Tere Sitam By Fatima Readelle50292

Tere Sitam By Fatima Readelle50292 Last updated: 7 October 2025

53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam By Fatima

" باپ کا کیا آیا ہے ۔۔ اس کی بیٹی کے آگے ۔۔ " پھوپھو کی بات پر سب نے سر جھکا لیا تھا " کیا ہو گیا ہے پھوپھو ۔۔ مریم کا کیا قصور ہے ۔۔" حورین نے تڑپ کر کہا تھا جانے پھوپھو کو اس بات کی کیسے خبر لگی تھی حالانکہ رامین اور مریم کو فی الحال اس نے کسی کو بھی کچھ بتانے سے منع کیا تھا " یہ قدرت کا اصول ہے حورین ۔۔ باپ کا کیا اولاد بھرتی ہے ۔۔ !" آنکھوں میں اترتی نمی کو پونچھتی وہ خود بھی افسردہ تھیں پلیز ایسا نہیں کہیں ۔۔ وہ معصوم ہے اس سارے معاملے میں ۔۔ !" حورین مزید گویا ہوئی تھی " میں نے تمہیں کہا تھا زامن ۔۔ اس کو مت لاؤ حویلی ۔۔ دور رکھو اس کو حویلی سے ۔۔ مگر آخر میں تم نے اسے اپنے گھر کی بہو بنا لیا ۔۔ اور میری کوئی بات نہیں مانی ۔۔ حالانکہ جتنا علی ، رامین اور تم لوگوں نے کیا ہے اتنا بہت تھا ۔۔ پالا پوسا ، پڑھایا لکھایا ، رامین نے ماں کی طرح پیار دیا اسے ۔۔ اتنا سب کیا کم تھا ۔۔ اس غلیظ آدمی کی بیٹی کو شاہ خاندان کی بہو بنانے کی کیا ضرورت تھی۔۔ ؟ " پھوپھو اس بار زامن شاہ کو دیکھتی ہوئی بولی تھیں اس وقت سب لاؤنج میں موجود تھے علی اور رامین ایک صوفے پر ساتھ بیٹھے تھے جبکہ پھوپھو اور حورین ایک ساتھ بیٹھی تھیں اور زامن شاہ سر جھکائے الگ صوفے پر بیٹھا تھا ان کے الفاظ تیر کی مانند تھے جو لاؤنج میں موجود تمام نفوس کے دلوں میں گھپ رہے تھے " جس کے باپ ، دادا نے ہمارے گھر کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، ان کی بیٹی ہے مریم بھی ۔۔ کیسے ہماری نسل آگے بڑھ سکتی ہے اس لڑکی سے ۔۔ " وہ مزید گویا ہوئی تھیں در حقیقت وہ بےانتہا افسردہ ہو رہی تھیں پرانے بہت سے زخم آج ان کے تازہ ہوئے تھے " پھوپھو پلیز ۔۔ " اس بار رامین نے تڑپ کر انہیں دیکھا تھا " غلطی تم دونوں کی بھی تھی ۔۔ رامین اور علی ۔۔ تم دونوں کو زیادہ ہمدردی دیکھانے کی ضرورت نہیں تھی ۔۔ اس وقت اگر تم دونوں بھی مجھ سے جھوٹ نہ بولتے تو ایسے بچے جن کے ماں باپ نہیں ہوتے وہ یتیم خانے میں ہی پلتے ہیں ۔۔ مگر نہیں تم دونوں نے بھی ان دونوں کا ساتھ دیا ۔۔ " سر جھکائے بیٹھے علی اور رامین سے کہتے ہوئے وہ پھر زامن شاہ اور حورین سے مخاطب ہوئیں " پھوپھو وہ ہماری بیہ آپی کی بیٹی ہے ۔۔ ! آپ اس کے لیے اپنے دل کو سخت کیوں کر رہی ہیں ۔۔ " اس بار زامن نے انہیں مخاطب کیا تھا " مگر وہ اس شخص کی بھی بیٹی ہے جس نے ہماری بیہ کو بے انتہا اذیت دی ۔۔ اتنے گہرے زخم دیے ہماری بیہ کو کہ ۔۔ ہمارا پورا خاندان آج تک وہ اذیت نہ بھلا سکا ۔۔ " بولتے ہوئے ان کی آنکھیں برس رہی تھیں جبکہ ان کی باتوں سے باقی سب بھی ماضی میں کھو گئے تھے " زامن تمہیں ہنی کے ساتھ مریم کو بھی باہر ہی بھیج دینا چاہیے تھا ۔۔ " وہ پھر زامن سے مخاطب ہوئی تھیں زامن کو وہ وقت یاد آیا جب بیہ آپی کا انتقال ہوا تھا اور ہنی اور مریم بلکل بے سہارا ہو گئے تھے مریم تو اس وقت شاید ایک سال کی تھی تب ان دونوں کو وہ اپنے ساتھ لے آیا تھا مگر پھوپھو نے اس وقت ہی شرط رکھ دی تھی کہ یا ان بچوں کے ساتھ تعلق رکھا جائے یا پھر ان سے ، اس وقت زامن اور حورین نے انہیں بہت سمجھایا کہ یہ بیہ کی بھی تو اولاد ہیں مگر پھوپھو کسی طور نہ مانی اس مشکل وقت میں علی اور رامین نے مریم کو اپنے ساتھ رکھ لیا جبکہ ہنی کو امریکہ بھیج دیا تاکہ وہ اپنے باپ کے ماضی سے دور رہے اور کسی قابل ہو جائے " ان ساری باتوں کو مریم سے مت جوڑیں پھوپھو ۔۔ مریم اس گھر کی بہو ہی نہیں ۔۔ بیٹی بھی ہے ۔۔ " زامن نے مضبوط لہجے میں انہیں کہا " جس نے ہماری بیہ کو اتنا ستایا کہ اسے قبر میں اتار دیا ۔۔ اس شخص کی اولاد ہمیں کیسے اچھی لگ سکتی ہے زامن ۔۔ ہمارے گھر کی جان تھی بیہ ۔۔ عاشر اور امی ، بیہ کے دکھ میں ہی دنیا سے چلے گئے ۔۔ وقتی طور پر میں نے عرش کی وجہ سے اسے قبول کیا تھا مگر حقیقتاً وہ اس شخص کی بیٹی ہے جس سے شاہ حویلی کو ہمیشہ دکھ ہی ملے ہیں ۔۔ " کہتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو آ گئے باقی سب بھی افسردہ ہو گئے جبکہ زینے اترتی مریم میں مزید کچھ شخت سننے کی سکت نہ رہی اور وہ روتے ہوئے واپس اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی