہوں کا کفارہ ہے ۔۔ جو میری بیٹی مجھ سے دور ہے ۔۔ چاچی تمہاری گمشدگی پر کتنا تڑپی ہوں گی روئی ہوں گی تمہارے ساتھ جو کیا میں نے کہیں آج میری بیٹی ۔۔ ..!”

حورین نے ان کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر انہیں بات مکمل کرنے سے روک دیا اور نفی میں سر ہلانے لگیں

” ایسا نہیں ہے ضامن ۔۔ پلیز خود کو قصوروار مت ٹھہرائیں ۔۔ “

وہ ان کے گلے لگ کر آواز میں نمی لیے بولی تھیں

” حورین میری بچی کو اگر کچھ ہوا تو میں جی نہیں پاؤں گا ۔۔ “

” کچھ نہیں ہو گا ہماری بیٹی کو ۔۔ “

وہ ان کے سینے سے لگیں انہیں تسلی دیتی رہیں

////////////////////////

دن بدن اس کی آنکھوں کی ویرانی بڑھ رہی تھی اس کی طبیعت گرتی جا رہی تھی رنگت زرد ہو گئی تھی مگر نہ روحان کو اس سے کوئی ہمدردی تھی اور نہ اسے خود اپنی فکر تھی صبح ہوتی تو وہ روبوٹ کی طرح اٹھ کر روحان کے لیے ناشتہ بناتی ، ضامن اور عرش نے تو اسے ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھا ہوا تھا اسے گھر کے کام کرنے کچھ خاص آتے نہیں تھے اس بات کی روحان نے اسے سہی سزا دی تھی

عروہ جانتی تھی یا اس کا خدا کہ اس نے سارے کام کیسے سیکھے روحان زرا سی غلطی پر اسے بری طرح مارتا تھا کیونکہ عروہ کی سب سے بری بات جو اسے لگتی تھی وہ روحان سے ڈرتی نہیں تھی وہ مارتے ہوئے کا ہاتھ تو نہیں روک پاتی تھی مگر اس کی باتیں روحان کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی تھیں مگر وہ بے حس بن جاتا

عروہ کا نگاہیں نہ جھکانا اسے آگے سے کوئی جواب نہ دینا ہی اسے طیش دلاتا تھا وہ جتنا اسے خوفزدہ کرنا چاہتا کہ وہ ہر شب اسے نئے طریقے سے اذیت دیتا مگر وہ صبح اسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کی تمام کوششیں ناکام بنا دیتی

وہ فرش پر بیٹھی اپنے ہاتھوں کو غور سے دیکھ رہی تھی جن پر آج صبح ہی وہ تاذہ زخم دے کر گیا تھا بات صرف اتنی تھی کہ اس نے صبح دیر سے ناشتہ بنایا تھا وجہ یہ تھی کہ کچھ دن سے وہ اتنی کمزور ہو رہی تھی کہ آج صبح وقت پہ نہ جاگ سکی مگر روحان تو جیسے اس کی شکل دیکھتے ہی غصے میں آ جاتا تھا کجا کہ اس کی کوئی غلطی معاف کر دے

وہ جلے ہاتھ لیے اس وقت یہ سوچ رہی تھی کہ چپاتی کیسے بنائے کیوں کہ کھانا تو وہ بنا چکی تھی بس روٹی رہتی تھی اتنے میں اسے باہر کھٹ پٹ کی آواز آئی یقیناً روحان ہوگا وہ صبح جاتے ہوئے دروازہ باہر سے لاکڈ کر کے جاتا تھا اور آ کر خود ہی کھولتا تھا وہ کمرے میں داخل ہوا تو عروہ کو دیکھنے لگا جو رات والے ہی لباس میں ملبوس تھی بال صبح والی کارروائی کے باعث جیسے بکھرے تھے وہ ابھی بھی ویسے ہی بکھرے ہوئے تھے لباس اس کے بدن پر کافی ڈھیلا تھا اسے یاد تھا جب وہ یہ ڈریس عروہ کے لیے لایا تھا تو بلکل ٹھیک تھا مگر اب ایسے لگ رہا تھا جیسے اس کے ناپ کا نہیں ہے

” پانی لاؤ ۔۔ !”

وہ اسے نظر انداز کیے ہنوز ویسے ہی بیٹھی تھی

” جاہل لڑکی جب شوہر گھر آئے تو اسے پانی کا پوچھتے ہیں ۔۔ “

وہ اب خاصی بلند آواز میں غرایا تھا اور موبائل جیب سے نکال کر بیڈ پر پٹخا تھا جبکہ عروہ یکدم اس کی دھاڑتی آواز پر چونکی تھی

” چائے بھی بننے رکھ دو ۔۔ ویسے بھی ہر کام کو دو گھنٹے لگاتی ہو تم ۔۔ “

سر کو مسلتے باہر جاتی عروہ کو پکارتے اس نے کہا اور جوتوں سمیت بیڈ پر دراز ہو گیا

وہ خاموشی سے کچن میں آئی اور چائے چولہے پر رکھ کر ڈسپینسر سے گلاس میں پانی بھرنے لگی اور پھر کمرے کی جانب بڑھی مگر کمزوری کے باعث اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا دروازے کو پکڑ کر اس نے خود کو سہارا دیا صد شکر کہ گلاس ہاتھ سے نہ چھوٹا تھا ورنہ روحان نے اسے جانے کتنی باتیں سنانی تھی یہ روحان کی عادت تھی کہ اگر اس سے کچھ نقصان ہو جاتا تو روحان کبھی بھی اسے نہیں بخششا تھا

” توڑ دو اسے بھی ۔۔ میرے گھر کے سارے برتن تو تم توڑ چکی ہو ۔۔ میرے پاس تمہارے باپ اور بھائی کی طرح جائیداد نہیں ہے ۔۔ یہ سب محنت سے کماتا ہوں میں ۔۔ مگر تم ہر دوسرے دن میرا کوئی نا کوئی نقصان کر دیتی ہو ۔۔ بھئی تمہارے بھائی کی طرح حرام نہیں کما رہا ۔۔ سارا دن محنت کرکے کماتا ہوں “

وہ آگے بڑھ کر اسے گلاس تھما رہی تھی جب وہ اپنی زبان کا زہر اس پر انڈیلنا شروع کر چکا تھا مگر وہ ہمیشہ کی طرح اسے خاموشی کی مار ، مار رہی تھی بغیر اس کی کسی بات کا جواب دیے واپس مڑ گئی

” بد تمیز لڑکی ۔۔ “

گلاس لبوں سے لگانے سے پہلے یہ لفظ اس کی زبان سے ادا ہوا تھا جبکہ عروہ کمرے سے نکل چکی تھی

وہ کچھ دیر بعد فریش ہو کر کھانے کے لیے کچن میں آیا تو عروہ کو کسی سوچ میں ڈوبا پایا

” اپنے عاشق کو یاد کر رہی ہو ۔۔ ؟”

اس کے چہرے کے سامنے چٹکی بھرتے اس نے کہا تو عروہ نے چونکتے ہوئے اسے دیکھا مگر اس کی بات سن کر نظر انداز کر گئی

” ویسے بڑی پکی ہو تم ۔۔ میری اتنی مار اور اذیتوں کے بعد بھی اپنے عاشق کا نام نہیں بتایا تم نے ۔۔ سنو آج بتا ہی دو ۔۔ “

کلائی تھام کر اپنی جانب کھنچتے ہوئے اس نے اس کے کان میں سرگوشی کی

” روٹی نہیں بن رہی مجھ سے ۔۔ “

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی یکسر مختلف بات بولی تو روحان نے ماتھے پر بل پڑے

” کیوں ہاتھ ٹوٹ گئے ہیں کیا تمہارے ۔۔ ؟”

وہ اس مرتبہ اس کے بالوں میں ہاتھ ڈالے سختی سے پوچھ رہا تھا

” ان ہاتھوں سے روٹی بنانے میں مجھے تو کوئی مسلہ نہیں ہے ۔۔ بعد میں آپ نے ہی کہنا تھا کہ میں نے جان بوجھ کر آپ کو تنگ کرنے کے لیے ان ہاتھوں سے روٹی بنائی ہے ورنہ کھانا باہر سے بھی آ سکتا تھا ۔۔”

وہ اپنے زخمی ہاتھ جن پر چھالے ابھرے ہوئے تھے سامنے کرتی کاندھے اچکا کر بولی تو روحان نے اس کی چالاکی پر غصے سے اسے دیکھا مگر وہ پہلے کی طرح مطمئن کھڑی تھی

” کبھی سکون نہ دینا مجھے ۔۔ بندہ گھر آئے تو کھانا پانی چاہیے ہوتا ہے مگر ۔۔ مگر تم ہو ہی اس قابل نہیں ۔۔ جا رہا ہوں میں باہر کھانے ۔۔ خود ہی کھاؤ یہ کھانا تم ۔۔ “

وہ اس کے ہاتھوں سے کراہت کرتا بولا اور جانے کے لیے مڑ گیا جبکہ عروہ نے شکر ادا کیا کہ اب وہ رات دیر تک آنے والا نہیں تھا مگر جب واپس آئے گا تو نشے میں آئے گا اور پھر وہ اس کے ساتھ مزید برا سلوک کرے گا یہ سوچ آتے ہی اس نے جھرجھری لی

/////////////////////////

” عرش پریشان مت ہو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ !”

شازل نے جب اسے سر دونوں ہاتھوں میں گرائے دیکھا تو کاندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی

وہ دونوں ابھی ڈیوٹی سے واپس آئے تھے اور عرش ، شازل کے گھر ہی آ گیا تھا

” شازل میں نے ہر جگہ پتہ لگا لیا مگر روحان کا کچھ پتہ نہیں ۔۔ مجھے عروہ کی بہت فکر ہو رہی ہے ۔۔ “

شازل نے عرش جیسے مضبوط مرد کو پہلے کبھی اس طرح نہیں دیکھا تھا عرش کے لیے اس کے دل سے دعا نکلی تھی کہ عرش کی ساری پریشانیاں دور ہو جائیں

” بہت جلد مل جائے گی ۔۔ امید نہ چھوڑ یار ۔۔ “

تسلی دینے کے بعد اس نے سامنے رکھا چائے کا کپ عرش کی جانب بڑھایا

” ایک بات بولوں ۔۔ یار برا مت ماننا ۔۔”

کپ شازل سے لے کر جب اس نے دوبارہ میز پر رکھا تو شازل نے اسے مخاطب کیا عرش نے سر ہلا کر اسے بولنے کی اجازت دی

” یار تو مریم بھابھی کے ذریعے عروہ کا پتہ لگا سکتا ہے ۔۔ صرف اوپر اوپر سے تو روحان کو یہ ظاہر کر کہ اگر وہ تیری بہن کو نقصان پہنچا سکتا ہے تو تم بھی ۔۔ “

” شٹ اپ یار ۔۔ تو سوچ بھی کیسے سکتا ہے یہ بات ۔۔ میں مرہم کو کوئی نقصان پہنچاؤ گا ۔۔ “

شازل ڈرتے ہوئے بول رہا تھا جب عرش نے اس کی بات کا مطلب سمجھ کر اسے سختی سے ٹوکا

” میں صرف دکھاوا کرنے کو کہہ رہا ہوں ۔۔ کون سا تمہیں مریم بھابھی کے ساتھ برا سلوک کرنے کو کہہ دیا ہے ۔۔ دیکھو ایسے وہ بھی تڑپے گا اپنی بہن کے لیے اور بہن کی محبت اسے پاکستان واپس لے آئے گی ۔۔ “

شازل نے اسے مشورہ دیا مگر عرش اسے خونخوار نگاہوں سے دیکھا

” اس سب میں مریم کا کتنا دل دکھے گا یار ۔۔ یہ بات بھی تو سمجھ نا تو ۔۔ عروہ کو تو میں روحان کی قید سے نکال لوں گا ۔۔ تو دیکھنا پھر میں اس روحان کا کرتا کیا ہوں ۔۔ “

عرش غصے میں بولا تھا جبکہ شازل نے سرد آہ بھری تھی

” اچھا چل اب اپنے گھر جا تیری دوسری بیوی تیرا انتظار کر رہی ہو گی ۔۔ “

شازل نے تپے ہوئے انداز میں کہا تو عرش نے چائے کا کپ اٹھا کر لبوں سے لگا لیا اس کا مطلب تھا وہ اس فضول بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا

////////////////////////