Tere Sitam By Fatima Readelle50292 Tere Sitam (Episode 12)
Rate this Novel
Tere Sitam (Episode 12)
Tere Sitam By Fatima
یہ سورج عروہ کی زندگی کا سب سے بھاری ثابت ہوا تھا وہ ساری رات اس خوف سے سو بھی نہ پائی کہ ابھی روحان سب کو بتا دے گا ابھی اس کے باپ کا مان ٹوٹ جائے گا ، اس کی ماں کی تربیت پر لوگ سوال اٹھائیں گے ، ابھی اس کے باپ اور بھائیوں کا سر جھک جائے گا ، ابھی لوگ اس کے کردار پر انگلیاں اٹھائیں گے
مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا روحان کی جانب سے بلکل خاموشی تھی لیکن عروہ پھر بھی خوفزدہ تھی بے قصور ہوتے ہوئے بھی وہ روحان کی نظر میں قصوروار قرار پا چکی تھی اور وہ اس بات کو خوب سمجھ رہی تھی کہ رات کو جو کچھ ہوا وہ اس طرح روحان کے سامنے آنے سے کتنا بڑا مسئلہ ہو چکا ہے
اس بات کا اثر اس کی آنے والی زندگی پر ہوگا وہ بے حد خوفزدہ تھی ہر آہٹ پر ڈر جاتی شادی کا گھر تھا مگر ذرا سے شور پر اس کا دل دہل جاتا کہیں روحان نے سب کو بتا تو نہیں دیا
مگر حیرت کی انتہا تب ہوئی جب سب ہنسی خوشی تیاریوں میں مصروف رہے مغرب کے بعد نکاح تھا سو ہر کوئی اپنی اپنی تیاری میں مصروف تھا مریم دوپہر میں اس کے لیے عروسی لباس کے ساتھ خوبصورت جیولری لے کر آئی تھی جیسے جیسے نکاح کا وقت قریب آ رہا تھا عروہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی
وہ وقت بھی آن پہنچا جب اسے دلہن کی طرح سجایا گیا وہ کسی موم کی گڑیا کی طرح ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے گھنی پلکیں جھکائے بیٹھی تھی عروسی لہنگے میں جیولری پہنے وہ کوئی نازک سی گڑیا لگ رہی تھی سرخ و سفید رنگت پر نور چہرہ ، ماتھے کے ایک طرف جھومر اور ناک میں پہنی نتھ نے اس کے روپ کو چار چاند لگا دیے تھے دلہن بن کے کیا خوب روپ چڑھا تھا
حورین تو اپنی بیٹی کو دیکھ کر نہال ہو گئیں دل میں نظر بد کی دعائیں پڑھتے ہوئے انہوں نے عروہ کے چہرے سے نگاہیں چرا لیں کہ کہیں عروہ کو ان کی خود کی ہی نظر نہ لگ جائے
چھوٹی دادو نے عروہ کے سر سے کئی نوٹ وار کر نوکرانی کو دے دیے بلاشبہ وہ آج اپنی معصومیت اور حسین سراپے سمیت کسی کے بھی دل میں اتر سکتی تھی
///////////////////////
شاہ حویلی کا منظر کچھ یوں تھا کہ ہر طرف چہل پہل تھی شاہ حویلی خوبصورتی سے سجی ہوئی تھی مہمان تشریف لا چکے تھے عرش شاہ اور اشعر شاہ بھی ساتھ کھڑے کسی بات پر مسکرا رہے تھے مگر دونوں ہی بہن کے لیے فکرمند تھے ہر چہرہ مسکرا رہا تھا مگر لان میں کھڑے زامن شاہ کی آنکھوں میں جانے کیوں آج نمی تھی علی انہیں لیے ایک طرف ہو گئے
” زامن ۔۔ میرے بھائی ۔۔ کیا ہوا ۔۔ ٹھیک ہے تو ۔۔ ؟؟”
انہوں نے فکرمندی سے استفسار کیا
” بس یار ۔۔ سوچ رہا ہوں کہ بیٹیاں کتنی جلدی بڑی ہو جاتی ہیں نا ۔۔ “
آس پاس دیکھتے ہوئے انہوں نے بھاری آواز میں کہا
” یہ بات تو ہے لیکن ۔۔ ویسے اپنی عروہ تو ابھی ویسے بھی چھوٹی ہی ہے زامن ۔۔ تم نے اس کے معاملے میں جلدی کی ہے ۔۔ “
علی ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے
” ہمممم ۔۔ “
” خیر تو پریشان نہ ہو کون سا کوئی دور جا رہی ہے اپنی بچی ۔۔ یہیں تو ہے ۔۔ حویلی میں ۔۔ !”
ان کی بات پر زامن نے سر ہلایا
///////////////////////
” کیسی لگ رہی ہوں ۔۔ ؟؟”
منتہاء نے اشعر کے پاس آتے ہی سوال داغا جواباً اشعر نے ایک مسکراتی نظر اس پر ڈالی
” کاش مام سے بات کر لیتا ۔۔ تو آج ہمارا بھی نکاح ہو جاتا ۔۔ پھر تمہیں بتاتا کہ کتنی حسین لگ رہی ہو ۔۔ اتنی کہ میرے دل میں اتر رہی ہو ۔۔ “
اشعر کے زومعنی سے کہنے پر منتہاء سٹپٹا گئی
” تت تم ۔۔ !”
اسے سمجھ نہ آیا کیا کہے
” کیا تم ۔۔ ؟”
اشعر نے شرارتی انداز میں پوچھا
” تم بہت بد تمیز ہو اشعر ۔۔ میں نے ایک سمپل سا سوال کیا تھا کہ کیسی لگ رہی ہوں ۔۔ اور تم ۔۔ !!”
منتہاء نے اپنی بات کی وضاحت دی
” میں نے بھی تو سمپل سا جواب دیا ہے ۔۔ “
اشعر نے کاندھے آچکا کر کہا
” چھچھورا پن کہیں اور جا کر دیکھاؤ اپنا ۔۔ ڈفر ۔۔ “
وہ خفت مٹانے کو منہ میں بڑبڑاتی فوراً آگے بڑھ گئی جبکہ اشعر کا قہقہہ بے ساختہ تھا
” ہائے ۔۔ پاگل لڑکی ۔۔ !”
////////////////////////
” اشعل ۔۔ !”
وہ سرخ آنکھیں لیے ایک طرف کھڑا تھا جب رامین کی پکار پر ان کی سمت مڑا
” جی ماما ۔۔ !”
وہ بھاری آواز میں بولا تو رامین اس کی دلی کیفیت سمجھتی تڑپ اٹھیں
” اشعل تم ٹھیک ہو نا میرے بیٹے ۔۔ ؟”
انہوں نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے پوچھا جبکہ اشعل نے اثبات میں سر ہلایا اب وہ انہیں کیا بتاتا کہ دل تو چاہ رہا تھا کہ چیخ چیخ کر اپنی محبت کا اعلان کرے مگر عروہ کو مشکل میں نہیں ڈال سکتا تھا محبت فقط حاصل کرنے کا نام تو نہیں بلکہ محبت تو یہ ہے کہ محبوب کو ہماری محبت سے ذرا سا بھی آزا نہ ہو وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی عروہ کے کردار پہ شک کرے اس لیے خاموشی کا کڑوا گھونٹ پی لیا
” جی ماما ۔۔ آپ کچھ کہہ رہی تھیں ۔۔؟”
اس نے ان کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے پوچھا
” بیٹا ۔۔ عرش ، امل کو اپنے ساتھ نہیں لے کر آیا ۔۔ پتہ نہیں وہ اکیلی کیسے رہ رہی ہوگی ۔۔ تم ایک مرتبہ کال کر کےپوچھ کو بیٹا ۔۔ “
وہ آس پاس دیکھتی دھیرے سے گویا ہوئیں
” میں تو کر نہیں سکتی ۔۔ ورنہ اس کی آواز سن کر میرا دل موم ہو جائے گا ۔۔ ابھی میں ایسا کچھ نہیں چاہتی ۔۔ تاکہ اسے احساس ہو کہ اس نے اپنی ہی بہن کے ساتھ کتنا بڑا ظلم کیا ہے ۔۔ “
” ماما ۔۔ امل کی فکر تو مجھے بھی ہے ۔۔ لیکن آپ بے فکر رہیں ۔۔ عرش بھائی اگر اسے وہاں چھوڑ کر آئے ہیں تو ضرور کچھ سوچا ہو گا انہوں نے ۔۔ اچھا ہے امل اکیلی رہے گی تو اسے احساس ہوگا کہ زندگی ایڈونچر نہیں ہوتی ۔۔ اس نے جو حرکت کی ہے اس کی سزا تو بنتی ہے ۔۔ لیکن آپ فکر نہ کریں ۔۔ عرش بھائی سے سنا ہے میں نے وہ ایک دو دن تک واپس چلے جائیں گے ۔۔ !”
اشعل گہرا سانس لیتے ہوئے گویا ہوا تو اس کی بات سن کر رامین بھی خاموش ہو گئیں
//////////////////////
خوبصورتی سے سجے ہوئے سٹیج پر شیروانی پہنے بیٹھا روحان خاصا سنجیدہ اور پر وقار لگ رہا تھا جو مریم کی کوئی بات بہت خاموشی سے سن رہا تھا
” بھائی ۔۔ عروہ بہت لاڈلی ہے سب کی ۔۔ ڈیڈ ، مام ، شاہ جی اور اشعر نے بہت لاڈ سے پالا ہے اسے ۔۔ سب سے چھوٹی ہے گھر میں ۔۔ آپ بھی پلیز اسے خوش رکھئے گا ۔۔ “
وہ سرخ ساڑھی میں بے حد حسین لگ رہی تھی دھیمی آواز میں روحان سے بیٹھی سٹیج پر باتیں کر رہی تھی عرش شاہ اسے دور سے ہی محبت پاش نگاہوں سے دیکھ رہا تھا
جبکہ روحان کا چہرہ بلکل سپاٹ تھا مریم اس کا سنجیدہ پن دیکھتی کچھ پریشان ہو گئی
” بھائی آپ ٹھیک ہیں ۔۔ ؟”
” بھائی کیا سوچ رہے ہیں ۔۔ ؟”
مریم نے روحان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا تو روحان چونکا
” کچھ نہیں بیٹا ۔۔ تم بے فکر رہو سب ٹھیک رہے گا ۔۔ !”
روحان نے ذرا سا مسکرا کر اسے کہا تو وہ مطمئن ہو گئی مگر وہ روحان کے دل و دماغ میں بھڑکتی آگ سے یک سو بے خبر تھی روحان کی خاموشی شدید طوفان کا پیش خیمہ تھی
” شاہ جی آپ پریشان لگ رہے ہیں ۔۔ ؟”
وہ اٹھ کر عرش کے پاس آئی تھی مگر عرش کے چہرے پر بے چینی سی محسوس کرتی پوچھ بیٹھی
” نہیں ۔۔ بس ۔۔ عروہ کے لیے فکر مند ہوں ۔۔ !”
” آپ فکر نہیں کریں ۔۔ میرے بھائی بہت اچھے ہیں ۔۔ وہ عروہ کو بہت خوش رکھیں گے ۔۔ !”
عرش کو تسلی دیتے ہوئے وہ پرجوش انداز میں بولی تو عرش نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا
” بہت حسین لگ رہیں ہیں آپ ۔۔ مریم ۔۔ !”
عرش کے اچانک کہنے پر وہ سرخ ہو گئی اور نگاہیں جھکا گئی
” ہائے مار ڈالا آپ کی انہیں اداؤں نے جان من ۔۔ ! روز نئے سرے سے مجھے آپ سے محبت ہوتی ہے ۔۔ “
عرش شاہ شرارت بھرے انداز میں گویا ہوا تو مریم نے بھی اسے مسکراتے ہوئے دیکھا
” وعدہ کریں آپ صرف مجھ سے ہی محبت کریں گے ۔۔ !”
وہ پورے استحقاق سے بولی تھی
” پکا وعدہ ۔۔ !”
عرش شاہ نے ذرا سا سر خم کرتے ہوئے کہا
” آپ تو میری زندگی ہیں ۔۔ میرا سب کچھ ہیں مریم ۔۔ “
عرش پھر گویا ہوا
” آپ بھی میری زندگی ہیں ۔۔ شاہ جی “
مریم بھی پر یقین انداز میں بولی وہ دونوں کمی ہونے کے باوجود بھی مکمل تھے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہی لگتے تھے
/////////////////////
” مام نکاح خواں آ گئے ہیں ۔۔ !”
اشعر نے جب آ کر اطلاع دی تو حورین اور رامین جو کہ عروہ کے پاس بیٹھی تھیں چونک گئیں
” ہہ ہاں آنے دو ۔۔ !”
حورین نے اجازت دیتے ہوئے کہا اور بے تاثر چہرہ لیے بیٹھی عروہ کے سر پر سرخ دوپٹے کا گھونگھٹ اوڑھایا اتنے میں عرش شاہ اور اشعر شاہ کے ہمراہ مولوی صاحب نے کمرے میں قدم رکھا
” عروہ زامن شاہ ولد زامن شاہ ، آپ کو روحان شاہ ولد عاصم شاہ سے ایک کروڑ روپے حق مہر نکاح قبول کیا ۔۔ ؟”
نکاح خواں کے الفاظ نے عروہ کا دل دہلا دیا وہ پوری جان سے کانپ گئی مگر کیا کرتی انکار تو نہیں کر سکتی تھی سو آج ایک اور بیٹی باپ کا مان اور عزت رکھتے رکھتے اپنا دل مار چکی تھی اپنی محبت مار چکی تھی وہ اشعل کی محبت کو دل سے نکال چکی تھی اور سچے دل کے ساتھ خدا و رسول کو گواہ بنا کر یہ نکاح کر رہی تھی
” قبول ہے ۔۔ !”
کانپتے وجود ، لڑکھڑاتی زبان ، اور کپکپاتے ہاتھوں سمیت اس نے نکاح نامے پر دستخط کیے
نکاح خواں جا چکے تھے اور ان کے پیچھے اشعر شاہ بھی چلا گیا جبکہ عرش شاہ نے عروہ کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا اور سر پر بوسہ دے کر کمرے سے چلا گیا اب حورین نے عروہ کا گھونگھٹ ہٹایا اور اسے سینے سے لگا لیا
” مبارک ہو میری جان ۔۔ خدا تمہارے نصیب اچھے کرے ۔۔ “
سینے سے لگائے انہوں نے اسے دعا دی جبکہ عروہ کا چہرہ اب بلکل سپاٹ تھا
یہاں نکاح نامے پر دستخط کرتے ہوئے روحان کے ہاتھ اور چہرے پر چٹانوں جیسی سختی تھی جبکہ تاثرات پتھریلے تھے
کچھ دیر بعد اسے فوٹو شوٹ کے لیے لے جایا گیا وہ کسی بے جان گڑیا کی طرح دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی گئی فوٹوگرافر مختلف پوز سے اس کی تصویریں بنا رہے تھے جبکہ وہ اپنے ہاتھوں پر لگی مہندی کا رنگ دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ رامین کی بات کیا کبھی سچ ہو سکتی تھی
” آپی ماشاءاللہ دیکھیں ۔۔ عروہ کی مہندی کا رنگ کتنا گہرا آیا ہے ۔۔ روحان دیوانا ہو گا دیکھنا آپ عروہ کا ۔۔ !”
ابھی وہ سوچوں میں گم تھی کہ گرم سانسیں اسے اپنے چہرے کے بہت قریب محسوس ہوئیں اپنے سامنے روحان کو دیکھ کر اس کے چہرے کی ہوائیاں اڑ گئیں روحان فوٹوگرافر کے بتائے گئے پوز کے مطابق عروہ کے بے حد قریب کھڑا تھا
عروہ کی سانسیں مدھم ہوئیں وہ اپنے تمام جملہ حقوق روحان کے نام کر چکی تھی اس شخص کے نام جو شاید اس سےنفرت کرنے لگا تھا وہ روحان کی آنکھوں میں اپنے لیے سرد مہری محسوس کر چکی تھی
روحان عروہ کی کمر پر ہاتھ جمائے اسے اپنے مزید قریب کر چکا تھا وہ اس کی پلکوں اور لبوں کی لرزش باخوبی محسوس کر رہا تھا مگر بے حس بنا رہا
اس کی بیوی کی تعریف ہر ایک کی زبان پر تھی مگر روحان نے اسے ایک مرتبہ بھی آنکھ بھر کے نہ دیکھا تھا ڈر تھا کہ کہیں عروہ کے حسین سراپے میں کھو نہ جائے اور اپنے جذبات کے بہکاوے میں نہ آ جائے
خدا خدا کر کہ فوٹو شوٹ ختم ہوا تو دونوں کو سٹیج پر لے جایا گیا تب عروہ کی جان میں جان آئی
مگر ہوش سب کے تب اڑے جب روحان نے رخصتی کا کہا
” ماموں میں نے ایک چھوٹا سا گھر خریدا ہے ۔۔ فی الحال میری اتنی ہی حیثیت ہے ۔۔ میں اپنی بیوی کے ساتھ اپنے گھر جانا چاہتا ہوں ۔۔ !”
” بیٹا یہ تمہارا ہی گھر ہے ۔۔ عروہ تمہارے ہی کمرے میں رہے گی ۔۔ پھر کسی اور گھر میں کیوں جانا چاہتے ہو تم ۔۔ ؟”
زامن شاہ کے ماتھے پر لکیر ابھری
وہ آج صبح سے ہی کہیں غائب تھا تو صبح سے وہ گھر خریدنے میں لگا ہوا تھا مریم نے عرش شاہ کو دیکھا جس کے ماتھے پر لاتعداد شکن ابھر آئے تھے
” ٹھیک ہے تم جاؤ اپنے گھر ۔۔ ہم ابھی اپنی بہن کی رخصتی نہیں کر رہے ۔۔ !”
عرش شاہ کی سرد لہجے میں کی گئی بات سن کر سب چونکے مہمانوں کی موجودگی میں سب ہی دھیمی آواز میں بات کر رہے تھے جبکہ عرش شاہ کی بات سن کر روحان آگ بگولہ ہو گیا اس سب میں عروہ سانس روکے دبکی بیٹھی تھی
” ٹھیک ہے پھر عرش شاہ میں اپنی بہن کو لے کر جا رہا ہوں ۔۔ تم اپنی بہن کی رخصتی اب کرنا بھی مت ۔۔ !”
روحان نے آگے بڑھ کر عرش کے ساتھ کھڑی مریم کا بازو پکڑ کر اپنے پاس کیا
” یہ کیا بکواس ہے ۔۔ روحان تم مریم کو بیچ میں کیوں لا رہے ہو ۔۔ ؟ “
عرش یکدم غرایا تھا
” عرش ۔۔ اپنے غصے کو قابو میں رکھو ۔۔ “
مہمانوں کی موجودگی کا خیال کرتی حورین عرش کے قریب آئیں اور دھیرے سے کہا انداز میں واضح تنبیہ تھی
” مام ۔۔ پھر آپ روحان کو سمجھائیں ۔۔ بات مت بڑھائے ۔۔ میں نے اتنا ہی کہا ہے نا کہ رخصتی کچھ ٹائم بعد کر دیں گے ۔۔ نکاح تو ویسے بھی ہو چکا ہے نا ۔۔ !”
عرش نے ماں اور باپ کو دیکھتے ہوئے روحان سے کہا
” روحان بیٹا ۔۔ دیکھو یہ بھی تمہارا ہی گھر ہے ۔۔ بیہ آپی کی اولاد کا بھی حویلی پر حق ہے ۔۔ تم یہ مت سوچو کہ تم بیوی اور بہن کے گھر میں رہ رہے ہو ۔۔ بلکہ یہ تمہاری ماں کا بھی گھر ہے بیٹا ۔۔ “
زامن نے شفقت بھرے انداز میں کہا تو روحان کچھ نرم پڑا
” ماموں میں فیصلہ کر چکا ہوں ۔۔ معذرت کہ آپ کو پہلے آگاہ نہیں کر سکا ۔۔ “
وہ دیکھ سپاٹ چہرہ لیے عرش کو رہا تھا مگر بات زامن شاہ سے کر رہا تھا
” دیکھو روحان ۔۔ ہم تمہاری بات سمجھ رہے ہیں ۔۔ تم خود دار انسان ہو ۔۔ اسی لیے الگ رہنا چاہتے ہو ۔۔ مگر ہم رخصتی کچھ عرصے بعد بھی تو کر سکتے ہیں ۔۔ “
اس بار عرش شاہ نہایت نرم انداز میں گویا ہوا جبکہ زامن شاہ اور حورین سمیت سب کو اس کی بات بہترین لگی وہ سب بھی فی الحال یہی چاہتے تھے حورین نے کب سوچا تھا کہ اپنی بیٹی کو خود سے الگ کرنا پڑے گا
” ٹھیک ہے اگر تم اپنی بہن کی رخصتی نہیں کرنا چاہتے تو میں بھی اپنی بہن کو ساتھ لے کر جاؤں گا ۔۔ “
روحان ہنوز تلخی سے بولا تھا
” تم بار بار مریم کو بیچ میں کیوں لا رہے ہو ۔۔ اس کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے ۔۔ ہم عروہ کی بات کر رہے ہیں ۔۔ وہ ابھی بچی ہے ۔۔ کچھ وقت دو اس کو ۔۔ کچھ ٹائم بعد رخصتی کر لینا ۔۔ ابھی ایسا کرنا عروہ کے ساتھ زیادتی ہے ۔۔ “
عرش خود پر ضبط کرتا سنجیدگی سے بولا تھا
” تم میری بہن کے ساتھ زیادتی کر سکتے ہو ۔۔ اس پر دوسری لڑکی لا کر ۔۔ میں تو صرف رخصتی کروا رہا ہوں ۔۔ “
روحان کا لہجہ سرسراتا ہوا تھا
” یہ اب تم بات بڑھا رہے ہو روحان ۔۔ !”
عرش نے دانت پیس کر کہا
” اگر تم اپنی بہن کو میرے ساتھ نہیں بھیج سکتے تو میں بھی اپنی بہن کو تمہارے ساتھ نہیں رکھ سکتا ۔۔ “
روحان اپنی بات پر ہنوز قائم تھا اس ساری صورتحال میں عروہ دم سادھے بیٹھی تھی جبکہ مریم کی بھی جیسے سانسیں لبوں پر تھیں عرش شاہ سے دوری وہ کیسے برداشت کر سکتی تھی
” مریم صرف تمہاری بہن نہیں ہے ۔۔ بیوی ہے میری ۔۔ “
اس بار عرش شاہ کا انداز جتاتا ہوا تھا
” عروہ بھی صرف تمہاری بہن نہیں ہے ۔۔ بیوی ہے میری اب ۔۔ اب فیصلہ تمہارا ہے ۔۔ یا تو میری بیوی کو میرے ساتھ بھیج دو یا پھر مریم کو چھوڑ دو ۔۔ “
” روحان ۔۔ !”
روحان کی بات پر عرش چیخا
” ٹھیک ہے بیٹا تم عروہ کو اپنے ساتھ لے جاؤ ۔۔ اب وہ تمہاری بیوی ہے ۔۔ حورین رخصتی کا انتظام کرو ۔۔ !”
وہ عرش کو مزید کچھ بھی بولنے سے روکتے حکمیہ انداز میں بولے تو ہر طرف خاموشی چھا گئی جبکہ عروہ نے باپ کو تڑپ کر دیکھا
” ڈیڈ ۔۔ !”
عرش نے کچھ کہنا چاہا جب زامن شاہ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بولنے سے روک دیا اور عروہ کی سمت بڑھے زامن شاہ کے قریب آتے ہی عروہ ان کے سینے میں منہ چھپا کر سسک اٹھی یہی وقت تھا کہ اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور شاہ حویلی نے کل تک جس لڑکی کی ہنسی کی آوازیں سنی تھی آج وہ لڑکی بلک بلک کر باپ اور بھائیوں کے گلے لگ کر رو رہی تھی حورین نے سختی سے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے عروہ کو خود سے جدا کیا اور شکوہ کناں نگاہوں سے زامن شاہ کو دیکھا جو خود بھی نم آنکھیں لیے چہرہ جھکائے کھڑے تھے
” زامن ۔۔ کیوں نہیں سمجھاتے روحان کو ۔۔ عرش ٹھیک کہہ رہا ہے رخصتی بعد میں کر لیں گے ۔۔ “
بہت دیر سے خاموش آنسو بہاتی پھوپھو روندی آواز میں گویا ہوئیں
” پھوپھو آج کریں یا بعد میں ۔۔ ایک ہی بات ہے ۔۔ “
وہ اب انہیں کیا بتاتے کہ اگر وہ آج رخصتی نہ کرتے تو عرش اور مریم کے رشتے پر بھی برا اثر پڑتا
” ڈیڈ ۔۔ مم مجھے نہیں جانا ۔۔ پلیز ۔۔ “
عروہ مسلسل روتے ہوئے بولتی جا رہی تھی مگر زامن شاہ نے محض اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا عرش شاہ نے مٹھیاں سختی سے بھینچ لیں جبکہ اشعر نے بھی
” میں اپنے دل کا ٹکڑا تمہیں دے رہا ہوں روحان ۔۔ میری بیٹی میں میری جان بستی ہے ۔۔ اسے خوش رکھنا ۔۔ “
زامن شاہ نے روحان کو جاتے ہوئے تڑپتے دل کے ساتھ کہا تو روحان نگاہیں چراتے ہوئے سر ہلایا
////////////////////////
وہ سارے راستے خاموش آنسو بہاتی رہی تھی گاڑی کی خاموشی میں چند لمحوں بعد عروہ کی سسکی کی آواز اشتعال پیدا کرتی جبکہ روحان لب بھینچے بے حس بنا ڈرائیو کرتا رہا
” بلکل خاموش ہو جاؤ ۔۔ زہر لگ رہی ہو مجھے تم ۔۔ ور تمہارے یہ آنسو ۔۔ !”
وہ مسلسل پچھلے آدھے گھنٹے سے عروہ کو روتا ہوا دیکھ کر دھاڑا وہ جو ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی روحان کی دھاڑ پر کانپ گئی اور لبوں کو آپس میں سختی سے بھینچ کر سسکیوں کا گلا گھونٹا
کچھ دیر بعد روحان نے ایک صاف ستھرے علاقے میں ایک گھر کے آگے گاڑی روکی اور بغیر کچھ کہے گاڑی سے نکلا اور عروہ کہ سائیڈ پر آ کر دروازہ کھولا اور اس کی کلائی سختی سے اپنے شکنجے میں لے باہر نکالا اس دوران کئی چوڑیاں عروہ کی کلائی زخمی کر چکی تھیں ہلکی سی چیخ کے ساتھ عروہ نے اذیت سے آنکھیں میچ لیں مگر روحان اسے کھنچتا ہوا گھر کا لاک کھولتا اندر داخل ہوا واپس دروازہ بند کرنے کے بعد وہ ایک کمرے کا دروازہ کھول کر عروہ کو لیے اندر داخل ہوا اور بے دردی سے اسے فرش پر پٹخا
” کیوں آنسو نہیں تھم رہے تمہارے ۔۔ ؟؟ “
وہ درد سے کراہ اٹھی تھی مگر روحان کی دھاڑ پر سہم کر خاموش رہی
” اپنی رخصتی پر رو رہی ہو یا اپنے عاشق سے جدائی پر ۔۔ ؟؟ “
وہ اب مسلسل انگریزی میں عروہ کو گھٹیا الفاظ سے نواز رہا تھا
الفاظ تھے یا ہتھوڑے
عروہ کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے اس قدر گھٹیا الفاظ ، اس قدر حقارت تھی
” میں صرف زامن ماموں کی وجہ سے رات سے خاموش ہوں ۔۔ کہ ان کی عزت نہ اچھالی جائے ۔۔ ورنہ میرا جی چاہ رہا تھا تمہارا حشر کر دوں ۔۔ !”
وہ فرش پر عروہ کے پاس گھٹنے کے بل بیٹھتے ہوئے اس کا چہرہ سختی سے دبوچے غرایا تھا جبکہ عروہ کی انکھیں اتنی سختی پر ابل اٹھیں
” میں تم جیسی گھٹیا لڑکی ڈیزرو نہیں کرتا تھا ۔۔ مگر ۔۔ !!”
وہ دھاڑتا ہوا عروہ کو ایک جھٹکے سے دوبارہ فرش پر پٹخا اٹھا جبکہ عروہ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا روحان نے اتنا شدید ردعمل دیا تھا وہ مسلسل کانپتی ہوئی اسے اب میز پر پہلے سے ہی سجا مکرو مشروب اپنے حلق میں اتارتا دیکھ رہی تھی
” کیا دیکھ رہی ہو ۔۔ ؟؟”
وہ شراب کی بوتل واپس میز پر پٹختا لڑکھڑاتے قدموں سے پھر اس کے قریب آیا
” ممم میں ۔۔ نن نے ۔۔ کک کچھ ۔۔ نن نہیں ۔۔ کک کیا ۔۔ !”
وہ روحان کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر پیچھے کی طرف ہوتی ہوئی بمشکل الفاظ ادا کر پائی
” تم کیا ہو یہ جان چکا ہوں میں ۔۔ جو لڑکی رات کے پہر نا محرموں سے ملاقاتیں کرتی ہے ۔۔ اس سے زیادہ نیچ اور گھٹیا کون ہو سکتا ہے ۔۔ عروہ میڈم ۔۔ یہ پارسائی اور معصومیت کا ڈرامہ ختم تمہارا ۔۔ “
وہ اس کی گردن کو دبوچے چیخ رہا تھا جبکہ عروہ مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی
” مجھے گھن آ رہی ہے تمہارے وجود سے ۔۔ !”
وہ حقارت بھرے انداز میں غرایا
” بتاؤ کون عاشق تھا اس رات تمہارے ساتھ ۔۔ کیا کیا اس نے تمہارے ساتھ ۔۔ ؟”
وہ منہ سے انگارے نکال رہا تھا جس سے عروہ کا دل سمیت وجود جل رہا تھا
” پلیز چھوڑ دیں ۔۔ مجھے درد ہو رہا ہے ۔۔ !”
وہ اپنی گردن سے اس کے ہاتھ ہٹاتی بولی تھی اس کے نازک وجود پر روحان کے الفاظ کیل پیوست کر رہے تھے
” بہت آگ لگی ہوئی ہے نا تمہیں ۔۔ ؟؟ دوسرے مردوں کو اپنے پیچھے لگایا ہوا ہے ۔۔ کتنے عاشق ہیں تمہارے ۔۔ ؟؟”
وہ اب اس کے چہرے پر پے در پے تھپڑ رسید کرتا پوچھ رہا تھا جبکہ عروہ اس کا ہاتھ روکنے کی کوشش میں مزید اسے طیش دلا رہی تھی
” میں آج تمہاری ایسی آگ بجھاؤں گا پھر کسی مرد کو دیکھو گی بھی نہیں ۔۔ !”
دوپٹہ سختی سے اس کے سر سے سرکا کر وہ اسے باہوں میں بھر کر بیڈ پر لا چکا تھا جبکہ عروہ اس کی حرکات و سکنات دیکھتی جی جان سے کانپ گئی
” نن نہیں ۔۔مم میں ۔۔ نے کچھ نہیں کیا ۔۔ آپ کو غلط فہمی ہ ۔۔ “
ابھی الفاظ عروہ کے لبوں پر تھے کہ روحان کے بھاری ہاتھ کا تھپڑ پڑنے سے وہ خاموش ہو گئی
” خبردار اگر کوئی جھوٹ بولا ۔۔ میں تمہاری باتوں میں نہیں آنے والا ۔۔ !”
دوپٹے کو ایک جھٹکے سے اس کے سر سے کھنچ کر وہ دور اچھال چکا تھا اور آنکھوں میں نفرت لیے عروہ کے وجود پر جھکا وہ مزاحمت کرتی کرتی چیختی چلاتی روحان کی گرفت میں نڈھال سی ہوگئی مگر وہ جنونی انداز میں اس کے اور اپنے مابین رشتے کا تقدس اور عروہ کے وجود کی دھجیاں اڑا چکا تھا
////////////////////////
