53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam (Episode 10)

Tere Sitam By Fatima

وہ خود پہ ضبط کرتا فلیٹ سے باہر نکلا تھا اگر وہ تھوڑی دیر مزید وہاں رکتا تو یقیناً امل کا حشر بگاڑ دیتا غصے کی شدت سے کپکپاتے ہوئے وہ زینے اتر رہا تھا وہ ابھی بھی پولیس یونیفارم میں ملبوس تھا جب شازل اس کے غصے سے تلملائے چہرے اور خطرناک تاثرات کو دیکھتا اس کے پیچھے آیا

” عرش ۔۔ !”

عرش کو اپنے پیچھے شازل کی آواز آئی تو اس کے قدم رکے اب وہ مڑ کر شازل کو دیکھ رہا تھا

” عرش تو ٹھیک تو ہے ۔۔ ؟”

عرش کے ماتھے کے بلوں اور پتھرائے تاثرات کو دیکھتے ہوئے شازل نے دریافت کیا

” چل میرے گھر چلیں ۔۔ !”

شازل نے اس کے کاندھے پر بازو رکھتے ہوئے کہا

مگر عرش نے کوئی جواب نہ دیا اور اس بار قدرے دھیرے سے آگے قدم بڑھانے لگا شازل بھی اس کے ساتھ چلنے لگا شازل کے فلیٹ میں جب وہ دونوں داخل ہوئے تو شازل نے دروازہ بند کر دیا اتنے میں عرش شاہ پینٹ کی جیب سے سگریٹ نکال کر سلگا چکا تھا

” عرش کوئی پریشانی ہے ۔۔ اتنا ٹینس کیوں ہے ۔۔ ؟”

شازل نے کش پہ کش لگاتے عرش کو دیکھتے ہوئے پوچھا

” کچھ نہیں یار ۔۔ !”

عرش نے اسے ٹالنا چاہا

” یار دوست ہوں میں تیرا ۔۔ اگر کوئی پریشانی ہے تو بتا یار ۔۔ “

شازل نے پھر پوچھا

” سب ٹھیک ہے یار ۔۔ !”

” مطلب تو بتانا ہی نہیں چاہتا ۔۔ ؟”

اور شازل کے بہت اصرار پر آخر عرش نے اسے ساری بات بتا دی اب وہ خاموش سگریٹ کے کش لیتا صوفے پر بیٹھا تھا جبکہ شازل کے ماتھے پر بل تھے

” سب سے پہلے تو تو ۔۔ یہ رکھ ۔۔ !”

شازل نے آگے بڑھ کر عرش کی انگلی میں دبا ہوا آدھا سلگا ہوا سگریٹ لے کر فرش پر پھینکا اور جوتے سے مسل دیا

” ہاں تو اب بتا کیا چاہتا ہے تو ۔۔ ؟”

شازل نے نہایت سنجیدگی سے پوچھا

” یار میں اپنی غلطی سدھارنا چاہتا ہوں ۔۔ میں ابھی وکیل کے پاس ہی جا رہا تھا ۔۔ طلاق کے کاغذ بنوانے ۔۔ “

شازل کو دیکھتے ہوئے بولا شازل کو وہ خاصا مضطرب لگا

” لیکن تو نے تو بدلے کے لیے نکاح کیا تھا نا ۔۔ پھر اتنی جلدی چھوڑ رہا ہے ۔۔ بدلا پورا نہیں کرنا تجھے ۔۔ ؟”

شازل نے اسے کھوجتی نگاہوں سے تکتے ہوئے پوچھا

” بھاڑ میں جائے بدلا یار ۔۔ جس میں ۔۔ میں اپنی ماں کی تربیت کو مٹی میں ملا دوں ۔۔ مریم کو مسلسل اذیت دوں ۔۔ اور ۔۔ !!”

وہ غصے میں کہتا کہتا لب بھینچ گیا

” اور کیا ۔۔ ؟؟”

شازل نے اس کے خاموش ہونے پر فوراً پوچھا

” میں ۔۔ !! شازل میں ۔۔ امل کے ساتھ ظلم کرکے بھی پرسکون نہیں ہوں ۔۔ میری ماں نے مجھے ہر حال میں عورت کی عزت کرنا سکھایا ہے ۔۔ میں نہیں کرنا چاہتا ظلم اس کے ساتھ ۔۔ مم میں اسے چھوڑ دیتا ہوں ۔۔ طلاق دے دیتا ہوں ۔۔ اس طرح امل کو بھی سزا مل جائے گی ۔۔ “

وہ اپنے بالوں میں انگلیاں پھنساتا بول رہا تھا

” عرش پلیز طلاق مت دینا ۔۔ !”

شازل نے کہا تو عرش نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا

” دیکھ ۔۔ ٹھنڈے دماغ سے سوچ ۔۔ شاید اس نکاح میں خدا کی کوئی مصلحت ہو ۔۔ “

شازل آہستگی سے گویا ہوا

” مصلحت ۔۔ ؟ کیسی مصلحت ۔۔ ؟؟”

عرش نے اچھنبے سے پوچھا

” دیکھ ۔۔ مریم بھابھی ماں نہیں بن سکتی ۔۔ اور اولاد تو ہر مرد کو چاہیئے ہوتی ہے ۔۔ اگر تو نے دوسرا نکاح کر لیا تو کچھ غلط نہیں ہے یار ۔۔ تو سمجھ رہا ہے نا میری بات ۔۔ “

شازل نے اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کے شانے پر ہاتھ جما کر کہا تو عرش نے اس کی بات سمجھتے ہوئے اس کا ہاتھ جھٹکا

” یہ کیا بکواس ہے ۔۔ ؟”

عرش چیخ اٹھا

” عرش ٹھنڈے دماغ سے سوچ ۔۔ اس میں خدا کی مصلحت ہے ۔۔ کیا معلوم اللہ تجھے دوسرے نکاح سے اولاد دیدے ۔۔ !”

شازل نے اسے مزید سمجھانا چاہا

” مجھے اولاد نہیں چاہیے یار ۔۔ میرے لیے عروہ اور اشعر ہی میری اولاد ہیں ۔۔ “

عرش کو کسی صورت شازل کی باتیں پسند نہیں آ رہی تھیں

” یہ آج بول رہا ہے تو ۔۔ کچھ عرصے بعد تجھے احساس ہوگا کہ اولاد کتنی ضروری ہوتی ہے ۔۔ “

وہ اسے ہر طرح سے سمجھانا چاہ رہا تھا

” میرے لیے نہیں ہے ۔۔ “

دوبارہ جیب سے سگریٹ نکالتے ہوئے وہ غرایا

” میں جلد ہی امل کو طلاق دے دوں گا ۔۔ میں مزید مریم کو اذیت نہیں دے سکتا ۔۔ “

وہ مزید بولا تھا

” پلیز ابھی کچھ فیصلہ مت کر ۔۔ کچھ عرصے بعد دیدیں طلاق ۔۔ !”

شازل کی بات پر عرش نے نفی میں سر ہلایا

” جب کچھ عرصے بعد ہی دینی ہے تو ۔۔ ابھی کیوں نہیں ۔۔ ؟”

” عرش نکاح یا طلاق کوئی چھوٹی بات نہیں ہے ۔۔ اب اگر نکاح تم نے غصے میں کیا ہے تو ۔۔ کم از کم طلاق تو مت دو ۔۔ “

وہ کسی صورت نہیں چاہتا تھا کہ عرش پھر سے جذبات میں آ کر کوئی فیصلہ کرے

” شازل میں تمہاری باتوں سے مزید الجھ رہا ہوں ۔۔ پلیز اپنے فضول مشورے اپنے پاس رکھو ۔۔ !”

عرش اپنے شانے پر رکھے اس کے ہاتھ جھٹکتا اٹھ کھڑا ہوا

///////////////////////////

زامن شاہ کی کری گئی سختی سے تائید پر نکاح کی تیاریاں ہو تو رہیں تھی مگر سب بے دلی سے کر رہے تھے کل روحان نے آنا تھا اور پرسوں نکاح کی تقریب رکھی گئی تھی عرش کو فی الحال کسی نے خبر نہیں دی تھی کیونکہ زامن شاہ کی سخت تاکید تھی کہ عرش شاہ کو وہ عروہ کے نکاح میں شامل نہیں کرنا چاہتے تھے اشعر کا دل چاہا کہ وہ عرش کو بتائے مگر پھر یہ سوچ کر خاموش ہو گیا کہ پہلے ہی ڈیڈ عرش سے شدید خفا تھے اگر عروہ اور روحان کے نکاح کے بارے میں جان کر وہ تو آسمان سر پہ اٹھا لے گا دونوں باپ بیٹے کے تعلقات مزید خراب ہو سکتے تھے

مریم بھی دو دن سے عرش کی کال پک نہیں کر رہی تھی وہ ڈر رہی تھی کہ جب عرش کو یہ بات معلوم ہو گی تو وہ کیا ردعمل دے گا یقیناً وہ اس سے بھی سخت ناراض ہوگا

اور جب اشعل کو عروہ کے نکاح کا معلوم ہوا تو وہ بلکل ٹوٹ گیا تھا اس نے رامین کو بتا دیا کہ عروہ اور وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں پہلے تو رامین بہت حیران ہوئی تھیں

” اشعل پلیز بیٹا ۔۔ عروہ کو بھول جاؤ ۔۔ کیونکہ وہ روحان کی ہے ۔۔ پہلے ہی بہت سے مسائل ہیں ۔۔ اب تم کچھ مت کر دینا ۔۔ کہ مزید اس بچی کی زندگی میں کوئی مشکل آئے ۔۔ “

اشعل کو سختی سے یہ بات بھولنے کی ہدایت دی مگر اشعل نے کوئی ٹائم پاس نہیں کیا تھا بچپن سے اس نے عروہ سے محبت کی تھی کسی کے کہنے سے وہ محبت کرنا تو چھوڑ نہیں سکتا تھا وہ بہت بار عروہ سے ملنے کی کوشش کر چکا تھا مگر عروہ تو اپنے کمرے سے ہی باہر نہیں آتی تھی ماما سے معلوم پڑا تھا کہ وہ بیمار ہے وہ جانتا تھا عروہ بھی اسی سے محبت کرتی ہے اسی لیے تو خوش نہیں تھی سب سے بچ کر بہت مشکل سے اسے عروہ کے کمرے میں آنے کا موقع ملا تھا کمرے میں داخل ہو کر اس نے دروازہ لاکڈ کیا اور مڑا وہ بیڈ پر بلکل گم صُم سی بیٹھی ہوئی تھی

دروازے پر ہوئی آہٹ پر عروہ چونکی تھی اور سر اٹھا کر دیکھا تو اشعل اسی کی جانب بڑھ رہا تھا اشعل کو اپنے کمرے میں دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہو گئے

” عروہ ۔۔ !”

وہ اسے پکارتا اس کے قریب آیا مگر عروہ بیڈ پر پڑا اپنا دوپٹہ اٹھا کر سرعت میں بیڈ سے اتری

” یہ سب کیا ہو رہا ہے عروہ ۔۔ تم نے انکار کیوں نہیں کیا ۔۔ ؟”

وہ کچھ فاصلے پر رک کر پوچھ رہا تھا مگر عروہ کا تو سارا دھیان دروازے کی طرف تھا

” پلیز اشعل یہاں سے چلے جاؤ ۔۔ !”

وہ بولی تو اس کے انداز میں خوف تھا

” تم نے انکار کیوں نہیں کیا رشتے سے ۔۔ اور میرے اور اپنے بارے میں کہوں نہیں بتایا ۔۔ ؟”

اب اس کی بات پر عروہ اسے کیا بتاتی کہ کسی نے اس کی مرضی تو پوچھی ہی نہیں تھی جو وہ انکار کر سکتی

” اشعل پلیز چلے جاؤ یہاں سے ۔۔ تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں چلے جاؤ ۔۔ “

بار بار دروازے کی طرف دیکھتی وہ آنکھوں میں خوف لیے باقاعدہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ گئی

” تمہیں کسی کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا عروہ میں ۔۔ کیسے جیوں گا تمہارے بغیر ۔۔ ابھی بھی وقت ہے ہم دونوں سب کو بتا دیتے ہیں کہ ۔۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ۔۔ “

وہ التجائیہ انداز میں بولا تھا

” ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔ تمہیں کس نے کہا ہے میں تم سے محبت کرتی ہوں ۔۔ ؟”

وہ درشتگی سے گویا ہوئی تھی

” ایسے تو مت کہو عروہ ۔۔ “

اشعل نے اندر کچھ ٹوٹا تھا

” پلیز یہاں سے چلے جاؤ ۔۔ میں اس رشتے سے خوش ہوں ۔۔ “

وہ بولتے ہوئے نگاہیں چرا گئی

” میری آنکھوں میں دیکھ کر بولو ۔۔ تو مان لوں گا کہ تم اس رشتے سے خوش ہو ۔۔ !”

عروہ کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر وہ گویا ہوا تھا

” خدا کے لیے چلے جاؤ یہاں سے ۔۔ کسی نے تمہیں یہاں دیکھ لیا تو بہت غلط ہو جائے گا ۔۔ میں اپنے بابا کا سر جھکا ہوا نہیں دیکھ سکتی ۔۔ پلیز چلے جاؤ ۔۔ “

وہ روتے ہوئے دبی دبی آواز میں بول رہی تھی

” اچھا میں جا رہا ہوں ۔۔ لیکن پلیز تم رو مت ۔۔ “

اشعل اسے روتے دیکھ کر بولا اور پھر مڑ گیا اور کمرے سے نکل گیا پیچھے وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی اس کی دبی دبی سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھیں

//////////////////////

منتہاء جو کہ عروہ سے ملنے اس کے کمرے میں آ رہی تھی اشعل کو سوجی آنکھوں سمیت عروہ کے کمرے سے نکلتا دیکھ کر وہیں رک گئی

اسی پل اس کے دماغ میں پارٹی والی رات اشعل کا عروہ کو شریر نگاہوں سے دیکھنا عروہ کی آنکھوں میں اترتی حیا کے رنگ ، یاد ائے

ان دونوں کی آنکھوں میں صاف دکھتا تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو پھر یہ نکاح کیوں ہو رہا تھا

” اس کا مطلب میرا شک ٹھیک تھا ۔۔ اشعل اور عروہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ۔۔ “

” یہ تو ٹھیک نہیں ہو رہا پھر ۔۔ “

وہ بڑبڑاتی ہوئی چلی گئی

وہ عروہ کے کمرے میں داخل ہونے لگی تھی مگر اندر سے آتی سسکیوں کی آواز پر اس کے قدم وہیں تھم گئے منتہاء کی ہمت ہی نہیں پڑی کہ وہ اندر جائے اور ویسے بھی اس وقت اسے اکیلا چھوڑ دینا ہی بہتر تھا تبھی وہ بے دلی سے واپس مڑ گئی

/////////////////////////

دو دن سے مریم اس کی کال اگنور کر رہی تھی یہ بات عرش شاہ کو شدت سے محسوس ہو رہی تھی کتنے میسج وہ اسے کر چکا تھا مگر کوئی جواب موصول نہ ہوا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کسی طرح مریم کے پاس پہنچ جائے ماما کو کال کی تو انہوں نے ہمیشہ کی طرح کال کاٹ دی

وہ شازل کو اپنے جانے کا بتا کر تھانے سے نکلا اور گھر پہنچا وہ باہر سے دروازہ لاکڈ کرکے جاتا تھا دروازہ کھول کر اس نے فلیٹ میں قدم رکھا اور مڑ کر ایک مرتبہ پھر لاکڈ کیا آج وہ لاؤنج میں کہیں بھی نہیں تھی عرش شاہ نے کیپ اتار کر میز پر رکھی اور پانی پینے کے لیے کچن کی سمت بڑھا مگر کچن کا حال دیکھ کر اس کا میٹر گھوم گیا

کچن کی ہر چیز بکھری ہوئی تھی گندے برتن سنک میں بھرے پڑے تھے کل وہ جو کچن کا سامان لایا تھا وہ ایک ایک چیز بکھری پڑی تھی آٹا فرش پر پڑا تھا اور وہ نیچے کیبنٹ میں سے جانے کیا ڈھونڈ رہی تھی اور اس کا حلیہ دیکھ کر تو عرش کا دماغ ہی گھوم گیا وہ اس کی سفید شرٹ اور سیاہ ٹراؤزر میں ملبوس تھی یہ مردانہ لباس اس کے کمزور اور نازک وجود پر جھول رہا تھا پشت پر بکھرے نم بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا

عرش غصے میں آگے بڑھا اور اسے بازو سے کھنچ کر اپنے سامنے کھڑا کیا جبکہ وہ اچانک حملے پر بوکھلا گئی اور اپنے سامنے عرش کو دیکھ کر اس نے خشک حلق تر کیا

” یہ تم نے میرے گھر کا کیا حال بنایا ہوا ہے ۔۔ پھوہڑ لڑکی ۔۔ “

وہ اسے جھنجھوڑ کر دھاڑا تھا

” رزق زمین پر رل رہا ہے ۔۔ تمہیں کوئی احساس ہے ۔۔ یہ تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے ۔۔ جو ایسے ہر چیز تباہ کر رکھی ہے ۔۔ “

وہ اسے خونخوار نگاہوں سے گھورتا چلا رہا تھا جبکہ وہ عرش کر سخت گرفت سے اپنا بازو چھڑانے کی تگ ودو کر رہی تھی

” میں سرکاری ملازم ہوں ۔۔ تنخواہ دار بندہ ہوں ۔۔ سارا دن محنت کرتا ہوں ۔۔ اور تم نے اتنا رزق ضائع کر دیا ۔۔ یہ تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے ۔۔ خواب سے نکل آؤ باہر ۔۔ حشر نشر کر دیا ہے میرے گھر کا ۔۔ “

وہ مسلسل اسے جھنجھوڑتا دھاڑ رہا تھا درد کی شدت سے امل کی آنکھوں سے انسو بہنے لگے

” پپ پلیز چھوڑ دیں ۔۔ مجھے درد ہو رہا ہے ۔۔ “

وہ عرش کے ہاتھ کو اپنے بازو سے ہٹانے کی کوشش میں منمنائی تھی

” زندگی عزاب کر دی ہے تم نے میری ۔۔ تم مر کیوں نہیں جاتی ۔۔ کاش تمہارا ناپاک وجود اس دنیا میں ہوتا ہے نہ ۔۔ تمہاری وجہ سے میں نے اپنے ماں باپ اور بیوی کا دل دکھایا ہے ۔۔ “

وہ اب اس کی گردن دبوچے غرایا تھا امل کی سانسیں اٹکنے لگیں آنکھیں درد کی شدت سے ابل پڑیں

” اور یہ ۔۔ میرے کپڑوں کو ہاتھ کیسے لگایا تم نے ۔۔ ؟”

اب وہ اس کی گردن چھوڑ کر کپڑوں کی جانب اشارہ کرتے پوچھ رہا تھا جبکہ وہ اپنی گردن پر ہاتھ جمائے کھانس رہی تھی

” بتاؤ ۔۔ تمہاری جرآت کیسے ہوئی میری کسی چیز کو ہاتھ لگانے کی ۔۔ “

اس کا غصہ آسمانوں کو چھو رہا تھا جو کسی صورت کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا

” سس سوری ۔۔ وہ میرے پاس ایک ہی سوٹ تھا ۔۔ “

وہ اس سے دور ہوتی بمشکل بولی تھی وہ اس وقت مکمل عرش شاہ کے رحم و کرم پر تھی جو کہ قطعی اس پر رحم کرنے والا نہ تھا

” شٹ اپ ۔۔ جسٹ شٹ اپ ۔۔ !”

وہ اسے مزید بولنے سے روکتا پھر دھاڑا

” نفرت ہے مجھے تم سے ۔۔ تمہارے وجود سے ۔۔ گھن آ رہی ہے مجھے تم سے ۔۔ تم ایک گھٹیا اور خود غرض لڑکی کو ۔۔ تم نے مجھے بدکردار ثابت کرنا چاہا تھا نا ۔۔ اصل میں تو تم بدکردار ہو ۔۔ جس نے اپنے ماں باپ کی عزت کا بھی خیال نہیں کیا ۔۔ غصہ مجھے خود پر ہے کہ ۔۔ میں نے تم سے نکاح کیوں کیا ۔۔ بلکہ سزا کے طور پر تمہیں اسی وقت جان سے مار دینا چاہیے تھا ۔۔ !”

وہ اسے کسی اچھوت شے کی طرح فرش پر دھکا دیتا ہوا دھاڑا

” صاف کرو یہ سب ۔۔ !! ہر چیز اپنی جگہ پر ہونی چاہیے ۔۔”

وہ اب خود پر قابو پاتا ایک ہاتھ سے سر پر ہاتھ پھیرتا دوسرے ہاتھ سے کچن کی جانب اشارہ کرتا بول رہا تھا

” بہت جلد تمہارا انتظام کرتا ہوں ۔۔”

سٹول کو ٹھوکر مارتا وہ اپنے کمرے کی سمت بڑھ گیا جبکہ پیچھے وہ دونوں ہاتھ منہ پر رکھے بے آواز رونے لگی

” پاپا ۔۔ ماما ۔۔ “

فرش پر بیٹھی وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی

کتنی دیر سے وہ رو رہی تھی پھر اسے عرش کمرے سے باہر آتا دیکھائی دیا نک ٹک سا تیار ہاتھ میں سفری بیگ تھامے وہ شاید کہیں جانے کو تیار تھا پہلے کی نسبت وہ اب خاصا فریش لگ رہا تھا امل کو مکمل نظر انداز کرتا وہ بیرونی دروازے کی جانب چل دیا

” کہاں جا رہے ہیں ۔۔ ؟”

وہ عرش کو جاتا دیکھ کر اس کی جانب بڑھی اور بے ساختہ پوچھ بیٹھی حالانکہ جانتی تھی وہ اسے کہاں بتائے گا مگر اکیلا رہنا بھی تو کٹھن تھا

” تم کون ہوتی ہو ۔۔ مجھ سے یہ سوال پوچھنے والی ۔۔ ؟ بہت مشکل سے ضبط کیا ہے میں نے خود پر ۔۔ مجھ سے جتنا دور رہو گی اتنا اچھا ہے تمہارے لیے ۔۔ “

ایک انگلی اٹھا کر اسے تنبیہ کرتا وہ جانے لگا جب امل نے اس کا بازو پکڑ لیا

” گھر جا رہے ہیں نا ۔۔ پلیز مجھے بھی ساتھ لے جائیں ۔۔ مجھے ماما پاپا کے پاس جانا ہے ۔۔ مجھے بہت یاد آ رہی ہے ان کی ۔۔ میں یہاں اکیلی مر جاؤں گی ۔۔ “

وہ اپنی انا ، اپنا غرور سب مٹی میں ملائے عرش شاہ سے منت بھرے انداز میں کہہ رہی تھی

” تو مر جاؤ ۔۔ خدا کی قسم ۔۔ سب کی زندگی سکون میں آ جائے گی ۔۔ “

وہ اس کا ہاتھ اپنے بازو سے سختی سے جھٹکتا سفاکی سے گویا ہوا

وہ اسے بے بس روتا چھوڑ کر دروازے کھول رہا تھا

دروازہ لاکڈ کرکے وہ کب کا جا چکا تھا جبکہ امل اب کھل

کے رونے لگی پورے فلیٹ میں اس کے رونے کی آواز گونج رہی تھی

/////////////////////////

وہ پہلی فلائٹ سے کراچی روانہ ہوا تھا کیونکہ اب مزید اپنوں کی ناراضگی اسے برداشت نہیں تھی اس نے سوچ لیا تھا مام ڈیڈ کو ہر صورت میں منا لے گا اس کی یہی غلطی تھی نا کہ اس نے امل سے نکاح کیا تھا تو امل کو طلاق دے کر وہ اپنی غلطی سدھار دے گا کیونکہ وہ امل کو تکلیف دے کر بھی پرسکون نہیں تھا بےشک وہ اس سے نفرت کرتا تھا مگر ظلم کرنا بھی نہیں چاہتا تھا بہتر یہی تھا کہ وہ اسے طلاق دیدے

رات کو شاہ حویلی پہنچنے پر اسے کچھ حیرت کا سامنا ہوا کیونکہ وہاں ہوتی تیاریاں کسی تقریب کی تھیں سب سے پہلے وہ اشعر سے ملا جو کہ فون پر کسی سے بات کرتا لاؤنج میں ٹہل رہا تھا

اشعر اچانک عرش کو اپنے سامنے دیکھتا چونک گیا عرش آگے بڑھ کر بغل گیر ہوا

” بھائی آپ اچانک ۔۔ مجھے بتا ہی دیتے میں ۔۔ !! “

” وہ سب چھوڑ ۔۔ تو مجھے یہ بتا کہ کس چیز کی تیاریاں ہو رہیں ہیں یہ سب ۔۔ “

اشعر کی بات کاٹ کر وہ آس پاس دیکھتا پوچھ رہا تھا جبکہ اشعر نے تھوک نگلا

” بھائی وہ ۔۔ !”

” میری بیٹی کے نکاح کی تیاریاں ہو رہی ہیں ۔۔ “

زامن شاہ کی آواز پر دونوں بھائی پلٹے جبکہ عرش نے الجھ کر انہیں دیکھا اور ملنے کو آگے بڑھا مگر زامن شاہ نے اس سے رخ موڑ لیا

” السلام علیکم ڈیڈ ۔۔ “

عرش ان کی بے رخی دیکھتا وہی رک کر انہیں سلام کرنے لگا

” تم یہاں کیا لینے آئے ہو ۔۔ ؟”

” ڈیڈ عروہ کا نکاح ۔۔ ؟ کسی نے مجھے کیوں نہیں بتایا ۔۔ کس کے ساتھ ہے ؟”

زامن شاہ کی بات پس پشت ڈال کر وہ پوچھ رہا تھا جبکہ ان کی آواز سنتے تقریباً سب افراد ہال میں اکٹھے ہو چکے تھے اچانک عرش کو دیکھ کر مریم کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی مگر ڈر بھی تھا کیونکہ وہ دو دن سے اس سے بات نہیں کر رہی تھی

” تمہارا ہم سے کوئی تعلق نہیں ۔۔ تم چلے جاؤ یہاں سے ۔۔ “

” زامن ۔۔ “

حورین کی آواز پر دونوں باپ بیٹے نے انہیں پلٹ کر دیکھا

” گھر میں مہمان ہیں پلیز کوئی تماشہ مت کریں ۔۔ عرش تم اپنے کمرے میں جاؤ ۔۔ !”

وہ ان کی قریب آ کر بے تاثر انداز میں بولیں

” مام پلیز مجھے بتائیں یہ سب کیا ہے ۔۔ عروہ ابھی بہت چھوٹی ہے ۔۔ اتنی جلدی کیوں یہ سب ہو رہا ہے ۔۔ ؟ اور مجھے کسی نے کیوں نہیں بتایا ۔۔ “

عرش الجھ کر پوچھ رہا تھا

” ہم اس کے ماں باپ ہیں ۔۔ اپنی بیٹی کی زندگی کا فیصلہ ہم اب تم سے پوچھ کر کریں گے ۔۔ اور تم کون سا ہمیں کچھ سمجھتے ہو ۔۔ تم بھی تو اپنے فیصلے خود کرتے ہو ۔۔ “

زامن شاہ عرش کو دیکھتے طنزیہ انداز میں مزید بولے

” اور تمہاری اطلاع کے لیے روحان سے نکاح ہو رہا ہے عروہ کا ۔۔ “

ان کی بات سن کر عرش نے بے یقینی سے پہلے زامن شاہ کو دیکھا پھر حورین کو دیکھا جبکہ زامن شاہ اپنی بات کہہ کر رکے نہیں تھے بلکہ وہاں سے جا چکے تھے

” مام یہ ڈیڈ کیا کہہ رہے ہیں ۔۔ عروہ اور ہنی ۔۔ ؟؟”

عرش حورین کی جانب بڑھا تھا

” ہاں ایسا ہی ہے ۔۔ !”

حورین نے نگاہیں چراتے ہوئے بات کی تصدیق کی

” ڈیڈ نے میری بہن کی زندگی مذاق سمجھ رکھی ہے ۔۔ میں ایسے نہیں ہونے دوں گا ۔۔ ! مام آپ کیسے اس رشتے پر مان گئی ۔۔ بلکل مناسب نہیں ہے یہ ۔۔ “

وہ نفی میں سر ہلاتا بولا تھا

” ویسے تو تم خود مختار ہو ۔۔ کسی کی نہیں سنتے ۔۔ مگر پھر بھی تم سے التجا کر رہی ہوں ۔۔ جو ہو رہا ہے ہونے دو ۔۔ تماشہ مت بناؤ ۔۔ !”

وہ دھیرے سے بولیں تھیں

” جاؤ اپنے کمرے میں اور کل اپنی بہن کے نکاح میں شامل ہو جانا ۔۔ “

وہ کہہ کر جا چکیں تھی پیچے عرش نے سر تھام لیا عرش کا ردعمل دیکھ کر مریم کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ وہ عرش کے قریب بھی جائے جبکہ عرش کے قدم عروہ کے کمرے کی جانب بڑھتے دیکھ کر وہ مایوسی سے اپنے کمرے میں آ گئی

اپنے کمرے میں آ کر وہ صوفے پر براجمان ہو گئی ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ دروازے پر آہٹ ہوئی وہ سوچوں میں غلطیاں تھی جب عرش کمرے میں آیا اسے دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی

” کیسی ہیں آپ ۔۔ ؟”

اداس انداز مدھم سا لہجہ لیے وہ بیگ سائیڈ پر رکھتا مریم کے قریب آ کر اسے گلے لگا گیا جبکہ مریم کا دل زور سے دھڑکا کئی پل وہ دونوں ایسے ہی ایک دوسرے کے گلے لگے کھڑے رہے جب عرش پیچھے ہوا اور اب وہ بیڈ پر بیٹھ چکا تھا مریم پانی لانے مڑی تھی

” کہاں جا رہیں ہیں آپ ۔۔ ؟ پلیز میرے پاس رہیں ۔۔ ! “

مریم کی کلائی جکڑ کر اسے اپنے قریب بٹھاتا وہ شکست زدہ انداز میں بولا

” وہ میں پانی لینے جا رہی تھی ۔۔ !”

” آپ نے بھی مجھے نہیں بتایا مریم ۔۔ !”

وہ شاید شکوہ کر رہا تھا مریم نے ندامت سے سر جھکا لیا

” سوری ۔۔ مجھے لگا آپ غصہ ہوں گے ۔۔ “

وہ سر جھکائے نظریں چرائے بولی تھی

” او ہو ۔۔ آپ کیوں شرمندہ ہو رہیں ہیں ۔۔ غلطی تو میری ہے ۔۔ میں اگر وہ قدم نہ اٹھاتا تو آج سب خفا نہ ہوتے مجھ سے ۔۔ “

وہ اس کا ہاتھ لبوں سے لگاتا بولا تھا

” اگر میں اچانک یہاں نہ آتا تو مجھے پتہ ہی نہ لگتا سب ۔۔ “

” ڈیڈ ٹھیک نہیں کر رہے یہ ۔۔ عروہ مرجھا سی گئی ہے ۔۔ “

وہ اداس تھا جبکہ مریم نے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیا

” آپ پریشان نہ ہوں ۔۔ !”

وہ اسے کیسے پریشان دیکھ سکتی تھی جس میں اس کی جان بستی تھی

” ڈیڈ میری نہیں سن رہے ۔۔ مام بھی بات نہیں کر رہی مجھ سے ۔۔ “

” میں نے آپ کو بھی تو دکھ دیا ہے نا مریم ۔۔ آپ کا مان توڑا ہے ۔۔ آپ کے بھروسے کو ٹھیس پہنچائی ہے نا ۔۔ پلیز مجھے معاف کر دیں ۔۔ مجھے کسی طور سکون نہیں آ رہا ۔۔ میں ہاتھ جوڑ کر آپ سے معافی مانگتا ہوں ۔۔ میں نے آپ کو بہت رلایا ہے ۔۔ بہت دل دکھایا ہے ۔۔ پلیز مجھے معاف کر دیں ۔۔ پلیز جان ۔۔ “

وہ باقاعدہ اس کے آگے ہاتھ جوڑے بول رہا تھا جبکہ مریم اس کی آنکھوں کی نمی دیکھتی تڑپ گئی تھی

” ایسے نہیں کریں ۔۔ “

وہ بھی روندی آواز میں بولی جبکہ عرش شاہ اس کی گود میں سر رکھ کر کچھ بھی بولے بغیر آنکھیں موند گیا

////////////////////////