53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam (Episode 20)

Tere Sitam By Fatima

وہ معصوم لڑکی چار دن سے ہاسپٹل میں لاوارثوں کی طرح پڑی تھی ڈاکٹرز اس کی طرف سے بہت مایوس ہو چکے تھے کوئی دوائی جیسے اس پر اثر ہی نہیں کر رہی تھی جیسے وہ جینا ہی نہیں چاہتی تھی جیسے وہ اس دنیا سے ناراض ہو کر جا رہی تھی جیسے اسے جینے کی کوئی چاہ ہی نہیں تھی

لیزا آج دو دن بعد ہسپتال آئی تھی مگر ڈاکٹرز سے بات کر کے وہ مایوس ہی ہوئی تھی وہ اس لڑکی کو اس کے گھر والوں تک پہنچانا چاہتی تھی تاکہ اس کی اپنی زمہ داری پوری ہو

روحان کو تو اپنی بیوی کی کوئی فکر نہیں تھی وہ تو اپنی دنیا میں مست تھا لیکن کوئی طاقت تھی جو چاہتی تھی کہ لیزا اس کے گھر والوں کو ڈھونڈے ، گزری شب اس نے روحان کو ڈرنک کے بعد عروہ کے گھر کے بارے میں چھوٹے چھوٹے سوال کیے تھے مگر زیادہ نشہ کرنے کے باعث وہ جلد ہی ہوش و حواس کھو چکا تھا

اس کے بعد لیزا نے روحان کے موبائل سے عرش کا نمبر نکالا اور اپنے موبائل میں سییو کر دیا یہ اسے روحان سے ہی معلوم ہوا تھا کہ عروہ کے بھائی کا نام عرش شاہ ہے

لیزا نے ایک نظر شیشے کے اس پار پڑے نیم مردہ وجود کو دیکھتے ہوئے عرش شاہ کا نمبر ملایا اور موبائل کان سے لگا لیا بیل مسلسل جا رہی تھی مگر کال اٹینڈ نہیں کی جا رہی تھی

عرش شاہ جو دو دن سے روحان اور عروہ کا پتہ لگا رہا تھا ابھی ہی تھک کر ہوٹل میں آیا تھا جہاں اس نے عارضی طور پر اپنی رہائش رکھی تھی وہ شاور لے کر جب واش روم سے باہر نکلا تو موبائل بج بج کر بند ہو چکا تھا

” مام یا مریم کی کال ہو گی ۔۔ “

منہ میں بڑبڑاتا وہ میز کی جانب بڑھا جہاں موبائل پڑا تھا

موبائل چیک کرتے ہوئے اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے نمبر مقامی رہائشی کا تھا اور اسے یہاں کا کون سا رہائشی کال کر سکتا تھا پھر کچھ سوچ کر اس نے موبائل پر اسی نمبر پر کال بیک کی تھی

” ہیلو ۔۔ !”

پہلی بیل پر ہی کال پک کر لی گئی تھی اور نسوانی آواز ابھری تھی جبکہ دوسری جانب عرش کے کال پک نہ کرنے سے مایوس ہوتی لیزا عرش کی کال آتے دیکھ کر فوری پک کر کے موبائل کان سے لگا گئی

” عرش شاہ بات کر رہے ہیں ۔۔ ؟؟”

لیزا کے جلدی سے پوچھنے پر عرش شاہ ایک لمحے کو حیران ہوا

” یس ۔۔ ؟؟”

عرش کی آواز میں تجسس تھا

” Urwa’s brother ?? “

عروہ کا نام سن کر عرش کو حیرت کے ساتھ ساتھ بے تابی ہوئی

” یس ۔۔ لیکن آپ کون ہیں ۔۔ ؟ اور عروہ کو کیسے جانتی ہیں ۔۔ “

بولتے ہوئے عرش کی آواز میں ڈر تھا جانے کیسے کیسے خیالات ذہن میں آنے لگے تھے

” میں آپ کو ہاسپٹل کا ایڈریس سینڈ کر رہی ہوں مسٹر عرش ۔۔ عروہ وہیں ہے ۔۔ آپ آ جائیں ۔۔ مل کر سب بتاتی ہوں ۔۔ “

گویا الفاظ تھے یا پگھلا ہوا سیسہ ، عرش شاہ کی زبان سے الفاظ نکلنے سے انکاری تھے فون بند ہو چکا تھا مگر عرش شاہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی چند ساعتوں کے بعد وہ اپنے حواس میں واپس آیا تھا جب موبائل پر پھر رنگ ٹون بجی تھی اسی نمبر سے میسج آیا تھا

وہ نہیں جانتا تھا کس انجان نے اسے کال اور میسج کیا تھا اسے بس یہ یاد تھا کہ اس نے عروہ کے ہسپتال میں ہونے کی بھیانک خبر اسے دی تھی

وہ کس دلی کیفیت سے ہسپتال پہنچا تھا یہ وہی جانتا تھا یا اس کا خدا جانتا تھا ریسیپشن سے پوچھ کر وہ بتائے گئے روم نمبر کے پاس پہنچا تھا

” عرش شاہ ۔۔ ؟؟”

سیاہ ٹراؤزر پر سفید ٹی شرٹ پہنے وہ ماتھے پر بکھرے بالوں کے ساتھ کھڑا تھا اس کے چہرے سے اس کے شدید اضطراب کا اندازہ ہو رہا تھا پیروں میں چپل اس کی ذہنی کیفیت کا منہ بولتا ثبوت تھیں کہ لیزا کی کال کے وقت وہ جس حالت میں تھا وہ اسی حالت میں ہسپتال پہنچا تھا

” ع عروہ ۔۔ “

سر اثبات میں ہلا کر اس نے بس ایک لفظ کہا جب لیزا نے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ اس کے پیچھے چل رہا تھا جب وہ روم میں داخل ہوئے

سامنے ہی مشینوں میں جکڑی لڑکی نیم مردہ حالت میں پڑی تھی عرش شاہ کے قدم زمین نے جیسے جکڑ لیے تھے وہ وہیں دروازے کے پاس کھڑا ہو گیا تھا اور اس لڑکی کو پہچاننے لگا کیا وہ اس کی بہن تھی ؟؟ عرش شاہ کی بہن؟ عروہ شاہ ؟؟ ضامن شاہ کی اکلوتی بیٹی؟؟

کیا رعب دار اور شیر جیسے باپ اور بھائیوں کی موجودگی میں کوئی اس لڑکی کی اس حالت کا یقین کر سکتا تھا وہ ضامن شاہ جس کے نام سے آج بھی مجرم اور بڑی بڑی گینگسٹر ڈرا کرتے تھے اور وہ عرش شاہ جس کی موجودگی مجرموں کو کانپنے پر مجبور کر دیتی تھی کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ کوئی اس کی بہن کو اس حال میں پہنچا سکتا تھا

عرش شاہ کی نگاہیں عروہ پر تھیں چہرے پر انگلیوں کے نشانات ، پیشانی پر زخم ، ہونٹ سوجے ہوئے اور زخمی ، گردن پر ان گنت نیلے اور کچھ سیاہ پڑتے نشانات تھے

کئی آنسو عرش کی آنکھوں سے گرے تھے

لیزا نے مڑ کر عرش کو دیکھا تھا کسی خوبصورت وجہہ شخص کو وہ اپنی تیس بتیس سالہ زندگی میں پہلی مرتبہ روتا ہوا دیکھ رہی تھی

وہ بھاری قدموں سے آگے بڑھا تھا کانپتے ہاتھوں سے اس نے عروہ کا زخمی برنولے والا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تھا عروہ کے ہاتھ اور بازو پر نگاہیں پڑیں تو عرش شاہ کا ضبط ٹوٹ گیا اور وہ لمبا چوڑا وجہہ شخص پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا

اس کے ہاتھ کی چمڑی اتری ہوئی تھی بازوؤں اور گردن پر درندگی کی داستان رقم تھی ایک سرسری نگاہ عروہ پر ڈال کر وہ آنکھیں بند کر چکا تھا

عرش شاہ کو اس طرح روتے دیکھ کر لیزا کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگے تھے

////////////////////////

لیزا اسے بہت سمجھانے کے بعد روم سے باہر لائی تھی اور ڈاکٹرز سے مل کر عروہ کی کنڈیشن کا پوچھ کر وہ پھر سے ٹوٹ گیا تھا جب ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ اس کی بہن کے وجود پر کس طرح کے زخم تھے اس کا دل کر رہا تھا ساری دنیا کو آگ لگا دے جب سے سنا تھا کہ اس کی بہن کے بچنے کے چانس بہت کم ہیں ، کیونکہ دوائی اس کا وجود قبول ہی نہیں کر رہا تھا جیسے وہ جینا ہی نہیں چاہتی تھی اس

نے اپنا بچہ کھویا تھا اور وہ اب کبھی ماں نہیں بن سکتی تھی

وہ بکھر گیا تھا اپنی بہن کے اتنے دکھ سن کر اور دیکھ کر ، اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ چیخ چیخ کر روئے اور زمانے کو جلا دے

” مم میرے مالک ۔۔ “

وہ ہسپتال سے باہر نکلا تھا اور چیخ چیخ کر رونے لگا تھا آس پاس کے لوگ رک رک کر اسے دیکھنے لگے تھے مگر عرش شاہ کی حالت ایسی تھی کہ کوئی اس کے قریب بھی آنے سے خوفزدہ تھا

” میرے خدا یہ کیا ہو گیا ۔۔ ؟ مم میری شہزادی ۔۔ میری بہن ۔۔ لعنت ہو عرش شاہ تم پر ۔۔ تم اپنی بہن کی حفاظت نہ کر سکے ۔۔ اپنے ان ہاتھوں سے اس درندے کے حوالے کیا تھا نا میں نے ۔۔ “

عرش شاہ دیوانہ وار اپنے ہاتھوں کو دیوار سے مار رہا تھا یہاں تک کہ اس کے ہاتھ لہو لہان ہو گئے تھے

” مم میں مام کو کیسے بتاؤں گا یہ سب ۔۔اور ڈیڈ ۔۔ وہ عروہ کو اس طرح نہیں دیکھ سکیں گے ۔۔ یا خدا میں کیا کروں ۔۔ “

وہ روتے ہوئے بول رہا تھا کسی نے کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ عرش شاہ کو اس حال میں دیکھے گا

” یا خدا میری بہن کو زندگی بخش دیں ۔۔ “

وہ روتے ہوئے وہیں فرش پر بیٹھ گیا تھا

////////////////////////

” ہیلو ۔۔ “

علی شاہ کی نیند میں ڈوبی آواز موبائل کے سپیکر پر ابھری تھی

” علی چاچو ۔۔ “

وہ ہسپتال کے کوریڈور میں کھڑا موبائل کان سے لگائے بہت ضبط سے بولا تھا نگاہیں شیشے کے اس پار عروہ پر تھیں

” عرش ۔۔ “

رات کے اس پہر عرش کی کال اور پھر آواز میں نمی ،

لہجہ ٹوٹا ہوا علی شاہ گھبرا کر اٹھ گئے اور ایک نظر سوئی ہوئی رامین پر ڈال کر کمرے سے نکل گئے

” عرش میرے بچے ۔۔ کیا ہوا ؟”

دل میں خیریت کی دعا کرتے انہوں نے پوچھا

” چاچو یہاں آ جائیں ۔۔ پلیز ۔۔ میں بہت اکیلا ہوں ۔۔ یہ سب اکیلا نہیں سہہ سکتا ۔۔ “

بکھرا سا ، ٹوٹا سا لہجہ تھا عرش شاہ کا کہ علی تو سن کر ہی پریشان ہو گئے

” عرش میرے بیٹے کیا ہوا ہے ۔۔ تم ٹھیک تو ہو نا ۔۔ اور ۔۔ اور عروہ کیسی ہے ۔۔ سب ٹھیک ہے نا بیٹا ۔۔ ؟”

علی بے حد پریشانی سے پوچھ رہے تھے

” کچھ ٹھیک نہیں ہے چاچو ۔۔ عروہ ٹھیک نہیں ہے ۔۔ میں ڈیڈ کو کچھ نہیں بتا سکتا چاچو ۔۔ آپ آ جائیں ۔۔ “

اور پھر سرسری سی ساری باتیں عرش نے علی کو بتائی تھیں وہ چاہتا تھا کہ علی عروہ کو لے کر پاکستان پہنچے اور وہ خود روحان سے نبٹے گا

” بہت اچھا کیا تم نے جو کچھ بھی ضامن اور حورین بھابھی کو نہیں بتایا ۔۔ میں آ رہا ہوں بیٹا تم ہمت کرو ۔۔ میں پہلی فلائٹ سے ہی آ رہا ہوں ۔۔ “

علی نے کچھ ضروری باتیں کہہ کر کال کاٹی تھی عرش شاہ کی نگاہیں ابھی بھی عروہ پر تھیں

//////////////////////////

علی شاہ راتوں رات امریکہ کے لیے نکلا تھا رامین نے ان کا اتنی عجلت میں جانے کا بہت بار پوچھا مگر کیس کے کام کا کہہ کر وہ بات کو ٹال گئے تھے وہ ائیرپورٹ سے سیدھا جب عرش کے بتائے ہوئے ہسپتال پہنچے تو عرش انہیں اس حالت میں ملا کہ زندگی میں کبھی بھی انہوں نے عرش کو اس طرح ٹوٹی بکھری حالت میں نہیں دیکھا تھا

اتنے دن سے وہ اکیلے سب سنبھال رہا تھا مام ڈیڈ یا مریم کی کال آتے ہی وہ کیسے خود کو سنبھال کر سرسری سی بات کرتا تھا یہ وہی جانتا تھا عروہ ہنوز کومے میں تھی

کسی اپنے کو سامنے دیکھ کر عرش شاہ مزید بکھر گیا اور ان کے گلے لگ کر بچوں کی طرح رو پڑا علی شاہ کو مزید پریشانی ہوئی تھی

” میرے بچے سنبھالو خود کو ۔۔ “

عرش شاہ کی پیٹھ تھپکاتے ہوئے وہ خود بھی آبدیدہ ہو گئے تھے

بیہ کے بعد عروہ شاہ خاندان کی وہ بچی تھی جو نازو سے پلی تھی ضامن شاہ کی لاڑلی بیٹی

انہوں نے ضامن شاہ کو بیٹوں کی پیدائش پر اتنا خوش نہیں دیکھا تھا جتنا خوش وہ بیٹی کی پیدائش پر ہوئے تھے پھر اپنی نازک سی پھولوں جیسی بیٹی بہن کی محبت میں وہ کیسے روحان کو سونپ سکتے تھے علی شاہ حیران ہوئے تھے جب انہوں نے روحان اور عروہ کے نکاح کا سنا تھا

وہ جانتے تھے روحان نے ضامن سے عروہ کا رشتہ مانگا تھا اور ضامن شاہ ، بیہ سے اتنی محبت کرتے تھے کہ رشتے سے انکار کیسے کر سکتے تھے بیہ کی خاطر تو انہوں نے پہلے حورین اور اب اپنی بیٹی کو بھی دوسرے نمبر پر رکھا تھا مگر وہ یہ بھول گئے تھے کہ روحان ، عاصم جیسے گھٹیا باپ کی اولاد ہے جس نے بیہ کو کبھی سکھ دیا ہی نہیں تھا پھر روحان ان کی بیٹی کو سکھ کیسے دے سکتا تھا

” عرش ہمت کرو ۔۔ “

عرش کو روتا دیکھ کر وہ خود بھی اب رو پڑے تھے

” ڈاکٹر کیا کہتے ہیں ۔۔ ؟ عروہ کو پاکستان لے کر جا سکتے ہیں ہم ۔۔ ؟”

عرش جب کچھ سنبھلا تو علی نے پوچھا

” جی چاچو ۔۔ میں سارے انتظامات کر دوں گا ۔۔ اسی لیے مجھے آپ کی یا ڈیڈ کی ہیلپ کی ضرورت تھی ۔۔ “

وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا تھا

” تم بے فکر رہو ۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ “

انہوں نے اسے تسلی دی تھی

” آپ لے کر جائیں عروہ کو ۔۔ میں یہاں کی پولیس سے کانٹیکٹ کر چکا ہوں ۔۔ روحان پکڑا جائے گا ۔۔ “

عرش شاہ کے چہرے پر اب سختی تھی

” عرش میں یہاں سب سنبھالتا ہوں بیٹا ۔۔ تم عروہ کو لے کر جانا ۔۔ پھر وہاں حورین بھابھی اور ضامن کو بھی تو سنبھالنا ہے نا ۔۔ تم بے فکر ہو کر جاؤ بیٹا ۔۔ جس نے ہماری بچی کی یہ حالت کی ہے ہم اسے نہیں چھوڑیں گے ۔۔ “

علی کی بات عرش کو زیادہ بہتر لگی تھی اس لیے اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا

/////////////////////